Addressing Concerns on Pakistan’s Labour Codes – 4

Objection 4

The Codes weaken freedom of association by fragmenting unions, undermining CBAs, and maintaining or intensifying restrictions on organizing and strikes.

Response

The current legislation is often used for union-busting rather than to facilitate access to freedom of association. The draft Labour Codes in Punjab and Sindh and the amended IRA 2012 𝐬𝐭𝐫𝐞𝐧𝐠𝐭𝐡𝐞𝐧 𝐟𝐫𝐞𝐞𝐝𝐨𝐦 𝐨𝐟 𝐚𝐬𝐬𝐨𝐜𝐢𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 and propose the following reforms:

𝐄𝐱𝐩𝐚𝐧𝐝𝐢𝐧𝐠 𝐂𝐨𝐯𝐞𝐫𝐚𝐠𝐞: The current laws exclude vast groups of workers, including EPZ workers, agricultural workers, home-based, domestic workers, and platform workers. The proposed reforms introduce a simplified definition of “worker” that encompasses all forms of work and allow all workers to unionise, except those in the police and armed forces.

𝐌𝐮𝐥𝐭𝐢𝐩𝐥𝐞 𝐔𝐧𝐢𝐨𝐧 𝐌𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫𝐬𝐡𝐢𝐩𝐬: Currently, workers are forbidden from joining more than one union, even if they hold multiple jobs. The proposed reforms recognise part-time work and allow workers to join unions at each of their respective workplaces, as well as at the sectoral and national levels.

𝐒𝐭𝐚𝐧𝐝𝐚𝐫𝐝𝐢𝐬𝐢𝐧𝐠 𝐌𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫𝐬𝐡𝐢𝐩 𝐑𝐞𝐪𝐮𝐢𝐫𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭𝐬: The current laws require every third and subsequent unions in an establishment to have at least 20% of workers as members, while the first two unions have no such requirement, a loophole that allows for employer-influenced “pocket or yellow unions”. The proposed reforms set a simple condition for registration of a trade union: 20 workers or 10% of the total workers, whichever is less.

𝐏𝐫𝐨𝐭𝐞𝐜𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐌𝐢𝐧𝐨𝐫𝐢𝐭𝐲 𝐔𝐧𝐢𝐨𝐧 𝐑𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬: Non-CBA unions are currently denied the right to represent members in grievances or use check-off facilities. The proposed reforms permit such unions to represent their members and give them the right to check-off. They can be certified as the CBA, even with less than 33% membership (in the case of a single union).

𝐃𝐞𝐜𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐥𝐢𝐬𝐢𝐧𝐠 “𝐆𝐨-𝐒𝐥𝐨𝐰” 𝐀𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬: Currently, a “go-slow” is considered an unfair labour practice and gross misconduct that can lead to dismissal. The proposed reforms reclassify “go-slow” as a lawful form of collective action, provided that a 3-day notice is observed.

𝐑𝐞𝐬𝐭𝐫𝐢𝐜𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐆𝐨𝐯𝐞𝐫𝐧𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞 𝐢𝐧 𝐒𝐭𝐫𝐢𝐤𝐞𝐬: The government currently has broad power to prohibit strikes if they last over 30 days or even before if strikes are deemed “prejudicial to national interest”. The proposed reforms strictly limit the prohibition on strikes to “essential services”, and the power to suspend strikes is shifted from the government to the Labour Courts/National Industrial Relations Commission.

پاکستان کے لیبر کوڈز سے متعلق خدشات و تحفظات کا جواب

اعتراض نمبر  4

لیبر کوڈز آزادیِ انجمن سازی (Freedom of Association) کو کمزور کرتے ہیں، کیونکہ یہ یونینوں کو تقسیم (fragment) کرتے ہیں، اجتماعی سودے بازی کے معاہدوں (Collective Bargaining Agreements/CBAs) کی حیثیت کو مجروح کرتے ہیں، اور تنظیم سازی و ہڑتال کے حق پر عائد پابندیوں کو برقرار رکھتے ہیں یا مزید سخت کرتے ہیں۔

جواب

موجودہ صنعتی تعلقات سے متعلق قانون سازی اکثر مزدوروں کے حقوق کو سہولت دینے کے بجائے یونینیں توڑنے (union-busting) کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی معیار اور آئینی تقاضوں کے مطابق کرنے کے لیے درج ذیل اہم اصلاحات کرنا ضروری ہیں اور  پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز   اور   انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ میں انہیں متعارف کروایا جارہا ہے   :

1۔  دائرۂ کار میں توسیع (Expanding Coverage)
موجودہ قوانین بہت سے بڑے مزدور طبقوں کو  اپنے دائرہ کار  سےباہر رکھتے ہیں، جن میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (EPZ) میں کام کرنے والے، زرعی مزدور، گھر پر کام کرنے  والے
 (home-based) کارکن، گھریلو ملازمین (domestic workers)، پلیٹ فارم/گیگ (platform) ورکرز، اور وہ سرکاری ملازمین شامل ہیں جو ریاستی انتظامیہ سے متعلق نہیں۔ پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز   اور   انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ  میں “کارکن/مزدور” کی ایک سادہ اور جامع تعریف متعارف کی جا رہی ہے جو پولیس اور مسلح افواج کے سوا ہر قسم کے روزگار/کام کو کور کرے اور ان ورکرز کو یونین بنانے اور اس میں شامل ہونے کا حق دے ۔

2۔ایک سے زیادہ یونینوں کی رکنیت  (Multiple Union Memberships)
اس وقت مزدوروں کو ایک سے زیادہ یونینوں میں شامل ہونے سے روکا جاتا ہے، چاہے وہ ایک سے زیادہ جگہوں پر کام کرتے ہوں۔پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز   اور   انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ  کے مسودات  میں جزوقتی (part-time) کام کو تسلیم کیا گیا ہےتاکہ مزدوروں کو اجازت ہو کہ وہ اپنی ہر متعلقہ کام کی جگہ پر یونین میں شامل ہوں، نیز شعبہ جاتی (sectoral) اور قومی سطح پر بھی تنظیم سازی کر سکیں۔

3۔ رکنیت کی شرط یکساں بنانا (Standardising  Membership  Requirements)
موجودہ قوانین میں ایک ادارے میں ہر  تیسری یا اس سے زیادہ یونین کے لیے شرط ہے کہ کم از کم 20فیصد مزدور اس کے رکن ہوں، جبکہ پہلی دو یونینوں کے لیے یہ شرط نہیں،یہ  قانونی خلا آجر کے اثر و رسوخ والی “پیلی یونینوں” (yellow unions) کے لیے راستہ بناتا ہے۔ اس میں یہ تجویز سامنے تھی کہ یا تو یہ شرط  تمام یونینوں پر یکساں طور پر لاگو کی جائے یا پھر مکمل طور پر ختم کی جائے۔ پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز   اور   انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ    میںیونین بنانے کی سادہ شرط رکھی گئی ہے 20 کارکن یا کل کارکنوں کا 10فیصد(جو بھی کم ہو)۔

4۔اقلیتی/غیر-CBA یونینوں کے حقوق کا تحفظ (Protecting Minority Union  Rights)
اس وقت غیر-CBA (Collective Bargaining  Agent) یونینوں کو اپنے اراکین کے شکایتی معاملات (grievances) میں نمائندگی کا حق اور چیک آف (check-off) کی سہولت نہیں دی جاتی۔ پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز   اور   انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ  کے تحت  “اقلیتی” یونینوں کو اپنے اراکین کی نمائندگی کی اجازت دی جارہی ہے اور جہاں یہی واحد یونین موجود ہو، وہاں 33فیصد سے کم رکنیت ہونے کے باوجود اسے CBA کے طور پر کردار ادا کرنے دیا جائےگا۔ اسی طرح مسودہ لیبر کوڈز میں انہیں چیک آف کا حق بھی دیا گیا ہے۔

5۔گو سلو” کو جرم بنانے کی بجائے قانونی اجتماعی اقدام تسلیم کرنا (Decriminalising “Go-Slow” Actions)
موجودہ قوانین میں “گو سلو” کو غیر منصفانہ محنتی عمل (unfair  labour  practice) اور بدعنوانی(misconduct) سمجھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمت سے برطرفی ہو سکتی ہے۔پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز   اور   انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹکے تحت  “گو سلو” کو اجتماعی اقدام کی ایک قانونی صورت قرار دیا گیا ہے—بشرطیکہ 3 دن کا پیشگی نوٹس دیا جائے۔

6۔ہڑتالوں میں حکومتی مداخلت محدود کرنا (Restricting Government Interference in Strikes)
حکومت کے پاس اس وقت وسیع اختیار ہے کہ اگر ہڑتال 30 دن سے زیادہ ہو جائے یا اسے “قومی مفاد کے خلاف” سمجھا جائے تو اسے ممنوع قرار دے دے۔ پنجاب اور سندھ لیبر کوڈز   اور   انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹکے تحت ہڑتال پر پابندی کو سختی سے صرف “ضروری خدمات” (essential services) تک محدود کیا گیا ہے—یعنی ایسی خدمات جن کے تعطل سے جان یا صحت کو خطرہ ہو—اور ہڑتال معطل کرنے کا اختیار حکومت سے لے کر لیبر کورٹس یا انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن  کو منتقل کیا گیا ہے۔

کیا یہ واقعی نیولبرل ریفارمز ہیں اور کیا ان میں یونین کی آزادی کو کم کیا جا رہا ہے  جیسا کہ انکے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے یا یہ   ریفارمزتنظیم سازی کی آزادی  صرف چند فیصد کام کی جگہوں سے بڑھا کر تمام کام کرنے والے ورکرز (چاہے وہ فیکٹری  میں ہوں، گھر میں ہوں، روڈ پر ہوں، کھیت میں ہوں) کو یہ آزادی دینا چاہتی ہیں؟  آپ خود فیصلہ کیجیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Email