𝐀 𝐇𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐢𝐜 𝐒𝐡𝐢𝐟𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐋𝐚𝐛𝐨𝐮𝐫 𝐑𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐢𝐧 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧: 𝐅𝐫𝐨𝐦 𝐅𝐫𝐚𝐠𝐦𝐞𝐧𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐭𝐨 𝐔𝐧𝐢𝐯𝐞𝐫𝐬𝐚𝐥 𝐏𝐫𝐨𝐭𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧

A Historic Shift for Labour Rights in Pakistan: From Fragmentation to Universal Protection

The landscape of work in Pakistan is changing. For decades, our labour laws have been a “𝐩𝐚𝐭𝐜𝐡𝐰𝐨𝐫𝐤” 𝐨𝐟 𝐦𝐨𝐫𝐞 𝐭𝐡𝐚𝐧 𝟒𝟎 𝐬𝐭𝐚𝐭𝐮𝐭𝐞𝐬 written for a mid-20th-century factory floor. This fragmentation has left over 𝟖𝟓% 𝐨𝐟 𝐨𝐮𝐫 𝐰𝐨𝐫𝐤𝐟𝐨𝐫𝐜𝐞 (𝐦𝐨𝐫𝐞 𝐭𝐡𝐚𝐧 𝟔𝟎 𝐦𝐢𝐥𝐥𝐢𝐨𝐧 𝐩𝐞𝐨𝐩𝐥𝐞) 𝐢𝐧 𝐭𝐡𝐞 “𝐢𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐥 𝐞𝐜𝐨𝐧𝐨𝐦𝐲” 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐯𝐢𝐬𝐢𝐛𝐢𝐥𝐢𝐭𝐲 𝐨𝐫 𝐩𝐫𝐨𝐭𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧.

The draft 𝐋𝐚𝐛𝐨𝐮𝐫 𝐂𝐨𝐝𝐞𝐬 𝐢𝐧 𝐏𝐮𝐧𝐣𝐚𝐛 𝐚𝐧𝐝 𝐒𝐢𝐧𝐝𝐡 represent a serious attempt to bridge this gap. Rather than just focusing on “ease of doing business,” these Codes are designed to draw workers into a regulated, rights-based relationship.

Here is why this matters for every professional, employer, and worker in Pakistan:

  1. 𝐔𝐧𝐢𝐯𝐞𝐫𝐬𝐚𝐥 𝐂𝐨𝐯𝐞𝐫𝐚𝐠𝐞: The Codes apply to “everyone who works” across all sectors, regardless of the size of the establishment. This “size-neutral” approach ensures workers don’t lose rights just because they work for a small firm.
  2. 𝐅𝐢𝐫𝐬𝐭 𝐢𝐧 𝐒𝐨𝐮𝐭𝐡 𝐀𝐬𝐢𝐚 𝐟𝐨𝐫 𝐆𝐢𝐠 𝐖𝐨𝐫𝐤𝐞𝐫𝐬: In a groundbreaking move, gig economy workers (like ride-share drivers and delivery riders) are now legally defined as “workers,” entitling them to the minimum wage, safety protections, and the right to organize.
  3. 𝐄𝐪𝐮𝐚𝐥𝐢𝐭𝐲 𝐚𝐧𝐝 𝐍𝐨𝐧-𝐃𝐢𝐬𝐜𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧: For the first time, the law expressly prohibits discrimination based on sex, gender, pregnancy, caste, or disability, while mandating equal pay for work of equal value.
  4. 𝐒𝐚𝐟𝐞𝐠𝐮𝐚𝐫𝐝𝐬 𝐀𝐠𝐚𝐢𝐧𝐬𝐭 𝐄𝐱𝐩𝐥𝐨𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧: The Codes tighten the definition of forced labour to include debt bondage and forced overtime, while raising the minimum working age to 16 years.
  5. 𝐒𝐢𝐦𝐩𝐥𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐂𝐨𝐦𝐩𝐥𝐢𝐚𝐧𝐜𝐞: For employers, consolidating dozens of acts into one comprehensive Code reduces the legal “grey zones” and compliance burden in the long run.

This is about more than just legal text; it is about delivering a “better deal” to the workers everywhere. By aligning our laws with ILO Conventions and constitutional guarantees, we are building a foundation for Decent Work for All.

The Punjab Labour Code 2025 is currently with the Standing Committee, and the Sindh Labour Code is nearing submission to the Cabinet. It is time to move toward a loophole-free system that protects every worker, regardless of their contract or sector.

پاکستان میں محنت کشوں کے حقوق کی جانب ایک تاریخی پیش رفت: تقسیم در تقسیم سے ہمہ گیر تحفظ تک

پاکستان میں کام اور روزگار کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ دہائیوں سے ہمارے محنت قوانین بیسویں صدی کے وسط کی فیکٹریوں کے تناظر میں مرتب کیے گئے 40 سے زائد قوانین کے ایک منتشر اور غیر مربوط ٹکڑوں میں بٹے ہوئے نظام (patchwork) پر مشتمل رہے ہیں۔ اس تقسیم نے ہماری افرادی قوت کے 85% سے زائد یعنی 60 ملین سے زیادہ افرادکو غیر رسمی معیشت میں اس حال میں چھوڑ دیا ہے کہ انہیں قانونی سطح پر نہ مطلوبہ شناخت میسر ہے اور نہ ہی مؤثر تحفظ۔

پنجاب اور سندھ میں زیرِ غور لیبر کوڈز (Labour Codes) کے مسودات اس خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ کوڈز محض “کاروبار میں آسانی” تک محدود نہیں(جیسا ان پر  کچھ حلقوں کی طرف سے بے جا الزام لگایا جاتا)، بلکہ ان کا بنیادی مقصد کارکنان کو ایک منظم، ضابطہ بند اور حقوق پر مبنی روزگار (rights-based relationship) کے دائرے میں لانا ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان کے ہر پیشہ ور فرد، آجر اور کارکن کے لیے کیوں اہم ہے:

  • ہمہ گیر اطلاق (Universal Coverage): یہ کوڈز تمام شعبہ جات میں ہر کام کرنے والے فرد پر لاگو ہوں گے، اور ادارے کے حجم سے قطع نظر۔

حجم سے غیر وابستہ (size-neutral) طریقۂ کار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کسی کارکن کے حقوق صرف اس لیے متاثر نہ ہوں کہ وہ کسی چھوٹے ادارے میں کام کرتا ہے۔

  • گیگ ورکرز کے لیے جنوبی ایشیا میں ایک نمایاں قدم: ایک غیر معمولی اور پیش قدمانہ اقدام کے تحت گیگ اکانومی کے کارکنان (مثلاً رائیڈ شیئر ڈرائیورز اور ڈیلیوری رائیڈرز) کو قانوناً ورکرز/کارکنان کے طور پر متعین کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں کم از کم اجرت، تحفظِ صحت و سلامتی اور تنظیم سازی/اجتماعی تنظیم کے حق سمیت بنیادی حقوق میسر آئیں گے۔
  • مساوات اور عدم امتیاز (Equality & Non-Discrimination): پہلی بار قانون واضح طور پر جنس، صنف، حمل، ذات/برادری (caste) یا معذوری کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، اور برابر قدر کے کام کے لیے برابر اجرت کو لازم قرار دیتا ہے۔
  • استحصال کے خلاف مضبوط حفاظتی انتظامات: یہ کوڈز جبری مشقت کی تعریف کو مزید مضبوط کرتے ہوئے قرض کے عوض غلامی/قرض داری کی بیڑی (debt bondage) اور زبردستی اوور ٹائم کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں، جبکہ کم از کم عمرِ ملازمت آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات کو سامنے رکھتے ہوئے  16 سال مقرر کی جا رہی ہے۔
  • عمل درآمد میں سہولت (Simplified Compliance): آجروں کے لیے درجنوں قوانین کو ایک جامع کوڈ میں یکجا کرنا طویل مدت میں قانونی ابہام/“گرے زونز کو کم کرے گا اور تعمیل (compliance) کا بوجھ بھی گھٹائے گا۔

یہ محض قانونی متن کی تبدیلی نہیں؛ یہ ہر جگہ موجود کارکنان کے لیے ایک بہتر معاہدہ/بہتر تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔یہ کوڈز  آئی ایل او (ILO) کے کنونشنز اور آئینی ضمانتوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے سب کے لیے باعزت روزگار (Decent Work for All) کی مضبوط بنیاد رکھ رہے ہیں۔

پنجاب لیبر کوڈ 2025 اس وقت اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس زیرِ غور ہے، جبکہ سندھ لیبر کوڈ کابینہ کو پیش کیے جانے کے قریب ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک ایسے نظام کی طرف بڑھیں جو کمزوریاں اور قانونی سقم (loopholes) کم سے کم رکھے اور ہر کارکن کو—خواہ اس کا کنٹریکٹ جیسا بھی ہو یا شعبہ کوئی بھی—مؤثر تحفظ فراہم کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Email