Addressing Concerns on Pakistan’s Labour Codes – 1

Objection 1


The draft Labour Codes were prepared without consulting workers’ and employers’ organisations, making them inconsistent with ILO standards.

Response

The preliminary drafts were prepared after years of work (consolidation efforts had been ongoing since 2000!) and shared around June 2024 to begin the discussion process. The labour policies in both provinces, already agreed upon by the stakeholders, aim to consolidate labour laws. These draft Codes were not intended to be final legislation. Meetings were held with stakeholders across both provinces in 2023 to gather their views on the potential consolidation and rationalisation of more than two dozen labour laws.

It is the first time in South Asia that a bill, fully compliant with international labour standards, has been drafted and submitted by the Government.

In Punjab, this is the eighth draft, updated repeatedly following stakeholder discussions, and it is now before the Standing Committee of the Punjab Assembly. In Sindh, the Labour Department has held multiple meetings with all stakeholders. The same applies to the reforms in the IRA 2012, for which drafts have been shared since May 2025.

It is common practice globally for governments to issue an initial text that is then thoroughly debated and revised through stakeholder consultations. This is similar to how the European Commission issues first drafts of EU legislation, which are then debated by stakeholders and voted on by the European Parliament. The same applies in every country.

These initial drafts serve only as a starting point for consultation rather than a finished product. The provisions of ILO Convention 144 are fully complied with in the discussion of the draft Labour Codes in Pakistan, as the convention does not prevent governments from proposing reforms.

پاکستان کے لیبر کوڈز سے متعلق خدشات و تحفظات کا جواب

اعتراض نمبر  1

پنجاب اور سندھ کے مجوزہ لیبر کوڈز مزدوروں اور آجرین کی تنظیموں سے مشاورت کے بغیر تیار کیے گئے، جس کے باعث یہ آئی ایل او (ILO) کے معیارات سے ہم آہنگ نہیں۔

جواب

ابتدائی مسودات کئی برسوں کی محنت کے بعد تیار کیے گئے (اور قوانین کی یکجائی کی کوششیں سن 2000 سے جاری تھیں!) اور بحث و مباحثے کے عمل کا آغاز کرنے کے لیے انہیں تقریباً جون 2024 میں شیئر کیا گیا۔ دونوں صوبوں کی لیبر پالیسیاں—جن پر متعلقہ فریقین پہلے ہی اتفاق کر چکے ہیں—کا مقصد لیبر قوانین کو یکجا کرنا ہے۔ یہ ڈرافٹ کوڈز حتمی قانون سازی کے طور پر پیش نہیں کیے گئے تھے۔ سن 2023 میں دونوں صوبوں میں متعلقہ فریقین کے ساتھ کئی اجلاس منعقد کیے گئے تاکہ دو درجن سے زائد لیبر قوانین کی ممکنہ یکجائی اور معقولیت (رَیشنلائزیشن) کے بارے میں ان کی آراء حاصل کی جا سکیں۔
جنوبی ایشیا میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بین الاقوامی لیبر معیارات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ایک بل حکومت کی جانب سے تیار کر کے جمع کرایا گیا ہے۔
پنجاب میں یہ آٹھواں مسودہ ہے، جسے متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد بارہا اپ ڈیٹ کیا گیا، اور اب یہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے زیرِ غور ہے۔ سندھ میں محکمۂ محنت نے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ متعدد اجلاس کیے ہیں۔ یہی صورتحال آئی آر اے 2012 (IRA 2012) میں اصلاحات کے معاملے میں بھی ہے، جن کے مسودات مئی 2025 سے بار بار شیئر کیے جا رہے ہیں۔
دنیا بھر میں یہ ایک معمول کی روایت ہے کہ حکومتیں پہلے ایک ابتدائی متن جاری کرتی ہیں، جس پر بعد ازاں متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ذریعے تفصیلی بحث ہوتی ہے اور پھر اسے نظرِ ثانی کے بعد بہتر بنایا جاتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے یورپی کمیشن یورپی یونین کی قانون سازی کے ابتدائی مسودات جاری کرتا ہے، جن پر بعد میں متعلقہ فریقین بحث کرتے ہیں اور یورپی پارلیمنٹ ان پر رائے شماری کرتی ہے۔ یہی طریقہ کار ہر ملک میں رائج ہے۔
یہ ابتدائی مسودات محض مشاورت کے لیے نقطۂ آغاز ہوتے ہیں، نہ کہ کوئی حتمی دستاویز۔ پاکستان میں ڈرافٹ لیبر کوڈز پر ہونے والی مشاورت میں آئی ایل او کنونشن 144 کی شقوں پر مکمل طور پر عمل کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ کنونشن حکومتوں کو اصلاحات تجویز کرنے سے نہیں روکتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Email