Addressing Concerns on Pakistan’s Labour Codes – 3
Objection 3
The Codes are built on a neo liberal, market-driven philosophy that prioritises investor and employer flexibility over the protective function of labour law.
Response
The criticism assumes that “𝐟𝐥𝐞𝐱𝐢𝐛𝐢𝐥𝐢𝐭𝐲” and “𝐩𝐫𝐨𝐭𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧” are mutually exclusive. They are not!
Modern labour regulation has to do two things at once: (1) protect workers from unequal bargaining power and unsafe or unfair conditions, and (2) create clear, predictable rules that employers can realistically comply with, so that jobs and enterprises remain viable and the law is actually followed.
𝑭𝒊𝒓𝒔𝒕, 𝒄𝒐𝒅𝒊𝒇𝒊𝒄𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒊𝒔 𝒏𝒐𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒔𝒂𝒎𝒆 𝒂𝒔 𝒅𝒆𝒓𝒆𝒈𝒖𝒍𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏. Bringing scattered statutes into a consolidated Code can improve worker protection by reducing loopholes, clarifying obligations, and strengthening enforcement pathways. In Pakistan, a major practical problem has been weak compliance and fragmented administration; clearer legal architecture can make it easier for workers, unions, inspectors, and courts to know what the law requires and to act on violations.
𝑺𝒆𝒄𝒐𝒏𝒅, 𝒑𝒓𝒆𝒅𝒊𝒄𝒕𝒂𝒃𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚 𝒃𝒆𝒏𝒆𝒇𝒊𝒕𝒔 𝒘𝒐𝒓𝒌𝒆𝒓𝒔 𝒂𝒔 𝒎𝒖𝒄𝒉 𝒂𝒔 𝒆𝒎𝒑𝒍𝒐𝒚𝒆𝒓𝒔. When rules are coherent and procedures are defined, workers can claim rights easily. If “flexibility” means streamlined procedures, faster dispute resolution, or clearer thresholds, that can reduce informality and make employment relationships more transparent—often a precondition for enforcing wages, hours, benefits, and OSH standards.
𝑻𝒉𝒊𝒓𝒅, 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒆𝒏𝒄𝒉𝒎𝒂𝒓𝒌 𝒔𝒉𝒐𝒖𝒍𝒅 𝒃𝒆 𝒔𝒖𝒃𝒔𝒕𝒂𝒏𝒕𝒊𝒗𝒆 𝒓𝒊𝒈𝒉𝒕𝒔 𝒂𝒏𝒅 𝒆𝒏𝒇𝒐𝒓𝒄𝒆𝒂𝒃𝒊𝒍𝒊𝒕𝒚, 𝒏𝒐𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒓𝒉𝒆𝒕𝒐𝒓𝒊𝒄 𝒐𝒇 “𝒎𝒂𝒓𝒌𝒆𝒕-𝒅𝒓𝒊𝒗𝒆𝒏” 𝒑𝒐𝒍𝒊𝒄𝒚. A Code can only be called “neo-liberal” if it actually weakens core protections, e.g., by narrowing coverage, reducing minimum standards, limiting collective bargaining, weakening inspection powers, diluting penalties, or making termination easier without safeguards. The reality is that these Codes extend protections to all!
𝐓𝐡𝐞 𝐩𝐫𝐨𝐩𝐞𝐫 𝐰𝐚𝐲 𝐭𝐨 𝐚𝐬𝐬𝐞𝐬𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐜𝐨𝐝𝐞𝐬 𝐢𝐬 𝐜𝐥𝐚𝐮𝐬𝐞-𝐛𝐲-𝐜𝐥𝐚𝐮𝐬𝐞: What happens to minimum wage coverage, working-time limits, maternity protections, OSH duties, freedom of association, access to labour courts/tribunals, remedies for unfair labour practices, and protections for contract, piece-rate, vulnerable and platform workers?
𝑰𝒔 𝒊𝒕 𝒓𝒆𝒂𝒍𝒍𝒚 𝒕𝒉𝒆 𝒏𝒆𝒐-𝒍𝒊𝒃𝒆𝒓𝒂𝒍 𝒐𝒓 𝑾𝒆𝒔𝒕𝒆𝒓𝒏 𝒂𝒈𝒆𝒏𝒅𝒂 to protect the interns, construction workers, agricultural workers, domestic workers, home-based workers, transport workers, digital labour platform workers, and religious workers?
پاکستان کے لیبر کوڈز سے متعلق خدشات و تحفظات کا جواب
اعتراض نمبر 3
پنجاب اور سندھ لیبر کوڈزکے مسودے ایک نیو لبرل، منڈی پر مبنی فلسفے پر قائم ہیں جو مزدور قانون کے تحفظاتی کردار کے بجائے سرمایہ کار اور آجر کی “لچک” اور آزادی کو ترجیح دیتا ہے۔
جواب
یہ تنقید یہ مفروضہ قائم کرتی ہے کہ “لچک” (flexibility)اور “تحفظ” (protection)ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ جدید لیبر ریگولیشن کو بیک وقت دو مقاصد پورے کرنے ہوتے ہیں: (1) کارکنوں کو غیر مساوی گفت و شنید کی طاقت، غیر محفوظ اور غیر منصفانہ حالات سے بچانا؛ اور (2) ایسے واضح اور قابلِ پیش بینی قوانین فراہم کرنا جن پر آجر حقیقتاً عمل کر سکیں، تاکہ روزگار اور کاروبار برقرار رہیں اور قانون محض کاغذی نہ رہے بلکہ اس پر عملدرآمد بھی ہو۔
اول: منتشر قوانین کو یکجا کر کے ایک مربوط کوڈ بنانا ہرگز ڈی ریگولیشن نہیں۔ قوانین کو ایک ضابطہ/کوڈ میں سمیٹنا مزدوروں کے تحفظ کو بہتر بنا سکتا ہے، ایسا قانون جس میں سقم کم ہوں، ذمہ داریاں واضح ہوں، اور نفاذ کے راستے مضبوط ہوں۔ پاکستان میں عملی مسئلہ یہ رہا ہے کہ عمل درآمد کمزور اور انتظامی ڈھانچہ بکھرا ہوا ہے؛ واضح قانونی ساخت سے مزدوروں، یونینز، انسپکٹرز اور عدالتوں کے لیے یہ سمجھنا آسان ہوتا ہے کہ قانون کیا تقاضا کرتا ہے اور خلاف ورزی پر کیسے کارروائی ہو۔
دوّم: قواعد کی پیش بینی (predictability)جتنی آجر کے لیے مفید ہے اتنی ہی کارکنوں کے لیے بھی۔ جب ضابطے مربوط ہوں اور طریقہ کار واضح ہو تو مزدور اپنے حقوق زیادہ آسانی سے طلب کر سکتے ہیں۔ اگر “لچک” سے مراد غیر ضروری پیچیدگی کم کرنا، تنازعات کا تیز تر حل، یا واضح حد بندی ہے تو اس سے غیر رسمی روزگار کم اور ملازمت کے رشتے زیادہ شفاف ہو سکتے ہیں—اور یہی شفافیت اکثر اجرت، اوقاتِ کار، مراعات اور پیشہ ورانہ حفاظت و صحت کے معیار نافذ کرنے کے لیے بنیادی شرط ہوتی ہے۔
سوّم: معیار “منڈی پر مبنی” بیانیہ نہیں بلکہ حقیقی حقوق اور انکا مکمل نفاذ ہے۔ کسی قانون کو اس معنی میں “نیو لبرل” تب ہی کہا جا سکتا ہے جب وہ واقعی بنیادی تحفظات کمزور کرے—مثلاً قانون کا دائرۂ کار محدود کرے، کم از کم معیارات گھٹائے، اجتماعی سودے بازی پر قدغن لگائے، انسپکشن اختیارات کم کرے، سزاؤں کو نرم کرے، یا مناسب حفاظتی بندوبست کے بغیر برطرفی آسان بنا دے۔ اس لیے درست طریقہ یہ ہے کہ ان کوڈز کو دفعہ بہ دفعہ پرکھا جائے: کم از کم اجرت کا اطلاق، اوقاتِ کار کی حدیں، زچگی/مادری تحفظات، پیشہ ورانہ حفاظت و صحت کی ذمہ داریاں، تنظیم سازی کی آزادی، لیبر عدالتوں/ٹریبیونلز تک رسائی، غیر منصفانہ لیبر پریکٹسزکے خلاف تدارک، اور کنٹریکٹ، پیس ریٹ، کمزور و غیر محفوظ اور پلیٹ فارم ورکرز کے تحفظات میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
اور ایک بنیادی سوال: کیا “نیو لبرل ایجنڈا” واقعی انٹرنز، تعمیراتی، زرعی، گھریلو، ہوم بیسڈ، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل پلیٹ فارم ورکرز اور مذہبی کارکنوں جیسے طبقات کو واضح قانونی تحفظ دینے کو کہتا ہے؟ اگر کوڈز ان طبقات کو شامل کر کے حقوق اور نفاذ مضبوط کرتے ہیں تو یہ مزدور قانون کے تحفظاتی کردار کی توسیع ہے، نہ کہ اس کی نفی۔کیا آپ واقعی ایسی قانون سازی کے متعلق اس پراپیگنڈا پر یقین کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو پاکستان میں مغربی ممالک کی طرز پر قانون سازی قبول نہیں، کیاتمام کام کرنے والے لوگوں کے حقوق کا تحفظ مغربی قانون سازی ہے؟؟ ذرا غور کیجیے!