Response to Objections on Punjab and Sindh Labour Codes
افتخار احمد قوانین ِ محنت کے تقابلی مطالعے (comparative labour law) کے ماہر اور سینٹر فار لیبر ریسرچ ، پاکستان کے بانی ہیں۔2006 سے مزدوروں کے حقوق پر کام کرتے ہوئے ، وہ حکومت پاکستان اور مختلف اداروں کے ساتھ لیبر مارکیٹ اور قانونی اصلاحات کے معاملات پر مصروف عمل ہیں۔ اس وقت وہ لیبر رائٹس انڈیکس(Labour Rights Index) کے تیسرے ایڈیشن پر کام کو لیڈ کر رہےہیں جس میں 145 ممالک کے لیبر قوانین کا 40 سے زائد تشخیصی معیاروں پر موازنہ کیا گیا ہے۔افتخار نے فلبرائٹ اسکالر (Fulbright scholar)کی حیثیت سے کارنیل یونیورسٹی ، امریکہ
(Cornell University, NY, USA)کے انڈسٹریل اینڈ لیبر ریلیشنز سکول سے ماسٹر زکیا ہے۔
*راجا فیض الحسن فیض ایک وکیل ہیں اور لیبر لاز پر کام کرنے کا چالیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ آپ نے مرکزی وزارت محنت اور افرادی قوت، حکومت پاکستان کے ساتھ سینٹرل لیبر ایڈوائزر کے طور پردس سال سے زیادہ خدمات انجام دیں اور بچوں کی مشقت کے خاتمے کے لیے ILO کے بین الاقوامی پروگرام کے ساتھ کام کیا۔ چائلڈ لیبر ؛ بندھوا مزدوری ، کارکنوں کی بہبود؛ صنعتی تعلقات؛ پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت؛ کام کے حالات اور اجرت؛ ۔اور دیگر ایشوز سے متعلق ملک میں ہونے والی قانون سازی ٹیمز میں شامل رہے ہیں ، لیبر پروٹیکشن پالیسی اور لیبر انسپکشن پالیسی کے ڈرافٹ کرنے میں حصہ لیا اور ان سب امور سے متعلق وزارت کے ڈائریکٹر پالیسی پلاننگ سیل کے طور پر بھی کام کیا۔ صوبوں کے لیے پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت سے متعلق پہلے قانون کا مسودہ تیار کیا۔ اسی مسودہ قانون کو 2015 میں معزز سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کیا گیا، لیبر پالیسی 2010 کی تیاری پر کام کیا،ملازمتوں میں امتیازی سلوک کی ممانعت کیلیے پہلا ماڈل ڈرافٹ تیار کیا۔
**افتخار اور راجا فیض ، سینٹر فار لیبر ریسرچ کے پلیٹ فارم سے صوبائی حکومتوں کیلیے کئی نئے ایشوز پر قوانین ڈرافٹ کر چکے ہیں مثلاً پلیٹ فارم ورکرز کے حقوق کیلیے پہلا ڈرافٹ 2022 میں تیار کیا اور حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کو پیش کیا گیا۔وہ دونوں ، وزیر اعظم پاکستان کے تشکیل کردہ اس لیبر ایکسپرٹ گروپ کے بھی رکن رہے ہیں جوغیر رسمی معیشت کے مزدوروں /محنت کشوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کیلیے بنایا گیا تھا (2019-2022)۔ انہوں نے پنجاب اور سند ھ میں قوانینِ محنت کو آسان بنانے پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کیا ہے اور دونوں صوبوں میں لیبر کوڈز کے مسودات کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان قانونی مسودات کے ذریعے سے دو درجن سے زیادہ قوانین کو یکجا کیا گیا ہے۔
رابطہ:[email protected]
پنجاب اور سندھ کے مجوزہ لیبر کوڈز 2024پر اعتراضات اور اصل حقائق
تعارف
پاکستان کے صوبوں میں متعدد لیبر قوانین نافذ ہیں۔ ان میں سے بہت سے پرانے اور آپس میں متضاد بھی ہیں۔ مثلاً ، ہر صوبے میں تقریباً 10 ایسے قوانین ہیں جنکا تعلق کسی خاص شعبے یا سیکٹر کے ساتھ ہے جن میں زراعت سے لے کر فیکٹریوں، دکانوں اور اداروں سے لے کر روڈ ٹرانسپورٹ تک کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے یہ تمام قوانین کارکن، آجر، اسٹیبلشمنٹ، بچہ اور نوعمر جیسی اصطلاحات کے لیے متضاد تعریفیں استعمال کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر، اور پورے خطے میں، زیادہ تر حکومتوں بشمول بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ویتنام نے لیبر قوانین کو اپ ڈیٹ اور مضبوط کیا ہے۔ حال ہی میں انڈیا، چین، ملائیشیا، سنگاپور اور جنوبی کوریا میں بھی بڑی اصلاحات ہوئی ہیں جن میں مختلف لیبر قوانین کو کوڈ کی صورت میں یکجا کیا گیا ہے۔پاکستان میں اس عمل کو شروع کرنے کے لیے پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے 2022-23 میں ایک لیبرکوڈ تیار کرنے پر کام شروع کیا۔اس کاوش کا مقصد قوانین کو یکجا، مضبوط، آسان اور معقول بنانا تھا۔اس کیلیے دونوں صوبائی حکومتوں نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن سے تکنیکی معاونت طلب کی۔ILO نے اس بنیاد پر تکنیکی معاونت دینے پر اتفاق کیا کہ مجوزہ لیبر کوڈز تمام مزدوروں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں گے اور لیبر کوڈ بنانے کے عمل میں مزدوروں اور آجروں کے نمائندے شامل رہیں گے۔ موجودہ لیبر قوانین کے برعکس، مزدورں کے بنیادی حقوق تک رسائی تمام کام کرنے والے لوگوں کا حق ہے اور مجوزہ لیبر کوڈز اس بنیاد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام محنت کشوں پر لاگو ہوتے ہیں چاہے وہ فیکٹری ورکر ہوں یا ڈاکٹر ، گھریلو ملازمین ہوں یا ریڑھی بان ۔محنت کشوں کے بنیادی حقوق جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے مؤثر خاتمے، مساوات، جائے کار پر صحت اور حفاظت اور انجمن کی آزادی اور اجتماعی سودے کاری سے متعلق ہیں۔
مجوزہ لیبر کوڈز کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ کلیدی تعریفوں سے متعلق ہےجو وضاحت کرتا ہے کہ مختلف کام کرنے والے افراد کوکوڈ کے کن حصوں میں تحفظ دیا گیا ہے۔دوسرا حصہ کام پر بنیادی اصولوں اور حقوق کے بارے میں ہے۔ یہ ہر اس شخص پر لاگو ہوتا ہے جو کوئی بھی کام کرتا ہو۔ اس لیے یہ ‘ورکر’ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں یہ لفظ بعض اوقات ایک تنگ معنی رکھتا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس میں وہ تمام افراد شامل ہوتے ہیں جو کام کرتے ہیں، چاہے وہ بلیو کالر ہوں یا وائٹ کالر، غیر رسمی ہوں یا رسمی، ملازم ہوں یا سیلف ایمپلائڈ۔ ان قانونی تحفظات کا اطلاق رسمی شعبے میں کام کرنے والے تقریباً 10 ملین مزدوروں کی بجائے پنجاب اور سندھ میں کل لیبر فورس یعنی تقریباً 58 ملین افراد پر ہوتا ہے۔
کوڈ کا تیسرا حصہ صرف “ملازمین” پر لاگو ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ صرف ان ورکرز سے متعلق ہے جو کسی جگہ ملازمت کرتے ہوں، اس حصے کا تعلق ملازمت کے معاہدوں، معاوضے، کام کا وقت، چھٹیوں وغیرہ سے ہے۔ بعض اوقات “ملازم” کی اصطلاح صرف پاکستان میں وائٹ کالر مزدوروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے لیکن یہ بین الاقوامی استعمال سے مطابقت نہیں رکھتا۔
کوڈز کے چوتھے حصے میں مزدوروں کے مخصوص زمروں کے بارے میں تفصیلی دفعات ہیں، جن میں سے زیادہ تر اس وقت لیبر قانون سازی کے دائرے سے باہر ہیں، جس میں انٹرن اور ایگریکلچر ورکرز سے لے کر کنسٹرکشن ورکرز تک پلیٹ فارم یاگِگ ورکرز شامل ہیں۔ کوڈ کا پانچواں حصہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کی مختلف دفعات سے متعلق ہے، جیسے بونس، لازمی گروپ انشورنس، ورکرز کے منافع میں شرکت اور ملازمین کا معاوضہ ،وغیرہ۔
کوڈز کا چھٹا حصہ تنازعات، پابندیوں اور اداروں سے متعلق تمام دفعات کو یکجا کرتا ہے جو اس وقت مختلف قوانین میں بکھری ہوئی ہیں۔ ساتویں حصہ میں عمومی دفعات ہیں۔ اس حصے میں ملازمین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق اصلاحاتی دفعات شامل ہیں۔ سپلائی چین میں مناسب مستعدی اور سرکاری معاہدوں میں منصفانہ روزگار کے معیارات پر دفعات شامل ہیں۔
چند اہم ریفارمز
مجوزہ لیبر کوڈز میں کچھ ایسی ریفارمز ہیں جنکے متعلق آپ کو علم ہونا ضروری ہے۔
- لیبر کوڈزتمام شعبوں پر لاگو ہوں گے۔
موجودہ قوانین کا اطلاق کچھ سیکٹرز کے لیے مخصوص ہے اور اس کی عددی حدیں بھی ہیں، اور بعض اوقات ان میں متضاد دفعات بھی پائی جاتی ہیں، مجوزہ لیبر کوڈز تمام شعبوں میں تمام کام کی جگہوں پر اور تمام ورکرز پر لاگو ہوں گے۔یہ ضابطہ کم از کم بنیادی حقوق کے لحاظ سے، اس شعبے یا کاروباری ادارے کی بنیاد پر جس میں کارکن مصروف عمل ہے، کارکنوں کے درمیان کوئی امتیازی سلوک نہیں کرتا۔
ان مجوزہ لیبر کوڈز کے ذریعے سے پہلی دفعہ زرعی مزدور، تعمیراتی مزدور، انٹرنز،گھریلو ملازمین، اور پلیٹ فارم ورکرز کوبھی قوانین محنت کا تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
- بندھوا یا جبری اور لازمی مزدوری
فی الحال قابل اطلاق قانون سازی صرف قرض کی غلامی اور اس کے نتیجے میں بندھوا مزدوری پر مرکوز ہے۔ تاہم، ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں مزدور جبری اور جبری مشقت کی وجہ سے استحصالی کام کے حالات میں مصروف ہیں۔ لیبر کوڈز کا مسودہ جبری یا لازمی مزدوری کی تعریف کرتا ہے اور اس تعریف میں جبری اوور ٹائم کی مثالیں بھی شامل ہیں۔اسکے علاوہ جبری مشقت کیلیے کی جانے والی ٹریفکنگ کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
- امتیازی سلوک کی ممانعت
ملک میں ملازمت کے معاملات میں امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے کوئی جامع قانون سازی نہیں ہے۔ ملک میں موجودہ صنفی تنخواہ کا فرق 37 فیصد ہے، یعنی ایک مرد ورکرجس کام کے 100 روپے کماتا ہے ایک خاتون ورکرکو اسی کام کے صرف 63 روپے ملتے ہیں۔
کچھ قوانین میں چند سنگل لائن دفعات کے علاوہ، کام کی جگہ پر مواقع اور سلوک کی مساوات کے حوالے سے کوئی جامع دفعات نہیں ہیں۔ قانون سازی یا قواعد براہ راست اور بالواسطہ امتیاز کی وضاحت نہیں کرتے ہیں۔ مجوزہ لیبر کوڈز، پہلی بار امتیازی سلوک کے بارے میں تفصیلی دفعات پر مشتمل ہے اور امتیازی سلوک کی ممنوعہ بنیادوں جیسے کہ جنس، حمل، خاندانی ذمہ داریوں، ذات پات اور جسمانی شکل و ہیئت وغیرہ کا تعین کرتےہیں۔اسکے علاوہ ایک “ایکول ایمپلائمنٹ اپرچونٹی آفس” کے قیام کی بھی تجویز ہے جس کو امتیازی سلوک یا کسی بھی قسم کی ہراسانی کے خلاف شکایت کی جا سکے گی۔
- بینکنگ چینلز کے ذریعے معاوضے کی ادائیگی
مجوزہ لیبر کوڈز بینکنگ چینلز کے ذریعے معاوضے کی ادائیگی پر زور دیتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کارکنوں کو بغیر بلاوجہ کٹوتیوں کے پوری اجرت دی جائے۔ یہ قانون تمام ملازمین کو پے سلپ دینے کا حکم دیتے ہیں جن میں نہ صرف اجرت بیکہ کٹوتیوں اور چھٹیوں کی معلومات کا شامل ہونا بھی ضروری ہے۔
- کام کرنے کا وقت اور چھٹیاں
مجوزہ لیبر کوڈز اوور ٹائم کو روزانہ 2 گھنٹے تک محدود کرتے ہیں۔ سالانہ چھٹیوں کو 14 سے بڑھا کر 21 کیلنڈر دنوں کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ بامعاوضہ قرنطینہ چھٹی (14 دن) اور عدت کی چھٹی (130 دن) کے تصورات کو متعارف کراتے ہیں جوکہ موجودہ قانون سازی کے تحت دستیاب نہیں ہیں۔ یہ لیبر کوڈزورکرز کو سالانہ اور بیماری کی چھٹیاں جمع کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔
- زچگی کا تحفظ اور خاندانی ذمہ داریاں
مجوزہ لیبر کوڈز حمل کی وجہ سے برخاستگی سے منع کرتے ہیں (فی الحال، برخاستگی سے تحفظ صرف زچگی کی چھٹی کے دوران ہے)۔ مجوزہ کوڈز دودھ پلانے والی ماؤں کو ایک دن میں بامعاوضہ وقفے فراہم کرتے ہیں جب تک کہ بچہ 12 ماہ کا نہ ہو جائے۔ چھوٹے آجرمشترکہ طور پر ڈے کیئر سینٹرز قائم کرسکیں گے۔ مجوزہ لیبر کوڈز کم از کم 14 ہفتوں کی زچگی کی چھٹی کو یقینی بناتےہیں (سندھ میں پہلے ہی 16 ہفتے ہیں)۔ مجوزہ کوڈز بچے کی پیدائش پر باپ کے لیے بھی چھٹی تجویز کرتے ہیں۔ خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ کارکنوں کے لیے کام کرنے کے لچکدار انتظامات مہیا کرنے کی تجاویز بھی ان میں شامل ہیں
- حادثے کی صورت میں معاوضہ
اگرچہ پنجاب اور سندھ میں حادثے کی صورت میں موجودہ معاوضہ پانچ لاکھ روپے ہے ان مجوزہ لیبر کوڈز کے تحت یہ معاوضہ کم از کم اجرت کا 20 گنا تجویز کیا گیا ہے۔ یعنی ابھی کی اجرت کے مطابق 640،000 روپے۔ اور جوں جوں اجرت بڑھتی جائے گی، یہ معاوضہ بھی بڑھتا جائے گا۔ اسی طرح گروپ انشورنس کی رقم بھی کم از کم اجرت کے بڑھنے کے ساتھ بڑھتی جائے گی۔
- بونس اور کمپنیز پرافٹ ورکرز پارٹیسیپشن فنڈ
بونس اور کمپنیز پرافٹ ورکرز پارٹیسیپشن فنڈ میں مختلف کیٹگریز میں اجرتوں کی حد کو بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع اس اسٹبلشمنٹ کے مزدوروں کو مل سکے ۔ اور بونس کی صورت میں زیادہ بونس کم اجرتوں والے ورکرز کو مل سکے۔
- فیئر پرائس شاپس
سندھ کے قانون میں پہلی دفعہ ہر اس اسٹبلشمنٹ جس میں 500 ورکرز کام کرتے ہوں اس میں فیئر پرائس شاپس بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ورکرز کو ضروریات زندگی کی تمام اشیا مناسب ریٹ پر میسر ہوں، پنجاب میں یہ قانون دہائیوں سے موجود ہے۔
- ملازمت کا تحفظ
مجوزہ لیبر کوڈز میں پہلی دفعہ مزدوروں کی ملازمت کو آجر کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ کو شکایت لگانے کی صورت میں تحفظ دیا گیا ہے اب کوئی بھی آجر اس بنیاد پر کہ مزدور نے اسکے خلاف شکایت لگائی یا کیس کیا یا گواہی دی تو کسی بہانے کے تحت مزدور کو ملازمت سے فارغ نہیں کر سکے گا۔
اسکے علاوہ مجوزہ لیبرکوڈز کی مختلف دفعات کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں،جن کا تقاضا ہے کہ ان پر علیحدہ علیحدہ سیر حاصل تبصرہ کیا جائے اور قارئین کو صحیح صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔
لیبر کوڈز پر کیا گیا "تنقیدی قانونی جائزہ "
پاکستان کی مایہ ناز یونیورسٹی کے دو اساتذہ کی جانب سے ایک قانونی تنقیدی جائزہ ( جسے تنقیصی جائزہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا) جاری کیا گیاہے جس میں ان اساتذہ نے پنجاب اور سندھ کے مجوزہ لیبر کوڈز پر اپنی تحریری رائے دی ہے۔ اگلے صفحات میں ہم اسے “تنقیدی قانونی جائزے” کے نام سے موسوم کریں گے ۔ اسکے علاوہ فیس بک اور اخبارات میں چھپنے والے مختلف آرٹیکلز بھی ہمارے سامنے ہیں۔
مزید گزارشات سے پہلے ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ جواب نہ تو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی طرف سے ہے اور نہ ہی حکومتِ پنجاب اورحکومت سندھ کی جانب سے، چونکہ ہم دونوں ان مجوزہ لیبر کوڈز کی ڈرافٹنگ ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور اس تنقیصی جائزے میں ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس گمراہ کن تنقیدی قانونی جائزہ کا پردہ فاش کیا جائےاور حقائق کو آپ کے سامنے لایا جائے ۔
اس لیگل بریف کا مقصد ان قوانین اور زمینی حقائق کو آپکے سامنے لانا ہے جو کہ لیبرکوڈز کو ڈرافٹ کرتے وقت ہمارے سامنے تھے اور ان سے متعلق کچھ بنیادی غلط فہمیاں دور کی جائیں۔ ہم پچھلے بریف میں بھی یہ عرض کر چکے ہیں کہ جون 2024 کے آخر میں ہی اور پنجاب اور سندھ میں مجوزہ لیبر کوڈز کی پریزینٹیشنز کے بعد ان کوڈز کا ڈرافٹ 4 تمام فریقین کے ساتھ شیئر کیا گیا لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ عمداً “تنقیدی قانونی جائزہ” ڈرافٹ 3 کو ہی سامنے رکھ کر لکھا گیا اگرچہ ڈرافٹ 4میں کئی سکیشنز کو ان میٹنگز میں دیئے گئے مشوروں کی روشنی میں بہتر بنایا گیا تھا۔
لیبر کوڈز پر کیے گئے اعتراضات اور انکی اصل حقیقت
اعتراض نمبر 1:مشکل تعریفیں
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
“تنقیدی قانونی جائزے” کےمصنفین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کوڈ کو ڈرافٹ کرتے ہوئے تعریفات کو سہل نہیں بنایا گیا جسکی وجہ سے سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے ۔ اس کے متعلق ہمارا جواب یہ ہے کہ کوڈ “ورکر ” کے الفاظ پارٹ II یعنی بنیادی اصولوں اور حقوق کے حصے میں استعمال کرتا ہے جبکہ ایمپلائی کے الفاظ کوڈ کے تیسرے اور دیگر حصوں میں استعمال کیے گئے ہیں۔ سیلف ایمپلائڈ اور ہوم بیسڈ ورکر کے درمیان بھی خاصا فرق ہے اور اسکی تعریف بالکل مختلف ہے، ہوم بیسڈ ورکر سیلف ایمپلائڈ ہو سکتے ہیں لیکن ہر سیلف ایمپلائڈ ورکر ضروری نہیں کہ ہوم بیسڈ بھی ہو، مثلاً ایک الیکٹریشن سیلف ایمپلائڈ تو ہے لیکن ہوم بیسڈ نہیں۔ ان صورتوں میں جہاں ایک ہوم بیسڈ ورکر کے پاس کئی دیگر ورکر کام کر رہے ہوں، اسے ایمپلائر کا سٹیٹس دیا جائے گا لیکن اس کا فیصلہ زمینی حقائق پر ہی ہو گا، ہم ذیل میں ڈرافٹ 4 سے سیلف ایمپلائڈ اور ہوم بیسڈ ورکر کی تعریف لکھ دیتے ہیں ۔
Section 227(c): “home-based worker” means any person involved in production and manufacturing of goods and rendering services, including online work, in relation thereto in the home premises or nearby premises or in a yard, garage or any other place near the home while working as self-employed, provided that an employee working occasionally at home rather than at his or her usual workplace shall not be deemed as a home-based worker;
Section 11(2): “self-employed person” means an individual who works or provides services in person for gain or reward otherwise than under an employment agreement.
اعتراض نمبر 2:ورکرز اور مینجریل سٹاف
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
“تنقیدی قانونی جائزے” کےمصنفین کو اس میں بھی غلط فہمی ہوئی ہے اور بجائے اسکے کہ وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتےانہوں نے اپنے خود پیداکردہ ابہام کو سب تک پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ مینجرز کو ایمپلائی کی تعریف میں شامل کرنے کا مقصد انکے حقوق کا تحفظ ہے اور انہیں اپنی حد تک یونین سازی اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی دینا ہے۔
اگر ہم موجودہ لیبر قوانین کا جائزہ لیں تو ان میں ورکرز کو اپنی ملازمت اور حقوق سے متعلق جو بھی شکایات ہوں وہ ان کے ازالے کیلیے لیبر کورٹ جا سکتے ہیں اور مینجر یل سٹاف (مینجر، اسسٹنٹ مینجر وغیرہ) پر لا آف ماسٹر اینڈ سرونٹ یعنی آقا اور غلام کا قانون لگتا ہے اور ان کے پاس کوئی فورم نہیں ہے جہاں وہ اپنی جائز شکایات کا ازالہ کروا سکیں، یہ دراصل نوآبادیاتی قانون سازی کا شاخسانہ ہے کہ ورکرز کو “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے فلسفے کے تحت آپس میں لڑایا جائے اور انکو ایک دوسرے کے مدمقابل لایا جائے۔انہیں قوانین میں حقوق نہ دینے کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی ملازمت کے تحفظ کیلیے مالکان کے زیر نگر رہیں اور مالکان کی خواہشات کے مطابق مزدوروں کو دبا کر رکھیں ۔حالانکہ مینجریل سٹاف کے بھی تمام حقوق ہیں ۔
دوسری طرف اگر ہم سول سرونٹس یعنی سرکاری ملازمین کو دیکھیں تو وہاں پر نائب قاصد سے لے کر سیکرٹری تک تمام لوگ اپنی سروس سے متعلق کسی بھی شکایت پر فیڈرل سروسز ٹربیونل میں جا کر درخواست دے سکتے ہیں اس طرح تمام سرکاری ملازمین کے حقوق کا تحفظ تو ممکن ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹر میں یہ تحفظ ممکن نہیں تھا اس لیے اس کوڈ میں ہم نے جہاں عام ورکرز کو یونین سازی کا حق دیا تاکہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں اسی طرح جو مینجرز ہیں ان کو بھی علیحدہ سے یونین سازی کا حق دیا ہے تاکہ اگر ان کے حقوق کو سلب کیا جائے تو وہ بھی اب ورکرز کے ذیل میں آ جائیں گے اور وہ اپنے حقوق کا تحفظ لیبر کورٹ کے ذریعے کر سکیں گے اس طرح پرائیویٹ سیکٹر اور گورنمنٹ سیکٹر کے ملازمین میں جو ایک بہت بڑا فرق تھا اس کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ مینجر اب کسی قانونی چارہ جوئی کا شکار نہیں ہو سکیں گے تویہ بات غلط ہے اکوپائر پہلے صرف فیکٹریز ایکٹ میں رکھا گیا تھا اور اس کے علاوہ کہیں بھی اکوپائر کا تصور نہیں تھا اب اس اکوپائر کو نہ صرف فیکٹریز میں بلکہ شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ میں، اس کے علاوہ مائنز میں، اسکولوں میں، ہسپتالوں میں ہر جگہ یہ لازم کر دیا گیا ہے کہ کوئی اکوپائر نامزد ہوگا اگر اکوپائر نامزد نہیں ہوگا تو جو اس ادارے کا ڈائریکٹر یا مالک ہوگا وہ ذاتی طور پر اس کے لیے ذمہ دار ہوگا ۔ اس طرح اکوپائر کی حیثیت سے ان مینجرز (چاہے وہ پورے ادارے کو دیکھ رہے ہوں یا اس کا کوئی سیکشن دیکھ رہے ہوں) کے خلاف ورکرز لیبر کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کر سکیں گے۔
اعتراض نمبر 3: پرنسپل اور پرنسپل ایمپلائر کا فرق
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اب ہم آتے ہیں ان کے اُس اعتراض کی طرف جہاں پر وہ بات کرتے ہیں پرنسپل اور ورکرز اور کنٹریکٹر ورکرز کی یونین کی اور انکی کلیکٹو بارگیننگ کی، جو زبان محترم پروفیسر صاحبان نے استعمال کی ہے چلیں ہم اس کو تو چھوڑ دیتے ہیں وہ آپ خود جب پڑھیں گے تو آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ پڑھے لکھوں کی زبان کیسی ہوتی ہے لیکن یہاں انہوں نے ریفرنس دیا ہے مجوزہ کوڈ کے سیکشن 113 کا اور فرماتے وہ یہ ہیں کہ سیکشن 113 کے تحت وہ ملازمین جو کانٹریکٹر یعنی ٹھیکے دار کے ذریعے کام کر رہے ہوں اور کوڈ کے مطابق دراصل کنٹریکٹر کے ملازم گردانے جائیں گے وہ بھی پرنسپل یعنی ادارے یا اسٹیبلشمنٹ کے مالک کے ساتھ براہ راست کلیکٹو بارگیننگ کر سکتے ہیں یہاں سب سے پہلے جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں وہ تو یہ ہے کہ شاید یہ مصنفین پرنسپل اور پرنسپل ایمپلائر میں فرق کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔پاکستان میں ورکمین کمپنسیشن ایکٹ 1923 ایک سو سال قبل سے پرنسپل کی اصطلاح استعمال کرتا چلا آرہا ہے اور پرنسپل ایمپلائر کی اصطلاح بہت بعد میں کئی عدالتی فیصلوں میں استعمال ہوئی ہے۔ پرنسپل ایمپلائر اور پرنسپل میں خاصا فرق ہے ہم ذیل میں پرنسپل کی اصطلاح کو کاپی کر دیتے ہیں تاکہ آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ ہے کیا اس کوڈ کے تحت پرنسپل کسی بندے کو ملازم رکھ ہی نہیں سکتا پرنسپل وہ ہے جو کام کے لیے باہر سے کسی بھی بندے کو بغیر ملازمت کے معاہدے کےبلاتا ہے اور اس سے کام کراتا ہے مثال کے طور پر ایک اسٹیبلشمنٹ ہے اس میں 200 اے سی لگے ہوئے ہیں اس سات آٹھ سو کمپیوٹر رکھا ہوا ہے اس میں کچھ پرنٹر لگے ہوئے ہیں اور اس کا جو پرنسپل ہے یا اس کا ذمہ دار کہہ لیجیے وہ چاہتا ہے کہ ان ایئر کنڈیشنز، کمپیوٹرز اور پرنٹرز وغیرہ کی سروس ہو تو وہ کسی کنٹریکٹر سیلف ایمپلائڈ پرسن کو ان تما سروسز کیلیے کہتا ہے تو یہ کام ہو سکتا ہے کہ مہینہ بھر چلے، دو ماہ چلے لیکن وہ جو کام کرنے والے ہیں وہ پرنسپل کے ملازم نہیں بلکہ یا تو وہ کنٹریکٹر یا سیلف ایمپلائیڈ پرسن ہیں یہاں اس پرنسپل کی جو ذمہ داری ہے وہ یہ ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ وہ تمام لوگ اکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں ان کے پاس وہ ضروری اوزار ہیں یا نہیں وہ اپنی حفاظت یا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں یا نہیں اب یہ لوگ جو ملازم تو نہیں ہیں لیکن اس کام کے دوران اگر وہ اس پرنسپل کے ساتھ کسی قسم کی کی کوئی شرائط طے کر نا چاہتے ہوں جو پہلے سے معاہدے میں شامل نہ ہو یا انکی کوئی اور مانگ ہو جس کے لیے وہ پرنسپل سے بات کریں تو وہ بات یہاں پر کہی گئی ہے کہ وہ اس یہ کلیکٹو بارگیننگ ایسے کریں گے جیسا کہ پارٹ فور خصوصی کیٹگری والے ورکرز کرتے ہیں، ان ورکرز کی کلیکٹو بارگیننگ کا طریقہ کار رولز میں متعین کیا جائے گا۔ یہاں ہم پھر ایک دفعہ یہی کہیں گے کہ محترم اساتذہ پرنسپل اور پرنسپل ایمپلائر کے فرق کو سمجھ ہی نہیں سکے اور اپنی غلط فہمی اور ناسمجھی کو سب لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔
Section 12 of the Workmen’s Compensation Act, 1923
12. Contracting.– (1) Where any person (hereinafter in this section referred to as the principal) in the course of or for the purposes of his trade or business contracts with any other person (hereinafter in the section referred to as the contractor) for the execution by or under the contractor of the whole or any part of any work which is ordinarily part of the trade or business of the principal, the principal shall be liable to pay to any workman employed in the execution of the work any compensation which he would have been liable to pay if that workman had been immediately employed by him; and where compensation is claimed from the principal, this Act shall apply as if references to the principal were substituted for references to the employer except that the amount of compensation shall be calculated with reference to the wages of the workman under the employer by whom he is immediately employed.
(2) Where the principal is liable to pay compensation under this section, he shall be entitled to be indemnified by the contractor, [93][or any other person from whom the workman could have recovered compensation and where a contractor who is himself a principal is liable to pay compensation or to indemnify a principal under this section he shall be entitled to be indemnified by any person standing to him in the relation of a contractor from whom the workman could have recovered compensation] and all questions as to the right to and the amount of any such indemnity shall, in default of agreement, be settled by the Commissioner.
(3) Nothing in this section shall be construed as preventing a workman from recovering compensation from the contractor instead of the principal.
(4) This section shall not apply in any case where the accident occurred elsewhere than on in or about the premises on which the principal has undertaken or usually undertakes, as the case may be, to execute the work or which are otherwise under his control or management.
Section 7(2) of the draft Labour Code: “Principal” means a person that, in connection with any trade, business, profession or undertaking carried on by that person, engages any other person otherwise than under an employment agreement, including under a contract for services:
(a) to supply any labour for gain or reward; or
(b) to do any work for gain or reward;
and includes a person that engages a contractor or sub-contractor.
Section 114 of the draft Labour Code: Collective bargaining between principals and workers: (1) Workers engaged by principals may bargain collectively with them in accordance with:
(a) Part IV of this Code; or
(b) If the provisions of Part IV are not applicable, in the manner prescribed.
(In draft 3, this is section 113.)
اعتراض نمبر 4:ہڑتال اور لاک آؤٹ کے دوران “ضروری اور مادی نقصان” کا غلط استعمال
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
فاضل مصنفین کا یہ خیال ہے کہ مجوزہ کوڈز کا سیکشن 116 بہت متنازع اور غلط استعمال ہوگا کیونکہ اس میں جو ضروری اور مادی نقصان یعنی مٹیریل ڈیمج کاکہا گیا ہے تویہ غلط استعمال ہوگا اور اس طرح مشکل ہڑتال میں مزدوروں کو فوراً نوکری سے نکال دیا جائے گا ہم اس سیکشن کو بھی ذیل میں لکھ دیتے ہیں آپ خود بھی اس کو دیکھ لیجئے کہ اس میں کس طرح سے اس بات کو کہا گیا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک بالکل نیا کانسپٹ ہے جو اس کوڈ میں لایا جا رہا ہے اور اس سے پہلے یہ ہمارے قوانین میں یقیناً نہیں تھا اور اس کے حوالے سے جو ہڑتالی ملازمین ہیں ان کو اب نوکری سے نکالا نہیں جا سکے گا بلکہ ان کی جو نوکریاں ہیں وہ تو پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائیں گی یہ سیکشن یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی ایمپلائر ان ورکرز (جو کہ سٹرائک پر ہوں یا لاکڈ آؤٹ ہوں) کی جگہ کوئی دوسرے ملازم نہیں رکھے گا البتہ اگر کوئی ضروری کم ازکم مینٹیننس سروس یعنی کوئی اس قسم کا کام ہو کہ کوئی شعبہ مکمل طور پر بند نہ کیا جا سکتا ہو اور اس کی بند ہونے سے کوئی بہت بڑا نقصان ہونے کا اندیشہ ہو تو صرف اس شعبے میں اس نقصان سے بچنے کے لیے کچھ لوگوں کو ہڑتال یا لاک آؤٹ کے ختم ہونے تک ملازم رکھا جا سکتا ہے تاکہ اس نقصان سے بچا جائے ہم یہاں مثال دیتے ہیں شیشے کے کارخانے کی جہاں پر ایک کو پگھلانے کی بھٹی جل رہی ہو اور ایسے میں ہڑتال ہو جائے تو اس بھٹی کو اگر بند کر دیا جائے گا تو کروڑوں روپے کا خام مال یعنی شیشہ اس بھٹی کے اندر ہی جم جائے گا اور اس طرح بہت بڑا نقصان ہوگا اور پھر اگر اس کو دوبارہ پگھلانےکے لیے کئی دنوں تک اس میں ہیٹنگ پراسیس کیا جائے گا تو تب جا کر وہ کارخانہ چلے گا تو وہ ہڑتال کے بعد بھی کافی دنوں تک وہ کارخانہ اپنی پروڈکشن نہیں کر سکے گا جب تک کہ بھٹی میں شیشہ دوبارہ صحیح طور پر پگھل نہ جائے، یہی حالت اسٹیل کے کارخانوں کی ہے اگر اسٹیل میں کہیں فرنیس چل رہی ہو تو اس میں بھی یہی ہوگا، یہ صورتحال غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے جو کارخانے ہیں ان میں بھی ہو سکتی ہے کہ جہاں پر مختلف پروسیسڈ فوڈ کیلیے باقاعدہ چین چل رہا ہو تو اگر وہ چین ٹوٹ جائے تو وہ سارا خام مال خراب ہو سکتا ہے دودھ کے کارخانے ہیں اچار کے کارخانے ہیں جام جیلی کے کارخانے ہیں تو ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف یہ کہا گیا ہے کہ ہڑتال ہی نہیں لاک آؤٹ دونوں میں چاہے وہ ہڑتال ہو چاہے وہ لاک آوٹ ہو اس دوران کارخانے کو مزید مالی نقصان سے بچانے کے لیے اور اس کو دیر تک بند رکھنے سے روکنے کے لیے اجازت دی گئی ہے کہ وہ اتنے مزدور رکھ لیں تاکہ اس کا وہ ضروری شعبہ وہ چلتا رہے اور ان (عارضی)مزدوروں کی ملازمت ہڑتال یا لاک آؤٹ کے اختتام پر ختم ہوجائے گی۔
Section 118 of the draft Labour Codes: Temporary replacement of labour prohibited.
An employer shall not engage any person to perform the work of an employee participating in a strike or who is locked out, unless such work is necessary to maintain minimum maintenance services, the interruption of which would result in material damage to a working area or machinery.
(In draft 3, this is section 116.)
اعتراض نمبر 5: پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی اور ایمپلائز کمپنسیشن کمشنر کے اختیارات
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اب آتے ہیں ہم ایک اور اعتراض کی طرف تنقیدی جائزے کے مصنفین کے خیال میں ہم نے پیمنٹ آف ویجز کے قانون اور منیمم ویج کے قانون کو ملا دیا ہے اور اس کے لیے ایک اتھارٹی بنا دی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی جو منیمم ویج ایکٹ 2019 ہے پنجاب کا اس میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ اتھارٹی سے مراد وہ اتھارٹی ہے جو پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 کے تحت بنی ہے یہی چیزیں دوسرے پرانے قوانین میں بھی ہیں ان میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ واجبات سے متعلق جو بھی کلیم ہے وہ پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی کے پاس جاتے ہیں چاہے وہ پیمنٹ آف ویجز ایکٹ کے تحت ہوں یا وہ منیمم ویج ایکٹ سے متعلق ہو ں تو لہذا اس اعتراض میں کوئی حقیقت نہیں ہے یہ جو پہلے تھا ویسے ہی اب بھی ہے اورکوئی تبدیلی نہیں ہے۔
Section 6(2)(d) of the Punjab Minimum Wages Act 2019
“Authority” means the Authority constituted under the Payment of Wages Act, 1936 (IV of 1936);
پھر انہوں نے دوسرا اعتراض یہ کیا کہ اس کوڈ میں گریجوٹی اور پرائیویڈنٹ فنڈ کو پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی کے دائرہ کار یا واجبات میں سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن اگر آپ اس کوڈ کا سیکشن 340 دیکھیں جو “سپیشل پروسیجر فار ریکورنگ انڈر پیمنٹ اینڈ نان پیمنٹ” سے متعلق ہے اس کے سب سیکشن ون کی کلاز b بہت کلیئر ہے
Section 340: Special procedure for recovering under payments and non-payments
(1) Where contrary to the provisions of Chapter 3.3:
(a) any deduction has been made from the remuneration of an employed person, or
(b) any payment of remuneration or of any dues relating to provident fund or gratuity payable under any law, usage or custom has been delayed,
تو اگر یہاں پرائیویڈنٹ فنڈ ہو یا گریجوٹی ہو جو کسی بھی قانون کے تحت کیوں نہ ہواور کسی بھی نظام کے تحت ہو جو پہلے سے مل رہی تھی اگر اسے روک لیا گیا ہے تو اس کو بھی اسی پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی کے سامنے لے کر آنا ہے تو اس اعتراض میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے اوریہ محض گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ایک اور غلط فہمی جو بہت زور و شور سے پھیلائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان مجوزہ کوڈز کے ذریعے سول کورٹ سے مزدوری سے وابستہ حادثات کی صورت میں دعوے یعنی کمپنسیشن کلیم کو واپس لے لیا گیا ہے اور انہیں صرف کمپنسیشن کمشنر تک محدود کر دیا گیا ہے اگر آپ جائزہ لیں خیبر پختون خواہ کے ورک مین کمپنسیشن ایکٹ 2013 کا اور سندھ ورکرز کمپنسیشن ایکٹ 2015 کا یا ہم اور پیچھے چلے جاتے ہیں اوردیکھتے ہیں ورک مین کمپنسیشن ایکٹ 1923 کاسیکشن 19 یہ تمام قوانین یہ کہتے ہیں کہ سول کورٹ کی جورسڈکشن نہیں ہوگی اگر وہ دعوٰی کمشنر کے پاس کیا جا چکا ہو یا اگر ورکر اور اس کے آجر کے درمیان کوئی تصفیہ ہو گیا ہو، ہم نے اس قانون میں کوئی نئی چیز نہیں رکھی ہے وہی چیزیں ہیں جو 1923 کے قانون میں موجود ہیں جو 2013 کے قانون میں موجود ہیں 2015 کے قانون میں موجود ہیں، جو چیزیں اتنے سالوں سے قوانین میں موجود تھی اس وقت شایداس جائزے کےمصنفین کی سمجھ میں نہیں آ سکیں یا انہوں نے ان قوانین کو کبھی دیکھا اور پڑھا ہی نہیں اور ایک دم سے یہ نئی چیز لوگوں کو یہ بتانے کے لیے لے ائے اور اس کے اندر خواہ مخواہ اس ایک کیس کا ٹانکا لگایا جو بلدیہ فیکٹری کیس تھا اور وہاں پر جو کیس تھا وہ پاکستان کی عدالتوں کی جورسڈکشن میں نہیں ہوا تھا اور جرمنی کے قانون کے تحت تھا کیونکہ جس کمپنی کو علی انٹرپرائزز گارمنٹس سپلائی کر رہی تھی وہ جرمن کمپنی (Kik)تھی ۔
Excerpts from the draft Labour Codes
Section 267: Employer’s liability for compensation.
(5) Nothing herein contained shall be deemed to confer any right to compensation on an employee in respect of any injury if the employee has instituted in Civil Court a suit for damages in respect of the injury against the employer or any other person.
(6) No suit for damages by an employee shall be maintained in any Court of law in respect of any injury-
(a) if the employee has instituted a claim to compensation in respect of the injury before a Commissioner; or
(b) if an agreement has been executed between the employee and employer providing for the payment of compensation in respect of the injury in accordance with the provisions of this Code.
Khyber Pakhtunkhwa Worker’s Compensation Act, 2013
3. Employer’s liability for compensation
(5) Nothing herein contained shall be deemed to confer any right to compensation on a worker in respect of any injury if he has instituted in a Civil Court a suit for damages in respect of the injury against the employer or any other person; and no suit for damages shall be maintainable by a worker in any court of law in respect of any injury-
(a) if he has instituted a claim to compensation in respect of the injury before a Commissioner; or
(b) if an agreement has been come to between the worker and his employer providing for the payment of compensation in respect of the injury in accordance with the provisions of this Act.
Sindh Worker’s Compensation Act, 2015
3. Employer’s liability for compensation
(5 ) Nothing herein contained shall be deemed to confer any right to compensation on a worker in respect of any injury if he has instituted in a Civil Court a suit for damages in respect of the injury against the employer or any other person; and no suit for damages shall be maintainable by a worker in any court of law in respect of any injury –
(a) if he has instituted a claim to compensation in respect of the injury before a Commissioner; or
(b) if an agreement has been come to between the worker and his employer providing for the payment of compensation in respect of the injury in accordance with the provisions of this Act.
Section 19 of the Workmen’s Compensation Act, 1923
19. Reference to Commissioners.– (1) If any question arises in any proceedings under this Act as to the liability of any person to pay compensation (including any question as to whether a person injured is or is not a workman) or as to the amount or duration of compensation (including any question as to the nature or extent of disablement), the question shall, in default of agreement, be settled by a Commissioner.
(2) No Civil Court shall have jurisdiction to settle, decide or deal with any question which is by or under this Act required to be settled, decided or dealt with by a Commissioner or to enforce any liability incurred under this Act.
اعتراض نمبر 6:ورک پلیس سیفٹی اینڈ ہیلتھ پالیسی
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اب ہم آتے ہیں ایک اور اعتراض کی طرف جس کا تعلق اکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے ہے یہاں قانونی جائزے کے مصنفین نے یہ کہا ہےکہ پہلے یہ پالیسی مالک اور مزدور مل کر بناتے تھے اور چیف انسپیکٹر منظور کرتا تھا اب کم و پیش نئے کوڈ میں حکومتی پالیسی ہوگی جو کہ اوپر سے نافذ کی جائے گی اور کام کی جگہ پر پالیسیاں مالک مزدور اور ان کی تنظیموں بالخصوص سی بی اے کی کسی بھی طرح کے عمل د خل کے بغیر نافذ ہوں گی لیکن مجوزہ کوڈ یہ کہتا ہے کہ ہر مالک (ایمپلائر پرنسپل اور اکوپائر )ایک جنرل اکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ جاری کرے گا جسکا اطلاق اس کارخانے میں موجود ہر شخص پر ہوگا اور اس پالیسی میں مشاورت، سیفٹی اور ہیلتھ سے متعلق تنازعات کا حل، رپورٹ وغیرہ شامل ہو گی اور یہ پالیسی جب کام کے طریقہ کار میں تبدیلی ہو گی یا وہاں کی مشینری میں تبدیلی ہو گی، دوبارہ مرتب کی جائیگی، یا پھر حکومت اس کیلیے کوئی مناسب عرصہ مقرر کرے گی جس میں اسکو مرتب کرنا ضروری ہو گا۔ یہ پالیسی مالکان مزدوروں کی مشاورت سے بنائیں گے چونکہ موجودہ دور میں پیداواری طریقہ کار بہت زیادہ سائنٹفک ہو چکاہے اور ایک ہی طرح کے شعبے میں مختلف اداروں میں مختلف خام مال اور طریقہ کار اپنایا جاتا ہے اس لیے ہر ادارہ (اسٹبلشمنٹ) میں مزدور اور مالکان مل کر اس طریقہ کاراور خام مال کو سامنے رکھتے ہوئے اکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ پالیسی بنائیں گے جو اس ادارے پر نافذ ہو گی اور اسے حکومت کی اپرووَل کی ضرورت نہ ہوگی اور نہ ہی اسے چیف انسپکٹر کو بھیجنے کی پابندی ہو گی۔
اعتراض نمبر 7:جبری مشقت اور پیشگی کے نظام کا تحفظ
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
قانونی جائزے کے فاضل مصنفین نے جو ایک اور غلط تعبیر پھیلانے کی کوشش کی ہے وہ یہ ہے کہ شاید اس نئے کوڈ میں پیشگی کے نظام کو تحفظ اور قانونی شکل دی گئی ہے پیشگی کے بدلے بانڈڈ لیبر کی ضبط کی ہوئی پراپرٹی کا کوئی تحفظ نہیں ہے اور کمپنی کے مالکان کو ان کی کمپنی کے اندر ہونے والی جبری مشقت کے حوالے سے فوجداری قانون کے تحت سزا دینے کو ختم کر دیا گیا ہے اگر ہم موجودہ قوانین کو دیکھیں اور خاص طور پر جو 2010 کے بعد بنے ہیں ذرا ان کا جائزہ لیں تو خیبر پختون خواہ بانڈ لیبر سسٹم ایبولوشن ایکٹ 2015 کے سیکشن چھ کا سب سیکشن تین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ایڈوانس دیا جا سکتا ہے لیکن اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار مینیمم ویج یعنی کم از کم اجرت کا تین گنا ہوگی اسی طرح اگر ہم پنجاب پروہبیشن آف چائلڈ لیبر ایٹ بریک کلن ایکٹ 2016 کو دیکھیں تو وہ بھی پیشگی یعنی ایڈوانس کی اجازت دے رہا ہے اور اس کے تحت یہ ایڈوانس جو ہے وہ 50 ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہو سکتا اب اگر ہم مجوزہ کوڈکو دیکھیں تو اس کوڈ کا سیکشن 18 یہ بات کہتا ہے کہ کسی شخص کو بھی بانڈڈ لیبر سسٹم کے تحت مجبور نہیں کیا جا سکتا اور اوپر دیے گئے دونوں صوبائی قوانین کی نظیر پر یہ کہتا ہے کہ کسی شخص کو بھی ایڈوانس زیادہ سے زیادہ مقدار مینیمم ویج کے تین گنا ہو گی۔ اور یہ ایڈوانس انٹرسٹ فری ہوگا اور بینکنگ چینل کے ذریعے دیا اور وصول کیا جائے گا تاکہ اسکا مکمل ریکارڈ رہے۔ سو ان لیبر کوڈز میں کوئی نئی چیز نہیں کی گئی جو پہلے سے 2015 اور 2016 سے ہمارے صوبائی قوانین کا حصہ نہ ہو اسی کو اسی مقدار کے مطابق یہاں پر رکھ دیا گیا ہے 2015 اور 2016 سے اب تک جو قانون میں شقیں موجود تھیں وہ شایدان مصنفین کی نظر سے اوجھل رہیں۔
دوسرا اعتراض کہ مجوزہ لیبر کوڈز میں بانڈڈ لیبر کی ضبط کی ہوئی پراپرٹی کا تحفظ ختم کیاگیا ہے تو مجوزہ کوڈ کا سیکشن 19 دیکھا جا سکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ جیسے ہی یہ کوڈ نافذ ہوگا تو کوئی ایسی پراپرٹی جو بانڈڈ لیبر کی ہوگی جو کسی نے زبردستی لی ہوگی تو وہ فوری طور پر اس لیبر کے حوالے کر دی جائے گی تو شاید یہ سیکشن ہمارے ان فاضل مصنفین کی نظر سے نہیں گزرا اب رہ جاتا ہے اس اعتراض کا تیسرا حصہ کہ اس کوڈمیں جبری مشقت کے سلسلے میں کمپنی مالکان کو سزاسے مبرا قرار دے دیا گیا ہے تو اس مجوزہ کوڈ کا سیکشن 400 اگر آپ دیکھیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ جو شخص کبھی کسی دوسرے کو بانڈڈ یا فورسڈ لیبر کیلیے مجبور کرے گا تو اسے کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ قید کی سزا دی جا سکتی ہے اور اسکے علاوہ کم از کم اجرت کا پانچ گنا سے لیکر پچاس گنا تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں اور کمپنیز کی طرف سےکوڈ کی خلاف ورزی (جس میں بانڈڈ اور فورسڈ لیبر بھی شامل ہے) پر کمپنی مالکان، ڈائریکٹرز، انچارجز کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ تمام قوانین سے اقتباسات ذیل میں ہیں۔
Khyber Pakhtunkhwa Bonded Labour System (Abolition) Act, 2015
6. Advance extended or taken after the commencement of this Act
(3) Advance extended or taken under sub section (2) shall not exceed three times minimum rates of wages of a worker fixed by Government.
Punjab Prohibition of Child Labour at Brick Kilns Act 2016
4. Limit of Advance (peshgi).–(1) Notwithstanding the provisions of any other law, the occupier may give advance (peshgi) to a worker engaged by him on work at a brick kiln.
(2) The amount of advance (peshgi) given under subsection (1) shall not exceed fifty thousand rupees.
(3) The amount of advance (peshgi) given to a worker under subsection (1) and its payback schedule shall be entered in the prescribed Register and a copy thereof shall be endorsed to the inspector of the area.
(4) In case the contract of engagement is terminated by either party, the occupier may recover the outstanding amount of advance in accordance with law.
Excerpts from the draft Labour Code
Section 18: Regulation of Advance. –
(1) No person shall make any advance under, or in pursuance of, the bonded labour system or compel any person to render any bonded labour or other form of forced labour, except as described hereinafter.
(2) Notwithstanding anything contained in sub-section (1), advance may be extended or taken as interest free loan not exceeding three (3) times the applicable minimum wage for unskilled workers, notified by the Government from time to time.
Section 19: Liability to repay bonded debt to stand extinguished. –
(4) Where, before the commencement of this Code, possession of any property belonging to a bonded worker or any person dependent on the worker was forcibly taken by any creditor for the recovery of any bonded debt, such property is restored with immediate effect to the possession of the person from whom it was seized.
Section 400: Bonded, compulsory or forced labour. –
(1) Whoever, compels any person to render any bonded labour, or enforces any custom, tradition, practice, contract, agreement or other instrument by virtue of which any person or any member of his or her family is required to render any service under the bonded labour system, shall be punishable with imprisonment for a term which shall not be less than two years nor more than five years, or with a fine which may extend to fifty (50) penalty units but shall not be less than five (5) penalty units, or with both.
Section 406: Contraventions by companies. –
(1) Where an contravention under this Code has been committed by a company, every person who, at the time the contravention was committed, was in charge of, and was responsible to, the company for the conduct of the business of the company, as well as the company, shall be deemed to be guilty of the contravention and shall be liable to be proceeded against and punished accordingly.
(2) Notwithstanding anything contained in sub‑section (1), where any contravention under this Code, has been committed by a company and it is proved that the contravention has been committed with the consent or connivance of, or is attributable to, any neglect on the part of any director, manager or other officer of the company, such director, manager or other officer shall be deemed to be guilty of that contravention and shall be liable to be proceeded against and punished accordingly.
Explanation. – For the purposes of this section, –
(a) “company” means any body corporate, and includes a firm or other association of individuals; and
(b) “director”, in relation to a firm, means a partner in the firm.
اعتراض نمبر 8:لیبر کورٹ اور چیف انسپکٹر کے اختیارات
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
ہم آپ کی توجہ ایک اور پیرےکی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ کس طرح ان فاضل مصنفین نے غریب مزدوروں کو گمراہ کر کے ان کوڈز کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی ہے فاضل مصنفین یہ لکھتے ہیں کہ ڈرافٹ 3کی دفعہ264 اور جو اب ڈرافٹ کوڈ ہے اس کی دفعہ 300 میں ایک عجیب طاقت چیف لیبر انسپیکٹر کو دی گئی ہے کہ اگر وہ سمجھے یعنی چیف لیبر انسپیکٹر سمجھے کہ لیبر کورٹ میں چلنے والے کسی بھی کریمینل معاملے جس کا تعلق مزدوروں کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے کسی ایکسیڈنٹ یا سانحے سے ہے تو لیبر کورٹ کو مقدمے میں کاروائی روک کر کوڈ کے سیکشن 60 کے تحت تفتیش کے لیے بھیج سکتا ہے ہم یہ سیکشن یہاں نیچے کاپی کر دیتے ہیں آپ خود اس سیکشن کو ملاحظہ کیجئے کہ یہ سیکشن کیا کہتا ہے ۔
Section 300: Procedure of Labour Court. –
(4) If the Labour Court trying any case instituted at the instance of the Chief Inspector or of an Inspector under this Code is of opinion that the case is one which should in lieu of a prosecution, be referred to a formal investigation under section Error! Reference source not found., it may stay the Criminal proceedings and report the matter to Government with a view to such
reference being made. (in draft 3, this is section 296)
دراصل یہ سیکشن یہ کہتا ہے کہ اگر لیبر کورٹ کسی ایسے معاملے میں جو چیف انسپیکٹر یا انسپیکٹر نے اس کو بھیجا ہو یہ رائے رکھتی ہو کہ یہ ایک ایسا کیس ہے کہ جس کو بجائے لیبر کورٹ میں چلنے کے انکوائری کے لیے سیکشن 61 کے تحت بھیجا جا سکتا ہے تو لیبر کورٹ اس کیس کو روک کر یعنی اس کریمینل پروسیڈنگز کو روک کر ایک رپورٹ حکومت کو بھیج سکتی ہے کہ وہ اس معاملے میں انکوائری کرا لے ۔یہاں کہیں بھی یہ بات نہیں ہے کہ چیف انسپیکٹر اس کو لیبر کورٹ سے لے کر انکوائری کیلیے بھیج سکتا ہ۔ےہمارا خیال ہے کہ فاضل مصنفین ایک لفظ کو غلط پڑ گئے ہیں یہاں پر جو انگریزی لفظ ہے وہ ہے ۔
any case instituted at the instance of the Chief Inspector
شاید وہ لفظ instance کو insistence پڑھ گئے ہیں، اس سے آپ بزعمِ خود ماہر ین قانون اور پروفیسرز کی اہلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، ہم نے اس جواب میں کچھ جگہوں پر انکی اس غلطی کو واضح کیا ہے لیکن بہت جگہوں پر اس بریف کی تنگیٔ داماں کی وجہ سے خاموش رہے ہیں۔
اعتراض نمبر 9:انکوائری سے پہلے آجر کی طرف سے ابتدائی انکوائری
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
فاضل مصنفین کی غلط تفہیمات کی دوڑ میں ایک اور شاہ کار ملاحظہ فرماتے ہیں جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ نئے کوڈکے سیکشن 152(2)(c) کے تحت مالک ڈسپلن کی خلاف ورزی پر مزدور کا معاملہ انکوائری افسر کے پاس بھیجنے سے پہلے خود بھی انکوائری کر سکتا ہے اصل حقیقت کیا ہے ہم یہاں کوڈکا سیکشن 152(2)(c) کاپی کر دیتے ہیں آپ بھی پڑھیے اور خود دیکھیے کہ یہ اصل میں کیا کہتا ہے :
Section 152: Principles and procedures for taking disciplinary measures. –
(c)in case the explanation provided by the employee is not satisfactory, the employee may be suspended and an independent inquiry may be undertaken by appointing an inquiry officer or inquiry committee to objectively determine whether the employee is guilty or not; and
یہاں یہ کلاز یہ کہتی ہے کہ اگر ایمپلائی کا جواب تسلی بخش نہ ہو تو اس ایمپلائی کو سسپینڈ کیا جا سکتا ہے اور آزادانہ انکوائری کے لیے وہ معاملہ کسی انکوائری افسر یا انکوائری کمیٹی کو بھیجا جا سکتا ہے تاکہ وہ غیر جانبدارانہ طریقے سے یہ پتا چلائیں کہ کیا یہ ملازم قصوروار ہے یا نہیں ۔ اب آپ دیکھیے اس میں کہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ انکوائری سے پہلے مالک خود انکوائری کر سکتا ہے ، اس سے فاضل مصنفین اور کوڈ پر دیگر اعتراض کرنے والوں کی علمی قابلیت نمایاں ہوکر سامنے آجاتی ہے۔
اعتراض نمبر 10:کنونشن 144 اور ریکمنڈیشن 152 کی خلاف ورزی
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اس “تنقیدی قانونی جائزے” میں مصنفین نے کنونشن 144 اور ریکمنڈیشن 152 کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے ہے کہ کوڈ کو ڈرافٹ کرتے ہوئے سہ فریقی مشاورت نہیں کی گئی ۔ اس کے متعلق ہمارا جواب یہ ہے کہ دونوں صوبائی حکومتوں نے 2023 میں ہی اس ریفارم سے متعلق سپیشل کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ اسکے علاوہ 2023 کے شروع سے لیکر آخر تک ہم نے چار چار میٹنگز دونوں صوبوں میں کیں جن میں ایک میٹنگ صوبائی سہ فریقی کمیٹی کی بھی تھی یہ میٹنگ لاہور میں دسمبر کے مہینے میں ہوئی اور اس میں آجر اور اجیر دونوں کے نمائندے موجود تھےاس میں کافی تفصیل سے لیبر کوڈ کے سٹرکچر کے بارے میں پریزینٹیشن دی گئی۔ لیبر کوڈ سے متعلق کچھ ڈسکشن جون 2023 میں منعقدہ سہ فریقی مشاورتی کمیٹی میں بھی ہوئی جس میں انٹرنیشنل ایکسپرٹس کی جانب سے تفصیل سے بتایا گیا کہ سوشل سیکیورٹی سے متعلق قوانین کو کیوں اس مجوزہ لیبر کوڈ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
اس سے پہلے تمام ٹریڈ یونین فیڈریشنز کے ساتھ علیحدہ علیحدہ میٹنگز مارچ 2023 میں کی گئیں لیکن قانونی جائزےمیں کیے گئے دعوے کے برعکس یہ فرداً فرداً میٹنگ نہیں تھیں بلکہ ہر ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ساتھ کم از کم دس دس نمائندے تھے۔ لیبر کے تمام نمائندوں سے اکٹھی ایک میٹنگ جون 2023 کے مہینے میں کی گئی اور اس میں تمام ٹریڈ یونین فیڈریشنز شامل تھیں۔
مزید اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ جون 2024 میں جو ڈرافٹ سب لوگوں کے سامنے رکھا گیا وہ صرف ڈرافٹ ہی ہے اور اس پر یقیناً تمام فریق مزید اپنی اپنی آرا دیں گے مزید برآں یہ مشاورت صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ وہ یہ مشاورت سہ فریقی کانفرنس کے ذریعے سے کریں یاپہلے سے موجود صوبائی سہ فریقی کمیٹیوں کے ذریعے سے یا تمام فریقین کے ساتھ خط و کتابت کے ذریعے سے، یا ڈرافٹ کو ویب سائٹ پر رکھ کر تمام فریقین سے انکے کمنٹس مانگ کر، ان میں سے کوئی بھی آپشن کنونشن 144 کے مطابق ہو گی،تاہم مصنفین یا دیگر لوگوں کا یہ دعوٰی کرنا کہ کوڈ کو ڈرافٹ کرنے سے پہلے یا اس کے درمیان کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی ، گمراہ کن ہے ۔
اعتراض نمبر11: کنٹریکٹ لیبر اور ٹھیکیداری نظام کا تحفظ
“تنقیدی قانونی جائزے“کا کہنا ہے کہ ان مجوزہ لیبر کوڈز نے ملک میں موجود کنٹریکٹ لیبر کے ظالمانہ نظام کو قانونی تحفظ دیا ہے، اس سلسلے میں سب سے پہلے ایمپلائر، پرنسپل اور آکو پائیر کی دی گئی تعریفات پر اعتراض کیا گیا ہے۔
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ تمام اصطلاحات آج بھی ہمارے قوانین میں موجود ہیں ۔ آکو پائیر کی اصطلاح ہمارے فیکٹریز ایکٹ میں موجود ہے جبکہ ورکمین کمپنسیشن ایکٹ اور سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ میں پرنسپل کی اصطلاح موجود ہے (یاد رہے اس میں اور پرنسپل ایمپلائر کی اصطلاح میں فرق ہے)، جہاں تک کسی مینیجر کے ایمپلائر کی تعریف میں شامل ہونے کا سوال ہے تو اس کیلیے اگر مصنفین نے ڈرافٹ 4 کو دیکھا ہوتا تو وہ یہ جان لیتے کہ اسے سیکشن 9 میں ایڈریس کیا گیا ہے۔ اورجب کسی پرنسپل نے کنٹریکٹر کو کام دیا ہو تو وہ سیکشن7(4) کے تحت کچھ خاص صورتوں میں کنٹریکٹر کے ورکرز کا ایمپلائر تصور ہو گا۔
اس جائزے میں اسٹبلشمنٹ کی تعریف کو بھی غیر ضروری قرار دیا گیا اور PIRA میں موجود پرانی تعریف کو کافی سمجھا گیا ہے لیکن اگر مصنفین نے 2019 کے سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ کو دیکھا ہوتا تو انہیں اندازہ ہوتا کہ ورک پلیس کی نئی تعریف کافی سالوں سے ہمارے قوانین میں موجود ہے۔ ایمپلائر کی نئی تعریف کیلیے بھی سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ کا سیکشن 2(h) دیکھا جا سکتا ہے۔
اعتراض نمبر12: کور آپریشن
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
کور آپریشن سے متعلق بھی مصنفین نے مزدوروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور یوں ظاہر کیا ہے جیسے سب کچھ رولز پر چھوڑ دیا گیا ہے اگر وہ کور آپریشن کی تعریف دیکھ لیتے تو انہیں اندازہ ہو جاتا کہ سیکشن 131(b) میں اسکے متعلق وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ:
“core operations” means operations that are integral to an establishment’s function, and includes such operations as prescribed.
اب چونکہ کوڈ صرف فیکٹریز پر نہیں بلکہ تمام ورک پلیسز پر یکساں لاگو ہو گا اس لیے کور آپریشن کی وضاحت ہر سیکٹر کیلیے مختلف ہو گی اور ایک لمبی چوڑی فہرست قانون میں نہیں دی جاسکتی بلکہ اس سے متعلق وضاحت رولز میں ہی دی جا سکے گی۔
مزید یہ کہ سندھ کے فیکٹریز ایکٹ 2015 میں یہ اصطلاح 9 سال سے موجود ہے اس ایکٹ میں اسے پروڈکشن ریلیٹِڈ ورک (پیداواری کام) سے منسوب کیا گیا ہے،
provided that no worker shall be employed through an agency or contractor or sub-contractor or middleman or agent, to perform production-related work. (Section 2(n))
کیا اس اصطلاح کے شامل ہونے کو بعد ٹھیکیداری نظام کو کوئی تقویت ملی؟ اگر اس پر کوئی ریسرچ ہے تو وہ سب کے سامنے لائی جائے، اور محض خیال آرائیوں پر تکیہ نہ کیا جائے اور نہ ہی غریب مزدوروں کوکسی خاص ایجنڈے کے تحت گمراہ کیا جائے۔
اعتراض نمبر13: ایمپلائمنٹ ایجنسی
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
مصنفین نے ایمپلائمنٹ ایجنسی کے متعلق بھی اعتراض کیا ہے اور انکا تقابل مزدور باہر بھجوانے والی ایجنسیوں سے کیا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے مقامی مزدوروں کے استحصال کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر مصنفین نے کوڈ سے متعلق اپنا تنقیدی جائزہ پیش کرنے کی جلدی نہ ہوتی اور انہوں نے ڈرافٹ کو پطرس کے مشہور عام مضمون “میبل اور میں” کی طرح نہ پڑھا ہوتا تووہ دیکھ پاتے کہ ان دونوں ایجنسیوں کے کام اور طریق کار میں زمین آسمان کا فرق ہے، جن ایمپلائمنٹ ایجنسیوں کا ذکر مصنفین نے کیا ہے وہ ایک دوسرے قانون (Emigration Ordinance, 1979)کے تحت قیام میں آتی ہیں اور اسی قانون کے تحت ریگولیٹ ہوتی ہیں۔ جب کہ اس کوڈ کے تحت بننے والی ایجنسیاں اسی کوڈ کے تحت ریگولیٹ ہوں گی۔ ان ایمپلائمنٹ ایجنسیوں کے ملازمین اگر سیکشن 7(4) میں بیان کردہ صورتِ حال میں پائے جائیں گے تو پرنسپل ہی انکا اصل ایمپلائر تصور ہو گا اور وہی تمام قانونی مراعات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوگا دوسری صورت میں ایمپلائمنٹ ایجنسی ایمپلائر ہو گی اور چونکہ وہ اسٹبلشمنٹ کی تعریف میں شامل ہے اس لیے وہ اپنے ورکرز کوتمام قانونی مراعات فراہم کرنے کی پابند ہو گی۔ اس طرح سے موجودہ ٹھیکیداری نظام کو،جو دراصل ظالمانہ اور استحصالی نظام ہے ،کا دروازہ ہمیشہ کیلیے بند کیا جاسکے گا اور تمام مزدور، چاہے وہ براہِ راست ملازمت میں ہوں یا کسی ایجنسی کے توسط سے بھرتی ہوئے ہوں، ایک جیسی مراعات کے حقدار ہوں گے اور انکے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکے گا۔
اعتراض نمبر14: عارضی اور مستقل ملازمت کافرق
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
ایک اور غلط فہمی جو کہ مزدوروں میں پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مجوزہ کوڈز میں آجروں کی خواہش پر عارضی اور مستقل ملازمت کےفرق کو ختم کیا جا رہا ہے ہمارے نزدیک یہ فکری بد دیانتی کی ایک اعلیٰ مثال ہے اگر کوڈ کے ڈرافٹ 4 کو ایماندارانہ طریقے سے پڑھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میں فکسڈ ٹرم یعنی عارضی اور پرمننٹ یعنی مستقل ملازمتوں کی بات کی گئی ہے اور اس ڈرافٹ میں indefinite term contract کی اصطلاح کہیں استعمال نہیں کی گئی، مصنفین نے یہ ابہام پیدا کرنے کی کوشش بھی کی ہے جیسے مستقل ملازمت اور indefinite term contract کوئی دو مختلف تصورات ہوں، ان دونوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ ملازمت کے اختتام کی کوئی تاریخ متعین نہیں کی گئی اور ملازمت تب تک جاری رہے گی جب تک دونوں فریقین چاہیں یا اگر وہ ملازمت کے معاہدے کو ختم کرنا چاہیں تو نوٹس دے کر ختم کر سکیں اور چھانٹی کی صورت میں آجر معاہدے کو ختم کر سکے، کیا موجودہ سٹینڈنگ آرڈرز (پنجاب اور سندھ) میں یہ سیکشن موجود نہیں ہیں؟ یا یہ فکری تنازعہ پیش کر کے محض لوگوں کو گمراہ کرنا مقصود ہے۔
اسی طرح سے سپیشل فکسڈ ٹرم کنٹریکٹ کےلیے آمدنی کی حد کو کم از کم اجرت کے دگنا قرار دیا ہے لیکن اگر مصنفین نے ڈرافٹ4 کو بغور دیکھا ہوتا تو وہ یہ جان پاتے کہ یہ حد دراصل کم از کم اجرت کا پانچ گنا ہے نہ دو گنا۔ آج کی کم از کم اجرت کے مطابق سپیشل فکسڈ ٹرم کنٹریکٹ کیلیے صرف اس ورکر کو ہائر کیا جا سکے گا جسکی ماہانہ تنخواہ کم از کم 160،000روپے ہو۔
مصنفین نے ایمپلائمنٹ اور معاہدات کی مختلف قسموں پر تو بہت اعتراض کیے لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ موجودہ قوانین میں پارٹ ٹائم ملازمت کے متعلق کچھ موجود نہیں ہے اور اس کوڈ میں پہلی بار پارٹ ٹائم ملازمت کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے اور انکو اپنے کام کے گھنٹوں کے تناسب سے تمام مراعات حاصل ہوں گی جو فل ٹائم ملازمین کو حاصل ہوتی ہیں۔
اعتراض نمبر15: پروبیشن پیریڈ
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اس قانونی جائزے میں پروبیشن پیریڈ کی مدت پر بھی اعتراض کیا گیا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے ان کوڈز میں پروبیشن پیریڈ کی مدت بھی تین ماہ سے زیادہ کر دی گئی ہے لیکن اگر اس کوڈ کے سیکشن 144 کو دیکھا جائے تو اس میں بہت وضاحت سے یہ کہا گیا ہے کہ تین ماہ سے زیادہ پروبیشن پیریڈ کی مدت نہیں ہوگی اور ہاں اگر کوئی اگر فکسڈ ٹرم کنٹریکٹس ہوتے ہیں تو ان میں اس مدت کو کم بھی کیا جا سکے گا لیکن زیادہ سے زیادہ مدت تین ماہ ہی ہوگی۔
Section 144 of the draft Labour Code: Probationary period. –
(1) In an employment agreement, there may be a provision for a probationary period which shall not, in any event, exceed three (3) months.
(2) If the employment agreement is concluded for a fixed term, the duration of the probationary period shall be proportionate to the expected duration of the agreement and the nature of the work performed by the employee.
اعتراض نمبر16: تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ لیبر کا کوٹا
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
ایک اور بڑا اعتراض جواس کوڈ پر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کسی بھی ادارے میں تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ لیبر کا کوٹا فکس کر سکتی ہے اور اس کے متعلق پھر یہ لکھا گیا ہے کہ لیبر انسپیکٹر سے اس سیکشن کا استثنا بھی لیا جا سکتا ہے اگر قانونی تنقیدی جائزہ لکھنے والوں نے لیبر کوڈ کے ڈرافٹ 4کو سرسری نظر سے بھی دیکھا ہوتا تو اس میں سیکشن 206 میں بہت وضاحت سے لکھا ہے کہ گورنمنٹ ہر سیکٹر کے لیے تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ ورکرز کا کوٹا فکس کر سکتی ہے تو جو ساری تمہید انہوں نے آدھے صفحے پر پابندھی ہے اس کی ضرورت نہ پڑتی اور اس میں ہم نے بہت واضح لکھا ہے کہ یہ کوٹا اسٹبلشمنٹ کیلیے نہیں بلکہ سیکٹر کے حساب سے ہوگا مثلاً ٹیکسٹائل سیکٹر ، گارمنٹ سیکٹر، آٹو سیکٹر، فارماسوٹیکل سیکٹر وغیرہ۔ اور کوئی سیکٹر چہ جایئکہ ہم کسی ادارے کا کہیں ، حکومت سے یا چیف انسپکٹر سے استثنا نہیں لے سکتا کیونکہ اس میں سب سیکشن 2 ہے ہی نہیں جسکی بنیاد پر یہ اعتراض کھڑا کیا گیاہے۔
Section 206 of the draft Labour Code: Quota for third-party contract workers
The Government may specify a quota, as prescribed, with respect to the proportion of third-party contract workers vis-à-vis the total number of employees per sector.
اعتراض نمبر17: فریڈم آف ایسوسی ایشن اور ٹریڈ یونین قوانین میں تبدیلی
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
ٹریڈ یونینز کے متعلق ان مجوزہ لیبر کوڈزپر جو سب سے زیادہ اعتراض کیا گیا ہے وہ یہ کیا گیا ہے کہ ٹریڈ یونینز کے پرانے قوانین میں مینجریل سٹاف کو یونین سے دور رکھنے کی حکمت عملی ہوتی تھی اور اب اس نئے کوڈ نے مینجریل ایمپلائیز کو بھی یونین بنانے کی اجازت دے دی ہے دراصل اگر ہم آئی ایل او کے کنونشنز (87 اور 98) کو دیکھتے ہیں جنہیں پاکستان نے ریٹیفائی کیا ہوا ہے تو وہ کنونشنز بھی یہ کہتے ہیں کہ ہر کام کرنے والے یعنی ورکر کو یونین بنانے کی اجازت ہے اسی طرح پاکستان کے آئین کا ارٹیکل 17 بھی یہ کہتا ہے کہ ہر شہری کو یہ حق ہے کہ وہ ایسوسی ایشن اور یونین بنا سکے تو اس لیے اس ابہام کو دور کرنے کے لیے اور تمام کام کرنے والوں کو یونین بنانے کی اجازت دینے کے لیے اس نئے کوڈ میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ ورکرز کے ساتھ ساتھ مینجریل اور سینیئر مینجمنٹ سٹاف بھی اپنی اپنی یونین بنا سکتے ہیں ہاں یونین کو یہ اختیار ہے کہ ورکر کی یونین اگر چاہے تو وہ مینجریل اسٹاف کو اپنی یونین کی ممبرشپ نہ دے اسی طرح سینیئر جو ہیں ان کو جونیئر مینجریل سٹاف جو ہے وہ اپنی یونین میں جگہ نہ دے تو اس طرح اب ایک جگہ پر دو یونینز بن سکتی ہیں ایک اسٹاف کی یونین اور دوسری مینجرز اور سپروائزری سٹاف کی، یوں ہر یونین اپنا نظام خود چلا سکے گی اور وہ اپنے آجر کو جو بھی چارڈرآف ڈیمانڈ دینا چاہے جو بھی اس سے وہ بات کرنا چاہے وہ بات کر سکے گی تو یوں اس کوڈ میں ان غلطیوں کو دور کر دیا گیا ہےاور تمام ملازمین چاہے وہ وائٹ کالر ہوں وہ بلو کالر ہوں وہ اپنی اپنی یونین بنا سکیں گے۔ اس سے ملک میں یونین سازی کو تقویت ملے گی اور یونین ممبرشپ میں کافی حد تک اضافہ ہوسکے گا۔ ذیل میں آئی ایل او کی سپروائزی باڈی یعنی کمیٹی آن فریڈم آف ایسوسی ایشن کا نقطہ نظر ملاحظہ فرمائیں:
381. It is not necessarily incompatible with the requirements of Article 2 of Convention No. 87 to deny managerial or supervisory employees the right to belong to the same trade unions as other workers, on condition that two requirements are met: first, that such workers have the right to establish their own associations to defend their interests and, second, that the categories of such staff are not defined so broadly as to weaken the organizations of other workers in the enterprise or branch of activity by depriving them of a substantial proportion of their present or potential membership. (CFA, Compilation of Decisions, 2018)
اعتراض نمبر18: کام کے اوقات میں ٹریڈ یونین سرگرمیاں
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
مصنفین نے جولکھا ہے وہ یہ ہے کہ” سیکشن 77 میں مزدوروں کی طرف سے لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں یعنی ان فیئر لیبر پریکٹسز کا بتایا گیا ہے سیکشن 77(a)میں کام کے اوقات کے دوران ٹریڈ یونینوں پر پابندی جو کہ پرانے قانون میں بھی موجود تھی کے ساتھ ساتھ ان سرگرمیوں کو بھی منع کر دیا گیا ہے جن سے کام میں خلل پڑے یعنی اب کام کے اوقات کے علاوہ بھی کی جانے والی ٹریڈ میں سرگرمیوں پر پابندی لگ سکتی ہے اگر مالک اس کو کام کے اندر خلل ثابت کردے جس کا غلط استعمال نہایت آسان ہے “۔ اب اگر ہم نئے کوڈ کو دیکھتے ہیں تو پہلی چیز تو یہ ہے کہ یہ سیکشن 77 نہیں یہ سیکشن 78 ہے اور سیکشن 78(1) یہ کہتا ہے کہ:
(1) No worker or other person or trade union of workers shall–
(a) persuade a worker to join or refrain from joining a trade union during working hours and in disruption of work;
ہم یہ وضاحت کر دینا چاہتےہیں کہ لفظ (and) اوقات کار اور کام میں خلل کو ملا رہا ہے اور اسے اکٹھے پڑھنا ضروری ہے نہ کہ علیحدہ جسیے کہ اس جائزے کے مصنفین نے کرنے کی کوشش کی ہے۔اسکا مطلب ہے کہ اگر اوقات کار کے دوران کو ئی شخص ٹریڈ یونین کے لیے کام کرتا ہے تو وہ یقیناً اس کے کام میں خلل انداز بھی ہو رہا ہے اس کا مطلب کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ چھٹی کے بعد اگر گھر پہ کوئی یونین سازی سے متعلق بات چیت کر رہا ہے تو وہ کام میں خلل اندازی شمار ہو گی۔ وہ نہ تو کام میں خلل اندازی ہے نہ ہی کسی طرح سے ثابت کی جا سکتی ہے یہ محض خام خیالی ہے جس پر بھروسہ کرتے ہوئے مصنفین مزدوروں کو ڈرانا چاہ رہے ہیں۔
اعتراض نمبر19: چیک آف کا حق
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اگلا اعتراض جو ہمارے سامنے اتا ہے وہ ہے کہ جو سیکشن 80 میں چیک آف کا حق سی بی اے یعنی سودا کاری ایجنٹ کے علاوہ دوسری ٹریڈ یونین کو بھی دے دیا گیا ہے اگر ہم اس نئے کوڈ کو دیکھتے ہیں تو یہ سیکشن 81 ہے نہ کہ سیکشن 80 اور اگر ایک رجسٹر ڈٹریڈ یونین آجر سے درخواست کرتی ہے کہ اس کے ممبران کا چندہ چیک آف سسٹم کے ذریعے سے کاٹ کر اسکے حوالہ کیا جائے جیسے کہ پہلے صرف سی بی اے کیلیے سسٹم موجود ہے تو چونکہ آئی ایل او کی کمیٹی آف ایکسپرٹس [1](CEACR)کی ریکمنڈیشن ہے کہ ہر ٹریڈ یونین کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ممبروں کا چندہ چیک آف سے لے سکے تو سی بی اے کے جو ممبر ہیں وہ دوسری یونین کو چندہ کیوں دیں گے اور دوسری ٹریڈ یونین کےممبر سی بی اے کو چندہ کیوں دیں گے اور پھر یہ سب کچھ زبردستی بھی نہیں ہے دونوں طرف سے یہ ڈیمانڈ ہے اگر وہ یونین ریکویسٹ کرے گی تو چیک آف ہوگا اور وہ چیک آف بھی تب ہوگا جب ہر ورکر اپنے ایمپلائر کو ایک اختیار دے گا کہ ہاں ٹھیک ہے میری تنخواہ میں سے یہ چندہ کاٹ کر میری اس یونین کو دے دیا جائے تو اس طرح سے کیوں سی بی اے کمزور ہو گی یہ سمجھ میں نہیں آتا یہ محض ایک شوشہ ہےکہ اگر سی بی اے کے علاوہ دوسری یونینوں کو چیک آف مل گیا تو سی بی اے کمزور ہو جائے گی ، بلکہ نان سی بی اے یونین کو چیک آف ملنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ریفرنڈم ہارنے کی صورت میں بھی اپنا وجود برقرار رکھ سکے اور اپنے ممبران کے حقوق کی حفاظت کر سکے۔
اعتراض نمبر20: آؤٹ سائیڈرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
مزید یہ کہ اس کے بعد انہوں نے سیکشن 83(d) کا ذکر کیا ہے وہ دراصل سیکشن 84(d) ہے۔ اس میں مصنفین کو آؤٹ سائیڈر کی تعداد کے متعلق کنفیوزن لگی ہے، پرانے قانون کی طرح اس میں آؤٹ سائیڈرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد 20 فیصد تک ہو سکتی ہے اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ورکرز کو بھی ادارے کی یونین میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
(a) in the case of a union of employees formed within an establishment of group of establishments, the number of persons forming the executive shall include not less than eighty percent from amongst the workers actually engaged or employed in the establishment or group of establishments in which the trade union has been formed:
Provided that a person who is not from among the workers in the establishment or group of establishments is not required to be a worker engaged in any establishment.
Provided further that a third-party contract worker engaged by an establishment or group of establishments shall be deemed to be actually engaged by the establishment or group of establishments.
پہلی شرط (proviso)کا مقصد ان آؤٹ سائیڈر ٹریڈ یونین لیڈرز کو اس صورت حال سے بچانا ہے جس میں وہ آج کل پڑے ہوئے ہیں کہ انہوں نے کسی بھی اسٹبلشمنٹ سے وہاں پر ملازمت کا جعلی معاہدہ کرنا ہوتا ہے جس سےوہ یہ دکھا سکتے ہیں کہ وہ کہیں ملازمت کرتے ہیں، کیا فل ٹائم ٹریڈ یونین لیڈرز کو اس طرح کی جعل سازیوں کی ضرورت ہے؟
اعتراض نمبر21: یونین بنانے کیلیے کم ازکم ممبران کی تعداد
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اگرچہ تیسری یونین کے لیے 20 فیصد مزدوروں کی ممبرشپ کی شق ختم کر دی گئی ہے اور اس کی جگہ پہلی، دوسری ، تیسری یا کوئی بھی یونین پانچ فیصد یا 20 مزدور (ان میں سے جو بھی کم ہو)کے ساتھ بنائی جا سکتی ہے۔اسکا آسان مطلب یہ ہے کہ 100 ورکرز کی اسٹبلشمنٹ میں صرف پانچ ورکرز کے ساتھ یونین بنائی جا سکے گی اور تین سو ورکرز کی اسٹبلشمنٹ میں 15 ورکرز کے ساتھ یونین بنانے کی اجازت ہو گی، 1000 ورکرز کی اسٹبلشمنٹ میں صرف 20 ورکرز کے ساتھ یونین بنانا ممکن ہو گا۔ مصنفین نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے لیکن ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ اس پر کیا تحفظات ہیں کیونکہ موجودہ قوانین میں تو پہلی اور دوسری یونین کے لیے ممبر شپ کی کوئی حد نہیں تو پھر تیسری یونین کو 20 فیصد کی ضرورت کیوں ہے جبکہ ا ٓئین پاکستان اور آئی ایل او کے کنونشن یہ اجازت دیتے ہیں کہ مزدور اپنی مرضی کی یونین بنائیں یا ان میں شامل ہوں۔ اس طرح سے تو یہ یونین سازی بڑھے گی نہ کہ یہ کم ہو گی۔ اگرمصنفین مزید وضاحت کر دیتے تو شاید دیگرلوگ بھی اس کو سمجھ لیتے کہ یہ کیسے ہوگا۔
اعتراض نمبر22: خواتین کی ٹریڈ یونین کی ایگزیکٹو باڈی میں نمائندگی
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
خواتین کی ٹریڈ یونین کی ایگزیکٹو باڈی میں نمائندگی کے حوالے سے بھی اس قانونی تنقیدی جائز ے کے مصنفین نے اپنی رائے دی ہے اور کہا ہے کہ اس کا تناسب کسی بھی اسٹبلشمنٹ کے تمام ورکرز کی بجائے یونین میں شامل خواتین کے ساتھ جوڑنا زیادہ بہتر ہوگا چونکہ اس قانونی جائز ے کے مصنفین نے ہر جگہ تاریخ کی بات کی ہے تواس قانون کی تاریخ بھی دیکھنا ضروری ہے 2014 میں PIRA میں جب یہ شق ڈالی گئی اس وقت سے پہلے کے درجنوں سوداکاری کے معاہدے دیکھ ڈالیے آپکو خواتین کے حقوق سے متعلق ایک شق بھی نہیں ملے گی کیونکہ خواتین کی نمائندگی ٹریڈ یونین کی ایگزیکٹو باڈی میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ تو اس شق کو ڈالنے کا مقصد یہ تھا کہ خواتین ورکرزکو ٹریڈ یونین کی ایگزیکٹو باڈی میں نمائندگی دی جائے تاکہ ٹریڈ یونین یا سی بی اے جب چارٹرآف ڈیمانڈ پیش کرے تو کم از کم خواتین ورکر سے متعلقہ چیزیں اس میں ضرور شامل ہو سکیں اگر مصنفین یہ سمجھتے ہیں کہ اس شق کو نکالا جائے تو یہ ان کی رائے ہو سکتی ہے لیکن اس کا خواتین ورکرز اور ٹریڈ یونین ازم کو نقصان ہوگا۔
اعتراض نمبر23: سی بی اے (اجتماعی سودا کاری ایجنٹ) کو کمزور کرتا ہوا کوڈ
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اس قانونی جائزے میں ایک اور اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ کوڈ سی بی اے (اجتماعی سودا کاری ایجنٹ)کو کمزور کر رہا ہے جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے پرانے قوانین میں بھی یہ چیز موجود تھی کہ اگر کسی ایک اسٹیبلشمنٹ میں ایک ہی یونین ہے اور اگر 33 فیصد ملازمین اس کے ممبر ہیں تو اس کو سی بی اے ڈکلیئر کیا جا سکتا ہے۔ آئی ایل او کی کمیٹی آف ایکسپرٹس کا اس پر اعتراض یہ تھا کہ اگرآپ نے 33 فیصد کی حد رکھی ہے لیکن اگر کسی یونین کے پاس 33 فیصد سے کم ممبران ہیں تو ان کو کم از کم اپنے ممبران کی حد تک سی بی اے کا سٹیٹس دے دیا جائے تو یہاں اسی ریکمنڈیشن کے مطابق قانون میں تبدیلی تجویز کی گئی ہے کہ اگر یونین کے ممبران کل ورک فورس کے 33 فیصد سے کم ہیں تو وہ یونین صرف اپنے ممبران کیلیے سی بی اے ہو گی۔ اس کے بعد اگراس کے ممبر 33 فیصد تک ہو جاتے ہیں یا اس سے اوپر چلے جاتے ہیں تو وہ پھر پوری اسٹیبلشمنٹ کے لیے سی بی اے ڈیکلیئر ہو سکے گی اب چونکہ چیک آف کی شق موجود ہے تو یہ طے کرنا نہایت آسان ہے کہ اس یونین کے پاس کتنے ممبر ہیں، ہمیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس طرح سے سی بی اے کا ادارہ کمزور کیسے ہو سکتا ہے یہاں تو ہم سی بی اے کے ادارے کو مضبوط کرنے کی بات کر رہے ہیں کہ اگر 33 فیصد ممبرز اس کے پاس نہیں بھی ہیں تب بھی اس کو سی بی اے کا سٹیٹس دے دیا جائے گو وہ اسٹیٹس اس کے اپنے ممبران تک ہی محدود ہوگا۔
ایک اور چیز جس کی ہم وضاحت کرنا چاہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انہوں نے آگے چل کر یہ الزام لگانے کی کوشش کی ہے کہ مجوزہ کوڈز کے تحت گر کسی ادارے میں سی بی اے کے تعین میں کوئی تعطل آتا ہے تو کسی بھی ٹریڈ یونین کو سی بی اے کے اختیارات تفویض کیے جا سکتے ہیں، یوں معلوم ہوتا ہے محترم مصنفین نے قانونی جائزہ ڈرافٹ کرنے کا کنٹریکٹ انٹرنز (وہ بھی شاید بلا معاوضہ) کو دے دیا تھا، نہیں تو یہ بہت اچھی طرح جانتے اور سمجھتے کہ یہ شق نئی نہیں ہے بلکہ PIRA میں موجود ہے۔ اسکا سیکشن 63 دیکھ لیں۔
Section 63. Performance of functions pending ascertainment of collective bargaining agent.– Any act or function which is by this Act required to be performed by or has been conferred upon a collective bargaining agent may, until a collective bargaining agent has been certified under the provisions of the Act, be performed by a registered trade union which has been recognized by the employer or employers.
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
“تنقیدی قانونی جائزے” کےمصنفین میں اس کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ اگر سی بی اے کے علاوہ کوئی اور یونین ہڑتال کی کال دینا چاہے تو اس پہ یہ شرط لگا دی گئی ہے کہ وہ پہلے اپنی ٹوٹل ممبرشپ سے ہڑتال کے سوال پر ووٹ کروائے اور اگر ان کو 50 فیصدسے زیادہ ووٹ ملے تو تب ہی یونین ہڑتال پر جا سکتی ہے اگر یہ سچویشن نہ ہو تو اس ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے اس میں مسئلہ یہ ہے کہ یا تو اس جائزے کے لکھنے والوں کو اس کوڈ کی زبان ہی سمجھ نہیں آسکی یا انہوں نے فکری بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئےجو اصل حقیقت ہے وہ لوگوں کے سامنے نہیں لائے کمیٹی آن فریڈم آف ایسوسی ایشن نے نے کہیں پہ بھی اس طرح کی کوئی شرط لگانے سے نہیں روکا کیونکہ یہ شرط سی بی اے پرنہیں ہے بلکہ دوسری یونین پر ہے جو اپنے ورکرز کو ہڑتال پہ لے کر جانا چاہے ہم جو کہنا چاہ رہے ہیں وہ اتنا ہی ہے کہ اگر 100 ورکرز کی یونین ہے تو سیکرٹ بیلٹ کے لیے اس کا کورم 51 ورکرز ہیں ان 51 ورکرز میں سے 26 ورکرز نے اگر ووٹ ہڑتال کے حق دیا ہو تو تبھی یونین ہڑتال پہ جائے گی یعنی صرف اصل میں صرف 26 فیصد۔ یہ نہیں کیا جا سکتاکہ یونین کے پانچ دس ممبران اکٹھے ہو کے 100 ورکرز کی ہڑتال کے متعلق فیصلہ کر لیں۔ ہم سی ایف اے کے فیصلے کا حوالہ بھی دے دیتے ہیں۔
809. The obligation to observe a certain quorum and to take strike decisions by secret ballot may be considered acceptable.
(See the 2006 Digest, para. 559.)
اعتراض نمبر24: کلیکٹو ایگریمنٹ (اجتماعی سوداکاری کا معاہدہ)
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
اب ہم آتے ہیں کلیکٹو ایگریمنٹ سے متعلق ان کے اعتراض کی طرف، ہم تو یہ نہیں سمجھ سکےکہ کیا ان مصنفین اور انکی ٹیم نے انڈسٹریل ریلیشنز کے متعلق پرانے قوانین کو دیکھا بھی ہے یا نہیں جو کلیکٹو ایگریمنٹ کی تعریف اس کوڈ میں دی گئی ہے وہ ہم نیچے دے دیتے ہیں اس کو آپ دیکھ لیجئے اس تعریف میں ہم نے یہ کہا ہے کہ کوئی ایسا معاہدہ جو ایمپلائر اور پرنسپل یا گروپ آف ایمپلائر اورایک یا زیادہ ٹریڈ یونینز کے درمیان ہو تو اسے کلیکٹو ایگریمنٹ کہا جائے گا۔
Section 13(1)(7): “collective agreement” means any agreement in writing concerning terms and conditions of engagement and any other matter of mutual interest concluded between an employer or principal, a group of employers or principals, or one or more employers’ or principals’ organisations, on the one hand, and one or more trade unions, on the other;
مجوزہ کوڈز میں تو یہ اختیار ٹریڈ یونین کے لیے رکھا گیا جبکہ سی بی اے بھی ایک ٹریڈ یونین ہی ہے۔ اب اگر آپ موجودہ قوانین (یعنی (PIRA and SIRA کو دیکھیں تو وہاں سیٹلمنٹ کی تعریف میں تو ٹریڈ یونین کا ذکر ہی نہیں ہے ہم پھر نیچے اس کو کاپی کر دیتے ہیں اس میں آپ دیکھ لیں وہ تو یہ کہتا ہے کہ سیٹلمنٹ میں وہ ایگریمنٹ بھی شامل ہے جو کہ ایمپلائر اور اس کے ورک مین کے درمیان ہو تو اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر یونین موجود بھی ہو تو آجر کوئی بھی پانچ دس ورکرز کے ساتھ اگر کوئی ایک ڈاکومنٹ سائن کر لیتا ہے تو اس کو بھی سیٹلمنٹ میں شامل کیا جائے گا۔ یقینا اس کا یہ طلب نہیں، تو اسی طرح ڈرافٹ کوڈز کی بھی دو لائنیں اٹھا کر کمنٹ کرنا غلط ہو گا۔ کسی بھی قانون کو پوری طرح پڑھے اور سمجھے بغیر اس پر اعتراض کرنے کا یہ طریقہ سمجھ میں نہیں آیا۔
Section 2(xxvii): “settlement” means a settlement arrived at in the course of conciliation proceeding, and includes an agreement between an employer and his workmen arrived at otherwise than in the course of any conciliation proceeding, where such agreement is in writing, has been signed by the parties thereto in such manner as may be prescribed and a copy thereof has been sent to the Government, the conciliator and such other person as may be prescribed;
اگر “تنقیدی قانونی جائزے” کے مصنفین نے ڈرافٹ 4 کو دیکھا ہوتا تووہ یہ دیکھ پاتے کہ ڈیڈ لاک کی مدت اب 60 دن کے بجائے 30 دن کر دی گئی ہے، اور یہ انتظار نہی ہے نہ ہی ہڑتال کے حق کو کسی طرح سے ختم کرتا ہے بلکہ دونوں پارٹیز کو مذاکرات کی میز پر لاتا ہے اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی بھی فریق نے نیک نیتی سے مذاکرات نہیں کیے (گُڈ فیتھ بارگیننگ نہیں کی) تو اسے ان فیئر لیبر پریکٹس بھی تصور کیا جائے گا۔
اعتراض نمبر25: صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کے نمائندگان
تنقیدی جائزے سے اقتباس

اصل حقیقت
صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کے بارے میں بھی غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس میں حکومت کے 16 نمائندے اور آجر اور اجیر کے صرف چار چار نمائندگان شامل ہیں، اگر اس تنقیدی جائزے کے مصنفین نے غور سے ڈرافٹ کو پڑھا ہوتا تو انہیں اندازہ ہوتا کہ حکومتی نمائندے دراصل صرف آٹھ ہی ہیں ، لیبر ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ دیگر ڈیپارٹمنٹس کے نمائندے تبھی ان میٹنگز میں شامل ہوں گے جب ان سے متعلق کوئی ایشو ڈسکس ہو رہا ہو گا جیسے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ اس کمیٹی کی میٹنگ میں تبھی شامل ہو گا جب ذرعی مزدوروں سے متعلق کوئی ایجنڈا آئٹم ڈسکس ہو گا، دوسرا یہ کہ ڈرافٹ میں مزدوروں اور آجروں کے “کم از کم چار چار نمائندگان” شامل کرنے کی تجویز ہے اسکا مطلب یہ ہے انکی تعداد چار سے کم نہیں ہو سکتی، زیادہ جتنے بھی حکومت اور سوشل پارٹنرز مناسب سمجھیں ، شامل کریں۔ اور مہربانی کریں کہ یہ غلط فہمی بھی دور کر لیں کہ کنونشن 144 کہیں پر بھی سہ فریقی مشاورت کیلیے یہ بتاتا ہے کہ فریقین کی تعداد یا تناسب کیا ہو گا۔ یہ حکومتیں اپنے سوشل پارٹنرز کے ساتھ مل کر طے کرسکتی ہیں، آئی ایل او کی اپنی گورننگ باڈی میں کل 56 ممبران ہیں جن میں 28 ممبران(یعنی 50 فیصد)حکومتوں کے نمائندے ہیں جبکہ 14 مزدوروں کے اور 14 آجران کے، سہ فریقی مشاورت کیلیے فریقین کی تعداد اور تناسب اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ باقاعدہ مشاورت ممکن ہو اور وہ فریقین کے حقیقی نمائندگان پر مشتمل ہو ، اس کونسل یا کمیٹی کے ممبران کی تعداد ہر ملک اسے اپنے حساب سے رکھ سکتا ہے لیکن یہ اصرار کرنا کہ حکومت کی نمائندگی صرف 10 یا 20 فیصد ہو، صرف اور صرف غلط فہمی ہے۔
اب اس کونسل کی پاورز کے بارے میں بھی بات کرلیتے ہیں، یہ آج کی موجودہ صوبائی سہ فریقی مشاورتی کمیٹی کی طرح ہی ہے جس میں لیبر کے نمائندے آج بھی شامل ہیں اور اسکا کام ایڈوائزری ہے، ہم ڈرافٹ کے سیکشن 308 کی پہلی لائن کا اقتباس پیش کر دیتے ہیں، اس کونسل کو کوڈ کے تحت رولز، پالیسیاں اور قوائد وضوابط بنانے کے اختیارات نہیں دیتا بلکہ رولز، پالیسیاں اور قوائد وضوابط بناتے ہوئے یا قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے اس کونسل کے مشورہ سازی پر زور دیتا ہے ، موجودہ صوبائی سہ فریقی مشاورتی کمیٹی بھی یہی کام کرتی ہے:
The Council shall advise the Government on employment and labour market issues, including but not limited to:
آخر میں ہم صرف اتنا کہنا چاہیں گے کہ”تنقیدی قانونی جائزے” کے محترم مصنفین کی فکری غلامی دیکھیے کہ وہ انٹرنیشنل کنسلٹنٹس (بیرونی ماہرین) کے بارے میں تو اسطرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں (“کوڈ لکھنے والوں کی نیت ٹھیک تھی”) اور مقامی ماہرین کے بارے میں “انگوٹھا چھاپ” جیسےتعصبانہ القابات استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ لیبر کوڈ چار ماہرین (دو مقامی اور دو غیر ملکی) کی مشترکہ کاوش ہے۔
یہ معیار ہے پاکستان کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے پروفیسرز کا کہ وہ مقامی لوگوں کے بارے میں تعصب سے بھرے ہوئے ہیں، ہماری مقامی ایلیٹ اپنے مقامی لوگوں کے بارے میں اسی طرح کے متعصب خیالات ہی رکھتی ہے اور چونکہ مقامی ماہرین انکے خاص فکری مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتے تو انکو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
اسکے علاوہ “تنقیدی قانونی جائزے” کی ہر تنقید و تنقیص کا بخوبی جواب دیا جاسکتا ہے لیکن یہ لیگل بریف ایک نمونے کے طور پر آپکے سامنے رکھا جا رہا ہے تاکہ آپ دونوں طرف کی آرا کو دیکھیں اور ان مجوزہ لیبر کوڈز پر اپنی آزادانہ رائے قائم کر سکیں۔
مجوزہ لیبر کوڈز میں بہت سی قابلِ ذکر مراعات اور بہتر حالاتِ کار کی تجاویز ہیں جن کو اس لیگل بریف میں شامل نہیں کیا جا سکا جس کیلیے ہم معذرت خواہ ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس بریف کے قارئین اپنے اپنے صوبے کے مجوزہ کوڈ کا بنظرِ غائر مطالعہ کریں گے اور اس پر اپنی رائے خود قائم کریں گے۔
انداز ِ بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات