پنجاب لیبر کوڈ 2026

نوٹ: پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا یہ ترجمہ سرکاری ترجمہ نہیں ہے، اسے صرف عوام کی واقفیت کے لیے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسے کورٹ میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب ایکٹ نمبر IX مجریہ 2026 [10 فروری 2026]

پنجاب لیبر کوڈ 2026

بمراد اِس امرکے کہ ورکرز کے حقوق سے متعلق قوانین کو یکجا، سادہ اور معقول بنانے اور پنجاب میں جبری اور لازمی مشقت کی تمام اقسام کے خاتمے کے لیےقانون وضع کیا جائے۔

بمراداِس امر کے کہ کام سے متعلق بنیادی حقوق جیسے کہ انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودا کاری کے حق کو مؤثر طور پر تسلیم کرنا، جبری یا لازمی مشقت کی تمام اقسام کا خاتمہ، چائلڈ لیبر کا مؤثر خاتمہ، روزگار اور پیشے سے متعلق امتیاز کا خاتمہ، اور کام کرنے کے لیے محفوظ و صحت مند ماحول مہیا کرنا؛ ورکرز کے روزگار، کم از کم اجرتوں اور معاوضۂ کار کی ادائیگی سے متعلق ضوابط؛ کام کے اوقات کار کاانضباط؛ مخصوص اقسام کے ورکرز کے کام کی شرائط کا تعین؛ ورکرز کی فلاح و بہبود؛ تنازعات کے حل کے طریق کار؛ اور اس سے منسلکہ ضمنی امور سے متعلق قوانین کو یکجا، سادہ اور معقول بنایا جائے۔

لہذا صوبائی اسمبلی پنجاب کی جانب سے درج ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے :

فہرست دفعات

Section

Heading

عنوان

سیکشن

PART I - OPERATION AND DEFINITIONS

حصہ اول - اطلاق اور تعریفات

CHAPTER 1.1 - TITLE, EXTENT, COMMENCEMENT AND EFFECT

باب 1.1 - عنوان، وسعت، آغاز نفاذ اور اثر

1

Short title, extent and commencement.

مختصر عنوان، وسعت اور آغاز نفاذ

1

2

Application and summary of operation.

اطلاق اور آپریشن کا خلاصہ

2

CHAPTER 1.2 - KEY DEFINITIONS AND LEGAL RESPONSIBILITIES

باب 1.2 - کلیدی تعریفات اور قانونی ذمہ داریاں

3

The Code cannot be excluded by contract or agreement.

اس کوڈ کو معاہدے یا معاہداتی شرائط سے خارج نہیں کیا جا سکتا

3

4

Meaning of “worker” and “wage”.

"ورکر" اور "اجرت" کے معنی

4

5

Meaning of “employee”.

’’ملازم‘‘کے معنی

5

6

Meaning of “employment agreement”.

’’معاہدۂ ملازمت‘‘ کے معنی

6

7

Meaning of “employer”, “principal” and “occupier”.

’’آجر‘‘،’’پرنسپل‘‘اور ’’قابض‘‘کے معنی

7

8

Meaning of “engaged”.

"(Engaged)"انگیج کے معنی

8

9

Legal responsibility of persons in relation to an employer, principal and occupier.

آجر، پرنسپل اور قابض (آکو پائیر)سے متعلق افراد کی قانونی ذمہ داری

9

10

Responsibilities where multiple persons have obligations.

ایسی صورت میں ذمہ داریاں جہاں ایک سے زیادہ افراد پر فرائض عائد ہوں

10

11

Meaning of “contractor” and “self-employed”.

"کنٹریکٹر" اور "سیلف ایمپلائیڈ" کی تعریف

11

12

Meaning of “workplace”, “premises” and “establishment”.

"کام کی جگہ"، "احاطہ" اور "اسٹیبلشمنٹ" کے معنی

12

CHAPTER 1.3 - OTHER DEFINITIONS

باب 1.3 - دیگر تعریفات

13

Other definitions.

دیگر تعریفات

13

PART II - FUNDAMENTAL PRINCIPLES AND RIGHTS AT WORK

حصہ دوم - کام کے بنیادی اصول اور حقوق

CHAPTER 2.1 - PROVISIONS APPLYING TO ALL WORKERS AND ALL WORKPLACES

باب 2.1 - تمام ورکرز اور تمام کام کی جگہوں پر لاگو احکامات

14

Object of this Part.

اس حصہ کا مقصد

14

CHAPTER 2.2 - BONDED, FORCED OR COMPULSORY LABOUR

باب 2.2 - بانڈڈ، جبری یا لازمی مشقت

15

Definitions.

تعریفات

15

16

Prohibition on forced labour.

جبری مشقت کی ممانعت

16

17

Abolition of bonded labour system.

بانڈڈ لیبر سسٹم کا خاتمہ

17

18

Regulation of advance.

ایڈوانس کا انضباط

18

19

Liability to repay bonded debt to stand extinguished.

بانڈڈ قرض واپس کرنے کی ذمہ داری کا خاتمہ

19

20

Eviction from residential accommodation.

رہائشی مکان سے بے دخلی

20

21

Notification of authorized officer and functions.

مجاز افسر کی تقرری اور فرائض

21

CHAPTER 2.3 - ELIMINATION OF CHILD LABOUR

باب 2.3 - چائلڈ لیبر کا خاتمہ

22

Definitions.

تعریفات

22

23

Minimum age for admission to work.

کم از کم عمر برائے ملازمت

23

24

Engagement of child in light work.

بچے کو ہلکے کام میں مشغول کرنا

24

25

Prohibition on the worst forms of child labour.

چائلڈ لیبر کی بدترین اقسام کی ممانعت

25

26

Prohibition on hazardous work.

خطرناک کام کی ممانعت

26

27

Restriction on working time.

کام کے اوقات پر پابندی

27

28

Dispute as to age.

عمر کے تنازعہ کا حل

28

29

Power to require medical examination.

طبی معائنہ کروانے کا اختیار

29

30

Maintenance of register.

رجسٹر رکھنا

30

31

Notice to Inspector.

انسپکٹر کو اطلاع

31

32

Presumption of work.

کام کرنےکا قیاس

32

CHAPTER 2.4 - EQUALITY OF OPPORTUNITY AND TREATMENT

باب 2.4 - مساوی مواقع اور سلوک

33

Anti-discrimination obligations.

امتیاز کے خلاف ذمہ داریاں

33

34

Direct and indirect discrimination.

بلاواسطہ اور بالواسطہ امتیاز

34

35

Prohibited grounds.

ممنوع بنیادیں

35

36

Equal remuneration obligation.

مساوی اجرت کی ذمہ داری

36

37

Instruments made under the Code to have regard to equal remuneration.

پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بنائی گئی دستاویزات میں مساوی معاوضۂ کار کا لحاظ

37

CHAPTER 2.5 - OCCUPATIONAL SAFETY AND HEALTH

باب 2.5 - پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت

38

Definitions.

تعریفات

38

A. Duties regarding safety and health at work

اے۔ کام کی جگہ پر تحفظ اور صحت سے متعلق ذمہ داریاں

39

Management of risks.

خطرات کا نظم و نسق

39

40

Meaning of “reasonably practicable”.

"معقول حد تک ممکن" کا مفہوم

40

41

Concurrent and overlapping duties.

بیک وقت اور باہم متداخل ذمہ داریاں

41

42

Interaction between duties, Safety and Health Rules and other material.

فرائض، سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز اور دیگر مواد کے درمیان باہمی تعامل

42

43

Duties of employers, principals and occupiers.

آجر، پرنسپل اور قابض کی ذمہ داریاں

43

44

Written statement of safety and health policy.

سیفٹی اور ہیلتھ پالیسی کا تحریری بیان

44

45

Duties of workers.

ورکرز کے فرائض

45

46

Duties of self-workers.

سیلف ورکر کے فرائض

46

47

Duties of persons in control of certain premises to persons other than their workers.

مخصوص احاطہ جات کے نگران افراد کے فرائض، ان افراد کے لیے جو ان کےورکر نہیں ہیں

47

48

Duties of manufacturers regarding articles and substances.

اشیاء اور مادّوں سے متعلق تیار کنندگان کے فرائض

48

49

Duties of suppliers as regards articles for use at work.

کام میں استعمال ہونے والے سامان کے حوالے سے فراہم کنندہ کے فرائض

49

50

Duties of all persons with respect to violence and harassment at work.

کام کی جگہ پر تشدد اور ہراسانی کے حوالے سے تمام افراد کے فرائض

50

51

Grievance Redressal Committee.

شکایات کے ازالے کی کمیٹی

51

B. Consultation arrangements at the workplace to implement safety and health duties

بی۔ تحفظ اور صحت کی ذمہ داریوں کے نفاذ کے لیے کام کی جگہ پر مشاورتی انتظامات

52

Consultation with workers.

ورکرز سے مشاورت

52

53

Safety and health representatives.

سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندگان

53

54

Safety and health committees.

سیفٹی اور ہیلتھ کمیٹیاں

54

55

Protection of workers with safety and health responsibilities.

سیفٹی اور ہیلتھ ذمہ داریوں والے ورکرز کا تحفظ

55

56

Appointment of safety and health officer and welfare officers.

سیفٹی اور ہیلتھ افسر اور ویلفیئر افسران کی تعیناتی

56

C. Occupational health

سی۔ پیشہ ورانہ صحت

57

Precautions against contagious or infectious diseases at workplaces.

کام کی جگہ پر متعدی یا وبائی امراض سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

57

58

Certifying surgeons.

تصدیقی سرجن

58

D. Reporting, notification and investigation

ڈی۔ رپورٹنگ، نوٹیفکیشن اور تفتیش

59

Notification and investigation of accidents, dangerous occurrences and occupational illness.

حادثات، خطرناک واقعات اور پیشہ ورانہ بیماریوں کی اطلاع اور تفتیش

59

60

No interference at accident scene.

حادثے کی جگہ پر مداخلت نہ کرنا

60

61

Power to direct formal investigation of incidents, accidents and cases of disease.

واقعات، حادثات اور بیماریوں کی باقاعدہ تحقیقات کی ہدایت دینے کا اختیار

61

62

Burden of proof.

بارِ ثبوت

62

63

Display at the establishment.

ادارے میں نوٹس آویزاں کرنا

63

E. Compliance powers

ای۔ تعمیل کے اختیارات

64

Improvement notices.

بہتری کے نوٹسز

64

65

Prohibition notices.

ممانعت کے نوٹسز

65

66

Power to deal with cause of imminent danger.

قریب الوقوع خطرے کی وجوہات سے نمٹنے کا اختیار

66

67

Rights of workers with respect to imminent dangers.

ورکرز کے حقوق برائے قریب الوقوع خطرات

67

68

Powers to require specifications of defective parts or tests of stability.

خراب حصوں کی تفصیلات یا استحکام کی جانچ کا تقاضا کرنے کے اختیارات

68

69

Assistance by other agencies.

دیگر اداروں سے معاونت

69

F. Power to make safety and health rules

ایف۔ تحفظ اور صحت کے قواعد بنانے کا اختیار

70

Safety and Health Rules.

سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد

70

71

Safety and Health Rules.

سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد

71

72

Review of the Safety and Health Rules.

سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کا جائزہ

72

73

Publication of the Safety and Health Rules.

سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کی اشاعت

73

CHAPTER 2.6 - FREEDOM OF ASSOCIATION AND COLLECTIVE BARGAINING

باب 2.6 - انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودا کاری

A. Freedom of association and the right to organise

اے۔ انجمن سازی کی آزادی اور تنظیم سازی کا حق

74

The right to organise.

تنظیم سازی کا حق

74

75

Basic worker’s rights.

ورکرکے بنیادی حقوق

75

76

Basic employer’s rights.

آجر کے بنیادی حقوق

76

77

Unfair labour practices on the part of employers and principals.

آجروں اور پرنسپلز کی جانب سے غیر منصفانہ لیبر طریق کار

77

78

Unfair labour practices on the part of workers.

ورکرز کی جانب سے غیر منصفانہ لیبر طریق کار

78

79

Law of conspiracy limited in application.

سازش سے متعلق قانون کا محدود اطلاق

79

80

Immunity from civil suit in certain cases.

مخصوص صورتوں میں دیوانی دعوے سے استثنیٰ

80

81

Check off.

چیک آف (ادائیگی میں کٹوتی)

81

B. Registration of trade unions and employer organisations

بی۔ ٹریڈ یونینز اور آجر تنظیموں کی رجسٹریشن

82

Application for registration.

رجسٹریشن کے لیے درخواست

82

83

Requirements for applications by trade unions.

ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن کے لیے درخواست کے تقاضے

83

84

Requirements for registration.

رجسٹریشن کے لیے شرائط

84

85

Disqualification for being an office-bearer of a trade union.

ٹریڈ یونین کے عہدیدار بننے کے لیے نااہلی

85

86

Registration.

رجسٹریشن

86

87

Registration of federations and confederations.

فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کی رجسٹریشن

87

88

Change of name.

نام کی تبدیلی

88

89

Amalgamation of Trade Unions.

ٹریڈ یونینز کا انضمام

89

90

Effects of change of name and of amalgamation.

نام کی تبدیلی اور انضمام کے اثرات

90

91

Protection of members and office-bearers of trade union during pendency of application for registration.

رجسٹریشن کی درخواست کے زیر التوا ہونے کے دوران ٹریڈ یونین کے اراکین اور عہدیداروں کا تحفظ

91

92

Certificate of registration.

رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ

92

93

Incorporation of registered trade union.

رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کی قانونی حیثیت

93

94

Registered trade union to maintain register.

رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کا رجسٹرمینٹین رکھنا

94

95

Trade union annual returns.

ٹریڈ یونین کے سالانہ گوشوارے

95

96

Cancellation of registration.

رجسٹریشن کی منسوخی

96

97

Trade union compliance orders.

ٹریڈ یونین سے متعلق تعمیلی احکامات

97

98

Appeal against cancellation.

منسوخی کے خلاف اپیل

98

C. Collective bargaining

سی۔ اجتماعی سودا کاری

99

Levels of collective bargaining.

اجتماعی سودا کاری کی سطحیں

99

100

Determining the collective bargaining agent for an establishment or group of establishments.

ادارہ یا اداروں کے گروپ کے لیے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کا تعین

100

101

Rights of collective bargaining agent.

اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے حقوق

101

102

Trade union functions and powers pending ascertainment of collective bargaining agent.

اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین تک ٹریڈ یونین کے فرائض و اختیارات

102

103

Determination of collective bargaining unit.

اجتماعی سودا کاری کی اکائی کا تعین

103

104

Appeals relating to collective bargaining units.

اجتماعی سودا کاری کی اکائیوں سے متعلق اپیلیں

104

105

Collective bargaining by federations and confederations of trade unions extending beyond one employer.

ایک آجر سے زائدٹریڈ یونینزکی فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کی جانب سے اجتماعی سودا کاری

105

106

Commencement of collective bargaining.

اجتماعی سودا کاری کا آغاز

106

107

Conduct of collective bargaining negotiations.

اجتماعی سودا کاری کے مذاکرات کا طریق کار

107

108

Reference of collective bargaining dispute to the Works Council.

اجتماعی سودا کاری کے تنازعہ کا ورکس کونسل کو ریفرنس

108

109

Assistance of mediator or conciliator.

میڈی ایٹر (مفاہمت کار) یا مصالحت کار کی معاونت

109

110

Conclusion of collective agreements.

اجتماعی معاہدے طے پانا

110

111

Form and content of collective agreements.

اجتماعی معاہدوں کی شکل اور مندرجات

111

112

Binding effect of collective agreements.

اجتماعی معاہدوں کا واجب التعمیل ہونا

112

113

Effective date of collective agreement or award.

اجتماعی معاہدے یا ایوارڈ کی مؤثر تاریخ

113

114

Variation of collective agreement by consent.

اجتماعی معاہدہ میں باہمی رضامندی سے ترمیم کی اجازت

114

115

Collective bargaining between principals and workers.

پرنسپلز اور ورکرز کے مابین اجتماعی سودا کاری

115

D. Strike and lock-out

ڈی۔ ہڑتال اور تالہ بندی

116

Right to strike.

ہڑتال کا حق

116

117

Protection of the right to strike.

ہڑتال کے حق کا تحفظ

117

118

Temporary replacement of labour prohibited.

لیبر کی عارضی متبادل بھرتی کی ممانعت

118

119

Requirement of conciliation before certain strikes.

بعض ہڑتالوں سے پہلے مصالحت کی ضرورت

119

120

Declaration of a strike.

ہڑتال کا اعلان

120

121

Notice of strike and lock-out before certain strikes.

بعض ہڑتالوں سے پہلے ہڑتال اور تالہ بندی کا نوٹس

121

122

Unlawful strike or lock-out.

غیر قانونی ہڑتال یا تالہ بندی

122

123

Strikes causing serious hardship to the community or is prejudicial to the national interest.

کمیونٹی کے لیے سنگین مشکلات یا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہڑتالیں

123

124

Strike or lockout in cases of essential services.

ضروری خدمات کی صورتوں میں ہڑتال یا تالہ بندی

124

125

Strike or lock-out in public utility services.

عوامی سہولیات کی فراہمی میں ہڑتال یا لاک آؤٹ

125

126

Prohibition on serving notice of strike or lock-out while proceedings are pending.

زیر التواء کار روائیوں کے دوران ہڑتال یا تالہ بندی کا نوٹس دینے کی ممانعت

126

127

Application to Labour Court and Tribunal after strike or lockout has already commenced.

پہلے سے جاری ہڑتال یا تالہ بندی کے بعد لیبر کورٹ اور ٹربیونل میں درخواست

127

128

Procedure in case of unlawful strike or lock-out.

غیر قانونی ہڑتال یا تالہ بندی کی صورت میں کارروائی

128

129

Removal of fixed assets.

مستقل اثاثوں کی منتقلی کی ممانعت

129

PART III - EMPLOYMENT

حصہ سوم - ملازمت

CHAPTER 3.1 - APPLICATION AND DEFINITIONS

باب 3.1 - اطلاق اور تعریفات

130

Application of Chapter 3.

باب 3 کا اطلاق

130

131

Definitions.

تعریفات

131

132

Determining whether an employment relationship exists.

ملازمت کے تعلق کی موجودگی کا تعین

132

133

Deliberate misclassification of an employee as a contractor or self-employed.

جان بوجھ کر ملازم کی بطور ٹھیکیدار یا خود مختار کے طور پر غلط درجہ بندی کرنا

133

CHAPTER 3.2 - EMPLOYMENT AGREEMENTS AND TERMINATION

باب 3.2 - ملازمت کے معاہدے اور خاتمہ

A. Employment Agreements

اے۔ ملازمت کے معاہدے

134

Types of employment agreements.

معاہدہ ہائے ملازمت کی اقسام

134

135

Full-time employment.

کل وقتی روزگار

135

136

Part-time employment.

جز وقتی روزگار

136

137

Permanent employment agreement.

مستقل معاہدۂ ملازمت

137

138

Fixed-term employment agreement.

معینہ مدت کا معاہدۂ ملازمت

138

139

Renewal and duration of fixed term employment agreement.

معینہ مدت کے معاہدۂ ملازمت کی تجدید اور مدت

139

140

Persons on fixed term employment agreements not to be treated less favourably than persons on permanent employment agreements.

معینہ مدت کے معاہدۂ ملازمت والے افراد کے ساتھ مستقل معاہدۂ ملازمت والے افراد کی نسبت کم تر سلوک نہیں کیا جائے گا

140

141

Form of employment agreement.

ملازمت کے معاہدے کی صورت

141

142

Contents of employment agreement.

معاہدۂ ملازمت کے مندرجات

142

143

Employment Card.

ملازمت کا کارڈ

143

144

Probationary period.

آزمائشی مدت

144

B. Internal work regulations

بی۔ انٹرنل ورک ریگولیشنز

145

Internal work regulations.

انٹرنل ورک ریگولیشنز

145

C. Termination of employment and disciplinary measures

سی۔ ملازمت کا خاتمہ اور تادیبی اقدامات

146

Termination of employment agreement.

ملازمت کے معاہدے کا خاتمہ

146

147

Prohibited grounds for termination.

روزگار کے خاتمے کے لیے ممنوع وجوہات

147

148

Constructive termination of employment.

جبری برطرفی کے مترادف صورتِ حال

148

149

Termination of employment for redundancy.

ضرورت سے زیادہ ملازمین ہونے کی بنیاد پر ملازمت کا خاتمہ

149

150

Notice of termination of employment agreements.

ملازمت کے معاہدوں کے خاتمے کا نوٹس

150

151

Gross misconduct.

سنگین بدعملی

151

152

Stoppage of work.

کام کی بندش

152

153

Performance of work when employer in breach of obligation to pay remuneration.

آجر کی جانب سےمعاوضے کی عدم ادائیگی پر کام کی انجام دہی

153

154

Principles and procedures for taking disciplinary measures.

تادیبی اقدامات کے اصول اور طریق کار

154

155

Procedure for inquiry and final order.

انکوائری اور حتمی حکم کا طریق کار

155

156

Penalties.

سزائیں

156

157

Appeal against penalties.

سزاؤں کے خلاف اپیل

157

158

Certificate of employment.

روزگار کا سرٹیفیکیٹ

158

D. Gratuity and redundancy payments

ڈی۔ گریجویٹی اور ریڈنڈنسی کی ادائیگیاں

159

Payments on termination of employment.

ملازمت کے خاتمے پر ادائیگیاں

159

160

Capping of gratuity.

گریجویٹی کی حد بندی

160

161

Provident Fund.

پروویڈنٹ فنڈ

161

E. Prohibition of pay secrecy

ای۔ تنخواہ کی رازداری کی ممانعت

162

Prohibition of pay secrecy.

تنخواہ کی رازداری کی ممانعت

162

F. Limitation on post-employment restraints

ایف۔ ملازمت کے بعد پابندیوں کی حدود

163

Restraints of trade and non-compete clauses generally void.

تجارتی پابندیاں اور عدم مسابقت کی شرائط عمومی طور پر کالعدم

163

CHAPTER 3.3 - REMUNERATION

باب 3.3 - معاوضۂ کار

164

Application of Chapter.

باب کا اطلاق

164

A. Determination and payment of remuneration

اے۔معاوضۂ کارکا تعین اور ادائیگی

165

Determination and payment of remuneration.

معاوضۂ کارکا تعین اور ادائیگی

165

166

Prohibition regarding improper payment of remuneration.

معاوضۂ کار کی غیر مناسب ادائیگی کی ممانعت

166

167

Prohibition against paying remuneration at a rate below the minimum rates of wages.

کم از کم اجرتوں کی شرح سے کم معاوضۂ کار کی ادائیگی کی ممانعت

167

B. Deductions

بی۔ کٹوتیاں

168

Permissible deductions from remuneration.

اجرت سے قابل اجازت کٹوتیاں

168

169

Fines.

جرمانے

169

170

Deductions for absence from duty.

ڈیوٹی سے غیر حاضری کے لیے کٹوتیاں

170

171

Deductions for damage or loss.

نقصان یا ضیاع کی صورت میں کٹوتیاں

171

172

Deductions for services rendered.

اداکی گئی سروسز کے لیے کٹوتیاں

172

173

Deductions for recovery of advances.

ایڈوانسز کی وصولی کے لیے کٹوتیاں

173

174

Deductions for payments to co-operative societies, insurance schemes and saving schemes.

کوآپریٹو سوسائٹیز، انشورنس اسکیموں اور بچت اسکیموں کے لیے کٹوتیاں

174

CHAPTER 3.4 - WORKING TIME

باب 3.4 - اوقاتِ کار

175

Application of Chapter.

باب ہذا کا اطلاق

175

176

Normal working hours.

معمول کے کام کے اوقات

176

177

Flexible working arrangements.

لچکدار کام کے انتظامات

177

178

Night work.

رات میں کام

178

179

Overtime.

اوور ٹائم

179

180

Rest break.

وقفہ آرام

180

181

Daily rest periods.

روزانہ وقفہ آرام

181

182

Weekly rest periods.

ہفتہ وار وقفہ آرام

182

183

Public holidays.

عوامی تعطیلات

183

184

Averaging of hours of work.

کام کے اوقات کا اوسط

184

185

Work in excess of hours limits in cases of emergency.

ایمرجنسی کی صورتوں میں اوقاتِ کار کی حد سے زیادہ کام

185

186

Exemption power concerning specific categories of persons.

مخصوص اقسام کے افراد سے متعلق استثنیٰ دینے کا اختیار

186

187

Exemption power concerning specific categories of establishments.

مخصوص اقسام کے اداروں سے متعلق استثنیٰ دینے کا اختیار

187

188

Notice of working hours.

کام کے اوقات کا نوٹس

188

189

Opening and closing hours of shops.

دکانوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات

189

190

Shift work.

شفٹ ورک

190

191

Control of overlapping shifts.

اوورلیپنگ شفٹس کا کنٹرول

191

CHAPTER 3.5 - LEAVE OTHER THAN PARENTAL LEAVE

باب 3.5 - والدین کی رخصت کے علاوہ دیگر رخصتیں

192

Annual leave.

سالانہ رخصت

192

193

Sick leave.

بیماری کی رخصت

193

194

Quarantine leave.

قرنطینہ کی رخصت

194

195

Casual leave.

اتفاقیہ رخصت

195

196

Iddat leave.

عدت کی رخصت

196

CHAPTER 3.6 - PARENTAL LEAVE

باب 3.6 - والدین کی رخصت

197

Maternity leave.

زچگی کی رخصت

197

198

Paternity leave.

پیٹرنٹی رخصت

198

CHAPTER 3.7 - SHOP STEWARDS AND WORK COUNCILS

باب 3.7 - شاپ اسٹیورڈز اور ورکس کونسلز

199

Shop steward.

شاپ اسٹیورڈز

199

200

Works Council.

ورکس کونسل

200

CHAPTER 3.8 - EMPLOYMENT AGENCIES

باب 3.8 - ایمپلائمنٹ ایجنسیاں

201

Application of this Chapter.

باب ہذا کا اطلاق

201

A. Registration of employment agencies

اے۔ ایمپلائمنٹ ایجنسیوں کی رجسٹریشن

202

Issuance, renewal, cancellation and suspension of registration.

رجسٹریشن کا اجرا، تجدید، منسوخی اور معطلی

202

203

Protection of personal information.

ذاتی معلومات کا تحفظ

203

B. Recruitment

بی۔ بھرتی

204

Employment agencies engaged in recruitment.

بھرتی کرنےوالی ایمپلائمنٹ ایجنسیز

204

C. Supply of workers to a third party

سی۔ تیسرے فریق کو ورکرز کی فراہمی

205

Persons engaged through contractor not to perform core operations.

ٹھیکیدار کے ذریعے منسلک افراد کو بنیادی آپریشنز پر کام کرنے کی ممانعت

205

206

Contracts for supplying workers to be in writing.

ورکرز کی فراہمی کے معاہدے تحریری شکل میں ہونا

206

207

Workers provided by employment agencies and other contractors to be employees.

ایمپلائمنٹ ایجنسیز اور دیگر ٹھیکیداروں کے فراہم کردہ ورکرز کا ملازم ہونا

207

208

Worker provided to a principal not to be misclassified.

پرنسپل کو فراہم کردہ ورکرز کی غلط درجہ بندی نہ کی جائے

208

209

Where employees of the employment agency are deemed to be employees of the principal.

وہ صورتیں جب ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ملازمین کو پرنسپل کے ملازمین تصور کیا جائے گا

209

210

Rights of employees engaged by or through employment agencies.

ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ذریعے منسلک یا بھرتی شدہ ملازمین کے حقوق

210

211

Right of contracted workers to establish and join trade union.

معاہدہ شدہ ورکرز کا ٹریڈ یونین قائم کرنے اور اس میں شمولیت کا حق

211

212

Power to make rules.

قواعد وضع کرنے کا اختیار

212

CHAPTER 3.9 - OBLIGATIONS OF PRINCIPALS TO CERTAIN EMPLOYEES

باب 3.9 - بعض ملازمین کے حوالے سے پرنسپلز کی ذمہ داریاں

213

Liability of principal where contractor fails to pay remuneration to employees.

ٹھیکیدار کے ملازمین کو اجرت کی عدم ادائیگی کی صورت میں پرنسپل کی ذمہ داری

213

214

Occupational health and safety responsibilities of principals and contractors.

پرنسپلز اور ٹھیکیداروں کی پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق ذمہ داریاں

214

PART IV - SPECIFIC CATEGORIES OF WORKERS

حصہ چہارم - ورکرز کی مخصوص اقسام

CHAPTER 4.1 - APPLICATION AND DEFINITIONS

باب 4.1 - اطلاق اور تعریفات

215

Application of Part IV.

حصہ چہارم کا اطلاق

215

CHAPTER 4.2 - AGRICULTURE WORKERS

باب 4.2 - زرعی ورکرز

216

Definitions.

تعریفات

216

217

Rights of agricultural workers.

زرعی ورکرز کے حقوق

217

CHAPTER 4.3 - CONSTRUCTION WORKERS

باب 4.3 - تعمیراتی ورکرز

218

Definitions.

تعریفات

218

219

Prohibition on employment.

ملازمت پر ممانعت

219

220

Written agreements.

تحریری معاہدے

220

CHAPTER 4.4 - DOMESTIC WORKERS

باب 4.4 - گھریلو ورکرز

221

Definitions.

تعریفات

221

222

Prohibition on employment.

گھریلو ملازمت پر ممانعت

222

223

Rights and entitlements of domestic workers.

گھریلو ورکرز کے حقوق اور استحقاقات

223

224

Written agreements.

تحریری معاہدے

224

225

Restoration of possession of property to domestic workers.

گھریلو ورکرز کو جائیداد کی واگزاری

225

CHAPTER 4.5 - HOME-BASED WORKERS

باب 4.5 - گھر پر مبنی ورکرز

226

Definitions.

تعریفات

226

227

Prohibition of employment children.

بچوں کی ملازمت کی ممانعت

227

228

Rights and entitlements of home-based workers.

گھر پر مبنی ورکرز کے حقوق اور استحقاقات

228

CHAPTER 4.6 - INTERNS AND APPRENTICES

باب 4.6 - انٹرنز اور اپرنٹسز

229

Definitions.

تعریفات

229

230

Rights and entitlements.

حقوق اور استحقاقات

230

231

Internship agreement.

انٹرن شپ معاہدہ

231

232

Termination of internship.

انٹرن شپ کا خاتمہ

232

233

Treatment of apprentices under the Code.

اپرنٹسز کے ساتھ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت سلوک

233

CHAPTER 4.7 - PLATFORM WORKERS

باب 4.7 - پلیٹ فارم ورکرز

234

Definitions.

تعریفات

234

235

Obligation to provide a contract.

معاہدہ فراہم کرنے کی ذمہ داری

235

236

No engagement of children.

بچوں کی ملازمت پر پابندی

236

237

Right to freedom of association.

انجمن سازی کی آزادی کا حق

237

238

Working conditions of platform workers.

پلیٹ فارم ورکرز کے کام کے حالات

238

239

Digital labour platforms’ responsibilities regarding occupational safety and health.

پیشہ ورانہ تحفظ و صحت سے متعلق ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز کی ذمہ داریاں

239

240

Duties of platform workers.

پلیٹ فارم ورکرز کی ذمہ داریاں

240

241

Transparency regarding automated monitoring and decision-making systems.

خودکار نگرانی اور فیصلہ سازی کے نظام سے متعلق شفافیت

241

242

Data portability.

ڈیٹا کی منتقلی

242

243

Maintenance of record.

ریکارڈ کی مینٹی نینس

243

CHAPTER 4.8 - ROAD TRANSPORT WORKERS

باب 4.8 - روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز

244

Definitions.

تعریفات

244

245

Age limit.

عمر کی حد

245

246

Employment agreement.

معاہدۂ ملازمت

246

247

Hours of work and rest.

کام کے اوقات اور آرام

247

248

Restriction on cumulative hours of work.

مجموعی اوقات کارپر پابندی

248

249

Leave.

رخصت

249

250

Other benefits and privileges.

دیگر فوائد اور مراعات

250

CHAPTER 4.9 - DISPUTE RESOLUTION FOR WORKERS COVERED BY THIS PART

باب 4.9 - اس حصہ کے تحت آنے والے ورکرز کے لیے تنازعات کا حل

251

Disputes in relation to workers covered in this Part.

اس حصے کے تحت آنے والے ورکرز سے متعلق تنازعات

251

PART V - LABOUR WELFARE

حصہ پنجم - ورکرز کی فلاح و بہبود

CHAPTER 5.1 - APPLICATION

باب 5.1 - اطلاق

252

Application of Chapter 5.

باب 5 کا اطلاق

252

CHAPTER 5.2 - PROFIT BONUS

باب 5.2 - منافع بونس

253

Profit bonus.

منافع بونس

253

CHAPTER 5.3 - COMPANIES' PROFITS WORKERS' PARTICIPATION FUND

باب 5.3 - کمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ

254

Definitions.

تعریفات

254

255

Establishment of Fund.

فنڈ کا قیام

255

256

Management of the Fund.

فنڈ کا انتظام و انصرام

256

257

Power to call for information.

معلومات طلب کرنے کا اختیار

257

258

Settlement of disputes, etc.

تنازعات کا تصفیہ وغیرہ

258

259

Delegation of power.

اختیارات کی تفویض

259

260

Power to amend Schedule 5.

شیڈول 5 میں ترمیم کا اختیار

260

CHAPTER 5.4 - GROUP INCENTIVE SCHEME

باب 5.4 - گروپ انسینٹو سکیم

261

Group incentive scheme.

گروپ انسینٹو سکیم

261

CHAPTER 5.5 - COMPULSORY GROUP INSURANCE

باب 5.5 - لازمی گروپ انشورنس

262

Compulsory Group Insurance.

لازمی گروپ انشورنس

262

CHAPTER 5.6 - WORKPLACE COMPENSATION

باب 5.6 - کام کی جگہ کا معاوضہ

263

Definitions.

تعریفات

263

264

Employer’s liability for compensation.

معاوضہ کے لیے آجر کی ذمہ داری

264

265

Amount of compensation.

معاوضے کی رقم

265

266

Method of calculating remuneration.

معاوضۂ کار کے حساب کا طریقہ

266

267

Form of application.

درخواست کانمونہ

267

268

Review.

نظرثانی

268

269

Commutation of half-monthly payments.

آدھی ماہانہ ادائیگیوں کی یکمشت رقم میں تبدیلی

269

270

Distribution of compensation.

معاوضے کی تقسیم

270

271

Compensation not to be assigned, attached or charged.

معاوضہ ناقابل منتقلی، ناقابل ضبطی یا ناقابل دعویٰ

271

272

Notice and claim.

نوٹس اور دعویٰ

272

273

Arrangements for transfer of money paid as compensation.

معاوضے کے طور پر ادا شدہ رقم کی منتقلی کے انتظامات

273

274

Power to require from employers statements regarding fatal accidents.

مہلک حادثات سے متعلق آجر سے بیانات طلب کرنے کا اختیار

274

275

Reports of fatal accident.

مہلک حادثے کی رپورٹیں

275

276

Officer authorized may refer cases for payment of compensation.

مجاز افسر معاوضے (زرِتلافی) کی ادائیگی کے لیے مقدمات ریفر کر سکتا ہے

276

277

Medical examination.

طبی معائنہ

277

278

Liability of principals.

پرنسپلز کی ذمہ داری

278

279

Insolvency of employer.

آجر کا دیوالیہ پن

279

280

Returns as to compensation.

معاوضے کے بارے میں گوشوارے

280

281

Contracting out.

حقِ معاوضہ سے دستبرداری کا معاہدہ کالعدم

281

282

Proof of age.

عمر کا ثبوت

282

283

Registration of agreements.

معاہدات کی رجسٹریشن

283

284

Effect of failure to register agreement.

معاہدے کے اندراج میں ناکامی کا اثر

284

CHAPTER 5.7 - INFRASTRUCTURE FACILITIES

باب 5.7 - انفراسٹرکچر سہولیات

285

Definitions.

تعریفات

285

286

Establishment of fair price shops.

فیئر پرائس شاپس کا قیام

286

287

Day-care and feeding facilities.

ڈے کیئر اور بچوں کو دودھ پلانے کی سہولیات

287

288

Labour camps for infrastructure projects.

بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے لیبر کیمپ

288

289

Power to make rules.

قواعد وضع کرنے کا اختیار

289

PART VI

حصہ ششم

CHAPTER 6.1 - DISPUTE RESOLUTION BODIES

باب 6.1 - تنازعات کے حل کے ادارے

A. Mediators

اے۔ میڈی ایٹر (مفاہمت کار)

290

Mediators.

میڈی ایٹرز (مفاہمت کار)

290

B. Conciliators and Board of Conciliators

بی۔ مصالحت کار اور بورڈ آف کنسیلی ایٹرز

291

Conciliators.

مصالحت کار

291

C. Arbitrators

سی۔ ثالثین

292

Appointment of arbitrators.

ثالثین کی تقرری

292

D. Payment of Wages Authority

ڈی۔ اجرت کی ادائیگی کی اتھارٹی(پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی)

293

Payment of Wages Authority.

اجرت کی ادائیگی کی اتھارٹی (پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی)

293

E. Workplace Compensation Commissioner

ای۔ کام کی جگہ کے معاوضے (زرِتلافی) کا کمشنر (ورک پلیس کمپنسیشن کمشنر)

294

Appointment and powers of Commissioner.

کمشنر کی تقرری اور اختیارات

294

F. Dispute resolution committee for special categories of workers

ایف۔ ورکرز کی مخصوص اقسام کے لیے تنازعات کے حل کی کمیٹی

295

Dispute Resolution Committee for special categories of workers.

مخصوص اقسام کے ورکرز کے لیے تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹی

295

296

Powers of the dispute resolution committees.

تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹیوں کے اختیارات

296

CHAPTER 6.2 - THE LABOUR COURT AND LABOUR APPELLATE TRIBUNAL

باب 6.2 - لیبر کورٹ اور لیبر اپیلیٹ ٹربیونل

A. Labour Court

اے۔ لیبر کورٹ

297

Labour Court.

لیبر کورٹ

297

298

Procedure of Labour Court.

لیبر کورٹ کا طریق کار

298

299

Powers of Labour Court.

لیبر کورٹ کے اختیارات

299

300

Power to make remedial orders.

تدارکی احکامات جاری کرنے کا اختیار

300

301

Commencement and conclusion of Labour Court proceedings.

لیبر کورٹ کی کارروائی کا آغاز اور اختتام

301

302

Form of awards and decisions of Labour Court.

لیبر کورٹ کے ایوارڈز اور فیصلوں کی صورت

302

303

Right of appeal to Tribunal.

ٹربیونل میں اپیل کا حق

303

B. Labour Appellate Tribunal

بی۔ لیبر اپیلیٹ ٹربیونل

304

Labour Appellate Tribunal.

لیبر اپیلٹ ٹربیونل

304

CHAPTER 6.3 - CONSULTATIVE AND REGULATORY AGENCIES

باب 6.3 - مشاورتی اور ریگولیٹری ادارے

A. Provincial Tripartite Consultative Council

اے۔ صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل

305

Establishment of Provincial Tripartite Consultative Council.

صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کا قیام

305

306

Functions of Provincial Tripartite Consultative Council.

صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کے فرائض

306

B. Provincial and District Vigilance Committees on Forced, Bonded Labour, and Trafficking in Persons

بی۔ جبری و بانڈڈ لیبر اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق صوبائی اور ضلعی نگران کمیٹیاں

307

Provincial Vigilance Committee.

صوبائی نگران کمیٹی

307

308

District Vigilance Committees.

ضلعی نگران کمیٹیاں

308

C. Provincial Committee on Child Labour

سی۔ چائلڈ لیبر پر صوبائی کمیٹی

309

Provincial Committee on Child Labour.

چائلڈ لیبر پر صوبائی کمیٹی

309

D. Equal Employment Opportunity Office

ڈی۔ مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر (ایکول ایمپلائمنٹ اپرچونٹی آفس)

310

Equal employment opportunity office.

مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر

310

E. Occupational Health and Safety Council

ای۔ پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کونسل

311

Establishment of Occupational Safety and Health Council.

پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کونسل کا قیام

311

312

Functions and powers of the Council.

کونسل کے فرائض اور اختیارات

312

313

Meetings and quorum of the Council.

کونسل کےاجلاس اور کورم

313

F. Registrar of Trade Unions

ایف۔ ٹریڈ یونینز کا رجسٹرار

314

Registrar of trade unions.

ٹریڈ یونینز کا رجسٹرار

314

315

Powers and functions of a Registrar.

رجسٹرار کے اختیارات اور فرائض

315

G. Minimum Wage Board

جی۔ کم از کم اجرت بورڈ

316

Establishment of Minimum Wages Board.

کم از کم اجرت بورڈ کا قیام

316

317

Recommendation of rate of minimum wages.

کم از کم اجرت کی شرحوں کی سفارش

317

318

Power to declare minimum rates of wages.

کم از کم اجرت کےریٹس کے تعین کا اختیار

318

319

Periodical review of minimum rates of wages.

کم از کم اجرت کےریٹس کا دورانیہ وار جائزہ

319

320

Public servants.

سرکاری ملازمین

320

H. Punjab Companies' Profits Workers' Participation Committee

ایچ۔ پنجاب کمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن کمیٹی

321

The Punjab Companies’ Profits Workers’ Participation Committee.

پنجاب کمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن کمیٹی

321

CHAPTER 6.4 - LABOUR INSPECTION

باب 6.4 - لیبر انسپیکشن

322

Appointment of Inspectors.

انسپکٹرز کی تقرری

322

323

Functions of Inspector.

انسپکٹر کے فرائض

323

324

Enforcement plans.

انفورسمنٹ پلان

324

325

Powers of an Inspector.

انسپکٹر کے اختیارات

325

326

Sealing of establishment.

ادارے کی مہر بندی

326

327

Information of presence.

موجودگی کی اطلاع

327

328

Free access and assistance to the Inspector.

انسپکٹر کو آزادانہ رسائی اور معاونت

328

329

Assistance to small and micro enterprises.

چھوٹے اور خرد کاروباروں کی معاونت

329

330

Annual inspection report.

سالانہ معائنہ رپورٹ

330

331

Call for statistics.

اعداد و شمار کا مطالبہ

331

PART VI-B - DISPUTE RESOLUTION, REVIEW OF DECISIONS AND COMPLIANCE

حصہ ششم-ب - تنازعات کا حل، فیصلوں کا جائزہ اور تعمیل

CHAPTER 6.5 - DISPUTE PREVENTION AND RESOLUTION

باب 6.5 - تنازعات کی روک تھام اور حل

332

Definitions.

تعریفات

332

333

Representation of parties.

فریقین کی نمائندگی

333

A. Rights disputes

اے۔ حقوق کے تنازعات

334

Civil courts to have no jurisdiction in relation to rights disputes.

حقوق کے تنازعات میں سول عدالتوں کا اختیار نہ ہونا

334

335

Application by a worker.

ورکرکی درخواست

335

336

Reference of rights dispute to a mediator.

حقوق کے تنازعے کو میڈی ایٹر (مفاہمت کار)کے پاس بھیجنا

336

337

Application by registered trade union, collective bargaining agent or employer in relation to rights disputes.

حقوق کے تنازعات کے سلسلے میں رجسٹرڈ ٹریڈ یونین، اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ یا آجر کی درخواست

337

338

Special procedure for recovering under payments and non-payments.

کم ادائیگی اور عدم ادائیگی کی وصولی کے لیے خصوصی طریق کار

338

339

Special procedure for disputes concerning employee compensation.

ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات کا خصوصی طریق کار

339

340

Venue of proceedings and transfer in relation to disputes concerning employee compensation.

کارروائیوں کی جگہ اور منتقلی، ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات

340

341

Appearance of parties in relation to disputes concerning employee compensation.

ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات میں فریقین کی پیشی

341

342

Method of recording evidence in relation to disputes concerning employee compensation.

ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات میں شہادت درج کرنے کا طریق کار

342

343

Withholding of certain payments pending decision of appeal.

اپیل کے فیصلے تک بعض ادائیگیوں کو روکنا

343

344

Special procedure for certain workers in Part IV.

حصہ چہارم کے مخصوص ورکرز کے لیے خصوصی طریق کار

344

345

Finality and binding effect of decisions in relation to special procedures.

خصوصی طریق کار کے تحت کیے گئے فیصلوں کی حتمیت اور پابندی

345

346

Appeals in relation to special procedures.

خصوصی طریق کار سے متعلق اپیلیں

346

347

Interpretation of collective agreement and awards.

اجتماعی معاہدے اور ایوارڈز کی تشریح

347

348

Redressal of common grievance.

مشترکہ شکایت کا ازالہ

348

B. Industrial disputes

بی۔ صنعتی تنازعات

349

Raising of industrial disputes.

صنعتی تنازعہ اٹھانا

349

350

Commencement and conclusion of conciliation proceedings.

مصالحتی کارروائیوں کا آغاز اور اختتام

350

351

Proceedings before conciliator.

مصالحت کار کے روبرو کارروائیاں

351

352

Arbitration by consent.

باہمی رضامندی سے ثالثی

352

353

Adjudication of industrial disputes by the Labour Court by consent.

لیبر کورٹ کے ذریعے صنعتی تنازعہ کا باہمی رضامندی سے تصفیہ

353

354

Adjudication of industrial disputes by the Labour Court.

لیبر کورٹ کے ذریعے صنعتی تنازعہ کا تصفیہ

354

355

Adjudication of industrial disputes by the Labour Court or an arbitrator.

صنعتی تنازعہ کا لیبر کورٹ یا ثالث کے ذریعے تصفیہ

355

356

Adjudication of industrial disputes by the Labour Court.

صنعتی تنازعہ کا لیبر کورٹ کے ذریعے تصفیہ

356

357

Effect of awards pertaining to industrial disputes.

صنعتی تنازعات سے متعلق فیصلوں کے اثرات

357

358

Effective date of awards pertaining to industrial disputes.

صنعتی تنازعہ سے متعلق ایوارڈز کے نافذ ہونے کی تاریخ

358

359

Conditions of service to remain unchanged while proceedings are pending.

جب کارروائی زیر التواء ہو تو ملازمت کی شرائط میں تبدیلی کی ممانعت

359

C. Recovery of money due

سی۔ واجب الادا رقم کی وصولی

360

Recovery of money due from an employer under collective agreement or award.

اجتماعی معاہدے یا ایوارڈ کے تحت آجر سے واجب الادا رقم کی وصولی

360

CHAPTER 6.6 - APPEALS

باب 6.6 - اپیلیں

361

Appeals against decisions of the registrar of trade unions.

ٹریڈ یونینز کے رجسٹرار کے فیصلوں کے خلاف اپیل

361

362

Appeal against the decisions of Inspector.

انسپکٹر کے فیصلوں کے خلاف اپیل

362

363

Appeal against decisions of the Chief Inspector.

چیف انسپکٹر کے فیصلوں کے خلاف اپیل

363

CHAPTER 6.7 - PENALTIES AND PROSECUTIONS

باب 6.7 - سزائیں اور فوجداری کارروائیاں

A. General

اے۔ عمومی

364

Principles applicable to this Chapter.

باب ہذا سے متعلق نافذ اصول

364

365

Definition of penalty unit.

سزا کی اکائی (پینلٹی یونٹ )کی تعریف

365

B. Jurisdiction and standing

بی۔ دائرہ اختیار اور حقِ دعویٰ

366

Jurisdiction of Court.

عدالت کا دائرہ اختیار

366

367

Standing in relation to fines and imprisonment.

جرمانوں اور قید کے سلسلے میں حقِ دعویٰ

367

368

Contraventions to be tried summarily.

خلاف ورزیوں کی سمری سماعت (سمری ٹرائل)

368

C. Penalties not involving imprisonment

سی۔ ایسی سزائیں جن میں قید شامل نہیں

369

Applications for orders in relation to penalties not involving imprisonment.

ایسی سزاؤں کے لیے درخواستیں جن میں قید شامل نہ ہو

369

370

Standard of proof for penalties in this section.

اس ذیلی باب میں سزاؤں کے لیے ثبوت کا معیار

370

371

Contraventions relating to notices and record keeping.

نوٹس اور ریکارڈ رکھے جانے سے متعلق خلاف ورزیاں

371

372

Contraventions relating to inspection.

معائنہ سے متعلق خلاف ورزیاں

372

373

Obstruction of Inspector.

انسپکٹر کی راہ میں رکاوٹ

373

374

Penalty for non-issuance of employment agreements.

معاہدۂ ملازمت جاری نہ کرنے پر جرمانہ

374

375

Discrimination.

امتیازی سلوک

375

376

Penalty for embezzlement or misappropriation of funds by trade union official.

ٹریڈ یونین عہدیدار کی جانب سے فنڈز میں خورد برد یا غبن پر سزا

376

377

Unfair labour practices.

غیر منصفانہ رویّے

377

378

Breach of collective agreement.

اجتماعی معاہدے کی خلاف ورزی

378

379

Safety and health breaches.

سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق خلاف ورزیاں

379

380

Payment of remuneration at a rate below the minimum rates of wages.

کم از کم اجرت سے کممعاوضۂ کارکی ادائیگی

380

381

Other wage-related contraventions.

اجرت سے متعلق دیگر خلاف ورزیاں

381

382

Contraventions relating to working time and leave.

کام کے اوقات اور رخصت سے متعلق خلاف ورزیاں

382

383

Contraventions with respect to employment agencies.

روزگار کی ایجنسیز سے متعلق خلاف ورزیاں

383

384

Contravention relating to domestic workers.

گھریلو ورکرز سے متعلق خلاف ورزیاں

384

385

Contravention relating to digital platform workers.

ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز سے متعلق خلاف ورزیاں

385

386

Contravention relating to Workers’ Participation Funds.

ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ سے متعلق خلاف ورزیاں

386

387

Contraventions relating to infrastructure facilities.

ورکرز کے لیے انفراسٹرکچرکی سہولیات سے متعلق خلاف ورزیاں

387

388

Failure to comply with a Labour Court decision in a timely manner.

لیبر کورٹ کے فیصلے کی بروقت تعمیل میں ناکامی

388

389

Prohibition against victimization.

انتقامی کارروائی کی ممانعت

389

390

Penalty for factories, shops and establishments.

فیکٹریوں، دکانوں اور اداروں کے لیے جرمانے

390

391

Notice of commencement of work.

کام شروع کرنے کے نوٹس کی خلاف ورزی

391

392

Other contraventions not specified.

دیگر غیر متعین خلاف ورزیاں

392

393

Sexual harassment at work.

کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی

393

394

Summary of penalties which do not involve imprisonment.

ایسی سزاؤں کا خلاصہ جن میں قید شامل نہیں

394

D. Penalties which may involve imprisonment

ڈی۔ ایسی سزائیں جن میں قید شامل ہو سکتی ہے

395

Applications for orders in relation to penalties which may involve imprisonment.

ایسی سزاؤں سے متعلق احکامات کے لیے درخواستیں جن میں قید شامل ہو سکتی ہے

395

396

Standard of proof for penalties in this section.

اس ذیلی باب میں سزاؤں کے لیے ثبوت کا معیار

396

397

Obstruction of, or non-compliance with a direction of an inspector in certain serious cases.

انسپکٹر کی راہ میں رکاوٹ یا سنگین معاملات میں انسپکٹر کے حکم کی نافرمانی

397

398

Bonded, compulsory or forced labour.

بانڈڈ، لازمی یا جبری مشقت

398

399

Child labour.

چائلڈلیبر

399

400

Safety and health contraventions with dangerous results.

حفاظتی اور صحت سے متعلق خلاف ورزیاں جو سنگین نتائج کا باعث بنیں

400

401

Industrial relations assaults.

صنعتی تعلقات میں تشدد

401

402

Summary of penalties which may involve imprisonment.

ایسی سزاؤں کا خلاصہ جن میں قید شامل ہو سکتی ہے

402

E. Other orders in relation to contraventions

ای۔ خلاف ورزیوں سے متعلق دیگر احکامات

403

Orders in relation to persons who abet a contravention of the Code.

پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزی میں معاونت کرنے والے افراد کے بارے میں احکامات

403

404

Contraventions by companies.

کمپنیوں کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیاں

404

405

Additional orders.

اضافی احکامات

405

F. Confidential information

ایف۔ خفیہ معلومات

406

Certain matters to be kept confidential.

مخصوص معلومات کو خفیہ رکھنا

406

PART VII - GENERAL PROVISIONS

حصہ ہفتم - عمومی دفعات

A. Registration of Establishments

اے۔ اداروں کی رجسٹریشن

407

Factory registration certificates.

فیکٹری رجسٹریشن سرٹیفکیٹس

407

408

Registration certificate for establishments.

اداروں کے لیے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ

408

409

Notice to Inspector before commencement of work.

کام شروع کرنے سے قبل انسپکٹر کو اطلاع دینا

409

410

Regulation of seasonal establishments.

موسمی اداروں کا انضباط

410

B. Collection of Statistics

بی۔ اعداد و شمار کا جمع کرنا

411

Collection of statistics.

اعدادوشمار کا جمع کرنا

411

C. Data Protection

سی۔ ڈیٹا کا تحفظ

412

Data protection.

ڈیٹا کا تحفظ

412

D. Due Diligence and Fair Procurement

ڈی۔ مستعدی اور منصفانہ خریداری

413

The due diligence clause.

مستعدی کی شق

413

414

The fair employment standards clause.

منصفانہ ملازمت کے معیارات کی شق

414

E. Other Provisions

ای۔ دیگر دفعات

415

Indemnity.

تحفظ (انڈیمنٹی)

415

416

Contracting out.

حقوق سے دستبرداری کا معاہدہ کالعدم

416

417

Validity of acts.

اقدامات کی قانونی حیثیت

417

418

Officers to be public servants.

افسران کا سرکاری ملازم ہونا

418

419

Display at workplace.

کام کی جگہ پر ڈسپلے

419

420

Powers to collect information.

معلومات جمع کرنے کا اختیار

420

421

Limitation for records.

ریکارڈز کی حد بندی

421

422

Power to make rules.

قواعد بنانے کا اختیار

422

423

Amendment of Schedules.

شیڈولز میں ترمیم

423

424

Power to issue directions.

ہدایات دینے کا اختیار

424

425

Power to issue instructions and guidelines.

ہدایات اور رہنما اصول جاری کرنے کا اختیار

425

426

Removal of difficulties.

مشکلات کا ازالہ

426

427

Code to override other laws.

پنجاب لیبر کوڈ کا دیگر قوانین پر غالب آنا

427

428

Limitation.

حد بندی

428

429

Provision of certified copies.

تصدیق شدہ نقول کی فراہمی

429

430

Power to seek assistance from other agencies.

دیگر اداروں سے معاونت حاصل کرنے کا اختیار

430

431

Maintenance of record and submission of returns.

ریکارڈز کی دیکھ بھال اور ریٹرنز کی جمع کرانا

431

432

Extension of certain provisions of the Code.

پنجاب لیبر کوڈ کے بعض احکامات کی توسیع

432

433

Power to exempt.

استثنا دینے کا اختیار

433

434

Provisions relating to reduced rates for small establishments.

چھوٹے اداروں کے لیے کم شدہ نرخوں سے متعلق احکامات

434

435

Repeal and savings.

منسوخی اور تحفظات

435

SCHEDULE 1

شیڈول 1

SCHEDULE 2

شیڈول 2

SCHEDULE 3

شیڈول 3

SCHEDULE 4

شیڈول 4

SCHEDULE 5

شیڈول 5

SCHEDULE 6

شیڈول 6

SCHEDULE 7

شیڈول 7

SCHEDULE 8

شیڈول 8

SCHEDULE 9

شیڈول 9

حصہ اول

اطلاق اور تعریفات

باب 1.1 – عنوان، وسعت، آغازنفاذ اور نافذ العمل

1۔ مختصر عنوان،وسعت اور آغاز نفاذ۔(1) قانونِ ہذا کوپنجاب لیبر کوڈ 2026 سے موسوم کیا جائے گا۔(2) یہ پورے پنجاب پر نافذ العمل ہوگا۔(3) یہ اس تاریخ سے نافذ العمل ہوگا جو حکومت سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن مقرر کرے گی۔

2۔ اطلاق اور آپریشن کا خلاصہ:۔(1) اس کوڈ کا اطلاق تمام ورکرز، آجروں، پرنسپلز، قابضین (آکو پائیرز)، اور تمام شعبہ جات میں پنجاب کے تمام کام کی جگہوں پرہوگا، سوائے مندرجہ ذیل کے:(اے) سول سرونٹس، جو سول سرونٹس ایکٹ پنجاب 1974 (8بابت 1974) کے تحت ریگولیٹ کیے جاتے ہیں؛(بی) پاکستان کی دفاعی سروسز اور وہ سروسز یا تنصیبات جو دفاعی سروسز سے مکمل طور پر منسلک یا متعلقہ ہوں؛ اور(سی) پولیس سروس، بشمول قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سویلین آرمڈ فورسز۔

(2) یہ کوڈپنجاب میں کام کرنے والے تمام اداروں پر لاگو ہوگا۔(3) یہ کوڈ حکومت کی ملکیتی کام کی جگہوں اور پنجاب کی حدود میں موجود دیگر تمام کام کی جگہوں پر بھی لاگو ہوگا۔

3۔ اس کوڈ کو معاہدے یا معاہداتی شرائط سے خارج نہیں کیا جا سکتا:۔(1) کسی بھی معاہدے، انٹرنل ورک ریگولیشنز، اجتماعی معاہدے یا کسی دیگر معاہدے کی وہ شق، خواہ وہ اس کوڈ کے نفاذ سے پہلے یا بعد میں بنائی گئی ہو، اس حد تک کالعدم ہوگی جس حد تک اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ:(اے) اس کوڈ کے کسی حکم کے اطلاق کو خارج یا محدود کرے؛ اور

(بی) کسی فرد کو اس کوڈ کے تحت قائم کردہ تنازعات کے حل کے فورم کے روبرو کارروائی کرنے سے روکے۔

(2) ایسا کوئی معاہدہ، انٹرنل ورک ریگولیشنز، اجتماعی معاہدہ یا دیگر معاہدہ، خواہ وہ اس کوڈ کے نفاذ سے پہلے یا بعد میں ہو، جس کے تحت کوئی ورکراس کوڈ کے تحت دیا گیا کوئی حق ترک کرتا ہے، وہ اس حد تک کالعدم اور باطل ہوگا جس حد تک اس کا مقصد اس ورکر کو مذکورہ حق سے محروم کرنا ہو۔

(3) اس کوڈمیں کچھ بھی ایسا مذکورنہیں ہے جو فریقین کو ایسے معاہدے، انٹرنل ورک ریگولیشنز، اجتماعی معاہدے، یا دیگر معاہدے کرنے سے روکے جس میں اس کوڈ کی شرائط سے زیادہ فائدہ مند شرائط شامل ہوں۔

باب 1.2 – کلیدی تعریفات اور قانونی ذمہ داریاں

4۔ "ورکر" اور "اجرت" کے معنی:۔(1) اس کوڈ کے مقاصد کے لیے"ورکر" سے مراد :(اے) وہ شخص ہےجو بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر کسی آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر)کے لیے کام سرانجام دینے کی غرض سے انگیج کیا گیا ہو؛ یا(بی)وہ شخص جو بصورتِ دیگر خودمختار حیثیت میں کام کرتا ہو (سیلف ایمپلائڈ)۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت ایک شخص "ورکر" تصور ہوگا، قطعِ نظر اس کے کہ انگیجمنٹ کی معاہداتی بنیاد کیا ہے، اور اس میں درج ذیل شامل ہوں گے:(اے) ملازم؛(بی)ٹھیکیدار یا ذیلی ٹھیکیدار (کنٹریکٹر یا سب کنٹریکٹر)؛(سی) کسی ٹھیکیدار یا ذیلی ٹھیکیدار کا ملازم(کنٹریکٹر یا سب کنٹریکٹر کا ملازم)؛(ڈی)ایجنسی میں یا معاہدہ پر کام کرنے والاورکر(ایجنسی ورکر یا کنٹریکٹ ورکر)؛(ای) خود روزگار ورکر(سیلف ایمپلائڈ)؛(ایف) اپرنٹس یا انٹرن؛(جی) عارضی یا وقتی طور پر کام کرنے والا شخص؛(ایچ) وہ شخص جو ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کے ذریعے کام پر رکھا گیا ہو؛(آئی) رضاکار (صرف حصہ دوم اور حصہ ششم کے حوالے سے)۔

(3) ذیلی دفعہ (1) کے تحت ایک شخص "ورکر" تصور ہوگا، خواہ اس کا کام کسی بھی نوعیت کا ہو، اور کام کی تعریف میں درج ذیل شامل ہوں گے مگر انہی تک محدود نہ ہوں گے:(اے) ہنر مند، غیر ہنر مند، ذہنی، کلیریکل، پیشہ ورانہ، انتظامی، اداراتی اور ہر نوعیت کا کام؛(بی)آن لائن کام یا ایسا کام جو الیکٹرانک ذرائع یا الگورتھم کے ذریعے انجام دیا جائے یا کروایا جائے؛(سی) رسمی و غیر رسمی شعبہ جات میں کام؛(ڈی)تعمیراتی کام؛(ای) گھریلو کام (ڈومیسٹک ورک)؛(ایف) ہوم بیسڈ ورک؛(جی) زرعی کام (ایگریکلچرل ورک)۔

(4) کسی شخص کی شہریت سے قطع نظر، وہ "ورکر" تصور ہوگا۔(5) حصہ ششم کے مقاصد کے لیے، وہ شخص بھی "ورکر" ہوگا جس کا معاہدہ ختم کیا جا چکا ہو۔(6) اس کوڈکے تحت "اجرت" سے مراد ہر وہ معاوَضہ ہے جو مالی صورت میں قابل اظہار ہو، اور جو ملازمت کے صریح یا ضمنی معاہدے کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں کسی ملازم شخص کو اس کی ملازمت یا ایسی ملازمت میں کیے گئے کام کے عوض اداکیاجانا ہو، تاہم اس میں درج ذیل شامل نہیں ہوں گے:(اے) آجر کی جانب سے سماجی تحفظ یا پنشن/پراویڈنٹ فنڈکی مد میں کی جانے والی ادائیگی؛(بی)سفری الاؤنس یا کسی سفری رعایت کی مالیت؛(سی) وہ رقم جو ملازم کو ملازمت سے متعلق خاص اخراجات کی تلافی کے لیے دی جائے؛(ڈی)کوئی قانونی بونس یا دیگر کسی مد میں دی گئی رقم؛(ای) ملازمت کے خاتمے پر قابلِ ادائیگی کوئی گریجویٹی؛(ایف) کوئی انعام، انعامی رقم، یا کسی خاص موقع یا کارکردگی پر دی گئی سہولت یا اس کا نعم البدل۔

5۔ "ملازم"کے معنی:۔(1) اس کوڈکے تحت "ملازم" سے مراد وہ شخص ہے:(اے) جو کسی آجر کے ساتھ معاہدۂ ملازمت کے تحت کسی قسم کا کام، اجرت یا کسی اور معاوضے کے عوض انجام دیتا ہو، بشمول اپرنٹس، سپروائزرز، انتظامی یا اداراتی ملازمین؛(بی)حکومت یا مقامی حکومت کے وہ افسران و ملازمین جو پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 (8 بابت 1974)یا کسی دیگر صوبائی قانونی سروس قواعد کے تحت نہیں آتے؛(سی) کوئی شخص یا اشخاص کا گروہ جسے حکومت سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن نامزد کرے۔

(2) اس کوڈکے مقاصد کے لیے "انتظامی یا اداراتی ملازم" سے مراد ایسا ملازم ہے جس کے معاہدۂ ملازمت میں درج ہو یا اس کو اختیار ہو کہ وہ دیگر ملازمین کی بھرتی، تبادلہ، ترقی، معطلی، لے آف، برطرفی، انعام، نظم وضبط یا شکایات کا فیصلہ کر سکے یا آجر کو ان پر براہ راست مشورہ دے۔

6۔ "معاہدۂ ملازمت" کے معنی:۔(1) معاہدۂ ملازمت سے مراد آجر اور ملازم کے درمیان ایسا معاہدہ ہے جس کے ذریعے دفعہ 134 کے تحت ملازمت کا تعلق قائم ہوتا ہے۔(2) معاہدۂ ملازمت ایک قانونی طور پر لازم العمل خدمت کا معاہدہ ہے۔(3) معاہدۂ ملازمت صریح یا ضمنی ہو سکتا ہے اور، دفعہ 140 کے تابع، زبانی یا تحریری شکل میں ہو سکتا ہے۔(4) آقا اور خادم (master and servant) کے قانونی تعلق اور "آقا اور خادم کےمتعلقہ اصول" (rule of master and servant) کو منسوخ کیا جاتا ہے۔

7۔ ’’آجر‘‘،’’پرنسپل‘‘اور ’’قابض‘‘کے معنی:۔(1)اس کوڈکے مقاصد کیلئے ’’آجر‘‘ وہ شخص ہے جو کسی ملازم کو معاہدۂ ملازمت کے تحت ملازمت پر رکھتا ہے۔(2) اس کوڈ کے مقاصد کیلئے ’’پرنسپل" وہ شخص ہے جو اپنے زیرِ انتظام کسی تجارت، کاروبار، پیشے یا ادارے کے سلسلے میں کسی دوسرے شخص کو معاہدۂ ملازمت کے علاوہ، بشمول معاہدۂ خدمات کے تحت:

(اے) کسی منفعت یا معاوضے کے عوض محنت فراہم کرنے کے لیے؛ یا(بی) کسی منفعت یا معاوضے کے عوض کوئی کام انجام دینے کے لیے؛

کام پر مامور کرے، اور اس میں ایسا شخص بھی شامل ہے جو کسی ٹھیکیدار یا ذیلی ٹھیکیدار (کنٹریکٹر یا سب کنٹریکٹر) کو کام پر مامور کرے۔

(3) اس کوڈ کے مقاصد کے لیے ذیلی دفعات (1) اور (2) میں "شخص" سے مراد حقیقی شخص اور ہر وہ ادارہ ہے جو قانونی شخص ہو، خواہ وہ باقاعدہ تشکیل شدہ (انکارپوریٹڈ) ہو یا نہ ہو، اس میں ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم بھی شامل ہے۔

(4) اگر کوئی پرنسپل کسی ٹھیکیدار کے ذریعے ورکررکھتا ہے تو اسے آجر تصور کیا جائے گا، اگر:(اے) اس بندوبست کا مقصد ورکر کو پرنسپل کے ملازم کے طور پر جائز قانونی حقوق اور فوائدسے محروم کرنا ہو؛ یا(بی) کنٹریکٹر نے ورکر کوپرنسپل کی بنیادی سرگرمیوں (کور آپر یشنز) کے لیے تعینات کیا ہو؛ یا(سی) پرنسپل کام کے ان ذرائع اور طریق کار پر کنٹرول برقرار رکھتا ہو یا سنبھال چکا ہو جس کے ذریعے کنٹریکٹر نے کام کرنا ہے۔

(5) اس کوڈکے مقاصد کے لیے "قابض"(آکو پائیر)سے مراد وہ حقیقی شخص ہے جو کام کی جگہ کے کسی حصے یا پوری کام کی جگہ کا نگران ہو یا اس کا انتظام یا کنٹرول رکھتا ہو، چاہے:(اے) اپنی طرف سے ہو یا کسی اور کے ایجنٹ کے طور پر؛(بی) وہ کام کی جگہ کا مالک ہو یا نہ ہو؛ اور(سی) وہ کام کی جگہ کاآجر یا پرنسپل ہو یا نہ ہو۔

(6) قابض (آکو پائیر) میں درج ذیل اشخاص شامل ہو سکتے ہیں:(اے) ایساشخص جس کےپاس فیکٹری کےمعاملات کا حتمی کنٹرول ہو؛(بی)کسی تعمیراتی سائٹ پر بلڈر، پرنسپل کنٹریکٹر یا سب کنٹریکٹر؛(سی) شاپنگ سینٹر یا کسی بڑی تنصیب کا منیجر؛(ڈی)ایسا فرنچائزر جو فرنچائز حاصل کرنے والوں کے اداروں کو، کلی یا جزوی طور پر، کنٹرول کرتا ہو؛(ای) ہسپتال، اسکول، ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، کالج، یونیورسٹی یا کسی دیگر سرکاری ادارے کا چیف ایگزیکٹو؛(ایف) کسی کان یا اس کے کسی حصے کے انتظام کے سلسلے میں مالک کے نمائندے کے طور پر مقرر کردہ یا کام کرنے والا ایجنٹ؛(جی) کسی سرکاری محکمے کا سربراہ؛ اور(ایچ)کسی ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کا انچارج شخص۔

(7) اگر ایک سے زائد اشخاص کے پاس کسی کام کی جگہ کا چارج، مینجمنٹ یا کنٹرول ہو توایک سے زیادہ افراد کو ایک ہی جگہ پر قابض (آکو پائیر) قرار دیا جا سکتا ہے۔(8) جہاں کسی کام کی جگہ(ورک پلیس) کا چارج، مینجمنٹ یا کنٹرول رکھنے والا ادارہ ایک کمپنی ہو، تووہ کمپنی کسی انسپکٹر کو اطلاع دے کر اپنے کسی ڈائریکٹر، یا نجی کمپنی کی صورت میں کسی شیئر ہولڈر، کو، جو دونوں صورتوں میں پاکستان میں مقیم ہو، اس کوڈ کے مقاصد کے لیے اس کام کی جگہ کا قابض (آکو پائیر) نامزد کر سکتی ہے؛ اور ایسا ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر، جب تک وہ پاکستان میں مقیم رہے، اس کوڈ کے مقاصد کے لیے اس کام کی جگہ کا قابض (آکو پائیر) متصور کیا جائے گا، تاوقتیکہ انسپکٹر کو اس نامزدگی کی منسوخی کی مزید اطلاع موصول نہ ہو جائے یا وہ ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر نہ رہے۔(9) اگر ذیلی دفعہ (8)کےتحت کوئی نامزدگی نہ کی جائے تو کسی بھی ڈائریکٹر یا پرائیویٹ کمپنی کی صورت میں، شیئر ہولڈر کوایسی قانونی خلاف ورزی، جس کے لیے قابض (آکو پائیر) قابلِ سزا ہو، کی صورت میں جواب دہ ٹھہرا کر اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

8۔ "(Engaged)"انگیج کے معنی:۔ایک شخص ورکر کو"انگیج" کرتا ہے اگر:(اے) وہ آجر ہو اور ورکر کے ساتھ معاہدۂ ملازمت کرے؛(بی)وہ شخص پرنسپل ہو اور ورکر کے ساتھ معاہدۂ خدمات کرے؛ یا(سی) وہ شخص بصورتِ دیگر ورکر کے ساتھ ایسا انتظام کرے جس کے تحت ورکر اس کے لیے کام انجام دے، خواہ اس انتظام کی معاہداتی نوعیت کچھ بھی ہو۔

9۔ آجر، پرنسپل اور قابض (آکو پائیر) سے متعلق افراد کی قانونی ذمہ داری:۔(1) اس کوڈ کے تحت کسی آجر، پرنسپل یاقابض (آکو پائیر) کے حقوق و فرائض درج ذیل اشخاص کے ذریعے استعمال اور ادا کیے جائیں گے:(اے) اگر آجر، پرنسپل یاقابض (آکو پائیر) حقیقی شخص ہو تو وہی شخص؛(بی)اگر آجریا پرنسپل قانونی شخص (ادارہ) ہو تو وہ تمام افراد جو ادارے کے معاملات کے انچارج ہوں اورادارے کے امور کےانعقاد کے لیےقانونی شخص کےسامنے ذمہ دار ہوں۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کی شق (اے) میں مذکور شخص میں، حسب صورت، ایسے شخص یا ادارے کا وارث، جانشین یا منتقل الیہ (اسائنی) بھی شامل ہوگا۔(3) ذیلی دفعہ (1) کی شق (بی) میں مذکور "شخص" میں درج ذیل شامل ہوں گے:

(اے) ایسی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جوکسی باڈی کارپوریٹ کے تحت چلائی جا رہی ہو، کمپنی کا کوئی ڈائریکٹر، منیجر یا دیگر افسر؛

(بی) ایسی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو کسی شراکت داری (پارٹنرشپ) کے تحت چلائی جا رہی ہو، کوئی شریک (پارٹنر)؛(سی)ایسی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو کسی سرکاری محکمہ کے تحت یا اس کے اختیار سے چلائی جا رہی ہو، اس مقصد کے لیے مقرر کردہ مجاز اتھارٹی، یا اگر کوئی اتھارٹی مقرر نہ کی گئی ہو تو اُس محکمہ کا سربراہ؛(ڈی) ایسی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو کسی مقامی حکومت (لوکل اتھارٹی) کے تحت یا اس کی جانب سے چلائی جا رہی ہو، اس مقصد کے لیے مقرر کردہ افسر، یا اگر کوئی افسر مقرر نہ کیا گیا ہو تو اُس اسٹیبلشمنٹ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر؛(ای)کسی ایسے قانونی شخص(ادارے) کے حوالے سے جس کا ذکر شقات (اے) تا (ڈی)میں نہ ہو، وہ شخص جو اُس ادارے کے کاروبار کے تمام یا کسی بڑے حصے کو متاثر کرنے والے فیصلے کرتا ہو یا اُن میں حصہ لیتا ہو؛ اور(ایف) کوئی ایجنٹ۔

(3) ذیلی دفعہ (1) میں مذکور شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کوڈکے تحت اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں مستعدی سے کام کرے تاکہ آجر کی جانب سے دفعہ 413 کے مطابق فرائض کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

10۔ ایسی صورت میں ذمہ داریاں جہاں ایک سے زیادہ افراد پر فرائض عائد ہوں:۔جہاں کوڈ، یا اس کے تحت بنائے گئے کسی قاعدہ، ضابطہ، ایوارڈ، اجتماعی معاہدے یا حکم کے تحت ایک سے زیادہ افراد پر ذمہ داریاں عائد کی گئی ہوں، وہاں ہر فرد اس کی تعمیل کو یقینی بنانے کا مشترکہ اور انفرادی طور پر ذمہ دار ہوگا، اور خلاف ورزی کی صورت میں مشترکہ اور انفرادی طور پر جوابدہ ہوگا۔

11۔ "کنٹریکٹر" اور "سیلف ایمپلائیڈ" کی تعریف:۔(1) کوڈکے مقاصد کے لیے "کنٹریکٹر" سے مراد کوئی بھی شخص ہے، خواہ وہ حقیقی ہو، قانونی ہو یا کوئی ادارہ، خواہ وہ باقاعدہ تشکیل شدہ (انکارپوریٹڈ) ہو یا نہ ہو، جو کسی پرنسپل سے معاہدہ کرتا ہے تاکہ وہ اس کام کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر انجام دےجو پرنسپل نے اپنی تجارت یا کاروبار کے دوران یا اس کے مقاصد کے لیے اپنے ذمہ لیا ہو، اس میں ذیلی ٹھیکیدار (سب کنٹریکٹر) بھی شامل ہیں، خواہ وہ شخص دیگر افراد کو ملازم رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔

(2) پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے "سیلف ورکر" سے مراد ایسا فرد ہے جو کسی ملازمت کے معاہدے کے بغیر، ذاتی طور پر اجرت یا کسی اور مالی فائدے کے بدلے میں کام کرتا ہے یا خدمات فراہم کرتا ہے، جس میں فری لانسر بھی شامل ہے۔

12۔ "کام کی جگہ"، "احاطہ" اور "اسٹیبلشمنٹ" کے معنی:۔(1) اس کوڈ کے مقاصد کے لیے "کام کی جگہ" (ورک پلیس) سے مراد کوئی ادارہ یا احاطہ ہے جہاں ایک یا زیادہ افراد کام سرانجام دیتے ہیں، اور اس میں ایسا احاطہ شامل ہے:(اے) جہاں ورکر کو ادائیگی کی جاتی ہو، جہاں وہ آرام کا وقفہ کرتا ہو یا بیت الخلاء کی سہولیات استعمال کرتا ہو؛(بی)کام سے متعلقہ دوروں، سفر، تربیت، تقریبات یا سماجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والا احاطہ؛(سی) جہاں معلوماتی یا مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کیا جاتا ہے؛(ڈی)رہائش گاہ جو آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کی طرف سے فراہم کی گئی ہو؛ یا(ای)اوزار، مشینری، آلات، یا مواد رکھنے کی جگہ۔

(2) ماسوا اس کے کہ اِس کوڈ میں کہیں اور اس کے برعکس مذکور ہو، کسی بھی شخص کوہر اس مقام پر کام کی جگہ میں موجود تصور کیا جائے گا جہاں وہ کام انجام دے سکتا ہو، بشمول وہ جگہیں جن سے وہ گزرتا ہو۔

(3) اس کوڈکے مقاصد کے لیے "احاطہ" (premises)سے مراد کوئی بھی جگہ اور اس کے ملحقہ حصے ہیں، اور اس میں شامل ہیں:

(اے) زمین کا کوئی حصہ، کوئی عمارت یا کسی عمارت کا کوئی حصہ؛(بی) کوئی گاڑی؛(سی) زمین پر کوئی تنصیب، بشمول ساحلی کنارہ اور ایسی دیگر زمینیں جو وقتاً فوقتاً پانی سے ڈھک جاتی ہوں، اور ایسی کوئی اور تنصیب جو تیر رہی ہو یا کسی پانی سے ڈھکی ہوئی زمین یا اس کی زیرِ زمین سطح پر قائم ہو؛ اور(ڈی) کسی بھی قسم کا کوئی قابل انتقال سٹرکچر یا خیمہ۔

(4) اس کوڈ کے مقاصد کے لیے"ادارہ" (اسٹیبلشمنٹ)سے مراد کوئی بھی ادارہ، کان، کاروبار، تجارت، پیشہ، خدمت، ذریعۂ معاش یا کوئی دوسری سرگرمی ہے، خواہ وہ منافع یا نفع کے حصول کے لیے انجام دی جا رہی ہو یا بصورتِ دیگر، اور اس میں ہر نوعیت کی فلاحی تنظیمیں شامل ہیں، نیز وہ تمام ادارے بھی شامل ہیں جنہیں حکومت بذریعہ نوٹیفکیشن شامل کرے۔

باب 1.3 – دیگر تعریفات

13۔ دیگر تعریفات:۔ (1) اس کوڈ میں، درج ذیل اصطلاحات کے معنی یہ ہوں گے:

(اے) " حادثہ" سے مراد کوئی ایسا واقعہ ہے جو غیر متوقع اور غیر ارادی طور پر پیش آئے اور اس کے نتیجے میں نقصان یا ضرر واقع ہو؛

(بی) " تنازعہ کا متبادل حل" سے مراد وہ طریق کار ہے جس کے ذریعے تنازعات کو عدالتی فیصلے کے بغیر حل کیا جاتا ہے، اور اس میں عدالتی سطح سے باہر مصالحت اور میڈی ایشن (مفاہمت کاری) شامل ہیں؛

(سی) "ثالث " سے مراد وہ شخص ہے جسےکوڈ کے تحت بطور ثالث مقرر کیا جائے؛

(ڈی) "اتھارٹی " سے مراد اس کوڈ کے تحت قائم کردہ اجرت کی ادائیگی سے متعلق اتھارٹی (پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی) ہے؛

(ای) "ایوارڈ" سے مراد لیبر کورٹ، ثالث یا ٹربیونل کی جانب سے کسی اجتماعی حقوق کے تنازعہ یا اس سے متعلق کسی معاملے پر دیا گیا فیصلہ ہے، اور اس میں عبوری ایوارڈ بھی شامل ہے؛

(ایف) "زبردستی"سے مراد، قانونِ معاہدہ، 1872 (9 بابت 1872) کی دفعہ 15 میں دی گئی تعریف کے علاوہ، ہر قسم کی پُرتشدد یا غیر پُرتشدد دھمکی ہے جس کے ذریعے کسی فریق کو اس کی مرضی کے خلاف کسی طریقے سے عمل کرنے پر مجبور کیا جا سکے، اور اس میں، بلا تحدید، درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

(i) کسی شخص کو نقصان پہنچانے یا جسمانی طور پر مقید کرنے کی دھمکی؛(ii) ایسا منصوبہ، اسکیم یا طریقۂ کار جو کسی شخص کو اس یقین میں مبتلا کرے کہ کسی عمل سے گریز کی صورت میں اسے یا کسی اور کو شدید نقصان یا جسمانی قید کا سامنا ہوگا؛(iii) کسی شخص کی کمزور یا غیر محفوظ حیثیت کے باعث دی جانے والی دھمکی؛(iv) نفسیاتی دباؤ؛ اور(v) جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے معاوضۂ کار میں کٹوتی کرنا یا اسے روک لینا؛

(جی) "اجتماعی معاہدہ"سے مراد ایسا تحریری معاہدہ ہے جو انگیجمنٹ کی شرائط و ضوابط اور باہمی مفاد کے کسی دیگر معاملے سے متعلق ہو، اور جو ایک طرف آجر یا پرنسپل، آجران یا پرنسپلز کا کوئی گروہ، یا ان کی ایک یا ایک سے زیادہ تنظیموں اور دوسری طرف ایک یا ایک سے زیادہ ٹریڈ یونینز کے مابین طے پائے؛

(ایچ) "اجتماعی سودا کاری" سے مراد وہ تمام مذاکرات ہیں جو:

(i) ایک جانب کسی آجر یا پرنسپل، آجروں یا پرنسپلز کے کسی گروہ، یا آجروں یا پرنسپلز کی ایک یا زیادہ تنظیموں؛ اور(ii) دوسری جانب ایک یا زیادہ ٹریڈ یونینوں؛

کے درمیان کام کے حالات اور ملازمت کی شرائط کے تعین، آجروں یا پرنسپلز اور ورکرز کے مابین تعلقات کے انضباط کے لیے ہوں؛ اور اس میں دفعہ 99 میں مقررہ سطحوں پر کی جانے والی سودا کاری بھی شامل ہے؛

(آئی) "اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ (سی بی اے)" سے مراد وہ ٹریڈ یونین ہے جو دفعہ 100 کے تحت، ادارے یا اداروں کے گروہ میں اجتماعی سودا کاری کے معاملے میں ورکرز کی مصدقہ نمائندہ ہو؛

(جے) "اجتماعی سودا کاری کی اکائی" سے مراد وہ ورکرز یا ورکرز کا گروہ ہے جن کی ملازمت کی شرائط و ضوابط اجتماعی سودا کاری کا موضوع ہوں، یا مناسب طور پر بن سکتی ہوں؛

(کے) "چیف انسپکٹر" سے مراد ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر اور کمشنر مائنز لیبر ویلفیئر ہیں، جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اپنی متعلقہ حدودِ اختیار میں مقرر کیے گئے ہوں؛

(ایل) "مجاز فورم"سے مراد وہ ادارے ہیں جن کا ذکر ابواب 6.1 اور 6.2 میں کیا گیا ہے اور جو کسی شکایت سے متعلق دائرہ اختیار رکھتے ہیں؛

(ایم) "مصالحتی کارروائی" سے مراد مصالحت کار کے روبرو کوئی کارروائی ہے؛

(این) "مصالحت کار" سے مراد کوڈ کے باب 6.1 کے تحت مصالحت کار مقرر کیا گیا شخص ہے؛

(او) "کونسل" سے مراد کوڈ کے باب 3.7 کے تحت قائم کردہ ورکس کونسل ہے؛

(پی) "عدالت" سے مراد کوڈ کے تحت قائم کردہ لیبر کورٹ ہے؛

(کیو) "محکمہ" سے مراد، اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں، حکومتِ پنجاب کا محکمہ محنت و انسانی وسائل یا محکمہ معدنیات و کان کنی ہے؛

(آر) "امتیاز" سے مراد کسی ممنوعہ بنیاد پر کیا گیا کوئی فرق، اخراج یا ترجیح ہے جس کا اثر روزگار یا پیشے میں مساوی مواقع یا مساوی سلوک کو ختم یا متاثر کرنا ہو، اور اس میں درج ذیل شامل ہیں:

(i) کسی شخص کو ملازمت پر رکھنے سے انکار کرنا؛(ii) کسی شخص کو برطرف کرنا؛(iii) تعلیم، پیشہ ورانہ رہنمائی اور تربیت تک رسائی سے انکار کرنا؛(iv) کمتر شرائط و ضوابط پر ملازمت فراہم کرنا؛(v) کسی بھی اور طریقے سے کسی فرد کی مواقع تک رسائی کو محدود کرنا یا اسے نقصان پہنچانا؛(vi) ترقی اور کیریئر میں آگے بڑھنے کے مواقع کو محدود کرنا؛

اس تعریف میں، "روزگار اور "پیشہ" کی اصطلاحات میں معاوضہ، پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی، روزگار تک رسائی، مخصوص پیشوں تک رسائی، اور روزگار کی شرائط و ضوابط شامل ہیں۔

(ایس) "ضروری خدمات" سے مراد ایسی خدمات ہیں، خواہ وہ کسی بھی شخص کی جانب سے فراہم کی جائیں اور خواہ وہ حکومت کو فراہم کی جائیں یا کسی اور شخص کو، جن میں تعطل سے آبادی کے مکمل یا جزوی حصے کی زندگی، صحت یا ذاتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، جیسا کہ شیڈول 4 میں بیان کیا گیا ہے؛

(ٹی) "ایگزیکٹو" (مجلس عاملہ) سے مراد وہ باڈی ہے، خواہ اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے، جسے کسی ٹریڈ یونین کے آئین کے تحت اس کے امور کی نگرانی و انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی ہو؛

(یو) "استحصال" سے مراد جسم فروشی، فحش مواد کی تیاری یا تقسیم، جنسی استحصال کی دیگر اقسام، غلامی، جبری یا لازمی مشقت یا خدمات، یا اس نوعیت کے دیگر افعال کے ذریعے فائدہ حاصل کرنا ہے، جن کا نتیجہ جبری وصولی کی صورت میں نکلے، خواہ متعلقہ شخص نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہو یا نہیں؛

(وی) "فیکٹری" سے مراد کوئی احاطہ، بشمول اس کی حدود، ہے جہاں پانچ یا اس سے زیادہ ورکرز کام کر رہے ہوں یا گزشتہ بارہ ماہ میں کسی دن کام کر چکے ہوں، اور جس کے کسی حصے میں بجلی کی مدد سے یا اس کے بغیر کوئی پیداواری عمل جاری ہو یا معمول کے طور پر جاری رکھا جاتا ہو؛ تاہم اس تعریف میں وہ کان شامل نہیں جو اس وقت نافذ مائنز ایکٹ، 1923 (4بابت 1923) کے تحت آتی ہو؛

(ڈبلیو) "سست رفتاری" (گو سلو) ہڑتال کی ایک صورت ہے، جس سے مراد ورکرز کے کسی گروہ کی جانب سے مشترکہ طور پر معمول کی پیداوار کو منظم، دانستہ اور بامقصد طور پر سست کرنا، یا کام کے معیار کو جان بوجھ کر گرا دینا ہے؛ بشرطیکہ یہ عمل مشترکہ طور پر کیا جائے؛ تاہم وہ سست رفتاری یا معیار کی کمی اس میں شامل نہیں جو ایسے حالات کی وجہ سے ہو جو ورکرز کے اختیار سے باہر ہوں؛

(ایکس) "حکومت"سے مراد حکومتِ پنجاب ہے؛

(وائی) "اداروں کا گروہ" سے مراد ایسے ادارے ہیں جو ایک ہی آجر یا پرنسپل کی ملکیت میں ہوں اور ایک ہی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں؛

(زیڈ) "صنعت"(انڈسٹری) سے مراد کوئی بھی کاروبار، تجارت، پیداواری سرگرمی، پیشہ، خدمات، ملازمت یا ایسا پیشہ ہے جو اشیاء کی پیداوار یا خدمات کی فراہمی سے متعلق ہو، اور اس میں غیر منافع بخش مقاصد کے لیے قائم سرگرمیاں بھی شامل ہیں؛

(اےاے) "انسپکٹر" سے مراد وہ انسپکٹر ہے جوکوڈ کے باب 6.4 کے تحت مقرر کیا گیا ہو؛

(بی بی) "اس مقصد کے لیے مجاز انسپکٹر" سے مراد ڈائریکٹر ہے، اور اگر ڈویژن، ریجن یا ضلع میں ڈائریکٹر موجود نہ ہو، تو ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر، یا محکمہ معدنیات و کان کنی کے متعلقہ دائرہ اختیار میں کام کرنے والے افسران مراد ہوں گے؛

(سی سی) "ضرر" سے مراد بیماری، عارضہ، چوٹ یا ان کا مجموعہ ہے، اور اس میں کام سے متعلق کسی واقعے، نظام یا طرزِ عمل کے نتیجے میں پہنچنے والا جسمانی یا ذہنی ضرر بھی شامل ہے؛

(ڈی ڈی)"خطرہ" سے مراد کوئی سرگرمی، انتظام، صورتحال، واقعہ، مظہر، عمل، حالت یا مواد ہے، خواہ وہ کام کی جگہ پر پیدا ہوا ہو یا وہاں استعمال کیا گیا ہو، جو حقیقتاً یا ممکنہ طور پر نقصان کا باعث بنے یا بن سکتا ہو؛

(ای ای) "لیبر کورٹ" سے مراد کوڈ کے باب 6.2 کے تحت قائم کردہ لیبر کورٹ ہے؛

(ایف ایف) "لاک آؤٹ" سے مراد کسی ملازمت کی جگہ یا اس کے کسی حصے کو بند کرنا، یا آجر یا پرنسپل کی طرف سے کام کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کرنا، یا آجر یا پرنسپل کی طرف سے کسی بھی تعداد میں ورکرز کو انگیج رکھنے سے مکمل یا مشروط انکار کرنا ہے، بشرطیکہ یہ صورت کسی صنعتی تنازعہ سے منسلک ہو؛

(جی جی) "میڈی ایشن (مفاہمت کاری)" سے مراد رازداری کے ساتھ چلایا جانے والا ایسا عمل ہےجس میں میڈی ایٹر (مفاہمت کار) (وساطت کار)، صنعتی تنازعہ کے علاوہ کسی تنازعہ یا اختلاف کے بارے میں فریقین کو مذاکرات کے ذریعے معاہدے تک پہنچنے میں فعال معاونت فراہم کرتا ہے؛ تصفیے کے فیصلے اور اس کی شرائط پر حتمی اختیار فریقین کے پاس رہتا ہے، جبکہ میڈی ایٹر (مفاہمت کار) کو فیصلہ سازی کا اختیار یا فریقین پر حل مسلط کرنے یا انہیں تصفیے پر مجبور کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا؛

(ایچ ایچ) "معدنی ادارہ یا کان" سے مراد کوئی ایسی کھدائی ہے جہاں معدنیات کی تلاش یا حصول کے مقصد سے کوئی کارروائی کی گئی ہو یا کی جا رہی ہو، اور اس میں کان سے متعلق یا اس کے ملحقہ تمام تعمیرات، مشینری، ٹرام ویز اور سائڈنگز، خواہ سطحِ زمین سے اوپر ہوں یا نیچے، شامل ہیں:

بشرطیکہ اس میں ایسے احاطے کا کوئی حصہ شامل نہیں ہوگا جہاں پیداواری عمل جاری ہو، سوائے اس صورت کے کہ ایسا عمل کوک سازی یا معدنیات کی تیاری و صفائی سے متعلق ہو؛

(آئی آئی) "پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی کونسل" سے مراد پنجاب کونسل برائے پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کی دفعہ ‎311 کے تحت تشکیل دی گئی ہو؛

(جےجے) "عہدیدار"سے مراد کسی ٹریڈ یونین کے ایگزیکٹو کا کوئی رکن ہے، تاہم اس میں آڈیٹر یا قانونی مشیر شامل نہیں ہوگا؛

(کےکے) "تنظیم"سے مراد ورکرز، آجران یا پرنسپلز کی ایسی کوئی تنظیم ہے جو ورکرز یا آجران یا پرنسپلز کے مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لیے قائم کی گئی ہو؛

(ایل ایل) "مصرحہ" سے مراد وہ طریق ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بنائے گئے قواعد کے ذریعے صراحت کیا گیا ہو؛

(ایم ایم) "عوامی سہولت کی خدمت" سے مراد وہ خدمات ہیں جنہیں شیڈول 3 میں بیان کیا گیا ہے؛

(این این) "رجسٹرڈ ٹریڈ یونین"سے مراد وہ ٹریڈ یونین ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت رجسٹرڈ ہو؛

(اواو) "رجسٹرار"سے مراد وہ رجسٹرار ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کے باب 6.3- ایف کے تحت مقرر کیا گیا ہو؛

(پی پی) "ضوابط" سے مراد وہ ضابطے ہیں جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مرتب کیے گئے ہوں؛

(کیوکیو) "معاوضہ" سے مراد وہ عام اجرت یا تنخواہ اور کسی بھی اضافی مالی فوائد ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ، نقد، قابلِ انتقال دستاویز یا اشیاء کی صورت میں کسی ادارے کی طرف سے کسی ملازم کو اس کی ملازمت یا اس میں سرانجام دیے گئے کام کے بدلے ادا کیے جائیں، اور جنہیں مالی قدر میں ظاہر کیا جا سکتا ہو، اور جو قابلِ ادائیگی ہوں، یا اگر معاہدۂ ملازمت، صریح یا ضمنی، کی شرائط پوری ہوں تو قابلِ ادائیگی ہوں:

مگر شرط یہ ہے کہ کسی رہائش، روشنی، پانی، طبی سہولت یا کسی اور سہولت کی قیمت، یا ایسی کسی سروس کی جو محکمہ کی جانب سے عام یا مخصوص حکم کے ذریعے خارج کی گئی ہو؛ کسی سفری الاؤنس یا سفری رعایت کی قیمت؛ اور وہ رقم جو کسی ملازم کو ایسی خاص نوعیت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دی جائے جو ملازمت کی نوعیت کی وجہ سے لازم ہوں، معاوضہ میں شامل تصور نہیں ہوگی؛

(آر آر)"رسک (اندیشۂ ضرر)"سے مراد کسی چوٹ یا نقصان کے واقع ہونے کا امکان یااندیشہ ہے؛

(ایس ایس) "قواعد" سے مراد وہ قواعد ہیں جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت وضع کئے گئے ہوں؛

(ٹی ٹی) "تحفظ و صحت کا نمائندہ"سے مراد وہ نمائندہ ہے جو دفعہ ‎53 کے تحت منتخب کیا گیا ہو؛

(یو یو) ""تحفظ و صحت کے قواعد" سے مراد وہ قواعد ہیں جو دفعہ ‎70 کے تحت مرتب کیے گئے ہوں؛

(وی وی) "موسمی ادارہ" سے مراد ایسا ادارہ ہے، جس میں دس یا اس سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہوں، اور جو کیلنڈر ائیر میں 180دن یا اس سے کم مسلسل مدت کے لیے کام کرتا ہو، اور اس میں درج ذیل سمیت مگر ان تک محدود نہ ہو:

(i) کوئی فیکٹری جو بنیادی طور پر درج ذیل پیداواری عمل میں مصروف ہو: روئی کی جننگ، مونگ پھلی کی چھلائی، چینی (بشمول گُڑ) کی تیاری؛(ii) مقامی یا برآمدی مقاصد کے لیے پھلوں کی صفائی؛(iii) موسم گرما کے تفریحی کیمپ؛(iv) ایسے ریزورٹس جو کسی مخصوص موسم میں کام کرتے ہوں؛(v) سیاحتی سرگرمیاں؛ اور(vi) دیگر ایسے ادارے جن کی قواعد میں صراحت کی جائے؛

(ڈبلیو ڈبلیو) "شعبہ" سے مراد معیشت کا کوئی بھی شعبہ ہے، جس میں درج ذیل شامل ہیں مگر ان ہی تک محدود نہیں:

(i) زراعت؛ باغات؛ دیہی شعبہ جات؛(ii) بنیادی دھات سازی؛(iii) کیمیائی صنعتیں؛(iv) تجارت؛(v) تعمیرات؛(vi) تعلیم؛(vii) مالیاتی خدمات؛ پیشہ ورانہ خدمات؛(viii) ماہی گیری؛(ix) خوراک؛ مشروبات؛ تمباکو؛(x) جنگلات؛ لکڑی؛ گودا اور کاغذ؛(xi) صحت کی خدمات؛(xii) ہوٹل؛ سیاحت؛ کیٹرنگ؛(xiii) کان کنی (کوئلہ یا دیگر کان کنی)؛(xiv) مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ؛(xv) میڈیا؛ ثقافت؛ طباعت و اشاعت؛(xvi) تیل و گیس کی پیداوار؛ تیل کی صفائی؛(xvii) ڈاک اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز؛(xviii) پبلک سروس؛(xix) ٹیکسٹائل؛ ملبوسات؛ چمڑا؛ جوتے؛(xx) نقل و حمل؛(xxi) نقل و حمل کے آلات کی تیاری؛(xxii) یوٹیلیٹیز؛ اور(xxiii) دیگر شعبہ جات، جو مقرر کیے جائیں؛

(ایکس ایکس) "ہڑتال" سے مراد کام کرنے سے مکمل یا جزوی اجتماعی انکار یا دانستہ سست روی ہے، جو ورکرز کی طرف سے اپنے مفادات کے دفاع میں کیا جائے، اور جو صنعتی تنازع کا موضوع بن سکتا ہو؛

(وائی وائی) "ٹریڈ یونین" سے مراد ورکرز کی ایسی تنظیم ہے جس کا مقصد اپنے اراکین کے معاشی اور سماجی مفادات کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا ہو، بشمول ورکرز اور انہیں ملازمت دینے والوں کے مابین تعلقات کو منظم کرنے کی کوشش؛ اور اس میں دو یا دو سے زیادہ ٹریڈ یونینز کے اتحاد (فیڈریشن) یا دو یا زیادہ فیڈریشنز کے کنفیڈریشن شامل ہیں؛

(زیڈزیڈ) "ٹربیونل" سے مراد وہ لیبر اپیلٹ ٹربیونل ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کے باب 6.2 کے تحت قائم کیا گیا ہو؛

(اےاے اے) "غیر قانونی لاک آؤٹ" سے مراد وہ لاک آؤٹ ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کی دفعہ ‎122 کے تحت غیر قانونی ہو؛

(بی بی بی) "غیر قانونی ہڑتال" سے مراد وہ ہڑتال ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کی دفعہ ‎122 کے تحت غیر قانونی ہو؛

(سی سی سی) "تشدد اور ہراسانی" سے مراد مندرجہ ذیل ہیں:

(i) ایسے رویے اور عمل یا ان کی دھمکیاں جو ناقابلِ قبول ہوں،(ii) چاہے وہ ایک دفعہ کا واقعہ ہوں یا بار بار دہرائے جائیں، جن کا مقصد جسمانی، نفسیاتی، جنسی یا معاشی نقصان پہنچانا ہو، یا جو اس کا باعث بنتے ہوں یا بننے کا امکان رکھتے ہوں، اور جو متعلقہ شخص کی عزت نفس کی خلاف ورزی کرتے ہوں یا ایک خوفزدہ، دشمنانہ، ذلیل کرنے والا، شرمندہ کرنے والا یا غیر آرام دہ ماحول پیدا کرتے ہوں، اور جن میں صنفی بنیاد پر تشدد اور ہراسانی بھی شامل ہے؛

" تعریف ہذاکے مقاصد کے لیے، "صنفی بنیاد پر تشدد اور ہراسانی" سے مراد وہ تشدد اور ہراسانی ہے جو افراد کو ان کی جنس یا صنف کی بنیاد پر نشانہ بناتی ہے، یا کسی خاص جنس یا صنف کے افراد کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہے، اور اس میں جنسی ہراسانی بھی شامل ہے؛

تعریف ہذاکے مقاصد کے لیے، "جنسی ہراسانی" سے مراد ہے:(اے) کوئی بھی ناپسندیدہ جنسی پیش کش، جنسی فوائد کی درخواست، یا جنسی نوعیت کا کوئی بھی زبانی، تحریری یا جسمانی رویہ یا جنسی طور پر رسوا کرنے والا رویہ؛(بی)ایک خوفزدہ، دشمنانہ یا قابل اعتراض کام کا ماحول پیدا کرنا؛ اور(سی) شکایت کنندہ کو ایسی درخواست ماننے سے انکار پر سزا دینے کی کوشش، یا ایسی درخواست کی تعمیل کو ملازمت کی شرط بنانا۔

حصہ دوم

بنیادی اصول اور کام کے حقوق

باب 2.1 – تمام ورکرز اور کام کی جگہوں پر نافذ احکامات

14۔ اس حصہ کا مقصد:۔ (1) اس حصے میں کام کے بنیادی اصول و حقوق بیان کیے گئے ہیں اور اس کا مقصد بین الاقوامی ادارۂ محنت (ILO) کے بنیادی دستاویزات کو نافذ کرنا ہے جو مندرجہ ذیل امور سے متعلق ہیں:(اے) آزادیِ تنظیم اور اجتماعی سودا کاری کے حق کا موثر اعتراف؛(بی) تمام اقسام کی جبری یا لازمی مشقت کا خاتمہ؛(سی) بچوں کی مزدوری(چائلڈ لیبر) کا مؤثر خاتمہ؛(ڈی) روزگار اور پیشے میں امتیاز ختم کرنا؛ اور(ای) ایک محفوظ اور صحت مند کام کرنے کا ماحول۔

(2) یہ حصہ پنجاب لیبر کوڈ کے اطلاق میں آنے والے تمام افراد اور کام کی جگہوں پر لاگو ہوتا ہے، جن میں آجر، پرنسپل، قابض، ٹھیکیدار، ذیلی ٹھیکیدار، اور باب 1.2 میں تعریف شدہ ورکرشامل ہیں، مگر ان تک محدود نہیں۔

باب 2.2 – بانڈڈ، جبری یا لازمی مشقت

15۔ تعریفات:۔باب ہذا میں، اگر کسی جملے یاسیاق و سباق میں تضاد نہ ہو:

(اے) "ادھار" سے مراد وہ پیشگی ادائیگی ہے، خواہ نقد ہو یا جنس کی صورت میں، یا جزوی طور پر نقد اور جزوی طور پر جنس کی صورت میں، جو ایک شخص، جسے یہاں بعد میں قرض دہندہ کہا جائے گا، دوسرے شخص کو، جسے یہاں بعد میں قرض دار کہا جائے گا، باب ہذا کے تحت دیتا ہے؛

(بی) "بانڈڈ قرض" سے مراد وہ ادھار ہے جو ایک بانڈڈ ورکرکو بانڈڈ مزدوری کے نظام کے تحت یا اس کی پیروی میں حاصل ہوا ہو یا حاصل کرنے کا تصور کیا جائے:

تاہم، پنجاب لیبر کوڈ کی دفعہ ‎18 میں تعریف شدہ ادھار کو بانڈڈ قرض نہیں سمجھا جائے گا؛

(سی) "بانڈڈلیبر"سے مراد وہ مزدوری یا خدمات ہیں جو بانڈڈ مزدوری کے نظام کے تحت انجام دی جاتی ہیں؛

(ڈی) "بانڈڈ ورکر"سے مراد وہ ورکرہے جس نے بانڈڈ قرض لیا ہو یا لیا ہوا ہو یا لینے کا تصور کیا جائے، اور جو بانڈڈ مزدوری انجام دیتا ہو؛

(ای) "بانڈڈ لیبرسسٹم"سے مراد وہ نظام ہے جس کے تحت جبری یا جزوی جبری مزدوری ہوتی ہے، اور جس کے تحت قرض دار ایک معاہدہ کرتا ہے، یا کرتا ہوا سمجھا جاتا ہے، قرض دہندہ کے ساتھ، اس مفہوم کا کہ:

(i) قرض دار نے چاہے دستاویز کے ذریعے ثبوت دیا ہو یا نہ دیا ہو، کوئی ادھار حاصل کیا ہو اور اس ادھار پر سود، اگر ہو، ادا کرنا ہو؛ یا

(ii) کسی رواجی یا سماجی ذمہ داری کے تحت؛ یا

(iii) قرض دار کو کوئی اقتصادی فائدہ حاصل ہو؛

تو قرض دار:

(اے) خود یا اپنے انحصار کرنے والے کسی شخص کے ذریعے قرض دہندہ کے لیے، یا قرض دہندہ کے فائدے کے لیے، مخصوص یا غیر مخصوص مدت کے لیے بغیر معاوضہ یا قابلِ اطلاق کم از کم اجرت سے کم معاوضۂ کار پر مزدوری یا خدمات انجام دے گا؛ یا

(بی) مخصوص یا غیر مخصوص مدت کے لیے روزگار کی آزادی یا دوسرا ذریعہ معاش اپنانے کا حق کھو دے گا؛ یا(سی) جگہ سے جگہ آزادانہ نقل و حرکت کا حق کھو دے گا؛ یا

(ڈی) اپنے یا اپنے انحصار کرنے والے کسی شخص کی ملکیت یا محنت کے حاصل کردہ مال کو مارکیٹ قیمت پر مناسب طریقے سے فروخت کرنے یا استعمال کرنے کا حق کھو دے گااور اس میں وہ نظام بھی شامل ہے جس کے تحت قرض دار کی طرف سے ضمانت دینے والا قرض دہندہ کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے، یا کرتا ہوا سمجھا جاتا ہے، کہ اگر قرض دار قرض کی واپسی میں ناکام ہو تو ضمانت دہندہ قرض دار کی طرف سے بانڈڈمزدوری انجام دے گا۔

(ایف) "جبری یا لازمی مشقت" سے مراد ہر وہ کام یا خدمت ہے جو کسی شخص سے جابرانہ اور استحصالی طریق کار کے ذریعے، سزا کے خدشے کے تحت لی جائے اور جس کے لیے اس شخص نے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش نہ کیا ہو۔ جبری مشقت کی درج ذیل اقسام ہو سکتی ہیں:

(i) بانڈڈ لیبر؛(ii) عام حد سے زیادہ جبری اضافی اوقاتِ کار، جیسا کہ باب 2.2 میں بیان کیا گیا ہے، ماسوائے ناگزیر حالات یا ہنگامی صورتحال کے؛(iii) کسی بچے کو اُن بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر میں مشغول کرنا جیسا کہ باب 2.3 کی دفعہ ‎25 میں بیان کیا گیا ہے؛(iv) غیر رضاکارانہ خدمت، غلامی یا غلامی سے ملتے جلتے طریقے۔

مگر شرط یہ ہے کہ درج ذیل کو جبری یا لازمی مشقت تصور نہیں کیا جائے گا:

(i) وہ کام یا خدمت جو لازمی فوجی سروس کے قوانین کے تحت صرف فوجی نوعیت کے کام کے لیے لی جائے؛(ii) وہ کام یا خدمات جو شہریوں کی معمول کی شہری ذمہ داریوں کا حصہ ہوں؛(iii) وہ کام یا خدمات جو کسی عدالت کی طرف سے سزا کے نتیجے میں کسی شخص سے لی جائیں؛(iv) وہ کام یا خدمات جو ہنگامی حالات میں لی جائیں، مثلاً جنگ، قدرتی آفات یا ان کے خطرات جیسے کہ آگ، سیلاب، قحط، زلزلہ، مہلک وبائیں یا مویشیوں کی وبائی بیماریاں، جانوروں، کیڑوں یا نباتاتی آفات کا حملہ، اور عمومی طور پر وہ تمام حالات جو کسی آبادی یا اس کے کسی حصے کی بقاء یا فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈال دیں؛(v) معمولی نوعیت کی اجتماعی خدمات جو کسی کمیونٹی کے افراد کی طرف سے براہ راست اس برادری کے مفاد میں انجام دی جائیں؛

مگر شرط یہ ہے کہ اس طرح کی خدمات کی ضرورت کے حوالے سے کمیونٹی کے افراد یا ان کے براہ راست نمائندوں سے مشاورت کا حق حاصل ہوگا۔

(جی) "رضاکارانہ طور پر" سے مراد کسی صاحبِ عقل فرد کی جانب سے کسی دوسرے کی تجویز یا خواہش پر، کسی فریب، جبر یا دھمکی کے بغیر، آزادانہ اور خوش دلی سے اتفاق کرنا ہے۔

16۔ جبری مشقت کی ممانعت:۔(1) کوئی شخص کسی ورکر کو جبری یا لازمی مشقت کے تحت انگیج نہیں کرے گا۔(2) کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو جبری یا لازمی مشقت کے لیے کسی کو بھرتی کرنے یا استعمال کرنے میں معاونت نہیں کرے گا۔

17۔ بانڈڈ لیبر سسٹم کا خاتمہ:۔ (1) کسی بھی صورت میں بانڈڈ لیبر ممنوع ہو گی۔(2) کوئی شخص کسی ورکر کو بانڈڈ لیبر کے تحت انگیج نہیں کرے گا۔(3) کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو بانڈڈ لیبرکے لیے کسی کو بھرتی کرنے یا استعمال کرنے میں معاونت نہیں کرے گا۔(4) کوئی بھی رسم، روایت یا رواج، یا کوئی کنٹریکٹ، معاہدہ یا دیگر دستاویز، خواہ وہ پنجاب لیبر کوڈ کے نافذ ہونے سے پہلے یا بعد میں کی گئی ہو یا اس پر عمل درآمد کیا گیا ہو، جس کے تحت کسی شخص سے بطور بانڈڈ ورکر کوئی کام یا خدمت لی جائے، کالعدم اور غیر مؤثر تصور کی جائے گی۔

18۔ ایڈوانس کا انضباط:۔ کوئی آجر کسی ملازم کو صرف درج ذیل شرائط کے مطابق پیشگی ادائیگی کر سکتا ہے:

(اے) پیشگی رقم بغیر سود کے قرض کی صورت میں دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ یہ رقم غیر ہنر مند ورکرز کے لیے حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً بذریعہ نوٹیفکیشن مقرر کردہ کم از کم اجرت کی تین گنا حد سے زائد نہ ہو؛(بی) پیشگی رقم کی واپسی کی اقساط ورکر کے معاوضے کے پانچویں حصے (20%) سے زیادہ نہیں ہوں گی؛(سی) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) ہر ورکرکے لیے پیشگی ادائیگی اور اس کی وصولی کا علیحدہ باقاعدہ ریکارڈ مقررہ طریقۂ کار کے مطابق رکھے گا؛(ڈی)پیشگی رقم کی ادائیگی اور اس کی وصولی بینکنگ ذرائع بشمول ڈیجیٹل لین دین کے ذرائع سے کی جائے گی:مگر شرط یہ ہے کہ اگر کوئی ادائیگی بینکنگ ذرائع کے علاوہ کی گئی ہو تو اسے دفعہ ہذاکے تحت پیشگی ادائیگی تصور نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزی میں غیر قانونی ادائیگی شمار ہو گی اور اس پر سزا عائد کی جا سکتی ہے؛(ای)جب تک پچھلی پیشگی رقم مکمل طور پر واپس نہ کر دی جائے، اس وقت تک کوئی نئی پیشگی رقم نہ دی جائے گی اور نہ ہی لی جائے گی۔

19۔ بانڈڈ قرض واپس کرنے کی ذمہ داری کا خاتمہ:۔ (1) پنجاب لیبر کوڈ کے نافذ العمل ہونے پر، ہر بانڈڈ ورکر کی یہ ذمہ داری، اگر کوئی ہو، کہ وہ کوئی بانڈڈ قرض یا اس قرض کا کوئی ایسا حصہ جو نافذ العمل ہونے سے قبل غیر ادا شدہ ہو، واپس کرے، ختم ہو جائے گی۔

(2) پنجاب لیبر کوڈ کے نافذ ہونے کے بعد، کسی بھی بانڈڈ قرض یا اس کے کسی بھی حصے کی وصولی کے لیے کسی بھی دیوانی عدالت، ٹربیونل یا کسی دوسرے اختیار دار فورم میں کوئی دعویٰ یا کارروائی دائر نہیں کی جا سکے گی۔

(3) اگر پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ سے قبل، کسی قرض دہندہ نے بانڈڈ قرض کی وصولی کے لیے کسی ورکر یا اس پر انحصار کرنے والے کسی شخص کی جائیداد زبردستی ضبط کر لی ہو، تو ایسی جائیداد فوری طور پر اصل مالک کو واپس کی جائے گی جس سے وہ ضبط کی گئی تھی۔

20۔ رہائشی مکان سے بے دخلی:۔ (1) کسی دیگر قانون میں شامل کسی امر کے باوجود، اگر کوئی ورکر خواہ وہ رہا کیا گیا ہو، استعفیٰ دیا ہو، ریٹائر ہوا ہو، چھانٹی، فارغ، برطرف یا برخاست کیا گیا ہو یا کسی اور وجہ سے ملازمت ختم ہو گئی ہو ایسے رہائشی مکان میں مقیم ہو جو اسے فراہم کیا گیا تھا، تو اُسے مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی کے وقوع پذیر ہونے کی تاریخ سے دو ماہ کی مدت تک بے دخل نہیں کیا جائے گا۔اگر اس مدت کی خلاف ورزی کی جائے، تو آجر، پرنسپل یا قابض، کسی دیگر قانونی ذمہ داری کے علاوہ، ورکر کو ایسی شرح کے مطابق معاوضہ ادا کرے گا جو مقرر کی جائے۔

(2) اگر متعلقہ شخص اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرے، یا ورکر مصرحہ مدت جیسا کہ ذیلی دفعہ (1) میں درج ہےکے بعد رہائشی مکان خالی نہ کرے، تو متعلقہ شخص یا ورکر، حسبِ حال، مجسٹریٹ اول درجہ کے روبرو، جو اس علاقے کا دائرہ اختیار رکھتا ہو جہاں وہ رہائشی مکان واقع ہے، شکایت درج کرا سکتا ہے۔

(3) مجسٹریٹ، فریقین کو سننے کے بعد، کسی بھی دیگر قانون کی کسی بھی شرط کے باوجود، مقدمے کا سرسری سماعت کے ذریعے فیصلہ کر سکتا ہے، اور متعلقہ شخص کو ورکر کو معاوضہ ادا کرنے کا یا ورکر کو عدالت کی طرف سے مقرر کردہ وقت میں مکان خالی کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

(4) اگر وہ ورکر جسے متعلقہ شخص کی طرف سے رہائش فراہم کی گئی ہو، فوت ہو جائے، تو ذیلی دفعات (1)، (2)، اور (3) میں مذکورہ احکام، ضروری ترامیم کے ساتھ، متوفی ورکر کے زیرِ کفالت افراد پر بھی لاگو ہوں گے، بشرطیکہ وہ افراد مذکورہ رہائش میں مقیم ہوں۔

21۔ مجاز افسر کا نوٹیفکیشن اور فرائض:۔ (1) محکمہ، بورڈ آف ریونیو اور محکمہ داخلہ سے مشاورت کے بعد، بذریعہ نوٹیفکیشن، کسی ضلع میں ایسے محکموں کے گریڈ BS-17 یا اس سے اعلیٰ درجے کے افسران کو مجاز قرار دے گا تاکہ وہ اس باب کی دفعات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے درکار اختیارات استعمال کر سکیں اور فرائض انجام دے سکیں۔

(2) مجاز افسر اپنے ماتحت کسی بھی افسر کو، جو اس کے دائرۂ اختیار میں ہو، باب ہذا کے مقاصد کے لیے، اپنے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے شامل کر سکتا ہے۔

(3) مجاز افسر، جہاں تک ممکن ہو، ان افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری اقدامات کرے گا جو بانڈڈ یا جبری مشقت سے آزاد کیے گئے ہوں، اور ان کے معاشی مفادات کے تحفظ اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔

(4) مجاز افسر کی ہدایت پر، شریک افسر، اپنے دائرۂ اختیار میں کسی بھی شخص یا اس کی جانب سے یا اس کی طرف سے کیے گئے بانڈڈ، جبری یا لازمی مشقت کے استعمال کی تفتیش کرے گا، اور اگر وہ کسی بھی صورت میں ایسی مشقت کی اطلاع پائے، تو وہ فوری طور پر معاملہ مجاز افسر کو کارروائی کے لیے رپورٹ کرے گا۔

(5) انسپکٹر:

(اے) کسی بھی ایسے مقام میں داخل ہوگا جس کے متعلق اسے معقول بنیاد پر یقین ہو کہ وہ معائنہ کے دائرے میں آتا ہے؛ اور(بی) کام کی جگہ کے معائنہ کے دوران، اپنے دائرۂ اختیار میں کسی بھی شخص یا اس کی جانب سے کیے گئے بانڈڈ، جبری یا لازمی مشقت کے استعمال کے بارے میں تفتیش کرے گا، اور اگر وہ ایسی کسی بھی صورت کو پائے، تو فوری طور پر مجاز افسر کو کارروائی کے لیے رپورٹ کرے گا۔(6) مجاز افسر، سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد، معاملے کو متعلقہ پولیس اسٹیشن کو مجموعہ ضابطۂ فوجداری، 1898 (XLV بابت 1898) کے تحت ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (FIR) درج کرانے کے لیے بھجوا سکتا ہے اور ضلعی نگرانی کمیٹی کو بھی اس کی اطلاع دے سکتا ہے۔

باب 2.3 – چائلڈ لیبر کا خاتمہ

22۔ تعریفات:۔باب ہذا میں:(اے) "بچہ" سے مراد ایسا شخص ہے جس کی عمر 16 سال سے کم ہو؛(بی) "خاندان" سے مراد، کسی آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کے حوالے سے، اس کا شریکِ حیات، بیٹا، بیٹی یا بہن/بھائی ہیں۔(سی) "خطرناک کام" سے مراد ایسا کام ہے جو اپنی نوعیت یا انجام دہی کے حالات کے باعث نو عمر افراد کی صحت، حفاظت یا اخلاقیات کو نقصان پہنچانے کا امکان رکھتا ہو، اور جو شیڈول 2 میں درج ہے۔(ڈی) "ہلکا کام" سے مراد ایسا کام ہے جو:(i) بچے کی صحت یا نشوونما کے لیے مضر نہ ہو؛ اور(ii) ایسا نہ ہو جو بچے کی اسکول حاضری، حکومت سے منظور شدہ پیشہ ورانہ تربیت یا رہنمائی کے پروگراموں میں شمولیت یا حاصل کردہ تعلیم سے مستفید ہونے کی صلاحیت کو متاثر کرے۔(ای) "نو عمر فرد" سے مراد ایسا شخص ہے جس نے 16 سال کی عمر مکمل کر لی ہو مگر 18 سال کی عمر مکمل نہ کی ہو۔(ایف) "چائلڈ لیبر کی بدترین اقسام"سے مراد، پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے، درج ذیل شامل ہیں:(i) غلامی کی تمام اقسام یا غلامی سے مشابہ طریق کار، مثلاً بچوں کی خرید و فروخت، اسمگلنگ، بیگار، اور بچوں کی مسلح تنازعات میں جبری بھرتی؛(ii) کسی بچے کا جسم فروشی، فحش مواد کی تیاری یا فحش حرکات کے لیے استعمال، حصول یا پیش کش؛(iii) کسی بچے کا غیر قانونی سرگرمیوں، بالخصوص منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ جیسا کہ متعلقہ بین الاقوامی معاہدات میں بیان کیا گیا ہےکے لیے استعمال، حصول یا پیش کش؛(iv) قرض کی بنیاد پر مشقت اور جبری یا لازمی مشقت؛ اور(v) وہ کام جو اپنی نوعیت یا انجام دہی کے حالات کے لحاظ سے بچوں کی صحت، حفاظت یا اخلاقیات کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

23۔ کم از کم عمر برائے ملازمت:۔ (1) کسی بھی بچے کو کسی پیشے یا عمل (پراسیس) میں کام پر نہیں رکھا جائے گا اور نہ ہی اسے کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

(2) دفعہ ہذاکا اطلاق ان کاموں پر نہیں ہوگا جو بچے اور نو عمر افراد اسکولوں میں عمومی، پیشہ ورانہ یا فنی تعلیم کے لیے یا دیگر تربیتی اداروں میں سرانجام دیتے ہیں، بشرطیکہ یہ کام ان شرائط کے مطابق انجام دیا جائے جو حکومت نے آجران، پرنسپلز اور ورکرز کی متعلقہ تنظیمات سے، جہاں وہ موجود ہوں، مشاورت کے بعد مقرر کی ہوں، اور یہ کام درج ذیل میں سے کسی ایک کا جزو لازم ہو:(اے) تعلیم یا تربیت کا وہ کورس جس کی بنیادی ذمہ داری اسکول یا تربیتی ادارے پر ہو؛ یا

(بی) ایسا تربیتی پروگرام جو بنیادی طور پر یا مکمل طور پر کسی ادارے (انڈرٹیکنگ) میں دیا جائے اور جسے حکومت نے منظور کیا ہو؛ یا(سی) ایسا رہنمائی یا تعارفی پروگرام جو کسی پیشے یا تربیتی شعبے کے انتخاب میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہو۔(3) محکمہ، آجران یا پرنسپلز اور ورکرز کی متعلقہ تنظیمات سے مشاورت کے بعد، باب ہذاکے اطلاق سے مخصوص اقسام کے کاموں کو مستثنیٰ قرار دے سکتا ہے جن پر باب ہذاکا اطلاق خصوصی اور اہم عملی مشکلات پیدا کرتا ہو، جیسے کہ خاندانی کاروبار میں کیا جانے والا کام، یا ایسے چھوٹے پیمانے کی زرعی سرگرمیاں جو مقامی استعمال کے لیے پیداوار کرتی ہوں اور جن میں باقاعدہ اجرتی ورکرملازم نہ ہوں۔

(4) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کام کے اوقات اس تعلیمی یا تربیتی ادارے کے اوقاتِ کار سے متصادم نہ ہوں جہاں بچہ یا نو عمر فرد داخل ہو۔

(5) ایسا بچہ جو لازمی تعلیم حاصل کر رہا ہو، محکمہ کی پیشگی اجازت سے ہی فلم بندی، اشتہارات، فنّی مظاہروں یا اس سے مشابہہ ثقافتی سرگرمیوں اور کھیلوں کے مقابلوں میں اجرت کے بدلے شرکت کر سکتا ہے، بشرطیکہ ایسی شرکت اس کی صحت، حفاظت، اخلاقیات، تعلیم یا نشوونما کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

(6) ذیلی دفعہ(2)میں مذکور اجازت محکمہ کی طرف سے بچے کے قانونی نمائندے کی درخواست پر جاری کی جائے گی۔

24۔ بچے کو ہلکے کام میں مشغول کرنا:۔ ایسا بچہ جس کی عمر 14 سال سے کم نہ ہو، ہلکے کام کے لیے مشغول کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ:(اے) وہ یومیہ زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے اور ہفتہ وار بیس گھنٹے کام کرے؛(بی) اسکول کے اوقاتِ کار کے دوران اسے کام پر نہ لگایا جائے؛ اور(سی) وہ صرف ایسے کاموں میں مشغول ہو جن کی وضاحت شیڈول 1 میں کی گئی ہو۔

25۔ چائلڈ لیبر کی بدترین اقسام کی ممانعت:۔ (1) کسی بھی دیگر قانون کے کسی حکم کے باوجود، کسی بھی شخص کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ کسی بچے یا نو عمر فرد کو ایسی سرگرمی میں مشغول کرے، استعمال کرے، حاصل کرے یا پیش کرے جو چائلڈ لیبر کی بدترین اقسام میں شمار ہوتی ہو، یا ایسا کام جس میں ملازمت کی کم از کم عمر کی خلاف ورزی ہو۔

(2) چائلڈ لیبر کی بدترین اقسام کے تمام مقدمات، جیسا کہ دفعہ 22 کی شق (ایف) کی ذیلی شقوں (i)، (ii) اور (iii) میں بیان کیا گیا ہے، انسپکٹر کی جانب سے فوری طور پر متعلقہ سرکاری محکمے اور ایجنسی کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے بھیجے جائیں گے۔

26۔ خطرناک کام کی ممانعت:۔ (1) کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ کسی بچے یا نو عمر فرد کو ایسے ادارے میں خطرناک کام پر لگائے یا لگانے کی اجازت دے، جیسا کہ شیڈول 2 میں ذکر کیا گیا ہے۔

(2) اگر انسپکٹر کسی بچے یا نو عمر فرد کو خطرناک یا استحصالی کام میں مشغول پائے، تو وہ ایسے بچے یا نو عمر فرد کو فوری طور پر اس کام سے علیحدہ کرے گا اور اسے ایسے ادارے میں منتقل کرے گا جہاں اس کی تعلیم کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا گیا ہو۔

27۔ کام کے اوقات پر پابندی:۔ (1) کسی نو عمر فرد کا کل دورانیۂ کار، جس میں ایک گھنٹے کا لازمی وقفۂ آرام شامل ہو، ایک دن میں سات گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوگا۔

(2) کسی نو عمر فرد کا کام کرنے کا دورانیہ، کم از کم ایک گھنٹے کے وقفۂ آرام سے پہلے، تین گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوگا۔

(3) ہر نو عمر فرد کو روزانہ کم از کم بارہ مسلسل گھنٹے بلا تعطل آرام کا وقت دیا جائے گا۔

(4) جو شخص کسی نو عمر فرد کو کام کے لیے انگیج کرے، وہ:

(اے) اسے شام سات بجے سے صبح آٹھ بجے کے درمیان، یا اوور ٹائم، ہفتہ وار تعطیلات اور عوامی تعطیلات کے دوران کام پر نہیں لگائے گا؛ اور

(بی) اسے اس دن کسی بھی ادارے میں کام پر نہیں لگائے گا جس دن وہ پہلے ہی کسی دوسرے ادارے میں کم از کم چھ گھنٹے کام کر چکا ہو۔

28۔ عمر کے تنازعہ کا حل:۔ اگر کسی بچے یا نو عمر فرد کی عمر کے بارے میں کوئی تنازعہ پیدا ہو، جو کسی ادارے میں ملازمت پر ہے یا کام کرنے کی اجازت رکھتا ہے، تو اس کا فیصلہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ فارم "ب" یا کسی مجاز اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ تاہم، اگر ایسے دستاویزات موجود نہ ہوں، تو انسپکٹر معاملہ کسی مقررہ طبی اتھارٹی کو بھجوائے گا جو عمر کا تعین کرے گی، اور اس اتھارٹی کا فیصلہ بچے یا نو عمر فرد کی عمر کے تعین کے لیے حتمی ثبوت ہوگا۔

29۔ طبی معائنہ کروانے کا اختیار:۔ (1) اگر کسی انسپکٹر کی یہ رائے ہو کہ:

(اے) کوئی شخص جو کسی ادارے میں بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے کام کر رہا ہے، ایک نو عمر فرد ہے؛ یا(بی) کوئی نو عمر فرد جو کسی فٹنس سرٹیفکیٹ کے ساتھ ادارے میں کام کر رہا ہے، اب اس حیثیت میں کام کرنے کے قابل نہیں رہا؛

تو انسپکٹر، قابض (آکو پائیر) کو نوٹس جاری کر سکتا ہے جس میں یہ ہدایت دی جائے گی کہ ایسا شخص یا نو عمر فرد کسی تصدیق کنندہ سرجن یا پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مجاز میڈیکل پریکٹیشنر سے طبی معائنہ کروائے، اور اگر انسپکٹر حکم دے تو، ایسے شخص یا نو عمر فرد کو جب تک معائنہ نہ ہو جائے اور اسے موزونیت (فٹنس) کا سرٹیفکیٹ یا، حسبِ صورت، نیا سرٹیفکیٹ نہ مل جائے، کسی بھی ادارے میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

(2) طبی معائنہ کے اخراجات قابض (آکو پائیر) خود برداشت کرے گا۔

30۔ رجسٹر رکھنا:۔ قابض (آکو پائیر) کو ان نو عمر افراد کے بارے میں ایک رجسٹر رکھنا ہو گا جو ادارے میں کام کر رہے ہوں یا کام کرنے کی اجازت رکھتے ہوں، اور وہ رجسٹر کسی بھی وقت انسپکٹر کے معائنہ کے لیے دستیاب ہونا چاہیے، جس میں درج ذیل معلومات شامل ہوں:

(اے) ہر نو عمر فرد کا نام اور تاریخِ پیدائش؛(بی) ان افراد کے کام کے اوقات اور وقفے؛(سی) نو عمر فرد کے کام کی نوعیت؛ اور(ڈی) ایسی دیگر تفصیلات جو مقرر کی جائیں۔

31۔ انسپکٹر کو اطلاع:۔ ہر ادارہ کا قابض، جہاں کوئی نو عمر فرد ملازم ہو یا کام کرنے کی اجازت رکھتا ہو، پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ یا نو عمر فرد کی ملازمت، جو بھی بعد میں ہو، کے تیس دن کے اندر انسپکٹر کو، جس کے دائرۂ اختیار میں ادارہ واقع ہو، تحریری یا الیکٹرانک طریقے سے اطلاع دے گا جس میں درج ذیل معلومات شامل ہوں گی:

(اے) ادارے کا نام، مقام اور پتہ؛(بی) اس شخص کا نام جو ادارے کے انتظام کا اصل ذمہ دار ہو؛(سی) نو عمر فرد کا نام، عہدہ، تنخواہ اور دیگر تفصیلات؛ اور(ڈی) ادارے میں انجام دیے جانے والے پیشے یا عمل کی نوعیت۔

32۔ کام کرنےکا قیاس:۔ (1) ذیلی دفعہ (2) کے تابع، اگر کوئی بچہ یا نو عمر فرد کسی کام کی جگہ کے احاطے میں موجود پایا جائے، تو یہ قیاس کیا جائے گا کہ وہ بچہ یا نو عمر فرد اس ادارے میں کام کر رہا ہے یا اسے کام کی اجازت دی گئی ہے۔

(2) دفعہ ہذا کا اطلاق ان طلبہ پر نہیں ہوگا جو کسی تعلیمی ادارے کی ہدایت یا نگرانی میں تعلیمی مقاصد کے لیے ادارے کا دورہ کر رہے ہوں۔

(3) اگر معائنہ کے دوران کسی انسپکٹر کو کوئی بچہ لیبر کوڈ کے برخلاف ملازمت پر رکھا ہوا ملے تو انسپکٹر اس بچے کو فوری طور پر کام سے ہٹوائے گا۔

(4) انسپکٹر بچے کی ذہنی اور جسمانی حالت کا ابتدائی جائزہ لے گا، اور حسبِ صورت والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی کے ساتھ یا اس کے بغیر، بچے کو کسی تعلیمی یا فلاحی ادارے کے سپرد کر سکے گا۔

باب 2.4 – مساوی مواقع اور سلوک

33۔ امتیاز کے خلاف ذمہ داریاں:۔(1) کوئی بھی آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کسی ورکر کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرے گا۔(2) کوئی ورکر دوسرے ورکر کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرے گا۔(3) یہ جانچتے وقت کہ آیا کسی امتیاز، استثناء یا ترجیح کا امتیازی اثر ہے، یہ بات غیر متعلقہ ہوگی کہ:(اے) آیا اس اثر کا ارادہ کیا گیا تھا یا نہیں؛ اور(بی) آیا یہ اثر کسی فعل یا ترکِ فعل کا نتیجہ تھا۔(4) کسی خاص ملازمت کے لازمی تقاضوں کی بنیاد پر دیا گیا امتیاز، استثناء یا ترجیح امتیاز تصور نہیں کیا جائے گا۔(5) مساوات کو فروغ دینے یا حاصل کرنے کے لیے مخصوص حفاظتی اور امدادی اقدامات کو امتیاز نہیں سمجھا جائے گا۔

34۔ بلاواسطہ اور بالواسطہ امتیاز:۔(1) دفعہ 33 میں دی گئی ذمہ داریاں براہ راست اور بالواسطہ دونوں قسم کے امتیاز کو شامل کرتی ہیں۔(2) براہ راست امتیاز اس وقت ہوتا ہے جب کم سازگار سلوک واضح یا ضمنی طور پر ایک یا زیادہ ممنوعہ بنیادوں پر مبنی ہو اور اس میں جنسی یا دیگر قسم کی ہراسگی بھی شامل ہے۔(3) بالواسطہ امتیاز اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص بظاہر غیر جانبدار شرط، تقاضا یا طریق کار عائد کرتا ہے یا عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو:(اے) ممنوعہ بنیاد کی وجہ سے افراد کو غیر متناسب نقصان پہنچانے والا ہو یا ایسا ہونے کا امکان ہو؛ اور(بی) ملازمت کے لازمی تقاضوں کے پیش نظر مناسب نہ ہو۔(4) اس بات کا ثبوت دینے کی ذمہ داری کہ:(اے) کم سازگار سلوک امتیاز سے متعلق نہیں ہے؛ اور(بی) ذیلی دفعہ (3) کی شق (بی) میں مذکور شرط، تقاضا یا طریق کار مناسب ہے، آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) پر ہوگی۔

35۔ ممنوع بنیادیں:۔(1) باب ہذا میں ممنوع بنیادیں درج ذیل ہوں گی:(اے) نسل؛(بی)رنگ؛(سی) جنس و صنف؛(ڈی)حمل؛(ای) عمر؛(ایف)خاندانی ذمہ داریاں؛(جی)مذہب بشمول فرقہ اور عقیدہ؛(ایچ)سیاسی رائے؛(آئی)قومی اصل؛(جے)نسلی شناخت؛(کے) معاشرتی پس منظر بشمول ذات؛(ایل) ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں شرکت یا عدم شرکت؛(ایم) زبان بشمول لہجہ؛(این) معذوری؛ اور(او) ظاہری شکل و صورت۔(2) باب ہذا کے لیے "خاندانی ذمہ داریاں" سے مراد ہیں:(اے) مرد اور خواتین ورکرجن کی زیر انحصار بچوں کے حوالے سے ذمہ داریاں ہوں، بشمول زچگی کی رخصت اور پدری رخصت کے دوران؛ اور(بی) مرد اور خواتین ورکرز جن کی قریبی خاندان کے دیگر اراکین کے حوالے سے ذمہ داریاں ہوں جنہیں واضح طور پر ان کی دیکھ بھال یا تعاون کی ضرورت ہو۔(3) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کے بارے میں یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس نے خاندانی ذمہ داریوں کی بنیاد پر کسی دوسرے شخص کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے محض اس وجہ سے کہ اس نے معقول کاروباری وجوہات کی بنا پر اس شخص کی خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق کسی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کیا ہو۔

(4) پنجاب لیبر کوڈ کے لیے، "معذوری" کا مطلب وہی ہے جو قانون معذور افراد کو بااختیار بنانا پنجاب 2022(42بابت 2022) میں درج ہے۔

(5) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے معذوری کی بنیاد پر کسی دوسرے شخص کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے اگر وہ معقول سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہے، جن میں ضروری امدادی آلات و سازوسامان شامل ہیں جو معذور شخص کو اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے معقول طور پر درکار ہوں۔

36۔ مساوی اجرت کی ذمہ داری:۔ (1) کوئی آجر، پرنسپل یا قابض، مساوی قدر کے کام کے لیے تمام اصناف کے ورکرز کو برابر معاوضہ ادا کرے گا۔

(2) مساوی قدر کے کام کے لیے مساوی معاوضۂ کار سے مراد وہ اجرتی شرحیں ہیں جو صنفی امتیاز کے بغیر مقرر کی گئی ہوں۔

(3) ذیلی دفعہ (1) کے مقاصد کے لیے، "معاوضے" میں یوٹیلیٹی الاؤنس اور ہنگامی (کنٹیجنٹ) الاؤنس شامل ہوں گے۔

(4) ورکرز کے درمیان ایسی مختلف شرحیں جو صنف کو مدنظر رکھے بغیر، کسی معروضی جاب اپریزل کی بنیاد پر انجام دیے گئے کام کے فرق کو ظاہر کرتی ہوں، مرد و خواتین ورکرز کے لیے مساوی قدر کے کام کے مساوی معاوضۂ کار کے اصول کی خلاف ورزی تصور نہیں ہوں گی۔

(5) یہ تعین کرنے کے لیے کہ آیا ذیلی دفعہ (1) کے تحت کوئی کام مساوی قدر رکھتا ہے، درج ذیل عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا لیکن یہ ان تک محدود نہیں ہوں گے: پیشہ ورانہ قابلیت اور مہارت، کام کی کوشش، ذمہ داریاں اور کام کرنے کا ماحول۔

(6) ذیلی دفعہ (4) کے لیے "جاب اپریزل" سے مراد ایسا طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے جابز کا معروضی موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ تنخواہ یا اجرت کے پیمانے میں ایک جاب کی دوسرے کے مقابلے میں نسبتی حیثیت طے کی جا سکے۔ جاب اپریزل کا طریق کار صنف سے قطع نظر جابز کی درجہ بندی فراہم کرے گا اور مساوی قدر کے کام کے لیے مساوی معاوضۂ کار کے اصول کو یقینی بنائے گا۔

(7) حکومت، ورکرز اور آجروں کے نمائندگان سے مشاورت کے بعد، دفعہ ہذا سے متعلق معاملات کے لیے رہنما اصول تیار کرے گی۔

37۔ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بنائی گئی دستاویزات میں مساوی معاوضۂ کار کا لحاظ:۔ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت دیا گیا کوئی بھی ایوارڈ، فیصلہ، عدالتی فیصلہ، تصفیہ، اجتماعی معاہدہ، ضابطہ، قاعدہ یا کوئی دوسری دستاویز، جہاں تک وہ معاوضۂ کار سے متعلق ہو، اس میں مرد و خواتین کو مساوی قدر کے کام کے لیے مساوی معاوضہ دینے کے اصول کو لاگو کیا جائے گا۔

باب 2.5 – پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت

38۔ تعریفات:۔باب ہذا میں،’’مصرحہ‘‘ یا مقررہ" سے مراد سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد میں مقرر کردہ ہے۔

اے۔کام کی جگہ پر سیفٹی اور صحت سے متعلق ذمہ داریاں۔

39۔ خطرات کا نظم و نسق:۔ کسی شخص پر عائد سیفٹی اور صحت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ:

(اے) جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، سیفٹی اور صحت سے متعلق خطرات کو ختم کرے؛ اور(بی) اگر خطرات کو مکمل طور پر ختم کرنا معقول طور پر ممکن نہ ہو، تو جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، ان خطرات کو کم سے کم کرے۔

40۔ "معقول حد تک ممکن" کا مفہوم:۔ سیفٹی اور صحت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کے حوالے سے "معقول حد تک ممکن" سے مراد وہ اقدام ہے جو کسی مخصوص وقت میں، تمام متعلقہ عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے، معقول طور پر کیا جا سکتا ہو، جن میں درج ذیل شامل ہیں:(اے) متعلقہ خطرے یا خطرناک صورت حال کے وقوع پذیر ہونے کا امکان؛(بی) اس خطرے یا ضرر سے ہونے والے ممکنہ نقصان کی شدت؛(سی) متعلقہ شخص کو جو علم ہے یا معقول طور پر ہونا چاہیے، اس بارے میں:(i) اس خطرے یا ضرر کے بارے میں؛ اور(ii) اس خطرے کو ختم یا کم کرنے کے طریقوں کے بارے میں؛(ڈی) خطرے کو ختم یا کم کرنے کے طریقوں کی دستیابی اور موزونیت؛ اور(ای) خطرے کی شدت اور اس کو ختم یا کم کرنے کے دستیاب طریقوں کا جائزہ لینے کے بعد، ان طریقوں پر آنے والی لاگت، بشمول یہ کہ آیا یہ لاگت خطرے کے مقابلے میں انتہائی غیر متناسب تو نہیں۔

41۔ بیک وقت اور باہم متداخل ذمہ داریاں:۔ (1) کسی شک و شبہ سے بچنے کے لیے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کسی ایک وقت میں کوئی شخص باب ہذا کے تحت عائد کردہ کسی ذمہ داری کے حوالے سے دو یا زیادہ حیثیتیں رکھ سکتا ہے، جیسے:(اے) آجر؛(بی)پرنسپل؛(سی) کام کی جگہ کا قابض؛(ڈی)ٹھیکیدار؛(ای) ذیلی ٹھیکیدار؛(ایف)سیلف ورکر؛(جی) کام کے لیے استعمال ہونے والی مشینری، سازوسامان یا خطرناک مواد کا ڈیزائنر، صنعتکار یا فراہم کنندہ؛(ایچ) مشینری یا سازوسامان کا نصب کرنے والا، لگانے والا یا اس میں ترمیم کرنے والا؛(آئی) ایسی مشینری جو مکینیکل پاور سے چلتی ہو اس کا مالک، کرایہ پر لینے والا یا لیز پر لینے والا، یا ایسا شخص جو کام کے دوران اس مشینری کی دیکھ بھال کرتا ہو:اور پنجاب لیبر کوڈ متعلقہ شخص پر فرائض یا ذمہ داریاں عائد کر سکتا ہے۔(2) ہر ذمہ دار فرد پر یہ لازم ہے کہ وہ پنجاب لیبر کوڈ میں درج معیارات کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرے، اگرچہ کوئی دوسرا فرد بھی وہی ذمہ داری رکھتا ہو۔کسی شخص پر پنجاب لیبر کوڈ کے تحت عائد کردہ کوئی ذمہ داری یا واجب الادا امر اس بنیاد پر کم یا متاثر نہیں ہوگا کہ وہی ذمہ داری ایک یا زیادہ دیگر افراد پر بھی عائد ہو، خواہ وہ ایک ہی حیثیت میں ہوں یا مختلف حیثیتوں میں۔(3) اگر کسی ایک ہی کام کی جگہ میں ایک سے زیادہ افراد کسی معاملے کے حوالے سے ذمہ داری رکھتے ہوں، تو ہر فرد:

(اے) اس معاملے سے متعلق اپنی ذمہ داری کا خود ذمہ دار ہوگا؛ اور(بی) اس حد تک اپنی ذمہ داری نبھائے گا، جس حد تک وہ فرد اس معاملے پر اثر انداز ہونے یا اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، یا یہ صلاحیت رکھ سکتا تھا اگر کوئی معاہدہ یا انتظامی بندوبست اس صلاحیت کو محدود یا ختم کرنے کا باعث نہ بنتا۔

(4) جب بھی ذیلی دفعہ (1) میں درج ایک سے زیادہ افراد ایک ہی وقت میں ایک ہی کام کی جگہ پر سرگرم ہوں، تو ان پر لازم ہوگا کہ وہ باب ہذا کے تحت اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے آپس میں تعاون کریں۔

42۔ فرائض، سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز اور دیگر مواد کے درمیان باہمی تعامل:۔ (1) باب ہذا میں درج ایک یا زائد ذمہ داریاں ادا کرتے وقت، ہر شخص پر لازم ہوگا کہ وہ دفعہ 70 کے تحت بنائے گئے سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز کی پابندی کرے۔

(2) باب ہذا میں بیان کردہ ذمہ داریاں، سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز کی غیر موجودگی میں بھی، ہر شخص پر لاگو ہوں گی۔

(3) ہر شخص پر یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً عائد کی جانے والی اضافی ذمہ داریوں کی تعمیل کرے، اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ معیارات، ہدایات، اور ضابطۂ عمل کی پیروی کرے۔

43۔ آجر، پرنسپل اور قابض (آکو پائیر) کی ذمہ داریاں:۔ (1) ہر شخص پر یہ لازم ہوگا کہ، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو،درج ذیل ورکرز کی کام کے دوران صحت اور تحفظ کو یقینی بنائے:

(اے) وہ ورکرز جو اس شخص نے، براہِ راست یا کسی ٹھیکیدار کے ذریعہ، ملازم رکھے ہوں یا رکھوائے ہوں؛ اور(بی) وہ ورکرزجن کی کام کی انجام دہی میں سرگرمیاں اس شخص کے زیر اثر یا ہدایت یافتہ ہوں۔(2) ذیلی دفعہ (1) کی وسعت کو محدود کیے بغیر، ہر آجر پر یہ لازم ہے کہ وہ، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، ایسے اقدامات کرے جو اس کے ملازمین کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہوں۔(3) ذیلی دفعہ (4) سے مشروط اور ذیلی دفعہ (1) کی وسعت کو محدود کیے بغیر، ہر پرنسپل پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، ایسے اقدامات کرے جو درج ذیل افراد کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہوں:

(اے) ایسا کوئی ٹھیکیدار جسے پرنسپل نے کام پر رکھا ہو، جب وہ کام پر ہو؛(بی) ایسا کوئی بلاواسطہ یا بالواسطہ ذیلی ٹھیکیدار جسے مذکورہ ٹھیکیدار نے کام پر رکھا ہو، جب وہ کام پر ہو؛ اور(سی) مذکورہ ٹھیکیدار یا ذیلی ٹھیکیدار کا ایسا کوئی ملازم، جب وہ کام پر ہو۔(4) ذیلی دفعہ (3) کے تحت پرنسپل پر عائد ذمہ داری صرف اس صورت میں لاگو ہوگی جب مذکورہ ٹھیکیدار، ذیلی ٹھیکیدار یا ملازم، پرنسپل کی ہدایات کے مطابق کام کی انجام دہی کر رہا ہو۔(5) ہر وہ شخص جو آجر یا پرنسپل ہو، اس پر لازم ہوگا کہ وہ، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، یہ بھی یقینی بنائے کہ اس کے احکامات یا نگرانی میں انجام دیے جانے والے کام سے کسی اور شخص کی صحت یا تحفظ کو خطرہ لاحق نہ ہو۔(6) ذیلی دفعہ (1) کی وسعت کو محدود کیے بغیر، ہر قابض (آکو پائیر) پر لازم ہوگا کہ وہ، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، یہ یقینی بنائے کہ اس کے زیرِکنٹرول کام کی جگہیں، مشینری، آلات، اور کام کے طریقۂ کار، محفوظ ہوں اور کسی شخص کی صحت کے لیے خطرناک نہ ہوں، خواہ وہ شخص کام کی جگہ پر ہو یا آس پاس ہو۔(7) دفعہ ہذامیں درج دیگر ذمہ داریوں کو محدود کیے بغیر، ہر وہ شخص جو آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) ہو، اس پر لازم ہوگا کہ وہ، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو:(اے) نظامِ کار یا کام کے طریق کار میں موجودہ اور نئے طبعی اور نفسیاتی و سماجی خطرات کی باقاعدہ بنیادوں پر منظم اور مؤثر شناخت کو یقینی بنائے؛(بی) ایسے خطرات کو ختم کرے، اور اگر ان کا خاتمہ معقول حد تک ممکن نہ ہو، تو انہیں کم سے کم سطح پر لائے؛(سی) کام کی صحت و تحفظ کے انتظامی نظام کو منظم انداز میں نافذ کرے تاکہ ایسے نظام، طریقۂ کار، اور کاموں کی فراہمی اور عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے جو محفوظ ہوں اور صحت کے لیے مضر نہ ہوں؛(ڈی) کام کی جگہ کو ہر قسم کے تشدد اور ہراسانی بشمول جنسی ہراسانی سے پاک رکھے، جیسا کہ دفعہ ‎50 میں بیان کیا گیا ہے؛(ای) اگر دفعہ ‎53 لاگو ہو، تو ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے نمائندوں کی تربیت کے انتظامات کرے، بشمول سالانہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی ٹریننگ میں شرکت، جو چیف انسپکٹر کی منظوری سے ہو، اور اس تربیت کے تمام اخراجات خود برداشت کرے؛(ایف) تمام ورکرز کو کام کی صحت و تحفظ سے متعلق مناسب تربیت فراہم کرے؛(جی) اپنے ماتحت ورکرز کو، اپنے خرچ پر، مقررہ وقفوں پر کام سے متعلقہ بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے (ویکسینیشن اور انوکولیشن) لگوائے؛(ایچ) ایسے اوزار، مشینری، آلات، اور ساز و سامان فراہم اور برقرار رکھے جو محفوظ ہوں اور کسی نقصان کا سبب نہ بنیں؛(آئی) ورکرز اور دیگر افراد کو جسمانی، کیمیائی، حیاتیاتی، ریڈیولوجیکل، ارگونومک، نفسیاتی و سماجی یا دیگر خطرات سےبچائے؛(جے) پنجاب لیبر کوڈ اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی رولز کے مطابق ضروری معلومات، ہدایات، تربیت اور نگرانی فراہم کرے؛(کے) کام کی جگہ کو محفوظ، صاف، منظم اور نقصان سے پاک حالت میں رکھے، اور ورکرز کے لیے کام کی جگہ میں محفوظ آمد و رفت کے ذرائع فراہم اور برقرار رکھے؛(ایل) اپنے احکامات یا زیراثر کام کرنے والے ہر ورکر کو، کام شروع ہونے سے پہلے، ان کے کام سے متعلق خطرات، ممکنہ نقصانات اور احتیاطی و حفاظتی اقدامات سے واضح، قابلِ فہم اور تحریری صورت میں آگاہ کرے؛(ایم) جہاں خطرات کو دیگر طریقوں سے ختم یا کنٹرول نہ کیا جا سکتا ہو، وہاں ورکرز کو، اپنے خرچ پر، ایسا حفاظتی لباس اور آلات فراہم کرے جو پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈہیلتھ کونسل کی منظوری سے ہوں، تاکہ ہر قسم کے خطرے اور صحت پر مضر اثرات سے مکمل تحفظ ممکن ہو؛(این) جنرل رجسٹر میں ایسے تمام واقعات کی تفصیل درج کرے جن کے نتیجے میں چوٹ یا بیماری ہوئی ہو، اور تمام خطرناک وقوعات، بشمول آمد و رفت کے دوران، اور کام سے متعلق پیشہ ورانہ بیماریوں کے مشتبہ کیسز، اور اس کی ایک نقل انسپکٹر اور کمشنر برائے ملازمین معاوضہ کو ارسال کرے؛(او) ایمرجنسی کی صورت، خطرناک وقوعات، زخم، بیماری، موت یا صنعتی حادثات سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات اور ابتدائی طبی امداد کے انتظامات فراہم کرے؛(پی) آگ یا دھماکے کی روک تھام اور ایسی صورت میں حفاظتی اقدامات کے لیے تمام عملی اقدامات کرے۔

(5) ہر آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) پر لازم ہوگا کہ وہ کام کی جگہ پر پیش آنے والے کسی بھی حادثہ یا نقصان کی تفصیلات کو دفعہ ‎59 کے مطابق ریکارڈ کرے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام معقول حد تک ممکن اقدامات کرے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جائے تاکہ اس کے اسباب معلوم کیے جا سکیں اور ایسی تحقیقی رپورٹ انسپکٹر کو پیش کرے۔

44۔ سیفٹی اور ہیلتھ پالیسی کا تحریری بیان:۔ ہر آجر، پرنسپل اور قابض، جن پر یہ پنجاب لیبر کوڈ لاگو ہوتا ہے، سوائے ایسی صورتوں کے جو حکومت مقرر کرے، ایک تحریری بیان جاری کرے گا جو کام کی جگہ پر ان کے زیراثر تمام افراد کی حفاظت اور صحت کے بارے میں عمومی پالیسی ہو۔یہ بیان مشاورت، کام کی جگہ پر حفاظت کے تنازعات کے حل اور اموات، چوٹوں اور قریب وقوعہ کی رپورٹنگ کے طریق کار کے بارے میں دفعات پر مشتمل ہوگا۔اس پالیسی پر اس وقت نظر ثانی اور ترمیم کی جائے گی جب:(اے) حفاظت کے خطرات کے انتظام کے طریق کار کو متعارف کرایا جائے یا تبدیل کیا جائے؛ اور(بی) ایسی تبدیلیاں تجویز کی جائیں جو حفاظت، صحت یا فلاح کو متاثر کرسکتی ہوں، چاہے وہ کام کی جگہ کی عمارت ہو، کام کے نظام یا طریق کار ہوں، یا کام میں استعمال ہونے والے پلانٹ یا مادے ہوں۔لیکن کم از کم مقرر کردہ مدت کے بعد، پالیسی کا جائزہ لیا جائے گا۔پالیسی اور اس میں کی گئی ترامیم کو کام کی جگہ پر موجود تمام افراد کے علم میں لایا جائے گا، ان زبانوں میں جو وہ سمجھ سکیں۔

45۔ ورکرز کے فرائض:۔ہر ورکر پرکام کی جگہ پرلازم ہے کہ:(اے) اپنی اور دیگر افراد کی حفاظت کے لیے مناسب احتیاط کرے جو اس کے اعمال یا غفلت سے متاثر ہو سکتے ہیں، بغیر جان بوجھ کر کسی کو خطرے میں ڈالے؛(بی) حفاظت اور صحت سے متعلق ذمہ داریوں کے سلسلے میں آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کے ساتھ تعاون کرے؛(سی) کسی بھی حادثے، صحت کو نقصان پہنچنے یا خطرناک واقعہ کی فوری اطلاع آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کو دے؛(ڈی) تشدد یا ہراسانی، بشمول جنسی ہراسانی، میں ملوث نہ ہو جیسا کہ دفعہ 50 میں بیان کیا گیا ہے؛(ای) حفاظتی لباس اور حفاظتی آلات کا صحیح استعمال یقینی بنائے؛(ایف) کسی بھی وسائل، آلات، ساز و سامان یا دیگر چیزوں میں جان بوجھ کر مداخلت یا غلط استعمال نہ کرے؛ اور(جی) اگر کسی خطرناک مقام سے فرار ہونا پڑے تو فوراً اس صورتحال کی اطلاع اپنے سپروائزر کو دے۔

46۔ سیلف ورکر کے فرائض:۔ ہر سیلف ورکر درج ذیل امور کا پابند ہوگا::(اے) کام کی جگہ پر تمام ورکرز کی سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق ذمہ داریوں کا تعین کرے؛(بی) کام کی جگہ پر سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے تحفظ کے سلسلے میں آجروں، قابضین، پرنسپلز، ذیلی ٹھیکے داروں، دیگر سیلف ورکرز، سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندگان، اورسیفٹی اینڈ ہیلتھ کی کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کرے؛(سی) ایسا طریقۂ کار اختیار کرے جس سے کام کی جگہ پر کسی کی صحت یا حفاظت کو خطرہ لاحق نہ ہو؛ اور(ڈی) ایسی معلومات قابض، ٹھیکے دار، ذیلی ٹھیکے دار، دیگر سیلف ورکر، سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندگان، اورسیفٹی اینڈ ہیلتھ کی کمیٹیوں کو فراہم کرے جو دوسروں کی سیفٹی اینڈ ہیلتھ کو متاثر کر سکتی ہوں۔

47۔ مخصوص احاطہ جات کے نگران افراد کے فرائض، ان افراد کے لیے جو ان کےورکر نہیں ہیں:۔ ہر وہ شخص جو ورکرنہ ہو لیکن کسی احاطے کو استعمال کر رہا ہو، اُس پر لازم ہے کہ جہاں تک مناسب طور پر قابلِ عمل ہو، یہ یقینی بنائے کہ احاطہ، اس میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کے تمام ذرائع جو ایسے افراد کے استعمال کے لیے دستیاب ہوں جو اس احاطے کو استعمال کر رہے ہوں، اور احاطے میں موجود کوئی بھی پلانٹ یا مواد، محفوظ طریقے سے اور بغیر کسی صحت کے خطرے کے استعمال کیا جائے۔

48۔ اشیاء اور مادّوں سے متعلق تیار کنندگان کے فرائض:۔ ہر وہ شخص جو کسی اوزار، مشینری، ساز و سامان تیار کرتا ہے، جوڑتا ہے، نصب کرتا ہے، قائم کرتا ہے یا کسی مادّے کو کام کی جگہ پر استعمال کے لیے ذخیرہ کرتا ہے، اُس پر لازم ہوگا کہ:(اے) اسمبلنگ، تنصیب، قیام (ایریکشن) یا ذخیرہ محفوظ طریقے سے ہو؛(بی) جس شخص کو ایسے اوزار، مشینری، ساز و سامان استعمال کرنا ہو یا ایسے مادّے کو سنبھالنا ہو، اُسے ان کے استعمال، چلانے، سنبھالنے اور دیکھ بھال سے متعلق تمام معلومات فراہم کی جائیں۔

49۔ کام میں استعمال ہونے والے سامان کے حوالے سے فراہم کنندہ کے فرائض:۔(1) دفعہ ہذا میں:(اے) "آرٹیکل" سے مراد آلے، مشینری، ساز و سامان یا مواد، بشمول کیمیائی اور حیاتیاتی مادے ہیں جو کام میں استعمال ہوتے ہیں؛(بی) "فراہم کنندہ" (سپلائر) سے مراد وہ شخص ہے جو کسی اوزار، ساز و سامان، مشین، آلہ یا کسی حیاتیاتی، کیمیائی یا طبعی عامل کو کسی ورکر یا کام کی جگہ پر استعمال کے لیے فراہم کرتا، فروخت کرتا، کرایہ پر دیتا یا تقسیم کرتا ہے۔

(2) یہ فراہم کنندہ کا فرض ہوگا کہ جو کوئی بھی کام کی جگہ پر استعمال کے لیے کوئی شے فراہم کرے، وہ درج ذیل مخصوص اقدامات کرے، جو اس حد تک کافی ہوں کہ:(اے) جہاں تک مناسب طور پر قابلِ عمل ہو، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شے کو اس طرح ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہو کہ جب اس کا درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ محفوظ ہو اور صحت کے لیے کسی خطرے کا باعث نہ بنے؛(بی) ایسی جانچ اور معائنہ خود کرے یا کرانے کا انتظام کرے، جیسا کہ سابقہ شق میں اس پر عائد کردہ فرض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہو؛(سی) یہ یقینی بنائے کہ جب کام میں اس شے کو استعمال کیا جائے، تو اس کے استعمال، اس مقصد کے لیے جس کے لیے اسے ڈیزائن اور تجربہ کیا گیا ہو، اور کسی بھی ایسی حالت سے متعلق مناسب معلومات دستیاب ہوں جو یہ یقینی بنائے کہ اس استعمال کے دوران وہ شے محفوظ رہے اور صحت کے لیے کوئی خطرہ نہ ہو۔

(3) دفعہ ہذا میں، اوزار، مشینری اور ساز و سامان کی فراہمی میں ان کی سنبھال، جوڑنے، نصب کرنے، قائم کرنے اور جانچنے کے اعمال بھی شامل ہوں گے۔

50۔ کام کی جگہ پر تشدد اور ہراسانی کے حوالے سے تمام افراد کے فرائض:۔(1) کوئی بھی شخص کام کے دوران تشدد اور ہراسانی، بشمول جنسی ہراسانی، میں ملوث نہیں ہوگا۔(2) ہر آجر، پرنسپل اور قابض، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، اس امر کو یقینی بنائے گا کہ کام کی جگہیں تشدد اور ہراسانی، بشمول جنسی ہراسانی، سے پاک ہوں۔(3) ہر آجر، پرنسپل یا قابض:(اے) ورکرز اور ان کے نمائندوں سے مشاورت کرتے ہوئے کام کی جگہ پر تشدد اور ہراسانی کے خلاف پالیسی اپنائے اور نافذ کرے؛(بی)پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کے انتظام میں تشدد، ہراسانی اور متعلقہ نفسیاتی خطرات کو مدنظر رکھے؛(سی) ورکرز اور ان کے نمائندوں کی شرکت سے تشدد اور ہراسانی کے خطرات کی شناخت اور ان کے خطرات کا جائزہ لے اور ان کے روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات کرے؛(ڈی) ورکرز اور دیگر متعلقہ افراد کو، حسبِ مناسبت قابلِ رسائی شکل میں، تشدد اور ہراسانی کے نشاندہی شدہ خطرات اور ان سے متعلق روک تھام اور تحفظ کے اقدامات کے بارے میں، بشمول ورکرز اور دیگر متعلقہ افراد کے حقوق اور ذمہ داریوں کے، معلومات اور تربیت فراہم کرے؛(ای) کام کی جگہ یا داخلی ویب سائٹ پر ایسی معلومات شائع کرے جو اس طرح کے رویوں کی رپورٹنگ اور نمٹنے کے لیے ادارے کی سطح پر موجود طریق کار، اور متعلقہ فورم کے رابطہ تفصیلات سے متعلق ہوں۔

51۔ شکایات کے ازالے کی کمیٹی:۔(1) ہر ایسے ادارے میں جہاں دس سے زائد ملازمین ہوں، آجر، پرنسپل یا قابض جو بھی مناسب ہوایک کمیٹی برائے شکایات کا ازالہ قائم کرے گا تاکہ امتیاز، تشدد اور ہراسانی کے متعلق شکایات کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ اس کمیٹی میں تین ارکان ہوں گے جن میں سے ایک رکن سینئر انتظامیہ کا ہوگا، ایک ورکرز کا نمائندہ ہوگا اور ورک فورس میں خواتین کی موجودگی کی صورت میں کم از کم ایک رکن خاتون ہوگی۔(2) کمیٹی ہر شکایت یا متعلقہ رپورٹ وصول کرے گی، تحقیقات کرے گی اور اسے اس انداز میں سنبھالے گی جو امتیاز، تشدد اور ہراسانی کے لیے زیرو ٹولیرنس کو ظاہر کرے، ساتھ ہی راز داری اور انسانی وقار کا احترام کیا جائے گا اور شکایات یا رپورٹس کی وصولی، تحقیقات اور انتظام میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔(3) تحریری شکایت موصول ہونے پر، کمیٹی برائے شکایات ازالہ وہی طریق کار اختیار کرے گی جو حصہ سوم میں نظم و ضبط کے اقدامات کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔(4) دفعہ ہذا میں شامل کوئی امر سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندوں اور کمیٹیوں کے اختیارات اور افعال کو محدود نہیں کرے گا جو کام کی جگہ پر تشدد اور ہراسانی روکنے کے سلسلے میں ذمہ دار ہیں۔

بی۔سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے فرائض کے نفاذ کے لیے کام کی جگہ پر مشاورتی انتظامات

52۔ ورکرز سے مشاورت:۔(1) آجر، پرنسپل اور قابض، جہاں تک معقول حد تک ممکن ہو، ان ورکرز سے مشاورت کریں گے جو ان کے لیے کام کرتے ہیں اور جو کام کی جگہ کی حفاظت یا صحت کے متعلق معاملے سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں یا ہونے کا امکان ہو۔(2) مشاورت کے لیے ضروری ہے کہ:(اے) متعلقہ معلومات ورکرز کے ساتھ شیئر کی جائیں؛(بی) ورکرز کو مناسب موقع دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں اور کام کی حفاظت یا صحت کے مسائل اٹھائیں، اور فیصلوں میں حصہ لیں؛(سی) کاروبار یا ادارے کے چلانے والے شخص کی طرف سے ورکرز کے خیالات کو مدنظر رکھا جائے؛(ڈی) مشاورت کے نتیجے سے ورکرز کو بروقت آگاہ کیا جائے۔(3) مشاورت میں ہر وہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندہ اور پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی شامل ہوگی جو ان ورکرز کی ذمہ دار ہو جو مشاورت کے موضوع والے معاملے سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں یا ہونے کا امکان ہو۔

53۔ سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندگان:۔(1) ہر ایسی جگہ جہاں 30 یا اس سے زیادہ ورکرہوں، ایک یا زیادہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندے مقرر کیے جا سکتے ہیں:(اے) اگر کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود ہو تو وہ اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ؛ یا(بی) اگر اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود نہ ہو تو ورکرز کی جانب سے انتخاب کے ذریعے:اور ایسے نمائندگان کام کے دوران حفاظت، صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق تمام معاملات میں اس کام کی جگہ کے ورکرز کی نمائندگی کریں گے۔(2) سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندہ اس کام کی جگہ کے ورکرز کی نمائندگی کرنے کا حق رکھتا ہے چاہے وہ ایک ہی آجر یا پرنسپل کے تحت کام کرتے ہوں یا نہیں۔(3) انتخاب کی شروعات درج ذیل افراد کر سکتے ہیں:(اے) آجر، پرنسپل یا مقیم جو ورکرز کو کام پر رکھتا ہو؛(بی)کوئی ورکر؛ یا(سی) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ یا، جہاں اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود نہ ہو، ٹریڈ یونین۔(4) فریقین مندرجہ ذیل باتوں پر اتفاق کریں:(اے) سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندگان کی تعداد جو مقرر کی جائے گی؛(بی) سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندگان کی مدتِ عہدہ؛(سی) ورکرز کے وہ گروپس جن کے لیے ایک یا زیادہ نمائندگان ذمہ دار ہوں گے؛(ڈی) جہاں ذیلی دفعہ (1) کی ضمن (بی) لاگو ہو، وہاں بروقت انتخابی طریق کار:مگرشرط یہ ہے کہ اگر کسی خالی آسامی کے لیے نامزدگیوں کی تعداد آسامیوں کے برابر ہو تو انتخاب کی ضرورت نہیں ہوگی۔(5) ذیلی دفعہ (4) میں لفظ "فریقین" سے مراد:(اے) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ، اور اگر کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ نہ ہو تو ورکرز اور ان کی یونین، اگر کوئی ہو؛(بی) آجر، یا اگر کام کی جگہ پر متعدد فریق ہوں تو اس جگہ پر مکمل کنٹرول رکھنے والا قابض۔(6) اگر فریقین ذیلی دفعہ (4) کے امور پر ذیلی دفعہ (2) کے تحت انتخابات شروع ہونے کی تاریخ سے 30 دن کے اندر کوئی اتفاق رائے نہیں کر پاتے تو کوئی بھی فریق انسپکٹر سے درخواست کر سکتا ہے کہ وہ ان امور پر فیصلہ کرے جو کہ فریقین پر لازم ہوگا۔(7) آجر، پرنسپل اور قابض اس حد تک ذمہ دار ہوں گے کہ کام کی جگہ پر اپنے کنٹرول کے دائرہ کار میں سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندہ کو:(اے) حفاظتی و صحتی امور کی مناسب معلومات دی جائیں، عوامل کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے، اور ایسے اقدامات تجویز کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے؛(بی) جب کوئی بڑے حفاظتی و صحتی اقدامات کا منصوبہ بنایا جائے اور اسے نافذ کرنے سے پہلے نمائندہ سے مشورہ کیا جائے، اور ورکرز کی حمایت حاصل کی جائے؛(سی) کام کے عمل، کام کے مواد یا تنظیم میں تبدیلیوں کی منصوبہ بندی میں مشورہ لیا جائے جو ورکرز کی حفاظت یا صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہوں؛(ڈی) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے معاملات میں فیصلوں کے عمل میں نمائندہ کو شامل کیا جائے؛(ای) کام کی جگہ کے تمام حصوں تک نمائندہ کی رسائی ہو اور کام کے دوران ورکرز سے حفاظتی و صحتی امور پر بات چیت کر سکے؛(ایف) نمائندہ کو لیبر انسپکٹرز سے رابطہ کرنے کی آزادی ہو؛(جی) نمائندہ پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے امور پر مذاکرات میں حصہ لے سکے؛(ایچ) نمائندہ کو اپنے حفاظتی و صحتی فرائض انجام دینے اور متعلقہ تربیت حاصل کرنے کے لیے تنخواہ کے ساتھ کام کے اوقات کے دوران مناسب وقت دیا جائے؛(آئی) نمائندہ کو خاص حفاظتی و صحتی مسائل پر مشورہ دینے والے ماہرین سے رجوع کرنے کی سہولت دی جائے۔(8) آجر اور پرنسپل ہر دو سال کم از کم ایک بار اپنے پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندوں کو سرکاری منظور شدہ حفاظتی و صحتی تربیت میں شرکت کی اجازت دیں گے اور اس کی تمام لاگت بشمول تنخواہ کے ساتھ رخصت، کورس فیس، رہائش و طعام، سفر وغیرہ برداشت کریں گے۔(9) سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندہ استعفیٰ دے گا اگر:(اے) انسپکٹر یہ فیصلہ کرے کہ نمائندہ نے:(i) سنگین بدعملی (مس کنڈکٹ) کی ہو؛(ii) غیر معقول طور پر پنجاب لیبر کوڈ کے مطابق اپنے فرائض پورے نہ کیے ہوں؛ یا(بی) ورکرز کی اکثریت جس گروپ کی نمائندگی کر رہا ہو اس نے اس کا استعفیٰ طلب کیا ہو؛ایسی صورت میں نئے نمائندے کے لیے انتخاب کروایا جائے گا۔(10) سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندہ ذاتی طور پر اس بات کا ذمہ دار نہیں ہوگا جو اس نے نیک نیتی سے کیا یا نہ کیا ہو:(اے) وہ نیک نیتی سے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اختیار یا فرائض انجام دے رہا ہو؛ یا(بی)اسے معقول یقین ہو کہ وہ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اختیار یا فرائض کی ادائیگی میں نیک نیتی سے کام کر رہا ہے۔

54۔ سیفٹی اور ہیلتھ کمیٹیاں:۔(1) ہر کام کی جگہ جہاں پچھلے بارہ مہینوں میں پچاس یا اس سے زیادہ ورکرز ہوں، آجر یا اگر کام کی جگہ پر متعدد فریق ہوں تو وہ قابض جو کام کی جگہ پر مکمل کنٹرول رکھتا ہو، تیس دن کے اندر ایک دوطرفہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی قائم کرے گا، جو کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ورکرز پر مشتمل ہوگی۔(2) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی قائم کی جا سکتی ہے، اور اگر پچاس سے زیادہ ورکرز اس کی درخواست کریں تو لازماً قائم کی جائے گی:(اے) مختلف شعبہ جات یا حصوں کی سطح پر؛ اور(بی) پلیٹ فارم ورک یا آن لائن کیے جانے والے کام کی صورت میں، مخصوص علاقے یا خطے کے ورکرز کے گروپ کے حوالے سے۔(3) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی کی ساخت اور اس میں تقرری کا طریق کار سیفٹی اینڈ ہیلتھ قواعد کے مطابق مقرر کیا جا سکتا ہے۔(4) اگر کام کی جگہ پر سیفٹی اور ہیلتھ نمائندہ موجود ہو اور وہ رضامند ہو تو وہ کمیٹی کا رکن ہوگا۔(5) کمیٹی کے کم از کم نصف ارکان ایسے ورکرز ہوں گے جو آجر یا قابض (آکو پائیر) کی طرف سے نامزد نہ کیے گئے ہوں۔(6) سیفٹی اور ہیلتھ کمیٹی کے فرائض درج ذیل ہیں:(اے) کام کی جگہ پر حفاظت اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے قابض (آکو پائیر) اور ورکرز کے درمیان تعاون کو فروغ دینا،(بی)دفعہ 44 میں مذکور تحریری سیفٹی اور ہیلتھ پالیسی کی تیاری میں قابض (آکو پائیر) کے ساتھ تعاون کرنا؛(سی) کام کی جگہ پر اپنانے والے سیفٹی اور ہیلتھ کے معیارات، قواعد و ضوابط کی تیاری میں معاونت کرنا؛(ڈی)سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز یا قابض (آکو پائیر) اور کمیٹی کے مابین مصرحہ دیگر فرائض۔(7) آجر، یا اگر کام کی جگہ پر متعدد فریق ہوں تو کام کی جگہ پر مکمل کنٹرول رکھنے والا قابض، کمیٹی کے اراکین کو ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے مناسب وقت اور معلومات فراہم کرے گا۔(8) سیفٹی اور ہیلتھ کمیٹی کم از کم ہر تین ماہ بعد ایک بار اجلاس منعقد کرے گی اور کمیٹی کے کم از کم نصف اراکین کی درخواست پر کسی بھی مناسب وقت پر بھی اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔(9) جہاں دفعہ 200 کے تحت ورکس کونسل قائم ہو چکی ہو، وہاں ورکس کونسل دفعہ ہذا کے مقاصد کے لیے سیفٹی اور ہیلتھ کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے، بشرطیکہ کم از کم ایک سیفٹی اور ہیلتھ نمائندہ ورکس کونسل کا رکن ہو۔

55۔ سیفٹی اور ہیلتھ ذمہ داریوں والے ورکرز کا تحفظ:۔(1) کوئی شخص جو آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) ہو، کسی ورکر کو اس وجہ سے برطرف نہیں کرے گا یا اس کے خلاف کوئی دیگر نقصان دہ اقدام (بشمول تنخواہ کی کٹوتی) نہیں کرے گا کہ:(اے) وہ ورکرسیفٹی اور ہیلتھ نمائندہ ہے، رہا ہے یا بننے کا ارادہ رکھتا ہے؛(بی)وہ ورکرسیفٹی اور ہیلتھ کمیٹی کا رکن ہے، رہا ہے یا بننے کا ارادہ رکھتا ہے؛(سی) وہ ورکرباب ہذا کے تحت کسی اختیار کا استعمال کرتا ہے، کر چکا ہے، یا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا کوئی فعل انجام دیتا ہے؛(ڈی)وہ ورکرسیفٹی اور ہیلتھ سے متعلق کسی مسئلے یا تشویش کو اٹھاتا ہے، اٹھا چکا ہے، یا اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے:(i) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کے ساتھ؛

(ii) کسی انسپکٹر کے ساتھ؛

(iii) کسی سیفٹی اور ہیلتھ کے نمائندے یا سیفٹی اور ہیلتھ کمیٹی کے رکن کے ساتھ؛

(iv) کسی ٹریڈ یونین یا اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ، یا کسی دوسرے ورکر کے ساتھ۔(ای) وہ ورکر دفعہ 67 کے تحت حقوق کا استعمال کرتا ہے؛(ایف) وہ ورکر حصہ ششم کے تحت کسی کارروائی میں ملوث ہو۔(2) یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری کہ کسی ورکر کے خلاف برطرفی یا دیگر نقصان دہ کارروائی ذیلی دفعہ (1) میں بیان کردہ وجہ سے نہیں کی گئی، یاجیسی بھی صورت ہو، آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) پر ہوگی۔(3) دفعہ ہذا کی خلاف ورزی دفعہ 392 کے تحت قابل سزا ہوگی۔

56۔ سیفٹی اور ہیلتھ افسر اور ویلفیئر افسران کی تعیناتی:۔ہر ایسی کام کرنے کی جگہ جہاں سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز کی طرف سے صراحت کی گئی ہو، جس شخص کے پاس مکمل کنٹرول ہوگا وہ کرےگا:(اے) مصرحہ طریقے سے کام کی جگہ پر ایک یا ایک سے زائد اہل افراد کوبطورسیفٹی اینڈ ہیلتھ افسر مقرر کرے گا؛ اور(بی)اتنے ویلفیئر افسران کو مقرر کرے گا جن کی تعداد اور اہلیت مقرر کی گئی ہو، تاکہ وہ مصرحہ فرائض اور شرائط پر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

سی۔ پیشہ ورانہ صحت۔

57۔ کام کی جگہ پر متعدی یا وبائی امراض سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر:۔(1) ہر ورکر اور رضاکار کو ایک "حفظان صحت کارڈ" فراہم کیا جائے گا۔ ہر سال جنوری اور جولائی کے مہینوں میں اس کارڈ پر ایک مستند طبی پریکٹیشنر کے معائنے کے بعد یہ اندراج کیا جائے گا کہ ورکر کسی متعدی، وبائی یا پیشہ ورانہ بیماری میں مبتلا نہیں ہیں اس معائنے کی فیس حکومت مقرر کرے گی، اور یہ فیس اس شخص کے ذمہ ہوگی جس نے ورکر کو کام پر رکھا ہے۔(2) اگر ذیلی دفعہ (1) کے تحت معائنے کے دوران کوئی ورکر کسی متعدی، وبائی یا پیشہ ورانہ بیماری میں مبتلا پایا جائے، تو کام پر رکھنے والا شخص اسے تنخواہ کے ساتھ چھٹی اور مناسب طبی علاج فراہم کرے گا۔

(3) ہر ورکر کو مصرحہ بیماریوں کے خلاف اور ان کی طرف سے طے کردہ وقفوں پر ویکسین لگائی جائے گی اور اس کے اخراجات، اگر کوئی ہوں، تو وہ کام کی جگہ کے قابض (آکو پائیر) کے ذمہ ہوں گے۔

(4) چیف انسپکٹر کام کی جگہ کے سائز یا دیگر حالات کی بنا پر، تحریری حکم کے ذریعے، مخصوص قسم کی کام کی جگہوں کے لیے دفعہ ہذا میں نرمی یا ترمیم کر سکتا ہے۔

58۔ تصدیقی سرجن:۔ (1) حکومت پنجاب لیبر کوڈکے مقاصد کے لیے، اپنی صوابدید کے مطابق، ایسے رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز کو تصدیق کنندہ سرجن مقرر کر سکتی ہے، جو ایسی مقامی حدود میں کام کریں گے جو حکومت انہیں بالترتیب تفویض کرے۔

(2) ایک تصدیق کنندہ سرجن کسی بھی رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کو پنجاب لیبر کوڈکے تحت اپنے اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دے سکتا ہے:

مگرشرط یہ ہےکہ ایسے مجاز پریکٹیشنر کی طرف سے جاری کردہ ملازمت کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ صرف تین ماہ کے لیے کارآمد ہوگا، جب تک کہ متعلقہ شخص کے معائنے کے بعد خود تصدیق کنندہ سرجن اس کی تصدیق نہ کرے۔

(3) دفعہ ہذامیں "رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر" سے مراد وہ طبی پریکٹیشنر ہے جو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہو۔

ڈی۔ رپورٹنگ، نوٹیفکیشن اور تفتیش

59۔ حادثات، خطرناک واقعات اور پیشہ ورانہ بیماریوں کی اطلاع اور تفتیش:۔(1) آجر یا پرنسپل حادثات اور نقصان کا ایک رجسٹر مصرحہ طریقے سے رکھے گا، جس میں درج ذیل تفصیلات ریکارڈ کی جائیں گی:(اے) ہر وہ حادثہ جس نے ان کے زیرِ ملازمت کسی ورکر کو نقصان پہنچایا ہو، یا پہنچا سکتا تھا؛ اور(بی) ہر وہ واقعہ جس کے نتیجے میں ان کے زیرِ ملازمت کسی ورکر کو کام کی جگہ پر کسی خطرے کا سامنا کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچا۔(2) ایک قابض (آکو پائیر) مصرحہ طریقے سے حادثات اور نقصانات کا ایک رجسٹر رکھے گا اور اس رجسٹر میں ان مصرحہ تفصیلات کو درج کرے گا جو مندرجہ ذیل سے متعلق ہیں:(اے) ہر وہ حادثہ جس نے اس کے زیرِ انتظام کام کی جگہ پر کسی بھی شخص کو نقصان پہنچایا ہو، یا پہنچا سکتا تھا؛ اور(بی) ہر وہ واقعہ جس کے نتیجے میں کسی شخص کو اس کے زیرِ انتظام کام کی جگہ پر کسی خطرے کا سامنا کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچا۔(3) ذیلی دفعہ (1) اور (2) میں مذکور رجسٹر میں ہر اس حادثے کا اندراج کیا جائے گا جو کام کی جگہ پر پیش آیا ہو اور:

(اے) جس سے جانی نقصان ہوا ہو؛(بی) جس کے باعث کوئی شخص سات دن سے زیادہ عرصے تک اپنی معمول کی ڈیوٹی پر حاضر نہ ہو سکے؛(سی) جس کے نتیجے میں کام سے متعلق کسی عمل یا کارروائی کی وجہ سے کوئی شخص بے ہوش ہو گیا ہو۔(4) ہر سیلف ورکر مصرحہ فارم میں حادثات اور نقصانات کا ایک رجسٹر رکھے گا اور اس رجسٹر میں ان مصرحہ تفصیلات کو درج کرے گا جو مندرجہ ذیل سے متعلق ہیں:(اے) ہر وہ حادثہ جس نے کام کے دوران سیلف ورکر کو نقصان پہنچایا ہو، یا پہنچا سکتا تھا؛(بی) ہر وہ حادثہ جو سیلف ورکر کے کام کے نتیجے میں ہوا ہو اور جس نے کسی بھی شخص کو نقصان پہنچایا ہو، یا پہنچا سکتا تھا؛(سی) ہر وہ واقعہ جس کے نتیجے میں سیلف ورکرکو نقصان پہنچا ہو:

کام کے دوران؛ یا

کسی ایسے خطرے کے نتیجے میں جس کا سامنا سیلف ورکر کو کام کے دوران ہوا۔

(5) ہر حادثے کی اطلاع اس کے پیش آنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر مصرحہ طریقے سے انسپکٹر کو دی جائے گی:(اے) اگر کسی ورکر کو حادثہ پیش آیا ہو تو اس آجر یا پرنسپل کے ذریعے جس نے اسے کام پر رکھا تھا؛(بی) اگر ورکر خود ملازم ہو اور کسی آجر یا پرنسپل کے زیرِ ملازمت نہ ہو تو سیلف ورکر کے ذریعے؛(سی) کسی بھی صورت میں، اس کام کی جگہ کے قابض (آکو پائیر) کے ذریعے جہاں حادثہ پیش آیا ہو۔(6) اگر ذیلی دفعہ (5) میں مذکور کسی حادثے کے نتیجے میں کام کی جگہ پر کسی شخص کی معذوری یا موت واقع ہو جائے، تو مذکورہ ذیلی دفعہ میں بیان کردہ متعلقہ شخص معذوری یا موت کی اطلاع ملنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر انسپکٹر، چیف انسپکٹر، اور ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) کے کمشنر کو تحریری نوٹس بھیجے گا۔(7) جس کام کی جگہ پر ورکرز کو کام کے دوران سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے لیے خصوصی خطرات یا خطرات کا سامنا ہونے کا امکان ہو، وہاں انسپکٹر یا چیف انسپکٹر ان ورکرز سے حالات کے مطابق اور انسپکٹر یا چیف انسپکٹر کی طرف سے طے کردہ وقفوں پر ملازمت سے پہلے اور وقتاً فوقتاً طبی معائنےکروانے کا تقاضا کر سکتا ہے، اور قابض (آکو پائیر) اور ورکرز اس کی تعمیل کے پابند ہوں گے۔

(8) طبی معائنہ حکومت کی طرف سے مجازکردہ کسی ہسپتال میں کرایا جائے گا اور اس کے اخراجات کی ادائیگی مندرجہ ذیل کے ذمہ ہوگی:(اے) اگر ورکر کسی آجر یا پرنسپل کے زیرِ ملازمت ہو تو آجر یا پرنسپل؛ یا(بی) کسی دیگر صورت میں، قابض۔

60۔ حادثے کی جگہ پر مداخلت نہ کرنا:۔ جب کام کی جگہ پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو کوئی بھی شخص، جب تک کہ انسپکٹر کی طرف سے مجاز نہ ہو، جائے وقوعہ سے متعلق کسی بھی ملبے، اشیاء، مادے یا چیز کو نہ ہی ہٹائے گا، اور نہ ہی اس میں کسی بھی طرح کی مداخلت کرے گا یا اسے چھیڑے گا، سوائے اس حد تک جو مندرجہ ذیل کے لیے ضروری ہو:(اے) کسی شخص کی جان بچانے، نقصان سے روکنے یا تکلیف کم کرنے کے لیے؛(بی)عوام کی رسائی کو کسی ضروری خدمت یا سہولت تک برقرار رکھنے کے لیے؛ یا(سی)کسی جائیداد کو شدید نقصان یا ضیاع سے بچانے کے لیے۔

61۔ واقعات، حادثات اور بیماریوں کی باقاعدہ تحقیقات کی ہدایت دینے کا اختیار:۔ حکومت کسی بھی حادثے یا کسی پیشہ ورانہ بیماری یا کسی اور بیماری کے بارے میں جو کسی کام کی جگہ پر ہوئی ہو، یا اس کے ہونے کا شبہ ہو، اور اس کی وجوہات اور حالات کے بارے میں باقاعدہ تحقیقات کی ہدایت دے سکتی ہے، اور ایسی کسی بھی تحقیقات کے حوالے سے درج ذیل دفعات لاگو ہوں گی:(اے) حکومت ایسی تحقیقات کے لیے تکنیکی، قانونی یا خصوصی علم رکھنے والے ایک یا ایک سے زیادہ اہل افراد کو بطور اسیسرمقرر کر سکتی ہے؛(بی) اس طرح مقرر کردہ اسیسرعام اجلاس میں ایسی تحقیقات کریں گے اور ایسے انداز اور شرائط کے تحت کارروائی کریں گے جو اسیسر واقعہ، حادثے یا بیماری کی وجوہات اور حالات کا پتہ لگانے اور عدالت کو رپورٹ بنانے کے قابل بنانے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر سمجھیں؛(سی) ایسی کسی بھی تحقیقات کے لیے مقرر کردہ شخص کو مجموعہ ضابطہ دیوانی، 1908 (V بابت 1908) کے تحت کسی دیوانی عدالت کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے تاکہ وہ واقعات، حادثات اور بیماریوں کے معاملات کی باقاعدہ تحقیقات کی ہدایت دے سکے۔

62۔ بارِ ثبوت:۔ (1) جہاں باب ہذا، سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد یا کسی ضابطے یا حکم کے تحت جنرل رجسٹر یا کسی دوسرے رجسٹر یا ریکارڈ میں کوئی اندراج کرنا ضروری ہو، وہاں آجر، پرنسپل یا کام کی جگہ کے قابض (آکو پائیر) یا ان کی طرف سے کسی شخص کا کیا ہوا اندراج، آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کے خلاف، اس میں درج حقائق کے ثبوت کے طور پر قابل قبول ہوگا۔ اور یہ حقیقت کہ کوڈ کے کسی بھی حکم یا اس کے تحت بنائے گئے کسی ضابطے یا حکم کی تعمیل کے حوالے سے مطلوبہ کوئی اندراج نہیں کیا گیا، اس بات کے ثبوت کے طور پر قابل قبول ہوگا کہ اس حکم کی تعمیل نہیں کی گئی۔(2) باب ہذا، سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد یا کسی ضابطے یا حکم کے تحت مطلوبہ کسی بھی معائنے یا اطلاع کو متعلقہ دفعہ، ضابطے یا حکم کے مطابق انجام دینے کا ثبوت فراہم کرنے کا بوجھ ذمہ دار شخص پر ہوگا۔

63۔ ادارے میں نوٹس آویزاں کرنا:۔ (1) کام کی جگہ کے داخلی راستوں یا کسی اور ایسی جگہ پر جہاں ورکرز قانونی طور پر جمع ہوتے ہیں، سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندے، پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی اگر موجود ہو، اور حکومت کے ڈاک کے پتے اور فون نمبرز کا نوٹس آویزاں کیا جائے گا۔

(2) قواعد کے تحت آویزاں کیے جانے والے نوٹس کے علاوہ، ہر ادارے میں ایک نوٹس بھی آویزاں کیا جائے گا جس میں کوڈ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے خلاصے شامل ہوں۔

(3) کوڈ اور اس کے تحت بنائے گئے کسی بھی قواعد کی ایک تازہ ترین نقل، کام کی جگہ پر موجود رکھی جائے گی اور کسی بھی ورکر کے حوالے کے لیے دستیاب ہوگی۔

ای۔ تعمیل کے اختیارات

64۔ بہتری کے نوٹسز:۔ (1) اگر انسپکٹر کی رائے ہو کہ کوئی شخص:

(اے) باب ہذا یا سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کی ایک یا ایک سے زیادہ دفعات کی خلاف ورزی کر رہا ہے؛ یا

(بی) دفعات ہذایا قواعد میں سے ایک یا زائد کی خلاف ورزی کر چکا ہے، اور حالات ایسے ہیں کہ خلاف ورزی کا جاری رہنا یا دہرایا جانا ممکن ہے:

تو انسپکٹر ایک بہتری کا نوٹس جاری کر سکتا ہے جس میں خلاف ورزی کی نشاندہی کی جائے گی اور متعلقہ شخص کو مندرجہ ذیل کی ہدایت دی جائے گی:

(اے) خلاف ورزی کو درست کرنا؛ یا

(بی) ممکنہ خلاف ورزی کو ہونے سے روکنا؛ یا

(سی) تمام حالات کے پیش نظر ایک معقول مصرحہ وقت کے اندر خلاف ورزی یا ممکنہ خلاف ورزی کا باعث بننے والی چیزوں یا کارروائیوں کو درست کرنا۔

(2) اگر کوئی شخص باب ہذایا سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور انسپکٹر تمام حالات کے پیش نظر ایک معقول وقت کے اندر کام کی جگہ پر نہیں پہنچ سکتا، تو سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا نمائندہ یا سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی ایک عارضی بہتری کا نوٹس جاری کر سکتی ہے جو اس وقت تک مؤثر رہے گا جب تک کہ انسپکٹر وہاں پہنچنے کے قابل نہ ہو جائے:

مگرشرط یہ ہے کہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا نمائندہ یا سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی نوٹس جاری کرنے سے پہلے خلاف ورزی کرنے والے شخص سے مشورہ کرے گی۔

(3) جس شخص کو بہتری کا نوٹس یا عارضی بہتری کا نوٹس جاری کیا گیا ہو، وہ نوٹس میں دی گئی مدت کے اندر اس کی تعمیل کرے گا۔

(4) ذیلی دفعہ (5) کے تابع، جہاں کوئی بھی متعلقہ قانونی دفعات کسی عمارت یا اس سے متعلق کسی معاملے پر لاگو ہوتی ہیں اور انسپکٹر اس عمارت یا معاملے کے سلسلے میں اس حکم کی خلاف ورزی سے متعلق بہتری کا نوٹس جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو نوٹس میں اس حکم کی خلاف ورزی کو درست کرنے کے لیے ایسے اقدامات کی ہدایت نہیں کرےگا جو ان اقدامات سے زیادہ پیچیدہ ہوں جو اس وقت نافذ کسی بھی عمارت کے قواعد و ضوابط کے تقاضوں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہوں، جن کی اس عمارت یا معاملے کو اس وقت پیروی کرنی ہوتی اگر متعلقہ عمارت نئی تعمیر کی جا رہی ہوتی۔ تاہم، یہ اصول تب لاگو نہیں ہوگا جب متعلقہ دفعہ خود ایسے مخصوص تقاضے عائد کرے جو کسی بھی ایسے عمارت کے قواعد و ضوابط سے زیادہ پیچیدہ ہوں جن کی عمارت یا معاملہ کو پیروی کرنی ہوتی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے:

مگرشرط یہ ہے کہ ذیلی دفعہ ہذا میں "متعلقہ عمارت" سے مراد، عمارت کی صورت میں، وہی عمارت ہے، اور کسی عمارت سے متعلق کسی معاملے کی صورت میں، وہ عمارت ہے جس سے وہ معاملہ منسلک ہے۔

(5) انسپکٹر کام کی جگہ کے طور پر زیرِ استعمال یا عنقریب استعمال ہونے والی کسی بھی عمارت کے سلسلے میں ایک نوٹس جاری کر سکتا ہے جس میں آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے کے ذرائع کو متاثر کرنے والے اقدامات کا مطالبہ کیا جائے یا ان کی ضرورت پیدا ہو۔

65۔ ممانعت کے نوٹسز:۔(1) اگر کسی انسپکٹر کو معقول طور پر یہ یقین ہو کہ:

(اے) کام کی جگہ پر کوئی ایسی سرگرمی ہو رہی ہے یا ہوگی جس میں کسی فوری یا قریب الوقوع خطرے سے پیدا ہونے والےکسی شخص کی سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے لیے سنگین خطرہ شامل ہے یا ہوگا؛ یا

(بی) کام کی جگہ پر کوئی ایسی سرگرمی ہو سکتی ہے جو اگر ہوئی تو کسی فوری یا قریب الوقوع خطرے سے پیدا ہونے والےکسی شخص کی سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے لیے سنگین خطرہ شامل ہوگا:

تو انسپکٹر اس سرگرمی پر مکمل یا جزوی اختیار رکھنے والے شخص کو ہدایت دے سکتا ہے کہ وہ اس سرگرمی کو جاری نہ رکھے، یا اسے کسی مخصوص طریقے سے جاری نہ رکھے، جب تک کہ انسپکٹر اس بات سے مطمئن نہ ہو جائے کہ اس خطرے کا باعث بننے والے معاملات کو درست کر دیا گیا ہے۔

(2) ہدایت میں ورکرز کو کام کی جگہ چھوڑنے کا حکم بھی شامل ہوسکتا ہے۔

(3) ہدایت زبانی بھی دی جا سکتی ہے، لیکن اسے جلد از جلد تحریری ممانعت کے نوٹس کے ذریعے متعلقہ شخص کو فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

(4) اگر:

(اے) کام کی جگہ پر کوئی ایسی سرگرمی ہو رہی ہے یا ہو سکتی ہے جس میں کسی فوری یا قریب الوقوع خطرے سے پیدا ہونے والا کسی شخص کی سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے لیے سنگین خطرہ شامل ہے یا ہو سکتا ہے؛ اور

(بی) انسپکٹر تمام حالات کے پیش نظر ایک معقول وقت کے اندر کام کی جگہ پر نہیں پہنچ سکتا:

تو ایک سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا نمائندہ ایک عارضی ممانعت کا نوٹس جاری کر سکتا ہے جو اس وقت تک مؤثر رہے گا جب تک کہ انسپکٹر وہاں پہنچنے کے قابل نہ ہو جائے:

مگرشرط یہ ہے کہ اگر حالات معقول طور پر اس کی اجازت دیں سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا نمائندہ نوٹس جاری کرنے سے پہلے اس شخص سے مشورہ کرے جس کا سرگرمی یا اس کے جاری رہنے پر اختیار ہو۔

(5) جس شخص کو ممانعت کا نوٹس یا عارضی ممانعت کا نوٹس جاری کیا گیا ہو، وہ فوری طور پر اس کی تعمیل کرے گا۔

66۔ قریب الوقوع خطرے کی وجوہات سے نمٹنے کا اختیار:۔ (1) اگر کسی انسپکٹر کو کسی ایسی کام کی جگہ میں، جہاں اسے داخل ہونے کا اختیار ہے، کوئی ایسی شے یا مواد ملے اور انسپکٹر کو یہ یقین ہو کہ جس حالت میں وہ ملا ہے، وہ کسی فوری خطرے یا سنگین جسمانی چوٹ کا باعث بن سکتا ہے، تو انسپکٹر اسے قبضے میں لے کر غیر مؤثر بنا سکتا ہے اور اصلاحی اقدامات کر سکتا ہے، جن میں اسے تباہ کرنا، توڑنا، جدا کرنا، ہٹانا اور مرمت کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

(2) کسی بھی ایسی شے کو غیر مؤثر بنانے سے پہلے، جو اسی طرح کی اشیاء کے کسی بیچ کا حصہ ہو، یا کسی مواد کو دفعہ ہذاکے تحت غیر مؤثر بنانے سے پہلے، انسپکٹر کو چاہیے کہ اگر اس کے لیے ممکن ہو تو اس کا ایک نمونہ لے اور اس جگہ کے قابض (آکو پائیر) کو، جہاں وہ شے یا مواد ملا تھا، اس نمونے کا ایک حصہ دے جو اس کی شناخت کے لیے کافی ہو اس پر نشان لگا ہو۔

(3) جب کسی شے یا مواد کو دفعہ ہذا کے تحت قبضے میں لے کر غیر مؤثر بنایا جائے، تو انسپکٹر جلد از جلد ایک تحریری رپورٹ تیار اور دستخط کرے گا جس میں ان حالات کی تفصیلات ہوں گی جن میں اس شے یا مواد کو قبضے میں لے کر اس سے نمٹا گیا، اور وہ اس رپورٹ کی ایک دستخط شدہ نقل کام کی جگہ کے قابض (آکو پائیر) کو دے گا اور، جب تک کہ وہ شخص شے یا مواد کا مالک نہ ہو، تو رپورٹ کی ایک دستخط شدہ نقل مالک کو بھی فراہم کرے گا۔ اگر انسپکٹر معقول تفتیش کے بعد مالک کا نام یا پتہ معلوم کرنے سے قاصر ہو، تو وہ نوٹس کی نقل کام کی جگہ کے قابض (آکو پائیر) کو دے کر اسے مالک تک پہنچا سکتا ہے۔

67۔ ورکرز کے حقوق برائے قریب الوقوع خطرات:۔ (1) اگر کوئی ورکر اپنے سپروائزر کو ایسی صورتحال کی اطلاع دیتا ہے جس کے بارے میں اس کے پاس معقول جواز ہو کہ یہ اس کی زندگی یا صحت کے لیے فوری اور سنگین خطرہ بنتی ہے، تو آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) ورکرز کو ایسی صورتحال میں واپس کام پر جانے کا تقاضا نہیں کر سکتا جہاں زندگی یا صحت کو مسلسل فوری اور سنگین خطرہ لاحق ہو۔

(2) اگر کسی سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندے یا سیفٹی اینڈ ہیلتھ کمیٹی کے پاس یہ یقین کرنے کا معقول جواز ہو کہ کوئی صورتحال ورکرز کی زندگی یا صحت کے لیے فوری اور سنگین خطرہ پیش کرتی ہے، تو وہ نمائندہ یا کمیٹی کسی ورکر کو کام روکنے کی ہدایت دے سکتی ہے:

مگر شرط یہ ہے کہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا نمائندہ یا کمیٹی پہلے قابض (آکو پائیر) سے مشورہ کرے، ماسوائے اس کے کہ خطرے کی فوری نوعیت کے پیش نظر ایسا کرنا معقول نہ ہو۔

(3) جہاں دفعہ ہذاکے تحت کام روکا جاتا ہے، آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) ورکرز کو اسی شرائط اور حالات پر عارضی متبادل کام کرنے کی اجازت دے سکتا ہے اور اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دے سکتا ہے، بشرطیکہ ایسا کرنا محفوظ ہو۔

(4) دفعہ ہذامیں موجود کوئی بھی چیز کسی ایسے شخص کی ملازمت کے جاری رہنے پر اثر انداز نہیں ہوگی جس کی کام کی جگہ یا اس کے کسی حصے میں ملازمت ذیلی دفعہ کے تحت ممنوع ہے۔

68۔ خراب حصوں کی تفصیلات یا استحکام کی جانچ کا تقاضا کرنے کے اختیارات:۔ اگر کسی انسپکٹر کو یہ لگے کہ کسی عمارت یا اس کے کسی حصے، یا کسی کام کی جگہ پر موجود راستے، مشینری یا پلانٹ کا کوئی حصہ ایسی حالت میں ہے جو انسانی زندگی یا حفاظت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، تو انسپکٹر قابض (آکو پائیر) کو تحریری حکم جاری کر سکتا ہے، جس میں اس شخص سے مصرحہ تاریخ سے پہلے درج ذیل کا تقاضا کیا جائے گا:(اے) ایسی ڈرائنگز، تفصیلات اور دیگر معلومات فراہم کرنا جو یہ طے کرنے کے لیے ضروری ہوں کہ آیا ایسی عمارت، راستے، مشینری یا پلانٹ کو حفاظت کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے؛ یا(بی) کسی بھی مخصوص حصے کی مضبوطی یا معیار کا تعین کرنے کے لیے ضروری ٹیسٹ کروانا اور ان کے نتائج سے انسپکٹر کو مطلع کرنا۔

69۔ دیگر اداروں سے معاونت:۔ باب ہذاکی دفعات کے نفاذ کے لیے، چیف انسپکٹر یا ایک انسپکٹر، مقررہ طریقۂ کار کے تابع، کسی بھی ایسے دوسرے ادارے، اتھارٹی یا ایجنسی سے مدد طلب کر سکتا ہے جو قانونی فرائض یا ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے ذمہ دار ہو۔

ایف۔سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد بنانے کا اختیار

70۔ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد:۔(1) باب ہذا میں زیر بحث امور کے بارے میں تفصیلی معیارات اور طریق کار قواعد میں مرتب کیے جائیں گے جنہیں سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعدکہا جائے گا۔(2) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات سے متصادم نہیں ہوں گے۔(3) پنجاب لیبر کوڈ میں قواعد بنانے کے عمومی اختیار کو محدود کیے بغیر، حکومت

(i) پیشہ ورانہ، سیفٹی اینڈ ہیلتھ کونسل کی درخواست پر؛ یا

(ii) او ایس ایچ کونسل سے مشاورت کے بعداپنے اقدام پر؛

سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد میں ترمیم کر سکتی ہے تاکہ:(اے) ان معاملات کو حل کیا جا سکے جو پہلے سےسیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد میں شامل نہیں ہیں۔؛ یا(بی)سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد میں موجود موجودہ معیارات اور طریق کار کو بہتر بنایا جا سکے۔(4)سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد میں مندرجہ ذیل معاملات شامل ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ان تک محدود نہیں ہیں:(اے) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے انتظامی نظام؛(بی) خطرات اور خطرات سے متعلق معاملات، بشمول:(i) کسی بھی جسمانی، حیاتیاتی، کیمیائی یا نفسیاتی خطرے کے استعمال یا اس کے سامنے آنے سے متعلق معیارات کا تعین؛

(ii)حفاظتی مقدمات، حفاظتی انتظامی منصوبوں اور حفاظتی انتظامی نظاموں سے متعلق معاملات؛ اور

(iii) خطرات کو کنٹرول کرنے کے اقدامات سے متعلق معاملات۔(سی) کام کی جگہ پر تشدد اور ہراسانی، بشمول جنسی ہراسانی؛(ڈی) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے واقعات، پیشہ ورانہ بیماریوں اور اس باب کے تحت ریکارڈ یا اطلاع کیے جانے والے کسی بھی دوسرے معاملے کی رپورٹنگ اور اطلاع؛(ای) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے افسران؛(ایف) آجروں، پرنسپلز، قابضین اور ورکرز کے درمیان مشاورت، بشمول سیفٹی اینڈ ہیلتھ کی کمیٹیاں اور سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندے؛(جی)تنازعات کا حل؛(ایچ) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا معائنہ؛(آئی)اجازت نامے، بشمول لائسنس، رجسٹریشن، سرٹیفیکیٹس اور پرمٹس؛(جے)سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق ہدایات، تربیت اور نگرانی؛(کے) بچوں کا کسی بھی مخصوص ادارے میں داخلہ ممنوع کرنا جو وہاں قانونی طور پر ملازمت اختیار نہیں کر سکتے؛(ایل) ذاتی حفاظتی سازوسامان اور حفاظتی لباس کا ڈیزائن، تیاری، فراہمی، استعمال، دیکھ بھال اور جانچ؛(ایم) ہنگامی منصوبوں کا قیام؛(این) ابتدائی طبی امداد کے سامان کے اسٹورز، اور ان کی مناسب حفاظت اور استعمال کے لیے ہدایات؛(او) پیشہ ورانہ صحت، بشمول پہلی طبی امداد اور ورکرز کی صحت کی نگرانی؛(پی) پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق فلاحی سہولیات، بشمول ذیلی دفعہ (6) میں بیان شدہ امور؛مگرشرط یہ ہے کہ کوئی بھی قاعدہ باب ہذا کی سرخی اے کے تحت عائد کردہ کسی ذمہ داری کو خارج نہیں کرے گا۔

(5) ذیلی دفعہ (4) کی شق (بی)میں خطرات اور خطروں سے متعلق امور میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن ان تک محدود نہیں:(اے) کام کی وجہ سے پیدا ہونے والے جسمانی یا ذہنی تناؤ کی روک تھام؛(بی)کام کی جگہوں کا ڈیزائن، جگہ، ساختی خصوصیات، تنصیب، دیکھ بھال، مرمت اور تبدیلی، اور ان تک رسائی اور نکلنے کے راستے؛(سی) مناسب کام کی جگہ، ضرورت سے زیادہ ہجوم، محدود (بند) جگہیں، گرنے والی اشیاء، گڑھے، نشیبی حوض (سمپ)، فرش میں سوراخ اور اس سے متعلقہ چیزیں؛(ڈی) کام کی جگہوں کے ماحول اور دیگر محیطی عوامل کا کنٹرول، بشمول روشنی، وینٹیلیشن، بو، درجہ حرارت، شور، دھول، دھواں، ہوا میں موجود آلودگی، مصنوعی نمی، کام کی جگہوں کی صفائی اور فضلہ اور گندے پانی کا ٹھکانا؛(ای) ایسی مشینری اور آلات کا ڈیزائن، تعمیر، استعمال، دیکھ بھال، جانچ اور معائنہ جو خطرات پیدا کر سکتے ہیں، اور حسب ضرورت، انہیں ہٹانا اور منتقل کرنا، بشمول برقی آلات، خودکار مشینیں، الیکٹرانک آلات اور حرکت میں موجود مشینری کے قریب یا اس پر کام۔

(ایف) استحکام کے سرٹیفکیٹ، بشمول یہ تقاضا کہ کسی عمارت یا اس کے کسی حصے میں کام اس وقت تک شروع نہیں کیا جائے گا جب تک کہ مصرحہ فارم میں استحکام کا ایک سرٹیفکیٹ، جس پر مصرحہ اہلیت رکھنے والے کسی شخص کے دستخط ہوں، انسپکٹر کو نہیں بھیجا جاتا؛(جی)لوڈ اور مواد کی ہینڈلنگ، اسٹیکنگ اور ذخیرہ اندوزی، بشمول زیادہ وزن کا دستی یا مشینی استعمال؛(ایچ) خطرناک مواد اور ایجنٹوں کی تیاری، پیکنگ، لیبل لگانا، نقل و حمل، ذخیرہ اور استعمال، بشمول کیمیائی اور حیاتیاتی ایجنٹ، سیسہ اور ایسبیسٹوس، ان کے فضلے اور باقیات کا ٹھکانا اور، حسب ضرورت، ان کی جگہ پر ایسے مادے یا ایجنٹ استعمال کرنا جو خطرناک نہ ہوں یا کم خطرناک ہوں۔(آئی) زیادہ اور کم بیرومیٹرک دباؤ اور پانی کے اندر کام کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات کی روک تھام اور کنٹرول۔(جے) آگ اور دھماکوں کی روک تھام اور آگ یا دھماکے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات، بشمول دھماکہ خیز یا آتش گیر دھول، گیس اور خطرناک دھوئیں سے احتیاطی تدابیر وغیرہ۔(کے) تعمیر اور توڑ پھوڑ میں کام کے نظام اور عمل، بشمول اونچائی پر یا کھدائی میں کام کرنا اور لوڈنگ اور زمین ہلانے والی مشینری، کرین، لہرانے والے، لفٹیں اور دیگر لفٹنگ آپریشنز اور پاڑ (اسکیفولڈنگ) کا استعمال اور تنصیب۔

(6) ذیلی دفعہ (4) کی شق (پی) میں درج ذیل شامل ہیں لیکن یہ ان تک محدود نہیں ہیں:(اے) محنت کشوں کے کیمپوں میں حفاظت اور صحت سے متعلق معاملات؛(بی) کام کے وقفے کے دوران ورکرز کے استعمال کے لیے مناسب پناہ گاہوں کی فراہمی، اور ایسے قواعد کے ذریعے ان پناہ گاہوں کے معیار کی وضاحت کی جا سکتی ہے؛بشرطیکہ خواتین ورکرز کے لیے الگ پناہ گاہ کی سہولت فراہم کی جائے گی، خواہ ان کی تعداد اور ورکرز کی کل تعداد کچھ بھی ہو؛(سی) کینٹینز؛ اور(ڈی) ایسے موزوں کمرے جہاں ورکرز کے ہمراہ بچے ہوں اور ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہو، ان کمروں کے معیار اور بچوں پر نگران عملے کی نوعیت کی وضاحت سمیت۔

(7) اگر حکومت مطمئن ہو کہ کسی کام کی جگہ پر کوئی ایسا عمل ہے جو ورکرز کو جسمانی چوٹ، زہر یا بیماری کے سنگین خطرے سے دوچار کرتا ہے، تو وہ قواعد بنا سکتی ہے:(اے) ایسے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے اسے خطرناک قرار دینا؛(بی) اس عمل میں خواتین، نو عمر افراد یا بچوں کے کام کرنے پر پابندی یا ان کی ملازمت کو محدود کرنا؛(سی) ایسے عمل میں شامل یا شامل ہونے کے خواہش مند افراد کا طبی معائنہ کرانا اور ایسے افراد کی ملازمت پر پابندی عائد کرنا جو صحت کے لحاظ سے موزوں قرار نہ پائے ہوں؛ اور(ڈی) ایسے تمام افراد کی حفاظت کے لیے اقدامات تجویز کرنا جو اس عمل میں شریک ہوں یا اس جگہ کے آس پاس موجود ہوں جہاں یہ عمل جاری ہو۔

71۔ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد:۔ذیلی دفعہ 70 کے تحت قواعد بننے تک، درج ذیل منسوخ شدہ قوانین کے تحت بنے ہوئے قواعد، جو پنجاب لیبر کوڈ کے منافی نہ ہوں، نافذ العمل رہیں گے:(اے) قانون فیکٹریز، 1934؛ اور(بی)قانون پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ پنجاب، 2019۔

72۔ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کا جائزہ:۔(1) دوران کام سیفٹی اینڈ ہیلتھ کونسل کم از کم ہر دو سال بعد سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کا جائزہ لے گی، خاص طور پر:(اے) سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق قومی اور صوبائی پالیسیز اور پروگرامز؛(بی) صنعتوں میں سیفٹی اینڈ ہیلتھ کےخطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور جدید معیاروں پر مشتمل فریم ورک کی ضرورت؛(سی) سیفٹی اینڈ ہیلتھ کی ٹیکنالوجی اور طریق کار میں بہتری؛(ڈی) پیشہ ورانہ چوٹوں اور بیماریوں کے اعداد و شمار؛(ای) دیگر متعلقہ امور جو پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کونسل مناسب سمجھے۔

(2) جائزہ کے بعد پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کونسل، سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد میں ترامیم تجویز کر سکتی ہے، خاص طور پر:(اے) ایسے امور جن کے بارے میں پیشہ ورانہ چوٹ اور بیماریوں کے اعداد و شمار سے معلوم ہو کہ وہ سب سے زیادہ خطرناک ہیں؛ اور(بی)وہ شعبے جوسیفٹی اینڈ ہیلتھ کے لحاظ سے زیادہ خطرناک ہیں اور موجودہ قواعد میں شامل نہیں ہیں۔

73۔ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کی اشاعت:۔سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد سرکاری گزٹ میں نوٹیفائی کئے جائیں گے اور محکمہ کی ویب سائٹ پر شائع کئے جائیں گے۔

باب 2.6 – انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودا کاری

اے۔ آزادیٔ تنظیم اور حق تنظیم سازی

74۔ تنظیم سازی کا حق:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے تابع اوربلالحاظ کسی دیگر قانون کے، تمام ورکرزبلا کسی امتیاز کے، بشمول سیلف ورکرز، بغیر کسی پیشگی اجازت کے اپنی پسند کی انجمنیں قائم کر سکتے ہیں اور متعلقہ تنظیم کے قواعد کے تابع ان میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں:مگر شرط یہ ہے کہ کسی ادارے میں انتظامی ملازمین کو بھی یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ بغیر کسی پیشگی اجازت کے علیحدہ سے اپنی پسند کی ٹریڈ یونینز قائم کریں اور ان میں شمولیت اختیار کریں، تاہم یہ سب متعلقہ تنظیم کے قواعد کے تابع ہوگا۔

(2) پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے تابع اوربلالحاظ کسی دیگر قانون کے، تمام آجر بغیر کسی امتیاز کے، بغیر کسی پیشگی اجازت کے اپنی مرضی کی آجر تنظیمات بنا سکتے ہیں اور تنظیم کے قواعد کے مطابق ان میں شامل ہو سکتے ہیں۔

(3) کوئی بھی ورکرایک ہی وقت میں ایک ہی کام کی جگہ پر ایک سے زیادہ ٹریڈ یونینز کا رکن نہیں ہو سکتا، اور اگر وہ کسی دوسری ٹریڈ یونین میں شامل ہوتا ہے تو سابقہ رکنیت خود بخود منسوخ ہو جائے گی۔ مزید برآں، کوئی بھی شخص جو درحقیقت اس ادارے میں ملازم نہ ہو، جس کے لیے متعلقہ ٹریڈ یونین رجسٹرڈ ہے، وہ دو سے زائد ٹریڈ یونینز میں عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

(4) ہر ٹریڈ یونین اور آجر تنظیم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی انتظامیہ، سرگرمیوں، اور پروگراموں کی آزادی سے تنظیم سازی کے لیے اپنا آئین اور قواعد خود تیار کرے اور اپنے نمائندے آزادانہ طور پر منتخب کرے۔

(5) ورکرز یا آجر تنظیمات فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز قائم کر سکتی ہیں اور ان میں شامل ہو سکتی ہیں، اور ایسی کوئی بھی تنظیم، فیڈریشن یا کنفیڈریشن بین الاقوامی مزدوریا آجر تنظیمات اور کنفیڈریشنز کے ساتھ وابستہ ہو سکتی ہے۔ فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کو سیکٹورل، صوبائی یا کسی اور سطح پر، صوبے کے دائرہ اختیار کے اندر، قائم کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ان کی رکن تنظیمات فیصلہ کریں۔

(6) ورکرز اور آجر کی تنظیمیں ایک دوسرے کی تنظیموں کے قیام، کارکردگی یا انتظامیہ میں مداخلت نہیں کریں گی۔

(7) ٹریڈ یونین اپنے ارکان میں دفعہ 78 میں مذکور کسی بھی بنیاد پر، خاص طور پر ٹریڈ یونین کے کسی عہدے پر منتخب ہونے کے حوالے سے امتیاز نہیں کرے گی۔

75۔ ورکرکے بنیادی حقوق:۔ (1) ہر ورکر کو درج ذیل حقوق حاصل ہوں گے:(اے) ٹریڈ یونین کے قیام میں حصہ لینا؛(بی) اس کے قواعد کے تابع کسی ٹریڈ یونین کا رکن بننا؛(سی) کسی ایسی ٹریڈ یونین کی جائز سرگرمیوں میں حصہ لینا جس کا وہ رکن ہو؛(ڈی) اس کے قواعد کے تابع، کسی ایسی ٹریڈ یونین میں عہدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور عہدہ رکھنا جس کا وہ رکن ہو؛(ای) شاپ اسٹیورڈ، ورک کونسل وغیرہ کے انتخابات میں حصہ لینا؛(ایف) ورکرز کے نمائندے کے طور پر منتخب یا مقرر ہونا اور خدمات سرانجام دینا؛ اور

(جی) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت حاصل کوئی بھی دوسرا حق استعمال کرنا۔

(2) انتظامی ملازمین کو غیر انتظامی ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یونین میں یہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔

76۔ آجر کے بنیادی حقوق:۔ ہر آجر کو درج ذیل حقوق حاصل ہوں گے:(اے) آجر تنظیم کے قیام میں حصہ لینا؛(بی) اس کے قواعد کے تابع ایسی کسی بھی تنظیم کا رکن بننا؛(سی) ایسی کسی تنظیم کی جائز سرگرمیوں میں حصہ لینا جس کا وہ رکن ہو؛(ڈی) اس کے قواعد کے مطابق ایسی کسی تنظیم میں عہدہ رکھنا جس کا وہ رکن ہو؛ اور(ای) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت حاصل کوئی بھی حق استعمال کرنا۔

77۔ آجروں اور پرنسپلز کی جانب سے غیر منصفانہ لیبر طریق کار:۔ کوئی آجر، پرنسپل، آجر یا پرنسپل کی کوئی تنظیم، یا ان میں سے کسی کی طرف سے عمل کرنے والا کوئی شخص درج ذیل میں سے کوئی عمل نہیں کرے گا:(اے) کسی معاہدہ میں ایسی کوئی شرط شامل کرنا جو معاہدہ میں شامل کسی فریق کے ٹریڈ یونین میں شمولیت یا رکنیت برقرار رکھنے کے حق کو محدود کرے؛(بی) کسی فرد کو اس بنیاد پر ملازمت دینے سے انکار کرنا یا ملازمت جاری رکھنے سے انکار کرنا کہ وہ ٹریڈ یونین کا رکن یا عہدیدار ہے یا نہیں ہے؛(سی) کسی فرد کے ساتھ کام، ترقی، ملازمت کی شرائط یا کام کے حالات کے حوالے سے اس بنیاد پر امتیازی سلوک کرنا کہ وہ ٹریڈ یونین کا رکن یا عہدیدار ہے یا نہیں؛(ڈی) کسی ورکر کو برخاست، فارغ، کام سے علیحدہ یا اس کا تبادلہ کرنا، یا ایسا کرنے کی دھمکی دینا، یا اس کے کام کے سلسلے میں اسے نقصان پہنچانا یا نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا، اس بنا پر کہ وہ ورکر:

 (i) ٹریڈ یونین کا رکن یا عہدیدار ہے یا بننے کا ارادہ رکھتا ہے، یا کسی اور شخص کو رکن یا عہدیدار بننے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے؛ یا

 (ii) ریفرنڈم واجب ہونے کے وقت کسی ٹریڈ یونین کے فروغ، قیام یا سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے؛

(ای) کسی شخص یا کسی دوسرے شخص کو کوئی فائدہ دے کر یا دینے کی پیشکش کر کے، یا اس کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر کے یا حاصل کرنے کی پیشکش کر کے، اسے ٹریڈ یونین کا رکن یا عہدیدار بننے سے باز رہنے یا رکن یا عہدیدار نہ رہنے پر آمادہ کرنا؛(ایف) اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے کسی عہدیدار کو ڈرا دھمکا کر، جبر، دباؤ، دھمکی، کسی جگہ محصور کر کے، جسمانی نقصان پہنچا کر، پانی، بجلی یا ٹیلیفون کی سہولت منقطع کر کے یا ایسے دیگر طریقوں سے اجتماعی معاہدہ کرنے پر مجبور کرنا یا مجبور کرنے کی کوشش کرنا؛(جی) دفعہ 100 کے تحت بیلٹنگ کے عمل میں مداخلت یا اثراندازی کرنا؛(ایچ) دفعہ 118 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہڑتال کے نوٹس کی مدت کے دوران یا کسی ایسی ہڑتال کے جاری رہنے کے دوران جو غیر قانونی نہ ہو، نئے ورکرز بھرتی کرنا، سوائے اس صورت کے کہ چیف انسپکٹر مطمئن ہو کہ مکمل کام بند ہونے سے مشینری یا تنصیب کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اس نے اس شعبے میں، جہاں نقصان کا اندیشہ ہو، محدود تعداد میں ورکرز کی عارضی ملازمت کی اجازت دے دی ہو؛(آئی) دفعہ 122 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ادارے کو مکمل طور پر بند کرنا؛(جے) غیر قانونی تالہ بندی کا آغاز کرنا، جاری رکھنا، اس کی ترغیب دینا، یا اس کے لیے مالی یا دیگر طریقوں سے مدد فراہم کرنا؛(کے) ورکرز کی ٹریڈ یونین کے معاملات، قیام، کارکردگی یا انتظامیہ میں مداخلت کرنا یا مالی معاونت فراہم کرنا؛(ایل) دفعہ 107 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے ساتھ نیک نیتی سے اجتماعی سودا کاری کرنے سے انکار کرنا؛ یا(ایم) دفعہ 100 کے تحت کسی ادارے میں ریفرنڈم کے انعقاد کے سلسلے میں رجسٹرار سے عدم تعاون یا مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے سے انکار کرنا۔

78۔ ورکرز کی جانب سے غیر منصفانہ لیبر طریق کار:۔(1) کوئی ورکر، شخص یا ورکرز کی ٹریڈ یونین درج ذیل کام نہیں کرے گی:(اے) کسی ورکر کو کام کے اوقات میں اور کام میں خلل ڈال کر ٹریڈ یونین میں شمولیت یا عدم شمولیت پر آمادہ کرنا؛(بی) کسی شخص کو ٹریڈ یونین کا رکن یا عہدیدار بننے، نہ بننے، یا رہنے یا چھوڑنے پر مجبور کرنا یا دھمکانا؛(سی) کسی شخص کو دھمکا کر یا فائدہ دے کر یا فائدہ دینے کا وعدہ کر کے اسے ٹریڈ یونین کا رکن یا عہدیدار بننے سے باز رہنے یا رکن یا عہدیدار نہ رہنے پر آمادہ کرنا؛(ڈی) آجر کو کسی مطالبے کو تسلیم کرنے پر دباؤ ڈالنے کے لیے دھمکی، زبردستی، دباؤ، کسی جگہ بند کر دینا یا نکال دینا، قبضہ، حملہ، جسمانی نقصان، فون، پانی یا بجلی کی سہولیات منقطع کرنے یا ایسے دیگر طریقوں سے مجبور کرنا یا مجبور کرنے کی کوشش کرنا؛(ای) کسی غیر قانونی ہڑتال یا سست روی کی تحریک کا آغاز، تسلسل، ترغیب، یا مالی معاونت یا دیگر ذرائع سے حمایت کرنا؛

(ایف) کسی آجر کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ اجتماعی سودا کاری کرنے سے انکار کرنا۔

(2) یہ بھی غیر منصفانہ عمل سمجھا جائے گا اگر کوئی ٹریڈ یونین دفعہ 100 کے تحت ہونے والی بیلٹنگ میں ناجائز اثر و رسوخ، دھمکی، جعلسازی یا رشوت کے ذریعے، اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کے ذریعے یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعے مداخلت کرے۔

79۔ سازش سے متعلق قانون کا محدود اطلاق:۔رجسٹرڈ ٹریڈ یونین یا اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے کسی بھی عہدیدار یا رکن کو، رجسٹرار کی تصدیق کے مطابق، مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 (45بابت 1860) کی دفعہ بی۔120 کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت ایسے کسی معاہدے کی بنا پر سزا نہیں دی جائے گی جو اس کے اراکین کے درمیان ٹریڈ یونین کے کسی ایسے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہو جو دفعہ 83 میں محولہ اس کے آئین میں مذکور ہو، سوائے اس کے کہ وہ معاہدہ کوئی سنگین جرم کرنے کا معاہدہ ہو یا کسی اور قانون کی خلاف ورزی ہو۔

80۔ مخصوص صورتوں میں دیوانی دعوے سے استثنیٰ:۔ (1) کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین، اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ یا ان کا کوئی عہدیدار یا رکن، کے خلاف کسی بھی دیوانی عدالت میں کوئی دعویٰ یا قانونی کارروائی قابل سماعت نہیں ہوگی، اگر اس کا تعلق کسی ایسے فعل سے ہو جو کسی لیبر تنازعہ کی پیش بینی یا اس کے فروغ کے مقصد سے کیا گیا ہو جس میں متعلقہ ٹریڈ یونین فریق ہو، اور اس کی واحد بنیاد یہ ہو کہ ایسا فعل کسی دوسرے شخص کو معاہدۂ ملازمت کی خلاف ورزی پر آمادہ کرتا ہے، یا کسی دوسرے شخص کی تجارت، کاروبار یا روزگار میں، یا اس کے سرمائے یا محنت کو استعمال کرنے کے حق میں مداخلت کرتا ہے۔

(2) کسی ٹریڈ یونین کے خلاف کسی بھی دیوانی عدالت میں کسی مقدمے یا قانونی کارروائی میں کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی، اگر اس کا تعلق کسی ایسے ضرر رساں فعل سے ہو جو اس کے کسی ایجنٹ نے نیک نیتی کے ساتھ کسی لیبر تنازعہ کی پیش بینی یا اس کے فروغ میں کیا ہو، مگر یہ کہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ ایسے شخص نے یہ عمل ٹریڈ یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے علم یا براہ راست ہدایت کے تحت کیا۔

81۔ چیک آف (ادائیگی میں کٹوتی):۔ (1) اگر کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ اس کی درخواست کرے، تو آجر یا ورکرز کا پرنسپل، جو کسی ٹریڈ یونین کے رکن ہوں، ان ورکرز کی تنخواہوں سے ٹریڈ یونین کے فنڈز میں رکنیت کے لیے مخصوص رقم اس شرط کے ساتھ کاٹے گا کہ ہر ورکر نے تحریری رضامندی دی ہو، اور اس کا نام ٹریڈ یونین کی طرف سے دیے گئے مطالبہ نامہ میں شامل ہو۔(2) جو آجر یا پرنسپل ذیلی دفعہ (1) کے تحت کٹوتی کرے گا، وہ متعلقہ مدت کے اختتام کے پندرہ دن کے اندر اندر پوری کٹی ہوئی رقم اس ٹریڈ یونین کے اکاؤنٹ میں جمع کروائے گا جس کی طرف سے یہ کٹوتی کی گئی ہو۔(3) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ کسی شیڈولڈ بینک کی کسی شاخ میں ایسا اکاؤنٹ قائم کرے گا، جس میں آجر کی طرف سے ورکرز کی تنخواہوں سے کی گئی تمام کٹوتیاں جمع کی جائیں گی:

مگر شرط یہ ہے کہ شیڈولڈ بینکس رجسٹرڈ ٹریڈ یونینوں کو ایسے اکاؤنٹس کھولنے اور ان کے تحفظ میں سہولت فراہم کریں گے۔(4) آجر یا پرنسپل، اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ اور رجسٹرار کو یہ سہولیات فراہم کرے گا تاکہ یہ جانچ کی جا سکے کہ آیا ذیلی دفعہ (1) کے تحت ورکرز کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کی جا رہی ہیں یا نہیں۔

بی۔ ٹریڈ یونینز اور آجر تنظیموں کی رجسٹریشن

82۔ رجسٹریشن کے لیے درخواست:۔(1) کوئی بھی ٹریڈ یونین یا آجر تنظیم اپنے صدر اور سیکریٹری کے دستخطوں کے ساتھ رجسٹرار کے پاس پنجاب لیبر کوڈ کے تحت رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔(2) آجر تنظیم کی رجسٹریشن کا طریق کار وہ ہوگا جو مقرر کیا جائے۔

83۔ ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن کے لیے درخواست کے تقاضے:۔ ہر ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن کے لیے درخواست رجسٹرار کو کاغذی یا الیکٹرانک صورت میں دی جائے گی، اور اس کے ساتھ مندرجہ ذیل دستاویزات لف ہوں گی:(اے) ایک بیان جس میں درج ذیل معلومات شامل ہوں:

(i) ٹریڈ یونین کا نام اور اس کے مرکزی دفتر کا پتہ؛(ii) ٹریڈ یونین کے قیام کی تاریخ؛(iii) ٹریڈ یونین کے عہدیداروں کے عہدے، نام، عمریں، اور پیشے؛(iv) کل ادا شدہ رکنیت کی تفصیل؛(v) اگر یونین کسی ادارے یا اداروں کے گروپ میں شامل ہے تو ان اداروں کے نام اور ان میں کام کرنے والے ورکرز کی کل تعداد؛(vi) ان ٹریڈ یونینزکے لیے جو ذیلی شق (v) میں مذکور نہیں، کام کی وہ قسم جس سے یونین کا تعلق ہو بشمول، مگر محدود نہیں، حصہ چہارم میں بیان کردہ مخصوص کیٹیگری سے؛(vii) اگر یونین ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن ہے، تو شامل ٹریڈ یونینز کے نام، پتے اور رجسٹریشن نمبر؛(viii) اگر یونین فیڈریشنز کی کنفیڈریشن ہے، تو شامل فیڈریشنز کے نام، پتے اور رجسٹریشن نمبر؛(بی) ٹریڈ یونین کے آئین کی تین نقول، اور ایک نقل ایسی قرارداد کی جس کے تحت مذکورہ آئین کو یونین کے اراکین نے منظور کیا ہو، جس پر اجلاس کے چیئرپرسن کے دستخط ہوں؛(سی) ٹریڈ یونین کے اراکین کی اس قرارداد کی ایک نقل جس کے تحت صدر اور سیکرٹری کو رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے کا اختیار دیا گیا ہو؛(ڈی) اگر یونین، ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن ہو، تو ہر شریک ٹریڈ یونین کی اس قرارداد کی ایک نقل جس میں فیڈریشن کی رکنیت قبول کرنے کی منظوری دی گئی ہو؛(ای) اگر یونین فیڈریشنز کی کنفیڈریشن ہو، تو ہر شریک فیڈریشن کی اس قرارداد کی ایک نقل جس میں کنفیڈریشن کی رکنیت قبول کرنے کی منظوری دی گئی ہو۔

84۔ رجسٹریشن کے لیے شرائط:۔ (1) کسی ٹریڈ یونین کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اس وقت تک رجسٹریشن کا حق حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ اس کا آئین مندرجہ ذیل امور کو واضح طور پر شامل نہ کرے:(اے) ٹریڈ یونین کا نام اور پتہ؛(بی) وہ مقاصد جن کے لیے ٹریڈ یونین قائم کی گئی ہے؛(سی) یونین کے عام فنڈز کے استعمال کے مقاصد؛(ڈی) اگر یونین کسی ادارے یا اداروں کے گروپ کے اندر قائم کی گئی ہو، تو اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان میں سے کم از کم 80 فیصد ارکان ایسے ورکرز ہوں جو مذکورہ ادارے یا اداروں میں درحقیقت ملازمت کر رہے ہوں:

مگر شرط یہ ہے کہ ایسا شخص جو متعلقہ ادارے یا اداروں سے تعلق نہ رکھتا ہو، اسے کسی اور ادارے میں کام کرنا ضروری نہیں ہوگا؛

مزید شرط یہ ہے کہ کسی تیسرے فریق کے ذریعے منسلک کنٹریکٹ ورکر کو بھی اس ادارے یا اداروں کے لیے درحقیقت ملازم تصور کیا جائے گا؛(ای) ان یونینز کے لیے جن کا ذکر شق (ڈی) میں نہیں، ایگزیکٹو کے ارکان کی تعداد، یونین کے اراکین کی کل تعداد کے 10 فیصد یا 25 میں سے جو کم ہو، سے زیادہ نہ ہو، تاہم ایگزیکٹو کی مجموعی تعداد پانچ سے کم نہیں ہوگی؛(ایف) وہ شرائط جن کے تحت رکن کو آئین کے تحت کوئی فائدہ حاصل ہوگا یا اس پر کوئی جرمانہ یا ضبطی عائد کی جا سکتی ہے؛(جی) ٹریڈ یونین کے اراکین کی فہرست کی دیکھ بھال اور عہدیداران و اراکین کو اس کا معائنہ کرنے کی مناسب سہولیات؛(ایچ) آئین میں ترمیم، تبدیلی یا منسوخی کا طریق؛(آئی) فنڈز کی محفوظ تحویل، سالانہ آڈٹ، آڈٹ کا طریق کار، اور اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے مناسب سہولیات؛(جے) یونین کو تحلیل (ختم) کرنے کا طریق؛(کے) جنرل باڈی کے ذریعے عہدیداروں کے انتخاب کا طریق، اور ان کی مدتِ عہدہ، جو دو سال سے زائد نہیں ہوگی؛(ایل) کسی عہدیدار کے خلاف عدم اعتماد کے اظہار کا طریق کار؛(ایم) ایگزیکٹو اور جنرل باڈی کے اجلاسوں کا انعقاد، تاکہ یہ اجلاس یونین کے آئین یا ضوابط کے مطابق باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تابع، اگر کوئی ٹریڈ یونین کسی ادارے یا اداروں کے گروپ میں شامل کی گئی ہو، تو ایسی ٹریڈ یونین کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت رجسٹریشن کا حق حاصل نہیں ہوگا:(اے) جب تک کہ اس کے تمام اراکین واقعی طور پر متعلقہ ادارے یا اداروں کے گروپ میں ملازمت نہ کر رہے ہوں؛ اور(بی) جب تک کہ اس کی رکنیت متعلقہ ادارے یا اداروں میں ملازم کل ورکرز کی کم از کم پانچ فیصد نہ ہو، یا کم از کم بیس ورکرز پر مشتمل نہ ہو، جو بھی کم ہو؛ اور(سی) جب تک کہ اس نے اپنی ایگزیکٹو باڈی میں خواتین ورکرز کو، ادارے کی افرادی قوت میں ان کی عددی تعداد کے کم از کم تناسب سے، شامل نہ کیا ہو، بشرطیکہ متعلقہ ادارے یا اداروں میں خواتین ورکرز ملازم ہوں، جن سے اس ٹریڈ یونین کا تعلق ہو۔

(3) ان ٹریڈ یونینوں کے معاملے میں جن کا ذکر ذیلی دفعہ (2) میں نہ ہو، کم از کم بیس ورکرز جو کام کی ایک ہی کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہوں لازم ہوں گے۔

(4) ذیلی دفعہ (2) یا (3) میں کوئی بھی چیز کسی فیڈریشن یا کنفیڈریشن کی رکنیت کو محدود کرنے کے طور پر نہیں لی جائے گی۔

85۔ ٹریڈ یونین کے عہدیدار بننے کے لیے نااہلی:۔ کوئی بھی ٹریڈ یونین اپنا آئین یا ضوابط کچھ بھی کہیں، اگر کوئی شخص مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 (45بابت1860) کے تحت کسی بھی سنگین جرم کا مجرمانہ مرتکب ہو چکا ہو، تو وہ ٹریڈ یونین کا عہدیدار منتخب ہونے یا عہدہ رکھنے کے لیے نااہل شمار کیا جائے گا۔

مگر شرط یہ ہے کہ اگر کوئی عہدیدار فنڈز میں خیانت یا ان کے ناجائز استعمال کے جرم میں مجرم قرار پاتا ہے، تو اسے باقی ماندہ مدت کے لیے اور اس کے فوراً بعد آنے والی مدت کے لیے بھی عہدہ رکھنے سے روک دیا جائے گا۔

اس دفعہ کی اغراض کے لیے، سنگین جرم سے مراد ایسا جرم ہے جو سنگین، ہولناک، ظالمانہ، سنسنی خیز نوعیت کا یا عوامی اخلاقیات کو جھنجوڑنے والا ہو اور جو مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 (45 بابت 1860) یا فی الوقت نافذ العمل کسی دوسرے قانون کے تحت موت، یا عمر قید، یا سات سال سے زائد قید کی سزا کے قابل ہو، خواہ جرمانے کے ساتھ یا اس کے بغیر۔

86۔ رجسٹریشن:۔ (1) جب رجسٹرار یہ تصدیق کر لے کہ ٹریڈ یونین نے پنجاب لیبر کوڈ کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں، تو وہ درخواست کی وصولی کی تاریخ سے پندرہ دن کے اندر رجسٹریشن کے لیے مقرر کردہ رجسٹر میں ٹریڈ یونین کو درج کرے گا اور مقررہ فارم میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔(2) اگر درخواست میں کوئی سنگین کمی محسوس ہو تو رجسٹرار درخواست کی وصولی سے پندرہ دن کے اندر اس بارے میں تحریری اعتراضات ٹریڈ یونین کو بھیجے گا، اور یونین کو اعتراضات کی وصولی سے پندرہ دن کے اندر جواب دینا ہو گا۔(3) جب اعتراضات کا تسلی بخش جواب موصول ہو جائے، تو رجسٹرار پندرہ دن کے اندر یونین کو رجسٹر کر کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔(4) اگر رجسٹرار اضافی تاخیر کرے تو رجسٹرار درخواست گزار ٹریڈ یونین کو تاحکم ثانی عارضی طور پر رجسٹر کرے گا۔(5) اگر اعتراضات کے جواب تسلی بخش نہ ہوں، تو رجسٹرار درخواست کو مسترد کر سکتا ہے۔(6) اگر درخواست مسترد ہو جائے، یا رجسٹرار نے رجسٹریشن میں یا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں پندرہ دن سے زائد تاخیر کی ہو، یا عارضی رجسٹریشن نہ کی ہو، تو یونین لیبر کورٹ میں اپیل دائر کر سکتی ہے، جہاں عدالت، اپنے فیصلے میں وجوہات بیان کرتے ہوئے، تیس دن کے اندر رجسٹرار کو یونین کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دے سکتی ہے یا اپیل مسترد بھی کر سکتی ہے۔(7) پنجاب لیبر کوڈ کے باب 2.6، حصہ دوم کے کسی دیگر حکم میں شامل کسی امر کے باوجود، رجسٹرڈ ٹریڈ یونین میں آئین کی ہر تبدیلی یا عہدیداروں کے انتخاب یا تبدیلی کی صورت میں، یونین کو رجسٹرار کو رجسٹرڈ ڈاک یا الیکٹرانکلی طور پر ایسے انتخاب یا تبدیلی کے پندرہ دن کے اندر رجسٹرار کی منظوری کے لیے مطلع کرنا ضروری ہوگا۔(8) اگر یہ تبدیلی پنجاب لیبر کوڈ یا یونین کے آئین کی خلاف ورزی ہو، تو رجسٹرار اس نئے انتخاب یا آئینی ترمیم کو رجسٹر کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔(9) ذیلی دفعہ (8) کے حکم کے تابع، ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن یا فیڈریشنز کی کنفیڈریشن میں کسی رکن یونٹ کی ہر شمولیت یا اخراج کی صورت میں، متعلقہ فیڈریشن یا کنفیڈریشن ایسی شمولیت یا اخراج کے پندرہ دن کے اندر رجسٹرڈ ڈاک یا الیکٹرانک طور پر رجسٹرار کو مطلع کرے گی۔(10) اگر ٹریڈ یونین کے عہدیداروں کے انتخاب یا عہدیداروں کی تبدیلی یا آئین میں ترمیم کے بارے میں کوئی تنازعہ ہو، تو رجسٹرار یا کوئی ٹریڈ یونین، یا ٹریڈ یونین کا کوئی عہدیدار یا رکن لیبر کورٹ میں درخواست یا اپیل دائر کر سکتا ہے، جو درخواست یا اپیل کی وصولی کے سات دن کے اندر یا تو رجسٹرار کو ٹریڈ یونین کے آئین یا عہدیداروں میں تبدیلی یا ترمیم رجسٹر کرنے کا حکم دے گی یا، تحریری طور پر قلمبند کی جانے والی وجوہات کی بنا پر، رجسٹرار کو اپنی نگرانی میں ٹریڈ یونین کے نئے انتخابات کرانے کی ہدایت کر سکتی ہے۔۔(11) اگر انتخاب، تبدیلی یا آئینی ترمیم دھوکہ دہی یا غلط بیانی سے کی گئی ہو، تو رجسٹرار اراکین کی شکایت پر پندرہ دن میں سماعت کے بعد منظوری واپس لے سکتا ہےاور اس کے خلاف لیبر کورٹ میں اپیل تیس دن کے اندر کی جا سکتی ہے۔

87۔ فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کی رجسٹریشن:۔ (1) اگر دو یا دو سے زیادہ رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز اپنی متعلقہ جنرل باڈیز کی قرارداد کے ذریعے اس پر متفق ہوں، تو وہ باہم مل کر ایک فیڈریشن قائم کر سکتی ہیں اور فیڈریشن کے قیام کا معاہدہ مرتب کر کے، کاغذی یا الیکٹرانک صورت میں رجسٹرار کے پاس رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔(2) اگر دو یا دو سے زیادہ آجر تنظیمیں اپنی متعلقہ جنرل باڈیز کی قرارداد کے ذریعے اس پر متفق ہوں، تو وہ بھی باہم مل کر فیڈریشن قائم کر سکتی ہیں اور فیڈریشن کے قیام کا معاہدہ مرتب کر کے، کاغذی یا الیکٹرانکلی رجسٹرار کو رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔(3) ذیلی دفعہ (1) میں بیان کردہ فیڈریشن درج ذیل اقسام کی ہو سکتی ہے:(اے) کسی ایک آجر کے متعلق؛ یا(بی) درج ذیل سطح پر متعدد آجروں کے متعلق؛(i) کسی پیشے، پروفیشن، شعبے یا شعبہ جات؛ یا(ii) کسی صوبے یا صوبے کے کسی حصے کی سطح پر۔(4) ذیلی دفعہ (2) میں بیان کردہ آجر تنظیموں کی فیڈریشن درج ذیل سطح پر ہو سکتی ہے:(i) کسی شعبے یا مختلف شعبہ جات کی سطح پر؛ یا(ii) کسی صوبے یا صوبے کے کسی حصے کی سطح پر۔(5) اگر دو یا دو سے زیادہ رجسٹرڈ فیڈریشنز، اپنی اپنی شامل شدہ ٹریڈ یونینز کی قرارداد کے ذریعے متفق ہوں، تو وہ باہم مل کر ایک کنفیڈریشن قائم کر سکتی ہیں اور کنفیڈریشن کے قیام کا معاہدہ مرتب کر کے رجسٹرار کے پاس رجسٹریشن کی درخواست دے سکتی ہیں۔(6) ورکرز کی کوئی بھی ٹریڈ یونین ایسی فیڈریشن کا حصہ نہیں بن سکتی جس میں آجروں کی ٹریڈ یونین شامل ہو، اور نہ ہی آجروں کی کوئی ٹریڈ یونین ایسی فیڈریشن کا حصہ بن سکتی ہے جس میں ورکرز کی ٹریڈ یونین شامل ہو۔(7) ورکرز کی ٹریڈ یونینز کی کوئی فیڈریشن ایسی کنفیڈریشن کا حصہ نہیں بن سکتی جس میں آجروں کی فیڈریشن شامل ہو، اور نہ ہی آجروں کی کوئی فیڈریشن ایسی کنفیڈریشن کا حصہ بن سکتی ہے جس میں ورکرز کی فیڈریشن شامل ہو۔(8)فیڈریشن یا کنفیڈریشن کے قیام سے متعلق جو معاہدہ ذیلی دفعات (1)، (2) اور (5) میں مذکور ہے، اُس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ یہ بھی شامل ہوگا کہ شامل شدہ ٹریڈ یونینز اور فیڈریشنز کو کن طریق کار پر عمل کرنا ہوگا، فیڈریشن یا کنفیڈریشن کے کیا حقوق اور ذمہ داریاں ہوں گی اور شامل شدہ ٹریڈ یونینز یا فیڈریشنز کے کیا حقوق و فرائض ہوں گے۔(9) ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن کی رجسٹریشن کے لیے دی جانے والی درخواست ان تمام ٹریڈ یونینز کے صدور یا ان کے مجاز عہدیداران کے دستخط سے ہوگی، اور اس کے ساتھ فیڈریشن کے قیام کے معاہدے کی تین نقول لف ہوں گی۔(10) کنفیڈریشن کی رجسٹریشن کے لیے دی جانے والی درخواست ان تمام فیڈریشنز کے صدور یا ان کے مجاز عہدیداران کے دستخط سے ہوگی، اور اس کے ساتھ کنفیڈریشن کے قیام کے معاہدے کی تین نقول لف ہوں گی۔(11) دفعہ ہذا کے تابع، پنجاب لیبر کوڈ کے احکامات، جتنا ممکن ہو اور حسبِ ضرورت ترامیم کے ساتھ، فیڈریشن اور کنفیڈریشن پر بھی اسی طرح لاگو ہوں گی جیسے وہ کسی ٹریڈ یونین پر لاگو ہوتی ہیں۔(12) فیڈریشن یا کنفیڈریشن میں کسی رکن یونٹ کی شمولیت یا اخراج کی صورت میں، متعلقہ فیڈریشن یا کنفیڈریشن کو لازم ہے کہ وہ رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے رجسٹرار کو پندرہ دن کے اندر مطلع کرے۔

88۔ نام کی تبدیلی:۔ کوئی بھی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین، اپنے کل اراکین کی کم از کم دو تہائی اکثریت کی رضامندی سے اور باب ہذا کی دفعات کے تابع، مقررہ طریق کار کے مطابق اپنا نام تبدیل کر سکتی ہے۔

89۔ ٹریڈ یونینز کا انضمام:۔ دو یا زیادہ رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز، مقررہ طریق سے، بغیر تحلیل یا اپنے فنڈز کی تقسیم کے یا اس کے ساتھ، ایک واحد ٹریڈ یونین میں ضم ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ ہر ایسی ٹریڈ یونین کے کم از کم نصف ارکان جنہیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہو، اپنا ووٹ ڈالیں، اور ڈالے گئے ووٹوں میں سے کم از کم ساٹھ فیصد اس انضمام کے حق میں ہوں۔

90۔ نام کی تبدیلی اور انضمام کے اثرات:۔ (1) کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کے نام کی تبدیلی سے اس کے حقوق یا ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، نہ ہی اس کے خلاف یا اس کی طرف سے شروع کی جانے والی کوئی قانونی کارروائی متاثر ہوگی، اور ایسی کوئی بھی کارروائی جو پرانے نام سے جاری یا شروع کی جا سکتی تھی، نئے نام سے بھی جاری یا شروع کی جا سکتی ہے۔(2) دو یا زیادہ رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز کے انضمام سے ایسی کسی بھی ٹریڈ یونین یا ان کے کسی قرض دہندہ کے حق کو نقصان نہیں پہنچے گا۔

91۔ رجسٹریشن کی درخواست کے زیر التوا ہونے کے دوران ٹریڈ یونین کے اراکین اور عہدیداروں کا تحفظ:۔ جب تک رجسٹرار سے پیشگی اجازت نہ لی جائے، کسی بھی ورکرز کی ٹریڈ یونین کے رکن یا عہدیدار کو، رجسٹریشن کی درخواست کے زیر التوا ہونے کے دوران، تبادلے، برطرفی، برخاستگی یا کسی اور قسم کی سزا کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا، بشرطیکہ ٹریڈ یونین نے اپنے اراکین اور عہدیداروں کے نام تحریری طور پر رجسٹرار کو دے دیے ہوں۔

92۔ رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ:۔ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت جب رجسٹرار کسی ٹریڈ یونین کو رجسٹر کرے گا، تو وہ مقررہ فارم میں ایک رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرے گا، جو اس بات کا قطعی ثبوت ہوگا کہ ٹریڈ یونین کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت باقاعدہ طور پر رجسٹر کر دیا گیا ہے۔

93۔ رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کی قانونی حیثیت:۔ (1) ہر رجسٹرڈ ٹریڈ یونین، اپنے رجسٹرڈ نام سے ایک باڈی کارپوریٹ ہوگی، اسے دائمی تسلسل حاصل ہوگا اور اس کی ایک مشترکہ مہر ہوگی، وہ معاہدہ کرنے، منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد حاصل کرنے، رکھنے اور فروخت کرنے کا اختیار رکھے گی، اور وہ اپنے نام سے مقدمہ دائر کر سکے گی یا اس پر مقدمہ دائر کیا جا سکے گا۔(2) قانون سوسائٹیز رجسٹریشن 1860 (21بابت 1860)، قانون کوآپریٹو سوسائٹیز 1925 (7بابت 1925)، اور قانون کمپنیز 2017 (19 بابت 2017) کا اطلاق کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین پر نہیں ہوگا، اور ان میں سے کسی قانون کے تحت کسی ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن کالعدم تصور کی جائے گی۔

94۔ رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کا رجسٹر برقرار رکھنا:۔ہر رجسٹرڈ ٹریڈ یونین درج ذیل مصرحہ فارم میں جیساکہ صراحت کی جائے، رجسٹر مینٹین رکھے گی:(اے) اراکین کا رجسٹر جس میں ہر رکن کی طرف سے ادا کی گئی سبسکرپشن کی تفصیلات درج ہوں؛(بی) ایک اکاؤنٹ بک جس میں تمام وصولیاں اور اخراجات درج ہوں؛ اور(سی) ایک منٹس بک جس میں اجلاسوں کی کاروائیوں کا ریکارڈ ہو۔

95۔ ٹریڈ یونین کے سالانہ گوشوارے:۔(1) ہر رجسٹرڈ ٹریڈ یونین ہرسال رجسٹرار کو اس کی منظوری کے لیے مقررہ تاریخ کو یا اس سے پہلے، ایسی مقررہ تاریخ سے فوراً پہلے 31 دسمبر کو ختم ہونے والے سال کے دوران تمام وصولیوں اور اخراجات کی ایک عمومی سٹیٹمنٹ، جو مقررہ طریق پر آڈٹ شدہ ہو، اور اسی 31 دسمبر کو موجود اثاثہ جات اور واجبات کی تفصیل بھیجے گی۔(2) عمومی سٹیٹمنٹ کے ساتھ، رجسٹرڈ ٹریڈ یونین رجسٹرار کو سال بھر میں کئے گئے تمام عہدیداروں کی تبدیلیوں کی سٹیٹمنٹ، کل ادا شدہ ممبرشپ کی سٹیٹمنٹ اور ٹریڈ یونین کے آئین کی تازہ نقل بھیجے گی۔(3) ٹریڈ یونین کے آئین میں کی گئی ہر تبدیلی اور جنرل باڈی کی کسی بھی قرارداد کی نقل جو آئین کے کسی حکم کا اثر رکھتی ہو، تبدیلی کیے جانے یا قرارداد منظور کیے جانے کے پندرہ دن کے اندر رجسٹرار کو بھیجی جائے گی۔(4) اگر رجسٹرار کو سالانہ گوشوارے میں کوئی نمایاں کمی نظر آئے تو وہ سالانہ گوشوارے کی وصولی سے پندرہ دن کے اندر تحریری طور پر اعتراضات ٹریڈ یونین کو بھیجے گا اور ٹریڈ یونین اعتراضات کی موصولی کے پندرہ دن کے اندر ان کا جواب دے گی۔(5) رجسٹرار کی جانب سےاٹھائے گئے اعتراضات کے قابلِ قبول جواب موصول ہونے پر،رجسٹرار، اعتراضات کے جواب کی ترسیل کی تاریخ سے پندرہ دن کے اندر، ذیلی دفعہ (1) کے مطابق سالانہ گوشوارے کی منظوری دے گا۔(6) اعتراضات کے جوابات تسلی بخش نہ ہوں تو رجسٹرار سالانہ گوشوارہ مسترد کر سکتا ہے۔(7) اگر رجسٹرار سالانہ گوشوارہ مسترد کرے تو رجسٹرار کسی عہدیدار کی رجسٹریشن منسوخ کر سکتا ہے۔(8) اگر رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کسی فیڈریشن کی رکن ہو تو فیڈریشن کا نام سالانہ گوشوارے میں شامل کیا جائے گا۔(9) اگر رجسٹرڈ فیڈریشن کسی کنفیڈریشن کی رکن ہو تو کنفیڈریشن کا نام سالانہ گوشوارے میں شامل کیا جائے گا۔

96۔ رجسٹریشن کی منسوخی:۔(1) ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن اس وقت منسوخ کی جائے گی اگر لیبر کورٹ رجسٹرار کی تحریری شکایت پر حکم دے کہ ٹریڈ یونین نے:(اے) پنجاب لیبر کوڈ یا قواعد کے کسی بھی حکم کی خلاف ورزی کی ہو یا ان کی خلاف ورزی میں رجسٹرڈ ہوئی ہو؛(بی) اپنے آئین کے کسی بھی حکم کی خلاف ورزی کی ہو؛(سی) اپنےآئین میں کوئی ایسا حکم شامل کیا ہو جو پنجاب لیبر کوڈ یا قواعد سے متصادم ہو؛ اور(ڈی) کوئی ایسا شخص جو دفعہ 85 کے تحت نااہل ہو، رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کا عہدیدار منتخب ہوا ہو بطور رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کے آفس بیرئیر کے۔

(2) ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن رجسٹرار کی جانب سے، ایسی منسوخی کی تحریری وجوہات دیتے ہوئے، اگر ضروری ہو تو انکوائری کرنے کے بعد منسوخ کردی جائے گی اگر پتہ چلے کہ ٹریڈ یونین نے :

(اے) خود کو تحلیل کر دیا ہو یا وجود نہ رکھتی ہو؛ یا(بی) اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے کسی ریفرنڈم میں حصہ نہ لیا ہو؛ یا(سی) دفعہ 100 کے تحت ادارے یا اداروں کے گروپ میں اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے درخواست نہ دی ہو جبکہ ایجنٹ کی دو سالہ مدت ختم ہو چکی ہو؛ یا(ڈی) بطور دیگر ٹریڈ یونین اپنی رجسٹریشن سے، یا پنجاب لیبر کوڈ کے آغاز نفاذ سے، جو بھی پہلے ہو، دو ماہ کے اندر اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے درخواست نہ دی ہو، بشرطیکہ ادارے یا اداروں کے گروپ میں پہلے سے کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود نہ ہو؛ یا

(ای) اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے دو مسلسل ریفرنڈمز میں بطور ووٹرز کی حتمی فہرست میں ڈالے گئے ووٹوں میں پندرہ فیصد سے کم ووٹ حاصل کیے ہوں۔

97۔ ٹریڈ یونین سے متعلق تعمیلی احکامات:۔(1) پانچ یا زائد ٹریڈ یونین کے ارکان (دفعہ ہذا میں جسے "درخواست گزار" کہا گیا ہے) اگر سمجھیں کہ ٹریڈ یونین کا ایگزیکٹو اپنے آئین یا پنجاب لیبر کوڈ کی تعمیل نہیں کر رہا، تو رجسٹرار کو تحریری شکایت دے سکتے ہیں تاکہ وہ ایگزیکٹو کو شکایات کی تاریخ سے چودہ دن میں تعمیل کا حکم دے۔(2) اگر ایگزیکٹو، رجسٹرار کے حکم کی تعمیل سے انکار کرے یا ناکام رہے تو رجسٹرار پوری ایگزیکٹو باڈی کو تحلیل کر سکتا ہے یا ذمہ دار افراد کو الگ کر سکتا ہے، یا خالی عہدوں کے لیے انتخاب کرانے کا حکم دے سکتا ہے اور عملدرآمد کے لیے آخری تاریخ مقرر کر سکتا ہے۔(3) مذکورہ ذیلی دفعہ کےتحت، حکم جاری کرنے سے پہلے، رجسٹرار اس شخص کوشنوائی کا موقع دے گا جس کے خلاف حکم یا ہدایات دی جارہی ہوں۔

98۔ منسوخی کے خلاف اپیل:۔ کسی دئیے گئے حکم سے متاثرہ کوئی ٹریڈ یونین :

(اے) دفعہ 96 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت، لیبر کورٹ کے حکم کے خلاف کسی بھی ٹریڈ یونین کو حکم جاری ہونے کے تیس دن کے اندر ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا حق ہوگا؛ اور(بی) دفعہ 96 کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت رجسٹرار کے حکم کے خلاف اپیل لیبر کورٹ میں تیس دن کے اندر کی جا سکتی ہے۔

سی۔ اجتماعی سودا کاری

99۔ اجتماعی سودا کاری کی سطحیں:۔اجتماعی سودا کاری اس سطح پر کی جا سکتی ہے جہاں فریقین متفق ہوں، بشمول درج ذیل سطحیں:(اے) ایک ادارہ یا اداروں کا گروپ؛ یا(بی) آرگنائزیشن یا آجروں کی آرگنائزیشن کے ساتھ یونینز کی فیڈریشن یا کنفیڈریشن کی جانب سے اجتماعی سودا کاری کی صورت میں:(i) پیشہ، پروفیشن، سیکٹر یا سیکٹرز؛ یا(ii) صوبہ یا صوبے کا حصہ۔

100۔ ادارہ یا اداروں کے گروپ کے لیے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کا تعین:۔(1) اگر کسی ادارہ یا اداروں کے گروپ میں صرف ایک رجسٹرڈ ٹریڈ یونین ہو، اور وہ اپنے ارکان کی تعداد اس ادارے یا گروپ کے کل ملازمین کا کم از کم ایک تہائی ہو، تو رجسٹرار اسے مقررہ طریقے سے اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ سرٹیفائی کرے گا بشرطیکہ اس حوالے سے درخواست دی جائے۔(2) اگر کسی ادارے یا اداروں کے گروپ میں ایک سے زائد رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز ہوں، تو رجسٹرار، کسی ایسی ٹریڈ یونین کی جانب سے جس کے اراکین ایسے ادارے یا اداروں کے گروپ میں ملازم ورکرز کی کل تعداد کے پانچویں حصے (20 فیصد) سے کم نہ ہوں، یا آجر یا حکومت کی جانب سے، اس سلسلے میں دی گئی درخواست پر، درخواست دیے جانے سے پندرہ دن کے اندر خفیہ رائے شماری کرائے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ایسی ٹریڈ یونینز میں سے کون سی اجتماعی سودا کاری کی ایجنٹ ہوگی۔(3) رجسٹرار، بڑے ادارے کی صورت میں، ایک سے زائد شہر میں اس کی شاخیں ہونے کی صورت میں، درخواست دینے کے تیس یوم کے اندر خفیہ بیلٹ کا انعقاد کرے گا۔

(4) رجسٹرار، ذیلی دفعہ (2)کے تحت ادارہ یا اداروں کے گروپ پر مشتمل یا بشمول سیزنل ادارہ کے تناظر میں کسی درخواست پر عملدرآمد نہ کرے گا تاوقتیکہ ایسی درخواست ایسے مہینہ کے دوران دی جائے جس میں ایسے ادارے میں برسرروزگارورکرز کی تعداد سال میں عموماًزیادہ سے زیادہ ہو۔(5) ذیلی دفعہ (2)کے تحت، درخواست کی وصولی پر، رجسٹرار بذریعہ تحریری نوٹس ادارہ یا اداروں کے گروپ میں ہر رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کو بلائے گا جس کے متعلقہ درخواست ہو :

(اے) دس یوم کے اندر نشاندہی کرے گا آیا ایسے ادارہ یا اداروں کے گروپ کے تناظر میں اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے خفیہ بیلٹ کے امیدوار ہونے کی خواہش رکھتا ہو؛ اور

(بی) اگروہ ایسی خواہش رکھتا ہو تو رجسٹر ار کو ہر رکن سیکشن یا شعبہ اور جگہ جہاں ورکر برسرروزگار ہو اور رکن بننے کی تاریخ کے تناظر میں، اس کے اراکین کے ناموں پر مشتمل فہرست اور اگر یونین ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن ہو، تو الحاق شدہ ٹریڈ یونینز کی فہرست کے ساتھ ہر ایسے رکن کے مذکورہ کوائف کے تناظر میں ایسی ٹریڈ یونین کے اراکین کی فہرست بیس یوم کے اندر جمع کروائے گا۔(6) ہر آجر کرے گا :

(اے) رجسٹر ار کی جانب سے اگرمطلوب ہو، تو ادارہ یا اداروں کے گروپ میں برسرروزگار تمام ورکرز کی فہرست ان کے علاوہ جن کی ادارہ یا اداروں کے گروپ میں ملازمت کی مدت تین ماہ سے کم ہو اور ہر ورکر کے تناظر میں ورکر کی عمر، سیکشن یا شعبہ اور روزگار کی جگہ اور ادارہ یا اداروں کے گروپ میں روزگار کی تاریخ والی فہرست جمع کروائے گا؛ اور

(بی) آجر اور ٹریڈ یونینز کی جانب سے جمع کروائی گئی فہرستوں کو تصدیق کے لیے ایسی سہولیات کی فراہمی جیسی رجسٹرار کو درکار ہو۔

(7) سیزنل ادارے میں ملازم ورکر کے معاملے میں ذیلی دفعہ (6) میں مذکور تین ماہ کی مدت کا شمار کرتے ہوئے، وہ مدت بھی شمار کی جائے گی جس کے دوران ورکر گزشتہ سیزن میں اسی ادارے میں ملازم رہا ہو۔

(8) رجسٹرار، ٹریڈیونینز کی جانب سے جمع کرائی گئی فہرستوں کی تصدیق کے بعد، ووٹرز کی فہرست تیار کرے گا جس میں ہرورکر کا نام شامل ہوگا جس کی مدت ملازمت ذیلی دفعہ (6)کے مطابق بطور اکٹھی کی گئی جو کہ تین ماہ سے کم نہ ہو اور جو کسی انتخاب لڑنے والی ٹریڈ یونین کا رکن ہو، اور پول کےلیے مقررہ تاریخ سے کم ازکم چاریوم قبل ہر انتخاب لڑنے والی ٹریڈ یونینز کو ایسی تیار کی گئی ووٹرز کی فہرست مصدقہ نقل بھجوائے گا۔(9) ہر ورکر جو کسی بھی انتخاب لڑنے والی ٹریڈ یونینز کا رکن ہو اور جس کا نام ذیلی دفعہ (8)کے تحت تیار کردہ ووٹرز کی فہر ست میں ہو، اجتماعی سودا کاری ایجنٹ کے تعین کےلئے انتخاب میں ووٹ دینے کا حقدار ہوگا۔

(10) ہر آجر تمام ایسی سہولیات فراہم کرے گا بشمول اپنے ادارہ میں حقیقی اخراجات کے جیسا کہ رجسٹرار کو انتخابات کے انعقاد کے لیے درکار ہوں، لیکن ووٹنگ میں مداخلت یا کسی صورت اثرانداز نہیں ہوگا۔

(11) پولنگ اسٹیشن کے پچاس میٹر کے دائرہ میں کوئی شخص ووٹ کے حصول کے لیے انتخابی مہم نہیں چلا سکتا۔

(12) اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے خفیہ ووٹ (سیکریٹ بیلٹ) کے انعقاد کے مقصد کے لیے رجسٹرار درج ذیل اقدامات کرے گا:(اے)پولنگ کی تاریخ مقرر کرے گا اور اس کی اطلاع تمام مقابلہ کرنے والی یونینز اور ہر آجر کو دے گا؛(بی)مقررہ تاریخ کو پولنگ اسٹیشن پر بیلٹ باکس رکھے گا اور ان باکسز کو مقابلہ کرنے والی یونینز کے نمائندگان کی موجودگی میں مہر بند کرے گا؛(سی)پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کرائے گا جہاں مقابلہ کرنے والی یونینز کے نمائندگان کو موجود رہنے کا حق ہوگا؛(ڈی)پولنگ ختم ہونے پر اور موجود نمائندگان کی موجودگی میں بیلٹ باکس کھول کر ووٹ گنے گا؛ اور(ای)ووٹ گنتی کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی یونین کو دو سال کے لیے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے طور پر سرٹیفائی کرے گا۔

(13) کوئی بھی یونین اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے طور پر سرٹیفائی نہیں ہوگی جب تک کہ اسے ملنے والے ووٹوں کی تعداد ایسے ادارے یا اداروں کے گروپ میں ملازم ورکرز کی کل تعداد کا کم از کم ایک تہائی (33 فیصد) نہ ہو۔

(14) اگر پہلی پولنگ میں کوئی یونین مطلوبہ تعداد کے ووٹ حاصل نہ کرے، تو پہلے دو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی یونینز کے درمیان دوبارہ پولنگ ہوگی، اور جو یونین اس پولنگ میں اکثریتی ووٹ حاصل کرے گی، اسے مقررہ طریقے سے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے طور پر سرٹیفائی کیا جائے گا۔

(15) اگر دو یا دو سے زیادہ یونینز برابر ووٹ حاصل کریں تو ان کے درمیان مزید پولنگ ہوگی جب تک کہ کوئی اکثریت حاصل نہ کرے۔

(16) اگر کوئی یونین ذیلی دفعہ (5) کی شق (اے) کے تحت خفیہ رائے شماری میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر نہیں کرتی، تو رجسٹرار اس ٹریڈ یونین کو، جس نے ذیلی دفعہ (2) کے تحت درخواست دی ہو، اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے طور پر سرٹیفائی کرے گا۔

(17) کسی ٹریڈ یونین کو ذیلی دفعہ (16) کے تحت کسی ادارے یا اداروں کے گروپ کے لیے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے طور پر سرٹیفائی نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اس کے اراکین کل ورکرز کا کم از کم ایک تہائی نہ ہوں۔

(18) اگر رجسٹرڈ یونین کو، ذیلی دفعہ (1) کے تحت اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے طور پر سرٹیفائی کیا گیا ہو، ادارہ یا اداروں کے گروپ کےلیے ذیلی دفعہ (12) کی شق (ای) کے تحت بطور اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ، ایسی سرٹیفکیشن کی تاریخ سے دوسال کی مدت کے اندر ایسے ادارہ یا اداروں کے گروپ کےلئے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کےلئے کوئی درخواست منظور نہ کی جائے گی ماسوائے جہاں ایسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن مدت کے اختتام سے پہلے منسوخ ہوجائے۔

(19) وہ یونین فیڈریشن جو صرف ایک آجر کو کور کرتی ہے (جسے پہلے"صنعتی فیڈریشن"کہا جاتا تھا) دفعہ ہذا کے تحت رجسٹرار سے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کی سرٹیفیکیشن کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔

(20) رجسٹرار کسی بھی افسر کو دفعہ ہذاکے تحت تمام یا کسی بھی فرض کی ادائیگی کے لیے تحریری اجازت دے سکتا ہے۔

101۔ اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے حقوق:۔(1) کسی ادارے یا گروپ کے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کو درج ذیل حقوق حاصل ہوں گے:(اے)آجر یا آجرین کے ساتھ ملازمت، عدم ملازمت، ملازمت کی شرائط یا کام کے حالات سے متعلق معاملات پر اجتماعی سودا کاری کرنا، سوائے ایسے معاملات کے جو کسی قانون، ایوارڈ یا اجتماعی معاہدے کے تحت محفوظ یا ضمانت شدہ حقوق کے نفاذ سے متعلق ہوں؛(بی)کسی بھی مقدمے میں تمام یا کسی بھی ورکر کی نمائندگی کرنا؛(سی)پنجاب لیبر کوڈ کے احکامات کے تحت ہڑتال کا نوٹس دینا اور ہڑتال کا اعلان کرنا؛(ڈی)کسی فلاحی ادارے یا پراویڈنٹ فنڈز اور پنجاب لیبر کوڈ کے تحت قائم کردہ ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز پر ورکرز کے نمائندے نامزد کرنا؛(ای) دفعہ 53 کے تحت سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے نمائندے نامزد کرنا؛ اور(ایف)پنجاب لیبر کوڈ میں صراحت کردہ دیگر اختیارات کا استعمال کرنا۔

(2) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ یقینی بنائے گا کہ اجتماعی معاہدے میں شامل تمام ورکرز کے مفادات کی مکمل اور مناسب نمائندگی ہو، چاہے وہ آرگنائزیشن کے اراکین ہوں یا نہیں۔

102۔ اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین تک ٹریڈ یونین کے فرائض و اختیارات:۔پنجاب لیبر کوڈ کے تحت، اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے ذمہ جو اختیارات یا فرائض تفویض کیے گئے ہوں، بشمول دفعہ ہذا کے تحت دیئے گئے اختیارات پر عملدرآمد کے وہ اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کی سرٹیفیکیشن تک ایسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کے ذریعے انجام دیے جا سکتے ہیں جو آجر یا آجرین کی طرف سے تسلیم شدہ ہو۔

103۔ اجتماعی سودا کاری کی اکائی کا تعین:۔(1)

حکومت، عمومی یا خصوصی حکم کے ذریعے، کسی رجسٹرار کو یہ اختیار دے سکتی ہے کہ وہ کسی ٹریڈ یونین یا ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن یا آجر کی جانب سے دی گئی درخواست پر، یا محکمہ کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر، ورکرز اور آجروں کے نمائندوں کی مشاورت سے انکوائری کرنے کے بعد، اگر وہ مطمئن ہو کہ ایک ہی آجر کے ادارے یا اداروں کے گروپ میں ملازم ورکرز کے مفاد کے تحفظ کے لیے، اجتماعی سودا کاری کے سلسلے میں، ایسے ورکرز کے ایک یا زائد اجتماعی سودا کاری یونٹس کا تعین ضروری، منصفانہ اور قابل عمل ہے، تو ورکرز کی تقسیم، ادارے یا گروپ کے اجزاء کی موجودہ حدود، مواصلات کی سہولیات، عمومی سہولت، معاشی سرگرمی کی یکسانیت یا مماثلت اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے:

(اے) ایسے ادارہ یا گروپ میں ایک یا زائد مشترکہ بارگیننگ یونٹ کا تعین اور سرٹیفیکیشن کرے؛(بی) دفعہ ہذا کے تحت فیصلہ کے تناظر میں جوتبدیلیاں ہوں کی صراحت کرنا اور ایسے فیصلہ سے متاثرہ ٹریڈ یونینز اور فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی رجسٹریشن کے تناظر میں قابل عمل ہوں گی اور ایسی یونینز کے مابین اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹس اور فیڈریشنز کی سرٹیفکیشن، شاپ اسٹیورڈز اور ورکرز، اداروں کے ورک کونسلز کے نمائندگان کی نامزدگی یا الیکشن، اگر کوئی ہوں، ایسے فیصلہ سے متاثرہ ہو؛

(سی) وہ تاریخ یا تواریخ جن سے، اور وہ مدت جس کے لیے، ایسی تمام یا کوئی تبدیلیاں مؤثر ہوں گی، صراحت کرنا، لیکن اس طرح صراحت کردہ تاریخ کسی ادارے یا اداروں کے گروپ کے لیے سرٹیفائیڈ اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ پر اطلاق کے لحاظ سے دفعہ 100 کی ذیلی دفعہ (18) میں مذکور دو سال کی مدت کے اندر کی کوئی تاریخ نہیں ہوگی؛

(ڈی) کسی ادارہ یا اداروں کے گروپ کے لیے دفعہ 100 کے تحت اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے کارروائیوں کو روکنا یا ممنوع کرنا جو دفعہ ہذا کے تحت کیے گئے فیصلہ سے متاثرہ ہو؛ اور

(ای) رجسٹرار، ایسے اقدامات اٹھاسکتا یا ایسی ہدایات جاری کرسکتا ہےجو ایسی تبدیلیوں کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہو

(2) اجتماعی سودا کاری کے یونٹ کی سرٹیفیکیشن کے بعد، اجتماعی سودا کاری کے یونٹ کے کسی حصے یا اجتماعی سودا کاری کے یونٹس کے کسی گروپ کے لیے دفعہ 100 کے تحت اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے تعین کے لیے سرٹیفیکیشن یا کارروائیاں نہ ہوں گی۔

(3) رجسٹرار کا دفعہ ہذا کے تحت حکم پنجاب لیبر کوڈ میں شامل کسی متضاد امر کے باوجود، مؤثر ہوگا۔

104۔ اجتماعی سودا کاری کی اکائیوں سے متعلق اپیلیں:۔(1) بلالحاظ اس امر کے کہ پنجاب لیبر کوڈ یا کسی دیگر قانون میں کچھ مذکور ہو، رجسٹرار کے صادر کردہ اجتماعی سودا کاری کے یونٹ کے تعین کے لیے، حکم سے متاثر کوئی بھی شخص تیس یوم کے اندر لیبر اپیلٹ ٹربیونل میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔(2) ذیلی دفعہ (1)کے تحت ٹربیونل اپیل کی سماعت کرکے رجسٹرار کے حکم کو برقرار، منسوخ، تبدیل یا ترمیم کر سکتا ہے۔

105۔ ایک آجر سے زائدٹریڈ یونینزکی فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کی جانب سے اجتماعی سودا کاری:۔(1) اگر فریقین کی رضا مندی ہو تو ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن یا کنفیڈریشن آجروں کی کسی تنظیم یا تنظیموں کے ساتھ اجتماعی سودا کاری کر سکتی ہے، اور یہ کسی بھی سطح پر ہو جو دفعہ ‎99 کے تحت بیان کی گئی ہو۔(2) اگر فیڈریشن یا کنفیڈریشن نے آجروں کی کسی تنظیم یا تنظیموں سے درخواست کی ہو، وہاں فریقین اپنی کارروائیوں کا طریق کار طے کر سکتے ہیں۔(3) حکومت، ورکرز اور آجرین کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد، دفعہ ہذا کے تحت مذاکرات کے لیے رہنما اصول طے کر سکتی ہے۔(4) ضروری تبدیلیوں کے ساتھ، دفعات 109، 110، 111، 112، اور 113 کے احکامات کا اجتماعی سودا کاری کےلئے اطلاق ہوگا۔

106۔ اجتماعی سودا کاری کا آغاز:۔(1) اجتماعی سودا کاری کی کارروائی اُس وقت شروع سمجھی جائے گی جب آجر یا اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ دوسرے فریق کو ملازمت کی شرائط اور دیگر مشترکہ مفادات سے متعلق اجتماعی معاہدہ کرنے کے لیے تحریری درخواست دے۔(2) جس فریق کو ذیلی دفعہ (1) کے تحت درخواست موصول ہو، وہ درخواست کی وصولی کے بعد سات کیلنڈر دنوں کے اندر اجتماعی مذاکرات کے آغاز کنندہ کو اپنا جواب بھیج کر بات چیت شروع کرے گا اور ان افراد کے نام بتائے گا جو اجتماعی مذاکرات میں ان کی نمائندگی کریں گے۔(3) جب کسی معاملے کے بارے میں لیبر کورٹ یا ٹربیونل کا فیصلہ مؤثر ہو، تو کوئی بھی آجر یا اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ اس معاملے سے متعلق کسی بھی مطالبے کو اٹھانے کا حق نہیں رکھے گا۔

107۔ اجتماعی سودا کاری کے مذاکرات کا طریق کار:۔(1)اجتماعی معاہدے کے مذاکرات میں شریک تمام فریقین نیک نیتی سے سودا کاری کریں گے اور اجتماعی معاہدہ طے کرنے کی ہر معقول کوشش کریں گے۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت "نیک نیتی سے مذاکرات"کا مطلب ہے:(اے)مناسب اوقات میں اجلاسوں میں شریک ہونا اور اس میں حصہ لینا؛(بی)متعلقہ معلومات (جو خفیہ یا تجارتی طور پر حساس نہ ہوں) بروقت فراہم کرنا؛(سی) دیگر فریق کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کا بروقت جواب دینا؛(ڈی)دوسرے فریق کی تجاویز پر سنجیدہ غور کرنا اور ان تجاویز پر جواب دینے کے لیے وجوہات فراہم کرنا؛(ای) ایسے من مانے یا غیر منصفانہ طرزعمل سے گریز کرنا جو آزادی تنظیم یا اجتماعی سودا کاری کو نقصان پہنچائے۔

(3) نیک نیتی سے مذاکرات کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ:(اے)کسی فریق کو مذاکرات کے دوران کسی رعایت پر اتفاق کرنا ضروری ہے؛ یا(بی)کسی فریق کو معاہدے کی شرائط پر اتفاق کرنا ضروری ہے۔

(4) آجر یا آجروں کی تنظیم، مطالبے پر، اجتماعی سودا کاری کی اغراض کے لیے ورکرز کے نمائندوں کو اپنی مالی حالت کے بارے میں ایسی تمام معلومات فراہم کرے گی جو اجتماعی معاہدہ طے پانے کے لیے اہم ہوں، اور جو معلومات اجتماعی سودا کاری کے مقصد کے لیے ظاہر کی جاتی ہیں اور جوعام طور پر دستیاب نہیں ہوں، وہ معلومات وصول کرنے والے فریق کی جانب سے خفیہ رکھی جائیں گی اور کسی تیسرے فریق کو ظاہر نہیں کی جائیں گی۔ مصالحت کی کارروائی کے دوران، آجر یا آجروں کی تنظیم ایسی تمام معلومات مصالحت کار کو فراہم کرے گی جو اجتماعی معاہدہ طے پانے کے لیے اہم ہوں۔

108۔ اجتماعی سودا کاری کے تنازعہ کا ورکس کونسل کو ریفرنس:۔(1) اگر کسی وقت آجر یا اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کو کسی ادارے یا گروپ میں کسی تنازعہ کا سامنا ہو یا ہونے کا امکان ہو جس میں ورک کونسل دفعہ ‎200 کے تحت قائم کی گئی ہو، تو آجر یا اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ اپنی آراء ورک کونسل کو تحریری طور پر بھیج سکتے ہیں۔ آراء کی ایک کاپی دوسرے فریق کو بھی بھیجی جائے گی۔(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت تحریری درخواست وصول کرنے کے بعد، ورک کونسل تیس دنوں کے اندر یا فریقین کے درمیان متفقہ مدت میں اس تنازعے کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

109۔ میڈی ایٹر (مفاہمت کار) یا مصالحت کار کی معاونت:۔ (1) اگر آجر اور اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے درمیان اجتماعی معاہدہ نہیں ہو پاتا، اور مذاکرات کے آغاز کے تیس دن گزر چکے ہوں، تو آجر یا اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ اس معاملے کو میڈی ایٹر (مفاہمت کار) (دفعہ ‎290 کے تحت مقرر) یا مصالحت کار (دفعہ ‎291 کے تحت مقرر) کے پاس بھیج سکتے ہیں۔(2) میڈی ایٹر (مفاہمت کار) یا مصالحت کار فریقین کو اجتماعی معاہدے تک پہنچنے میں مدد دینے کے لیے اپنی تدابیر اختیار کر سکتا ہے جو وہ مناسب سمجھے۔(3) دفعہ 105 میں فریقین کسی بھی وقت ذیلی دفعہ (1) میں بیان کردہ طریق کار کا استعمال کر سکتے ہیں۔

110۔ اجتماعی معاہدے طے پانا:۔(1) جہاں فریقین دفعہ ‎105 اور دفعہ‎106 کے تحت اٹھائے گئے معاملات کے حوالے سے کسی تصفیے پر پہنچ جائیں، تو وہ اپنے تصفیے کو اجتماعی معاہدے میں ریکارڈ کریں گے جس پر ان کے مجاز نمائندگان دستخط کریں گے۔(2) اجتماعی معاہدے کی ایک کاپی دستخط کے سات دن کے اندر آجر یا آجرین کی آرگنائزیشن کے نمائندے کی طرف سے محکمے کو رجسٹریشن کے لیے بھیجی جائے گی، اور اجتماعی معاہدے کا نافذ العمل ہونا رجسٹریشن کے امر سے متاثر نہیں ہوگا۔

111۔ اجتماعی معاہدوں کی شکل اور مندرجات:۔(1) اجتماعی معاہدہ ہوگا:(اے)تحریری طور پر ہو اور معاہدہ کے فریقین کے دستخط شدہ ہو؛(بی)فریقین اور ورکرز کا تعین کیا جائے جس پر یہ معاہدہ لاگو ہوگا؛(سی)اس کی مؤثر ہونے کی تاریخ اور مدت جس کا یہ احاطہ کرے؛(ڈی)اجرت، ملازمت کی شرائط وقیود، فریقین کے مابین تعلقات؛(ای)معاہدے کی تشریح، اطلاق اور انتظام سے متعلق فریقین کے مابین تنازعات کے حل کے طریق کار شامل ہوں؛ اور(ایف)دیگر وہ امور جو فریقین کے درمیان متفق ہوں۔

(2) کسی بھی اجتماعی معاہدے کی ایسی شرط جو پنجاب لیبر کوڈ سے متصادم ہو، وہ کالعدم اور قانونی طور پر غیر مؤثر ہوگی۔

112۔ اجتماعی معاہدوں کا واجب التعمیل ہونا:۔(1) دفعہ ‎110 کے تحت طے شدہ اجتماعی معاہدہ لازم ہوگا:(اے)تمام فریقین پر؛(بی)فریقین کے وارث، جانشین یا تفویض شدگان پر؛(سی)اگر معاہدہ آجرین کی تنظیم نے طے کیا ہو، تو ان تمام آجرین پر جو اس تنظیم کو اپنے نمائندے کے طور پر تسلیم کرتے ہیں؛(ڈی)اگر معاہدہ ٹریڈ یونینز کی فیڈریشن یا کنفیڈریشن کے طے کرنے کی صورت میں، تو ان تمام ٹریڈ یونینز پر جنہوں نے اس فیڈریشن یا کنفیڈریشن کو اپنی نمائندگی کا اختیار دیا ہو؛(ای) آجرین کی جانب سے، جو معاہدے کے دائرہ کار میں آتے ہوں، منسلک کیے گئے تمام ورکرزپر۔

(2) اگر دفعہ 100 کے تحت اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ یا وہ ٹریڈ یونین جو اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے فرائض انجام دے رہی ہو، موجود ہو، آجر کسی دوسری ٹریڈ یونین سے اجتماعی معاہدہ نہیں کر سکتا جو اسی ادارے یا گروپ کے لیے ہو اور جس سے متعلق معاہدہ پہلے ہو چکا ہو تو اس کی خلاف ورزی کو دفعہ ‎77 کے تحت ایک غیر منصفانہ محنتی عمل سمجھا جائے گا۔

(3) ذیلی دفعہ (2) میں شامل کسی امر کے باوجود، ادارہ یا اداروں کے گروپ کی سطح پر اجتماعی معاہدہ پر گفت وشنید ہو سکتی ہےجو ایسی شرائط رکھتا ہو جو اس اجتماعی معاہدے کی شرائط سے کم فائدہ مند نہ ہوں جوفیڈریشن یا ٹریڈیونینز کی کنفیڈریشن اور آجرین کی آرگنائزیشن کےمابین اجتماعی معاہدہ پایہ تکمیل ہواہو۔

(4) فریقین متعلقہ ورکرز کے نوٹس میں قابل اطلاق معاہدہ کے مندرجات لانے کے لیےمناسب اقدامات اٹھائیں گے۔

(5) آجریاآجرین کی آرگنائزیشن اجتماعی معاہدات جمع کروائیں گےاور اس میں وضع کی گئی کوئی مابعد تبدیلیاں مصالحت کار کے پاس جمع کروائیں گے جو اس مقصد کے لیےجیسا کہ مقرر کیا جائے، خصوصی رجسٹر برقرار رکھے گا۔

113۔ اجتماعی معاہدے یا ایوارڈ کی مؤثر تاریخ:۔(1) ایک اجتماعی معاہدہ مؤثر ہوگا:(اے)اگر فریقین کے درمیان اس سے متعلق کسی تاریخ پر اتفاق ہو، تو اس تاریخ پر؛ اور(بی)اگر اس طرح کی کوئی تاریخ پر اتفاق نہ ہو، تو اس تاریخ پر جب اجتماعی معاہدہ فریقین کے دستخط سے مکمل ہو جائے۔

(2) ایک اجتماعی معاہدہ اتنی مدت کے لیے لاگو ہوگا جتنی مدت پر فریقین کے درمیان اتفاق ہو، لیکن یہ مدت دو سال سے زیادہ نہیں ہوگی، اور اگر اس طرح کی کوئی مدت پر اتفاق نہ ہو، تو یہ فریقین کے دستخط کی تاریخ سے ایک سال تک مؤثر رہے گا، اور اس کے بعد وہ فریقین پرلاگو رہے گا جب تک کہ ایک فریق دوسرے فریق کو تحریری طور پر اطلاع نہ دے دے کہ وہ اس اجتماعی معاہدہ کا مزید پابند نہیں رہنا چاہتا، اور ایسی اطلاع کی تاریخ سے دو ماہ کی مدت ختم ہونے تک یہ معاہدہ فریقین پر لاگو رہے گا۔

114۔ اجتماعی معاہدہ میں باہمی رضامندی سے ترمیم کی اجازت:۔ اجتماعی معاہدہ جو مؤثر ہو چکا ہو، فریقین کی باہمی رضا مندی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

115۔ پرنسپلز اور ورکرز کے مابین اجتماعی سودا کاری:۔ پرنسپلز کے ساتھ منسلکہ ورکرز درج ذیل کے مطابق ان کے ساتھ اجتماعی سودا کاری کر سکتے ہیں :

(اے) پنجاب لیبر کوڈ کے حصہ چہارم کے مطابق؛ یا(بی) اگر حصہ چہارم کے احکام لاگو نہ ہوں، تو مقررہ طریقے کے مطابق۔

ڈی۔ ہڑتال اور تالہ بندی

116۔ ہڑتال کا حق:۔ (1) دفعہ ‎122 کے تابع، اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کو ہڑتال کا حق ہوگا جب:(اے)اجتماعی سودا کاری کے مذاکرات تعطل کا شکار ہو جائے؛ یا(بی)کوئی صنعتی تنازعہ ہو جو اجتماعی معاہدے سے متعلق نہ ہو اور بات چیت تعطل کا شکار ہو جائے۔

(2) مذاکرات کو تعطل میں سمجھا جائے گا اگرپینتالیس یوم بارگیننگ کے آغاز سے گزرچکے ہوں اور کوئی اجتماعی معاہدہ طے نہیں پایا ہو۔"(3) صنعتی تنازعہ جو اجتماعی معاہدے سے متعلق نہیں ہے" کا مطلب ہے کہ ایسا تنازعہ جو:(i)موجودہ اجتماعی معاہدے کے تحت شامل نہ ہو؛ اور(ii) جو اجتماعی معاہدے کے حوالے سے بات چیت کا موضوع نہ ہو۔

(4) درج ذیل کے تحت کام کی بندش:(اے) دفعہ ‎67؛ اور(بی) دفعہ 153 ( آجر معاوضہ ادائیگی کی ذمہ داری کی خلاف ورزی میں) ہڑتال نہ ہوگی اور صنعتی تنازع کا موضوع نہ ہوگی۔

117۔ ہڑتال کے حق کا تحفظ:۔ (1) ذیلی دفعہ (3) کے تابع، کسی ورکر کو ملازمت سے برخاست نہیں کیا جا سکتا یا اس کو ملازمت میں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا اس بنا پر کہ اس نے دفعہ 116 کے تحت ہڑتال کا حق استعمال کیا ہے، استعمال کر رہا ہے یا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ماسوائے اس کے کہ ورکر لیبر کورٹ کی جانب سے ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد بھی اسے جاری رکھے۔(2) اگر ورکرز نے پنجاب لیبر کوڈ کےتحت ہڑتال میں شرکت کی ہو یا جسے آجر نے تالہ بندی کا نشانہ بنایا ہو، ہڑتال یا تالہ بندی کے اختتام پر کام کے لیے رپورٹ کرتا ہے۔ آجر معقول مدت کے اندر ملازمت میں ایسے ملازم کو اس آسامی پر بحال کرے گا جو اس کے پاس ہڑتال یا تالہ بندی سے فوراً پہلے تھی۔

(3) آجر اس ورکر کو اجرت دینے کا پابند ہوگا جب وہ قانونی ہڑتال پر ہو، جب تک کہ لیبر کورٹ یا ثالث کوئی دیگر حکم نہ دے۔(4) اگر ورکرز دفعہ ‎125 کے تحت کم سے کم خدمت فراہم کرتے ہیں، آجر ان ورکرز کو اجرت فراہم کرے گا جو وہ خدمت فراہم کر رہے ہیں۔

118۔ لیبر کی عارضی متبادل بھرتی کی ممانعت:۔ آجر کسی ایسے ملازم کا کام انجام دینے کے لیے، جو ہڑتال میں شریک ہو یا جسے تالہ بندی کا سامنا ہو، کسی شخص کو کام پر نہیں رکھے گا، تاوقتیکہ ایسا کام کم از کم دیکھ بھال کی خدمات برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہو، جن کے تعطل کے نتیجے میں کام کی جگہ یا مشینری کو نمایاں نقصان پہنچے۔

119۔ بعض ہڑتالوں سے پہلے مصالحت کی ضرورت:۔ (1) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ ہڑتال کرنے سے پہلے دفعہ ‎351 کے تحت کم از کم چودہ دن تک مصالحت کی کارروائی کرے گا، سوائے اس صورت کے جب کوئی فوری خطرہ ہو جو حفاظت اور صحت سے متعلق ہو۔(2) آجر تالہ بندی نہیں کر سکتا جب تک کہ دفعہ 351 کے تحت مصالحت کی کارروائی کے آغاز سے چودہ دن نہ گزر جائیں۔

120۔ ہڑتال کا اعلان:۔ہڑتال کرنے کا فیصلہ اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کی ایگزیکٹو باڈی کی طرف سے کیا جائے گا، اور ہڑتال کا نوٹس آجر کو دفعہ ‎121 کے مطابق دیا جائے گا۔

121۔ بعض ہڑتالوں سے پہلے ہڑتال اور تالہ بندی کا نوٹس:۔ (1) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ ہڑتال کا نوٹس دے گا۔

(2) آجر اس وقت تک تالہ بندی نہیں کر سکتا جب تک کہ تالہ بندی کا نوٹس نہ دیا جائے۔

(3) ہڑتال یا تالہ بندی کے نوٹس کی مدت:(اے)اجتماعی مذاکرات کے تعطل کی صورت میں:(i) گو سلو کے علاوہ ہڑتال کے لیے چودہ دن : اور(ii) گو سلو کے لیے پانچ دن؛(بی)اجرت کی مسلسل عدم ادائیگی کی صورت میں پانچ دن۔

(4) نوٹس کی مدت ختم ہونے کے بعد، ورکرز ہڑتال کر سکتے ہیں، یا آجر تالہ بندی کر سکتا ہے، جیسا کہ معاملہ ہو۔

122۔ غیر قانونی ہڑتال یا تالہ بندی - (1) ہڑتال یا تالہ بندی، صحت اور حفاظت کو فوری خطرے سے متعلق ہڑتال کے ماسوا، غیر قانونی ہوگی اگر:۔

(اے) اس کا اعلان، آغاز یا اسے جاری اس مدت کے دوران کیا جائے جب اجتماعی معاہدہ یا ایوارڈ کسی بھی معاملے کے بارے میں مؤثر ہو جو اجتماعی معاہدے یا ایوارڈ کے تحت آتا ہو؛(بی) دفعہ 119 کے تحت مصالحت کی کارروائی کیے بغیر اس کا اعلان، آغاز یا اسے جاری کیا جائے؛

(سی) دفعہ 121 کے تحت مقررہ طریق پر ہڑتال یا تالہ بندی کا نوٹس تنازعہ کے دوسرے فریق کو دیے بغیر اس کا اعلان، آغاز یا جاری رکھا جانا؛

(ڈی) ایسے نوٹس میں صراحت کردہ تاریخ سے پہلے ہڑتال یا تالہ بندی؛ یا

(ای) یہ دفعات ‎123، ‎124، ‎125، ‎126 یا ‎127 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری رکھی جائے؛ اور(ایف)ہڑتال اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ سے منظور نہ ہو۔

(2) ایسی تالہ بندی جو غیر قانونی ہڑتال کے نتیجے میں کی گئی ہو اور ایسی ہڑتال جو غیر قانونی تالہ بندی کے نتیجے میں کی گئی ہو، غیر قانونی نہیں سمجھی جائے گی۔

123۔ کمیونٹی کے لیے سنگین مشکلات یا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہڑتالیں:۔(1) اگر ہڑتال یا تالہ بندی تیس دن سے زیادہ جاری رہے، محکمے کو اس معاملے کو لیبر کورٹ کے پاس مناسب احکام کے لیے بھیجنے کا اختیار ہوگا اگر وہ یہ سمجھتا ہو کہ ہڑتال کمیونٹی کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر رہی ہے یا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔(2) محکمے کو یہ اختیار ہوگا کہ اگر وہ مطمئن ہو کہ ایسی ہڑتال یا تالہ بندی کا جاری رہنا کمیونٹی کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر رہا ہے یا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے، تو وہ تیس دن کی مدت ختم ہونے سے پہلے کسی بھی وقت معاملے کو مناسب احکام کے لیے لیبر کورٹ کے پاس بھیج سکتا ہے۔(3) لیبر کورٹ تنازع کے دونوں فریقین کو شنوائی کا موقع دینے کے بعد ایسا ایوارڈ دے گی جیسا یہ ضروری سمجھے، اتنی تیزی سے جتنا ممکن ہو، لیکن اسے تنازع بھجوائے جانے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ تیس یوم کے اندر۔

(4) لیبرکورٹ تنازع میں کسی معاملہ پر بھی عبوری ایوارڈ جاری کر سکتی ہے۔

124۔ ضروری خدمات کی صورتوں میں ہڑتال یا تالہ بندی:۔ ضروری خدمت میں مصروف کوئی ملازم یا آجر ہڑتال یا تالہ بندی کے ذریعے کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔

125۔ عوامی سہولیات کی فراہمی میں ہڑتال یا تالہ بندی:۔ (1) کوئی بھی آجر یا ملازم جو عوامی سہولیات کی فراہمی کی خدمات انجام دے رہا ہو، ہڑتال یا تالہ بندی کے دوران کم از کم چالیس فیصد ملازمین کی حاضری کو یقینی بنائے گا۔(2) یہ کم از کم سروس اس طرح کی ہوگی کہ عوام کی زندگی، صحت اور ذاتی حفاظت مناسب طریقے سے یقینی بنائی جا سکے۔(3) فریقین ہڑتال کی صورت میں پُر کی جانے والی آسامیوں کی تعداد اور نوعیت اور ان افراد پر اتفاق کرنے کی کوشش کریں گے جنہیں اس مقصد کے لیے کام پر موجود رہنا ہوگا۔(4) اگر فریقین، کم از کم سروس پر اتفاق کرنے میں ناکام رہیں، تو کوئی بھی فریق یا حکومت اس مسئلے کو لیبر کورٹ کے سامنے فیصلہ کے لیے پیش کر سکتا ہے۔

126۔ زیر التواء کار روائیوں کے دوران ہڑتال یا تالہ بندی کا نوٹس دینے کی ممانعت:۔ صنعتی تنازع کا کوئی فریق، جب کوئی رسمی کار روائی مصالحت کار، ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل کے سامنے ایسے صنعتی تنازع میں تشکیل پانے کے تناظر میں زیر التواء ہونے پر ہڑتال یا تالہ بندی کا نوٹس نہیں دے گا۔

127۔ پہلے سے جاری ہڑتال یا تالہ بندی کے بعد لیبر کورٹ اور ٹربیونل میں درخواست:۔ (1) جب کسی صنعتی تنازع کے سلسلے میں، خواہ وہ اجتماعی سودا کاری سے متعلق صنعتی تنازع ہو یا نہ ہو، کوئی ہڑتال یا تالہ بندی پہلے ہی شروع ہو چکی ہو اور اس وقت جاری ہو جب ایسے صنعتی تنازع کے بارے میں لیبر کورٹ کو درج ذیل کے تحت درخواست دی جائے یا اس کے سامنے زیر التواء ہو: (اے) دفعہ 353؛ یا (بی) دفعہ 354؛ تو لیبر کورٹ تحریری حکم کے ذریعے ہڑتال یا تالہ بندی کے جاری رہنے کی ممانعت کر سکتی ہے۔(2) جب ذیلی دفعہ (1) کے تحت کسی معاملے کے سلسلے میں دفعہ 304 کے تحت ٹربیونل میں اپیل کی گئی ہو، تو ٹربیونل بھی تحریری حکم سے ایسے صنعتی تنازع کے سلسلے میں کسی ایسی ہڑتال یا تالہ بندی کے جاری رہنے پر پابندی لگا سکتا ہے جو اپیل دائر کیے جانے کی تاریخ کو پہلے سے شروع ہو چکی اور جاری تھی۔

128۔ غیر قانونی ہڑتال یا تالہ بندی کی صورت میں کارروائی:۔ (1) دفعہ 122 کے تحت غیر قانونی ہڑتال یا تالہ بندی قرار دینے کے لیے ذیلی دفعہ (2) میں مذکور افراد لیبر کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں۔(2) درخواست دائر کرنے والے افراد میں شامل ہیں:(اے) متعلقہ محکمہ کا بی ایس-17 یا اس سے اوپر کا افسر؛ یا(بی) آجر، یا کوئی ٹریڈ یونین بشمول اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ، جس کے سلسلے میں ہڑتال یا تالہ بندی کی کارروائی کی گئی ہو۔

(3) لیبر کورٹ درخواست موصول ہونے کے دس دن کے اندر، پیش ہونے والے فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے کہ آیا ہڑتال یا تالہ بندی دفعہ 122 کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔(4)اگر عدالت فیصلہ کرے کہ ہڑتال یا تالہ بندی ذیلی دفعہ (3) کے تحت غیر قانونی ہے، تو وہ ہڑتال ختم کرنے یا تالہ بندی ختم کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔(5) اگر آجر لیبر کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرے اور کورٹ کو یقین ہو جائے کہ تالہ بندی کے جاری رہنے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات ہو رہی ہیں یا قومی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے، تو وہ متعلقہ ادارے یا اداروں کے گروپ کو قرق کرنے اور ایک سرکاری وصول کنندہ مقرر کرنے کا حکم جاری کر سکتا ہے، جس مدت کے لیے وہ مناسب سمجھے اور جو وقتاً فوقتاً تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔

(6) سرکاری وصول کنندہ انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرے گا اور امور کی انجام دہی کے لیے ضروری تمام کام کرے گا یا نہ کرے گا، بشمول کارروائی چلانے کے لیے معاہدے کرنا، وصول شدہ تمام رقم کی جائز رسید دینا وغیرہ۔

(7) لیبر کورٹ سرکاری وصول کنندہ کی تعیناتی اور کام کی باقاعدہ تنظیم میں، مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908 (5 بابت 1908) کے تحت دیوانی عدالت کے اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔

(8) اگر ورکر لیبر کورٹ کے حکم کی سنگینی سے خلاف ورزی کریں ذیلی دفعہ (4) کے تحت، عدالت ہڑتال کرنے والے تمام یا کسی بھی ورکر کو برخاست کرنے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔ اور پنجاب لیبر کوڈ میں شامل کسی متضاد امر کے باوجود، اگر عدالت ایسی انکوائری کے بعد جو وہ مناسب سمجھے یہ فیصلہ کرے کہ کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین نے اس خلاف ورزی کو کیا یا اس کی حمایت کی، تو اس فیصلے کا اثر یہ ہوگا کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے یونین کے عہدیدار اپنے عہدوں کی باقی ماندہ مدت کے لیے عہدہ رکھنے سے محروم ہوں گے۔

(9) متاثرہ ورکر کو برخاستگی کے حکم کے بعد پندرہ دن کے اندر اگر اچھی اور معقول وجہ دکھائے، تو لیبر کورٹ اپنےحکم پر ذیلی دفعہ (8) کے تحت نظر ثانی کر سکتی ہے۔

(10) حکومت کی طرف سے اس حوالے سے بنائے گئے قواعد و ضوابط کے تابع، مذکورہ افسر ذیلی دفعہ (1) کے مقاصد کے لیے، اپنی تعیناتی کے مقامی دائرہ اختیار میں، اپنی معاونت میں پاکستان کی خدمت میں موجود افراد کے ساتھ کسی ایسے ادارے یا اداروں کے گروپ میں داخل ہو سکتا ہے جہاں اسے شبہ ہو کہ غیر قانونی ہڑتال یا تالہ بندی جاری ہےوہ وہاں موجود مقامات، پلانٹس، رجسٹرز کا معائنہ کر سکتا ہے، فوری یا بعد میں گواہوں کے بیانات حاصل کر سکتا ہے اور اس دفعہ کے مقاصد کے لیے ضروری دیگر اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔

(11) اگر کسی غیر قانونی ہڑتال یا تالہ بندی کے فریق کو افسر یا لیبر کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا کہا جائے اور وہ پیش نہ ہو، تو لیبر کورٹ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت دیگر ممکنہ کارروائیوں کے علاوہ، یک طرفہ کارروائی کر سکتا ہے۔

129۔ مستقل اثاثوں کی منتقلی کی ممانعت:۔ (1) کوئی آجر غیر قانونی تالہ بندی یا غیر قانونی نہ ہونے والی ہڑتال کے دوران ادارے کے کسی بھی مستقل اثاثے کو منتقل نہیں کرے گا۔(2) لیبر کورٹ حفاظتی اقدامات کے تحت، ایسی شرائط لگا کر، سیلاب، آگ، آفت یا شہری فساد کی وجہ سے اثاثوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ان اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے منتقل کرا سکتا ہے۔

حصہ سوم

روزگار

باب 3.1 – اطلاق اور تعریفات

130۔ باب 3 کا اطلاق:۔اگر کوئی مخصوص استثناء فراہم نہ کیا جائے، تو اس حصے کے احکامات کا اطلاق ہوگا:(اے) آجران بشمول ٹھیکیدار اور ملازمین؛ اور(بی)وہ دیگر افراد جو اس حصے میں ذکر کیے گئے ہوں اور جیسا کہ مقرر کیا جائے۔

131۔ تعریفات:۔باب ہذا میں:(اے) "قابل موازنہ کل وقتی ملازم"سے مراد وہ کل وقتی ملازم ہے جو اسی ادارے میں ہو، اور جس کا ملازمت کا معاہدہ یا تعلق اسی نوعیت کا ہو، جو وہی یا مماثل کام یا پیشہ انجام دے رہا ہو، جبکہ دیگر عوامل جیسے سنیارٹی، قابلیت اور مہارت کو بھی مناسب حیثیت دی جائے۔(بی)"کور آپریشنز" سے مراد وہ آپریشنز ہیں جو کسی ادارے کے کام کا لازمی جزو ہوں، جیسا کہ متعلقہ ادارہ محکمہ کو نوٹیفائی کرے؛(سی) "ملازمت ایجنسی" سے مراد وہ کمپنی، ایجنسی یا ٹھیکیدار ہے جو:(i) نوکری تلاش کرنے والوں کے لیے روزگار کا بندوبست کرے؛(ii) آجر کے لیے ملازمین کی بھرتی کرے، جن میں گھریلو ملازمین، گھر سے کام کرنے والے وغیرہ شامل ہوں؛ یا(iii) ورکرز فراہم کرے تاکہ وہ کسی پرنسپل کے ساتھ معاہدے کے تحت اس بنیاد پر کام کریں کہ:

(1) ملازمت ایجنسی ان ورکرز کا آجر ہو؛ اور

(2) پرنسپل ان ورکرز کا آجر نہ ہو؛(ڈی)"کام کے اوقات" سے مراد وہ مدت ہے جس کے دوران ملازم آجر کی خدمت میں ہو، وقفہ آرام کو چھوڑ کر جو کوڈ یا اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی مقرر کردہ حدود کے اندر مقرر یا طے شدہ ہوں؛

(ای) "انٹرنل ورک ریگولیشنز" سے مراد وہ داخلی ضوابط ہیں جو کسی ادارے نے اپنے لیے ترتیب دیئے ہوں؛(ایف) "نوکری تلاش کرنے والا" سے مراد وہ شخص ہے جو ملازمت ایجنسی میں رجسٹرڈ ہو روزگار کی تلاش کے لیے، یا جسے روزگار کی پیشکش کی گئی ہو یا جس نے قبول کر لیا ہو، البتہ پاکستانی کے علاوہ دیگر افراد شامل نہیں؛(جی) "مائیکرو انٹرپرائز" ایسا ادارہ ہے جہاں دس سے کم ملازمین براہ راست یا کسی دوسرے شخص کے ذریعے کام کرتے ہوں، یا گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران کسی بھی دن اس طرح ملازم رہے ہوں؛(ایچ) "کم از کم اجرت"سے مراد مختلف ملازمین کی اقسام کے لیے حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کردہ وہ کم از کم اجرت ہے جو آجر کو مقررہ مدت میں کام کرنے والے ملازمین کو ادا کرنی ہوتی ہے؛(آئی) "رات کےوقت ملازم" سے مراد وہ ملازم ہے جو مسلسل 24 گھنٹوں میں اوسطاً کم از کم تین گھنٹے رات کے وقت کام کرتا ہو؛(جے) "رات کےوقت کا کام" سے مراد وہ کام ہے جو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان کیا جائے؛

مگرشرط یہ ہے کہ نوجوان ملازمین کے لیے شام 7 بجے سے صبح 8 بجے کے درمیان کام کو رات کا کام سمجھا جائے گا۔(کے) "اوور ٹائم" سے مراد وہ کام جو معمول کے کام کے اوقات سے زیادہ کیا جائے، جیسا کہ پنجاب لیبر کوڈ، اجتماعی معاہدہ یا آجر کے انٹرنل ورک ریگولیشنز میں بتایا گیا ہو، بشرطیکہ کوئی بھی معاہدہ یا انٹرنل ورک ریگولیشنز معمول کے کام کے گھنٹے یا اضافی وقت میں اضافہ کا باعث نہ بنیں۔(ایل) "عوامی روزگارکی فراہمی"سے مراد وہ دفتر، ایجنسی یا سروس ہے جو حکومت نے نوکری تلاش کرنے والوں کے لیے روزگار تلاش کرنے یا فراہم کرنے کی غرض سے قائم کی ہو اور برقرار رکھی ہو؛(ایم) "بھرتی کرنا" سے مراد وہ سرگرمیاں ہیں جو ملازمت ایجنسی انجام دیتی ہے، جن میں اشتہاری سرگرمیاں شامل ہیں، جو آجر اور نوکری تلاش کرنے والے کے درمیان درمیانی واسطے کا کردار ادا کرتی ہیں تاکہ روزگار کی تلاش، پیشکش یا حصول ممکن بنایا جا سکے؛(این) "ریلے اور شفٹ" سے مراد وہ نظام ہے جس میں ایک ہی نوعیت کا کام دن کے مختلف اوقات میں مختلف گروپوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، ہر گروپ کو "ریلے" کہتے ہیں، اور جس مدت کے لیے وہ کام کرے اسے "شفٹ" کہتے ہیں؛(او) "سیکیورٹی گارڈ" میں کوئی بھی گارڈ، چوکیدار یا وہ شخص شامل ہے جو افراد یا جائیداد کی حفاظت کے لیے ملازم ہو یا چوری یا ڈکیتی روکنے کا کام کرے؛(پی) "دکان" سے مراد وہ کوئی بھی جگہ ہے جو مکمل یا جزوی طور پر اشیاء کی تھوک یا خوردہ فروخت کے لیے استعمال ہو، نقد یا ادھار پر، یا جہاں صارفین کو خدمات فراہم کی جائیں، اور اس میں دفتر، اسٹور روم، گودام، ویئرہاؤس یا کام کی جگہ شامل ہے، خواہ وہ اسی عمارت میں ہو یا کہیں اور، جو بنیادی طور پر ایسی تجارت یا کاروبار کے سلسلے میں استعمال ہو؛(کیو) "تیسری پارٹی کاکنٹریکٹ ورکر" سے مراد وہ ورکر ہے جو ملازمت ایجنسی کی طرف سے فراہم کیا گیا ہو تاکہ وہ پرنسپل کے ساتھ معاہدے کے تحت اس بنیاد پر کام کرے کہ:(i) ملازمت ایجنسی ان ورکرز کا آجر ہو؛ اور(ii) پرنسپل ان ورکرز کا آجر نہ ہو۔

(2) باب ہذا میں بیان کردہ تمام اصطلاحات جن کا یہاں تعین نہیں کیا گیا، ان کا مفہوم پنجاب لیبر کوڈ کے حصہ اول میں دیے گئے معنی کے مطابق ہوگا۔

132۔ ملازمت کے تعلق کی موجودگی کا تعین:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے ملازمت کے تعلق کی موجودگی کا تعین اور کسی معاہدے کو ملازمت کا معاہدہ قرار دینا بنیادی طور پر ان حقائق کی بنیاد پر کیا جائے گا جو کام کی انجام دہی اور ورکر کی اجرت سے متعلق ہوں، چاہے فریقین کے درمیان کسی متفقہ، معاہدتی یا غیر معاہدتی، مخالف تشریح کی گئی ہو۔

(2) پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے، اگر کوئی شخص کسی ورکر کو ملازمت پر رکھتا ہے:

(اے) تو اس ورکر کو ٹھیکیدار یا خود مختار ورکر کے بجائے ملازم سمجھا جائے گا؛ اور(بی) اس شخص کو آجر سمجھا جائے گا؛

جب تک کہ وہ شخص درج ذیل تمام شرائط پوری کرنے کا ثبوت نہ دے دے کہ:(i) ورکر کام کی انجام دہی کے سلسلے میں آجر کے کنٹرول اور ہدایت سے آزاد ہے، کام کی انجام دہی کے معاہدے کے تحت بھی؛(ii) ورکر وہ کام انجام دیتا ہے جو آجر کے کاروبار کے معمول کے دائرے سے باہر ہے؛ اور(iii) ورکر عموماً آزاد طور پر قائم شدہ تجارت، پیشہ یا کاروبار میں مصروف ہو جو انجام دیے جانے والے کام کی نوعیت کے مماثل ہو۔

مگر شرط یہ ہے کہ ذیلی دفعہ (2) میں استعمال ہونے والا لفظ " مصروف" کا مفہوم دفعہ 8 میں دئیے گئے معنی کے برابر ہوگا۔

(3) کوئی بھی ورکر جو کام کے دوران یا آرام کے وقفے کے علاوہ کسی وقت کام کی جگہ پر پایا جائے، تاوقتیکہ اس کے برعکس کچھ ثابت نہ ہو، اس وقت کام کی جگہ پر ملازم سمجھا جائے گا۔

133۔ ملازم کی بطور ٹھیکیدار یا خود مختار جان بوجھ کر غلط درجہ بندی:۔ (1) آجر کسی ملازم یا ممکنہ ملازم کو یہ نہیں بتائے گا کہ ان کا ملازمت کا معاہدہ، سروسز کا معاہدہ ہے اور یہ کہ وہ ایک آزاد ٹھیکیدار یا خود مختار (سیلف ایمپلائڈ) ہیں۔

(2) ذیلی دفعہ (1) لاگو نہیں ہوگی اگر آجر یہ ثابت کر دے کہ جب یہ بیان دیا گیا تھا، تو اسے معقول وجوہات کی بنا پر یقین تھا کہ معاہدہ ملازمت کا معاہدہ نہیں ہے۔

(3) آجر کسی ملازم کو برطرف نہیں کرے گا، اور نہ ہی برطرفی کی دھمکی دے گا، تاکہ اسے ٹھیکیدار کے طور پر رکھ کر وہی یا بنیادی طور پر وہی کام سروسز کے معاہدے کے تحت کرایا جائے۔

باب 3.2 – معاہدہ ہائے ملازمت اور ملازمت کا خاتمہ

اے۔ معاہدہ ہائے ملازمت

134۔ معاہدہ ہائے ملازمت کی اقسام:۔(1) روزگار کا معاہدہ درج ذیل میں سے کسی ایک صورت میں ہوگا:(اے) ایک مستقل روزگار کا معاہدہ؛ یا(بی)ایک معینہ مدت کا روزگار کا معاہدہ؛

(2) روزگار کا معاہدہ کل وقتی یا جز وقتی روزگار کے لیے طے کیا جا سکتا ہے۔

(3) جب تک کہ پنجاب لیبر کوڈ میں کچھ دیگرمذکور نہ ہو، اس حصے کا اطلاق تمام اقسام کے روزگار کے معاہدوں پر ہوگا۔

135۔ کل وقتی روزگار:۔ (1) ملازم اس وقت کل وقتی ملازمت پر تصور کیا جائے گا جب اس کے معمول کے اوقات کار یومیہ آٹھ گھنٹے اور ہفتہ وار اڑتالیس گھنٹے ہوں۔(2) اجتماعی معاہدہ، ورکس کونسل اور آجر کے مابین کیا گیا معاہدہ، ملازمت کا معاہدہ، یا انٹرنل ورک ریگولیشنز کل وقتی کام کے ایسے ہفتہ وار اوقات کار مقرر کر سکتے ہیں جو اڑتالیس گھنٹوں سے کم ہوں۔

136۔ جز وقتی روزگار:۔ (1) ملازم اس وقت جزوقتی ملازمت پر تصور کیا جائے گا جب اس کے یومیہ یا ہفتہ وار اوقات کار کسی مماثل کل وقتی ملازم کے اوقات کار سے کم ہوں۔(2) جزوقتی ملازمت کا معاہدہ کرتے وقت، ملازم کو اپنے آجر کو ان دیگر آجرین کے ساتھ موجودہ جزوقتی معاہدوں سے مطلع کرنا ہوگا۔(3) ذیلی دفعات (4) سے (6) کے تابع، ملازمت کی شرائط کے حوالے سے، جزوقتی ملازمین کو صرف اس وجہ سے کم تر سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا کہ وہ جزوقتی کام کرتے ہیں، جب تک کہ مختلف سلوک کی کوئی معروضی وجوہات نہ ہوں۔(4) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اجرت، بونس اور دیگر الاؤنسز طے شدہ کام کے اوقات کے تناسب سے "پرو ریٹا ٹیمپوریس" (یعنی وقت کے تناسب سے) اصول کے تحت دیے جائیں گے۔(5) جزوقتی ملازم کو درج ذیل معاملات میں کل وقتی ملازمین کے مساوی تحفظ حاصل ہوگا:(اے) تنظیم سازی، اجتماعی سودا کاری، اور ملازمین کے نمائندوں کے طور پر کام کرنے کا حق؛(بی) پیشہ ورانہ صحت و سلامتی؛ اور(سی) ملازمت اور پیشے میں امتیاز۔

(6) جزوقتی ملازم کو درج ذیل شعبوں میں کل وقتی ملازمین کے مساوی شرائط حاصل ہوں گی:(اے) زچگی کا تحفظ؛(بی) ملازمت کا خاتمہ؛(سی) تنخواہ کے ساتھ سالانہ تعطیلات اور سرکاری تعطیلات؛ اور(ڈی) بیماری کی چھٹی اور اتفاقیہ رخصت:مگرشرط یہ ہے کہ مالیاتی حقوق کام کے گھنٹوں کے تناسب سے متعین کیے جائیں گے۔

(7) آجر یہ یقینی بنائے گا کہ جز وقتی ملازم کے لیے وہی کام کرنے کی شرائط ہوں جو کل وقتی ملازم کے لیے ہیں، بشرطیکہ ان کے پاس وہی یا ایک جیسا پیشہ ورانہ علم اور مہارت ہو اور وہ وہی یا ایک جیسا کام انجام دے رہے ہوں۔

(8) آجر کسی ایسے ملازم کی درخواست پر غور کر سکتا ہے جو کل وقتی معاہدۂ ملازمت کا فریق ہو اور جز وقتی معاہدے میں تبدیل ہونے کی درخواست کرے، اور کسی ملازم کی درخواست پر بھی جو جز وقتی معاہدے کا فریق ہو اور کل وقتی معاہدے میں تبدیل ہونے کی درخواست کرے، اور آجر درخواست کو اس صورت میں مسترد نہیں کرے گا جب تک کہ اس کے پاس اس کے مسترد کرنے کے لیے معقول کاروباری وجوہات نہ ہوں۔

137۔ مستقل معاہدۂ ملازمت:۔ (1) ایک مستقل روزگار کا معاہدہ وہ معاہدہ ہوگا جس میں دونوں فریقین مدت یا معاہدے کے خاتمے کی تاریخ طے نہیں کرتے۔(2) ایک روزگار کا معاہدہ مستقل روزگار کا معاہدہ سمجھا جائے گا، جب تک کہ پنجاب لیبر کوڈ میں بصورت دیگر تعین نہ کیا گیا ہو۔(3) اگر روزگار کے معاہدے میں اس مدت کا ذکر نہ ہو جس کے لیے یہ طے کیا گیا تھا، تو اسے مستقل روزگار کا معاہدہ سمجھا جائے گا۔

138۔ معینہ مدت کی ملازمت کا معاہدہ:۔ (1) معینہ مدت کی ملازمت کا معاہدہ ایسا روزگارمعاہدہ ہوگا جس کی مدت یا اختتام درج ذیل طریقوں سے متعین ہو:(اے) کسی مخصوص تاریخ کے آ جانے پر؛(بی) کسی مخصوص کام یا منصوبے کی تکمیل پر؛ یا(سی) کسی مخصوص واقعے کے رونما ہونے پر۔

(2) معینہ مدت کا ملازمت کا معاہدہ اس وقت کیا جا سکتا ہے جب اس کی مدت اور خاتمہ پہلے سے معروضی وجوہات کے تحت ذیلی دفعہ (3) کے مطابق طے کر لیا گیا ہو۔

(3) معروضی وجوہات جن کی بنیاد پر معینہ مدت کا ملازمت کا معاہدہ کیا جا سکتا ہے، اور جو اس معاہدے میں درج ہونی چاہئیں، ان میں شامل ہوں گی:(اے) کسی عارضی طور پر غیر حاضر ملازم کا متبادل مقرر کرنا؛ یا(بی)ایسا کام جس کی مدت اس کے نوعیت کے مطابق ایک وقت کی حد سے مشروط ہو، یا جو کسی خاص کام یا پروجیکٹ سے متعلق ہو، یا کسی خاص واقعے کے وقوع پذیر ہونے سے جڑا ہو۔

(4) معینہ مدت ملازمت کا معاہدہ کسی ایسے کام کے لیے نہیں کیا جائے گا جو مستقل نوعیت کا ہو۔

(5) معینہ مدت ملازمت کا معاہدہ مستقل ملازمت کے معاہدے میں تبدیل تصور کیا جائے گا اگر:(اے) اس کا مقصد یا نتیجہ کسی ایسے عہدے کو مستقل طور پر پر کرنا ہو جو ادارے کی بنیادی سرگرمیوں سے متعلق ہو؛ یا(بی) یہ معاہدہ ذیلی دفعات (7) اور (8) میں دی گئی مدت سے طویل ہو؛ یا

(سی) اسے دو سے زائد مسلسل مدتوں کے لیے تجدید کیا گیا ہو۔

(6) معینہ مدت کا ملازمت کا معاہدہ ہو سکتا ہے:(اے) عمومی معینہ مدت کا ملازمت کا معاہدہ؛ یا(بی) خصوصی منصوبے سے متعلق معینہ مدت کا معاہدہ۔

(7) عمومی معینہ مدت کا ملازمت کا معاہدہ درج ذیل صورتوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے، اور ان صورتوں کا ذکرروزگار معاہدے میں ہونا لازمی ہے:(اے) عارضی کام کی مدت کے لیے، جو تین ماہ تک ہو؛(بی) سیزنل کام کی انجام دہی کے لیے، جب قدرتی حالات کے باعث کام صرف کسی مخصوص مدت یا موسم میں ممکن ہو؛ اور(سی) غیر حاضر ملازمین کا عارضی متبادل۔

(8) خصوصی منصوبے سے متعلق معینہ مدت کا معاہدۂ ملازمت کسی ملازم کے ساتھ نہیں کیا جائے گا ماسوائے ان صورتوں کے جہاں ملازم کو کم از کم اجرت کے پانچ گنا کے برابر معاوضہ دیا جائے۔

(9) خصوصی منصوبے سے متعلق معینہ مدت کا ملازمت کا معاہدہ درج ذیل صورتوں میں کیا جا سکتا ہے:(اے) کسی مخصوص کام کے لیے مہارت یافتہ خدمات جیسے کہ تعمیر نو، تنصیب، کمیشننگ اور دیگر کام؛(بی) ایسے افراد کے ساتھ جو ایسی تنظیموں میں ملازمت اختیار کریں جو کسی مقررہ مدت یا مخصوص کام کے لیے قائم کی گئی ہوں، مثلاً: سرکاری گرانٹس، فلاحی فنڈنگ یا وقت مقررہ منصوبہ جاتی کام؛(سی) ایسے افراد کے ساتھ جو کسی مخصوص کام کے لیے رکھے جائیں، جہاں تکمیل کسی مخصوص تاریخ سے مشروط نہ ہو، مثلاً: مشاورتی خدمات؛ اور(ڈی) دیگر صورتیں، جو پنجاب لیبر کوڈ یا دیگر قابل اطلاق قوانین میں فراہم کی گئی ہوں۔

139۔ معینہ مدت کی ملازمت کے معاہدے کی تجدید اور مدت:۔ (1) معینہ مدت کے ملازمت کے معاہدے کی مزید دو مسلسل مدتوں کے لیے تجدید کی جا سکتی ہے۔ تاہم، شرائط و ضوابط گزشتہ معاہدے سے کم نہیں ہوں گی۔(2) معینہ مدت کے ملازمت کے معاہدے اس صورت میں مسلسل تصور کیے جائیں گے اگر وہ ایک معاہدے اور دوسرے کے درمیان بغیر تعطل کے یا ایسے تعطل کے ساتھ کیے جائیں جو تین ماہ سے زیادہ نہ ہو۔(3) ایک عمومی معینہ مدت کے ملازمت کے معاہدے کی زیادہ سے زیادہ مدت تین ماہ ہوگی:مگر شرط یہ ہے کہ تین مسلسل عمومی معینہ مدت کے ملازمت کے معاہدوں کی مجموعی مدت نو ماہ سے زیادہ نہ ہو۔(4) کسی خصوصی منصوبے کے معینہ مدت کے ملازمت کے معاہدے یا مسلسل خصوصی منصوبے کے معینہ مدت کے ملازمت کے معاہدے کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال سے زائد نہ ہوگی۔

140۔ معینہ مدت کے معاہدۂ ملازمت والے افراد کے ساتھ مستقل معاہدۂ ملازمت والے افراد کی نسبت کم تر سلوک نہیں کیا جائے گا:۔ ملازمت کی شرائط کے حوالے سے، معیّنہ مدت کے ملازمت کے معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ صرف اس بنیاد پر کہ ان کا معیّنہ مدت کا ملازمت کا معاہدہ یا تعلق ہے، ایسے قابل موازنہ ملازمین کے مقابلے میں جو مستقل ملازمت کے معاہدے پر کام کرتے ہیں، کم موافق سلوک نہیں کیا جائے گا، الا یہ کہ مختلف سلوک کی کوئی معروضی بنیادوں پر معقول وجہ ہو۔

141۔ ملازمت کے معاہدے کی صورت:۔ (1) ملازمت کا معاہدہ زبانی یا تحریری ہو سکتا ہے۔(2) اگر ملازمت کا معاہدہ زبانی یا جزوی زبانی اور جزوی تحریری ہو، تو ملازمت کی کسی مبینہ شرط کے موجود یا غیر موجود ہونے کا ثبوت دینے یا اس کی تردید کرنے کی ذمہ داری آجرپر ہو گی۔(3) ملازمت کا معاہدہ تحریری ہوگا، سوائے اس کے کہ یہ ایک مہینے سے زائد مدت کے لیے نہ ہو:بشرطیکہ اگر ملازمت کا معاہدہ تحریری صورت میں نہ ہو، تو اس سے معاہدے کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہوگی۔(4) ملازمت کا معاہدہ دو نقول میں تیار کیا جائے گا، جن میں سے ایک آجر اور ایک ملازم کے لیے نقل ہو گی۔(5) آجر ملازمت کے آغاز سے قبل ملازم کو ملازمت کے معاہدے کی ایک نقل فراہم کرے گا۔(6) اگر آجر ملازمت کا معاہدہ تحریری صورت میں فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اس سے معاہدے کی موجودگی اور قانونی حیثیت متاثر نہیں ہوگی۔(7) آجر کسی بھی تبدیلی کو ملازمت کی شرائط میں ایسی تبدیلی کے سات دن کے اندر تحریری طور پر ملازم کو مطلع کرے گا۔

142۔ معاہدۂ ملازمت کے مندرجات:۔(1) ملازمت کا معاہدہ ایسے تمام نکات پر مشتمل ہوگا جو فریقین کے حقوق و فرائض کی وضاحت کے لیے ضروری ہوں، اور ہر حال میں اس میں درج ذیل شامل ہوں گے:(اے) آجر کا نام، پتہ، اور وہ مکمل نام اور عہدہ جس شخص نے آجر کی طرف سے معاہدہ کیا؛(بی) ملازم کا مکمل نام، تاریخ پیدائش، جنس، رہائش، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر یا پاسپورٹ نمبر؛(سی) کام کرنے کی جگہ؛ اگر کوئی مقررہ یا بنیادی جگہ نہ ہو تو کاروبار کی رجسٹرڈ جگہ؛(ڈی) ملازمت کا عنوان، کام کی نوعیت یا کیٹیگری جس کے لیے ملازم کو رکھا گیا ہو، اور ملازم کی انجام دہی کے لیے دیے گئے کام کی تفصیل؛(ای) ملازمت کے رشتے کے آغاز کی تاریخ؛(ایف) اگر معیّن مدت کا روزگارمعاہدہ ہو، تو اس کی اختتامی تاریخ یا متوقع مدت؛(جی) آزمائشی مدت کا دورانیہ اور شرائط؛(ایچ) کام کے اوقات اور آرام کے وقفے، بشمول ہفتہ وار تعطیل؛(آئی) ملازم کو دی جانے والی سالانہ تنخواہ والی چھٹیاں، اتفاقیہ اور بیماری کی چھٹیاں؛(جے) آجر اور ملازم کی جانب سے ملازمت کے تعلق کے خاتمے کی صورت میں اپنایا جانے والا طریق، بشمول رسمی تقاضے اور نوٹس کی مدت؛(کے) معاوضہ، جس میں بنیادی رقم، دیگر اجزاء (اگر قابل اطلاق ہوں) کو علیحدہ علیحدہ ظاہر کیا جائے، اور تنخواہ کی ادائیگی کا طریق اور وقفہ؛(ایل) اگر آجر اور ملازم پہلے سے سوشل انشورنس، سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہیں، تو ان کی رجسٹریشن کی تفصیلات؛(ایم) معاہدے کے خاتمے سے متعلق کوئی شق جو اس پنجاب لیبر کوڈ کے علاوہ ہو؛(این) انٹرنل ورک ریگولیشنز اور ڈسپلنری قواعد کا حوالہ جو ملازم پر لاگو ہوں۔

(2) ملازمت کا معاہدہ کچھ نکات کے لیے دیگر دستاویزات کا حوالہ دے سکتا ہے، لیکن ایسی دستاویزات ملازم کو دستیاب کی جائیں گی۔(3) ملازمت کے معاہدے کے مندرجات کو ہر ملازم کو سادہ مقامی زبان میں زبانی طور پر سمجھایا جائے گا۔(4) آجر ملازم کی ملازمت کے دوران ملازمت کے تحریری معاہدے کی ایک نقل اپنے پاس رکھے گا۔

143۔ ملازمت کا کارڈ:۔ ہر ملازم کو ایک ملازمت کارڈ دیا جائے گا جس میں نام، پرسنل نمبر، تصویراور عہدہ درج ہوگا، اور ملازم اسے کام کے اوقات میں نمایاں رکھے گا۔

144۔ آزمائشی مدت:۔ (1) ملازمت کے معاہدے میں آزمائشی مدت کی ایک شق شامل ہو سکتی ہے جو کسی بھی صورت میں تین ماہ سے زیادہ نہ ہو۔(2) اگر ملازمت کا معاہدہ معیّن مدت کے لیے کیا گیا ہو، تو آزمائشی مدت کی مدت معاہدے کی متوقع مدت اور ملازم کے کام کی نوعیت کے مطابق متناسب ہوگی۔(3) آزمائشی مدت کے دوران، ملازمت کا معاہدہ کسی بھی وقت بغیر نوٹس کے کسی بھی فریق کی جانب سے ختم کیا جا سکتا ہے۔(4) اگر آجر آزمائشی مدت کے دوران واضح طور پر معاہدہ ختم نہ کرے اور مدت ختم ہو جائے بغیر کسی نوٹس کے، تو یہ اخذ کیا جائے گا کہ ملازم نے آزمائشی مدت کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔(5) جس معاہدے میں آزمائشی مدت کامیابی سے مکمل ہو چکی ہو، اس کے ختم ہونے کے بعد، آجر اسی کام کے لیے نئے معاہدے میں دوبارہ آزمائشی مدت کا تقاضا نہیں کر سکتا۔(6) اگر آزمائشی مدت کامیابی سے مکمل ہو جائے تو وہ ملازم کی کل ملازمت کی مدت کا حصہ سمجھی جائے گی۔

بی۔انٹرنل ورک ریگولیشنز

145۔ انٹرنل ورک ریگولیشنز:۔ (1) ذیلی دفعہ (4) کے تابع، آجر معاوضہ، کام کی تنظیم، پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت، اور دیگر ملازمین کے لیے اہم امور کو منظم کرنے کے لیے انٹرنل ورک ریگولیشنزاپنا سکتا ہے اور شائع کر سکتا ہے۔(2) انٹرنل ورک ریگولیشنزکا مواد درج ذیل کے منافی نہیں ہوگا:(اے) پنجاب لیبر کوڈ اور اس کے تحت بنائے گئے کوئی بھی قواعد؛(بی) کوئی قابل اطلاق اجتماعی معاہدہ؛(سی) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت متعلقہ اتھارٹی یا عدالت کا کوئی بھی فیصلہ یا ایوارڈ؛ اور(ڈی)یا دیگر متعلقہ قانونی دفعات۔

(3) انٹرنل ورک ریگولیشنزمیں دیگر امور کے علاوہ درج ذیل اہم نکات شامل ہوں گے:(اے) کام کے اوقات، آرام کے اوقات، تعطیلات، اور ادائیگی کے دن؛(بی) کام کی جگہ پر انضباط، بشمول حاضری اور دیر سے آنے جیسے افعال اور غفلتیں؛(سی)شفٹ ورک؛(ڈی)پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کے ساتھ حفاظت اور صحت کے نمائندوں اور کمیٹی کے انتخابات؛(ای)کام کی جگہ پر تشدد اور ہراسانی کے خلاف اقدامات؛(ایف)آجر کے اثاثوں، ٹیکنالوجی اور کاروباری رازوں اورانٹلکچوئل پراپرٹی کی حفاظت؛(جی) انٹرنل ورک ریگولیشنزکی خلاف ورزیاں اور انضباطی اقدامات؛(ایچ) مال کو نقصان یا اس کے ضیاع کی صورت میں مادی ذمہ داری؛(آئی) وہ شخص جس میں انضباطی اقدامات کرنے کی اہلیت ہو؛ اور(جے) ناکارہ، سست، لاپرواہ یا فضول کام کرنا۔

(4) آجر انٹرنل ورک ریگولیشنزکا مسودہ دفعہ 100 کے تحت منتخب اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ یا ایجنٹس کو مشاورت کے لیے ارسال کرے گا، اور اگر اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود نہ ہو تو آجر ورکس کونسل سے مشورہ کرے گااور مشاورت مسودے کی وصولی کے 21 دنوں کے اندر مکمل کی جائے گی۔(5) جب آجر اور اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ یا ورکس کونسل کے درمیان معاہدہ ہو جائے یا 21 یوم گزر جائیں، جو بھی پہلے ہو، آجر چیف انسپکٹر کو انٹرنل ورک ریگولیشنزمنظوری کے لیے بھیجے گا، ساتھ ہی اس معاہدے کی نقل بھی بھیجے گا۔ اگر انٹرنل ورک ریگولیشنز کا کوئی حصہ ذیلی دفعہ (2) کے خلاف پایا جائے، تو انسپکٹر تیس یوم میں آجر کو اطلاع دے کر قواعد میں ترمیم اور دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت دے گا:مگر شرط یہ ہے کہ اگر آجر چیف انسپکٹر کی رائے سے متفق نہ ہو تو آجر تیس یوم کے اندر لیبر کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔(6) ملازمین کو انٹرنل ورک ریگولیشنزسے آگاہ کیا جائے گا، اہم نکات کام کی جگہ پر لگائے جائیں گے، اور قواعد کی نقل کاغذ پر یا الیکٹرانک ذرائع سے فراہم کی جائے گی بشرطیکہ معلومات ملازم کے لیے قابل رسائی ہو، محفوظ کی جا سکے، پرنٹ کی جا سکے، اور آجر کے پاس اس کے ثبوت ہوں۔

سی۔ ملازمت کا خاتمہ اور تادیبی اقدامات

146۔ ملازمت کے معاہدے کا خاتمہ:۔(1) روزگار کا معاہدہ مندرجہ ذیل طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے ختم کیا جا سکتا ہے:(اے) دونوں فریقوں کا روزگار کے معاہدے کو ختم کرنے پر اتفاق؛(بی)معینہ مدت کے روزگار کے معاہدے کی صورت میں:(i)معاہدے میں متعین مدت پوری ہو جائے؛(ii) وہ مخصوص کام جس کے لیے ملازم کو ملازمت دی گئی تھی مکمل ہو جائے؛(iii) کسی مخصوص واقعہ کا وقوع پذیر ہونا جیسے غیرحاضر ملازم کا واپس آنا، جس کی جگہ پر معین مدت کا روزگار معاہدہ کیا گیا تھا؛(سی)کسی فریق کا انتقال یا عدالت کی طرف سے اسے قانونی طور پر ناتواں قرار دینا؛ اور(ڈی)ملازم کا استعفیٰ دینا۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے علاوہ، اور ذیلی دفعات (3) سے (6) کے تابع، اگر ملازم کی کام کرنے کی اہلیت، برتاؤ، یا ادارے کی آپریشنل ضروریات کی بنیاد پر جائز وجہ ہو تو آجر ملازم کا معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ جائز وجوہات میں شامل ہیں:(اے) ملازم کا 10 دن سے زیادہ بغیر کسی اطلاع کے غیرحاضر رہنا؛(بی)ملازم کا کام اب کسی کو کرنے کی ضرورت نہ ہو، جیسے کہ غیر ضروری ہونے کی صورت میں، جیسا کہ ذیلی دفعہ ‎149 میں بیان کیا گیا ہے؛ یا(سی)سنگین بدعملی، جیسا کہ دفعہ ‎151 میں بیان کیا گیا ہے؛(ڈی)ناقص کارکردگی؛ یا(ای)آزمائشی مدت کی ناکام تکمیل۔

(3) روزگار کا معاہدہ ختم نہیں کیا جائے گا، نہ ہی کسی ملازم کو ملازمت سے ہٹایا جائے گا، اس کی چھانٹی کی جائے گی، اسے فارغ کیا جائے گا یا برخاست کیا جائے گا، سوائے ایک تحریری حکم کے جس میں کی گئی کارروائی کی وجہ کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہو۔

(4) ملازم کے رویے یا کارکردگی سے متعلق وجوہات کی بنا پر ملازم کا روزگار کا معاہدہ ختم نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ملازم کو ان الزامات کا دفاع کرنے کا موقع نہ دیا جائے، سوائے اس کے کہ آجر سے یہ توقع کرنا معقول نہ ہو کہ وہ یہ موقع فراہم کرے۔

(5) ناقص کارکردگی کی وجہ سے معاہدہ تبھی ختم کیا جا سکتا ہے جب آجر نے ملازم کو مناسب ہدایات اور تحریری وارننگ دی ہو اور بہتری کے لیے معقول وقت گزرنے کے بعد بھی کارکردگی ناقص رہے۔

(6) کسی بھی وجہ سے معاہدہ ختم ہونے پر، ملازم کی کمائی ہوئی تنخواہ اور دیگر واجبات، بشمول غیر استعمال شدہ سالانہ رخصت کی ادائیگی، معاہدے کے ختم ہونے کے دن سے دوسرے کام کے دن ختم ہونے سے پہلے ادا کی جائے گی۔

(7) اگر کسی ملازم کو معاہدۂ ملازمت کے خاتمے، یا ملازمت سے ہٹائے جانے، چھانٹی، فراغت یا برخاستگی سے متاثر ہو، تو ملازم دفعہ ‎335 کی ذیلی دفعہ (6) کے مطابق داد رسی حاصل کر سکتا ہے، اور اس کے بعد دفعہ ‎335 کی ذیلی دفعات (6) تا (9) کے احکامات کا اطلاق ہو گا۔

(8) اگر آجر کسی ملازم کو کام کی انجام دہی کے لیے کام کی جگہ تک رسائی اور اس میں داخل ہونے سے یا کسی بھی طریقے سے حاضری لگانے سے روکے، سوائے سنگین بدسلوکی کے، تو ملازم اس واقعے کے پانچ دن کے اندر علاقہ انسپکٹر کے دفتر میں تحریری طور پر شکایت درج کر سکتا ہے اور اس صورت میں آجر کسی بھی کارروائی سے باز رہے گا۔ انسپکٹر کو اس شکایت پر 21 دن کے اندر کارروائی کرنی ہوگی جیسا کہ قواعد میں متعین ہے:مگر شرط یہ ہے کہ انسپکٹر کے سامنے کارروائی کا وقت دفعہ 335 کے تحت شمار نہ کیا جائے۔

147۔ روزگار کے خاتمے کے لیے ممنوع وجوہات:۔(1) مندرجہ ذیل، اور دیگر ایسی وجوہات، روزگار کے خاتمے کے لیے جائز نہیں ہوں گی:(اے) ٹریڈ یونین کی رکنیت یا غیر رکنیت؛(بی)کام کے اوقات کے علاوہ یا آجر کی رضامندی سے کام کے اوقات میں یونین کی سرگرمیوں میں شرکت؛(سی)ٹریڈ یونین یا ورکر کے نمائندے کے طور پر دفتر کے عہدے کے لیے درخواست دینا یا اس عہدے میں کام کرنا یا کام کر چکا ہونا؛(ڈی)شکایت درج کرانا یا کسی آجر کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینا جس میں قوانین یا ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام ہو یا کسی مجاز انتظامی اتھارٹی سے رجوع کرنا؛(ای)کسی بھی ممنوعہ امتیازی وجوہات کی بنا پر، جیسا کہ پنجاب لیبر کوڈ کے باب 2.4 میں بیان کیا گیا ہے؛(ایف)قانونی چھٹیوں کے دوران کام سے غیر حاضری بشمول عِدت کی چھٹی اور دوران زچگی چھٹی؛(جی) قانونی بیماری کی چھٹی کے دوران کام سے عارضی غیر حاضری؛(ایچ) دفعہ ‎67 اور دفعہ ‎153 کے تحت حقوق کا استعمال؛ اور(آئی) قانونی ہڑتال میں شرکت۔

(2) ملازم کے خلاف اس مدت کے دوران کوئی انضباطی اقدام نہیں کیا جائے گا جب:(اے) ملازم بیماری یا صحت یابی کے حوالے سے چھٹی پر ہو؛ یا آجر کی رضامندی سے کسی اور قسم کی چھٹی پر ہو؛(بی)ملازم حاملہ ہو یا حمل سے متعلق کسی پیچیدگی میں مبتلا ہو، یا وہ دوران زچگی چھٹی پر ہو، یا ملازم پدری چھٹی پر ہو۔

148۔ جبری برطرفی کے مترادف صورتِ حال:۔ (1) ملازم اس وقت بغیر نوٹس کے یا اس مدت سے کم نوٹس کے ساتھ، جس کا آجر کو کسی قانونی شق یا معاہدے کی شرط کے تحت حق حاصل ہو، ملازمت کا معاہدہ ختم کرنے کا مجاز ہے جب آجر کے طرزِ عمل نے ملازم کے لیے ملازمت کا رشتہ جاری رکھنا غیر معقول بنا دیا ہو۔

(2) ملازم پر لازم ہو گا کہ وہ وجہ بیان کرے جس کی بنا پر ملازمت جاری رکھنا غیر معقول ہو گیا۔

(3) جبری برطرفی کے مترادف ملازمت کے خاتمے کی شکایت پر کسی بھی سماعت یا کارروائی میں، لیبر کورٹ ملازم کے طرزِ عمل اور اس بات کو مدِنظر رکھے گی کہ آیا ملازم نے آجر کے طرزِ عمل کا معاملہ آجر کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی تھی یا نہیں، قبل اس کے کہ وہ ملازمت چھوڑے۔

149۔ ضرورت سے زیادہ ملازمین ہونے کی بنیاد پر ملازمت کا خاتمہ:۔ (1) دفعہ ہذا میں:

"بندش" میں ملازمین کو 28 دن سے زائد مدت کے لیے لے آف کرنا شامل ہے، جس کے نتیجے میں کسی ادارے کی بندش ہو، لیکن وہ لاک آؤٹ شامل نہیں جو پنجاب لیبر کوڈ کے باب 2.6 کے مطابق اعلان کردہ، شروع کیا گیا یا جاری رکھا گیا ہو؛

"اضافی "سے مراد ایک یا ایک سے زیادہ ملازمین کی ملازمت کا خاتمہ ہے، جو ملازمین کی تعداد میں کمی، کاروبار کی تنظیمِ نو، منتقلی، بندش یا کاروبار میں کمی کی وجہ سے ہو۔ اس میں معاشی، تکنیکی، یا سٹرکچرل وجوہات شامل ہیں، جیسے کہ دیوالیہ پن، تحلیل، بندش، یا کاروبار کا خاتمہ۔(2) دفعہ ہذا اُن آجرین پر لاگو ہوتی ہے جو 50 سے زائد ملازمین کو ملازمت دیتے ہیں۔

(3) ذیلی دفعہ (6) کے تابع، اگر کوئی آجر ملازمین کی دس فیصد یا اس سے زائد تعداد کو اضافی ملازم کی بنیاد پر ملازمت سے نکالنے کی تجویز رکھتا ہو، تو اُسے چاہیے کہ وہ ملازمت ختم کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے یا اداروں کے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹس، یا ان کی غیر موجودگی میں ورکس کونسل کو بروقت مطلع کرے اور ان سے نیک نیتی سے مشورہ کرے۔ اس مشورے کا مقصد ان ملازمین پر اثرات کو کم کرنا ہے جو اس ریڈنڈنسی کا نشانہ بننے والے ہوں۔

(4) ملازمین کے نمائندوں کو تعمیری تجاویز پیش کرنے کے قابل بنانے کے لیے، آجرین کو مشاورت کے دوران بروقت:

(اے) ان کو تمام متعلقہ معلومات فراہم کرنی ہوں گی؛ اور

(بی) بہر صورت تحریری طور پر درج ذیل امور سے مطلع کرنا ہو گا: (i) متوقع ریڈنڈنسیوں کی وجوہات؛

 (ii) ان ملازمین کی تعداد اور اقسام جنہیں اضافی قرار دیا جانا ہے؛

 (iii) عام طور پر ملازمت میں موجود ملازمین کی تعداد اور اقسام؛

 (iv) وہ مدت جس میں یہ متوقع ریڈنڈنسیاں عمل میں لائی جائیں گی؛

 (v) اضافی ملازمین کے انتخاب کے لیے تجویز کردہ معیار؛ اور

 (vi) ریڈنڈنسی کی ادائیگیوں کے حساب کا طریق۔

(5) وہ آجر جو ذیلی دفعہ (4) کے تحت ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کی تجویز رکھتا ہو، اُس پر لازم ہو گا کہ پندرہ دن کے اندر، مگر ہر صورت ملازمین کی برطرفی سے پہلے، محکمہ کو مطلع کرے۔

(6) اگر کسی شدید صوبائی بحران کی صورتحال پیدا ہو، جیسے کہ وباء، قدرتی آفت، شدید معاشی گراوٹ، تو ایسا آجر جو ملازمین کے 25 فیصد تک کو برطرف کرنے کا خواہاں ہو، اُسے اس مقصد کے لیے مجاز انسپکٹر سے اجازت حاصل کرنا لازم ہو گا اور اگر آجر ملازمین کے 25 فیصد سے زائد کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو اُسے لازماً لیبر کورٹ سے پیشگی اجازت حاصل کرنی ہو گی۔

(7) لیبر کورٹ ذیلی دفعہ (5) کے تحت ریڈنڈنسی کا مقدمہ موصول ہونے کے تیس یوم کے اندر، مکمل انکوائری کے بعد فیصلہ کرے گی۔

(8) اگر کوئی آجر دفعہ ہذا پر عملدرآمد میں ناکام رہے، تو کسی ورکر کا نمائندہ دفعہ 349 کے تحت صنعتی تنازعہ کا آغاز کر سکتا ہے۔

(9) جب کسی ملازم کو نکالاجانا ہو، اور وہ کسی مخصوص درجہ بندی سے تعلق رکھتا ہو، تو آجر اُس ملازم کا معاہدہ ختم کرے گا جو اس کیٹیگری میں سب سے آخر میں ملازمت پر رکھا گیا ہو یعنی "آخر میں آنے والا، پہلے جائے"۔

(10) اگر کسی ملازم کی برطرفی کے ایک سال کے اندر دوبارہ کوئی نئی ملازمت کا موقع پیدا ہوتا ہے، تو آجر ان افراد پر غور کرے گا جنہیں پہلے اضافی قرار دیا گیا تھا، اور انہیں اس ملازمت کے موقع سے مطلع کرے گا، جیسا کہ قاعدے میں بیان کیا گیا ہے۔ اگر آجر ایسا کرنے میں ناکام رہے، تو یہ پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزی شمار ہو گی۔

(11) سیزنل اداروں کے معاملے میں، اگر کوئی ورکر ایک سیزن میں فارغ کر دیا گیا ہو اور اگلے سیزن میں کام کی بحالی کے دس یوم کے اندر دوبارہ ڈیوٹی پر حاضر ہو جائے، تو آجر اُسے ملازمت میں ترجیح دے گا۔ آجر ایسے ملازم کو ذیلی دفعہ (9) کے تحت مطلع کرنے کا پابند ہو گا۔

150۔ ملازمت کے معاہدوں کے خاتمے کا نوٹس:۔ (1) وہ ملازم جس کی ملازمت ختم کی جا رہی ہو، اسے تیس یوم کا تحریری نوٹس دیا جائے گا یا تیس دن کی آخری تنخواہ بطور معاوضہ ادا کی جائے گی، بشرطیکہ وہ سنگین بدعملی کا مرتکب نہ ہو۔

(2) ملازم بھی اپنے استعفیٰ کے ذریعے ملازمت کا معاہدہ ختم کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ آجر کو تیس دن کا تحریری نوٹس دے یا اس کے بدلے میں تیس دن کی آخری تنخواہ ادا کرے۔

(3) نوٹس کی مدت کے دوران، ملازمت کا تعلق اپنی اصل حالت میں برقرار رہے گا، جب تک کہ نوٹس دی گئی پارٹی نوٹس کی مدت کو ختم کرنے یا کم کرنے کی خواہش ظاہر نہ کرے۔

(4) نوٹس کی مدت کے دوران، ملازم کو دوسری ملازمت کی تلاش کے لیے ہفتہ وار آرام کے دن کے علاوہ، ہر ہفتے ایک دن کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی حاصل ہو گی، جس کا وقت دونوں فریقین کی سہولت سے طے ہو گا۔

(5) مائیکرو انٹرپرائز میں، آجر اور ملازم، ملازمت کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے چودہ دن کا تحریری نوٹس دیں گے یا اس کے بدلے میں چودہ دن کی آخری تنخواہ بطور معاوضہ ادا کریں گے۔

151۔ سنگین بدعملی:۔ (1) ذیلی دفعہ (2) کے تابع، درج ذیل افعال اور کوتاہیاں بطور سنگین بدعملی تصور کی جائیں گی:(اے) کوئی ایسا حکم جو ملازمت کے معاہدے، پنجاب لیبر کوڈ، یا کسی قابلِ اطلاق اجتماعی معاہدے کے مطابق قانونی اور معقول ہو، اُس پر عمل کرنے سے جان بوجھ کر اور بلاجواز انکار کرنا؛(بی) آجر کے کاروبار یا املاک سے متعلق چوری، فراڈ، یا بددیانتی کرنا؛(سی) آجر کی اشیاء یا املاک کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانا یا ضیاع کرنا؛(ڈی) رشوت لینا یا دینا، یا کسی بھی غیر قانونی فائدے کا لین دین کرنا؛(ای) بغیر چھٹی کے عادتاً غیر حاضری، یا مجموعی طور پر دس یوم سے زائد بغیر اجازت غیر حاضری؛(ایف) کام کے دوران ادارے میں ہنگامہ آرائی یا بدنظمی کرنا؛(جی) نشے یا کسی نشہ آور شے کے زیرِ اثر کام پر آنا، اس حالت میں کہ ملازم کے حواس اس حد تک متاثر ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہ رہے؛(ایچ) کسی ایسی ہڑتال کو جاری رکھنا جسے لیبر کورٹ غیر قانونی قرار دے چکی ہو؛(آئی) کسی بھی سنگین فعل یا کوتاہی کو بار بار دہرانا، جیسا کہ انٹرنل ورک ریگولیشنز میں بیان کیا گیا ہو۔

(2) دفعہ 147 میں بیان کردہ کسی بھی امر کو سنگین بدعملی تصور نہیں کیا جائے گا۔

152۔ کام کی بندش:۔ (1) آجر کسی بھی وقت، باب 2.5 میں بیان کردہ ذمہ داریوں کی تعمیل کے لیے، یا آگ، سانحہ، مشینری کی خرابی، بجلی کی بندش، وبائی امراض، فسادات یا کسی اور ایسے سبب کی صورت میں جو آجر کے قابو سے باہر ہو، ادارے کے کسی سیکشن یا تمام سیکشنز کو مکمل یا جزوی طور پر، کسی بھی مدت کے لیے، بغیر اطلاع کے بند کر سکتا ہے۔(2) اگر ایسی بندش کام کے دوران ہو تو متاثرہ ملازمین کو جلد از جلد مطلع کیا جائے گا کہ کام کب دوبارہ شروع ہو گا اور آیا اُنہیں کام کی جگہ پر موجود رہنا ہے یا چھوڑنا ہے۔ اگر ملازمین کو کام کی جگہ پر موجود رہنے کی ہدایت دی جائے، تو وہ اس مدت کے دوران پوری تنخواہ کے مستحق ہوں گے، جس حدتک ممکن ہو، معمول کے کام کی بحالی کے لیے معقول پیشگی اطلاع دی جائے گی۔(3) اگر ملازمین کو پلانٹ کی ناکامی، پیداوار کی عارضی کمی یا ذیلی دفعہ (1) میں بیان کی گئی وجوہات کی بنا پر کام سے فارغ کیا جائے تو انہیں آجر کی طرف سے پہلے چودہ دنوں کے دوران روزانہ اجرت کا پچاس فیصد معاوضہ کے طور پر دیا جائے گا:مگر شرط یہ ہے کہ یہ فارغ کرنے کی مدت صرف دو بار لگاتار ہو سکتی ہے اور اگر آجر کو اس مدت سے تجاوز کرنا ہو تو آجر کو اس کے لیے چیف انسپکٹر سے اجازت حاصل کرنا ہو گی۔(4) اگر ملازمین کو غیر معینہ مدت کے لیے فارغ کیا جائے، تو ان کی خدمات کو معقول نوٹس دے کر یا اس کے بدلے معاوضہ دے کر ختم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ لیبر کورٹ کی منظوری ہو۔

153۔ آجر کی جانب سےمعاوضے کی عدم ادائیگی پر کام کی انجام دہی:۔ (1) دفعہ ہذا اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب آجر باب 3.3، یا کسی ملازمت کے معاہدے، اجتماعی معاہدے، یا ایوارڈ کے تحت ملازم کو واجب الادا معاوضہ چودہ دن سے زائد عرصے تک ادا کرنے میں ناکام رہے۔

(2) وہ ملازم جسے ذیلی دفعہ (1) کے تحت معاوضہ موصول نہ ہوا ہو، یا اُس کی ٹریڈ یونین یا اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ، دفعہ 338 کے تحت "ادائیگیِ اجرت اتھارٹی" سے رجوع کر سکتا ہے یا انسپکٹر کو عدم ادائیگی سے متعلق اطلاع دے سکتا ہے۔

(3) اگر کوئی ملازم:(اے) ذیلی دفعہ (1) کے تحت معاوضہ حاصل نہ کر سکے؛ اور(بی) ذیلی دفعہ (2) کے تحت ادائیگیِ اجرت اتھارٹی سے رجوع کرے یا انسپکٹر کو مطلع کرے؛ اور(سی) درخواست یا اطلاع کے بعد چودہ یوم سے زائد معاوضہ بقایا رہے؛تو ملازم کام بند کر سکتا ہے جب تک کہ بقایا معاوضہ ادا نہ کر دیا جائے۔

(4) کوئی ایسا ملازم جو ذیلی دفعہ (3) کے تحت کام بند کرے، اُسے آجر ملازمت سے فارغ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے ملازمت میں کسی اور طرح نقصان پہنچا سکتا ہے۔

(5) کوئی بھی ملازم جو ذیلی دفعہ (3) کے تحت کام بند کر دے، اُس کی سروس کا تسلسل اور کوڈ کے تحت ملازمت کے حقوق کا حصول اس مدت کے دوران غیر منقطع تصور کیا جائے گا جس میں اسے ادائیگی نہ کی گئی ہو۔

154۔ تادیبی اقدامات کے اصول اور طریق کار:۔(1) دفعات ‎154 اور ‎155 کے احکامات ان آجرین پر لاگو ہوتے ہیں جو بیس سے زیادہ ملازمین کو ملازمت دیتے ہیں۔

(2) کسی ملازم کے خلاف تادیبی کارروائی درج ذیل طریقے سے عمل میں لائی جائے گی:(اے) مبینہ بدعملی کا تحریری نوٹس یعنی چارج شیٹ ملازم کو ایسی بدعملی کی تاریخ سے، یا اس تاریخ سے جب مبینہ بدعملی آجر کے علم میں آئے، ایک ماہ کے اندر دیا جائے گا؛(بی) ملازم کو ان الزامات پر جواب دینے یا وضاحت پیش کرنے کا موقع دو ہفتوں کی مدت کے اندر فراہم کیا جائے گا؛(سی) اگر ملازم کی وضاحت تسلی بخش نہ ہو، تو ملازم کو معطل کیا جا سکتا ہے اور آزادانہ انکوائری کے لیے انکوائری آفیسر یا انکوائری کمیٹی مقرر کی جا سکتی ہے تاکہ غیر جانب دارانہ انداز میں یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ملازم قصوروار ہے یا نہیں؛(ڈی) اگر انکوائری رپورٹ میں ملازم کو قصوروار پایا جائے، تو آجر دفعہ 156 کے تحت سزا دے سکتا ہے۔

(3) ذیلی دفعہ (2) کے تحت کی جانے والی تادیبی کارروائی کو تحریری صورت میں ریکارڈ کیا جائے گا، اور تادیبی اقدام کا کوئی حکم ذیلی دفعہ (2) کے احکامات کے برخلاف جاری نہیں کیا جائے گا۔

(4) اگر ملازم چاہے تو، وہ انکوائری کے دوران اپنی معاونت کے لیے اسی کام کی جگہ کے کسی دوسرے ملازم یا ٹریڈ یونین کے نمائندے کو نامزد کر سکتا ہے، اور آجر اُس نامزد شخص کو انکوائری میں شریک ہونے اور ملازم کی مدد کرنے کی اجازت دے گا، اگر انکوائری کام کے اوقات میں ہو تو اس معاون ملازم کی تنخواہ میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

(5) انکوائری کے مقاصد کے لیے، آجر ملازم کو ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ سات دن کے لیے معطل کر سکتا ہے، بشرطیکہ مجموعی مدت چار ہفتوں سے زیادہ نہ ہو، سوائے اس صورت کے جب معاملہ ثالث، لیبر کورٹ، ٹربیونل، میڈی ایٹر (مفاہمت کار) یا مصالحت کار کے سامنے زیرِ التواء ہو۔ معطلی کا حکم تحریری ہو گا اور ملازم کو دیا جانے کے ساتھ ہی مؤثر ہو گا، معطلی کے دوران ملازم کو وہی معاوضہ دیا جائے گا جو اُسے معطلی نہ ہونے کی صورت میں ملتا۔

155۔ انکوائری اور حتمی حکم کا طریق کار:۔ (1) انکوائری آفیسر یا انکوائری کمیٹی، جیسا بھی معاملہ ہو، آجر سے تحریری حکم ملنے کے تین یوم کے اندر درج ذیل اقدامات کرے گی:(اے) ملزم ملازم کو الزامات کی تفصیلات اور ان کے ثبوت مہیا کیے جائیں گے، اور ان کا تحریری وصولی اقرار حاصل کیا جائے گا؛(بی) ملزم ملازم سے کہا جائے گا کہ وہ سات یوم کے اندر تحریری دفاع جمع کرائے، اور اگر ملازم بغیر کسی معقول وجہ کے جواب نہ دے، تو انکوائری آفیسر یا کمیٹی یکطرفہ کارروائی کرے گی؛(سی) انکوائری کے دوران، الزامات اور دفاع میں زبانی یا دستاویزی شواہد ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں، اور ہر فریق کو گواہوں پر جرح کرنے کا حق حاصل ہو گا۔

(2) ملزم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ انکوائری کے دوران پیش کیے گئے زبانی یا دستاویزی شواہد کا معائنہ کرے، اور اپنی صفائی میں ایسے شواہد پیش یا طلب کر سکے۔

(3) کوڈ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے تابع، انکوائری آفیسر یا انکوائری کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ انکوائری کا اپنا طریق کار، جگہ اور وقت خود مقرر کرے۔

(4) انکوائری کے حوالے سے انکوائری آفیسر یا کمیٹی درج ذیل طریق کار پر عمل کرے گی:(اے) انکوائری کے دوران حاصل کیے گئے بیانات اور دیگر ثبوت رازدارانہ طور پر زیر غور آئیں گے؛(بی) ملزم ملازم کو دفاع کے دوران اسی کام کی جگہ پر کسی دوسرے ملازم کی معاونت کی اجازت دی جائے گی؛(سی)انکوائری افسر یا کمیٹی اپنی رپورٹ تحریری طور پر پیش کرے گی اور اس کے فیصلے کی وجوہات بھی درج کرے گی؛(ڈی) انکوائری کے آغاز سے چالیس دن کے اندر، انکوائری آفیسر یا کمیٹی اپنے نتائج اور سفارشات آجر کو جمع کرائے گی۔

(5) انکوائری رپورٹ موصول ہونے کے ایک ہفتے کے اندر، آجر معاملے پر غور و فکر کرے گا اور مناسب حکم جاری کرے گایا تو الزامات کو خارج کرے گا یا دفعہ 156 کے تحت سزا عائد کرے گا، اور یہ فیصلہ تحریری، وجوہات پر مبنی ہو گا جس سے ملازم کو مطلع کیا جائے گا۔

156۔ سزائیں:۔ اگر ملازم پر عائد الزامات ثابت ہو جائیں تو آجر، بدعملی کی نوعیت اور سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملازم کو درج ذیل میں سے ایک یا ایک سے زائد سزائیں دے گا:(اے) سرزنش؛(بی) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مقررہ طریقے کے مطابق جرمانہ، جو ملازم کو ماہانہ ادا کی جانے والی تنخواہ کا تین فیصد تک ہو سکتا ہے؛(سی) انکریمنٹ یا ترقی کو روک لینا، ایسی مدت کے لیے جو دو سال سے زائد نہ ہو؛(ڈی) مخصوص مدت کے لیے جو دو سال سے زائد نہ ہو کسی نچلے عہدے پر تنزلی؛(ای) تمام مالی فوائد سمیت، جن میں گریجویٹی بھی شامل ہے، ملازمت سے برطرفی؛ یا(ایف) نوٹس کے عوض کسی معاوضۂ کار کی ادائیگی کے بغیر ملازمت سے برخاستگی۔

157۔ سزاؤں کے خلاف اپیل:۔اگر کسی ملازم پر آجر کی جانب سے کوئی سزا عائد کی گئی ہو اور وہ اس فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو وہ اس فیصلے کی تحریری اطلاع ملنے کے تیس دن کے اندر آجر کے پاس شکایت درج کروا سکتا ہے، جیسا کہ دفعہ ‎335 میں بیان کیا گیا ہے۔

158۔ روزگار کا سرٹیفیکیٹ:۔ (1) ملازمت کے معاہدے کے کسی بھی وجہ سے خاتمے کی صورت میں، آجر پابند ہوگا کہ ملازمت کے خاتمے کے دسویں ورکنگ دن کی مدت ختم ہونے سے پہلے، ملازم کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے جس میں درج ذیل معلومات شامل ہوں:(اے) آجر کا نام اور پتا؛(بی)آجر کے کاروبار کی نوعیت؛(سی) آجر کے ساتھ ملازم کی مسلسل روزگار کی مدت؛(ڈی)ملازم کا عہدہ یا ذمہ داری جس پر وہ کام کر رہا تھا، اس کے ختم ہونے سے پہلے؛(ای)روزگار کے خاتمے کی وجہ۔

(2) مذکورہ بالا ذیلی دفعہ (1) میں جس سرٹیفکیٹ کا ذکر کیا گیا ہے، اُس میں ملازم کی کارکردگی کا کوئی تجزیہ شامل نہیں ہوگا، جب تک کہ ملازم خود اس تجزیے کی درخواست نہ کرے۔

ڈی۔ گریجویٹی اور ریڈنڈنسی کی ادائیگیاں

159۔ ملازمت کے خاتمے پر ادائیگیاں:۔ (1) دفعہ ہذا ان اداروں پر لاگو نہیں ہو گی جن میں بیس سے کم ورکرز ملازم ہوں۔

(2) ایک سال کی مسلسل ملازمت کے بعد، اگر ملازمت کا معاہدہ کسی بھی فریق آجر یا ملازم کی جانب سے ختم کیا جائے، سوائے"سنگین بدعملی"کی صورت کے، تو ملازم یا، اُس کی وفات کی صورت میں، اس کے ورثاء، ہر سال کی ملازمت کے عوض تیس یوم کی اجرت کے برابر گریجویٹی کے حق دار ہوں گے، جب تک کہ اس سے زیادہ سازگار شرائط پہلے سے طے نہ کی گئی ہوں:مگر شرط یہ ہے کہ گریجویٹی کی رقم کے حساب کے لیے، ایک ہی ادارے کے ساتھ پہلے سال کی ملازمت مکمل ہونے کے بعد، سروس کی جو مدت چھ ماہ سے تجاوز کرے، اسے مکمل سال شمار کیا جائے گا؛مزیدشرط یہ ہے کہ اگر ملازم "مقررہ اجرت" پر کام کر رہا تھا تو گریجویٹی کی رقم اس کی آخری ماہ کی تنخواہ کی بنیاد پر، اور اگر وہ "فی کام اجرت" پر کام کر رہا تھا تو گزشتہ بارہ ماہ کے دوران حاصل کردہ سب سے زیادہ اجرت کی بنیاد پر ادا کی جائے گی۔(3) ایسا سیزنل ملازم جس نے کسی سیزنل ادارے میں پورے سیزن کے دوران کام کیا ہو، اسے، اس کوڈ یا فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون کے تحت حاصل ہونے والے کسی بھی دوسرے فائدے کے علاوہ، سیزن کے اختتام پر، اس کی آخری ماہ کی تنخواہ کے برابر رقم سیزن ختم ہونے سے پندرہ دن قبل ادا کی جائے گی:مگر شرط یہ ہے کہ سیزنل ملازم کی سروسز میں سیزن کے دوران اگر کوئی تعطل یا رکاوٹ، بیماری، حادثے، رخصت، لے آف، ہڑتال، لاک آؤٹ یا کام کی بندش کی وجہ سے آئی ہو، تو وہ اسے اس کوڈ کے احکامات کے فائدے سے محروم نہیں کرے گی؛

مزید شرط یہ ہے کہ یہ بھی فرض کیا جائے گا کہ اگرسیزنل ملازم سیزن کے دوران کم از کم پچھتر فیصد دنوں میں کام کر چکا ہو، تو وہ پورے سیزن کے دوران کام کرنے والا متصورہو۔

(4) کسی بھی ملازم کے ورثاء کو گریجویٹی کی ادائیگی براہِ راست نہیں کی جائے گی بلکہ یہ رقم"ایمپلائز کمپنسیشن کمشنر" کی عدالت میں جمع کرائی جائے گی، جو حصہ پنجم کے باب 5.6 کے احکامات کے مطابق، اس رقم کی ورثاء میں تقسیم کرے گا۔اگر آجر مقررہ گریجویٹی کی رقم جمع نہ کرائے، تو متوفی ملازم کے ورثاء کمشنر کے سامنے اس رقم کی وصولی کے لیے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

160۔ گریجویٹی کی حد بندی:۔(1) دفعہ 159 کے تحت کسی ملازم کو ملنے والی گریجویٹی کی ادائیگی کو درج ذیل کیٹیگریوں کے مطابق محدود کیا جائے گا:

کیٹیگری

وہ حالات جن میں گریجویٹی واجب الادا ہو گی

دفعہ 159 کے تحت زیادہ سے زیادہ ادائیگی

1۔

وہ ملازمین جن کی اوسط ماہانہ اجرت، حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مقرر کی جانے والی ماہانہ کم از کم اجرت سے پانچ گنا سے زیادہ نہ ہو۔

کسی بھی فریق کی جانب سے، سوائے سنگین بدعملی کے، ملازمت کا خاتمہ۔

کوئی حد نہیں۔

2۔

وہ ملازمین جن کی اوسط ماہانہ اجرت، زمرہ 1 سے زیادہ لیکن حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ کم از کم اجرت کے دس گنا سے زیادہ نہ ہو۔

صرف ریڈنڈنسی یا ریٹرنچمنٹ کی بنیاد پر ملازمت کا خاتمہ۔

بارہ ماہ کی اجرت

3۔

وہ ملازمین جن کی اوسط ماہانہ اجرت حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم ماہانہ اجرت کے دس گنا سے زیادہ ہو۔

صرف ریڈنڈنسی یا ریٹرنچمنٹ کی بنیاد پر ملازمت کا خاتمہ۔

چھ ماہ کی اجرت

(2) دفعہ ہذاکے مقاصد کے لیے، "مینجریل ملازم" سے مراد ایسا شخص ہے جسے کسی کام کی جگہ پر ورکرز کو بھرتی کرنے یا برطرف کرنے کا اختیار حاصل ہو۔(3) دفعہ ہذا کسی ایسے حق کو متاثر نہیں کرے گی جو پنجاب لیبر کوڈکے نفاذ سے قبل نافذ العمل کسی قانون کے تحت کسی ملازم کو گریجویٹی کی صورت میں حاصل ہو چکا ہو۔

161۔ پروویڈنٹ فنڈ:۔(1) جہاں کسی آجر نے ایک پروویڈنٹ فنڈ قائم کیا ہو جس میں ملازم بھی شریکِ اعانت ہو، اور آجر کی جانب سے اس فنڈ میں کی گئی شراکت، ملازم کی جانب سے کی گئی شراکت سے کم نہ ہو، تو ایسے عرصہ کے دوران جس میں مذکورہ پروویڈنٹ فنڈ قائم رہا ہو، گریجویٹی کی ادائیگی واجب نہ ہوگی:مگر شرط یہ ہےکہ آجر کی جانب سے پروویڈنٹ فنڈ میں کی گئی شراکت کی رقم، پنجاب لیبر کوڈکے تحت اس ملازم کو واجب الادا گریجویٹی کی رقم سے کسی صورت کم نہ ہو گی۔(2) آجر اور ملازم دونوں، پروویڈنٹ فنڈ میں سالانہ بنیاد پر ایسی رقم بطور شراکت جمع کروائیں گے جو ایک ماہ کی تنخواہ یا اوسط تنخواہ حسبِ صورت کے مساوی ہو۔(3) ملازم کو پروویڈنٹ فنڈ میں اپنے کریڈٹ میں موجود مکمل رقم، بشمول آجر کی جانب سے اس فنڈ میں کی گئی شراکت، کسی بھی وجہ سے ملازمت کے معاہدے کے خاتمے کے باوجود، وصول کرنے کا مکمل حق حاصل ہو گا۔

ای۔ تنخواہ کی رازداری کی ممانعت

162۔ تنخواہ کی رازداری کی ممانعت:۔(1) کوئی آجر کسی ملازم کو اس بات کا پابند نہیں بنا سکتا کہ وہ کسی دوسرے شخص کو مندرجہ ذیل معلومات ظاہر کرے یا نہ کرے:(اے) تنخواہ؛ اور(بی) ملازمت کی ایسی قیودو شرائط جو معاوضہ کے تعین کے لیے معقول حد تک ضروری ہوں۔

(2) کوئی آجر کسی ملازم کو اس بات سے نہیں روک سکتا کہ وہ ان امور پر، جن کا ذکر ذیلی دفعہ (1) میں کیا گیا ہے، کسی بھی دوسرے شخص بشمول کسی دوسرے ملازم کے ساتھ تبادلہ خیال کرے۔

(3) دفعہ ہذا درج ذیل پر لاگو ہو گی:(اے) ملازمت کے معاہدے؛(بی) انٹرنل ورک ریگولیشنز؛(سی)اجتماعی معاہدے؛ اور(ڈی) کوئی بھی دیگر ہدایت یا حکم۔

ایف۔ بعدازملازمت پابندیوں کی حدود

163۔ تجارتی پابندیاں اور عدم مسابقت کی شرائط عمومی طور پر کالعدم:۔(1) دفعہ ہذا ہر اُس معاہدے پر لاگو ہو گی جو کسی آجر اور اس کے ملازم کے درمیان طے پایا ہو، سوائے ان معاہدات کے جو آجر اور کسی ایسے انتظامی یا مینجریل ملازم کے درمیان ہوں جو حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً اعلان کردہ غیر ہنر مند کارکن کے لیے مقرر کردہ کم از کم اجرت سے پانچ گنا زیادہ اوسط ماہانہ معاوضہ حاصل کرتا ہو۔

(2) معاہدے کی کوئی بھی ایسی شق جس کے ذریعے کسی ملازم کو کسی جائز پیشہ، تجارت یا کاروبار میں مشغول ہونے سے روکا جائے، کالعدم تصور کی جائے گی۔

(3) کوئی آجر کسی ملازمت کے معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کر سکتا جو ذیلی دفعہ (2) کے تحت کالعدم ہو۔

(4) دفعہ ہذا میں کوئی چیز کسی آجر کو اس بات سے نہیں روکتی کہ وہ ملازمت کے معاہدے میں ایسی شق شامل کرے جو درج ذیل امور کی ممانعت کرے:(اے) تجارتی رازوں اور گاہکوں کی خفیہ اور ملکیتی معلومات کا افشاء؛ یا(بی) ایسے گاہکوں سے رابطہ یا اُن کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش جن کے بارے میں ملازم کو دورانِ ملازمت علم حاصل ہوا ہو۔

باب 3.3 – اجرت

164۔ باب کا اطلاق:۔ باب ہذاکی تمام دفعات تمام ملازمین، بشمول کان میں کام کرنے والے ملازمین، پر لاگو ہوں گی۔

اے۔اجرت کا تعین اور ادائیگی

165۔ اجرت کا تعین اور ادائیگی:۔(1) ملازم کی اجرت انفرادی روزگار کے معاہدے کے ذریعے طے کی جائے گی، بشرطیکہ بنیادی اجرت کم از کم اجرت کے نوٹیفائی شدہ نرخوں سے کم نہ ہو۔

(2) ہر آجر اجرت کا تعین کرتے وقت زندگی گزارنے کی لاگت اور افراط زر کو مدنظر رکھے گا اور مناسب اجرت کے اصول کی پیروی کرے گا، جو ملازم کے کام کے معیار اور مقدار کے مطابق ہو اور انسانی وقار کے مطابق زندگی گزارنے کو یقینی بنائے۔

(3) ہر آجر ملازمین کو اجرت کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا۔

(4) آجر وہ ادوار طے کرے گا جن کے لیے اجرت کی ادائیگی کی جائے گی اور کوئی بھی ایسا دورانیہ ایک ماہ سے زیادہ نہیں ہو گا۔

(5) تمام اجرت اور واجبات کسی بھی نوعیت کے ہوں، ملازمین کو پاکستانی روپے میں ان کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کر کے ادا کی جائیں گی۔

(6) آجر اور ملازم دونوں ان ملازمین کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے ذمہ دار ہوں گے جن کے پاس پہلے سے کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔

(7) آجر اجرت کی منتقلی کے اخراجات برداشت کرے گا۔

(8) اجرت وقت کی اکائی یعنی گھنٹہ، دن، ہفتہ، پندرہ دن یا ماہانہ یا کام کی اکائی یعنی فی کام (پیس ورک) یا ٹاسک کے مطابق طے کی جا سکتی ہے۔

(9) ہر آجر بشمول ٹھیکیدار ان افراد کو تمام اجرت ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا جو اس کے زیر ملازمت ہوں، جیسا کہ پنجاب لیبر کوڈ میں طے کیا گیا ہے:مگر شرط یہ ہے کہ جو افراد ٹھیکیدار کے علاوہ ملازمت کرتے ہیں تو:(اے) اداروں میں، اگر کوئی شخص آجر کی جانب سے بطور مینیجر یا صنعتی ادارے کے نگہبان و نگران کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہو؛

(بی) ریلوے کے ضمن میں، اگر آجر ریلوے انتظامیہ ہو، اور ریلوے انتظامیہ نے متعلقہ مقامی علاقہ کے لیے کسی شخص کو اس مقصد کے لیے نامزد کیا ہو؛ تو ایسا نامزد کردہ شخص، یا آجر کا مقرر کردہ ذمہ دار فرد، جیسا بھی ہو، اس ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا۔مزید شرط یہ ہے کہ اگر آجر کوئی قانونی شخصیت یا کمپنی ہو، تو اس کا کوئی بھی ڈائریکٹر، اور اگر پرائیویٹ کمپنی ہو، تو اس کے بڑے شیئر ہولڈرز میں سے کوئی ایک، معاوضہ کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔

(10) کام کا آغاز ہونے سے قبل، آجر ہر ایسے ملازم کو جو فی کام اجرت پر ملازم ہو، درج ذیل امور سے آگاہ کرے گا:(اے) متعلقہ فی کام اجرت کی اجزائی تفصیل، انجام دیے جانے والے کام کی نوعیت، اور فی یونٹ ادا کی جانے والی شرح؛ اور(بی)مکمل کیے جانے والے کام کی مقدار اور اس میں وقت کی مدت۔

(11) آجر تمام ملازمین، بشمول فی کام اجرت پر کام کرنے والوں، کو درج ذیل میں سے کسی بھی طریق کار کے مطابق معاوضہ ادا کرے گا یا اس کی ادائیگی کروائے گا:(اے) روزانہ کی بنیاد پر، کام کے دن یا شفٹ کے اختتام پر؛(بی) ہفتہ وار بنیاد پر ہفتے کے آخری کام کے دن، یعنی ہفتہ وار تعطیل سے قبل؛(سی) پندرہ روزہ بنیاد پر پندرہ روزہ مدت کے اختتام کے بعد دوسرے دن کے اختتام سے قبل؛(ڈی) ماہانہ بنیاد پر اگلے مہینے کی ساتویں تاریخ ختم ہونے سے قبل۔

(12) اگر ملازمت کا معاہدہ کسی بھی وجہ سے ختم کر دیا جائے، تو ملازم کو واجب الادا معاوضہ اور دیگر بقایاجات (اگر کوئی ہوں) دو کام کے دنوں کے اندر اندر ادا کیے جائیں گے۔

(13) اگر کوئی آجر دیوالیہ ہو جائے یا عدالتی فیصلے کے تحت ادارے کی تحلیل ہو جائے، تو ملازمین کو ان کے واجب الادا معاوضہ اور دیگر واجبات کے سلسلے میں ترجیحی قرض خواہوں کا درجہ حاصل ہوگا۔

(14) ذیلی دفعہ (11) میں شامل کسی امر کے باوجود، چیف انسپکٹر اجرت کی ادائیگی کے لیے کوئی بھی دوسری مدت مقرر کر سکتا ہے، جسے وہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معقول سمجھے جن کے تحت اجرت ادا کی جانی ہو۔

(15) ہر ماہ، آجر اجرت کی ہر ادائیگی کے ساتھ ملازم کو ایک درست اور تفصیلی اجرت کا بیان فراہم کرے گا، یعنی پے سلپ، جو تحریری طور پر اس فارم میں ہو گا جس میں درج ہو:(اے) بنیادی اجرت؛(بی)الاؤنسز؛(i) قانوناً لازمی اور غیر لازمی الاؤنس؛(ii) اس مدت کے دوران کوئی اور ادائیگی؛(سی)مجموعی اجرت (اے + بی )؛(ڈی)کٹوتیاں؛(i) کٹوتیاں، بشمول قانوناً لازمی اور غیر لازمی شراکتیں؛(ii) کسی قسم کے جرمانے؛(ای) مجموعی کٹوتی (i + ii)؛(ایف) نیٹ اجرت (سی - ای) (مجموعی اجرت - مجموعی کٹوتیاں)؛(جی) دیگر ادائیگیاں؛(i) اوور ٹائم، اگر ہو؛(ii) کسی قسم کا بونس/بطور انعام، اگر ہو؛(ایچ) کل ادائیگی (ایف +جی )؛ اور(آئی) چھٹی کا بیلنس (سالانہ، اتفاقیہ اور بیماری کی چھٹیوں کی صورت میں)۔

166۔ اجرت کی غیر مناسب ادائیگی کی ممانعت:۔کسی آجر کو اجازت نہیں ہوگی:(اے) اجرت کو واؤچر زیا کوپن کی شکل میں ادا کرے؛(بی)کسی ملازم سے یہ تقاضا کرے یا اسے اجازت دے کہ وہ کسی قابل ادا اجرت کو واپس کرے یا جو اس کو ادا کی گئی ہو؛(سی)کسی ملازم سے یہ تقاضا کرے یا اسے اجازت دے کہ وہ رسید دے یا کسی اور طریقے سے یہ ظاہر کرے کہ اس نے بطور اجرت اس سے زیادہ وصول کیا ہے جتنا اس نے حقیقت میں وصول کیا؛(ڈی)کسی ملازم سے یہ تقاضا کرے یا اجازت دے کہ ملازمت کے حصول یا برقرار رکھنے کے لیے ملازم کی جانب سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی ادائیگی کی جائے یا اس کی اجرت سے کوئی کٹوتی کی جائے؛(ای)ایسا کوئی کام کرے یا کسی دوسرے کو کرنے کی اجازت دے جس کے نتیجے میں ملازم کسی بھی اجرت یا اس کے کسی حصے سے محروم ہو جائے؛(ایف)ملازم کی اپنی اجرت کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کی آزادی کو محدود کرے؛(جی) ملازم کو آجر کی مصنوعات خریدنے یا مخصوص دکانوں سے مصنوعات خریدنے پر مجبور کرے۔

167۔ کم از کم اجرتوں کی شرح سے کم اجرت کی ادائیگی کی ممانعت:۔(1) ایسی کسی بھی کٹوتی کے تابع جو پنجاب لیبر کوڈ یا کسی دوسرے قانون کے تحت اجازت شدہ ہو، آجر کسی ملازم کو ایسی اجرت ادا نہیں کرے گا جو کم از کم اجرت کی شرح سے کم ہو جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اس ملازم کے لیے نوٹیفائی کی گئی ہو۔

(2) ذیلی دفعہ (1) میں کچھ بھی ایسا متصور نہیں ہے جو:(اے) کسی آجر کو کسی ملازم کی اجرت کی شرح کم کرنے کی اجازت دے؛ یا(بی)کسی ملازم کے اس حق پر اثر انداز ہو کہ وہ ایسی اجرت کی شرح پر اجرت حاصل کرتا رہتا ہے جو کم از کم اجرت سے زیادہ ہو اگر وہ کسی معاہدے، کنٹریکٹ یا ایوارڈ کے تحت، یا رواجی فرق کے طور پر، یا کسی اور طریقے سے ایسی بلند شرح پر اجرت حاصل کرنے کا حق دار ہو، یا ایسی سہولیات اور دیگر فوائد سے مستفید ہوتے رہنے کا حق دار ہو جو ایسے ملازم کے لیے رواجاً حاصل ہوں۔

(3) موجودہ اجرتیں، جو کم از کم اجرت سے زیادہ ہوں، کم نہیں کی جائیں گی اور آجر کو مزید اجرت بڑھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ آجر کسی بھی خاص وجوہات جیسے اعلیٰ درجے کی مہارت یا تجربہ، یا کسی خاص علاقے میں زندگی گزارنے کی زیادہ لاگت یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنی پہل پر یکطرفہ طور پر، یا اجتماعی معاہدے کے ذریعے، زیادہ اجرت ادا کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

بی۔ کٹوتیاں

168۔ اجرت سے قابل اجازت کٹوتیاں:۔(1) ہر ملازم کو اجرت بغیر کسی قسم کی کٹوتی کے ادا کی جائے گی، سوائے ان کٹوتیوں کے جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت یا اس کے تحت اجازت دی گئی ہوں۔

(2) ملازم کی اجرت سے کٹوتیاں صرف پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے مطابق کی جائیں گی اور یہ صرف درج ذیل اقسام کی کٹوتیاں ہوں گی:(اے) قانونی شراکت کی ادائیگی کے لیے کٹوتیاں؛(بی)ملازم کی طرف سے ادا کی جانے والی انکم ٹیکس کی کٹوتیاں؛(سی) ملازم کی رضامندی سے غیر لازمی سماجی انشورنس اسکیموں کے لیے کٹوتیاں؛(ڈی)وہ کٹوتیاں جو عدالت یا کسی دیگر مجاز اتھارٹی کے حکم سے کی جائیں؛(ای) ملازم کی تحریری رضامندی سےچیک آف رقم کی کٹوتی؛(ایف)دفعہ 169 کے تحت جرمانے؛(جی) دفعہ 170 کے تحت ڈیوٹی سے غیر حاضری کی کٹوتیاں؛(ایچ) دفعہ 171 کے تحت مال کے نقصان یا ضیاع یا رقم کے نقصان کی کٹوتیاں جو ملازم کو نگہداشت کے لیے سونپی گئی ہو، یا وہ رقم جس کا حساب ملازم کو دینا ہے، بشرطیکہ اس نقصان یا نقص کی براہ راست وجہ ملازم کی غفلت یا کوتاہی ہو؛(آئی) دفعہ 172 کے تحت رہائشی سہولت اور ٹرانسپورٹ کی خدمات کی کٹوتیاں جو آجر نے فراہم کی ہوں؛(جے) دفعہ 172 کے تحت وہ سہولتیں اور خدمات جو آجر نے فراہم کی ہوں اور جنہیں محکمہ کسی عام یا خصوصی حکم کے ذریعے منظور کرے؛

وضاحت: اس شق میں لفظ "خدمات" ان وسائل میں شامل نہیں جن کا مقصد روزگار کے لیے ضروری ٹولز اور خام مال کی فراہمی ہو؛(کے) دفعہ 173 کے تحت ایڈوانس کی وصولی یا اجرت کی زیادہ ادائیگی کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے کٹوتیاں؛(ایل) کسی ایسے پروویڈنٹ فنڈ میں چندے اور اس سے لیے گئے ایڈوانسز کی واپسی کے لیے کٹوتیاں جس پر پراویڈنٹ فنڈز ایکٹ، 1925 کا اطلاق ہوتا ہو، یا کسی تسلیم شدہ پروویڈنٹ فنڈ میں جیسا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 میں تعریف کی گئی ہے، یا کوئی پروویڈنٹ فنڈ جسے محکمہ اس کی منظوری کے دوران تسلیم کرتا ہو؛(ایم) دفعہ 174 کے تحت کٹوتیاں جو حکومت کے منظور شدہ کوآپریٹو سوسائٹیز یا پاکستان پوسٹ آفس کے زیر اہتمام انشورنس اسکیموں میں کی جائیں؛(این) کٹوتیاں جو ملازم کی تحریری اجازت سے حکومت پاکستان کے سیکیورٹیز خریدنے کے لیے بچت اسکیم میں کی جائیں۔

169۔ جرمانے:۔(1) کسی ملازم پر کوئی جرمانہ تب تک عائد نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ پنجاب لیبر کوڈ، اجتماعی معاہدے یا انٹرنل ورک ریگولیشنز کے تحت قابل اجازت نہ ہو۔(2) ایسے اعمال اور غفلتوں کی تفصیل والا نوٹس مقررہ طریقے سے اس احاطے میں جہاں ملازمت انجام دی جاتی ہے، مقررہ جگہ یا جگہوں پر آویزاں کیا جائے گا۔(3) کسی بھی ملازم پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اس ملازم کو جرمانے کے خلاف اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہ دیا جائے، یا ایسا نہ ہو جیسا کہ جرمانے کے عائد کرنے کے لیے مخصوص طریق کار ہو۔(4) جو جرمانہ کسی ملازم پر عائد کیا جائے گا اس کی مجموعی رقم اس ملازم کی اجرت کی تین فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی جو اس اجرت کی مدت کے دوران واجب الادا ہو۔(5) کسی ملازم پر جو اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہو، جرمانہ عائد نہیں کیا جا سکتا۔(6) کسی بھی ملازم پر عائد شدہ جرمانہ اقساط میں وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے عائد ہونے کے ایک سو بیس دنوں کے بعد اس کی وصولی کی جائے گی۔(7) ہر جرمانہ اس دن عائد سمجھا جائے گا جس دن وہ عمل یا غفلت ہوئی جس کے متعلق جرمانہ عائد کیا گیا۔(8) تمام جرمانے اور ان کی وصولیاں ایک رجسٹر میں ریکارڈ کی جائیں گی جسے آجر مقررہ شکل میں رکھے گا؛ اور تمام وصولیاں صرف ان مقاصد کے لیے استعمال کی جائیں گی جو کسی کام کی جگہ پر ملازمین کے فائدے کے لیے ہوں اور جو مقررہ اتھارٹی نے منظور کی ہوں۔(9) کسی دوسرے ادارے کے ایسے ملازمین کی صورت میں جو ایک ہی انتظامیہ کے تحت ملازم عملے کا محض ایک حصہ ہوں، تمام وصولیاں ایک مشترکہ فنڈ میں جمع کی جا سکتی ہیں جو پورے عملے کے لیے رکھا گیا ہو، بشرطیکہ یہ فنڈ صرف ان مقاصد کے لیے استعمال ہو جو مقررہ اتھارٹی نے مقرر کیے ہوں۔

170۔ ڈیوٹی سے غیر حاضری کے لیے کٹوتیاں:۔(1) کٹوتیاں صرف اس صورت میں کی جا سکتی ہیں جب ملازم بلاجواز اس جگہ یا جگہوں سے غیر حاضر ہو جہاں اس کی ملازمت کی شرائط کے مطابق اسے کام کرنا ضروری ہو، یہ غیر حاضری پورے یا جزوی مدت کے لیے ہو سکتی ہے جس دوران اسے کام کرنا ضروری ہو۔(2) اجرت سے زیادہ سے زیادہ کٹوتی اس تناسب میں ہوگی جس طرح غیر حاضری کا عرصہ مجموعی اجرت کی مدت سے ہے:مگر شرط یہ ہے کہ اس سلسلے میں حکومت کے بنائے گئے کسی قواعد کے تابع، اگر دس یا زیادہ ملازمین اجتماعی طور پر بغیر پیشگی اطلاع اور جائز وجہ کے غیر حاضر ہو جاتے ہیں، تو ان میں سے کسی بھی فرد سے ایسی کٹوتی کی جا سکتی ہے جو ان کی متعلقہ آٹھ دن کی اجرت سے زائد نہ ہو، جو ملازمت کی شرائط کے تحت پیشگی اطلاع کے عوض آجر کو واجب الادا ہو۔وضاحت: دفعہ ہذا کے مقاصد کےلئے، ایک ملازم کو غیر حاضر سمجھا جائے گا اگرچہ وہ کام کی جگہ پر موجود ہو، اگر وہ کسی غیر قانونی دھرنا ہڑتال (اسٹے اِن اسٹرائیک) کے تحت یا کسی دوسرے سبب سے جو حالات کے مطابق معقول نہ ہو، کام کرنے سے انکار کرتا ہے۔

171۔ نقصان یا ضیاع کی صورت میں کٹوتیاں:۔(1) ایسی کٹوتی جو مال کے نقصان کے باعث کی جائے جو خصوصی طور پر ملازم کو نگہداشت کے لیے سونپا گیا تھا، یا وہ رقم جو ملازم کو حساب دینے کے لیے دی گئی تھی، اس نقصان یا ضیاع کی مقدار سے زیادہ نہیں ہوگی جو آجر کو ملازم کی غفلت یا کوتاہی کے سبب پہنچا ہو، اور یہ کٹوتی اس سے پہلے نہیں کی جا سکتی جب تک کہ ملازم کو کٹوتی کے خلاف اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہ دیا جائے، یا ایسا نہ ہو جیسا کہ کٹوتی کی نوعیت کے مطابق مخصوص طریق کار ہو۔(2) تمام ایسی کٹوتیاں اور ان کی وصولیاں ایک رجسٹر میں ریکارڈ کی جائیں گی جسے آجر ایسی صورت میں رکھے گا جیسا کہ صراحت کی جائے۔

172۔ اداکی گئی سروسز کے لیے کٹوتیاں:۔ملازم کی اجرت سے سروسز کے بدلے کٹوتی نہیں کی جائے گی جب تک کہ رہائشی سہولت، ٹرانسپورٹ، سہولت یا سروسز کو ملازم نے ملازمت کی شرط کے طور پر یا بصورت دیگر قبول نہ کیا ہو، اور ایسی کٹوتی اس قدر سے زیادہ نہیں ہوگی جتنا کہ فراہم کی جانے والی رہائشی سہولت، سہولت یا خدمت کی قیمت ہو، اور کٹوتی کی صورت میں محکمہ کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے مطابق ہوگی۔

173۔ ایڈوانسز کی وصولی کے لیے کٹوتیاں:۔ایڈوانسز کی وصولی کے لیے کٹوتیاں درج ذیل شرائط کے تحت کی جائیں گی:(اے) ملازمت سے قبل دیے گئے ایڈوانس کی وصولی مکمل اجرت کی مدت کی پہلی ادائیگی سے کی جائے گی، لیکن ایسے ایڈوانس کی وصولی نہیں کی جائے گی جو سفر کے اخراجات کے لیے دیے گئے ہوں؛(بی)ایسی اجرت کے ایڈوانس کی وصولی جو ابھی کمائی نہ گئی ہو، ان قواعد کے تابع ہوگی جو حکومت نے اس کے لیے وضع کیے ہوں، جس میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ ایسے ایڈوانس کس حد تک دیے جا سکتے ہیں اور انہیں کن اقساط میں وصول کیا جا سکتا ہے۔

174۔ کوآپریٹو سوسائٹیز، انشورنس اسکیموں اور بچت اسکیموں کے لیے کٹوتیاں:۔کوآپریٹو سوسائٹیز، انشورنس اسکیموں اور بچت اسکیموں کے لیے کٹوتیاں حکومت کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے تابع ہوں گی جیسا کہ حکومت عائد کرے۔

باب 3.4: کام کے اوقات

175۔ باب ہذا کا اطلاق:۔باب ہذا کی دفعات کان کنی کے ملازمین پر لاگو نہیں ہوں گی، جو کہ قانون مائنز 1923 کے تحت چلائے جائیں گے۔

176۔ معمول کے کام کے اوقات:۔(1) معمول کے کام کے اوقات دن میں آٹھ گھنٹے یا ہفتے میں اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوں گے۔(2) سیزنل ادارے کے لیے معمول کے کام کے اوقات دن میں نو گھنٹے یا ہفتے میں پچاس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوں گے۔(3) اس کام کی جگہ کے لیے جہاں تکنیکی وجوہات کی بنا پر دن بھر مسلسل کام کیا جاتا ہو، معمول کے کام کے اوقات ہفتے میں چھپن گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوں گے۔

(4) ایک ملازم جو ہفتے کے ایک یا ایک سے زیادہ کام کے دنوں میں آٹھ گھنٹے سے کم کام کرتا ہے، اُسے اوور ٹائم کی شرح سے ادائیگی کے بغیر ہفتے کے باقی کام کے دنوں میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کا پابند کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ:(اے) روزانہ آٹھ گھنٹے کی حد سے دو گھنٹے سے زیادہ تجاوز نہ ہو؛ اور(بی)ہفتہ وار اڑتالیس گھنٹے کی حد سے تجاوز نہ ہو۔(5) ایک خاتون ملازم، اپنی پیشگی رضامندی سے، رات آٹھ بجے کے بعد کام کر سکتی ہے، بشرطیکہ آجر لازمی طور پر اس کے لیے گھر کی دہلیز تک یا اس کی رہائش کے قریب ترین ممکنہ مقام تک لانے اور لے جانے (پک اینڈ ڈراپ) کی ٹرانسپورٹ سہولت کا انتظام کرے، سوائے اس کے کہ آجر نے کام کی جگہ کے قریب یا اندر ایک علیحدہ ہوسٹل کی سہولت فراہم کی ہو اور آجر اس کے لیے ضروری ٹرانسپورٹ فراہم کرے۔

177۔ لچکدار کام کے انتظامات:۔(1) وہ ملازمین جنہوں نے آجر کے ساتھ کم از کم بارہ ماہ کام کیا ہو، لچکدار کام کے انتظامات کی درخواست کر سکتے ہیں، اور ایسے انتظامات کی مدت ایک معقول حد تک محدود ہو سکتی ہے، اور داخلی کام کے ضوابط اہلیت کی مذکورہ مدت (بارہ ماہ) کو کم کر سکتے ہیں۔(2) آجر کو ذیلی دفعہ (1) میں محولہ لچکدار کام کے انتظامات کی درخواستوں پر معقول مدت میں غور اور جواب دینا ہوگا، دونوں آجر اور ملازم کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور آجر کو کسی بھی درخواست کو مسترد کرنے یا ملتوی کرنے کی وجہ بتانی ہوگی۔(3) جب لچکدار کام کے انتظامات کسی مخصوص مدت کے لیے منظور کیے جائیں تو ملازم اور آجر کے پاس اس انتظام کو طے شدہ مدت ختم ہونے سے پہلے یا ملازم کی درخواست پر جائزہ لینے کا حق ہوگا۔وضاحت: دفعہ ہذاکے مقاصد کے لیے، "لچکدار کام کے انتظامات" سے مراد وہ انتظامات ہیں جن کے تحت ملازمین اپنے کام کے اوقات کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں، بشمول دور دراز سے کام کرنے کے انتظامات، لچکدار کام کے شیڈولز، یا کام کے اوقات میں کمی۔

178۔ رات میں کام:۔(1) رات کے ملازم کی ایک شفٹ کی مدت چوبیس مسلسل گھنٹوں میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتی؛ جہاں یہ آپریشنل وجوہات کی بنا پر ممکن نہ ہو، آجر کو اس طرح سے ہفتہ وار کام کے اوقات تقسیم کرنے ہوں گے کہ شفٹ کی اوسط مدت زیادہ سے زیادہ تیرہ مسلسل ہفتوں کی مدت کے دوران آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔(2) کسی بھی ملازم کو چھ ماہ سے زیادہ رات کا کام کرنے کی نہ تو اجازت دی جائے گی اور نہ ہی اس سے اس کا تقاضا کیا جائے گا، سوائے اس کے کہ اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو آجر چیف انسپکٹر سے تحریری طور پر استثنا کی اجازت حاصل کرے۔(3) آجر کو اس طرح کام کا انتظام کرنا ہوگا کہ جہاں تک ممکن ہو، رات میں کام کرنے والے ملازمین سے رات کے کام پر مشتمل روزانہ کے کام کے دورانیے سے قبل یا اس کے بعد اوور ٹائم لینے سے گریز کیا جائے۔(4) آجر رات میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے کام کی جگہ پر مناسب فرسٹ ایڈ کی سہولت فراہم کرے گا، بشمول اس انتظام کے جس کے تحت اگر ضرورت ہو تو انہیں ایمرجنسی میڈیکل علاج کی جگہ تک فوراً منتقل کیا جا سکے۔(5) اگر کوئی رات کو کام کرنے والا ملازم صحت کی وجہ سے رات کے کام کے لیے موزوں نہ ہو، اور وہ ضلع کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے تصدیق شدہ ہو، تو اسے جب بھی ممکن ہو، اسی قسم کے کام میں منتقل کیا جائے گا جس کے لیے وہ موزوں ہو۔(6) ایک اجتماعی معاہدہ یا داخلی کام کے ضوابط رات کے ملازمین کے لیے کام کے اوقات میں کمی، اضافی اجرت یا اسی طرح کے فوائد کی صورت میں معاوضے فراہم کر سکتا ہے، جبکہ رات کے کام کی نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئے۔

(7) آجر خواتین ملازمین کو رات کے اوقات کے کام سے متبادل فراہم کرے گا:(اے) قبل از پیدائش رخصت سے فوراً پہلے اور بعد از پیدائش رخصت کی مدت کے فوراً بعد، ہر ایک ایک ماہ کی مدت کے لیے؛(بی)اضافی مدت کے لیے جس کے تناظر میں ایک میڈیکل پریکٹیشنر کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا جائے جو بتائے کہ یہ ماں یا بچے کی صحت کے لیے ضروری ہے:(i)حمل کے دوران؛ اور(ii) زچگی کی رخصت مکمل ہونے کے بعد آٹھ ہفتوں کے دوران۔(8) جہاں کوئی ملازم ایسی شفٹ میں کام کرتا ہو جو آدھی رات کے بعد جاری ہو، تو اس ملازم کے لیے اگلا دن اس شفٹ کے اختتام کے بعد سے شروع ہونے والا چوبیس گھنٹوں کا دورانیہ سمجھا جائے گا، اور جو گھنٹے اس نے آدھی رات کے بعد کام کیے ہوں گے وہ پچھلے دن میں شامل کیے جائیں گے:شرط یہ ہے کہ چیف انسپکٹر تحریری طور پر حکم دے سکتے ہیں کہ کسی مخصوص کام کی جگہ یا ملازمین کے مخصوص طبقے کے لیے اگلا دن چوبیس گھنٹوں کا دورانیہ ہوگا جو اس شفٹ کے آغاز سے شروع ہو، اور جو گھنٹے آدھی رات سے پہلے کام کیے گئے ہوں گے وہ اگلے دن کے لیے شمار ہوں گے۔

179۔ اوور ٹائم:۔(1) آجر کسی ملازم سے اوور ٹائم کام کی درخواست کر سکتا ہے بشرطیکہ درج ذیل شرائط کے تابع ہوں:(اے) ملازم اوور ٹائم کام کرنے پر رضامند ہو؛(بی)اوور ٹائم کے اوقات کسی دن میں دو گھنٹے یا ہفتے میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہ ہوں؛ اور(سی)پانچ دن فی ہفتہ کام کرنے والی کام کی جگہوں پر، آجر کسی ملازم سے یومیہ زیادہ سے زیادہ دس گھنٹے تک، اوور ٹائم کی ادائیگی کے بغیر، کام لے سکے گا، بشرطیکہ ہفتہ وار اوقاتِ کار 48 گھنٹوں سے تجاوز نہ کریں، اور یہ انتظام چیف انسپکٹر کی منظوری کے تابع ہوگا۔

(2) اوور ٹائم کی تین اقسام ہوں گی، جو بالترتیب ہوں گی:(اے) عام اوور ٹائم، جو کام کے دن میں کام کی جگہ پر معمول کے اوقات سے زائد کام کیا جائے؛(بی)ہفتہ وار آرام کے دن کا اوور ٹائم، جو ملازم ہفتہ وار آرام کے دن کام کرے؛(سی)عوامی تعطیلات کا اوور ٹائم، جو ملازم عوامی تعطیلات پر کام کرے۔

(3) ذیلی دفعہ (2) میں بیان کردہ اوور ٹائم کی اقسام کے لیے ملازم کو قابل ادا اوور ٹائم کی شرح درج ذیل ہوگی:(اے) ایک ملازم ہر عام اوور ٹائم کے گھنٹے کے لیے دو گنا (200 فیصد) معمول کی فی گھنٹہ اجرت کی شرح پر ادائیگی وصول کرے گا؛(بی)ایک ملازم ہر ہفتہ وار آرام کے دن کے کام کے گھنٹے کے لیے دو گنا (200 فیصد) معمول کی فی گھنٹہ اجرت کی شرح پر ادائیگی وصول کرے گا:شرط یہ ہے کہ آجر اور ملازم اس بات پر رضامند ہو سکتے ہیں کہ وہ ہفتہ وار آرام کے دن پر کام کرنے کے تین دن کے اندر متبادل آرام کا دن دیں یا اوور ٹائم کی شرح پر ادائیگی کریں؛(سی)ایک ملازم ہر عوامی تعطیلات کے کام کے گھنٹے کے لیے تین گنا (300 فیصد) معمول کی فی گھنٹہ اجرت کی شرح پر ادائیگی وصول کرے گا:مگر شرط یہ ہے کہ آجر اور ملازم اس بات پر رضامند ہو سکتے ہیں کہ وہ عوامی تعطیلات پر کام کرنے کے سات دن کے اندر متبادل چھٹی کا دن اور معاوضاتی آرام کا دن، دونوں دیں یا اوور ٹائم کی شرح پر ادائیگی کریں؛مزید شرط یہ ہے کہ ملازم ہر مہینے کم از کم دو ہفتہ وار آرام کے دنوں اور ہر سال اعلان کردہ عوامی تعطیلات میں سے کم از کم نصف کے بدلے معاوضاتی آرام کے دن حاصل کرے گا۔

180۔ وقفہ آرام:۔آجر کو ایک ملازم کو جو مسلسل چھ گھنٹے سے زیادہ کام کرتا ہو، کم از کم ایک گھنٹے کا آرام کا وقفہ دینا ہوگا۔

181۔ روزانہ آرام کی مدت:۔آجر کو ایک ملازم کو روزانہ کام ختم ہونے اور دوبارہ شروع کرنے کے درمیان کم از کم بارہ گھنٹے کا مسلسل آرام کا وقفہ دینا ہوگا۔

182۔ ہفتہ وار آرام کی مدت:۔آجر کو ایک ملازم کو کم از کم چوبیس گھنٹے کا مسلسل ہفتہ وار آرام کا وقفہ دینا ہوگا، جس میں، جب تک تحریری طور پر بصورتِ دیگر طے نہ ہو، اتوار شامل ہو سکتا ہے:شرط یہ ہے کہ نوجوان افراد کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہفتہ وار دو دن کا آرام دیا جا سکتا ہے۔

183۔ عوامی تعطیلات:۔آجر کو ایک ملازم کو حکومت کی طرف سے اعلان کردہ تمام سرکاری تعطیلات پر تنخواہ کے ساتھ تعطیلات دینی ہوںگی۔

184۔ کام کے اوقات کا اوسط:۔(1) ایک اجتماعی معاہدہ معمول کے کام کے اوقات اور اوور ٹائم کے اوسط کو تیرہ ہفتوں کے عرصے تک مقرر کر سکتا ہے، بشرطیکہ اوور ٹائم کے اوقات کسی دن میں دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہوں اور اوور ٹائم سمیت زیادہ سے زیادہ کام کے اوقات کسی دن میں دس گھنٹے سے زیادہ نہ ہوں۔(2) آجر کسی ملازم کو جو اجتماعی معاہدے کے تحت پابند ہو، متفقہ مدت کے دوران اوسطاً ہفتے میں چھپن گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی اجازت یا تقاضا نہیں کر سکتا۔

185۔ ایمرجنسی کی صورتوں میں کام کی حد سے زیادہ کام:۔ملازمین کو درج ذیل صورتوں میں معمول کے کام کے اوقات اور اوور ٹائم کے کام کی حدود سے زیادہ کام کرنے کا پابند کیا جا سکتا ہے، لیکن صرف اتنی مقدار میں جو ایمرجنسی کو پورا کرنے یا اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہو جس کے لیے استثنا منظور کیا گیا ہو:(اے) ایک حقیقی یا قریب آنے والی آفت یا حادثہ کی صورت میں تاکہ زندگی یا صحت کو خطرے سے بچایا جا سکے، یا جائیداد کو سنجیدہ نقصان سے بچایا جا سکے، یا کام کی جگہ کی مسلسل کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے؛ یا(بی)کام کی جگہ کو برقرار رکھنے کے لیے پلانٹ، آلات، مشینری یا دیگر املاک پر فوری طور پر درکار کام کی صورت میں، اوور ٹائم کی ادائیگی سے مشروط؛ یا(سی)خراب ہونے والی اشیاء کو بچانے کے لیے کام، اوور ٹائم کی ادائیگی کے ساتھ۔

186۔ مخصوص اقسام کے افراد سے متعلق استثنیٰ دینے کا اختیار:۔ (1) حکومت قواعد وضع کر سکتی ہے جن میں اُن افراد کی نشاندہی کی جائے گی جو کسی کام کی جگہ پر نگرانی یا انتظامی عہدوں پر فائز ہوں یا کسی خفیہ نوعیت کی ملازمت پر مامور ہوں، اور باب ہذا کی بعض دفعات کا اطلاق ایسے افراد پر نہیں ہوگا۔

(2) حکومت، سماجی شراکت داروں سے مشاورت کے بعد، بالغ ملازمین کے لیے قواعد وضع کر سکتی ہے جن کے تحت درج ذیل ملازمتوں سے وابستہ افراد کو باب ہذاکی بعض دفعات سے، مصرحہ حدود اور شرائط کے تحت، استثنیٰ دیا جا سکے:(اے) ایسے ملازمین جو ہنگامی مرمت کے کاموں میں مصروف ہوں، اُنہیں روزانہ اور ہفتہ وار کام کے اوقات، وقفہ آرام، اور روزانہ و ہفتہ وار آرام کی مدت سے متعلق دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؛(بی) ایسے ملازمین جو تیاری یا تکمیلی نوعیت کے ایسے کاموں میں مصروف ہوں جو لازماً کام کی جگہ کے عمومی اوقات کار کے باہر انجام دینا ضروری ہوں، اُنہیں مذکورہ دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؛(سی) ایسے ملازمین جن کا کام لازماً اتنا منقطع نوعیت کا ہو کہ ڈیوٹی کے دوران اُن کے غیر فعال اوقات، باب ہذامیں دیے گئے وقفہ آرام سے زیادہ ہوں، اُنہیں مذکورہ دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؛

(ڈی) ایسے ملازمین جو کسی تکنیکی وجہ سے مسلسل 24 گھنٹے کام کرنے والے عمل میں مصروف ہوں، اُنہیں مذکورہ دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؛

(ای) ایسے ملازمین جو روزمرہ کی ضروری اشیاء کی تیاری یا فراہمی میں مصروف ہوں، اُنہیں ہفتہ وار آرام سے متعلق دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؛(ایف) ایسے ملازمین جو کسی ایسے پیداواری عمل میں مصروف ہوں جو صرف مخصوص موسموں میں ہی ممکن ہو، اُنہیں ہفتہ وار آرام سے متعلق دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؛(جی)ایسے ملازمین جو کسی ایسے پیداواری عمل میں مصروف ہوں جو قدرتی عوامل کے غیر متوقع اثرات پر منحصر ہو، اُنہیں وقفہ آرام اور ہفتہ وار آرام سے متعلق دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے؛(ایچ)ایسے ملازمین جو انجن رومز یا بوائلر ہاؤسز میں کام کرتے ہوں، اُنہیں ہفتہ وار آرام سے متعلق دفعات سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔

(3) حکومت تمام اقسام کے ملازمین کے لیے ہفتہ وار کام کے اوقات کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرے گی۔

187۔ مخصوص اقسام کے اداروں سے متعلق استثنیٰ دینے کا اختیار:۔ (1) اگر چیف انسپکٹر اس بات سے مطمئن ہو جائے کہ کسی ادارے میں کیے جانے والے کام کی نوعیت یا دیگر حالات کے باعث کسی ملازم کے کام کے اوقات پہلے سے مقرر کرنا غیر مناسب ہے، تو وہ تحریری حکم کے ذریعے باب ہذاکی ان دفعات میں نرمی یا ترمیم کر سکتا ہے جو کام کے اوقات سے متعلق نوٹس دینے سے متعلق ہوں، جیسا کہ وہ مناسب سمجھے۔

(2) چیف انسپکٹر تحریری حکم کے ذریعے، کسی ادارے میں کسی ایک یا تمام بالغ ملازمین کو، کام کے غیر معمولی دباؤ سے نمٹنے کے لیے، باب ہذاکی روزانہ اور ہفتہ وار کام کے اوقات، وقفہ آرام، روزانہ و ہفتہ وار آرام کی مدت سے متعلق کسی ایک یا تمام دفعات سے، ایسی شرائط کے تحت جنہیں وہ موزوں سمجھے، مستثنیٰ قرار دے سکتا ہے۔

(3) ذیلی دفعہ (2) کے تحت دیا گیا حکم اُس تاریخ سے، جب آجر کو اس کا نوٹس دیا جائے، زیادہ سے زیادہ دو ماہ کی مدت تک مؤثر رہے گا، جیسا کہ حکم میں بیان کیا گیا ہو:شرط یہ ہے کہ اگر چیف انسپکٹر کی رائے میں عوامی مفاد کا تقاضا ہو، تو وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے ایسے کسی حکم کے اطلاق کی مدت کو چھ (6) ماہ سے زیادہ نہ ہونے والی مدت تک بڑھا سکتا ہے، جیسا کہ نوٹیفکیشن میں بیان کیا جائے۔

(4) چیف انسپکٹر یہ یقینی بنائے گا کہ دیا گیا حکم باب 2.5 میں بیان کردہ صحت و سلامتی کی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہو۔

(5) دفعہ ہذاکے تحت دیا گیا کوئی بھی استثنیٰ، کوڈ کے تحت مصرحہ اوور ٹائم کی ادائیگی سے مشروط ہو گا۔

188۔ کام کے اوقات کا نوٹس:۔ (1) ہر آجر اس بات کا پابند ہو گا کہ وہ ان اوقات کا نوٹس واضح طور پر آویزاں کرے جن میں کام شروع اور ختم ہوتا ہے، وقفہ آرام، روزانہ آرام کا دورانیہ، اور ہفتہ وار آرام کے اوقات، اور یہ نوٹس انگریزی، اردو یا ایسی زبان میں ہونا چاہیے جو اکثریتی ملازمین سمجھتے ہوں۔ یہ نوٹس اُس جگہ پر آویزاں کیا جائے گا جو ہر وقت تمام ملازمین کی رسائی میں ہو۔ جہاں ضرورت ہو، اس نوٹس میں مختلف ملازمین یا گروپس کے لیے کام کے اوقات میں فرق بھی واضح طور پر درج ہونا چاہیے، اور یہ نوٹس میڈیا وال کے ذریعے بھی آویزاں کیا جا سکتا ہے۔

(2) مذکورہ ذیلی دفعہ (1) کے تحت نوٹس کی ایک نقل کاغذ پر یا برقی ذرائع کے ذریعے انسپکٹر کو دو نقلوں میں اُس دن سے پہلے بھیجی جائے گی جس دن کام کا آغاز ہونا ہے۔ اگر کام کے نظام میں ایسی کوئی مجوزہ تبدیلی ہو جو نوٹس میں ترمیم کو لازم بنائے، تو وہ تبدیلی انسپکٹر کو دو نقلوں میں مطلع کی جائے گی، اور، جب تک انسپکٹر کی پیشگی اجازت نہ ملے، ایسی کوئی تبدیلی اُس وقت تک نافذ نہیں کی جا سکے گی جب تک پچھلی تبدیلی کے کم از کم ایک ہفتے کا عرصہ نہ گزر چکا ہو۔

189۔ دکانوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات:۔ (1) کوئی بھی دکان کسی بھی دن رات 8:00 بجے کے بعد کھلی نہیں رہ سکے گی:مگرشرط یہ ہے کہ اگر کوئی گاہک اُس وقت دکان میں خریداری کر رہا ہو یا اپنی باری کے انتظار میں ہو، تو اُسے اس وقت کے بعد فوراً آنے والے تیس منٹ کے اندر سامان فراہم کیا جا سکتا ہے؛مزید شرط یہ ہےکہ چیف انسپکٹر سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفیکیشن کوئی اور وقت مقرر کر سکتا ہے، جس کے بعد یا جس سے پہلے، عمومی طور پر یا کسی مخصوص قسم کی دکانیں کھلی نہ رہ سکیں۔

(2) ہر آجر اس بات کا پابند ہو گا کہ وہ دکان کے کسی نمایاں مقام پر ایک بورڈ آویزاں کرے جس میں اُن اوقات کی وضاحت ہو جن کے دوران دکان کھلی رہے گی۔

190۔ شفٹ ورک:۔ (1) شفٹ ورک سے مراد کام کو اس طریقے سے منظم کرنا ہے جس میں ایک ہی ملازمت اور ایک ہی جگہ پر کام کرنے والے ملازمین کو کام کے اوقات کے ایک طے شدہ نظام کے مطابق تبدیل کیا جائے، چاہے یہ نظام تسلسل کے ساتھ جاری ہو یا درمیان میں وقفے کے ساتھ ہو۔

(2) شفٹ ملازم سے مراد وہ ملازم ہے جو کسی ایسے آجر کے ساتھ کام کرتا ہو جس کا نظام شفٹوں میں ہو، اور جو ایک ہفتے یا ایک مہینے کے دوران ایک مخصوص کام کے اوقات کے پیٹرن کے تحت مختلف شفٹوں میں کام کرتا ہو۔

(3) اگر شفٹوں کا نظام ایسا ہو جس میں رات کی شفٹ شامل ہو، تو یہ یقینی بنایا جائے گا کہ شفٹوں میں تبدیلی اس طرح ہو کہ ملازمین مسلسل راتوں میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ تک کام کریں۔

(4) آجر کی صوابدید پر ایک جگہ پر ایک سے زیادہ شفٹیں چلائی جا سکتی ہیں۔

(5) اگر ایک سے زیادہ شفٹوں میں کام کیا جائے، تو ملازمین ایک شفٹ سے دوسری شفٹ میں منتقل کیے جانے کے پابند ہوں گے۔

(6) جو ملازم شفٹ ورک انجام دیتا ہو، اُسے نئی شفٹ شروع کرنے سے قبل کم از کم بارہ گھنٹے کا وقفہ آرام دیا جائے گا۔

191۔ اوورلیپنگ شفٹس کا کنٹرول:۔ (1) حکومت قواعد وضع کر سکتی ہے جن کے تحت یہ پابندی عائد کی جا سکتی ہے کہ کام اس طرح کے شفٹ سسٹم کے تحت نہ کیا جائے جس میں ایک ہی نوعیت کا کام ایک ہی وقت میں ایک سے زائد گروہوں کے ذریعے انجام دیا جائے، سوائے اس کے کہ چیف انسپکٹر کی اجازت سے اور ایسے شرائط کے تابع، جیسا کہ وہ عمومی طور پر یا کسی مخصوص کام کی جگہ کے لیے عائد کرے۔

(2) جہاں کوئی ملازم ایسی شفٹ میں کام کرتا ہو جو آدھی رات کے بعد تک جاری رہتی ہو، تو ایسے ملازم کے لیے اگلا دن وہ چوبیس گھنٹوں کا دورانیہ تصور کیا جائے گا جو اُس شفٹ کے اختتام سے شروع ہو گا، اور آدھی رات کے بعد کیے گئے کام کے گھنٹے پچھلے دن کے شمار میں آئیں گے۔

(3) چیف انسپکٹر تحریری حکم کے ذریعے یہ ہدایت دے سکتا ہے کہ کسی مخصوص کام کی جگہ یا اس میں موجود کسی مخصوص درجہ کے ملازمین کے لیے اگلا دن وہ چوبیس گھنٹوں کا دورانیہ تصور کیا جائے گا جو شفٹ کے آغاز سے شروع ہو، اور آدھی رات سے پہلے کام کیے گئے گھنٹے اگلے دن کے شمار میں آئیں گے۔

باب 3.5: – والدین کی رخصت کے علاوہ دیگر رخصتیں

192۔ سالانہ رخصت:۔ (1) ہر ملازم کو بارہ ماہ کی مسلسل ملازمت کے بعد تنخواہ کے ساتھ اٹھارہ (18) دن (کیلنڈر ڈیز )کی سالانہ چھٹی کا حق حاصل ہوگا، اور سالانہ چھٹی کا کیلنڈر ہر سال یکم جنوری سے شروع ہو کر 31 دسمبر کو ختم ہوگا، قطع نظر اس کے کہ معاہدۂ ملازمت کس تاریخ سے شروع ہوا ہو:مگرشرط یہ ہے کہ ملازم اپنے ملازمت کے دورانیے کے تناسب سے بارہ ماہ کی تکمیل سے قبل بھی سالانہ چھٹی کی درخواست دینے کا اہل ہو سکتا ہے۔

(2) اگر کسی ملازم کی ملازمت کا دورانیہ کسی کیلنڈر ایئر میں مکمل اہلیت کے مطابق نہیں ہے جیسا کہ ذیلی دفعہ (1) میں بیان کیا گیا ہے، تو وہ اس سال کے دوران اپنی ملازمت کے تناسب سے تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹی کا اہل ہوگا۔

(3) کسی ملازم کی مسلسل ملازمت کو منقطع تصور نہیں کیا جائے گا اگر وہ کام سے غیر حاضر ہو:(اے) کوڈ، کسی دیگر قانون یا اجتماعی معاہدے کے مطابق سالانہ، زچگی، بیماری یا کوئی دیگر چھٹی لینے کی وجہ سے؛(بی) ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ادارہ سے بیماری، چوٹ، زچگی یا کسی بھی دوسرے فائدے کے تحت کوئی فائدہ حاصل کرنے کے دوران؛(سی)پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کی مطابقت میں معطل ہونے کی صورت میں؛(ڈی) لاک آؤٹ کی صورت میں، خواہ وہ قانونی ہو یا غیر قانونی؛(ای) ایسی ہڑتال جسے غیر قانونی ہڑتال قرار نہ دیا گیا ہو؛

(ایف) کام کی بندش کے باعث وقفے وقفے سے ہونے والی لے آف (عارضی برطرفی) کی صورت میں، جس کا مجموعی عرصہ تیس دن سے زیادہ نہ ہو۔

(4) اگر کسی ملازم کی ملازمت کا دورانیہ کسی کیلنڈر ایئر میں مکمل اہلیت کے مطابق نہیں ہے جیسا کہ ذیلی دفعہ (1) میں بیان کیا گیا ہے، تو وہ اس سال کے دوران اپنی ملازمت کے تناسب سے تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹی کا اہل ہوگا۔

(5) ملازم کو غیر استعمال شدہ چھٹی جمع کرنے کا حق حاصل ہوگا، بشرطیکہ جب کسی ملازم کے ذمہ چھٹیوں کی کل تعداد تیس دن تک پہنچ جائے تو اس کے بعد مزید چھٹیوں کا جمع کرنا یا اضافہ کرنا جائز نہیں ہوگا، اور تیس دن سے زائد سالانہ چھٹیوں کے بدلے میں آجر ملازم کو مکمل تنخواہ ادا کرے گا۔

(6) سرکاری تعطیلات، چاہے وہ سالانہ چھٹی کے دوران آئیں یا نہ آئیں، انہیں سالانہ چھٹی کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا۔

(7) آجر کسی ملازم کو، جو ایک ہفتے سے زائد چھٹی کا اہل ہو، اجازت دے سکتا ہے کہ وہ یہ چھٹی دو حصوں میں لے، بشرطیکہ ہر حصہ کم از کم ایک ہفتے کا ہو۔

(8) سالانہ چھٹی کسی بھی قسم کی اتفاقی چھٹی، بیماری کی چھٹی، یا زچگی کی چھٹی کے ساتھ ایک ساتھ نہیں لی جا سکتی۔

(9) کسی بھی فریق کی جانب سے معاہدۂ ملازمت ختم کرنے کے نوٹس کی مدت سالانہ چھٹی میں شمار نہیں کیا جائے گا۔

(10) ہر کیلنڈر ایئر کے آغاز پر، آجر ایسے تمام ملازمین کے لیے سالانہ چھٹی کا کیلنڈر بنائے گا جنہوں نے آجر کے ساتھ کم از کم ایک ماہ کام کیا ہو، اور سالانہ چھٹی ایسے وقت دی جائے گی جو کام کی ضروریات اور ملازم کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور متعلقہ ملازم سے مشاورت کے بعد آجر کی جانب سے مقرر کیا جائے گا۔

(11) آجر ہر ملازم کو دی جانے والی سالانہ چھٹی اور اس عرصہ کے دوران ادا کی جانے والی تنخواہ کا درست تحریری ریکارڈ رکھے گا، اور یہ ریکارڈ انسپکٹر، ملازم یا ملازمین کے نمائندے کے مطالبے پر معائنہ کے لیے دستیاب ہوگا، اور متعلقہ ملازم سے متعلقہ حصے کی تحریری نقل بھی فراہم کی جائے گی۔

(12) وہ ملازم جس نے سالانہ چھٹی لی ہو، اسے اس چھٹی کی مدت کے لیے آخری بار حاصل کردہ اوسط یومیہ تنخواہ کے برابر تنخواہ دی جائے گی، تاہم اس میں اوور ٹائم کی کمائی شامل نہیں ہوگی:مگر شرط یہ ہے کہ جو ملازم کم از کم سات دن کی چھٹی لے رہا ہو، اسے پیشگی ادائیگی کی جائے گی؛ ایسی صورت میں آجر چھٹی کے آغاز سے پہلے ادائیگی کرے گا۔

(13) ملازم کو اپنی ملازمت کے خاتمے پر وہ رقم ادا کی جائے گی جو اس کے ذمہ موجود کسی بھی ایسی سالانہ چھٹی کے لیے بنتی ہو جو اس نے ابھی تک نہ لی ہو، اور یہ ادائیگی جزوی مدت ملازمت یعنی ایک سال سے کم کے لیے تناسب سے حساب کر کے کی جائے گی۔

(14) سالانہ چھٹی کے حق سے دستبرداری یا کسی بھی معاوضے یا کسی بھی اور طریقے سے چھٹی چھوڑنے کا کوئی بھی معاہدہ کالعدم، غیر مؤثر اور ممنوع ہوگا۔

193۔ بیماری کی رخصت:۔ (1) ہر ملازم کو ایک کیلنڈر ایئر میں آٹھ یوم کی بیماری کی رخصت مکمل تنخواہ کے ساتھ حاصل ہوگی:مگر شرط یہ ہے کہ سیزنل ملازم کو ادا شدہ بیماری کی رخصت ایسے دنوں کے تناسب سے دی جائے گی جتنے مہینے وہ کیلنڈر ایئر میں کام کرتا ہے۔

(2) ملازم بیماری کی صورت میں آجر کو جتنی جلدی ممکن ہو مطلع کرے گا، اور دو دن سے زائد بیماری کی رخصت صرف اسی صورت میں دی جائے گی جب کسی رجسٹرڈ طبی معالج کی جانب سے معائنہ کرنے کے بعد یہ تصدیق کی جائے کہ ملازم بیمار ہے اور اُسے علاج یا شفایابی کے لیے اتنے عرصے کی رخصت درکار ہے جتنا معالج کے سرٹیفکیٹ میں درج ہو۔

(3) ملازم بیماری کی رخصت کو جمع کرنے کا اہل ہوگا، بشرطیکہ جب ملازم کے ذمے واجب الادا بیماری کی رخصت کل سولہ یوم تک پہنچ جائے تو اس کے بعد مزید رخصت جمع کرنے یا اس میں اضافہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔

194۔ قرنطینہ کی رخصت:۔ (1) اگر کوئی ملازم کسی مقامی، علاقائی یا عالمی وبا کے نتیجے میں کسی متعدی مرض میں مبتلا ہو، اور اس کی موجودگی کام کی جگہ پر دوسروں کی صحت کے لیے خطرہ سمجھی جائے، تو اس ملازم کو ایک کیلنڈر ایئر میں زیادہ سے زیادہ چودہ یوم کی تنخواہ کے ساتھ قرنطینہ کی رخصت دی جائے گی:

مگر شرط یہ ہے کہ یہ دفعہ ایسے ملازمین پر لاگو نہیں ہوگی جو آرڈیننس صوبائی ملازمین سوشل سیکیورٹی 1965 (آرڈیننس نمبر10بابت 1965) یا اس وقت نافذ العمل کسی اور قانون کے تحت تحفظ یافتہ ہوں۔

(2) قرنطینہ کی رخصت صرف متعلقہ ضلع کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی سفارشات پر دی جائے گی۔

195۔ اتفاقیہ رخصت:۔ (1) ہر ملازم کو ایک کیلنڈر ایئر میں دس یوم کی اتفاقیہ رخصت مکمل تنخواہ کے ساتھ حاصل ہوگی، اور یہ رخصت عام طور پر ایک وقت میں تین یوم سے زیادہ نہیں دی جائے گی، نیز یہ رخصت جمع نہیں کی جا سکے گی۔

(2) اتفاقیہ رخصت کسی بھی دوسری قسم کی رخصت کے ساتھ ایک ہی وقت میں نہیں لی جا سکتی۔

(3) سیزنل ملازم کو ادا شدہ اتفاقیہ رخصت ایسے دنوں کے تناسب سے دی جائے گی جتنے مہینے وہ کیلنڈر ایئر میں کام کرتا ہے۔

196۔ عدت کی رخصت:۔ (1) جب کسی خاتون ملازم کے شوہر کا انتقال ہو جائے، تو ایسی ملازمہ اپنے عقیدہ کے مطابق عدت کی مدت کے لیے مکمل تنخواہ کے ساتھ عدت کی رخصت کی حقدار ہوگی۔

(2) عدت کی رخصت کو پنجاب لیبر کوڈکے تحت دی جانے والی کسی اور رخصت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔

(3) ادا شدہ عدت کی رخصت کسی بھی صورت میں 130 دن سے زیادہ نہیں ہوگی۔

(4) دفعہ ہذا ایسے ملازم پر لاگو نہیں ہوگی جو آرڈیننس صوبائی ملازمین سوشل سیکیورٹی 1965 (آرڈیننس نمبر10 بابت 1965) یا فی الوقت نافذ العمل کسی اور قانون کے تحت تحفظ یافتہ ہو۔

باب 3.6 – والدین کی رخصتیں

197۔ زچگی کی رخصت:۔ (1) ہر خاتون ملازمہ کو اس کی اوسط ماہانہ تنخواہ کے مطابق درج ذیل اَدوار کے دوران تنخواہ کے ساتھ زچگی کی رخصت کا حق حاصل ہوگا:(اے) بچے کی پیدائش سے فوراً پہلے کے چھ ہفتے کی قبل از پیدائش رخصت، جن میں بچے کی پیدائش کا دن بھی شامل ہو؛(بی) بچے کی پیدائش کے فوراً بعد کے آٹھ ہفتے کی بعد از پیدائش رخصت، چاہے بچہ زندہ پیدا ہوا ہو یا مردہ، جن میں سے چھ ہفتے کی رخصت لازمی ہوگی؛(سی) ایسی صورت میں ایک ہفتے کی اضافی رخصت جب کسی طبی پیچیدگی کے باعث ماں یا بچے کی جان کو خطرہ ہو، بشرطیکہ طبی معالج کی تصدیق موجود ہو؛ اور(ڈی) اسقاط حمل یا حمل کی طبی بنیاد پر ختم کیے جانے کی صورت میں چار ہفتے کی رخصت، بشرطیکہ طبی معالج کی تصدیق موجود ہو:مگرشرط یہ ہے کہ خاتون ملازمہ کو زچگی کا فائدہ صرف اس صورت میں حاصل ہوگا جب وہ متوقع زچگی سے کم از کم چھ ماہ قبل سے مسلسل ملازمت میں ہو۔(2) اگر بچے کی پیدائش وقت سے پہلے ہو جائے، تو استعمال نہ کی گئی قبل از پیدائش رخصت بعد از پیدائش مدت میں شامل کر دی جائے گی؛ اور اگر پیدائش متوقع وقت کے بعد ہو، تو بعد از پیدائش رخصت کسی صورت میں چھ ہفتوں سے کم نہ ہوگی، اور قبل از پیدائش رخصت کو مناسب حد تک بڑھایا جائے گا۔(3) حاملہ ملازمہ زچگی کی رخصت سے پہلے متوقع تاریخِ زچگی کا طبی معالج کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ اور تحریری اطلاع آجر کو فراہم کرے گی، اور زچگی سے واپسی پر اصل تاریخِ زچگی کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی جمع کروائے گی۔(4) زچگی کا معاوضہ جو آجر کی جانب سے ادا کیا جانا ہے، براہِ راست ملازمہ کے بینک اکاؤنٹ میں ماہانہ تنخواہ کے طریق کار کے مطابق، ماہ بہ ماہ ادا کیا جائے گا۔(5) اگر خاتون ملازمہ بچے کی پیدائش سے پہلے وفات پا جائے، تو آجر صرف اس تاریخ تک کی مدت کے لیے ذمہ دار ہوگا جس دن تک ملازمہ زندہ رہی، بشرطیکہ اس سے زائد کوئی ادائیگی کی گئی ہو تو وہ رقم اس کے ورثاء سے واپس نہیں لی جائے گی۔(6) اگر خاتون ملازمہ بچے کی پیدائش کے دن یا بعد از پیدائش رخصت کے دوران وفات پا جائے، تو آجر کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی، اور وہ مکمل زچگی کا فائدہ ملازمہ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرے گا۔(7) آجر، کسی بھی خاتون ملازمہ کو دورانِ حمل یاذیلی دفعہ (1) کے تحت دی گئی رخصت کے دوران یا زچگی کے بعد واپسی کے چار ماہ کے اندر ملازمت سے برخاست نہیں کرے گا، الا یہ کہ برخاستگی کی وجہ حمل یا بچے کی پیدائش اور اس کے اثرات یا دودھ پلانے کے عمل سے غیر متعلق ہو۔(8) زچگی کی رخصت کے اختتام پر خاتون ملازمہ کو وہی ملازمت دوبارہ دی جائے گی جو وہ زچگی سے پہلے انجام دے رہی تھی، یا پھر ایسی کوئی مناسب ملازمت دی جائے گی جس کی شرائط و ضوابط اس ملازمت سے کم نہ ہوں۔(9) کوئی آجر حاملہ ملازمہ یا دودھ پلانے والی ملازمہ کو ایسا کام کرنے کے لیے مجبور یا اجازت نہیں دے گا جو اس کی یا اس کے بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔(10) اگر کوئی خاتون ملازمہ ایسا کام انجام دے رہی ہو جو اس یا اس کے بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو، تو آجر اسے، اگر ممکن ہو، مناسب متبادل کام فراہم کرے گا، جس کی شرائط ملازمت کی موجودہ شرائط سے کم نہ ہوں۔(11) آجر کسی حاملہ ملازمہ کو اس کی متوقع زچگی کی تاریخ سے دو ماہ قبل اضافی اوقاتِ کار پر کام کرنے کے لیے مجبور نہیں کرے گا۔(12) آجر کسی حاملہ ملازمہ کو، قبل از پیدائش رخصت کی مدت سے فوراً پہلے کے ایک ماہ اور بعد از پیدائش رخصت کی مدت کے فوراً بعد کے ایک ماہ کے دوران، ایسا کام کرنے کا نہیں کہے گا جو جسمانی طور پر سخت ہو، زیادہ کھڑے رہنے کا متقاضی ہو، یا طبی معالج کی رائے کے مطابق صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہو۔(13) ہر وہ خاتون ملازمہ جو بچے کی پیدائش کے بعد کام پر واپس آئے، اسے اس کو دیے گئے آرام کے وقفے کے علاوہ، روزمرہ کے کام کے دوران دو ادا شدہ وقفے، ہر ایک تیس منٹ کا، دودھ پلانے کے لیے دیے جائیں گے، جب تک بچہ بارہ ماہ کا نہ ہو جائے:مگر شرط یہ ہے کہ یہ وقفے اس وقت دستیاب ہوں جب کام کی جگہ پر یا اس کے قریب مناسب ڈے کیئر سہولت موجود ہو؛مزیدشرط یہ ہے کہ یہ وقفے کام کے وقت میں شمار ہوں گے۔(14) جہاں چھوٹے کاروباروں کاکلسٹرہو، وہاں متعدد آجر مشترکہ طور پر ڈے کیئر سہولت کا بندوبست کر سکتے ہیں، یا اپنے خرچ پر 500 میٹر کے دائرے میں کسی نجی ڈے کیئر مرکز کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔(15) کوئی آجر کسی بھی فرد سے حمل، ازدواجی حیثیت یا خاندانی ذمہ داریوں کے متعلق معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ ملازمت تک رسائی کے لیے نہیں کرے گا، سوائے ان صورتوں کے جہاں ملازمہ کو ایسے حالات میں کام کرنا ہو جو حمل پر منفی اثر ڈال سکتے ہوں، یا ماں یا بچے کی صحت یا زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہوں۔(16) کان کن خواتین کے لیے زچگی کی رخصت اور اس سے متعلق شرائط و فوائد کا تعین قانون مائنز میٹرنٹی بینیفٹ 1941 (19 بابت 1941) کے تحت کیاجائے گا۔

198۔ پیٹرنٹی رخصت:۔ (1) ہر مرد ملازم کو اپنے بچے کی پیدائش کے دن یا اس سے فوراً قبل شروع ہونے والی مکمل تنخواہ کے ساتھ سات (7)دن (کیلنڈرڈیز)کی پیٹرنٹی یا پدری رخصت دی جائے گی۔

(2) اگر بچے کی پیدائش کے وقت اس مرد ملازم کے دو یا دو سے زائد زندہ بچے موجود ہوں، تو اسے پیٹرنٹی رخصت نہیں دی جائے گی؛ ایسی صورت میں وہ کوئی اور دستیاب رخصت حاصل کر سکتا ہے جس کا وہ اہل ہو۔

باب 3.7 – شاپ اسٹیورڈز اور ورکس کونسلز

199۔ شاپ اسٹیورڈز:۔ (1) ہر ایسے ادارے میں جہاں تیس یا اس سے زیادہ کارکن ملازمت پر ہوں، ادارے کے کسی شاپ، سیکشن یا شعبہ میں ورکرز میں سے شاپ اسٹیورڈزمقرر کیے جائیں گے:(اے) اگر ادارے میں کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ (سی بی اے) موجود ہو، تو شاپ اسٹیورڈز اسی کی طرف سے نامزد کیے جائیں گے؛(بی) اگر ادارے میں کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود نہ ہو، تو شاپ اسٹیورڈز مقررہ طریقے سے منعقد کی جانے والی خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کیے جائیں گے۔(2) آجر اس انتخاب کے انعقاد کے لیے ادارے میں تمام ضروری سہولیات فراہم کرے گاجیساکہ ذیلی دفعہ (1) کے تحت بیلٹ کے انعقاد کے لیے درکار ہوں، لیکن ووٹنگ میں نہ تو مداخلت کرے گا اور نہ ہی کسی بھی طرح اس پر اثر انداز ہوگا۔

(3) شاپ اسٹیورڈ اپنی نامزدگی یا انتخاب کی تاریخ سے دو سال کے لیے عہدے پر فائز رہے گا۔(4) اگر شاپ اسٹیورڈزکے انتخاب کے متعلق کوئی تنازعہ پیدا ہو، تو وہ رجسٹرار کو بھیجا جائے گا، اور رجسٹرار کا فیصلہ حتمی اور تمام فریقین کے لیے لازم ہوگا۔(5) شاپ اسٹیورڈ ورکرز اور آجر کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے گا، دکان، سیکشن یا شعبہ میں جسمانی حالاتِ کار اور پیداوار میں بہتری کے انتظامات میں مدد دے گا، اور ورکرز کو ان کے کام سے متعلق مسائل یا ایسے کسی انفرادی شکوے کے حل میں مدد دے گا جو دفعہ 335 کے تحت ہو۔

200۔ ورکس کونسل:۔ (1) ہر ایسے ادارے میں جہاں بیس یا زیادہ کارکن ملازمت پر ہوں، ادارے کی انتظامیہ ایک ورکس کونسل قائم کرے گی، جو کم از کم چار اراکین پر مشتمل ہوگی، جن میں ورکرز کی شراکت 50 فیصد ہوگی، اور کونسل کا کنوینر (سربراہ) انتظامیہ کی طرف سے ہوگا:مگر شرط یہ ہےکہ ورکرز کے نمائندوں میں سے کم از کم ایک نمائندہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندہ ہوگا، جو سیفٹی اینڈ ہیلتھ نمائندوں میں سے منتخب کیا جائے گا؛

مزید شرط یہ ہے کہ اگر ادارے میں پچاس یا اس سے زیادہ کارکن ہوں، تو کونسل آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی۔

(2) کونسل میں آجر کا نمائندہ ڈائریکٹرز یا ان کے نامزد کردہ افراد یا سینئر ایگزیکٹوز میں سے ہوگا، اور ورکرز کے نمائندے وہ کارکن ہوں گے جو اسی ادارے میں ملازم ہوں اور:(اے) اگر ادارے میں اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود ہو، تو وہ انہیں نامزد کرے گا؛ یا(بی) اگر ادارے میں اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود نہ ہو، تو وہ تمام ورکرز کی طرف سے خفیہ رائے شماری کے ذریعے سادہ اکثریت سے منتخب کیے جائیں گے؛ اور(سی) ان میں مرد اور خواتین شامل ہوں گے، جو ادارے کی افرادی قوت میں ان کے عددی تناسب کے مطابق ہوں گے۔

(3) ورکرز کے نمائندے اپنے انتخاب یا نامزدگی کی تاریخ سے دو سال کی مدت کے لیے عہدے پر فائز رہیں گے۔

(4) ورکرز کے نمائندے کونسل کے تمام اجلاسوں میں شرکت کریں گے اور ادارے کے انتظام سے متعلق تمام معاملات، سوائے تجارتی اور مالیاتی لین دین کے، ان اجلاسوں میں زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔

(5) کونسل کا مقصد بہتر اور خوشگوار لیبر-مینجمنٹ تعلقات کو یقینی بنانا اور ان کی نگہداشت کرنا ہوگا، اور کونسل درج ذیل امور کا خیال رکھے گی:(اے) پیداوار، پیداواریت اور کارکردگی میں بہتری؛(بی)ملازمین کی منصوبہ بندی کے تحت گروپ بندی یا تبادلہ؛(سی) ان ورکرز کے لیے کم از کم سہولیات کی فراہمی جو ٹھیکیداروں کے ذریعے ملازم ہوں اور جو ورکرز کی فلاح کے قوانین کے تحت نہیں آتے؛(ڈی) اختلافات اور تنازعات کا دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے تصفیہ؛(ای) اپنے کام میں صحت، سلامتی اور ملازمت سے اطمینان کی شرائط؛(ایف) ادارے میں بہتر اور ہم آہنگ حالاتِ کار کی سہولت کے لیے اقدامات؛ اور(جی) ادارے کے اندر پیشہ ورانہ تربیت۔(6) انتظامیہ درج ذیل معاملات میں ورکرز کے نمائندوں سے تحریری مشورہ اور رائے لیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی:(اے) انسانی وسائل کی پالیسی اور داخلی ضوابط کی تیاری؛(بی) ورکرز کی دورانِ ملازمت تربیت؛(سی)ملازمین کے لیے تفریحی اور فلاحی منصوبے؛ اور(ڈی) ادارے کے اندر ورکرز کے نظم و ضبط اور رویے سے متعلق معاملات۔(7) ورکرز کے نمائندگان اپنی جانب سے ذیلی دفعہ (6) میں درج معاملات کے متعلق تحریری مشورہ دے سکتے ہیں، اور جب ایسا کیا جائے تو انتظامیہ کو مشورے کی وصولی کے تیس یوم کے اندر کونسل کا اجلاس بلانا ہوگا تاکہ اس مشورے کے نکات پر بحث کی جا سکے۔

(8) انتظامیہ ذیلی دفعہ (6) یا ذیلی دفعہ (7) کے تحت دیے گئے مشورے کی وصولی کے پچاس یوم کے اندر ورکرز کے نمائندگان کو جواب دے گی، اور ایسا کوئی مشورہ مسترد نہیں کیا جائے گا سوائے اس کے کہ ادارے کی انتظامیہ میں اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص اس کو مسترد کرے۔

(9) کونسل انتظامیہ سے ادارے کی کارکردگی سے متعلق معقول معلومات طلب کر سکتی ہے، اور انتظامیہ ایسی معلومات تیس یوم کے اندر کونسل کو فراہم کرنے کی پابند ہو گی۔

(10) کونسل کا اجلاس ہر دو ماہ میں ایک بار منعقد کیا جائے گا۔

(11) کسی ادارے سے متعلق اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ، کوئی بھی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین یا ورکرز، کونسل کے عدم قیام یا ناقص کارکردگی کے متعلق اس سلسلے میں مجاز انسپکٹر کو شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

باب 3.8 – ایمپلائمنٹ ایجنسیز

201۔ باب ہذا کا اطلاق:۔باب ہذا کے کسی حکم کا اطلاق درج ذیل پر نہیں ہوگا:(اے) وہ افراد جو آرڈیننس پاکستان مرچنٹ شپنگ، 2001 (52 بابت 2001) کے تحت ملاحوں کو تجارتی جہازوں کے لیے بھرتی یا فراہم کرنے کے لیے لائسنس یافتہ ہوں؛(بی) روزگار کے وہ تبادلہ مراکز یا کوئی دیگر سرکاری روزگار خدمات جو حکومت کے زیر انتظام ہوں؛ اور(سی) وہ افراد جنہیں آرڈیننس ایمیگریشن، 1979 (18 بابت 1979) کے تحت بیرون ملک تعیناتی کے لیے افراد کی بھرتی کی اجازت حاصل ہو۔

اے۔ ایمپلائمنٹ ایجنسیز کا اندراج

202۔ رجسٹریشن کا اجرا، تجدید، منسوخی اور معطلی:۔ (1) جو ایمپلائمنٹ ایجنسی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہو، اسے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت رجسٹریشن کے لیے ڈپٹی چیف انسپکٹر کو مصرحہ فارم، معلومات، دستاویزات، فیس اور طریق کار کے مطابق درخواست دینا ہو گی جیسا کہ مقرر کیا جائے۔

(2) کوئی بھی ایمپلائمنٹ ایجنسی، سوائے ان کے جو ذیلی دفعہ (1) کے تحت رجسٹرڈ ہوں، ایمپلائمنٹ ایجنسی کے طور پر کام نہیں کر سکے گی، اور نہ ہی کسی آجر یا پرنسپل کو ملازمین فراہم یا بھرتی کر سکے گی۔

(3) ڈپٹی چیف انسپکٹر، اطمینان کی صورت میں، ایمپلائمنٹ ایجنسی کو مصرحہ طریقے سے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کر سکتا ہے۔

(4) رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، اگر ڈپٹی چیف انسپکٹر کی جانب سے قبل از وقت منسوخ یا معطل نہ کیا جائے، تین سال کے لیے مؤثر ہوگا، اور اسے اسی مدت کے لیے مقررہ فیس کی ادائیگی پر اور ڈپٹی چیف انسپکٹر کی صوابدید پر تجدید کیا جا سکتا ہے۔

(5) اگر باب ہذا، قواعد و ضوابط یا اس کے تحت جاری کردہ کسی حکم یا ہدایت، یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی کسی شرط کی خلاف ورزی کی جائے تو ڈپٹی چیف انسپکٹر رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کو منسوخ یا معطل کر سکتا ہے۔

(6) اگر کوئی ایمپلائمنٹ ایجنسی ذیلی دفعہ (5) کے تحت جاری کردہ حکم سے متاثر ہو، تو وہ اس حکم کی تاریخ سے تیس یوم کے اندر چیف انسپکٹر کو اپیل کر سکتی ہے، اور چیف انسپکٹر ایسی اپیل پر مناسب حکم جاری کر سکتا ہے۔

203۔ ذاتی معلومات کا تحفظ:۔ایک ایمپلائمنٹ ایجنسی ملازمت کے متلاشی افراد کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اور ایسے ڈیٹا کی رازداری برقرار رکھے گی۔

بی۔ بھرتی

204۔ بھرتی کرنےوالی ایمپلائمنٹ ایجنسیز:۔(1) کوئی ایمپلائمنٹ ایجنسی درج ذیل امور انجام نہیں دے گی:

(اے) کسی ملازمت کے متلاشی فرد سے رجسٹریشن فیس وصول کرنا جو قابل اطلاق کم از کم اجرت کے دو فیصد سے زیادہ ہو؛

(بی) کسی ملازمت کے متلاشی فرد سے ملازمت دلوانے یا میچنگ خدمات کی فیس وصول کرنا جو ملازم کی پہلی ماہانہ اجرت کے دس فیصد سے زیادہ ہو؛ اور

(سی) ایسے وقت میں جب آجر اور ملازمت کے متلاشی فرد کے مابین معاہدۂ ملازمت طے پا جائے، آجر اور ملازمت کے متلاشی فرد کے مابین روزگار کے تعلق میں مداخلت کرنا۔

(2) ایک ایمپلائمنٹ ایجنسی درج ذیل امور انجام دے گی:

(اے) ملازمت کے متلاشی فرد سے رجسٹریشن کے وقت پولیس تصدیق کردہ کردار سرٹیفکیٹ طلب کرنا؛ اور

(بی) کامیاب ملازمت کے متلاشی افراد کا ایک رجسٹر برقرار رکھنا جنہیں ایجنسی نے آجروں کو فراہم کیا ہو۔

(3) ایک ایمپلائمنٹ ایجنسی درج ذیل امور انجام دے سکتی ہے:

(اے) کسی متوقع آجر سے ایسی فیس وصول کرنا جو فریقین کے مابین طے پائے؛ اور

(بی) ملازمت کے متلاشی افراد کی رجسٹریشن کے لیے ایک فعال اور انٹرایکٹو ویب سائٹ بنانا اور برقرار رکھنا۔

سی۔ کسی تیسرے فریق کو ورکرز کی فراہمی

205۔ ٹھیکیدار کے ذریعے منسلک افراد کو بنیادی آپریشنز پر کام کرنے کی ممانعت:۔(1) ذیلی دفعہ (3) کے تابع، کسی بھی شخص کو کسی پرنسپل کے ادارے کے بنیادی آپریشنز سے متعلق کام انجام دینے کے لیے مستقل بنیاد پر کسی ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ذریعے منسلک نہیں کیا جائے گا۔

(2) کسی مستقل معاہدۂ ملازمت پر موجود ملازم کو کسی عارضی ملازم سے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

(3) کسی شخص کو ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ذریعے اس صورت میں منسلک کیا جا سکتا ہے کہ وہ پرنسپل کے کسی براہِ راست ملازم کی جگہ عارضی طور پر کام کرے جو رخصت پر ہو۔

206۔ ورکرز کی فراہمی کے معاہدے تحریری شکل میں ہونا:۔(1) کسی پرنسپل اور کسی ایمپلائمنٹ ایجنسی کے مابین ورکرز کی فراہمی کے لیے معاہدہ تحریری شکل میں ہوگا اور اس میں درج ذیل امور شامل ہوں گے:

(اے) وہ کام جو ورکرز کو انجام دینا ہے؛

(بی) فراہم کیے جانے والے ورکرز کی تعداد؛

(سی) وہ مدت جس کے دوران ورکرز فراہم کیے جا سکتے ہیں؛

(ڈی) اجرت کی ادائیگی کی رقوم اور طریق کار؛ اور

(ای) ایسے دیگر امور جو مقرر کیے جائیں۔

(2) معاہدے کی ایک نقل اس معاہدے پر دستخط کیے جانے کے دو ہفتوں کے اندر متعلقہ علاقائی انسپکٹر کو ارسال کی جائے گی۔

207۔ ایمپلائمنٹ ایجنسیز اور دیگر ٹھیکیداروں کے فراہم کردہ ورکرز کا ملازم ہونا:۔(1) جہاں:

(اے) کوئی ایمپلائمنٹ ایجنسی کسی پرنسپل کے ادارے میں کام انجام دینے کے لیے ورکرز فراہم کرنے کے لیے پرنسپل سے معاہدہ کرتی ہے؛ اور

(بی) کوئی ایمپلائمنٹ ایجنسی کسی ورکر کو ایسا کام انجام دینے کے لیے منسلک کرتی ہے؛

تو جب تک پرنسپل خود اس ورکرکا آجر نہ بن جائے، ایمپلائمنٹ ایجنسی اس ورکر کے ساتھ ایک معاہدۂ ملازمت طے کرے گی۔

(2) دفعہ ہذاکے تحت کیے گئے معاہدہ ہائے ملازمت پر دفعات ‎141 اور ‎142 کا اطلاق ہوگا۔

208۔ پرنسپل کو فراہم کردہ ورکرز کی غلط درجہ بندی نہ کی جائے:۔(1) کوئی ٹھیکیدار پرنسپل کے ادارے میں کام انجام دینے کے لیے ورکرز اس بنیاد پر فراہم نہیں کرے گا کہ وہ ورکرزملازم نہیں ہیں اگر درحقیقت وہ افراد دفعہ ‎132 کے مطابق ملازم قرار پاتے ہوں۔

(2) اگر کوئی ٹھیکیدار ذیلی دفعہ (1) کے برخلاف ورکرزفراہم کرے تو ایسے ٹھیکیدار کو ایمپلائمنٹ ایجنسی تصور کیا جائے گا اور ان ورکرز کو ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ملازمین تصور کیا جائے گا، الا یہ کہ دفعہ ‎209 کا اطلاق ہوتا ہو۔

209۔ وہ صورتیں جب ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ملازمین کو پرنسپل کے ملازمین تصور کیا جائے گا:۔اگر کوئی ایمپلائمنٹ ایجنسی کسی پرنسپل کو ورکرز فراہم کرے تو ان ورکرز کو پرنسپل کے ملازمین تصور کیا جائے گا اگر:

(اے) دفعہ ‎7 کی ذیلی دفعہ (3) کا اطلاق ہوتا ہو؛

(بی) ورکرز کی فراہمی دفعہ ‎205 کی خلاف ورزی میں کی گئی ہو؛ اور

(سی) کسی بھی صورت میں، ورکرز پرنسپل کے لیے تین ماہ سے زیادہ کام انجام دیں۔

210۔ ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ذریعے منسلک یا بھرتی شدہ ملازمین کے حقوق:۔(1) کوئی ایمپلائمنٹ ایجنسی کسی پرنسپل کو اپنا ملازم فراہم نہیں کرے گی جب تک کہ یہ یقینی نہ بنا لے کہ ایسا ملازم پرنسپل کے ایسے براہِ راست ملازمین کے مساوی اجرت اور ملازمت کی شرائط سے مستفید ہو رہا ہو جو موازنہ کے قابل کام انجام دے رہے ہوں۔

(2) کوئی ایمپلائمنٹ ایجنسی اپنے ملازمین سے انہیں پرنسپل کو فراہم کرنے کے لیے کسی قسم کی فیس وصول نہیں کرے گی۔

211۔ معاہدہ شدہ ورکرز کا ٹریڈ یونین قائم کرنے اور اس میں شمولیت کا حق:۔(1) دفعہ ‎74 کے باوجود، اس حصے کے تحت کسی پرنسپل کو فراہم کردہ کوئی ورکر یہ اختیار رکھے گا کہ وہ:

(اے) پرنسپل کے ادارے میں کسی ٹریڈ یونین میں شامل ہو یا ایسی یونین قائم کرے؛ اور

(بی) ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ادارے میں کسی ٹریڈ یونین میں شامل ہو یا ایسی یونین قائم کرے۔

(2) کوئی پرنسپل جسے عنوان "سی" کے تحت ورکرز فراہم کیے گئے ہوں، ان ورکرز کے سلسلے میں دفعہ ‎75 کی تعمیل کرے گا۔

212۔ قواعد وضع کرنے کا اختیار:۔حکومت، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، حصہ ہذا کے مقاصد کے لیے قواعد وضع کر سکتی ہے۔

باب 3.9 – پرنسپلز کی مخصوص ملازمین کے متعلق ذمہ داریاں

213۔ ٹھیکیدار کے ملازمین کو اجرت کی عدم ادائیگی کی صورت میں پرنسپل کی ذمہ داری:۔(1) جب:

(اے) کوئی پرنسپل اپنی تجارت یا کاروبار کے دوران یا اس کے مقاصد کے لیے کسی کام کے مکمل یا کسی حصے کی انجام دہی کے لیے کسی ٹھیکیدار سے معاہدہ کرے؛ اور

(بی) ٹھیکیدار اپنے ایک یا ایک سے زیادہ ملازمین کو وہ کام انجام دینے کی ہدایت دے؛ اور

(سی) ٹھیکیدار، پنجاب لیبر کوڈ، کسی اجتماعی معاہدہ، ایوارڈ یا معاہدہ کے تحت اس ملازم یا ان ملازمین کو اجرت کی ادائیگی میں ناکام رہے؛

تو پرنسپل ایسے ملازم یا ملازمین کو اس کام کے سلسلے میں کوڈ، قواعد یا اجتماعی معاہدہ کے تحت قابل ادائیگی اجرت اور دیگر فوائد کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا۔

(2) جہاں پرنسپل دفعہ ہذاکے تحت اجرت کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو، اسے ٹھیکیدار یا کسی اور شخص سے، جس سے ملازم اجرت وصول کر سکتا تھا، زرِ تلافی حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

(3) جب پرنسپل کو شکایت یا کسی اور ذریعے سے معلوم ہو کہ ٹھیکیدار نے ذیلی دفعہ (1) کی شق (سی) کے تحت اجرت کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے، تو پرنسپل، ٹھیکیدار کو واجب الادا کسی بھی ادائیگی سے اتنی رقم روک سکتا ہے جو ذیلی دفعہ (1) کے تحت پرنسپل کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو اور وہ رقم براہِ راست ٹھیکیدار کے ملازمین کو ادا کر سکتا ہے۔

(4) کسی ٹھیکیدار کو اس رقم کے سلسلے میں، جو ذیلی دفعہ (3) کے تحت ملازمین کو براہِ راست پرنسپل کی طرف سے ادا کی گئی ہو، پرنسپل کے خلاف دعویٰ دائر کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

(5) جب کوئی ٹھیکیدار، جو خود بھی ایک پرنسپل ہے، دفعہ ہذاکے تحت اجرت کی ادائیگی یا پرنسپل کو زرِ تلافی دینے کا ذمہ دار ہو، تو اسے ایسے کسی بھی شخص سے زرِ تلافی حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا جو اس کے لیے ٹھیکیدار کے تعلق میں ہو اور جس سے ملازم اجرت وصول کر سکتا تھا۔

(6) دفعہ ہذامیں کوئی شق ایسی تعبیر نہیں کی جائے گی جس سے ملازمین کو اپنی اجرت ٹھیکیدار سے، بجائے پرنسپل کے، وصول کرنے سے روکا جائے۔

(7) جب کوئی ورکرکسی ٹھیکیدار، ذیلی ٹھیکیدار یا ایمپلائمنٹ ایجنسی کے ذریعے بھرتی کیا جائے تو پرنسپل اپنی اس ذمہ داری کا پابند ہوگا کہ جہاں تک وہ ورکرپر اختیار رکھتا ہے، اپنے کام کی جگہ پر کوڈ کے احکامات کی تعمیل کرے۔

214۔ پرنسپلز اور ٹھیکیداروں کی پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق ذمہ داریاں:۔(1) کسی شبہ سے بچنے کے لیے، جہاں کوئی ورکرکسی پرنسپل کے لیے کام انجام دینے کے لیے کسی ٹھیکیدار کے ذریعے منسلک ہو، تو پرنسپل اور ٹھیکیدار دونوں اپنی سلامتی اور صحت سے متعلق ذمہ داریوں کی تعمیل کریں گے جیسا کہ باب 2.5 میں فراہم کیا گیا ہے۔

(2) جہاں ذیلی دفعہ (1) کا اطلاق ہوتا ہو، ٹھیکیدار اور پرنسپل دونوں پنجاب لیبر کوڈ کے تحت فراہم کردہ اپنی سلامتی اور صحت سے متعلق ذمہ داریوں کی تعمیل کے لیے باہم تعاون کریں گے۔

حصہ چہارم

ورکرز کی مخصوص کیٹگریز

باب 4.1 – نفاذ اور تعریفات

215۔ حصہ چہارم کا اطلاق:۔(1) یہ حصہ درج ذیل کیٹگریز کے ورکرز پر لاگو ہوگا جیسا کہ تعریف کی گئی ہے:

(اے) زرعی ورکرز؛

(بی) تعمیراتی ورکرز؛

(سی) گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز؛

(ڈی) ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرز؛

(ای) انٹرنز اور اپرنٹس؛

(ایف) پلیٹ فارم ورکرز؛ اور

(جی) سڑک پر نقل و حمل کے ورکرز۔

(2) حصہ دوم کی دفعات اس حصے میں شامل تمام ورکرز پر لاگو ہوں گی۔

(3) حصہ سوم کی دفعات ان تمام ورکرز پر لاگو ہوں گی جو اس حصے میں شامل ہیں، بشرطیکہ وہ کسی معاہدۂ ملازمت کے تحت منسلک ہوں۔

(4) ماسوا انٹرن کے، اس حصے میں شامل کسی ایک یا ایک سے زائد کیٹگریز میں شامل ہر ورکرکو معاہدۂ ملازمت کے تحت منسلک تصور کیا جائے گا، الا یہ کہ ورکرکو منسلک کرنے والا فرد دفعہ ‎132 کے مطابق اس کے برعکس ثابت کرے۔

(5) حکومت زرعی ورکرز، گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز اور ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرز کے اندراج کے لیے قواعد وضع کرے گی اور ان ورکرز کے لیے فنڈ کے قیام، اس کے استعمال اور ایسے فنڈز کو منظم کرنے والے اداروں کے طریق کار بھی مقرر کرے گی۔

باب 4.2 – زرعی ورکرز

216۔ تعریفات:۔(1) باب ہذا میں:

(اے) "زراعت" سے مراد وہ تمام سرگرمیاں ہیں جو فصلوں کی کاشت، مویشی پروری، پولٹری، لائیو اسٹاک کی پرورش، شہد کی مکھیوں کی افزائش، باغبانی، ماہی گیری، آبی زراعت، ریشم کی پرورش، کیچوؤں کی افزائش، ہارٹیکلچر (باغبانی)، پھولوں کی کاشت، زرعی جنگلات، درختوں کی شجر کاری، باغات یا کسی بھی دیگر زرعی سرگرمی یا اس سے متعلقہ بعد از زراعت سرگرمیوں پر مشتمل ہوں، جو خود روزگاری، مزارعانہ کاشتکاری، حصہ داری پر کاشتکاری، یا دیگر اقسام کی کاشتکاری، بشمول نقل پذیر کاشتکاری، یا معمولی یا غیر لکڑی جنگلاتی پیداوار کے جمع، استعمال اور فروخت کے طور پر، مالکانہ حقوق یا استفادہ حقوق کی بنیاد پر کی جائیں، تاہم گزارہ زراعت اس میں شامل نہیں ہوگی۔

(بی) "زرعی ادارہ" سے مراد پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے وہ ادارہ ہے جو کسی بھی شکل میں زرعی سرگرمی میں مصروف ہو۔اور

(سی) "زرعی ورکر" سے مراد کوئی بھی ایسا فرد ہے جو، انفرادی طور پر یا کسی دوسرے فرد کے ساتھ مشترکہ طور پر، معاوضہ یافتہ ہو یا بلا معاوضہ، اپنی یا اپنے خاندان کی ملکیت یا قبضہ میں موجود اراضی یا کسی اور کی اراضی پر، کسی بھی مدت کے لیے، براہ راست یا دوسروں کی نگرانی کے ذریعے زراعت میں مصروف ہو۔

217۔ زرعی ورکرز کے حقوق:۔(1) کوئی زرعی ورکر، جو کوئی بھی زرعی کام انفرادی طور پر یا خاندانی اکائی کے طور پر انجام دے، اس کی اجرت نقد یا جنس میں اس کے کام کے اوقات اور پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مقرر کردہ کم از کم اجرت کے نرخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ادا کی جائے گی۔

(2) کوڈ کے حصہ دوم کا اطلاق زرعی ورکرز پر ہوگا، قطع نظر اس سے کہ آیا وہ براہِ راست یا بالواسطہ لیبر کنٹریکٹرز یا خاندان کے مرد افراد کے ذریعے، اجرتی یا بے اجرت خاندانی معاونین کے طور پر یا کسی دیگر انتظام کے تحت زرعی کام پر مامور ہوں۔

(3) اگر زرعی ورکرتقاضا کرے تو اسے ملازمت کی شرائط پر مشتمل ایک تحریری معاہدہ دیا جائے گا، جس میں دفعہ ہذاکے تحت حاصل حقوق شامل ہوں گے۔

(4) ذیلی دفعہ (3) کے تحت معاہدے پر دفعات 141 اور 142 کا اطلاق، حسبِ موقع، کیا جائے گا۔

(5) ضرورت پڑنے پر باب ہذاکے تحت بنائے گئے قواعد کے ذریعے، انجمن سازی اور اجتماعی سودا کاری کے حق کے استعمال کا طریق کار تجویز کیا جا سکتا ہے۔

باب 4.3 – تعمیراتی ورکرز

218۔ تعریفات:۔ باب ہذامیں:

(اے) "تعمیراتی کام" سے مراد عمارتوں، گلیوں، سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، آبپاشی، نکاسی، پشتے اور جہاز رانی کے کاموں، سیلابی تحفظ کے کاموں بشمول طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم، پانی کے منصوبے بشمول پانی کی تقسیم کے لیے نہروں، تیل و گیس تنصیبات، بجلی کی لائنوں، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، انٹرنیٹ ٹاورز، وائرلیس، ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیلیفون، ٹیلی گراف اور اوورسیز کمیونیکیشنز، ڈیموں، نہروں، آبی ذخائر، آبی گذرگاہوں، سرنگوں، پلوں، ویایڈکٹس، آبی پلوں، پائپ لائنوں، ٹاورز، کولنگ ٹاورز، ٹرانسمیشن ٹاورز اور ایسے دیگر کاموں کی تعمیر، دوبارہ تعمیر، تبدیلی، مرمت، دیکھ بھال یا انہدام مراد ہے جو محکمہ کی جانب سے اس مقصد کے لیے نوٹیفائی کیے جائیں، تاہم اس میں وہ عمارات یا دیگر تعمیراتی کام شامل نہیں ہوں گے جو کسی کان سے متعلق ہوں؛

(بی) "تعمیراتی ورکر" سے مراد کوئی بھی شخص ہے جو تعمیراتی کام میں مصروف ہو؛ اور

(سی) "تعمیراتی مقام" سے مراد کوئی بھی جگہ ہے جہاں تعمیراتی کام سے متعلقہ کوئی بھی عمل یا کارروائی انجام دی جا رہی ہو۔

219۔ ملازمت پر ممانعت:۔کسی بھی شخص کو کسی بھی انتظام کے تحت تعمیراتی ورکرکے طور پر اس وقت تک ملازمت پر نہیں رکھا جائے گا جب تک کہ اس کی عمر اٹھارہ سال مکمل نہ ہو گئی ہو۔

220۔ تحریری معاہدے:۔(1) ہر آجر یا پرنسپل، کسی بھی تعمیراتی ورکرکے ساتھ تحریری معاہدہ کرے گا:

(اے) اگر ورکرمجموعی طور پر پندرہ دن سے زیادہ عرصہ کے لیے تعمیراتی کام پر مامور ہو؛ یا

(بی) جب تک کہ تعمیراتی کام ذاتی رہائشی مقصد کے لیے نہ ہو اور اس کی لاگت حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کردہ رقم یا دس ملین روپے سے تجاوز نہ کرتی ہو۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت معاہدے پر دفعات 141 اور 142 کا اطلاق، حسبِ موقع، کیا جائے گا۔

(3) کسی تعمیراتی ورکرکو اس معاہدے سے متصادم طریقے سے کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

باب 4.4 – گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز

221۔ تعریفات:۔(1) باب ہذا میں:

(اے) "کمیٹی" سے مراد دفعہ 295 کے تحت تنازعات کے حل کےلئے تشکیل کردہ کمیٹی ہے؛

(بی) " گھریلو (ڈومیسٹک) کام" سے مراد کسی ایک یا ایک سے زائد گھریلو یونٹس میں یا ان کے لیے کیا گیا کام ہے، جو صفائی، کھانا پکانے، بچوں کی نگہداشت، بزرگوں کی دیکھ بھال، مریضوں کی نگہداشت، زچگی سے قبل یا بعد کی نگہداشت، ڈرائیونگ، حفاظتی کام، باغبانی اور اس سے متعلقہ دیگر امور پر مشتمل ہو سکتا ہے لیکن ان تک محدود نہیں ہے؛

(سی) " گھریلو (ڈومیسٹک) ورکر" سے مراد وہ شخص ہے جو گھریلو (ڈومیسٹک) کام میں کل وقتی، جزوقتی یا کام کی نوعیت کے مطابق مصروف ہو، قطع نظر اس کے کہ اس کی ملازمت کی نوعیت معاہداتی ہو یا غیر معاہداتی؛ بشرطیکہ کوئی ایسا شخص جو گھریلو (ڈومیسٹک) کام محض اتفاقاً یا غیر مستقل بنیادوں پر انجام دیتا ہو اور پیشہ ورانہ طور پر نہ کرتا ہو، گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرشمار نہیں ہوگا؛

222۔ گھریلو ملازمت پر ممانعت:۔(1) کسی بھی بچے کو کسی بھی حیثیت میں کسی بھی گھریلو یونٹ میں گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکے طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

(2) اٹھارہ سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کو کسی بھی گھریلو یونٹ میں بطور مقیم گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرملازمت پر نہیں رکھا جائے گا۔

(3) اٹھارہ سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کو کسی بھی گھریلو یونٹ میں صرف معمولی کام کے لیے ہی ملازمت پر رکھا جا سکے گا:

بشرطیکہ" معمولی کام" سے مراد ایسا جزوقتی کام ہوگا جو نہ تو گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکی صحت اور تحفظ کے لیے نقصان دہ ہو اور نہ ہی اس کی تعلیم پر منفی اثر ڈالے۔

223۔ گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز کے حقوق اور استحقاقات:۔(1) حصہ دوم کے مطابق اور اس حصہ کی اطلاق پذیری کو محدود کیے بغیر:

(اے) کسی گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو اس کی رضا مندی کے بغیر اور باہمی معاہدے کے مطابق اضافی معاوضہ کی ادائیگی کے بغیر اضافی کام پر مامور نہیں کیا جائے گا؛

(بی) آجر باعزت کام کے حالات فراہم کرے گا اور گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکے تحفظ کے لیے ضروری پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے اقدامات، ورکرپر کسی مالی بوجھ کے بغیر، نافذ کرے گا؛ اور

(سی) گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو انجمن سازی اور اجتماعی سودا کاری کا حق حاصل ہوگا۔

(2) ضرورت پڑنے پر، اس باب کے تحت بنائے گئے قواعد کے ذریعے انجمن سازی اور اجتماعی سودا کاری کے حق کے استعمال کا طریق کار تجویز کیا جا سکتا ہے۔

(3) گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرمنصفانہ ملازمت کی شرائط اور باعزت کام کے حالات سے مستفید ہوں گے اور اگر وہ گھریلو یونٹ میں رہائش پذیر ہوں یا آجر کی طرف سے انہیں رہائش فراہم کی گئی ہو تو انہیں باعزت رہائشی حالات بھی مہیا کیے جائیں گے جو ان کی نجی زندگی کا احترام کریں گے، اور ان حالات میں مندرجہ ذیل امور شامل ہوں گے:

(اے) کسی بھی گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرسے دن میں آٹھ گھنٹوں سے زائد کام نہیں لیا جائے گا، تاہم گھریلو (ڈومیسٹک) ورکراپنی مرضی سے ایسا وقت اور معاوضہ طے کر سکتا ہے جیسا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ ہو، بشرطیکہ یہ باب 2.5 کے مطابق ہو اور گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو کام ختم کرنے اور دوبارہ شروع کرنے کے درمیان کم از کم مسلسل بارہ گھنٹے کا یومیہ آرام میسر ہو؛

(بی) ہفتے میں اڑتالیس گھنٹے سے زائد کام کرنے کی صورت میں گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو اس کے معمول کے بنیادی فی گھنٹہ معاوضے کی دوگنی (200 فیصد) شرح سے ادائیگی کی جائے گی؛

(سی) گھریلو (ڈومیسٹک) ورکراور آجر باہمی اتفاق سے آرام کے وقفے، ہفتہ وار تعطیلات، سرکاری تعطیلات اور رخصتوں کے معاملات طے کر سکتے ہیں؛ اور

(ڈی) مقیم گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز کو بستر کے خصوصی استعمال کا حق حاصل ہوگا۔

(ڈی) "خاندان" سے مراد گھریلو (ڈومیسٹک) ورکر کے حوالے سے ورکر کا شریکِ حیات اور اٹھارہ سال سے کم عمر بچے ہیں اور اس میں پچاس فیصد یا اس سے زیادہ معذوری کے حامل بچے بھی شامل ہیں، قطع نظر ان کی عمر کے؛

(ای) " گھریلو یونٹ" سے مراد وہ افراد ہیں جو ایک خاندانی اکائی کی صورت میں ایک ہی چھت کے نیچے رہائش پذیر ہوں؛ اور

(ایف) " مقیم گھریلو (ڈومیسٹک) ورکر" سے مراد وہ گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرہے جو کام کے لیے اسی گھریلو یونٹ میں رہائش پذیر ہو یا جسے آجر کی طرف سے رہائش فراہم کی گئی ہو۔

(4) مقیم گھریلو (ڈومیسٹک) ورکراور کل وقتی گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔

(5) جزوقتی گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو ہر گھنٹے کے کام کے لیے فی گھنٹہ کم از کم شرح اجرت سے کم ادائیگی نہیں کی جائے گی۔

(6) مقیم گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز کے معاملے میں، فریقین باہمی اتفاق سے ماہانہ معاوضۂ کار کے ایک حصے کی ادائیگی جنس کی صورت میں خوراک، رہائش اور یوٹیلیٹی بلز کی لاگت کی مد میں کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ قواعد میں تجویز کردہ حد کے اندر ہو۔

(7) گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز کی طرف سے تعطیلات کے دوران گھرکے افراد کے ساتھ گزارا گیا کام کا وقت، یا وہ وقت جس میں گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرگھریلو یونٹ کی طلب پر کام کے لیے دستیاب رہے، کام کے اوقاتِ کار میں شمار کیا جائے گا۔

(8) کوڈ میں ورکرکو اجرت کی ادائیگی سے متعلق موجود کسی بھی امر کے باوجود، آجر گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو مناسب رسید کے تحت اجرت کی ادائیگی بینکنگ ذرائع، تجارتی یا ڈیجیٹل ذرائع یا نقد صورت میں کر سکتا ہے۔

224۔ تحریری معاہدے:۔(1) ہر مقیم گھریلو (ڈومیسٹک) ورکر یا وہ گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرجو ہفتہ وار 24 گھنٹوں سے زائد کام پر مامور ہو، اس کی ملازمت تحریری معاہدے کے اجرا سے مشروط ہوگی، جس میں ملازمت کی شرائط و ضوابط بشمول کام کی نوعیت اور معاوضۂ کار کی رقم شامل ہوگی۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت معاہدے پر دفعات 141 اور 142 کا اطلاق، حسبِ موقع، کیا جائے گا۔

(3) کوئی بھی شخص جو گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکو ملازمت پر رکھے، دورانِ ملازمت، اس کے شناختی دستاویزات کی ایک نقل اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

(4) کسی بھی گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرسے اس معاہدے میں واضح طور پر درج شدہ کام کے علاوہ کوئی اور کام نہیں لیا جائے گا۔

225۔ گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز کو جائیداد کی واگزاری:۔ملازمت کے خاتمے پر گھریلو (ڈومیسٹک) ورکر یا اس کے خاندان کے ذاتی سامان اور شناختی دستاویزات کی کوئی بھی نقل اپنے پاس نہیں رکھی جائے گی، اور اگر گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرکی کوئی ذاتی ملکیت یا جائیداد واپس نہ کی جائے تو متاثرہ گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرتنازعات کے حل کی کمیٹی میں اس جائیداد کی واگزاری کے لیے درخواست دے سکتا ہے اور کمیٹی، دونوں فریقین کو سنے جانے کا معقول موقع فراہم کرنے کے بعد، آجر کو اس مصرحہ مدت کے اندر مذکورہ جائیداد درخواست گزار کے حوالے کرنے کا حکم دے سکتی ہے جیسا کہ فیصلے میں طے کیا جائے گا۔

باب 4.5 – ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرز

226۔ تعریفات:۔ باب ہذا میں:

(اے) "پرنسپل" سے مراد کوئی بھی شخص، ادارہ، دفتر، فرم، فیکٹری، سوسائٹی، کاروبار، کمپنی، دکان یا انٹرپرائز ہے، خواہ وہ رجسٹرڈ ہو یا نہ ہو، جو کسی ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکو براہِ راست یا کسی ٹھیکیدار یا انٹرمیڈیری کے ذریعے ملازمت پر رکھے؛

(بی) "گھر" سے مراد ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکی عارضی یا مستقل رہائش کی جگہ ہے جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہو؛

(سی) " گھریلو بنیاد پر کام" سے مراد کسی شخص کی جانب سے اپنے گھر میں یا اپنی پسند کی کسی اور جگہ پر، جو آجر کی کام کی جگہ نہ ہو، اجرت کے عوض مال کی تیاری یا خدمات کی فراہمی بشمول آن لائن کام، تحریری ملازمت کے معاہدے کے تحت، خواہ آجر کے ساتھ براہِ راست ہو یا کسی ٹھیکیدار یا انٹرمیڈیری کے ذریعے، کیا گیا کام ہے، بشرطیکہ کوڈ میں مذکور حدود و قیود کے تابع ہو:

بشرطیکہ کوئی بھی ایسا کام جو کوئی شخص کسی اور قانون کے تحت بطور ملازم یا ورکرکے طور پر رجسٹرڈ ہو اور جو محض کبھی کبھار یا وقتی طور پر اپنے گھر سے انجام دیتا ہو، اس کام کو گھریلو بنیاد پر کام تصور نہیں کیا جائے گا؛

(ڈی) " ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والا) ورکر" سے مراد ایسا شخص ہے جو گھریلو بنیاد پر کام کرتا ہو، تاہم ان ورکرز کو شامل نہیں کیا جائے گا جو بارود، زہریلے یا مضر کیمیکل اور متعلقہ مواد جات سے وابستہ ہوں۔

(ای) "انٹرمیڈیری" سے مراد ایسا شخص، قانونی ادارہ یا کارپوریٹ ادارہ ہے جو کسی گھریلو بنیاد پر کام یا اس کے کسی حصے کے سلسلے میں، جس کی انجام دہی ٹھیکیدار نے کرنی قبول کی ہو، ہائرر کے فائدے کے لیے اقتصادی مفاد کے تحت ٹھیکیدار کے ساتھ معاہدہ کرے، اور اس میں وہ تمام افراد شامل ہیں، خواہ فطری ہوں یا قانونی، جو کسی بھی ذیلی معاہدے کی تعداد سے قطع نظر کسی ٹھیکیدار کے ساتھ معاہدہ کریں؛

(ایف) "تصفیہ" سے مراد آجر اور ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکے مابین کسی تنازع یا اس سے متعلق کسی اور معاملے کا تصفیہ ہے۔

227۔ بچوں کی ملازمت کی ممانعت:۔(1) کسی بھی بچے کو ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکے طور پر ملازمت پر نہیں رکھا جائے گا اور نہ ہی وہ بطور خودورکرکسی بھی نوعیت کا کام انجام دے گا۔

(2) کسی بھی شخص کو یہ اجازت یا اختیار نہیں ہوگا کہ وہ کسی اٹھارہ سال سے کم عمر شخص کو کسی خطرناک پیشے یا کام میں ملازمت پر رکھے یا اس سے خودورکرکے طور پر کسی خطرناک نوعیت کا کام کرائے، جیسا کہ شیڈول 2 میں بیان کیا گیا ہے۔

228۔ گھر پر مبنی ورکرز کے حقوق اور استحقاقات:۔(1) ہر پرنسپل ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکے ساتھ تحریری معاہدہ کرے گا۔ ایسے معاہدے پر دفعات 141 اور 142 کا اطلاق، حسبِ موقع، ہوگا۔

(2) کسی بھی ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکو اس معاہدے سے متصادم طریقے سے کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

(3) کسی بھی ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکو اس کی رضا مندی کے بغیر اور فریقین کے درمیان طے شدہ اضافی معاوضے کے بغیر اضافی کام پر مامور نہیں کیا جائے گا

(4) پرنسپل باعزت کام کے حالات فراہم کرے گا اور باب 2.5 کے مطابق ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکے تحفظ کے لیے پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے اقدامات، بغیر کسی لاگت کے، نافذ کرے گا۔

(5) کسی بھی ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔

(6) ہوم بیسڈ (اپنے گھر سے کام کرنے والے) ورکرکو انجمن سازی اور اجتماعی سودا کاری کا حق حاصل ہوگا، اور ان حقوق کے استعمال کا طریق کار باب ہذاکے تحت بنائے گئے قواعد میں تجویز کیا جا سکتا ہے۔

باب 4.6 – انٹرنز اور اپرنٹس

229۔ تعریفات:۔(1) باب ہذا میں:

(اے) "اپرنٹس"سے مراد ایسا شخص ہے جو اپرنٹس شپ کے معاہدے کے تحت کسی پیشے میں تربیت حاصل کر رہا ہو اور جس کی شرائط و ضوابط قانون اپرنٹس شپ پنجاب 2021 (قانون نمبر17 بابت 2021) کے تحت منضبط ہوں؛

(بی) "اپرنٹس شپ" سے مراد وہی معنی ہے جو قانون اپرنٹس شپ پنجاب 2021 (قانون نمبر17بابت 2021) میں متعین ہیں؛

(سی) "انٹرن" سے مراد وہ شخص ہے، جس کی عمر سولہ سال یا اس سے زیادہ ہو، جو اپنے شعبہ تعلیم یا دلچسپی کے میدان میں تربیت حاصل کر رہا ہو تاکہ وہ کام سے آشنائی حاصل کر سکے؛

(ڈی) "انٹرن شپ" سے مراد ایک عارضی مدت ہے جو عملی تجربہ فراہم کرتی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو لیبر فورس میں ضم کرنا ہے، اور جس کے دوران انٹرن اپنے شعبہ تعلیم یا دلچسپی کے میدان میں پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرتا ہے؛ اور

(ای) "وظیفہ"سے مراد وہ ماہانہ معاوضہ ہے جو آجر انٹرن کو انٹرن شپ کی مکمل مدت کے دوران ادا کرتا ہے۔

(2) باب ہذامیں جو دیگر اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں لیکن وضاحت نہیں کی گئیں، ان کا مفہوم حصہ اول میں بیان کردہ ہوگا۔

230۔ حقوق اور استحقاقات:۔(1) انٹرن شپ کی کل مدت درج ذیل سے تجاوز نہیں کرے گی:

(اے) چھ ماہ بشمول توسیعات؛ اور

(بی) اگر تعلیمی ادارے کی ضرورت ہو تو اس کے مطابق مصرحہ مدت۔

(2) انٹرن کو ادا کیا جانے والا وظیفہ کم از کم اجرت کے پچاس فیصد سے کم نہیں ہوگا یا ایسی شرح جو حکومت وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کرے، سوائے ان صورتوں کے جہاں انٹرن شپ کسی یونیورسٹی کی ڈگری مکمل کرنے کے لیے لازمی ہو، الا یہ کہ آجر اور تعلیمی ادارہ باہمی اتفاق سے مناسب وظیفہ پر متفق ہو جائیں۔

(3) آجر کسی غیر حاضر ورکرکی جگہ پر یا اپنے ادارے میں کسی مستقل یا باقاعدہ آسامی کو پُر کرنے کے لیے کسی انٹرن کو ملازمت پر نہیں رکھے گا۔ اگر آجر دفعہ ہذاکے برخلاف کسی انٹرن کو ملازمت پر رکھے تو ایسا انٹرن ملازم تصور کیا جائے گا۔

(4) ہر آجر، جیسا کہ مقرر کیا جائے، اپنی کل افرادی قوت کے پانچ فیصد تک انٹرنز کو ملازمت پر رکھ سکتا ہے۔

(5) آجر کسی انٹرن کو ایسے کاموں کے لیے ملازمت پر نہیں رکھے گا جو عام طور پر کسی باقاعدہ ورکرکے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں اور ایسے انٹرن سے طویل اوقاتِ کار نہیں لیے جائیں گے۔

(6) انٹرن کو باب 3.5 کے مطابق، انٹرن شپ معاہدے کی مدت کے تناسب سے سالانہ رخصت، بیماری کی رخصت اور اتفاقیہ رخصت کا حق حاصل ہوگا۔

(7) آجر انٹرن کے لیے ایک تربیتی منصوبہ تیار کرے گا اور ایک سرپرست کی تقرری، باقاعدہ فیڈ بیک کی فراہمی اور انٹرن شپ کے اختتام پر سرٹیفیکیٹ کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

(8) انٹرن اپنی انٹرن شپ کے اختتام پر، تربیتی منصوبے اور حاصل شدہ عملی تجربے کی بنیاد پر، اپنی انٹرن شپ رپورٹ جمع کرائے گا۔

(9) آجر انٹرن شپ کے اختتام پر کسی انٹرن کو گریجویٹی ادا کرنے کا ذمہ دار نہ ہوگا۔

231۔ انٹرن شپ معاہدہ:۔کسی بھی شخص کو کسی ادارے میں انٹرن شپ کے لیے اس وقت تک بطور انٹرن نہیں رکھا جائے گا جب تک کہ وہ آجر کے ساتھ انٹرن شپ معاہدہ نہ کر لے۔ دفعہ ہذاکے تحت معاہدے پر دفعات 141 اور 142 کا اطلاق، حسبِ موقع، ہوگا۔

232۔ انٹرن شپ کا خاتمہ:۔(1) جب تک کہ ذیلی دفعہ (2) کے تحت پہلے ختم نہ کر دیا جائے، انٹرن شپ معاہدہ انٹرن شپ کی مدت مکمل ہونے پر خود بخود ختم ہو جائے گا۔

(2) انٹرن شپ معاہدے کے کسی بھی فریق کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی وقت تحریری اطلاع دے کر ایک ہفتے کے نوٹس یا اس کے عوض ادائیگی کے ذریعے انٹرن شپ معاہدے کو ختم کر سکتا ہے۔

(3) انٹرن شپ مکمل ہونے کے بعد آجر کے ساتھ ملازمت کے حوالے سے انٹرن کا کوئی حق یا دعویٰ پیدا نہیں ہوگا۔ تاہم اگر کوئی آسامی مشتہر کی جائے تو انٹرن کو دیگر شرائط کی تکمیل کی صورت میں درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا۔

233۔ اپرنٹسز کے ساتھ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت سلوک:۔(1) قانون اپرنٹس شپ پنجاب 2021 (قانون نمبر17بابت 2021) یا کسی بھی دیگر نافذ العمل قانون میں موجود کسی بھی امر کے باوجود، کسی اپرنٹس کو کوڈ کے تحت ایک ملازم کے طور پر تمام حقوق حاصل ہوں گے۔

باب 4.7 – پلیٹ فارم ورکرز

234۔ تعریفات:۔(1) باب ہذا میں:

(اے) "ایکٹو آورز" سے مراد وہ اوقات ہیں جن میں پلیٹ فارم ورکرپلیٹ فارم ایپلیکیشن پر لاگ اِن ہو اور اس میں کام کرنے اور انتظار کرنے کے اوقات شامل ہیں؛

(بی) "ڈیجیٹل لیبر کنٹریکٹر" سے مراد کوئی فطری یا قانونی شخص ہے جو معاشی فائدے کے لیے خود یا ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کے فائدے کے لیے کوئی اسائنمنٹ انجام دینے پر رضامند ہو، اور اس میں کوئی بھی ذیلی ٹھیکیدار، انٹرمیڈیری، تفویض الیہ یا جانشین شامل ہوگا جو ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم، کنٹریکٹر اور پلیٹ فارم ورکرکے درمیان ہو؛

(سی) "ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم" سے مراد کوئی بھی فطری یا قانونی شخص ہے جو کسی الگوردم، خودکار نظام یا کسی دیگر مساوی طریق کار یا ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک بزنس سروس فراہم کرتا ہو، جو کارکردگی کے طریق کار اور لیبر یا اجرت کے حالات کے حوالے سے فیصلہ سازی یا کنٹرول کرنےکا اختیار رکھتا ہو، اور جو ایک اجرتی خدمت فراہم کرتا ہو جو درج ذیل تمام شرائط پر پورا اترتی ہو:

(i) یہ سروس کم از کم جزوی طور پر ویب سائٹ یا موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے فراہم کی جائے؛

(ii) یہ سروس، سروس لینےوالے کی درخواست پر معاوضے کے عوض فراہم کی جاتی ہو؛ اور

(iii) یہ لازمی اور بنیادی جزو کے طور پر کسی مخصوص مقام پر افراد کے ذریعے انجام دیے جانے والے کام کے انتظام و تنظیم پر مشتمل ہو؛

(ڈی) "انٹرمیڈیری" سے مراد ایسا شخص، قانونی ادارہ یا کارپوریٹ باڈی ہے جو ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کی جانب سے کسی ذیلی ٹھیکیدار کے ساتھ معاشی منافع کے لیے معاہدہ کرے، جس میں مکمل یا جزوی کام، جس کی انجام دہی پر ذیلی ٹھیکیدار راضی ہو، ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کے فائدے کے لیے ہو؛

(ای) "پلیٹ فارم ورک"سے مراد ایسا کام کرنے کا انتظام ہے جس میں تنظیمیں یا افراد کسی ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کے ذریعے دیگر تنظیموں یا افراد تک مخصوص مسائل کے حل یا مخصوص مقام پر سروسز کی فراہمی کے لیے رسائی حاصل کرتے ہیں، بشمول مگر محدود نہیں، سواری کی فراہمی، ترسیل، گھریلو، پیشہ ورانہ اور نگہداشت کی خدمات یا ایسی دیگر سرگرمیاں جیسا کہ محکمہ وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کرے، اور یہ سب معاوضے کے عوض ہو؛

(ایف) "پلیٹ فارم ورکر" سے مراد وہ شخص ہے جو ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کے ذریعے کام کرتا ہے یا کسی کام کرنے کے انتظام میں حصہ لیتا ہے اور ایسے کام کی انجام دہی کے دوران کسی مخصوص مقام پر کام کرتے ہوئے اس سرگرمی سے آمدنی حاصل کرتا ہے؛

(جی) "کام کی جگہ"سے مراد کام کرنے کی جگہ یا کوئی بھی ایسی جگہ ہے جہاں پلیٹ فارم ورکرخدمات انجام دیتے ہیں یا فراہم کرتے ہیں، بشمول مگر محدود نہیں، سواری فراہم کرنے یا ترسیلی گاڑیاں، نجی گھر، اور دیگر مقامات جہاں یہ سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں، اور اس میں کوئی بھی ایسی صورتحال شامل ہے جو کام سے منسلک ہو۔

(2) باب ہذامیں استعمال شدہ لیکن غیر متعین تمام دیگر اصطلاحات کو حصہ اول میں دی گئی تعریفات کے مطابق سمجھا جائے گا۔

235۔ معاہدہ فراہم کرنے کی ذمہ داری:۔(1) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کے ذریعے پلیٹ فارم ورکرکی ہر تقرری، مصرحہ طریق کار کے مطابق ایک معاہدے کے اجرا سے مشروط ہوگی، جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں ہوگا اور جس میں ملازمت کی شرائط و ضوابط درج ہوں گی، بشمول کام کی نوعیت، معاہدے میں شامل تمام فریقین کے نام اور پتے جو اس مقام کے مقامی قانونی دائرہ اختیار کے تابع ہوں گے جہاں ورکرکام انجام دے رہا ہے، مقامی لیبر قوانین کے تحت۔ یہ معاہدہ ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کی موبائل ایپلیکیشن میں ہر وقت پلیٹ فارم ورکرکے لیے دستیاب ہوگا۔ جہاں پلیٹ فارم ورکرکسی رجسٹریشن ہب کے ذریعے سائن اپ کرے، وہاں معاہدے کے مندرجات ورکرکو سادہ الفاظ میں مقامی زبان میں زبانی طور پر سمجھائے جائیں گے۔

(2) معاہدے میں ادائیگی کی رقم، حساب کا طریق کار اور اس ادائیگی کا دورانیہ، آرام کی ضروریات، پیشہ ورانہ تحفظ و صحت سے متعلق شقیں، برخاستگی سے متعلق شرائط و ضوابط بشمول غیر فعالیت یا جرمانے شامل ہوں گے۔

(3) ثالثی کی ایسی شقیں جو پلیٹ فارم ورکرز پر غیر معقول بوجھ ڈالیں یا کوڈ کے تحت پلیٹ فارم ورکرز کے حقوق کے نفاذ کو غیر مؤثر بنانے کا موجب ہوں، کالعدم اور غیر مؤثر ہوں گے۔

(4) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم مجوزہ معاہدہ میں تبدیلیوں کے بارے میں ورکرز کو معقول مدت میں، کم از کم دو کیلنڈر ہفتے قبل، مطلع کرے گا۔ ایسی معاہدہ جاتی تبدیلیاں جو موجودہ حاصل شدہ فوائد اور ان معقول توقعات کو ختم کریں جن پر ورکرانحصار کر چکے ہوں، کالعدم اور غیر مؤثر ہوں گی۔

(5) معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کی جائے گی جو غفلت کی ذمہ داری سے بری کرے یا جو پلیٹ فارم کو کسی ذمہ داری سے غیر معقول طور پر مستثنیٰ کرے، اور نہ ہی ایسی شق جو ورکرز کو کام کے تعلق سے پیدا ہونے والی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر طور پر چارہ جوئی کرنے سے روک دے۔

(6) پلیٹ فارم ورکرز کے لیے معاہدے کی توسیع اور ختم کرنے سے متعلق دفعات قواعد کے تحت تجویز کی جائیں گی۔

236۔ بچوں کی ملازمت پر پابندی:۔فی الوقت نافذ العمل کسی بھی دیگر قانون میں موجود کسی بھی امر کے باوجود، اٹھارہ سال سے کم عمر کسی بھی شخص کو کسی بھی حیثیت میں پلیٹ فارم ورک میں ملازمت اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

237۔ انجمن سازی کی آزادی کا حق:۔پلیٹ فارم ورکرز کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی پسند کی تنظیمیں یا یونینز قائم کریں اور ان میں شمولیت اختیار کریں، اجتماعی سودا کاری کا حق حاصل کریں، اور وہ تمام دیگر حقوق حاصل کریں جو پنجاب لیبر کوڈکے باب 2.6 کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔

238۔ پلیٹ فارم ورکرز کے کام کے حالات:۔(1) تمام پلیٹ فارم ورکرز کو پنجاب لیبر کوڈکے حصہ دوم میں دیے گئے تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔

(2) ہر ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم اپنے ورکرز کو ملازمین کے معاوضے کی ادائیگی، گروپ انشورنس یا بصورت دیگر، حصہ پنجم کے تحت، کرے گا۔

239۔ پیشہ ورانہ تحفظ و صحت سے متعلق ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز کی ذمہ داریاں:۔(1) باب 2.5 میں آجران پر قابل اطلاق تمام دفعات ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوں گی۔

(2) ہر ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم، باب 2.5 میں اپنی ذمہ داریوں کے مطابق:

(اے) جتنا معقول طور پر ممکن ہو، پلیٹ فارم ورکرز کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا؛

(بی) شدید موسمی حالات بشمول گرمی اور سردی کی لہروں کے دوران ورکرز کی حفاظت کے لیے عملی منصوبے تیار کرے گا؛

(سی) کام کی جگہ پر موجود اور نئے خطرات کی باقاعدہ بنیاد پر منظم اور مؤثر شناخت کو یقینی بنائے گا؛

(ڈی) پلیٹ فارم ورکرز کو، کسی بھی کام کے آغاز سے پہلے، ان کے کام سے منسلک خطرات، شامل خدشات اور احتیاطی و حفاظتی اقدامات کے بارے میں قابلِ فہم انداز میں اور قابلِ رسائی تحریری شکل میں آگاہ کرے گا؛

(ای) ورکرز کی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری معلومات، ہدایات اور تربیت فراہم کرے گا؛

(ایف) اگر خطرات کو کسی اور طریقے سے ختم یا قابو میں نہیں لایا جا سکتا تو محکمہ کی منظوری کے مطابق پلیٹ فارم ورکرز کو بغیر کسی لاگت کے مناسب ذاتی حفاظتی سازوسامان فراہم کرے گا تاکہ ہر ممکن نقصان یا صحت پر منفی اثرات سے بچاؤ کیا جا سکے؛ اور

(جی) عام رجسٹر میں تمام حادثات، بال بال بچ جانے کے واقعات بشمول خطرناک واقعات، آمد و رفت کے دوران پیش آنے والے حادثات اور کام کی جگہ پر پیشہ ورانہ بیماریوں کے مشتبہ کیسز کی تفصیلات درج کرے گا اور اس کا خلاصہ چیف انسپکٹر کو جمع کرائے گا۔

(3) پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے اقدامات پر پلیٹ فارم ورکرز پر کوئی اخراجات عائد نہیں ہوں گے۔

(4) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق پلیٹ فارم ورکرز کے لیے آرام گاہیں اور بیت الخلا کی سہولیات قائم کریں گے۔

240۔ پلیٹ فارم ورکرز کی ذمہ داریاں:۔ہر پلیٹ فارم ورکرباب 2.5 کے مطابق:

(اے) اپنی حفاظت اور ان دیگر افراد کی حفاظت کے لیے معقول احتیاط برتے گا جو کام کی جگہ پر اس کے افعال یا کوتاہیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں؛

(بی) پلیٹ فارم کی جانب سے فراہم کردہ کسی بھی ذاتی حفاظتی سازوسامان کا مناسب استعمال کرے گا؛ اور

(سی) ایسی جگہ سے خود کو فوری طور پر ہٹا لے گا جہاں فوری اور سنگین خطرہ موجود ہو اور ایسی صورتحال کے بارے میں فوراً ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کو اطلاع دے گا:

بشرطیکہ، کوئی پلیٹ فارم ورکر، جو معقول بنیاد پر یہ یقین رکھتے ہوئے خود کو ایسی کام کی صورتحال سے ہٹا لے کہ وہاں اس کی زندگی یا صحت کو فوری اور سنگین خطرہ لاحق ہے، اس پر کوئی سزا عائد نہیں کی جائے گی۔

241۔ خودکار نگرانی اور فیصلہ سازی کے نظام سے متعلق شفافیت:۔(1) وہ الگوردمز جو ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز کی جانب سے کام تک رسائی، معاوضے یا کام کی نوعیت کے تعین کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، دفعہ ہذامیں بیان کردہ طریقے کے مطابق شفاف ہوں گے، اور ورکرز کو وضاحت طلب کرنے اور داد رسی حاصل کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔

(2) ہر ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم اپنے ورکرز کو درج ذیل کے بارے میں آگاہ کرے گا:

(اے) خودکار نگرانی کے نظام، جو الیکٹرانک ذرائع سے پلیٹ فارم ورکرز کی کارکردگی کی نگرانی، نگران کاری یا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں؛ اور

(بی) خودکار فیصلہ سازی کے نظام، جو ایسے فیصلے کرنے یا ان کی معاونت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو پلیٹ فارم ورکرز کے کام کے حالات پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں، بالخصوص ان کی بھرتی، کام کی اسائنمنٹس تک رسائی اور ان کی تنظیم، ان کی آمدنی، ان کی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت، کام کے اوقات، ترقی اور معاہدہ جاتی حیثیت، بشمول ان کے اکاؤنٹس پر کسی قسم کی پابندی، معطلی یا برخاستگی اور کسی بھی تادیبی کارروائی کی وضاحت بھی شامل ہے۔

(3) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم، ذیلی دفعہ (2) میں بیان کردہ معلومات ایسی دستاویز کی صورت میں فراہم کرے گا جو الیکٹرانک شکل میں ہو سکتی ہے اور یہ معلومات مختصر، شفاف، قابلِ فہم اور آسانی سے قابلِ رسائی شکل میں، واضح اور سادہ زبان میں پیش کی جائے گی۔

(4) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز، ذیلی دفعہ (2) میں دی گئی معلومات پلیٹ فارم ورکرکو پہلے کام کے دن مہیا کریں گے اور ورکرکی درخواست پر کسی بھی وقت دستیاب رکھیں گے اور پلیٹ فارم ایسے کسی بھی تبدیلی کے نفاذ سے قبل، جو کام کے حالات، کام کی تنظیم یا کام کی کارکردگی کی نگرانی کو متاثر کرے، ورکرکو معلومات فراہم کرے گا۔ یہ معلومات مختصر، شفاف، قابلِ فہم اور آسانی سے قابلِ رسائی شکل میں، واضح اور سادہ زبان میں پیش کی جائیں گی۔

(5) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز، ذیلی دفعہ (2) میں بیان کردہ معلومات، پلیٹ فارم ورکرز کے نمائندگان، انسپکٹرز، تنازعات کے حل کی کمیٹی اور لیبر کورٹ کو، ان کی درخواست پر، فراہم کریں گے۔

(6) کوئی بھی ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم خودکار نگرانی اور فیصلہ سازی کے نظام کو کسی ایسے طریقے سے استعمال نہیں کرے گا جو پلیٹ فارم ورکرز پر غیر ضروری دباؤ ڈالے یا ان کی جسمانی و ذہنی صحت کو باب 2.5 کے برخلاف، خطرے میں ڈالے، بشمول مگر محدود نہیں، کام کے دورانیے سے متعلق بونس جیسی ترغیبات کا غلط استعمال اور تادیبی طریق کار۔

(7) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز یہ یقینی بنائیں گے کہ خودکار نگرانی اور فیصلہ سازی کے نظام کسی بھی موجودہ تعصبات یا امتیازی سلوک کی بنیاد پر امتیازی فیصلے جاری کرنے سے گریز کریں۔

(8) ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز یہ یقینی بنائیں گے کہ کام کے حالات پر اثر انداز ہونے والے تمام فیصلوں، بشمول برخاستگی، پر بالآخر انسانی نگرانی موجود ہو۔

242۔ ڈیٹا کی منتقلی:۔ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم، کسی پلیٹ فارم ورکرکی درخواست پر، لین دین اور شہرت سے متعلق ڈیٹا کی منتقلی کی اجازت دے گا، جیسا کہ قواعد میں تجویز کیا جائے گا۔

243۔ ریکارڈ کی مینٹی نینس:۔ہر ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم ایسے ریکارڈ محفوظ رکھے گا اور ایسے اوقات میں، ایسے طریق کار اور ایسے مندرجات کے ساتھ، جو قواعد کے تحت تجویز کیے جائیں، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لیبر ویلفیئر کو رپورٹس جمع کرائے گا، جو کہ پلیٹ فارم کے ذریعے کام کرنے والے افراد سے متعلق ہوں گی، جن میں شامل ہو سکتے ہیں مگر محدود نہیں ہوں گے پلیٹ فارم ورک انجام دینے والے افراد کی تعداد، ان کی معاہدہ جاتی یا ملازمت کی حیثیت، معاہدہ ہائے ملازمت کی نقول، سرگرمی کی اوسط مدت اور اوسط آمدنی، اور ان معاہدہ جاتی تعلقات پر لاگو عمومی شرائط و ضوابط۔

باب 4.8 – روڈٹرانسپورٹ ورکرز

244۔ تعریفات:۔(1) باب ہذا میں:

(اے) "کام کے اوقات" سے مراد وہ وقت ہے جس کے دوران ورکرز آجر کے تصرف میں ہوں گے، وقفہ برائے آرام اور کھانے کے وقفے کو چھوڑ کر؛

(بی) "عوامی مقام" سے مراد سڑک، گلی، راستہ یا دیگر مقام ہے، چاہے وہ گزرگاہ ہو یا نہ ہو، جہاں عوام کو رسائی کا حق حاصل ہو، اور اس میں وہ جگہ یا اسٹینڈ بھی شامل ہے جہاں مسافروں کو گاڑی کے ذریعے سوار یا اتارا جاتا ہو؛

(سی) "سڑک پر نقل و حمل کی خدمت" سے مراد ایسی خدمت ہے جو کرایہ یا معاوضے کے عوض سڑک پر گاڑیوں کے ذریعے مسافروں یا مال یا دونوں کی نقل و حمل کرتی ہو؛

(ڈی) "گاڑی"سے مراد کوئی بھی مشینی یا برقیاتی مشینی طور پر چلنے والی گاڑی ہے، جو سڑک پر نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہی ہو یا قابلِ استعمال ہو، اور اس میں ٹرام کار، ٹرالی گاڑی اور ٹریلر شامل ہیں؛

(ای’’روڈٹرانسپورٹ ورکر" سے مراد وہ شخص ہے جو سڑک پر نقل و حمل کی خدمت میں موبائل ڈیوٹی پر ملازم ہو، اور اس میں لیکن اس تک محدود نہیں، ڈرائیورز، صفائی کرنے والے، کنڈکٹرز، لوڈرز، اٹینڈنٹس، بکنگ کلرکس، ہوسٹس، چیکرز، سیکیورٹی گارڈز اور وہ دیگر افراد شامل ہیں جو گاڑی کے ساتھ سفر کرتے ہوں اور جن کا کام گاڑی سے متعلق ہو، حتیٰ کہ جب گاڑی آجر کے کاروبار کے لیے استعمال ہو رہی ہو۔

(2) باب ہذامیں استعمال شدہ مگر غیر تعریف شدہ تمام دیگر اصطلاحات کو حصہ اول میں دی گئی تعریف کے مطابق سمجھا جائے گا۔

245۔ عمر کی حد:۔(1) ذیلی دفعہ (2) کے تابع، کوئی شخص کسی بھی سڑک پر نقل و حمل کی خدمت میں اس وقت تک ملازم یا منسلک نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے، خواہ وہ شخص کسی معاہدۂ ملازمت یا کسی اور انتظام کے تحت ہی کیوں نہ منسلک ہو۔

(2) اکیس سال سے کم عمر کا کوئی شخص، کسی بھی سڑک پر نقل و حمل کی خدمت میں گاڑی چلانے کے لیے بطور ڈرائیور ملازم نہیں رکھا جائے گا۔

246۔ معاہدۂ ملازمت:۔(1) کوئی بھی آجر جو کسی سڑک پر نقل و حمل کے ورکرکو ملازم رکھے، منتقل کرے یا ترقی دے، وہ ایسی ملازمت، منتقلی یا ترقی کے دن ہی ایسے ورکرکو تحریری معاہدہ فراہم کرے گا جس میں ملازمت، منتقلی یا ترقی کی شرائط و ضوابط بیان ہوں گے، جو دفعہ 140 کے احکام کے مطابق ہوں گے۔

247۔ کام کے اوقات اور آرام:۔(1) کسی سڑک پر نقل و حمل کے ورکرکو کسی گاڑی پر درج ذیل شرائط کے خلاف ملازم یا مصروف نہیں کیا جائے گا:

(اے) ایک وقت میں پانچ گھنٹے سے زیادہ بغیر کم از کم آدھے گھنٹے کے آرام کے وقفہ کے؛ اور سات گھنٹے سے زیادہ بغیر کم از کم دو ایسے وقفوں کے؛

(بی) ایک دن میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ؛ اور

(سی) ایک ہفتے میں اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ:

بشرطیکہ، گاڑی پر یا کام کی جگہ پر اسٹینڈ بائی یا انتظار کے اوقات، جن کے دوران سڑک پر نقل و حمل کے ورکرکو اپنی مرضی سے وقت گزارنے کی آزادی نہ ہو، انہیں کام کا وقت تصور کیا جائے گا۔

(2) کوئی بھی ڈرائیور بغیر وقفے کے مسلسل چار گھنٹے سے زیادہ گاڑی نہیں چلا سکے گا۔

(3) ہر سڑک پر نقل و حمل کے ورکرکو ہر ہفتے کم از کم چوبیس گھنٹے کا مسلسل آرام حاصل کرنے کا حق ہوگا۔

(4) چیف انسپکٹر، ذیلی دفعہ (1)، (2) اور (3) کی دفعات سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے، ہنگامی حالات یا ایسے حالات میں تاخیر کے پیش نظر، جو پہلے سے متوقع نہ ہوں، مناسب حد تک چھوٹ دے سکتا ہے:

بشرطیکہ:

(اے) کسی بھی سال میں کوئی سڑک پر نقل و حمل کا ورکرڈیڑھ سو اضافی کام کے گھنٹوں سے زیادہ اوورٹائم پر ملازم نہ رکھا جائے؛ اور

(بی) وہ سڑک پر نقل و حمل کا ورکر، جو اپنے اصل یومیہ ڈیوٹی کے اوقات سے زائد کام کرے، اسے اس اوورٹائم کے لیے دوگنا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

(5) جہاں کسی قاعدہ کے ذریعے کسی ورکرکو ذیلی دفعہ (3) کے احکام سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور اس کے نتیجے میں کسی سڑک پر نقل و حمل کے ورکرکو ہفتہ وار آرام کے اوقات سے محروم رکھا جائے، تو ایسے ورکرکو اتنے ہی ضائع گھنٹوں کے برابر معاوضتی آرام دیا جائے گا:

بشرطیکہ، کسی سڑک پر نقل و حمل کے ورکرکو بغیر کم از کم چوبیس گھنٹے کے ایک وقت میں آرام کے، دس مسلسل دنوں سے زیادہ کام کرنے پر مجبور یا اجازت نہ دی جائے۔

(6) چیف انسپکٹر یا اگر چیف انسپکٹر کی جانب سے مقصد ہذاکے لیے مجاز کیا گیا ہو تو کوئی انسپکٹر، کسی آجر سے یہ تقاضا کر سکتا ہے کہ وہ سڑک پر نقل و حمل کے ورکرز کے کام کے اوقات پہلے سے مقرر کرے تاکہ وہ ذیلی دفعہ (1) اور ذیلی دفعہ (2) کی دفعات کے مطابق ہوں، اور مقرر کردہ اوقات کے اندراج کے لیے بھی ہدایات دے سکتا ہے۔

(7) کوئی بھی سڑک پر نقل و حمل کا ورکر، مقرر کردہ یا اندراج شدہ اوقات کار سے باہر، جو ذیلی دفعہ (6) کے تحت کسی قاعدے کی تعمیل میں اس کے کام کے لیے مقرر یا درج کیے گئے ہوں، کام نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی دوسرے ورکرکو اس طرح کام کرنے پر مجبور کرے گا یا اجازت دے گا۔

248۔ مجموعی اوقات کارپر پابندی:۔کوئی بھی سڑک پر نقل و حمل کا ورکرکسی گاڑی یا دو یا زیادہ گاڑیوں پر اس باب میں مقرر کردہ مدت سے زیادہ کام نہیں کرے گا اور نہ ہی اس سے کروایا جائے گا۔

249۔ رخصت:۔روزانہ اور ہفتہ وار آرام کے اوقات کے علاوہ، عوامی تعطیلات اور چھٹیاں، جیسا کہ پنجاب لیبر کوڈ کے ابواب 3.5 اور 3.6 میں فراہم کی گئی ہیں، سڑک پر نقل و حمل کے ورکرز پر مساوی طور پر لاگو ہوں گی۔

250۔ دیگر فوائد اور مراعات:۔پنجاب لیبر کوڈ کے تحت دیگر تمام فوائد اور مراعات جو باب ہذامیں مخصوص نہیں کی گئیں، سڑک پر نقل و حمل کے ورکرز پر مساوی طور پر لاگو ہوں گی۔

باب 4.9 – حصہ ہذا کے تحت آنے والے ورکرز کے لیے تنازعات کے تصفیہ کا طریق کار

251۔ اس حصے کے تحت آنے والے ورکرز سے متعلق تنازعات:۔(1) ذیلی دفعہ (2) کی شرائط کے تابع، اس حصے کے تحت آنے والا کوئی ورکر یا آجر، اس حصے میں کسی معاملے سے متعلق تنازعہ دفعہ 295 کے تحت تنازعات کے حل کی کمیٹی کے روبرو اٹھا سکتا ہے۔

(2) وہ ورکرز اور آجر جو ابواب 4.3، 4.6، 4.7 اور 4.8 کے تحت آتے ہیں، اپنی شکایات پنجاب لیبر کوڈ کے باب 6.5 میں فراہم کردہ طریقے کے مطابق اٹھائیں گے۔

حصہ پنجم

لیبرویلفیئر

باب 5.1 – اطلاق

252۔ باب 5 کا اطلاق:۔جب تک کوئی مخصوص استثنا نہ دیا گیا ہو، اس حصے کی دفعات لاگو ہوں گی:

(اے) آجران اور ملازمین بشمول کانوں کے ملازمین پر؛ اور

(بی) دیگر ایسے افراد پر جو پنجاب لیبر کوڈ میں متعین کیے گئے ہوں اور جیسا کہ قواعد کے ذریعے تجویز کیا جائے۔

باب 5.2 – منافع بونس

253۔ منافع بونس:۔(1) ہر آجر، جس کے پاس بیس یا اس سے زیادہ ملازمین ہوں اور جو کسی سال میں منافع حاصل کرے، ایسے سال کے اختتام کے تین ماہ کے اندر، ان ملازمین کو جو اس سال میں کم از کم مسلسل نوے دن ملازمت میں رہے ہوں، اس سال کے لیے معاوضۂ کار کے علاوہ بونس ادا کرے گا، جو درج ذیل تناسب سے ہوگا:

(اے) اگر منافع کی رقم تمام ملازمین کی ایک ماہ کے مجموعی معاوضۂ کار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو قابل ادائیگی بونس اس مجموعی رقم سے کم نہ ہوگا، بشرطیکہ یہ منافع کا زیادہ سے زیادہ تیس فیصد تک محدود ہوگا؛ اور

(بی) اگر منافع کی رقم ملازمین کی ایک ماہ کے مجموعی معاوضۂ کار سے کم ہو، تو قابل ادائیگی بونس اس منافع کا کم از کم پندرہ فیصد ہوگا۔

(2) ملازم کو قابل ادائیگی بونس اس کے ماہانہ معاوضۂ کار کے اسی تناسب سے ہوگا، جس تناسب سے آجر کی طرف سے کل بونس ذیلی دفعہ (1) میں بیان کردہ مجموعی معاوضۂ کار سے ہوگا، اور یہ بونس براہ راست ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں ادا کیا جائے گا جہاں تنخواہیں منتقل کی جاتی ہیں۔

(3) دفعہ ہذامیں مذکور بالا کسی بھی بات کے باوجود، منافع بونس درج ذیل زمروں کے مطابق ملازمین میں تقسیم کیا جائے گا، اس شرط کے ساتھ کہ بونس کا 70 فیصد حصہ کیٹیگری1 کے ملازمین میں اور 30 فیصد حصہ کیٹیگری 2 کے ملازمین میں تقسیم کیا جائے گا:

کیٹگریز:

(i) کیٹگری-1: ایسے ملازمین جو اوسط ماہانہ معاوضہ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کردہ ماہانہ کم از کم اجرت سے تین گنا سے زیادہ نہ لے رہے ہوں۔

(ii) کیٹگری-2: ایسے ملازمین جو اوسط ماہانہ معاوضہ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کردہ ماہانہ کم از کم اجرت سے تین گنا سے زیادہ لے رہے ہوں۔

(4) دفعہ ہذامیں کوئی بھی امر کسی ملازم کے اس حق کو متاثر نہیں کرے گا کہ وہ اپنی ملازمت کی شرائط، کسی رواج، تصفیہ یا کسی مجاز فورم کے ایوارڈ کے مطابق کسی دوسرے بونس کا مستحق ہو جو دفعہ ہذاکے تحت واجب الادا بونس کے علاوہ ہو۔

تشریح۔ دفعہ ہذاکے مقاصد کے لیے:

(اے) "منافع" کسی کمپنی کے حوالے سے، ایسے "خالص منافع" کو کہا جائے گا جس میں درج ذیل شامل نہیں ہوں گے: ادارے کے مکمل یا جزوی فروخت سے حاصل شدہ منافع، فروخت شدہ حصص پر حاصل کردہ پریمیم، ڈیویڈنڈ (منافع منقسمہ) کی آمدنی، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل شدہ منافع، تخمینی اور غیر حقیقی اکاؤنٹنگ ایڈجسٹمنٹس، اور انعامی رقوم یا سبسڈیز، اور یہ خالص منافع وہ ہوگا جو اس کے کاروبار، تجارت، ادارے یا دیگر آپریشنز سے منسوب ہو؛ اور

(بی) "معاوضہ" میں، ذیلی دفعہ (1) کے تحت کسی شخص کو قابل ادائیگی بونس کے حساب کے مقصد کے لیے، وہ بونس شامل نہیں ہوگا جس کا حوالہ کوڈ میں معاوضہ کی تعریف میں دیا گیا ہے۔

باب 5.3 – کمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ

254۔ تعریفات:۔ باب ہذامیں:

(اے) "بورڈ" سے مراد کسی فنڈ کے حوالے سے بورڈ آف ٹرسٹیز ہے جو دفعہ 256 کے تحت فنڈ کے انتظام و انصرام کے لیے تشکیل دیا گیا ہو؛

(بی) "کمپنی" سے مراد قانون کمپنیز 2017 (قانون نمبر 19 بابت 2017) کے تحت کمپنی ہے، اور اس میں درج ذیل شامل ہوں گے:

(i) کوئی بھی کارپوریٹ ادارہ جو کسی وقت نافذ العمل قانون کے تحت قائم کیا گیا ہو؛

(ii) کوئی بھی ادارہ، تنظیم یا انجمن خواہ وہ قانونی طور پر قائم شدہ ہو یا نہ ہو، جسے حکومت سرکاری گزٹ میں باب ہذا کے مقاصد کے لیے کمپنی قرار دے دے؛

(سی) "کمیٹی" سے مراد پنجاب کمپنیوں کے منافع میں ورکرز کی شراکت کمیٹی ہے جو باب ہذا کے تحت تشکیل دی گئی ہو؛

(ڈی) "فنڈ" سے مراد ورکرز کی شراکت فنڈ ہے جو دفعہ 255 کے تحت قائم کیا گیا ہو؛

(ای) "منافع" کسی کمپنی کے حوالے سے، ایسے خالص منافع کو کہا جائے گا جس میں ادارے کی مکمل یا جزوی فروخت سے حاصل شدہ منافع، فروخت شدہ حصص پر حاصل کردہ پریمیم، ڈیویڈنڈ (منافع منقسمہ) کی آمدنی، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل شدہ منافع، تخمینی اور غیر حقیقی اکاؤنٹنگ ایڈجسٹمنٹس، اور انعامی رقوم یا سبسڈیز شامل نہیں ہوں گے، اور جو اس کے کاروبار، تجارت، ادارے یا دیگر آپریشنز سے منسوب ہو؛ اور

(ایف) "سکیم" سے مراد شیڈول 5 میں درج سکیم ہے؛

255۔ فنڈ کا قیام:۔(1) ہر کمپنی جس پر یہ سکیم لاگو ہوتی ہے، درج ذیل اقدامات کرے گی:

(اے) اپنے لیے لاگو ہونے والے سال کے اکاؤنٹس کے حتمی ہونے کے بعد، لیکن اس سال کے اختتام کے نو ماہ سے زیادہ تاخیر کے بغیر، سکیم کے مطابق ایک ورکرز کی شراکت فنڈ قائم کرے گی؛

(بی) کسی ایڈجسٹمنٹ سے مشروط، ہر سال اپنے سال کے اختتام کے نو ماہ سے زیادہ تاخیر کے بغیر، اپنے اس سال کے منافع کا پانچ فیصد فنڈ میں جمع کرے گی، اور چیف انسپکٹر مناسب وجوہات کی بنیاد پر اس مدت میں ایک ماہ کی توسیع کر سکتا ہے؛ اور

(سی) ہر سال کے اکاؤنٹ کے اختتام کے نو ماہ سے زیادہ تاخیر کے بغیر، اس سال کے اپنے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس، جو اس کے آڈیٹرز کے دستخط شدہ ہوں، چیف انسپکٹر اور بورڈ کو فراہم کرے گی؛

(2) ذیلی دفعہ (1) کی شق (بی) کے تحت کسی سال کے حوالے سے فنڈ میں جمع کی گئی رقم کو اگلے سال کے پہلے دن سے اس فنڈ میں مختص شدہ تصور کیا جائے گا۔

256۔ فنڈ کا انتظام و انصرام:۔(1) جیسے ہی ممکن ہو لیکن دفعہ 255 کے تحت کسی کمپنی کی جانب سے فنڈ کے قیام کے بعد دو ماہ سے زیادہ تاخیر کے بغیر، ایک بورڈ آف ٹرسٹیز تشکیل دیا جائے گا جس میں درج ذیل ارکان شامل ہوں گے:

(اے) دو افراد جنہیں اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ نامزد کرے گا، اور اگر کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ موجود نہ ہو تو کمپنی کے ملازمین میں سے ملازمین کے ذریعے منتخب کیے جائیں گے؛ اور

(بی) کمپنی کے انتظامیہ کی جانب سے نامزد کردہ دو افراد جن میں کم از کم ایک شخص کمپنی کے اکاؤنٹس برانچ سے ہوگا۔

(2) ٹرسٹیز کے عہدے پر فائز افراد ہر سال ایک چیئرپرسن کا انتخاب کریں گے، جو باری باری ذیلی دفعہ (1) کی شق (اے) کے تحت نامزد یا منتخب شدہ ٹرسٹیز اور ذیلی دفعہ (1) کی شق (بی) کے تحت نامزد شدہ ٹرسٹیز میں سے ہوگا، اور پہلا چیئرپرسن مذکورہ بالا دوسرے گروہ یعنی شق (بی) کے تحت نامزد کردہ افرادمیں سے ہوگا۔

(3) کوئی بھی ٹرسٹی، جب تک وہ اس مفاد کی نمائندگی سے قبل از وقت محروم نہ ہو جائے جس کے لیے اسے منتخب یا نامزد کیا گیا ہے، اتنی مدت اور ایسی شرائط پر اپنے عہدے پر فائز رہے گا جن کی قواعد کے تحت صراحت کی جائےگی۔

(4) بورڈ کے تمام فیصلے ٹرسٹیز کی اکثریت کی رائے سے ظاہر کیے جائیں گے اور اگر ووٹ برابر ہوں تو چیئرپرسن کو دوسرا یا فیصلہ کن ووٹ حاصل ہوگا اور وہ اسے استعمال کرے گا۔

(5) بورڈ فنڈ کا انتظام و انصرام باب ہذا، سکیم اور اس سلسلے میں بنائے گئے قواعد کے مطابق کرے گا۔

(6) بورڈ، باب ہذاکے تحت اپنے اختیارات کے استعمال اور فرائض کی انجام دہی میں، چیف انسپکٹر کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات کا پابند ہوگا۔

(7) اگر چیف انسپکٹر کی یہ رائے ہو کہ کوئی ٹرسٹی یا بورڈ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مسلسل ناکام رہا ہے یا عمومی طور پر فنڈ کے مقاصد اور مفادات کے منافی طرز عمل اختیار کر رہا ہے، تو وہ ایسے ٹرسٹی یا، حسبِ حال، بورڈ کو وجہ بیان کرنے کا موقع دینے کے بعد، حکم کے ذریعے درج ذیل اقدامات کر سکتا ہے:

(اے) ایسے ٹرسٹی کو اس کے عہدے سے برطرف کر دے یا یہ ہدایت کرے کہ بورڈ مذکورہ حکم میں بیان کردہ مدت کے لیے معطل رہے؛ اور

(بی) یہ ہدایت دے کہ برطرف شدہ ٹرسٹی کی جگہ نئے فرد کے انتخاب یا نامزدگی یا حسبِ حال بورڈ کی دوبارہ تشکیل تک، اس برطرف شدہ ٹرسٹی یا بورڈ کے اختیارات اور فرائض ایسے شخص کے ذریعے سر انجام دیے جائیں گے جسے مذکورہ حکم میں مقرر کیا گیا ہو۔

(8) ٹرسٹی کے عہدے میں اتفاقیہ خالی ہونے والی جگہ کو جیسے ہی ممکن ہو، کسی دوسرے شخص کے انتخاب یا حسبِ حال نامزدگی کے ذریعے پر کیا جائے گا اور ایسا منتخب یا نامزد کردہ شخص اپنے پیش رو کی غیر مکمل مدت کے لیے عہدے پر فائز رہے گا۔

(9) ذیلی دفعہ (7) کے تحت بورڈ کی معطلی کی صورت میں، اس بورڈ کے تمام ٹرسٹیز اپنے عہدوں سے فارغ تصور کیے جائیں گے اور اس باب، سکیم اور قواعد میں بورڈ کے حوالہ جات کو ایسے افسر کے حوالہ جات تصور کیا جائے گا جسے مذکورہ ذیلی دفعہ کے تحت حکم میں مقرر کیا گیا ہو۔

(10) معطلی کی مدت کے اختتام سے قبل، باب ہذاکی دفعات کے مطابق بورڈ کو دوبارہ تشکیل دیا جائے گا تاکہ وہ مذکورہ مدت کے اختتام پر اپنے فرائض سنبھال سکے۔

(11) بورڈ کا کوئی بھی عمل یا کارروائی محض اس بنیاد پر کالعدم یا قابل اعتراض نہ ہوگی کہ بورڈ میں کوئی اسامی موجود تھی یا بورڈ کی تشکیل میں کوئی نقص تھا۔

257۔ معلومات طلب کرنے کا اختیار:۔(1) چیف انسپکٹر کسی بھی وقت کسی کمپنی یا بورڈ سے باب ہذا، قواعد اور سکیم کی مؤثر عملداری کو یقینی بنانے کے لیے درکار یا مفید سمجھی جانے والی معلومات اور دستاویزات، بشمول کمپنی یا بورڈ کی کارروائیوں کا ریکارڈ، فراہم کرنے کی ہدایت کر سکتا ہے۔

(2) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مقرر کردہ انسپکٹر، معقول اوقات میں کسی بھی جگہ داخل ہو سکتا ہے اور شیڈول 5 میں دی گئی سکیم کے پیراگراف 4 کے مطابق فوائد کی تقسیم اور حساب کتاب سے متعلق کسی بھی رجسٹر یا دستاویز کا معائنہ کر سکتا ہے اور موقع پر یا بصورت دیگر کسی بھی فرد سے ثبوت حاصل کر سکتا ہے اور ایسے دیگر معائنہ جاتی اختیارات استعمال کر سکتا ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کی انجام دہی کے لیے ضروری سمجھے جائیں۔ اور اگر مذکورہ سکیم کے پیراگراف 4 کے تحت فوائد سے متعلق ملازمین کے دعوے غیر حل شدہ پائے جائیں تو، دفعہ 386 میں مہیا کردہ سزاؤں کے علاوہ، مذکورہ انسپکٹر ملازمین کی طرف سے ان دعووں کو ذیلی دفعہ (2) کے تحت طے کروائے گا۔

258۔ تنازعات کا تصفیہ وغیرہ:۔(1) اگر بورڈ اور کمپنی کے درمیان سکیم کے انتظام و انصرام سے متعلق کوئی اختلاف پیدا ہو تو اسے چیف انسپکٹر کو رپورٹ کیا جائے گا، جس کا اس بارے میں فیصلہ حتمی ہوگا۔

(2) سکیم کے فوائد سے متعلق کسی ملازم کا بورڈ یا کمپنی کے خلاف کوئی بھی دعویٰ، پنجاب لیبر کوڈ کے باب 6.2 میں تنخواہ سے کٹوتیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دعوؤں کے تصفیے کے لیے مہیا کردہ طریق کار کے مطابق طے کیا جائے گا۔

259۔ اختیارات کی تفویض:۔چیف انسپکٹر سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن ہدایت دے سکتا ہے کہ باب ہذاکے تحت اس کے تمام یا کچھ اختیارات یا فرائض، مذکورہ نوٹیفکیشن میں بیان کردہ پابندیوں، حدود یا شرائط کے تابع، اس کے ماتحت کسی افسر یا کسی متعین کردہ اتھارٹی کے ذریعہ استعمال یا سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔

260۔ شیڈول 5 میں ترمیم کا اختیار:۔محکمہ، حکومت کی منظوری سے اور سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے، شیڈول 5 میں ترمیم کر سکتا ہے۔

باب 5.4 – گروپ انسینٹو سکیم

261۔ گروپ انسینٹو سکیم:۔(1) ہر ایسا آجر جو پچاس یا زیادہ ملازمین کو ملازمت پر رکھتا ہے، ملازمین کو زیادہ پیداوار یا خدمات کی فراہمی کے لیے ترغیب دینے کے لیے ایک گروپ انسینٹو سکیم متعارف کرا سکتا ہے۔ یہ سکیم اندرونی قواعدِ کار میں شامل ہوگی اور اس میں یہ طریق بیان کیا جائے گا کہ ملازمین کے مختلف گروپوں کی کارکردگی کو کس طرح جانچا جائے گا۔

(2) یہ ترغیب (انسینٹو) اضافی معاوضے، اضافی تنخواہ یافتہ رخصت، یا اندرونی قواعدِ کار میں متعین کسی اور شکل میں ہو سکتا ہے، اور یہ ان ملازمین کے گروپ کے ارکان کو دیا جائے گا جن کی کارکردگی دیگر گروپوں یا تمام گروپوں کی اوسط کارکردگی سے زیادہ ہوگی۔

(3) ایک اجتماعی سودا کاری کا معاہدہ دفعہ ہذامیں مہیا کردہ طریق کے مطابق ایک گروپ انسینٹو سکیم کے لیے مہیا کر سکتا ہے۔

باب 5.5 – لازمی گروپ انشورنس

262۔ لازمی گروپ انشورنس:۔(1) ایسا آجر جو پچاس(50) یا اس سے زیادہ ملازمین کو ملازمت پر رکھتا ہے، ایسے تمام ملازمین، جنہوں نے کم از کم تین ماہ کی ملازمت مکمل کر لی ہو، کو موت اور معذوری کے خلاف، چاہے قدرتی ہو یا ملازمت کے دوران لگنے والی چوٹ یا پیشہ ورانہ بیماری کی وجہ سے ہو، بیمہ کرانا لازم ہوگا۔

(2) آجر ہر صورت میں بیمہ کی رقم کی ادائیگی اور انتظامی امور کی انجام دہی کا ذمہ دار ہوگا، خواہ یہ امور آجر خود انجام دے یا کسی بیمہ کمپنی کے ذریعے کرائے۔

(3) ہر ملازم کے لیے بیمہ شدہ رقم پنجاب لیبر کوڈ کے شیڈول 8 میں متعین کردہ معاوضے (زرِتلافی) کی رقم سے کم نہیں ہوگی۔

(4) اگر آجر ذیلی دفعات (1)، (2) اور (3) میں متعین طریق کار کے مطابق کسی ملازم کا بیمہ کرانے میں ناکام رہے اور ایسا ملازم موت یا زخمی ہونے کا شکار ہو جائے تو آجر، موت کی صورت میں، ایسے ملازم کے ورثاء کو، یا زخمی ہونے کی صورت میں، خود ملازم کو، اتنی رقم ادا کرے گا جتنی رقم بیمہ کمپنی کی طرف سے قابل ادائیگی ہوتی اگر مذکورہ ملازم بیمہ شدہ ہوتا۔

(5) ایسے ملازمین یا ان کے ورثاء کے ذیلی دفعہ (4) کے تحت رقوم کی وصولی کے تمام دعوے، پنجاب لیبر کوڈ کے باب 5.6 میں معاوضے (زرِتلافی) کے تعین اور وصولی کے لیے مہیا کردہ طریق کار کے مطابق طے کیے جائیں گے۔

باب 5.6 – کام کی جگہ کا معاوضہ(ورک پلیس کمپنسیشن)

263۔ تعریفات:۔ باب ہذا میں، جب تک کہ سیاق و سباق میں کچھ اور مطلوب نہ ہو:

(اے) بالغ" اور "کم عمر" سے بالترتیب مراد وہ شخص ہے جو اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کا ہو اور وہ شخص جو اٹھارہ سال کی عمر کو نہ پہنچا ہو۔

(بی) کمشنر" سے مراد وہ ورک پلیس کمپنسیشن کمشنر ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مقرر کیا گیا ہو۔

(سی) "معاوضہ" سے مراد وہ معاوضہ ہے جو باب ہذاکے تحت فراہم کیا گیا ہو۔

(ڈی) "انحصار کرنے والا فرد" سے مراد کسی متوفی ورکرکے مندرجہ ذیل رشتہ دار ہیں:

(i) بیوہ، نابالغ جائز بیٹا، غیر شادی شدہ جائز بیٹی، یا بیوہ ماں؛ اور

(ii) اگر مکمل یا جزوی طور پر ورکرکی وفات کے وقت اس کی آمدنی پر انحصار کرتا ہو، تو رنڈوا (بیوی سے محروم شوہر)، بیوہ ماں کے علاوہ کوئی بھی والدین، نابالغ ناجائز بیٹا، غیر شادی شدہ ناجائز بیٹی، بیٹی، جائز یا ناجائز، اگر شادی شدہ ہو اور نابالغ ہو یا اگر بیوہ ہو، نابالغ بھائی، غیر شادی شدہ یا بیوہ بہن، بیوہ بہو، متوفی بیٹے کا نابالغ بچہ، متوفی بیٹی کا نابالغ بچہ جبکہ بچے کے والدین میں سے کوئی زندہ نہ ہو، یا، اگر ورکرکے والدین میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہو، تو پدری دادا یا دادی۔

(ای) "جزوی معذوری" سے مراد ہے، جہاں معذوری عارضی نوعیت کی ہو، ایسی معذوری جو کسی ایسی ملازمت میں ورکر کی آمدنی کی صلاحیت کو کم کر دے جس میں وہ حادثے کے وقت ملازم تھا جس کے نتیجے میں معذوری واقع ہوئی، اور جہاں معذوری مستقل نوعیت کی ہو، ایسی معذوری جو ہر اس ملازمت میں اس کی آمدنی کی صلاحیت کو کم کر دے جسے وہ اس وقت انجام دینے کے قابل تھا:بشرطیکہ پنجاب لیبر کوڈ کے شیڈول 6 میں درج ہر چوٹ کو مستقل جزوی معذوری کا باعث سمجھا جائے گا۔

(ایف) "طبی پریکٹیشنر" سے مراد کوئی بھی ایسا فرد ہے جو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں بطور طبی پریکٹیشنر رجسٹرڈ ہو۔

(جی) "مکمل معذوری" سے مراد ایسی معذوری ہے، خواہ وہ عارضی ہو یا مستقل نوعیت کی، جو کسی ورکرکو اس تمام کام سے معذور کر دے جو وہ حادثے کے وقت انجام دینے کے قابل تھا جس کے نتیجے میں ایسی معذوری واقع ہوئی:بشرطیکہ مستقل مکمل معذوری، دونوں آنکھوں کی مکمل بینائی کے مستقل نقصان یا شیڈول 6 میں درج زخموں کے ایسے مجموعے کے نتیجے میں سمجھی جائے گی جہاں مذکورہ زخموں کے خلاف اس شیڈول میں مخصوص آمدنی کی صلاحیت کے نقصان کا مجموعی فیصد ایک سو فیصد ہو۔

264۔ معاوضہ کے لیے آجر کی ذمہ داری:۔(1) اگر کسی ورکرکو ذاتی چوٹ کسی ایسے حادثے کے نتیجے میں پہنچے جو ملازمت کے دوران اور اس کے نتیجے میں پیش آئے تو آجر باب ہذاکی دفعات کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا:بشرطیکہ آجر درج ذیل معاملات میں ذمہ دار نہیں ہوگا:

(اے) کسی ایسی چوٹ کے بارے میں جو ورکر کی چار دن سے زائد مدت کے لیے مکمل یا جزوی معذوری کا باعث نہ بنے؛

(بی) کسی ایسی چوٹ کے بارے میں جو موت کا باعث نہ بنی ہو اور جو ایسے حادثے کے سبب ہوئی ہو جو مکمل طور پر مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک وجہ سے پیش آیا ہو:

(i) حادثے کے وقت ورکرکا شراب یا منشیات کے زیر اثر ہونا؛ یا

(ii) ورکرکی جانب سے کسی ایسے حکم کی جان بوجھ کر نافرمانی جو ورکرز کی حفاظت کے لیے واضح طور پر دیا گیا ہو، یا کسی ایسے قاعدے کی جان بوجھ کر خلاف ورزی جو ورکرز کی حفاظت کے لیے واضح طور پر بنایا گیا ہو؛ یا

(iii) ورکرکی جانب سے کسی ایسے حفاظتی آلے یا دیگر سہولت کو جان بوجھ کر ہٹانا یا نظر انداز کرنا جس کے بارے میں ورکرجانتا تھا کہ یہ ورکرز کی حفاظت کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

(2) اگر کوئی ورکرایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے جو شیڈول 7 میں بطور پیشہ ورانہ بیماری درج ہے اور جو اس مخصوص ملازمت سے منسلک ہو، بشرطیکہ وہ آجر کی ملازمت میں کم از کم مسلسل چھ ماہ تک رہا ہو، تو اسے دفعہ ہذاکے مفہوم میں حادثے کے نتیجے میں پہنچنے والی چوٹ تصور کیا جائے گا اور جب تک آجر اس کے برعکس ثابت نہ کرے، یہ تصور کیا جائے گا کہ یہ حادثہ ملازمت کے دوران اور اس کے نتیجے میں پیش آیا:بشرطیکہ ذیلی دفعہ ہذا کے مقصد کے لیے ملازمت کی مدت مسلسل تصور نہیں کی جائے گی اگر اس میں کسی دوسرے آجر کے تحت اسی قسم کی ملازمت کا دورانیہ شامل ہو۔

(3) حکومت، سہ فریقی مشاورت کے بعد، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، شیڈول 7 میں ترمیم کر سکے گی۔

(4) جب تک کہ ذیلی دفعات (2) اور (3) میں فراہم نہ کیا گیا ہو، کسی ورکرکو دفعہ ہذاکے تحت کسی پیشہ ورانہ بیماری کے لیے معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ بیماری براہ راست کسی مخصوص حادثاتی چوٹ سے منسلک نہ ہو جو ملازمت کے دوران اور اس کے نتیجے میں پیش آئی ہو۔

(5) یہاں دی گئی کوئی بھی شق کسی ورکرکو کسی ایسی چوٹ کے سلسلے میں معاوضے (زرِتلافی) کا حق دینے کے طور پر نہیں سمجھی جائے گی اگر ورکرنے اسی چوٹ کے لیے آجر یا کسی دوسرے فرد کے خلاف سول عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہو۔

(6) کسی چوٹ کے سلسلے میں کسی عدالت میں ورکرکی طرف سے ہرجانے کا کوئی مقدمہ قابل سماعت نہیں ہوگا:

(اے) اگر ورکرنے مذکورہ چوٹ کے لیے کمشنر کے سامنے معاوضے (زرِتلافی) کا دعویٰ دائر کر رکھا ہو؛ یا

(بی) اگر ورکراور آجر کے مابین مذکورہ چوٹ کے لیے پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے مطابق معاوضے (زرِتلافی) کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی معاہدہ طے پا گیا ہو۔

265۔ معاوضے (زرِتلافی) کی رقم:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے تابع، معاوضے (زرِتلافی) کی رقم درج ذیل ہوگی:

(اے) اگر کسی ورکرکی موت، چوٹ کے نتیجے میں واقع ہو تو، شیڈول 8 کے دوسرے کالم میں ظاہر کردہ رقم؛

(بی) اگر کسی ورکرکی چوٹ کے نتیجے میں مستقل مکمل معذوری واقع ہو تو شیڈول 8 کے تیسرے کالم میں ظاہر کردہ رقم؛

(سی) اگر کسی ورکرکو مستقل جزوی معذوری لاحق ہو:

(i) ایسی صورت میں کہ چوٹ شیڈول 6 میں بیان کی گئی ہو، تو اتنے فیصد معاوضہ جتنا کہ مستقل مکمل معذوری کی صورت میں قابل ادائیگی ہوتا، جو شیڈول میں اس چوٹ کے خلاف درج آمدنی کی صلاحیت میں کمی کے فیصد کے مطابق ہو؛

(ii) ایسی صورت میں کہ چوٹ شیڈول 6 میں بیان کی گئی نہ ہو، تو مستقل مکمل معذوری کی صورت میں قابل ادائیگی معاوضے (زرِتلافی) کا اتنا فیصد جتنا کہ مذکورہ چوٹ کے نتیجے میں مستقل طور پر آمدنی کی صلاحیت میں کمی کے تناسب میں ہو؛ اور

(iii) ایسی صورت میں کہ ایک ہی حادثے کے نتیجے میں ایک سے زیادہ چوٹیں واقع ہوں، تو ضمن ہذامیں قابل ادائیگی معاوضے (زرِتلافی) کی رقم کو جمع کیا جائے گا لیکن کسی بھی حالت میں یہ مجموعی رقم اس رقم سے زیادہ نہیں ہوگی جو مستقل مکمل معذوری کی صورت میں قابل ادائیگی ہوتی۔

(ڈی) ایسی صورت میں کہ عارضی معذوری، خواہ مکمل ہو یا جزوی، چوٹ کے نتیجے میں واقع ہو، تو آدھی ماہانہ ادائیگی اس شرح سے ادا کی جائے گی جو شیڈول 8 کے چوتھے کالم میں ظاہر کی گئی ہے، معذوری کی تاریخ سے چار دن کے انتظار کی مدت کے بعد سولہویں دن سے شروع ہو کر، اور اس کے بعد معذوری کی مدت کے دوران یا پانچ سال کی مدت تک، جو بھی کم ہو، جیسا کہ صراحت کی گئی ہو۔

(2) اگر معذوری اس تاریخ سے پہلے ختم ہو جائے جس دن کوئی آدھی ماہانہ ادائیگی واجب الادا ہوتی ہے، تو اس نصف ماہ کے لیے اس مدت کے تناسب سے رقم ادا کی جائے گی جس کے دوران معذوری برقرار رہی ہو۔

(3) حکومت سہ فریقی مشاورت کے بعد، سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے، شیڈول 8 میں مصرحہ کردہ معاوضے (زرِتلافی) کی رقم میں ترمیم کر سکتی ہے۔

266۔ معاوضۂ کار کے حساب کا طریقہ:۔لفظ"ماہانہ معاوضۂ کار" سے مراد وہ معاوضہ ہے جو ایک ماہ کی ملازمت کے لیے واجب الادا سمجھی جائے گا خواہ اجرت ماہانہ بنیاد پر ہو یا کسی اور مدت پر یا فی کام کی شرح پر ہو، اور جیسا کہ قواعد میں صراحت کی گئی ہو، حساب کیا جائے گا۔

267۔ درخواست کانمونہ:۔(1) کمشنر کے ذریعہ، کسی معاملے کے تصفیہ کے لیے کوئی درخواست، سوائے کسی انحصار کرنے والے فرد یا افراد کی طرف سے معاوضے (زرِتلافی) کی درخواست کے، اس وقت تک دائر نہیں کی جائے گی جب تک کہ فریقین کے مابین اس سلسلے میں کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو گیا ہو جسے وہ باہمی رضامندی سے حل کرنے میں ناکام رہے ہوں۔

(2) کمشنر کو درخواست اس شکل میں دی جا سکتی ہے جیسا کہ قواعد میں صراحت کی گئی ہواور اس کے ساتھ ایسی فیس، اگر کوئی ہو، منسلک کی جائے گی جیسا کہ قواعد میں مصرحہ ہو، اور اس میں، دیگر مصرحہ تفصیلات کے علاوہ، درج ذیل امور شامل ہوں گے:

(اے) اس امر کی مختصر وضاحت کہ درخواست کن حالات میں دی جا رہی ہے اور درخواست گزار کون سا ریلیف یا حکم چاہتا ہے؛

(بی) ایسی صورت میں کہ آجر کے خلاف معاوضے (زرِتلافی) کا دعویٰ ہو، حادثے کے بارے میں آجر کو نوٹس کی ترسیل کی تاریخ اور اگر ایسا نوٹس نہیں دیا گیا یا مصرحہ وقت میں نہیں دیا گیا تو اس کا سبب؛

(سی) فریقین کے نام اور پتے؛ اور

(ڈی) سوائے انحصار کرنے والے فرد کی طرف سے معاوضے (زرِتلافی) کی درخواست کے، ان امور کی مختصر وضاحت جن پر اتفاق ہو چکا ہے اور ان امور کی جن پر اتفاق نہیں ہوا۔

(3) اگر درخواست گزار ناخواندہ ہو یا کسی اور وجہ سے مطلوبہ معلومات تحریری صورت میں فراہم کرنے سے قاصر ہو، تو درخواست، اگر درخواست گزار چاہے تو، کمشنر کی ہدایت پر تیار کی جائے گی۔

268۔ نظرثانی:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت قابل ادائیگی کوئی بھی آدھی ماہانہ ادائیگی، خواہ وہ فریقین کے مابین معاہدے کے تحت ہو یا کمشنر کے حکم کے تحت، آجر یا ورکرکی درخواست پر کمشنر کے ذریعے نظرثانی کے لیے قابل ہو گی بشرطیکہ درخواست کے ساتھ کسی طبی پریکٹیشنر کا سرٹیفکیٹ منسلک ہو کہ ورکرکی حالت میں تبدیلی آئی ہے، یا پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق، بغیر کسی سرٹیفکیٹ کے بھی درخواست دی جا سکتی ہے۔

(2) دفعہ ہذاکے تحت نظرثانی پر، کوئی بھی آدھی ماہانہ ادائیگی، پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے تابع، جاری رکھی جا سکتی ہے، بڑھائی جا سکتی ہے، کم کی جا سکتی ہے یا ختم کی جا سکتی ہے، یا اگر حادثے کے نتیجے میں مستقل معذوری ثابت ہو جائے تو اس رقم کو یکمشت رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جس کا ورکرمستحق ہو، ان رقوم کو منہا کرتے ہوئے جو وہ پہلے ہی آدھی ماہانہ ادائیگیوں کی صورت میں وصول کر چکا ہو۔

269۔ آدھی ماہانہ ادائیگیوں کی یکمشت رقم میں تبدیلی:۔آدھی ماہانہ ادائیگیوں کے حق کو، فریقین کے باہمی اتفاق سے، یا اگر فریقین کے مابین اتفاق نہ ہو اور ادائیگیاں کم از کم چھ ماہ تک جاری رہی ہوں، تو کسی بھی فریق کی درخواست پر کمشنر کے ذریعہ، ایسی یکمشت رقم کی ادائیگی کے ذریعہ بدلاجا سکتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پائے یا حسبِ حال کمشنر کے ذریعہ متعین کی جائے۔

270۔ معاوضے (زرِتلافی) کی تقسیم:۔(1) کسی ورکرکے متعلق جس کی چوٹ، موت کا باعث بنی ہو، معاوضے (زرِتلافی) کی کوئی بھی ادائیگی، اور کسی انحصار کرنے والے فرد یا نااہل فرد کو یکمشت معاوضے (زرِتلافی) کی کوئی بھی ادائیگی، کمشنر کے پاس جمع کرائے بغیر نہ کی جائے گی، اور آجر کی جانب سے براہِ راست کی گئی کوئی بھی ایسی ادائیگی، معاوضے (زرِتلافی) کی ادائیگی تصور نہیں کی جائے گی:بشرطیکہ فوت شدہ ورکرکی صورت میں آجر کسی انحصار کرنے والے فرد کو معاوضے (زرِتلافی) کے حساب سے پیشگی رقم بطور ایڈوانس دے سکتا ہے جو اس فرد کو واجب الادا معاوضے (زرِتلافی) کے دس فیصد سے زیادہ نہ ہو، اور اس پیشگی رقم کو کمشنر ایسے معاوضے (زرِتلافی) سے منہا کر کے آجر کو واپس کرے گا۔

(2) کوئی بھی دیگر رقم، جو غیر ہنر مند ورکرز کے لیے حکومت کی طرف سے مطلع کردہ ایک ماہ کی اجرت سے زیادہ ہو، بطور معاوضہ کمشنر کے پاس متعلقہ فرد کی جانب سے جمع کرائی جا سکتی ہے۔

(3) کمشنر کی جانب سے جاری کردہ وصولی رسید، اس کے پاس جمع کرائے گئے کسی بھی معاوضے (زرِتلافی) کے سلسلے میں کافی تصدیق ہوگی۔

(4) کسی متوفی ورکرکے سلسلے میں جمع کرایا گیا معاوضہ، قواعد کے تحت کسی کٹوتی سے مشروط ہو کر، کمشنر کے صوابدیدی اختیار کے مطابق متوفی ورکر کے انحصار کرنے والے افراد میں یا ان میں سے کسی ایک میں اس تناسب سے تقسیم کیا جائے گا جیسا کہ کمشنر مناسب سمجھے، یا کمشنر کی صوابدید پر کسی ایک انحصار کرنے والے فرد کو مکمل رقم مختص کی جا سکتی ہے۔

271۔ معاوضہ ناقابل منتقلی، ناقابل ضبطی یا ناقابل دعویٰ:۔پنجاب لیبر کوڈ میں فراہم کردہ صورتوں کے علاوہ، کوئی بھی یکمشت رقم یا آدھی ماہانہ ادائیگی جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت واجب الادا ہو، کسی بھی طور پر منتقل نہیں کی جا سکے گی، اس پر کوئی چارج نہیں لگایا جا سکے گا، یہ ضبطی کے لیے قابل نہیں ہوگی اور قانون کے اطلاق سے کسی دوسرے فرد کو منتقل نہیں کی جا سکے گی، اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی کلیم کیا جا سکے گا۔

272۔ نوٹس اور دعویٰ:۔(1) کوئی بھی معاوضے (زرِتلافی) کا دعویٰ کمشنر کے ذریعہ اسی صورت میں قابل سماعت ہوگا جب کہ حادثے کا نوٹس حسب ذیل طریقے سے وقوع پذیر ہونے کے بعد جلد از جلد دیا گیا ہو اور دعویٰ حادثے کے واقع ہونے کی تاریخ سے تین سال کے اندر یا، موت کی صورت میں، موت کی تاریخ سے تین سال کے اندر اس کے سامنے دائر کیا گیا ہو۔

(2) جہاں حادثہ کسی بیماری کے لاحق ہونے کی صورت میں ہو، جس کے لیے دفعہ 264 کی ذیلی دفعہ (2) کے احکام لاگو ہوں، تو ایسا حادثہ ان دنوں میں سے پہلے دن وقوع پذیر سمجھا جائے گا جن کے دوران ورکر مذکورہ بیماری کے باعث لاحق معذوری کی وجہ سے مسلسل کام سے غیر حاضر رہا ہو۔

(3) نوٹس کی عدم فراہمی یا کسی نوٹس میں کوئی نقص یا بے قاعدگی دعویٰ کے قابل سماعت ہونے میں رکاوٹ نہیں بنے گی:

(اے) اگر دعویٰ کسی ایسے ورکرکی موت کے سلسلے میں ہو جو ایسے حادثے کے نتیجے میں فوت ہوا ہو جو آجر کے احاطے میں یا ایسے مقام پر پیش آیا ہو جہاں حادثے کے وقت ورکرآجر یا اس کے کسی ملازم کے زیر کنٹرول کام کر رہا ہو، اور ورکرنے اسی احاطے یا مقام پر یا آجر کی کسی اور جگہ پر وفات پائی ہو، یا حادثے کے مقام یا احاطے کے قرب و جوار کو چھوڑنے سے پہلے وفات پائی ہو؛ یا

(بی) اگر آجر یا متعدد آجرین میں سے کوئی ایک یا کسی تجارتی یا کاروباری شاخ کے انتظام کا ذمہ دار کوئی فرد، جس میں زخمی ورکرملازم تھا، حادثے کے وقت یا اس کے قریب کسی اور ذریعے سے حادثے کی اطلاع رکھتا ہو۔

(4) کمشنر، اگر مطمئن ہو کہ نوٹس دینے یا دعویٰ کرنے میں ناکامی کسی معقول وجہ کی بنا پر ہوئی ہے، تو دفعہ ہذامیں مہیا کردہ وقت کی پابندی کے بغیر کسی بھی معاملے میں معاوضے (زرِتلافی) کے دعویٰ کو سماعت کے لیے قبول اور فیصلہ کر سکتا ہے۔

(5) ہر ایسا نوٹس متاثرہ فرد کا نام و پتہ دے گا اور عام زبان میں چوٹ کی وجہ اور حادثے کے پیش آنے کی تاریخ بیان کرے گا، اور آجر یا متعدد آجرین میں سے کسی ایک یا آجر کی کسی تجارتی یا کاروباری شاخ کے انتظام کے ذمہ دار شخص کو فراہم کیا جائے گا۔

(6) محکمہ کسی مصرحہ زمرے کے آجرین کو ہدایت دے سکتا ہے کہ وہ اپنے ایسے احاطے میں، جہاں ورکرملازم ہوں، ایک نوٹس بک مصرحہ فارم میں رکھیں جو معقول اوقات میں کسی زخمی ورکر یا اس کی طرف سے نیک نیتی سے کام کرنے والے کسی شخص کے لیے باآسانی قابل رسائی ہو۔

(7) دفعہ ہذاکے تحت دیا گیا کوئی بھی نوٹس متعلقہ فرد کی رہائش گاہ، کسی دفتر یا کاروباری مقام پر ذاتی طور پر پہنچا کر، یا رجسٹرڈ ڈاک یا کوریئر سروس کے ذریعہ بھیج کر، یا جہاں نوٹس بک رکھی گئی ہو، اس میں اندراج کر کے دیا جا سکتا ہے۔

273۔ معاوضے (زرِتلافی) کے طور پر ادا شدہ رقم کی منتقلی کے انتظامات:۔(1) حکومت سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن قواعد بنا سکتی ہے جن کے تحت کمشنر کے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت جمع کرائی گئی رقم جو کسی فرد کو ادا کی گئی ہو یا واجب الادا ہو، اس کی وصولی، تقسیم اور انتظام کے لیے کسی دوسرے قانون کے تحت ورکرز کے معاوضے (زرِتلافی) کے ضمن میں جمع کرائی گئی رقم کی وصولی، تقسیم اور انتظام کے لیے منتقلی کا طریق کار وضع کیا جا سکے:بشرطیکہ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مہلک حادثات کے سلسلے میں جمع کرائی گئی کوئی بھی رقم متعلقہ آجر کی رضامندی کے بغیر اس وقت تک منتقل نہیں کی جائے گی جب تک کہ رقم وصول کرنے والے کمشنر نے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اس کی تقسیم اور تفویض کے متعلق احکام جاری نہ کر دیے ہوں۔

(2) جہاں کمشنر کے پاس جمع کرائی گئی رقم کو دفعہ ہذاکے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق منتقل کر دیا گیا ہو، وہاں پنجاب لیبر کوڈ میں دیگر جگہ موجود احکام جو کمشنر کے ذریعہ جمع شدہ معاوضے (زرِتلافی) کی تقسیم سے متعلق ہیں، ایسی رقم کے سلسلے میں قابل اطلاق نہیں ہوں گے۔

274۔ مہلک حادثات سے متعلق آجر سے بیانات طلب کرنے کا اختیار:۔اگر کمشنر کو کسی ذریعے سے یہ اطلاع موصول ہو کہ کسی ورکرکی موت ایسے حادثے کے نتیجے میں ہوئی ہے جو اس کی ملازمت کے دوران اور اس کے سلسلے میں پیش آیا ہو، تو وہ آجر سے مصرحہ طریقے کے مطابق تیس دن کے اندر ایک بیان جمع کرانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

275۔ مہلک حادثے کی رپورٹیں:۔جہاں دفعہ 59 کے تحت آجر کی جانب سے کسی حادثے کی اطلاع دینا لازمی ہو جو آجر کے احاطے میں پیش آیا ہو اور جس کے نتیجے میں موت واقع ہوئی ہو، تو وہ فرد جس پر اطلاع دینا لازم ہے، موت کے سات دن کے اندر کمشنر کو اس کی رپورٹ ارسال کرے گا جس میں موت کے حالات بیان ہوں گے:بشرطیکہ جہاں حکومت نے ایسی صراحت کی ہو، وہاں مذکورہ فرد، کمشنر کو رپورٹ بھیجنے کے بجائے، چیف انسپکٹر کو رپورٹ بھیج سکتا ہے جسے اطلاع دینا ضروری ہو۔

276۔ مجاز افسر معاوضے (زرِتلافی) کی ادائیگی کے لیے مقدمات ریفر کر سکتا ہے:۔ڈائریکٹر لیبر، انسپکٹر یا محکمہ کی طرف سے مجاز کوئی دوسرا افسر، مصرحہ طریقے کے مطابق، ایسے ورکرز کے مقدمات کمشنر کو بھیج سکتا ہے جنہیں آجرین نے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت واجب الادا معاوضہ ادا نہیں کیا ہو۔

277۔ طبی معائنہ:۔جہاں کسی ورکرنے کسی حادثے کی اطلاع دی ہو، تو آجر، نوٹس کی ترسیل کے تین دن کے اندر، ورکرکا کسی طبی پریکٹیشنر سے بلا معاوضہ معائنہ کرائے گا، اور ورکراس معائنے کے لیے حاضر ہوگا، اور وہ ورکرجو باب ہذا کے تحت آدھی ماہانہ ادائیگی حاصل کر رہا ہو، اگر ایسا مطالبہ کیا جائے، تو وقتاً فوقتاً بھی ایسے معائنے کے لیے حاضر ہوگا جیسا کہ قواعد میں صراحت کی ہو:

بشرطیکہ اگر کسی ورکرکا درج بالا کردہ طریقے کے مطابق بلا معاوضہ طبی معائنہ نہ کیا جائے تو وہ خود کسی طبی پریکٹیشنر سے معائنہ کرا سکتا ہے اور ایسے طبی معائنے کے اخراجات آجر کی طرف سے ورکرکو ادا کیے جائیں گے:مزید شرط یہ ہے کہ ورکرکو قواعد کے مطابق دی گئی ہدایات کے سوا کسی اور صورت میں، کسی طبی پریکٹیشنر کے سامنے پیش ہونے کا تقاضا نہیں کیا جائے گا۔

278۔ پرنسپلز کی ذمہ داری:۔(1) جہاں کوئی شخص (جسے دفعہ ہذامیں "پرنسپل" کہا جائے گا) اپنے تجارتی یا کاروباری مقاصد کے دوران یا اس کے لیے کسی دوسرے شخص (جسے دفعہ ہذامیں "کنٹریکٹر" کہا جائے گا) کے ساتھ کسی ایسے کام کی تکمیل کے لیے معاہدہ کرے، جو عمومی طور پر پرنسپل کے کاروبار یا تجارت کا حصہ ہو، خواہ پورا کام ہو یا اس کا کوئی حصہ، اور مذکورہ کام کی انجام دہی میں ملازم کوئی بھی ورکرزخمی ہو، تو پرنسپل اس ورکرکو ایسا معاوضہ ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا جو پرنسپل کو ادا کرنا پڑتا اگر وہ ورکربراہ راست پرنسپل کے ملازم ہوتا، اور جہاں پرنسپل سے معاوضہ کا دعویٰ کیا جائے، وہاں پنجاب لیبر کوڈ اس طرح لاگو ہوگا جیسے "پرنسپل" کے حوالہ جات کو "آجر" کے حوالہ جات سے بدل دیا گیا ہو، سوائے اس کے کہ معاوضے (زرِتلافی) کی رقم ورکر کی اس اجرت کے حساب سے متعین کی جائے گی جو اسے اس آجر کے تحت ملتی تھی جس کا وہ براہ راست ملازم تھا۔

(2) جہاں پرنسپل دفعہ ہذاکے تحت معاوضہ ادا کرنے کا ذمہ دار ہو، تو وہ کنٹریکٹر یا کسی بھی ایسے شخص سے معاوضہ وصول کرنے کا حق رکھتا ہے جس سے ورکرمعاوضہ حاصل کر سکتا تھا۔ اگر کنٹریکٹر خود بھی پرنسپل ہو اور دفعہ ہذاکے تحت معاوضہ ادا کرنے یا پرنسپل کو معاوضہ ادا کرنے کا ذمہ دار ہو، تو وہ کسی ایسے شخص سے، جو اس کے لیے کنٹریکٹر کی حیثیت رکھتا ہو اور جس سے ورکرمعاوضہ حاصل کر سکتا تھا، معاوضہ وصول کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ایسی کسی بھی تلافی (انڈیمنٹی) کے حق اور اس کی رقم کے تعین سے متعلق تمام معاملات، اگر فریقین کے درمیان معاہدہ نہ ہو سکے، تو کمشنر کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔

(3) دفعہ ہذاکی کسی شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ وہ کسی ورکرکو کنٹریکٹر سے بجائے پرنسپل کے معاوضہ حاصل کرنے کے حق سے محروم کرے۔

(4) یہ دفعہ کسی ایسے معاملے پر لاگو نہیں ہوگی جہاں حادثہ پرنسپل کے اس احاطے یا جگہ پر نہ ہوا ہو جہاں پرنسپل نے کام انجام دینے کا ذمہ لیا ہو یا عموماً ذمہ لیتا ہو یا جو اس کے اختیار یا انتظام میں ہو۔

279۔ آجر کا دیوالیہ پن:۔(1) جہاں کوئی آجر کسی بیمہ کنندہ کے ساتھ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت ورکرکے حق میں کسی ذمہ داری کے سلسلے میں بیمہ کا معاہدہ کرے، تو درج ذیل صورتوں میں:

(اے) آجر کا دیوالیہ ہونا یا اپنے قرض خواہوں کے ساتھ کوئی مفاہمت یا بندوبست کرنا؛ یا(بی) اگر آجر ایک کمپنی ہو تو اس کے تحلیل ہونے کی کارروائی شروع ہونا؛

تو آجر کے بیمہ کنندہ کے خلاف اس ذمہ داری کے سلسلے میں تمام حقوق، مروجہ دیوالیہ پن یا کمپنیوں کی تحلیل سے متعلق کسی بھی نافذ العمل قانون کے باوجود، ورکرکو منتقل ہو جائیں گے اور ورکرمیں منتقل ہو کر قائم رہیں گے، اور ایسی منتقلی کے بعد بیمہ کنندہ کو وہی حقوق، ذرائع اور ذمہ داریاں حاصل ہوں گی جیسے وہ آجر ہوتا، بشرطیکہ بیمہ کنندہ ورکرکے خلاف آجر سے زیادہ ذمہ داری کا حامل نہیں ہوگا۔

(2) اگر بیمہ کنندہ کی ورکرکے لیے ذمہ داری آجر کی ذمہ داری سے کم ہو تو ورکربقیہ رقم کے لیے دیوالیہ پن یا تحلیل کی کارروائی میں دعویٰ کر سکتا ہے۔

(3) جہاں کسی ایسے معاملے میں، جیسا کہ ذیلی دفعہ (1) میں ذکر ہوا، آجر کا بیمہ کنندہ کے ساتھ معاہدہ کسی شرط یا قاعدہ (سوائے پریمیم کی ادائیگی سے متعلق شرط کے) کی عدم تعمیل کی بنا پر کالعدم یا منسوخ ہو، تو مذکورہ ذیلی دفعہ کی دفعات ایسے لاگو ہوں گی جیسے وہ معاہدہ کالعدم یا منسوخ نہ ہو، اور بیمہ کنندہ کو ملازم کو ادا کی گئی رقم کے لیے دیوالیہ پن یا تحلیل کی کارروائی میں دعویٰ کرنے کا حق حاصل ہوگا:بشرطیکہ یہ ذیلی دفعہ ایسے کسی معاملے پر لاگو نہیں ہوگی جہاں ورکرنے حادثہ پیش آنے اور کسی بھی لاحق معذوری کی اطلاع بیمہ کنندہ کو ایسے وقت پر نہ دی ہو جو وہ دیوالیہ پن یا تحلیل کی کارروائی شروع ہونے کے بعد مناسب طور پر دے سکتا تھا۔

(4) قانون کمپنیز، 2017 (نمبر19بابت 2017) کے تحت واجب الادا قرضہ جات میں ایسے قرضے تصور کیے جائیں گے جنہیں کسی دیوالیہ فرد کی جائیداد کی تقسیم یا کسی کمپنی کے تحلیل کے دوران دیگر تمام قرضہ جات پر ترجیحی بنیاد پر ادا کیا جانا ہے، ان رقوم کو جو کسی ایسے معاوضے (زرِتلافی) کے سلسلے میں واجب الادا ہوں جس کی ذمہ داری دیوالیہ پن کے حکم یا، حسبِ حال، تحلیل کی کارروائی کے آغاز کی تاریخ سے پہلے عائد ہوئی ہو، اور مذکورہ ایکٹس اسی لحاظ سے مؤثر ہوں گے۔

(5) جہاں معاوضہ نصف ماہانہ ادائیگی کی صورت میں ہو، تو دفعہ ہذاکے مقاصد کے لیے واجب الادا رقم وہ رقم تصور کی جائے گی جو نصف ماہانہ ادائیگی، اگر قابلِ تبدیلی ہو، دفعہ ‎269 کے تحت ایک یکمشت رقم میں تبدیل کیے جانے کی درخواست پر قابلِ ادائیگی ہوتی، اور اس ضمن میں کمشنر کا اس رقم کے تعین کا سرٹیفکیٹ حتمی ثبوت ہوگا۔

(6) ذیلی دفعہ (4) کی دفعات ایسے کسی معاملے میں لاگو ہوں گی جہاں بیمہ کنندہ کو ذیلی دفعہ (3) کے تحت دعویٰ کرنے کا حق حاصل ہو، تاہم بصورت دیگر یہ دفعات ایسے معاملے پر لاگو نہیں ہوں گی جہاں دیوالیہ شخص یا تحلیل شدہ کمپنی نے بیمہ کنندگان کے ساتھ ایسا معاہدہ کر رکھا ہو جیسا کہ ذیلی دفعہ (1) میں ذکر کیا گیا ہے۔

(7) یہ دفعہ ایسے کسی معاملے پر لاگو نہیں ہوگی جہاں کمپنی محض تنظیم نو یا کسی دوسری کمپنی کے ساتھ انضمام کے مقاصد کے لیے رضاکارانہ طور پر تحلیل کی گئی ہو۔

280۔ معاوضے (زرِتلافی) کے بارے میں گوشوارے:۔ہر چھ ماہ کے بعد ورکرز کو ملازمت دینے والا شخص، ڈائریکٹر لیبر اور کمشنر کو ایسے فارم میں ایک درست گوشوارہ ارسال کرے گا جس میں ان چوٹوں کی تعداد جن کے سلسلے میں گزشتہ سال کے دوران آجر کی طرف سے معاوضہ ادا کیا گیا ہو، اور ایسے معاوضے (زرِتلافی) کی رقم اور اس سے متعلق دیگر ضروری تفصیلات شامل ہوں گی۔

281۔ حقِ معاوضہ سے دستبرداری کا معاہدہ کالعدم:۔پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ سے پہلے یا بعد میں کیا گیا کوئی بھی معاہدہ یا قرارداد، جس کے تحت کوئی ملازم اپنے آجر سے ملازمت کے دوران پیش آنے والی ذاتی چوٹ کے لیے معاوضہ کے حق سے دستبردار ہو، اس حد تک کالعدم اور بے اثر ہوگی کہ وہ کسی شخص کی پنجاب لیبر کوڈ کے تحت معاوضہ ادا کرنے کی ذمہ داری کو ختم یا کم کرنے کی کوشش کرے۔

282۔ عمر کا ثبوت:۔جہاں کسی شخص کی عمر کے بارے میں سوال پیدا ہو، جسے ملازمت کے دوران اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے کسی حادثے میں چوٹ پہنچی ہو، تو اس شخص کی عمر کے بارے میں سروسز ہسپتالوں کے کسی میڈیکل بورڈ یا سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے چوٹ واقع ہونے سے قبل جاری کردہ قابلِ قبول سند حتمی ثبوت ہوگی۔

283۔ معاہدات کی رجسٹریشن:۔(1) جہاں کسی یکمشت رقم کی ادائیگی بطور معاوضہ کسی معاہدے کے ذریعے طے پائے، خواہ نصف ماہانہ ادائیگی کے متبادل کے طور پر ہو یا بصورت دیگر، یا جہاں کوئی معاوضہ کسی معذور ورکرکو بطور ادائیگی طے کیا گیا ہو، تو اس معاہدے کا ایک میمورنڈم آجر کمشنر کو ارسال کرے گا، جو اس کی صداقت سے مطمئن ہونے کے بعد اسے مصرحہ طریق کار کے مطابق ایک رجسٹر میں درج کرے گا۔

بشرطیکہ:

(اے) ایسا کوئی میمورنڈم فریقین کو کمشنر کی طرف سے نوٹس کی ترسیل کے سات دن بعد سے پہلے درج نہیں کیا جائے گا؛

(بی) کمشنر کسی بھی وقت رجسٹر میں تصحیح کر سکے گا؛ اور

(سی) اگر کمشنر کو یہ معلوم ہو کہ یکمشت رقم کی ادائیگی یا معذور ورکرکے لیے معاوضے (زرِتلافی) کی رقم کا معاہدہ رقم کے ناکافی ہونے کی وجہ سے، یا اس وجہ سے کہ وہ دھوکہ دہی، ناجائز اثر یا کسی اور نامناسب طریقے سے حاصل کیا گیا ہے، رجسٹر نہیں کیا جانا چاہیے تو وہ مذکورہ معاہدے کا میمورنڈم درج کرنے سے انکار کر سکتا ہے اور ایسا کوئی بھی حکم جاری کر سکتا ہے، بشمول پہلے سے ادا شدہ رقم کے بارے میں حکم، جو وہ حالات کے مطابق مناسب سمجھے۔

(2) کسی معاوضے (زرِتلافی) کی ادائیگی کے لیے کیا گیا ایسا معاہدہ جو ذیلی دفعہ (1) کے تحت رجسٹرڈ کیا گیا ہو، وہ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت نافذ العمل ہوگا، قطع نظر اس کے کہ معاہدہ قانون، 1872 یا فی الوقت نافذ العمل کسی دوسرے قانون میں اس کے برعکس کوئی شرط موجود ہو۔

284۔ معاہدے کے اندراج میں ناکامی کا اثر:۔اگر کسی ایسے معاہدے کا میمورنڈم، جس کا اندراج دفعہ ‎283 کے تحت درکار ہو، کمشنر کو ارسال نہ کیا جائے تو آجر اس مکمل رقم کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت معاوضے (زرِتلافی) کے طور پر واجب الادا ہے اور دفعہ ‎265 کی ذیلی دفعہ (1) کے شرطیہ حصے میں موجود کسی امر کے باوجود، آجر، جب تک کہ کمشنر بصورت دیگر ہدایت نہ دے، ورکرکو معاہدے کے تحت یا بصورت دیگر ادا کی گئی کسی بھی رقم کا آدھے سے زیادہ حصہ منہا نہیں کرے گا۔

باب 5.7 – انفراسٹرکچر سہولیات

285۔ تعریفات:۔مندرجہ ذیل اصطلاحات کے وہ معانی ہوں گے جو ان کے ساتھ بالترتیب درج ذیل طور پر منسلک ہیں:

(اے) "ضروری اشیاء" سے مراد وہ اشیاء ہیں جو شیڈول 9 میں درج ہیں؛

(بی) "مناسب قیمت" سے مراد وہ قیمت ہے جس پر آجر نے کوئی ضروری شے خریدی یا حاصل کی ہو، یا وہ کنٹرولڈ قیمت جو حکومت نے مذکورہ ضروری شے کے لیے مقرر کی ہو، ان میں سے جو بھی کم ہو، اور جہاں کوئی ضروری شے کسی ادارے میں تیار یا پیدا کی گئی ہو اور اس ادارے کی مناسب قیمت کی دکان کے لیے فراہم کی جا رہی ہو، اس شے کی ایکس-فیکٹری تھوک قیمت؛ اور

(سی) "مناسب قیمت کی دکان" (فیئر پرائس شاپ) سے مراد وہ دکان ہے جو آجر نے اپنے ملازمین کے لیے کسی ادارے کے اندر یا اس کے قریب مناسب قیمت پر ضروری اشیاء کی فروخت کے لیے قائم اور برقرار رکھی ہو، اور اس میں وہ کمرہ یا جگہ بھی شامل ہے جہاں ضروری اشیاء کا ذخیرہ رکھا یا محفوظ کیا جاتا ہو۔

286۔ فیئر پرائس شاپس کا قیام:۔ہر ایسا آجر جو پانچ سو سے زائد ملازمین کو ملازمت دیتا ہو، وہ اس کے اطلاق کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر اپنے ورکرز کے لیے ایک مناسب قیمت کی دکان، قواعد میں مصرحہ کردہ تصریحات کے مطابق، قائم اور برقرار رکھے گا:

بشرطیکہ چیف انسپکٹر کسی معقول وجہ کی بنیاد پر تحریری حکم کے ذریعے کسی ادارے یا اداروں کی کسی قسم کے لیے مذکورہ مدت میں توسیع کر سکتا ہے:

مزید شرط یہ ہے کہ کسی ایک شہر میں کسی ادارے کی تمام شاخوں کو اس باب کی دفعات کے مقاصد کے لیے ایک ہی ادارہ تصور کیا جائے گا۔

287۔ ڈے کیئر اور بچوں کو دودھ پلانے کی سہولیات:۔(1) ہر ایسا آجر جو پچاس یا اس سے زیادہ افراد کو ملازمت دیتا ہو، اپنے ایسے ملازمین کے چھ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے ایک موزوں ڈے کیئر سہولت فراہم کرے گا اور فراہم کردہ جگہ قواعد میں مصرحہ کردہ شرائط کے مطابق ہوگی۔

(2) بچوں کی عمر کے مطابق، ڈے کیئر سہولت بچوں کو دودھ پلانے یا فیڈنگ کے لیے بھی استعمال کی جائے گی، جس کے لیے حفظانِ صحت اور نجی ماحول میں ماؤں کے لیے پردے کی تنصیب لازمی ہوگی۔

(3) جہاں اداروں کا ایک جھرمٹ موجود ہو، وہاں متعدد آجر مشترکہ طور پر اپنے ملازمین کے لیے ڈے کیئر سہولیات کا انتظام کر سکتے ہیں یا کسی نجی ڈے کیئر سینٹر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں، جس کے اخراجات آجر برداشت کرے گا، بشرطیکہ مذکورہ سہولت پانچ سو میٹر کے دائرہ کار میں ہو۔

288۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے لیبر کیمپ:۔ہر ایسا آجر جو کسی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے پر دو سو پچاس یا اس سے زیادہ ورکرز کو ملازمت دے رہا ہو، قواعد میں مصرحہ کردہ دفعات کے مطابق ایک لیبر کیمپ قائم کرے گا۔

289۔ قواعد وضع کرنے کا اختیار:۔حکومت، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، اس حصے کے مقاصد کے لیے قواعد وضع کر سکتی ہے۔

حصہ ششم

باب 6.1۔تنازعہ تصفیہ کے ادارے

اے۔ میڈی ایٹرز (مفاہمت کار)

290۔ میڈی ایٹرز (مفاہمت کار):۔(1) محکمہ، سروس، تقرری، معاوضہ، ہراسانی، حفاظت اور ترقی سے متعلق انفرادی لیبر تنازعات کے حوالے سے شکایات کے حل کے لیے متبادل تنازعات کے تصفیہ کے طریقے استعمال کر سکتا ہے:بشرطیکہ دفعہ ہذاکے مقاصد کے لیے "متبادل تنازعات کے تصفیہ" سے مراد میڈی ایشن (مفاہمت کاری) اور مذاکرات ہوں گے۔

(2) محکمہ، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے، جتنے افراد کو ضروری سمجھے، انہیں میڈی ایٹر (مفاہمت کار) مقرر کرے گا اور ہر ایک میڈی ایٹر (مفاہمت کار) کے متعلق نوٹیفکیشن میں وہ علاقہ یا اداروں یا صنعتوں کی وہ قسم واضح طور پر بیان کرے گا جن سے متعلق وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا۔

(3) میڈی ایٹر (مفاہمت کار)، قواعد کے تحت مقرر کردہ طریق کار اختیار کرے گا۔

بی۔ مصالحت کار اور مصالحتی بورڈ

291۔ مصالحت کار:۔(1) محکمہ، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، پنجاب لیبر کوڈ کے تحت صنعتی تنازعات کے سلسلے میں جتنے افراد کو ضروری سمجھے، انہیں مصالحت کار مقرر کرے گا اور ہر ایک کے متعلق نوٹیفکیشن میں وہ علاقہ یا اداروں یا صنعتوں کی وہ قسم بیان کرے گا جن سے متعلق وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے گا:بشرطیکہ جس علاقہ کے لیے کسی مصالحت کار کو مقرر کیا جائے، وہ اس علاقے کا انسپکٹر نہ ہو۔

(2) اگر کسی لازمی خدمت یا عوامی سہولت کی خدمت میں صنعتی تنازع پیدا ہو جائے تو محکمہ، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، دو سینئر افسران (جو بی۔ایس۔ 18 سے کم نہ ہوں) پر مشتمل ایک مصالحتی بورڈ مقرر کر سکتا ہے۔

(3) ایسا مقرر کردہ مصالحتی بورڈ اس وقت تحلیل ہو جائے گا جب فریقین کے مابین کامیاب مصالحتی کارروائی کے ذریعے اجتماعی معاہدہ طے پا جائے، یا جب مصالحتی کارروائی ناکام ہو جائے، جس وقت مصالحتی بورڈ ناکامی کا سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا۔

(4) ذیلی دفعہ (3) کے تحت ناکامی کا سرٹیفیکیٹ جاری ہونے پر، محکمہ، معاملہ دفعہ ‎355 کے تحت لیبر کورٹ کو ارسال کر سکتا ہے۔

سی۔ ثالثین

292۔ ثالثین کی تقرری:۔(1) کسی ثالث کو درج ذیل میں سے کسی ذریعے سے مقرر کیا جا سکتا ہے:(اے) فریقین خود؛ یا(بی) اگر فریقین متفق نہ ہو سکیں، تو حکومت، ذیلی دفعہ (2) میں فراہم کردہ ثالثین میں سے کسی کو مقرر کرے گی۔

(2) حکومت، سماجی شراکت داروں سے مشاورت کے بعد، ایسے آزاد ثالثین کا ایک پینل قائم کرے گی جو قواعد میں مقرر کردہ اہلیت پر پورا اترتے ہوں۔

ڈی۔ ادائیگی اجرت کی اتھارٹی

293۔ اجرت کی ادائیگی کی اتھارٹی:۔(1) حکومت، محکمہ کی سفارش پر، کسی ملازمین معاوضہ کمشنر یا ڈائریکٹوریٹ جنرل لیبر ویلفیئر یا مائنز لیبر ویلفیئر کمشنریٹ کے کسی بی۔ایس۔ 17 سے کم نہ ہونے والے افسر کو کسی مخصوص علاقے کے لیے اجرت کی ادائیگی کی اتھارٹی مقرر کر سکتی ہے تاکہ اس علاقے میں کام کرنے یا ادائیگی پانے والے افراد کے متعلق کم معاوضہ، نوٹیفکیشن کردہ کم از کم اجرت کے ریٹس سے کم ادائیگی، معاوضے (زرِتلافی) سے کٹوتی، یا پراویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی، بونس، اوورٹائم، چھٹی کی نقد ادائیگی، نوٹس پے، سفری الاؤنس یا کسی قانون کے تحت قابلِ ادا کسی اور مالی فائدے کی عدم ادائیگی یا اجرت کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق تمام دعووں کی سماعت اور فیصلہ کر سکے۔

(2) مذکورہ اتھارٹی کو شہادت لینے اور گواہوں کی حاضری یقینی بنانے اور دستاویزات کی پیشی کو مجبور کرنے کے لیے دیوانی عدالت کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے جیسا کہ مجموعہ ضابطہ دیوانی، 1908 (قانون نمبر 5 بابت 1908) میں مہیا کیا گیا ہے، اور ایسی ہر اتھارٹی کو مجموعہ ضابطہ فوجداری، 1898 (قانون نمبر 5 بابت 1898) کی دفعہ 195 اور باب 35 کے تمام مقاصد کے لیے فوجداری عدالت تصور کیا جائے گا۔

(3) اتھارٹی کو قانون لینڈ ریونیو پنجاب 1967 (قانون نمبر17 بابت 1967) یا اس وقت نافذ العمل کسی دوسرے قانون کے تحت گریڈ اول کے اسسٹنٹ کلیکٹر کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے ایسے اختیارات استعمال کر سکے گی۔

ای۔ کام کی جگہ کا معاوضہ کمشنر

294۔ کمشنر کی تقرری اور اختیارات:۔(1) حکومت، محکمہ کی سفارش پر، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، ڈائریکٹوریٹ جنرل لیبر ویلفیئر یا مائنز لیبر ویلفیئر کمشنریٹ کے کسی بی۔ایس۔ 17 یا اس سے اوپر کے عہدہ دار کو ایسے مقامی علاقے کے لیے، جو نوٹیفکیشن میں متعین کیا جائے، کام کی جگہ کا معاوضہ کمشنر مقرر کر سکتی ہے۔

(2) جہاں کسی مقامی علاقے کے لیے ایک سے زیادہ کمشنر مقرر کیے گئے ہوں، وہاں حکومت عمومی یا خصوصی حکم کے ذریعے ان کے درمیان کام کی تقسیم کا انتظام کر سکتی ہے۔

(3) کوئی بھی کمشنر، پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اپنے فیصلہ کے لیے اس کے سپرد کیے گئے کسی معاملے کے فیصلے کے لیے، ایسے ایک یا زیادہ افراد کو، جو اس معاملے سے متعلقہ کسی امر میں خصوصی علم رکھتے ہوں، اپنی مدد کے لیے منتخب کر سکتا ہے۔

(4) کمشنر کو شہادت لینے، گواہوں کی حاضری کو یقینی بنانے اور دستاویزات کی پیشی کے لیے مجموعہ ضابطہ دیوانی، 1908 (قانون نمبر 5 بابت 1908) کے تحت دیوانی عدالت کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے، اور ہر ایسا کمشنر مجموعہ ضابطہ فوجداری، 1898 (قانون نمبر 5 بابت 1898) کی دفعہ 195 اور باب 35 کے تمام مقاصد کے لیے فوجداری عدالت تصور کیا جائے گا۔

(5) کمشنر کو قانون لینڈ ریونیو پنجاب 1967 (قانون نمبر17 بابت 1967) یا اس وقت نافذ العمل کسی دوسرے قانون کے تحت گریڈ اول کے اسسٹنٹ کلیکٹر کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے ایسے اختیارات استعمال کر سکے گا۔

(6) ذیلی دفعہ (5) کی دفعات پر اثر انداز ہوئے بغیر، کمشنر مصرحہ طریق کار کے مطابق، کسی واجب الادا رقم کو، جو اس میں مذکور ہے، اس شخص کی منقولہ جائیداد کی ضبطی اور نیلامی کے ذریعے، یا اس شخص کی غیر منقولہ جائیداد کی قرقی اور نیلامی کے ذریعے وصول کر سکتا ہے جس کے ذمہ وہ رقم واجب الادا ہے۔

(7) کمشنر کسی شخص کے ذمے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت واجب الادا کسی بھی رقم کو، خواہ معاوضہ کی ادائیگی کے معاہدے کے تحت ہو یا بصورت دیگر، بحیثیت اراضی محصول کی بقایا جات کے وصول کر سکتا ہے اور کمشنر کو ریونیو ریکوری ایکٹ، 1890 (قانون نمبر 1 بابت 1890) کی دفعہ 5 کے مفہوم میں ایک پبلک آفیسر تصور کیا جائے گا۔

(8) کوئی کمشنر اگر مناسب سمجھے تو، کسی قانونی سوال کو فیصلے کے لیے ٹربیونل کو ارسال کر سکتا ہے اور اگر ایسا کرے تو وہ سوال اس فیصلے کے مطابق طے کرے گا۔

(9) ہر کمشنر، تعزیرات پاکستان، 1860 (قانون نمبر 45 بابت 1860) کے مفہوم میں ایک پبلک سرونٹ تصور کیا جائے گا۔

ایف۔ مخصوص اقسام کے ورکرز کے لیے تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹی

295۔ مخصوص اقسام کے ورکرز کے لیے تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹی:۔(1) محکمہ، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، مخصوص اقسام کے ورکرز کے لیے علیحدہ سہ فریقی-پلس تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹیاں (جنہیں بعد ازاں "تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹی" کہا جائے گا) مقرر کر سکتا ہے، جن کے اراکین کی تعداد، چیئرپرسن اور سطح قواعد میں مصرحہ طریقے کے مطابق ہو گی، تاکہ کسی مخصوص علاقے میں حصہ چہارم کے نفاذ سے متعلق انفرادی مقدمات میں تمام دعووں، شکایات اور تنازعات کی سماعت اور فیصلہ کر سکیں۔

(2) حکومت، تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹیوں کے قیام اور ان کے مؤثر کام کے لیے فنڈز مختص کرے گی۔

296۔ تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹیوں کے اختیارات:۔ہر تنازعات کے تصفیہ کی کمیٹی کو، پنجاب لیبر کوڈ یا قواعد کے تحت کسی تنازع یا شکایت کے حوالے سے انکوائری کرتے وقت، مجموعہ ضابطہ دیوانی، 1908 (قانون نمبر 5 بابت 1908) کے تحت دیوانی عدالت کو حاصل ذیل کے اختیارات حاصل ہوں گے:

(اے) پنجاب لیبر کوڈ کی متعلقہ دفعات پر عملدرآمد؛(بی) کسی شخص کی حاضری پر مجبور کرنا اور اسے حلف پر بیان دینے کے لیے طلب کرنا؛(سی) دستاویزات اور مادی اشیاء کی پیشی پر مجبور کرنا؛(ڈی) گواہوں کے معائنہ کے لیے کمیشن جاری کرنا؛ اور(ای) دیگر ایسے امور، جن کی صراحت کی جائے۔

باب 6.2 – لیبر کورٹ اور لیبر اپیلٹ ٹربیونل

اے۔ لیبر کورٹ

297۔ لیبر کورٹ:۔(1) حکومت، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، جتنی لیبر کورٹس ضروری سمجھے قائم کر سکتی ہے اور اگر ایک سے زیادہ لیبر کورٹس قائم کرے تو نوٹیفکیشن میں ان کی حدودِ اختیار یا وہ صنعتیں یا مقدمات کی وہ اقسام جن کے سلسلہ میں ہر لیبر کورٹ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اختیارِ سماعت رکھے گی، متعین کرے گی۔

(2) ہر لیبر کورٹ ایک پریزائیڈنگ آفیسر پر مشتمل ہوگی جس کی تقرری حکومت کرے گی۔

(3) کوئی شخص اس وقت تک پریزائیڈنگ آفیسر ہونے کا اہل نہیں ہوگا جب تک وہ ضلع و سیشن جج نہ ہو۔

(4) لیبر کورٹ:

(اے) ایسے کسی تنازعہ کا فیصلہ کرے گی اور اسے طے کرے گی جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اس کے سامنے لایا گیا ہو یا جسے اس کے سپرد کیا گیا ہو، بشمول باب ‎6.5 کے تحت مقدمات؛

(بی) باب ‎6.6 کے تحت اپیلیں سنے گی؛

(سی) پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزیوں کی سماعت کرے گی، بشمول باب ‎6.7 میں درج خلاف ورزیاں اور کسی دیگر قانون کے تحت ایسے دیگر جرائم جو حکومت سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن مقصد ہذاکے لیے متعین کرے؛

(ڈی) باب ‎2.6 کی شہ سرخی ڈی کے تحت ہڑتالوں سے متعلق احکامات جاری کرے گی؛

(ای) ایسے مقدمات سے نمٹے گی جودفعات ‎77 اور ‎78 میں درج آجران، ورکرز، ٹریڈ یونینز یا ان میں سے کسی کے یا ان کی جانب سے کام کرنے والے کسی شخص کے انفرادی یا اجتماعی طور پر غیر منصفانہ لیبر پریکٹسز سے متعلق ہوں، جیسا کہ دفعہ ‎335 یا دفعہ ‎337 کے تحت یا کسی دوسرے طریق سے مقرر کیا گیا ہو؛ اور

(ایف) وہ دیگر اختیارات اور فرائض سرانجام دے گی جو پنجاب لیبر کوڈ یا کسی دیگر قانون کے تحت اسے تفویض یا سونپے ہوں یا کیے جا سکتے ہوں۔

298۔ لیبر کورٹ کا طریق کار:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے تابع، کسی جرم کی سماعت کے دوران، لیبر کورٹ، مجموعہ ضابطہ فوجداری، 1898 (قانون نمبر 5 بابت 1898) کے تحت مقرر کردہ سمری طریق کار کے مطابق، حتی الامکان، عمل کرے گی۔

(2) لیبر کورٹ میں کسی بھی دستاویز کے داخل کرنے، پیش کرنے یا اندراج کے لیے کوئی عدالتی فیس قابلِ ادا نہ ہوگی۔

(3) اگر کسی مقدمے کے فریقین، کسی بھی مرحلہ پر، قبل اس کے کہ لیبر کورٹ آخری حکم صادر کرے، عدالت کو مطمئن کر دیں کہ فریقین کے مابین باہمی رضامندی سے معاملہ طے پا گیا ہے اور مقدمہ واپس لینے کے لیے کافی وجوہات موجود ہیں، تو لیبر کورٹ ایسی واپسی کی اجازت دے سکتی ہے۔

(4) اگر لیبر کورٹ، چیف انسپکٹر یا انسپکٹر کی جانب سے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت دائر کیے گئے کسی مقدمے کی سماعت کے دوران یہ رائے قائم کرے کہ یہ ایسا مقدمہ ہے جسے استغاثہ کی بجائے دفعہ ‎61 کے تحت باضابطہ تحقیقات کے لیے بھیجا جانا چاہیے تو وہ فوجداری کارروائی معطل کر کے حکومت کو اس معاملے میں تحقیقات کی ہدایت کے لیے رپورٹ بھیج سکتی ہے۔

299۔ لیبر کورٹ کے اختیارات:۔(1) لیبر کورٹ، کسی تنازعہ کو باب ‎6.5 کے تحت یا بصورت دیگر طے کرنے اور فیصلے کے لیے، دیوانی عدالت تصور کی جائے گی اور اسے مجموعہ ضابطہ دیوانی، 1908 (قانون نمبر 5 بابت 1908) کے تحت ایسی عدالت کو حاصل اختیارات حاصل ہوں گے، بشمول:

(اے) کسی بھی شخص کی حاضری کو یقینی بنانا اور اسے حلف پر بیان دینے کے لیے طلب کرنا؛

(بی) دستاویزات اور مادی اشیاء کی پیشی پر مجبور کرنا؛ اور

(سی) گواہوں یا دستاویزات کے معائنہ کے لیے کمیشن جاری کرنا۔

(2) لیبر کورٹ، پنجاب لیبر کوڈ کے باب ‎6.7 کے تحت یا بصورتِ دیگر کسی خلاف ورزی کے مقدمے کی سماعت کے لیے، فرسٹ کلاس کے مجسٹریٹ کو مجموعہ ضابطہ فوجداری، 1898 (قانون نمبر 5 بابت 1898) کی دفعہ 30 کے تحت حاصل اختیارات کے برابر اختیارات رکھے گی۔

300۔ تدارکی احکامات جاری کرنے کا اختیار:۔(1) دفعہ ‎299 کے تحت آرڈر کے علاوہ، لیبر کورٹ، اگر مطمئن ہو، تو حسبِ ذیل احکامات جاری کر سکتی ہے:

(اے) کسی خلاف ورزی کے اثرات کو روکنے، بند کرنے یا ان کا ازالہ کرنے کے لیے حکمِ امتناعی یا عبوری حکمِ امتناعی جاری کرنا؛

(بی) کسی شخص کو کسی ریگولیٹری ایجنسی یا انسپکٹر کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کرنے پر مجبور کرنا یا کسی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو اس سے باز رکھنا؛

(سی) کسی شخص کو خلاف ورزی کی وجہ سے ہونے والے نقصان، بشمول ضائع شدہ تنخواہ، کی تلافی کے لیے معاوضہ دینا؛

(ڈی) کسی شخص کو ملازمت پر رکھوانا یا بحال کرانا؛

(ای) کسی شخص کو کسی مخصوص عہدے پر تعینات کرنا؛

(ایف) کسی شخص کو درج ذیل اقدامات کرنے کا حکم دینا:

(i) ورکرز کی سیفٹی اینڈ ہیلتھ میں عمومی بہتری کے لیے مخصوص منصوبہ، مصرحہ مدت کے اندر، مکمل کرنا؛ یا

(ii) کسی مخصوص شخص یا مخصوص طبقے کو، آرڈر میں متعین طریقے سے، خلاف ورزی، اس کے نتائج، عائد کردہ سزا اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں مطلع کرنا؛

(جی) کسی شخص کو، جب تک خلاف ورزی جاری رہے، چائلڈ لیبر یا جبری، غلامانہ یا لازمی مشقت سے متعلق کسی سرگرمی یا عمل کو معطل کرنے، یا کسی فوری یا متوقع خطرے سے انسانی صحت یا سلامتی کو لاحق سنگین خطرے والی سرگرمی کو معطل کرنے کا حکم دینا۔

(4) کسی شخص کی بحالی کے لیے دیا گیا حکم ایسا ہوگا کہ برخاستگی کے وقت اس شخص کا آجر اس شخص کو درج ذیل طریقے سے بحال کرے:

(اے) اس عہدے پر دوبارہ تقرری کرنا جس پر وہ برخاستگی سے فوراً قبل کام کر رہا تھا؛ یا

(بی) کسی دوسرے عہدے پر تعیناتی کرنا، بشمول ایسے متعلقہ ادارے میں جو آجر کے زیرِ انتظام ہو، اور ایسی شرائط و ضوابط پر جو برخاستگی سے فوراً قبل کی ملازمت سے کم نہ ہوں۔

(5) اگر لیبر کورٹ ذیلی دفعہ (1) کے تحت کوئی حکم جاری کرے تو وہ درج ذیل کے تحفظ کے لیے بھی حکم صادر کر سکتی ہے:

(اے) کسی شخص کی ملازمت کا جاری رہنا؛ اور

(بی) آجر یا کسی متعلقہ ادارے میں اس شخص کی مسلسل سروس کی مدت۔

(6) لیبر کورٹ، دفعہ ہذاکے تحت، درج ذیل صورتوں میں حکم جاری کر سکتی ہے:

(اے) از خود، اپنے سامنے زیرِ سماعت کارروائی کے دوران؛ یا

(بی) کسی درخواست پر۔

(7) لیبر کورٹ عبوری ریلیف کے لیے عبوری احکامات جاری کر سکتی ہے۔

(8) لیبر کورٹ کی طرف سے جاری کردہ کوئی بھی عبوری حکم بیس دن کے بعد از خود منسوخ تصور ہوگا، الّا یہ کہ لیبر کورٹ تحریری طور پر وجوہات ریکارڈ کرتے ہوئے، ہر بار زیادہ سے زیادہ بیس دن کے لیے، اس میں توسیع کرے۔

301۔ لیبر کورٹ کی کارروائی کا آغاز اور اختتام:۔(1) لیبر کورٹ میں کارروائی اس تاریخ سے شروع تصور کی جائے گی جب یہ مقدمہ لیبر کورٹ کو بھجوایا جائے۔

(2) لیبر کورٹ میں کارروائی اس تاریخ کو ختم تصور کی جائے گی جس دن فیصلہ یا ایوارڈ دیا جائے۔

302۔ لیبر کورٹ کے ایوارڈز اور فیصلوں کی صورت:۔(1) لیبر کورٹ کا کوئی بھی ایوارڈ یا فیصلہ تحریری صورت میں دیا جائے گا اور اوپن کورٹ میں سنایا جائے گا اور اس کی دو نقلیں فوری طور پر فریقین کو بھیجی جائیں گی۔

(2) دفعہ ‎303 کے تابع اور پنجاب لیبر کوڈ میں بصراحت طور پر فراہم کردہ دیگر صورتوں کے سوا، لیبر کورٹ کے تمام ایوارڈز، فیصلے اور سزائیں حتمی ہوں گی اور انہیں کسی بھی عدالت یا دیگر اتھارٹی کے روبرو کسی بھی طریقے سے چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

303۔ ٹربیونل میں اپیل کا حق:۔کوئی بھی فریق جو باب ‎6.5 یا باب ‎6.7 کے تحت دیے گئے کسی حتمی ایوارڈ، فیصلے یا سزا سے متاثر ہو، ماسوائے:

(اے) عبوری حکم؛ یا(بی) دفعہ ‎346 کے تحت دیا گیا فیصلہ؛

متاثرہ فریق، حتمی ایوارڈ، فیصلہ یا سزا کی ترسیل کے تیس دن کے اندر، ٹربیونل میں اپیل دائر کر سکتا ہے، جس پر ٹربیونل کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

بی۔ لیبر اپیلٹ ٹربیونل

304۔ لیبر اپیلٹ ٹربیونل:۔(1) حکومت، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، جتنے ٹربیونلز ضروری سمجھے قائم کر سکتی ہے، ہر ایک میں ایک رکن ہوگا جو لاہور ہائی کورٹ کے جج یا ایڈیشنل جج رہ چکا ہو، اور اگر ایک سے زائد ٹربیونل قائم کیے جائیں تو حکومت اپنے نوٹیفکیشن میں ان کے علاقائی حدود یا کیسز کی اقسام کا تعین کرے گی جن کے لیے ہر ٹربیونل کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اختیار حاصل ہوگا۔

(2) ٹربیونل کے رکن کی تقرری کی شرائط و ضوابط حکومت طے کرے گی۔

(3) ٹربیونل، اپیل پر، کسی بھی ایوارڈ، فیصلے یا سزا کو جو کہ باب ‎6.5 اور ‎6.7 سمیت دی گئی ہو، برقرار رکھ سکتا ہے، منسوخ کر سکتا ہے، اس میں رد و بدل یا ترمیم کر سکتا ہے، اور وہ تمام اختیارات استعمال کرے گا جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت عدالت کو حاصل ہیں۔

(4) ٹربیونل اپیل دائر ہونے کے ایک سو بیس دن کے اندر فیصلہ کرے گا، بشرطیکہ کسی تاخیر کی صورت میں بھی اس کا فیصلہ کالعدم نہ ہو۔

(5) ٹربیونل وہ طریق کار اختیار کرے گا جو قواعد کے تحت تجویز کیا گیا ہو۔

(6) اگر ٹربیونل یا لیبر کورٹ کے فیصلوں یا احکامات پر عملدرآمد نہ ہو تو ٹربیونل ایسا نہ کرنے والے شخص کو کم از کم تین پینلٹی یونٹس بطور جرمانہ سزا دے سکتا ہے۔

(7) جو شخص ذیلی دفعہ (6) کے تحت سزا پائے، وہ سزا کے نفاذ کے تیس دن کے اندر لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔

(8) ٹربیونل، اپنی اپیلیٹ حدود کے تابع رہتے ہوئے، کسی فریق کی درخواست پر، کسی بھی درخواست یا کارروائی کو ایک لیبر کورٹ سے دوسری لیبر کورٹ میں منتقل کر سکتا ہے۔

(9) باوجود اس کے کہ ذیلی دفعہ (4) میں کچھ بھی مذکور ہو، اگر کسی لیبر کورٹ کے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کی جائے جو کسی ورکرکی بحالی کا حکم دے، اور ٹربیونل اس حکم کے نفاذ پر حکمِ التواء جاری کرے، تو ٹربیونل ایسی اپیل پرنوے دن کے اندر فیصلہ کرے گا۔

(10) اگر ذیلی دفعہ (9) کے تحت اپیل پر نوے دن میں فیصلہ نہ ہو، تو ٹربیونل کا عبوری حکم اس مدت کے اختتام پر خود بخود کالعدم ہو جائے گا۔

باب 6.3 – مشاورتی اور ریگولیٹری ایجنسیز

اے۔ صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل

305۔ صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کا قیام:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ کے بارہ ماہ کے اندر، حکومت، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، ایک صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل قائم کرے گی، جو مندرجہ ذیل ارکان پر مشتمل ہوگی جنہیں حکومت مقرر کرے گی:

(اے) محکمہ کے سیکرٹری۔

چیئرپرسن

(بی) محکمہ کے ایڈیشنل سیکرٹری۔

رکن

(سی) ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر، پنجاب۔

رکن

(ڈی) کمشنر، پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوشن۔

رکن

(ای) سیکرٹری، پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ۔

رکن

(ایف) سیکرٹری، پنجاب منیمم ویجز بورڈ۔

رکن

(جی) ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹرز، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لیبر ویلفیئر

رکن / سیکرٹری

(ایچ) مائنز لیبر ویلفیئر کمشنر، پنجاب

رکن

(آئی) فنانس، انڈسٹریز، کامرس اینڈ انویسٹمنٹ، زراعت، مقامی حکومت، سوشل ویلفیئر و بیت المال، ترقی نسواں، انسانی حقوق و اقلیتی امور کے محکموں کے ڈپٹی سیکرٹری کےعہدے سے کم نہ ہونے والے درجہ کے نمائندگان۔

اراکین

(جے) آجران کی نمائندگی کرنے والے چار افراد، جن میں کم از کم ایک خاتون شامل ہو۔

اراکین

(کے) ورکرز کی نمائندگی کرنے والے چار افراد، جن میں ایک خاتون شامل ہو۔

اراکین

(2) اپنے فرائض کی انجام دہی کے مقصد کے لیے، کونسل حسبِ ضرورت درج ذیل اضافی اراکین کو کوآپٹ کر سکتی ہے:(اے) متعلقہ شعبہ سے وابستہ آجران کی نمائندگی کرنے والے اراکین؛(بی) مذکورہ شعبہ میں ورکرز کی نمائندگی کرنے والا رکن؛ اور(سی) آزاد ماہرین۔

(3) آزاد ماہرین ایسے افراد میں سے شامل کیے جائیں گے جنہیں محنت کشوں کے مسائل اور معاشی حالات کا مناسب علم ہو۔

(4) شق (جے) اور (کے) میں مذکور اراکین کو محکمہ کی طرف سے، بالترتیب، آجران اور ورکرز کی سب سے زیادہ نمائندہ تنظیموں کی نامزدگی پر مقرر کیا جائے گا۔

(5) کونسل کے غیر سرکاری اراکین حکومت کی خوشنودی تک اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔

(6) کونسل ایسی کمیٹیاں تشکیل دے سکتی ہے جن میں اس کے ایسے اراکین شامل ہوں جنہیں وہ موزوں سمجھے، اور ان کمیٹیوں کو وہ اختیارات تفویض کر سکتی ہے اور ایسے فرائض سونپ سکتی ہے، جنہیں وہ موزوں سمجھے، بشرطیکہ ان پر ایسی شرائط لاگو ہوں جیسا کہ کونسل طے کرے۔

(6) غیر سرکاری اراکین کی میعادِ عہدہ، ان میں کسی خالی آسامی کو پر کرنے کا طریق، کونسل اور اس کی کمیٹیوں کے اجلاسوں کے انعقاد کا طریق کار، اور اس سے متعلقہ تمام امور وہ ہوں گے جن کی قواعد میں صراحت کی جائےگی۔

(7) کونسل سال میں کم از کم تین مرتبہ اجلاس منعقد کرے گی۔

306۔ صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کے فرائض:۔کونسل، حکومت کو ملازمت کے حالات اور لیبر مارکیٹ کے امور پر مشورہ دے گی، جن میں درج ذیل امور بشمول مگر محدود نہیں ہوں گے:

(اے) صوبائی لیبرقانون سازی کی نگرانی اور جائزہ لینا تاکہ ان کا بین الاقوامی لیبر معیارات سے ہم آہنگ ہونا یقینی بنایا جا سکے؛

(بی) نافذ شدہ قانون سازی پر عملدرآمد اور اس کی تعمیل کا جائزہ لینا؛

(سی) پنجاب لیبر کوڈ اور قواعد میں ترامیم کی تجویز دینا؛

(ڈی) انٹرنیشنل لیبرسٹینڈرز پر رپورٹ، بشمول ان امور کے جن کا تعلق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے دستور کے آرٹیکل 22 کے تحت دی جانے والی رپورٹس سے ہے؛

(ای) انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق انٹرنیشنل لیبر کانفرنس کے ایجنڈا پر سوالناموں کے جواب میں حکومت کی طرف سے جوابات کا مسودہ تیار کرنا؛

(ایف) کسی نئے کنونشن کو اپنانے یا پہلے سے توثیق شدہ کنونشنز کی تنسیخ کے بارے میں سفارشات پیش کرنا؛

(جی) تنازعات کی روک تھام سے متعلق پالیسیوں اور رہنما اصولوں کی تجویز دینا۔

(ایچ) انسپکٹروں کے ذریعے پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد سے متعلق پالیسیوں اور رہنما اصولوں کی تجاویز دینا اور انسپکٹروں کی دیگر سرگرمیوں پر سالانہ معائنہ رپورٹس کے ذریعے سفارشات پیش کرنا؛(آئی) بیروزگاری کی روک تھام اور کمی سے متعلق پالیسیوں کی تجاویز دینا، بشمول روزگار سے متعلق پالیسی کی تشکیل اور نفاذکرنا؛ اور(جے)دیگرکوئی معاملہ حکومت کی ہدایت پر یا جیسا کہ کونسل مناسب سمجھے۔

بی۔ جبری و بانڈڈ لیبر اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق صوبائی و ضلعی نگران کمیٹیاں:

307۔ صوبائی نگران کمیٹی:۔(1) حکومت، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، ایک صوبائی نگران کمیٹی تشکیل دے گی، جس کے چیئرپرسن چیف سیکرٹری پنجاب ہوں گے اور کمیٹی میں محنت و انسانی وسائل، ریونیو، پولیس، داخلہ، انسانی حقوق و اقلیتی امور کے محکموں کے افسران اور ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر جو کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گےسمیت زیادہ سے زیادہ بارہ اراکین شامل ہوں گے، اور آجران، ورکرز اور سول سوسائٹی کے دو، دو نمائندے ہوں گے، بشرطیکہ کمیٹی کی ایک چوتھائی اراکین خواتین ہوں گی۔

(2) صوبائی نگران کمیٹی کے فرائض درج ذیل ہوں گے:(اے) پنجاب لیبر کوڈ اور جبری مشقت، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور بانڈڈ یا جبری مشقت سے آزاد کرائے گئے افراد کی بحالی سے متعلق عملدرآمدی منصوبے کا جائزہ لینا؛(بی) دفعہ ‎308 کے تحت قائم ضلعی نگران کمیٹیوں کے کام کی نگرانی کرنا؛(سی) جبری مشقت سے متعلق قومی اور بین الاقوامی اداروں کے خدشات پر غور کرنا؛ اور(ڈی) جبری مشقت اور ان کی بحالی سے متعلق امور پر مشورہ دینا۔

308۔ ضلعی نگران کمیٹیاں:۔(1) محکمہ داخلہ، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، ہر ضلع میں مصرحہ طریق کار کے مطابق ضلعی نگران کمیٹیاں تشکیل دے گا، جن میں زیادہ سے زیادہ سات اراکین ہوں گے، جو ضلعی انتظامیہ، ضلعی پولیس، پبلک پراسیکیوشن، محنت و انسانی وسائل کے محکمہ، سول سوسائٹی تنظیموں، تسلیم شدہ ورکرز اور آجران کی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہوں گی اور ڈپٹی کمشنر کمیٹی کے کنوینر ہوں گے۔ سرکاری محکموں کے نمائندے کم از کم بی۔ ایس۔ 17 کے عہدے سے کم نہ ہوں گے۔

(2) ضلعی نگران کمیٹیوں کے فرائض درج ذیل ہوں گے:(اے) ضلعی انتظامیہ کو پنجاب لیبر کوڈ کے مؤثر نفاذ اور اس کے درست طریقے سے عملدرآمد کے حوالے سے مشورہ دینا؛(بی) آزاد کرائے گئے بانڈڈ ورکرز کی بحالی میں مدد فراہم کرنا؛(سی) پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات پر عملدرآمد کی نگرانی کرنا؛(ڈی) بانڈڈ ورکرز کو ضروری معاونت فراہم کرنا؛(ای) ورکرز اور آجران میں باب 2.2 کے تحت ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنا؛ اور(ایف) ورکرز اور آجران کے درمیان وہ تنازعات حل کرنا جو مجاز افسر کی طرف سے کمیٹی کو بھیجے گئے ہوں۔

(3) ضلعی نگران کمیٹی اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اپنے اراکین میں سے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے۔

سی۔ چائلڈ لیبر پر صوبائی کمیٹی:

309۔ چائلڈ لیبر پر صوبائی کمیٹی:۔(1) محکمہ، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، ایک کمیٹی تشکیل دے گا جسے چائلڈ لیبر پر صوبائی کمیٹی کہا جائے گا، تاکہ حکومت کو چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق نوعمر افراد کے روزگار میں بہتری کے لیے مناسب قانون سازی، انتظامی اور دیگر اقدامات کے بارے میں مشورہ دے سکے۔

(2) کمیٹی ایک چیئرپرسن اور زیادہ سے زیادہ آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی، جن میں سے تین اراکین حکومت سے، دو آجران سے، دوورکرز سے اور ایک سول سوسائٹی سے ہوگا؛ بشرطیکہ آجران اور ورکرز کے نمائندوں میں سے کم از کم ایک، ایک رکن خاتون ہو۔

(3) کمیٹی سہ ماہی بنیادوں پر اجلاس منعقد کرے گی اور اپنے اجلاسوں کے طریق کار اور کارروائی کو خود منظم کرے گی۔

ڈی۔ مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر:

310۔ مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر:۔(1) محکمہ ایک دفتر قائم کرے گا جسے مساوی روزگار مواقع فراہم کرنے کا دفتر(ایکول ایمپلائمنٹ اپرچونٹی آفس) کہا جائے گا، جو روزگار اور پیشے کے معاملات میں مواقع اور سلوک میں برابری کی فراہمی کے مقصد کے لیے قائم ہوگا اور درج ذیل کو فروغ دے گا، تجزیہ کرے گا اور نگرانی کرے گا:

(اے) تمام افراد کے درمیان، باب 2.4 میں مذکور کسی بھی بنیاد پر امتیاز کے بغیر، مساوی سلوک؛ اور(بی) کام کی جگہوں پر تشدد اور ہراسانی کے خاتمے، جیسا کہ باب 2.5 میں بیان کیا گیا ہے۔

(2) اپنے کام کی انجام دہی میں، دفتر بالخصوص درج ذیل امور سرانجام دے سکے گا:

(اے) امتیاز، تشدد اور ہراسانی کے خاتمے اور برابری کے فروغ کے لیے آگاہی مہمات کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد؛(بی) رپورٹیں شائع کرنا، آراء اور سفارشات جاری کرنا اور باب 2.4 میں مذکور امتیاز سے متعلق تمام امور اور باب 2.5 کے مطابق تشدد اور ہراسانی کی روک تھام پر مطالعات کرنا؛(سی) اپنے کام کے دائرے میں مفید تمام معلومات اور دستاویزات تیار کرنا اور فراہم کرنا، جن میں صنفی اجرت کے فرق کو دور کرنے کے لیے ملازمتوں کی معروضی تشخیص پر مطالعات، ورکرز اور آجران کے لیے آگاہی مواد شامل ہو؛(ڈی) امتیاز اور تشدد و ہراسانی کے خاتمے اور مساوی معاوضے (زرِتلافی) کے فروغ سے متعلق تربیت کا انعقاد؛(ای) امتیاز کی شکایات کی تحقیقات کرنا اور مصرحہ اصولوں کے مطابق شکایت کا ازالہ کرنا؛ اور(ایف) ایسے افراد کو، جو خود کو امتیاز کا شکار سمجھتے ہوں، معاونت یا قانونی امداد فراہم کرنا اور انہیں مشاورت اور رہنمائی کی خدمات مہیا کرنا تاکہ انہیں ان کے انفرادی حقوق، قانون سازی، عدالتی نظائر اور اپنے حقوق کے حصول کے طریق کار سے آگاہ کیا جا سکے۔

ای۔ پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کونسل

311۔ پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کونسل کا قیام:۔(1) محکمہ، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کونسل قائم کرے گا جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اسے تفویض کردہ اختیارات استعمال کرے گی اور فرائض سرانجام دے گی۔

(3) کونسل درج ذیل پر مشتمل ہوگی:

(اے) چیف سیکرٹری، پنجاب۔

چیئرپرسن

(بی) محکمہ کے سیکرٹری۔

رکن

(سی) سیکرٹری، محکمہ صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری حکومت پنجاب یا ان کا نمائندہ جو بی ایس-18یا اس سے اعلیٰ درجے کا افسر ہو۔

رکن

(ڈی) سیکرٹری، محکمہ تحفظ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی حکومت پنجاب یا ان کا نمائندہ جو بی ایس18 یا اس سے اعلیٰ درجے کا افسر ہو۔

رکن

(ای) سیکرٹری، محکمہ صحت و آبادی حکومت پنجاب یا ان کا نمائندہ جو بی ایس-18 یا اس سے اعلیٰ درجے کا افسر ہو۔

رکن

(ایف) سیکرٹری، محکمہ ہاؤسنگ، شہری ترقیات و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حکومت پنجاب یا ان کا نمائندہ جو بی۔ایس-18 یا اس سے اعلیٰ درجے کا افسر ہو

رکن

(جی) ڈائریکٹر جنرل، پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ یا ان کا نمائندہ جو بی ایس-18 یا اس سے اعلیٰ درجے کا افسر ہو۔

رکن

(ایچ) ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر، پنجاب۔

سیکرٹری / رکن

(آئی) کمشنر، صوبائی ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوشن۔

رکن

(جے) سیکرٹری، پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ۔

رکن

(کے) ڈائریکٹر، سینٹر فار امپرومنٹ آف ورکنگ کنڈیشنز اینڈ انوائرنمنٹ، پنجاب

رکن

(ایل) محکمہ کے تین افسران، جو بی ایس-18 یا اس سے اعلیٰ درجے کے ہوں اور پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے شعبے میں مہارت رکھتے ہوں۔

اراکین

(ایم) آجران کے تین نمائندگان، جن میں کم از کم ایک خاتون ہو

اراکین

(این) ورکرز کے تین نمائندگان، جن میں کم از کم ایک خاتون ہو

رکن

(او) پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے شعبے میں مہارت رکھنے والے تین ماہرین۔

اراکین

(پی) سول سوسائٹی سے تین افراد، جن میں کم از کم ایک خاتون ہو۔

اراکین

(3) کونسل ایک کیلنڈر سال میں ہر چھ ماہ میں کم از کم ایک بار اجلاس منعقد کرے گی۔

(4) کونسل ایسے ارکان پر مشتمل ایسی کمیٹیاں قائم کر سکتی ہے جنہیں وہ موزوں سمجھے، تاکہ وہ ایسے اختیارات استعمال کریں اور ایسے فرائض انجام دیں جن کی صراحت کی گئی ہو، اور جو شرائط وہ متعین کرے۔

312۔ کونسل کے فرائض اور اختیارات:۔(1) کونسل مندرجہ ذیل فرائض سر انجام دے گی:

(اے) مختلف شعبہ جات میں کام کرنے والی افرادی قوت کے حوالے سے پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور حکومت کو پالیسی اور دیگر امور پر مشورہ دینا؛(بی) حکومت کو پنجاب لیبر کوڈ کے اغراض و مقاصد یا ایسے کسی بھی معاملے سے متعلق تمام امور پر مشورہ دینا جو حکومت اسے بھجوائے؛ اور(سی) پنجاب لیبر کوڈ کے باب 2.5 اور پیشہ ورانہ صحت و تحفظ سے متعلق دیگر قانون سازی، بشمول سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز، کا جائزہ لینا اور ان میں ترامیم، توسیع اور وضاحت کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کرنا۔

(2) مذکورہ بالا ذیلی دفعہ (1) کی شق (اے) کی عمومی حیثیت پر اثر انداز ہوئے بغیر، کونسل درج ذیل امور کے متعلق سفارشات دے سکتی ہے:

(اے) ترجیحی بنیاد پر، پیشہ ورانہ صحت و تحفظ سے متعلق صوبائی پالیسیوں، پروگراموں اور حکمتِ عملیوں کی تشکیل، نفاذ، نگرانی، جانچ اور وقتاً فوقتاً جائزہ لینا، بشمول قواعدِ عمل معیارات اور رہنما اصولوں کی تیاری یا مواد؛(بی) حکومت، آجران، ورکرز اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصروف دیگر افراد یا اداروں کے مابین تعاون کو فروغ دینے کے لیے اقدامات؛(سی) پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے فروغ سے متعلق بین المحکماتی اور وزارتی منصوبوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کے درمیان رابطہ کاری؛

(ڈی) ایسے اقدامات جو حکومت کو کسی بین الاقوامی دستاویز کے تحت کام کی جگہ پر تحفظ، صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق احکامات کی تعمیل کے لیے کرنے کی ضرورت ہو؛(ای) پیشہ ورانہ حادثات، خطرناک واقعات اور پیشہ ورانہ بیماریوں کے بارے میں سالانہ اعداد و شمار کی تیاری اور اشاعت، نیز پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کی پالیسی کے تحت کیے گئے اقدامات؛(ایف) بشمول لیبر انسپکشن سے متعلق مؤثر نفاذ کی حکمت عملیاں اور طریق کار؛(جی) ایک مؤثر انفرادی شکایت اور رپورٹنگ طریق کار کا قیام، جو درج ذیل کے بارے میں ڈیٹا کو اکٹھاکرنے کی اجازت دے:(i) پنجاب لیبر کوڈ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی خلاف ورزیوں؛ اور(ii) چوٹوں اور بیماریوں؛(ایچ) سائنسی اور فنی علم سے ہم آہنگ رہنے کے لیے مطالعات اور تحقیق یا دیگر اقدامات تاکہ پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد یا کام کی جگہ پر ورکرز کی صحت، تحفظ اور فلاح و بہبود سے متعلق دیگر امور کو پورا کیا جا سکے؛(آئی) پیشہ ورانہ صحت و تحفظ پر انسپکٹرز، آجران، پرنسپلز، قابضین ورکرز یا ایسے کسی بھی شخص کے لیے ٹریننگ، جسے علم اور تربیت کی ضرورت ہو، خواہ یہ تربیت کسی قومی یا بین الاقوامی ادارے کے تعاون سے ہو، اور ایسی ٹریننگ کی کامیابی سے تکمیل پر اسناد کا اجراء؛(جے)پیشہ ورانہ صحت و تحفظ سے متعلق آگاہی اور ترویجی مہمات کا انعقاد تاکہ اس بارے میں شعور پیدا کیا جا سکے، بشمول معلومات کا اجتماع، تیاری، ترسیل اور اشاعت؛(کے) کسی بھی ورک پلیس یا شخص کو آلات کے درست استعمال، خطرناک مادوں اور طبعی، کیمیائی یا حیاتیاتی ایجنٹس یا مصنوعات اور دیگر کسی بھی خطرے سے بچاؤ کے بارے میں مشاورتی خدمات کا قیام اور عملدرآمد؛(ایل) کام کی جگہ پر صنفی امور اور نو عمر ورکرز سے متعلق معاملات؛(ایم) اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران پیدا ہونے والے کسی بھی معاملے پر، خواہ اپنی طرف سے یا حکومت کی درخواست پر؛(این) حکومت کی طرف سے اس کے سپرد کیے گئے پیشہ ورانہ صحت و تحفظ سے متعلق کسی بھی دیگر معاملے پر مشورہ دینا؛ اور(او) ایسے دیگر ضمنی فرائض جو اس کے کسی یا تمام فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ہوں۔

(3) وہ صوبائی پروگرام جس کا حوالہ ذیلی دفعہ (1) کی شق (اے) میں دیا گیا ہے، درج ذیل پر مشتمل ہوگا:

(اے) احتیاطی صحت و تحفظ کے کلچر کو فروغ دینا؛(بی) ورکرز کے تحفظ میں معاونت، تاکہ کام سے متعلق خطرات اور خطرناک عوامل کو صوبائی قوانین اور طریق کار کے مطابق، جہاں تک ممکن ہو، ختم یا کم کیا جا سکے، تاکہ دوران پیشہ حادثات، بیماریوں اور اموات کو روکا جا سکے اور کام کی جگہ پر صحت اور تحفظ کو فروغ دیا جا سکے؛(سی) پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے بارے میں صوبائی صورتحال کے تجزیے کی بنیاد پر اس کی تشکیل اور وقتاً فوقتاً نظرثانی؛ بشمول پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے صوبائی نظام کا تجزیہ؛(ڈی) مقاصد، اہداف اور ترقی کے اشارئیے شامل ہوں؛ اور(ای) جہاں تک ممکن ہو، دیگر تکمیلی صوبائی پروگرامز اور منصوبوں سے تعاون کیا جائے جو بتدریج ایک محفوظ اور صحت مند کام کے ماحول کے حصول میں مدد دے۔

313۔ کونسل کےاجلاس اور کورم:۔ (1) کونسل کے کسی بھی اجلاس کے لیے دس اراکین کا کورم ہوگا، جن میں کم از کم درج ذیل شامل ہوں گے:(اے) چار سرکاری اراکین؛(بی) دو آجران کے نمائندے؛(سی) دو ورکرز کے نمائندے؛(ڈی) پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کے شعبے میں مہارت رکھنے والا ایک ماہر؛ اور(ای) سول سوسائٹی کا ایک پیشہ ور فرد یا رکن۔

(3) پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے تابع، کونسل اپنے اجلاسوں اور اپنےامور کی انجام دہی سے متعلق اپنے طریق کار کو خود منظم کر سکتی ہے۔

ایف۔ ٹریڈ یونینز کا رجسٹرار

314۔ ٹریڈ یونینز کا رجسٹرار:۔پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے، حکومت، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، جتنے افراد کو ضروری سمجھے، بطور رجسٹرار برائے ٹریڈ یونینز مقرر کرے گی، اور جہاں ایک سے زیادہ رجسٹرار مقرر کیے جائیں، وہاں حکومت ہر ایک کے دائرہ اختیار کی حد بندی مذکورہ نوٹیفکیشن میں کرے گی، جن میں وہ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اپنے اختیارات اور فرائض انجام دیں گے۔

315۔ رجسٹرار کے اختیارات اور فرائض:۔رجسٹرار کو درج ذیل اختیارات اور فرائض حاصل ہوں گے:(اے) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت ٹریڈ یونینز بشمول فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز آف ٹریڈ یونینز کا اندراج اور اس مقصد کے لیے ایک رجسٹر کی دیکھ بھال؛(بی) اجتماعی سودا کاری کے یونٹوں میں ٹریڈ یونینز کا اندراج؛(سی) ٹریڈ یونینز، آجران، ورکرز یا دیگر افراد کے خلاف غیر منصفانہ لیبر پریکٹس یا باب 2.6 کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی یا ٹریڈ یونین کے فنڈز کے آئین کے منافی استعمال پر کارروائی، بشمول استغاثہ، کے لیے لیبر کورٹ میں شکایات دائر کرنا یا کسی شخص کو اس مقصد کے لیے مجاز بنانا؛(ڈی) یہ طے کرنا کہ کسی ادارے یا اداروں کے گروپ میں کون سی ٹریڈ یونین اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ (سی بی اے) کے طور پر تصدیق حاصل کرنے کی حقدار ہے؛(ای) کسی اجتماعی سودا کاری کے یونٹ میں رجسٹر شدہ ٹریڈ یونینز میں سے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کا تعین؛(ایف) صوبائی سطح پر ٹریڈ یونینز، ان کی فیڈریشنز یا کنفیڈریشنز میں سے اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کا تعین؛(جی) رجسٹر شدہ ٹریڈ یونینز کے اکاؤنٹس اور ریکارڈ کا معائنہ، یا ٹریڈ یونینز کے معاملات کی تحقیق یا مقررہ طریقے سے، خود یا اس مقصد کے لیے تحریری طور پر باضابطہ مجاز کسی ماتحت افسر کے ذریعے، انکوائری کرانا؛(ایچ) ایسے دیگر اختیارات اور فرائض جن کی صراحت کی جائے۔

جی۔ کم از کم اجرت بورڈ

316۔ کم از کم اجرت بورڈ کا قیام:۔(1) حکومت، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، کم از کم اجرت بورڈ قائم کرے گی جو درج ذیل اراکین پر مشتمل ہوگا جنہیں حکومت مقرر کرے گی:

(اے) محکمہ محنت کے سیکرٹری۔

چیئرپرسن

(بی) ڈائریکٹر جنرل، لیبر ویلفیئر، پنجاب۔

رکن

(سی) کمشنر، مائنز لیبر ویلفیئر، پنجاب۔

رکن

(ڈی) محکمہ خزانہ کا نمائندہ جو ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے سے کم نہ ہو۔

رکن

(ای) محکمہ صنعت، تجارت و سرمایہ کاری کا نمائندہ جو ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے سے کم نہ ہو۔

رکن

(ایف) پنجاب بیورو آف اسٹیٹسٹکس کا نمائندہ جو کم از کم گریڈ 18 کا افسر ہو۔

رکن

(جی) ایسا ایک فرد جسے ورکرز سے متعلقہ امور اور اقتصادی حالات کا مناسب علم ہو اور جو کسی بھی آجر یا ملازمین کی تنظیم یا کسی صنعتی یا تجارتی شعبہ سے وابستہ نہ ہو۔

آزاد رکن

(ایچ) آجران کے تین نمائندے جن میں کم از کم ایک خاتون ہو۔

رکن

(آئی) ملازمین کے تین نمائندے جن میں کم از کم ایک خاتون ہو۔

رکن

(جے) کم از کم اجرت بورڈکا سیکرٹری۔

سیکرٹری/رکن

(2) اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے، بورڈ حسب ضرورت درج ذیل دو اضافی اراکین کو شامل کرے گا:(اے) ایک رکن جو متعلقہ شعبے سے منسلک آجروں کی نمائندگی کرے گا؛ اور(بی) ایک رکن جو مذکورہ شعبے میں کام کرنے والے ورکرز کی نمائندگی کرے گا۔

(3) شق (ایچ) اور (آئی) میں مذکور اراکین کو محکمہ، آجروں اور ملازمین کی سب سے زیادہ نمائندہ تنظیموں سے نامزدگی کی بنیاد پر، مقرر کرے گا۔

(4) بورڈ، اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے، جتنی چاہے کمیٹیاں تشکیل دے سکتا ہے، جن کی تشکیل، ارکان کی تعداد اور فرائض کی شرائط و ضوابط بورڈ خود متعین کرے گا۔

(5) چیئرپرسن اور اراکین کی مدتِ عہدہ، اتفاقی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کا طریق کار، اس کی کمیٹیوں کی تشکیل، بورڈ اور اس کی کمیٹیوں کے اجلاسوں کے طریق کار اور انعقاد اور اس سے متعلق تمام امور، بشمول اجلاسوں میں شرکت کی فیس اور الاؤنسز، اور ماہرین و مشیروں کی خدمات کے لیے اٹھنے والے اخراجات، ایسے ہوں گے جیسے کہ قواعد میں تجویز کیے جائیں گے۔

317۔ کم از کم اجرت کے ریٹس کی سفارش:۔(1) بورڈ، جب حکومت کی جانب سے اس سے رجوع کیا جائے، تو اپنی صوابدید کے مطابق ضروری تحقیقات کے بعد غیر ہنر مند ورکرز کے لیے کم از کم اجرت کےریٹس کی حکومت کو سفارش کرے گا۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت دی گئی سفارشات میں یہ واضح کیا جائے گا کہ آیا کم از کم اجرت کےریٹس پورے پنجاب کے لیے یکساں طور پر منظور کی جائیں یا ایسے علاقوں کے لیے مختلف ہوں جیسے کہ اس میں بیان کیا گیا ہو۔

(3) بورڈ اپنی سفارش میں کم از کم اجرت کےریٹس مندرجہ ذیل کے لیے مقرر کرے گا:(اے) وقت کی بنیاد پر کام؛ اور(بی) فی اکائی کام (پیس ورک)۔

(4) وقت کی بنیاد پر بورڈ کی سفارش کردہ اجرت کےریٹس فی گھنٹہ، یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر ہوں گے۔

(5) فی اکائی کام (پیس ورک) پر ملازم ملازمین کے لیے کم از کم اجرت کےریٹس اس سطح پر مقرر کئے جائیں گے تاکہ ایسے ملازمین کے لیے وقت کی بنیاد پر کم از کم اجرت کی ضمانت دی جا سکے۔

(6) کم از کم اجرت کی سفارش کرتے وقت بورڈ اس اصول پر عمل کرے گا کہ تمام اصناف کے ورکرز کو برابر قدرو قیمت کے کام کے لیے برابر معاوضہ دیا جائے۔

318۔ کم از کم اجرت کےریٹس کے تعین کا اختیار:۔(1) بورڈ کی سفارش موصول ہونے پر حکومت:(اے) سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، صوبہ میں ملازمین کے لیے بورڈ کی سفارش کردہ کم از کم اجرت کےریٹس کا تمام اقسام کے اداروں پر اطلاق کے ساتھ اعلان کر سکتی ہے؛ اور(بی) اگر وہ سمجھے کہ سفارش کسی پہلو سے آجروں یا ملازمین کے لیے منصفانہ نہیں ہے، تو ایسی موصولی کے تیس دن کے اندر اندر، اسے دوبارہ غور کے لیے بورڈ کو ایسے تبصروں اور متعلقہ معلومات کے ساتھ واپس بھیج سکتی ہے جیسا کہ حکومت مناسب سمجھے۔

(2) اگر، حکومت کی جانب سے سفارش کو ذیلی دفعہ (1) کی شق (ب) کے تحت بورڈ کو واپس بھیجا جائے، تو بورڈ حکومت کی جانب سے دیے گئے تبصروں اور فراہم کردہ معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر ازسرِ نو غور کرے گا اور اگر ضروری ہو تو مزید تحقیق کرے گا اور حکومت کو درج ذیل پیش کرے گا:(اے) ایک نظرثانی شدہ سفارش؛ اور(بی) اگر بورڈ سمجھے کہ سفارش میں کوئی ترمیم یا تبدیلی ضروری نہیں ہے تو اس بارے میں وجوہات کے ساتھ ایک رپورٹ۔

(3) بورڈ کی طرف سے ذیلی دفعہ (2) کے تحت سفارش موصول ہونے پر حکومت، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، یہ اعلان کر سکتی ہے کہمذکورہ ذیلی دفعہ (2) کے تحت بورڈ کی طرف سے سفارش کردہ کم از کم اجرت کےریٹس، اس نوٹیفکیشن میں بیان کردہ ترامیم اور استثناء کے تابع، ملازمین کے لیے کم از کم اجرت کےریٹس ہوں گے۔

(4) جب تک ذیلی دفعہ (1) یا ذیلی دفعہ (3) کے تحت نوٹیفکیشن میں مقصد ہذا کے لیے کوئی تاریخ مخصوص نہ کی جائے، تو اس کے تحت کیا گیا اعلان، سرکاری گزٹ میں اس نوٹیفکیشن کی اشاعت کی تاریخ سے نافذ العمل ہوگا یا جیسا کہ حکومت کم از کم اجرت بورڈ کی سفارش پر مخصوص کرے۔

(5) اگر ذیلی دفعہ (1) یا ذیلی دفعہ (3) کے تحت نوٹیفکیشن کی اشاعت کے بعد یا اس کے تحت اعلان کردہ کم از کم اجرت کےریٹس کے نافذ العمل ہونے کے بعد حکومت کے علم میں آئے کہ اعلان کردہ کم از کم اجرت کےریٹس میں کوئی غلطی ہے یا یہ ریٹس آجروں یا ورکرز کے لیے غیر منصفانہ ہے تو وہ معاملہ بورڈ کو واپس بھیج سکتی ہے اور ایسا حوالہ ذیلی دفعہ (2) کے تحت حوالہ تصور کیا جائے گا۔

(6) دفعہ ہذا کے تحت اعلان کردہ کم از کم اجرت کےریٹس حتمی ہوں گے اور کسی بھی فرد کی طرف سے کسی بھی عدالت یا کسی مجاز اتھارٹی کے روبرو کسی بھی صورت میں چیلنج نہیں کیے جا سکیں گے۔

319۔ کم از کم اجرت کےریٹس کا دورانیہ وار جائزہ:۔(1) اگر اقتصادی حالات، گزر بسر کی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل میں تبدیلی کا تقاضا ہو، تو بورڈ اپنی سفارشات کا جائزہ لے سکتا ہے اور حکومت کو دفعہ 318 کے تحت اعلان کردہ کم از کم اجرت کےریٹس میں ترمیم، تبدیلی یا نظرثانی کی سفارش کر سکتا ہے، جبکہ درج ذیل عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا:(اے) ملازمین اور ان کے خاندانوں کی ضروریات، ملک میں اجرتوں کی عمومی سطح، گزر بسر کی لاگت، سماجی تحفظ کے فوائد اور دیگر سماجی گروہوں کے معیارِ زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے؛(بی) اقتصادی عوامل، بشمول اقتصادی ترقی کی ضروریات، مہنگائی کی سطح، پیداوار کی سطح، روزگار کی بلند سطح کے حصول اور برقرار رکھنے کی خواہش اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی ضرورت؛(سی) آجروں کی کاروبارکو کامیابی سے جاری رکھنے کی صلاحیت؛(ڈی) چھوٹے، درمیانے اور مائیکرو اداروں کی کارکردگی (آپریشن)؛(ای) گزر بسر کی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کم از کم اجرتوں کی خریداری کی طاقت؛(ایف) اجرتوں کی عمومی سطح اور ان کی تقسیم؛(جی) اجرتوں کی شرحِ ترقی؛(ایچ) غربت میں کمی؛(آئی) کم از کم گزرانِ زندگی کی سطح؛ اور(جے) کوئی دوسرا متعلقہ عامل۔

(2) کسی سفارش کا جائزہ اس تاریخ کے ایک سال سے پہلے نہیں لیا جائے گا جس پر وہ سفارش کی گئی ہو، الا یہ کہ کوئی خاص حالات اس کا تقاضا کریں۔

(3) بورڈ اپنی صوابدید پر ذیلی دفعہ (1) میں درج عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، کم از کم اجرت کے ریٹس پر ہر تین سال میں کم از کم ایک بار ازسرِ نو غور کرے گا اور حکومت کو ضروری سفارشات پیش کرے گا۔

(4) حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ کم از کم اجرت کی شرح کے اعلان کے وقت، اس کے متعلق معلومات، بشمول شکایات کے ازالے کے طریق کار سے متعلق معلومات، وسیع پیمانے پر عام کی جائیں اور جامع اور آسانی سے قابلِ رسائی طریقے سے عوامی سطح پر دستیاب ہوں۔

320۔ سرکاری ملازمین:۔چیئرپرسن، ارکان، افسران اور ملازمین، مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 (قانون نمبر 45 بابت 1860) کی دفعہ 21 کے مفہوم میں، سرکاری ملازم تصور کیے جائیں گے۔

ایچ۔ پنجاب کمپنیز پرافٹ ورکرز شراکت کمیٹی

321۔ پنجاب کمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن کمیٹی:۔(1) حکومت، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، ایک کمیٹی قائم کرے گی جسے پنجاب کمپنیز پرافٹ ورکرز شراکت کمیٹی کہا جائے گا جو باب ہذا، اس کے تحت اسکیم، اور اس کے مقاصد کے حصول کے لیے درکار مناسب انتظامی، قانونی اور دیگر اقدامات کے حوالے سے حکومت کو مشورہ دے گی اور عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔

(2) کمیٹی ایک چیئرپرسن اور زیادہ سے زیادہ آٹھ ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں سے چار حکومت کی نمائندگی کریں گے، دو کمپنیوں کی نمائندگی کریں گے اور دو ورکرز کی نمائندگی کریں گے، جن میں سے ہر نمائندگی میں کم از کم ایک خاتون شامل ہوگی، بشرطیکہ چیئرپرسن اور اراکین اپنے فرائض اور ذمہ داریاں بلا معاوضہ انجام دیں گے۔

(3) محکمہ کمیٹی کی تشکیل کے لیے حکومت کو نامزدگیاں فراہم کرے گا۔

(4) کمیٹی باب ہذاکی دفعات پر عملدرآمد کے مقاصد کے لیے یا جیسا کہ مقرر کیا جائے، کسی بھی ریکارڈ یا معلومات کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

(5) کمپنی یا حسبِ موقع، بورڈ، کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ مدت میں، ایسا ریکارڈ یا معلومات فراہم کرے گا۔

(6) اگر کوئی انسپکٹر، اپنے دائرہ اختیار میں، یہ معلوم کرے کہ کوئی کمپنی جس پر اسکیم کا اطلاق ہوتا ہے، باب ہذایا اسکیم کی کسی بھی دفعہ کی خلاف ورزی کر رہی ہے تو وہ معاملے کی ضروری کارروائی کے لیے کمیٹی کو رپورٹ کرے گا۔

باب 6.4 – لیبر انسپکشن

322۔ انسپکٹرز کی تقرری:۔(1) حکومت جتنے انسپکٹرز اور پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے انسپکٹرز کو ضروری سمجھے، ان کی تقرری کر سکتی ہے اور خواتین انسپکٹرز کو خصوصی ذمہ داریاں سونپ سکتی ہے۔

(2) حکومت کسی ایسے افسر کو جو بی ایس-19 سے کم نہ ہو، چیف انسپکٹر مقرر کر سکتی ہے، جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت ایک انسپکٹر کے اختیارات کے علاوہ ایسے دیگر اختیارات بھی استعمال کرے گا جن کی صراحت کی گئی ہو۔

(3) چیف انسپکٹر، پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے، انسپکٹرز کو مقامی حدود اور مخصوص فرائض تفویض کر سکتا ہے۔

(4) کوئی بھی شخص پنجاب لیبر کوڈ کے تحت انسپکٹر یا پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا انسپکٹر مقرر نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اس کے پاس مصرحہ مطلوبہ اہلیت، تجربہ اور تربیت نہ ہو۔

(5) انسپکٹر اور پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے انسپکٹر کو ایک شناختی کارڈ فراہم کیا جائے گا، جو وہ پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اپنے اختیارات کے استعمال یا فرائض کی انجام دہی کے دوران ہر وقت اپنے ساتھ رکھے گا۔

(6) کوئی انسپکٹر یا پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا انسپکٹر اپنے دائرہ اختیار میں کسی بھی ادارے یا اس میں جاری کسی عمل، کاروبار، پیٹنٹ یا مشینری میں براہ راست یا بالواسطہ دلچسپی رکھنے کی صورت میں اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکے گا۔

(7) حکومت اگر ضروری سمجھے تو پنجاب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لیبر ویلفیئر کے علاوہ کسی مساوی درجے کے سرکاری ملازم کو پنجاب لیبر کوڈ کے مخصوص مقاصد کے لیے انسپکٹر نامزد کر سکتی ہے۔

(8) انسپکٹر، پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کے انسپکٹر اور چیف انسپکٹر، مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 (قانون نمبر 45 بابت 1860) کی دفعہ 21 کے تحت، سرکاری ملازم تصور کیے جائیں گے۔

323۔ انسپکٹر کے فرائض:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ اور قواعد کی دفعات کے تابع، ایک انسپکٹر درج ذیل فرائض سرانجام دے گا:(اے) پنجاب لیبر کوڈ اور قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا؛(بی) آجران اور ورکرز کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت قانونی دفعات کی مؤثر تعمیل کے سلسلے میں تکنیکی معلومات اور مشورے فراہم کرنا؛(سی) ورکرز کی جانب سے محکمہ کو موصول ہونے والی اور مزید تفتیش کے لیے بھیجی جانے والی شکایات کی تحقیقات کرنا؛(ڈی) محکمہ کی توجہ ایسے نقائص یا بدانتظامیوں کی طرف مبذول کروانا جو موجودہ قانونی دفعات کے تحت واضح طور پر شامل نہ ہوں؛(ای) چیف انسپکٹر کو معائنہ رپورٹ پیش کرنا؛ اور(ایف) وہ اضافی فرائض سرانجام دینا جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت فراہم کیے گئے ہوں یا جن کی صراحت کی گئی ہو، بشرطیکہ ایسے فرائض ان کے بنیادی فرائض کی مؤثر انجام دہی میں رکاوٹ نہ بنیں اور نہ ہی آجران اور ورکرز کے ساتھ انسپکٹرز کے تعلقات میں درکار اختیار اور غیر جانبداری کو متاثر کریں۔

(2) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت انسپکٹرز کو سونپے گئے فرائض اور اختیارات درج ذیل طریقے سے استعمال کیے جائیں گے:(اے) معقول طریقے سے جو پنجاب لیبر کوڈ کی ضروریات اور متاثرہ افراد کے مفادات کو مدنظر رکھے؛(بی) مقررہ طریقے سے اور کسی قابلِ اطلاق کوڈ آف گڈ پریکٹس اور محکمانہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے مطابق؛(سی) دفعہ 324 سے ہم آہنگ ہو؛ اور(ڈی) جس قدر جلد ممکن ہو شکایت موصول ہونے یا انسپکٹر کی مدد طلب کیے جانے کے بعد۔

(3) جب تک ایسا کرنا ناقابل عمل نہ ہو، وہ انسپکٹر جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق کوئی کتاب، دستاویز یا شے قبضے میں لے، تو وہ شخص جس سے وہ چیز قبضہ میں لی گئی ہو، اسے اس کی نقل بنانے کی اجازت دی جائے گی۔

(4) انسپکٹر جب کسی کتاب، دستاویز یا شے کو ضبط کرے گا، تو اس وقت ایک رسید جاری کرے گا۔

(5) جس مدت کے دوران انسپکٹر کسی کتاب، دستاویز یا شے کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق اپنے قبضے میں رکھے گا، وہ اس شخص یا اس کے مجاز نمائندے کو، جو بصورت دیگر اس کا حقدار ہو، معقول اوقات میں معائنہ کرنے یا اس کی نقل بنانے کی اجازت دے گا۔

(6) اگر انسپکٹر پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کسی مواد، شے یا مادے کا نمونہ لینے کا اختیار استعمال کرے، تو وہ آجر یا منیجر کو مطلع کرے گا اور انہیں نمونے کا ایک حصہ فراہم کرے گا۔

324۔ انفورسمنٹ پلان:۔(1) چیف انسپکٹر ایک انفورسمنٹ پلان تیار کرے گا جس میں ترجیحات کی نشاندہی کی جائے گی اور پنجاب لیبر کوڈ پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکمتِ عملیاں تجویز کی جائیں گی اور چیف انسپکٹر، انسپکٹرز کو ہدایت دے گا کہ وہ انفورسمنٹ پلان پر عمل کریں۔

(2) ذیلی دفعہ (1) میں مذکور منصوبہ تیار کرتے وقت، چیف انسپکٹر، باب 6.3 میں مذکور مشاورتی اور ریگولیٹری اداروں کی آراء کو مدنظر رکھ سکتا ہے۔

325۔ انسپکٹر کے اختیارات:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ اور قواعد کی دفعات کے تابع، ایک انسپکٹر، اپنے تقرری شدہ مقامی حدود میں:(اے) شق (سی) کے تابع، کسی بھی جگہ میں، جسے وہ معقول طور پر کام کی جگہ سمجھتا ہو، دن یا رات کے کسی بھی وقت، بلا روک ٹوک اور پیشگی اطلاع کے بغیر داخل ہو سکتا ہے؛

(بی) وہ کسی بھی ایسی جگہ یا اس کے احاطے میں داخل ہو سکتا ہے جو ایسی جگہ سے متصل ہو جہاں انسپکٹر کے پاس معقول وجوہات ہوں کہ وہاں دھماکہ خیز یا آتشگیر مواد یا دیگر ایسی اشیاء ذخیرہ کی گئی ہیں جو وہاں موجود افراد کو چوٹ یا صحت کے خطرے میں مبتلا کر سکتی ہیں؛

(سی) وہ کسی آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کے ذاتی گھر میں شق (اے) کے تحت داخل نہیں ہو سکے گا، الاّ یہ کہ آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کی رضامندی سے یا لیبر کورٹ کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ کے تحت؛

(ڈی) وہ عمومی طور پر ایسا کوئی معائنہ، امتحان یا تحقیق کر سکتا ہے جو اس بات کی تصدیق کے لیے ضروری ہو کہ پنجاب لیبر کوڈ کی متعلقہ دفعات کی سختی سے پابندی کی جا رہی ہے اور بالخصوص وہ درج ذیل اقدامات کر سکتا ہے:(i)آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) یا ورکرز سے، پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ سے متعلق کسی بھی معاملے پر، تنہا یا گواہوں کی موجودگی میں پوچھ گچھ کرنا؛(ii)پنجاب لیبر کوڈ کے تحت جن ریکارڈز، کتابوں، رجسٹروں یا دیگر دستاویزات کا رکھنا لازمی ہے، ان کی معلومات طلب کرنا، ان کی نقول لینا یا ان سے اقتباسات لینا تاکہ پنجاب لیبر کوڈ کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے؛(iii)پنجاب لیبر کوڈ کے تحت درکار کسی بھی نوٹس یا خلاصے کی چسپانی اور نمائش کو نافذ کرنا؛ اور(iv)استعمال یا سنبھالے جانے والے مواد اور اشیاء کے تجزیے کی غرض سے ان کے نمونے لینا یا ہٹانا، بشرطیکہ آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) یا ان کے نمائندے کو ان مقاصد کے لیے لیے گئے یا ہٹائے گئے نمونوں یا اشیاء سے مطلع کیا جائے؛

(ای) آجران اور ورکرز سے اجرت، اوقاتِ کار اور کام کی شرائط سے متعلق معلومات طلب کر سکتا ہے؛

(ایف) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کی طرف سے پنجاب لیبر کوڈ یا کسی دیگر قانون کے تحت رکھی گئی حادثات یا دوران پیشہ بیماریوں کا کوئی بھی ریکارڈ چیک کر سکتا ہے اور آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) سے کسی حادثہ یا دوران پیشہ بیماری کے اسباب اور حالات سے متعلق معلومات طلب کر سکتا ہے جو کہ متعلقہ جگہ پر یا کسی ورکرکی ملازمت کے دوران پیش آیا ہو؛

(جی) شہادت لے سکتا ہے، بیانات ریکارڈ کر سکتا ہے، کوئی بھی معلومات یا ریکارڈ طلب کر سکتا ہے، یا شہادت کے حصول کے لیے کسی فرد کو بلا سکتا ہے؛

(ایچ) اگر اسے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی بڑی رکاوٹ کا معقول اندیشہ ہو تو وہ کسی میونسپل یا دیگر سرکاری اتھارٹی سے مدد حاصل کر سکتا ہے؛

(آئی) دفعہ ‎64 اور ‎65 میں دیے گئے اختیارات کے استعمال بشمول پلانٹ کی ترتیب، تنصیب یا کام کرنے کے طریقوں میں جو خامیاں اسے ورکرز کی صحت یا حفاظت کے لیے خطرہ محسوس ہوں، انہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کر سکتا ہے؛

(جے) شکایت موصول ہونے اور تنازعات کے تصفیہ کمیٹی کی ہدایت پر گھریلو ورکر کے آجر کے ذاتی گھر کا معائنہ کر سکتا ہے؛

(کے) پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے حصول کے لیے ایسے دیگر اختیارات استعمال کر سکتا ہے جو ضروری ہوں؛ اور

(ایل) شوکاز نوٹس جاری کرے گا اور استغاثہ دائر کرے گا۔

(2) ذیلی دفعہ (1) میں موجود اختیارات کے علاوہ، ایک پیشہ ورانہ سیفٹی اینڈ ہیلتھ کا انسپکٹر درج ذیل اضافی اختیارات استعمال کر سکتا ہے:

(اے) کسی بھی مواد کا نمونہ تجزیہ کے لیے اس وقت لے سکتا ہے جب وہ کسی کام کی جگہ پر کسی شے یا اشیاء کی تیاری کے لیے استعمال یا مخلوط کی جارہی ہو، اور یہ نمونہ آجر کی موجودگی میں یا اگر آجر فوری طور پر دستیاب نہ ہو تو اس شخص کی موجودگی میں لے جا سکتا ہے جو کام کی جگہ کا ذمہ دار ہو؛

(بی) کسی بھی ایسےمواد کا نمونہ لے سکتا ہے جو کام کی جگہ پر استعمال یا استعمال کی غرض سے رکھی گئی ہو، اور جس کے بارے میں انسپکٹر کو یہ رائے ہو کہ اس مواد کے استعمال سے پنجاب لیبر کوڈ، قواعد یا کسی حکم کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، یا جسے انسپکٹر کے مطابق کام کی جگہ پر موجود کسی فرد کو جسمانی چوٹ پہنچانے کا امکان ہو؛ بشرطیکہ جب تک دفعہ66 لاگو نہ ہو، آجر یا دوسرے ذمہ دار شخص کو جب نمونہ لیا جائے اور ضروری درخواست فراہم کی جائے، تو وہ انسپکٹر سے تقاضا کر سکتا ہے کہ وہ نمونے کو تین حصوں میں تقسیم کرے اور ہر حصے پر نشان لگا کر اسے اس طرح مہر بند یا محفوظ کرے جیسے اس کی نوعیت اجازت دیتی ہو، اور

(i) آجر یا دوسرے ذمہ دار شخص کو ایک حصہ فراہم کیا جائے؛

(ii) مستقبل میں موازنہ کے لیے ایک حصہ رکھا جائے؛ اور

(iii) حکومت کے مجاز تجزیہ کار کو ایک حصہ جمع کرایا جائے؛

(سی) کسی بھی مشینری یا شے کا نمونہ تجزیہ کے لیے لے سکتا ہے جو کسی کام کی جگہ پر پائی جائے؛

(ڈی) کام کی جگہ پر پائی جانے والی مشینری یا کسی شے کی تصویر یا ویڈیو لے سکتا ہے یا کام کی جگہ کا کوئی خاکہ بنا سکتا ہے؛

326۔ ادارے کی مہر بندی:۔اگر انسپکٹر کو یہ معلوم ہو کہ؛

(اے) کوئی شخص پنجاب لیبر کوڈ کے باب 2.2 کے خلاف بانڈڈ لیبر میں مصروف پایا گیا ہو؛ اور

(بی) پنجاب لیبر کوڈ کے باب 2.3 کے خلاف کسی ادارے میں کسی بچے کو کام پر لگایا گیا ہو یا پایا گیا ہو؛

تو انسپکٹر اس ادارے کو پندرہ دن تک یا جب تک آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) انسپکٹر کی تحریری ہدایات پر عمل نہ کر لے، جو بھی پہلے ہو، کے لیے مہر بند کر سکتا ہے۔

327۔ موجودگی کی اطلاع:۔انسپکٹر، معائنے کے دوران، آجر یا آجر کے نمائندے کو اپنی موجودگی کی اطلاع دے گا، سوائے اس صورت کے جب انسپکٹر کو لگے کہ ایسی اطلاع اس کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

328۔ انسپکٹر کو آزادانہ رسائی اور معاونت:۔(1) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر):

(اے) کسی ورکر کو انسپکٹر سے آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کے لیے ہر موقع اور ضروری سہولیات مہیا کرے گا؛

(بی) جب بھی درخواست کی جائے، انسپکٹر کو ہر معقول معاونت فراہم کرے گا؛ اور

(سی) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت انسپکٹر کی طرف سے طلب کردہ تمام ریکارڈز معائنے کے لیے فراہم کرے گا۔

(2) انسپکٹر ضرورت پڑنے پر کسی بھی سرکاری ادارے کی مدد لے سکتا ہے۔

329۔ چھوٹے اور خرد کاروباروں کی معاونت:۔انسپکٹر اپنے فرائض کی انجام دہی میں کام کی جگہوں کے سائز، سرمائے اور ان کے کام کی رسمیت کے درجے کو مدنظر رکھ سکتا ہے اور چھوٹے، خرد اور غیر رسمی کاروباروں کو پنجاب لیبر کوڈ اور دیگر متعلقہ قوانین کی تعمیل اور سمجھنے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

330۔ سالانہ معائنہ رپورٹ:۔(1)محکمہ ایک سالانہ معائنہ رپورٹ شائع کرے گا۔

(2) سالانہ معائنہ رپورٹ متعلقہ سال کے اختتام کے بعد معقول وقت کے اندر اور کسی بھی صورت میں سال کے اختتام کے بارہ ماہ کے اندر شائع کی جائے گی۔

(3) سالانہ رپورٹ عوامی طور پر محکمے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی۔

(4) سالانہ معائنہ رپورٹ میں، مندرجہ ذیل امور پر خاص طور پر بات کی جائے گی۔

(اے) معائنے سے متعلق متعلقہ قوانین اور ان کے تحت بنائے گئے قواعد؛

(بی) لیبر معائنہ اسٹاف کی تفصیلات؛

(سی) معائنے کے دائرے میں آنے والے کام کی جگہوں اور وہاں ملازم ورکرز کی تعداد کے اعداد و شمار؛

(ڈی) معائنہ دوروں کے اعداد و شمار؛

(ای) خلاف ورزیوں اور ان پر عائد کردہ سزاؤں کے اعداد و شمار؛

(ایف) صنعتی حادثات کے اعداد و شمار؛

(جی) دوران پیشہ امراض کے اعداد و شمار؛ اور

(ایچ) جہاں تک ممکن ہو، نفاذِ قانون سے متعلق صنفی بنیاد پر الگ کیے گئے اعداد و شمار۔

331۔ اعداد و شمار کا مطالبہ:۔پنجاب لیبر کوڈ کے تحت انسپکٹر، اپنے اختیارات کے مناسب اور مؤثر استعمال اور فرائض کی انجام دہی کے لیے، اعداد و شمار اور معلومات کا مطالبہ کر سکتا ہے اور ان کی درستگی کو یقینی بنائے گا۔ اس طرح جمع کی گئی معلومات کو کسی انفرادی ادارے یا کاروباری مرکز کے حوالے سے افشا نہیں کیا جائے گا۔

حصہ ششم

بی۔ تنازعات کا حل، فیصلوں کا جائزہ اور تعمیل

باب 6.5 – تنازعات کی روک تھام اور حل

332۔ تعریفات:۔ باب ہذا میں، جب تک کہ موضوع یا سیاق و سباق میں کوئی امر منافی نہ ہو:

(اے) "مکتسبہ حقوق" سے مراد وہ حقوق ہیں جو کام سے متعلق ہوں، بشمول ملازمت کا خاتمہ یا ملازمت کی شرائط یا کام کے حالات، اور جو ورکرکو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت یا کسی ایوارڈ، اجتماعی معاہدہ، معاہدۂ ملازمت یا کسی دوسرے معاہدے کے تحت حاصل ہوں؛

(بی) "لیبر تنازعہ" سے مراد کوئی بھی تنازعہ بشمول حقوق کے تنازعات اور صنعتی تنازعات جو ایک یا زیادہ فریقین کے درمیان ہوں:

(i) آجران اور ملازمین کے درمیان؛

(ii) آجران، پرنسپلز یا قابضین اور ورکرز کے درمیان؛ اور

(iii) آجران، پرنسپلز یا قابضین یا ان کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کے درمیان پنجاب لیبر کوڈ سے متعلق اور اس میں کسی شخص کی ملازمت یا عدم ملازمت، ملازمت کی شرائط، محنت کے حالات یا کیے گئے یا کیے جانے والے کام سے متعلق تنازعات بھی شامل ہیں؛

(سی) "حقوق کا تنازعہ" سے مراد موجودہ یا مکتسبہ حقوق پر کوئی تنازعہ؛

(ڈی) "صنعتی تنازعہ" سے مراد کوئی بھی تنازعہ جو موجودہ یا مکتسبہ حقوق کے نفاذ سے متعلق نہ ہو، اور اس میں مندرجہ ذیل تنازعات شامل ہیں:

(i) باب 2.6 سی کے تحت اجتماعی سودا کاری کے مذاکرات کے دوران؛ اور

(ii) دفعہ 149 کے تحت تجویز کردہ زائد از ضرورت ملازمتوں سے متعلق تنازعات۔

333۔ فریقین کی نمائندگی:۔ (1) کوئی ورکر یا ورکرز کا گروپ جو کسی تنازعے کا فریق ہو، اسے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کسی بھی کارروائی میں اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ یا رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کے کسی عہدیدار کے ذریعے نمائندگی کا حق ہوگا، جس کے وہ ورکر یا ورکرز رکن ہوں، اور ذیلی دفعہ (2) اور ذیلی دفعہ (3) کے احکامات کے تابع، کوئی آجر جو کسی صنعتی تنازعے کا فریق ہو، ایسی کسی بھی کارروائی میں آجر کی طرف سے مناسب طور پر اختیار یافتہ شخص کے ذریعے نمائندگی کا حق رکھے گا۔

(2) کسی تنازعے کا کوئی فریق پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کسی بھی مصالحتی کارروائی میں کسی قانونی پیشہ ور کے ذریعے نمائندگی کا حق نہیں رکھے گا۔

(3) کسی تنازعے کا فریق لیبر کورٹ، ثالث یا ٹربیونل کے سامنے کسی بھی کارروائی میں لیبر کورٹ، ثالث یا ٹربیونل کی اجازت سے کسی قانونی پیشہ ور کے ذریعے نمائندگی کر سکتا ہے۔

اے۔ حقوق کے تنازعات

334۔ حقوق کے تنازعات میں سول عدالتوں کا اختیار نہ ہونا:۔ کسی بھی سول عدالت کو باب ہذا کے تحت حقوق کے تنازعات کو طے کرنے، فیصلہ کرنے یا نمٹانے کا اختیار حاصل نہ ہوگا۔

335۔ ورکرکی درخواست:۔ (1) دفعات 258، 262، 338، 339 اور 344 کے تابع، ایسی شکایت کی وجہ پیدا ہونے والے دن سے تین ماہ کے اندرکوئی ورکرکسی حق کے متعلق شکایت یا تو براہ راست یا شاپ اسٹیورڈ یا اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے ذریعے تحریری طور پر آجر کے علم میں لاسکتا ہے۔

(2) جب کوئی ورکرشکایت آجر کے علم میں لائے، تو آجر کو شکایت کے علم میں آنے کے پندرہ دن کے اندر اپنا فیصلہ تحریری طور پر ورکرکو اطلاع دینا ہوگا۔

(3) جب کوئی ورکرشکایت شاپ اسٹیورڈ یا اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کے ذریعے آجر کے علم میں لائے، تو آجر کو شکایت کے علم میں آنے کے سات دن کے اندر اپنا فیصلہ تحریری طور پر شاپ اسٹیورڈ یا اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ کو، حسبِ صورت، اطلاع دینا ہوگا۔

(4) اگر آجر ذیلی دفعہ (2) یا ذیلی دفعہ (3) میں مصرحہ مدت کے اندر فیصلہ نہیں سناتا یا اگر ورکرایسے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے، تو ورکر یا شاپ اسٹیورڈ معاملہ کو اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ یا ٹریڈ یونین کے پاس لے جا سکتا ہے جس کا ورکررکن ہو۔

(5) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ یا ٹریڈ یونین معاملہ لیبر کورٹ کے پاس لے جا سکتا ہے، اور جب معاملہ لیبر کورٹ کے پاس پیش کیا جائے، تو اسے معاملہ پیش ہونے کی تاریخ سے نوے دن کے اندر فیصلہ سنانا ہوگا۔

(6) ذیلی دفعات (4) اور (5) کے باوجود، کوئی ورکرآجر کے فیصلے کی اطلاع کی تاریخ سے یا ذیلی دفعہ (2) یا ذیلی دفعہ (3) میں مذکور مدت کے ختم ہونے کی تاریخ سے ساٹھ دن کے اندر معاملہ لیبر کورٹ کے پاس لے جا سکتا ہے۔

(7) میڈی ایشن (مفاہمت کاری) کی مدت کو پنجاب لیبر کوڈ میں لیبر کورٹ یا کسی دوسرے مجاز فورم میں درخواست دینے کی کسی بھی تحدیدی مدت سے مستثنیٰ سمجھا جائے گا۔

(8) دفعہ ہذا کے تحت کسی شکایت کا فیصلہ کرتے وقت، لیبر کورٹ معاملے کے تمام حقائق کا جائزہ لے گی اور حالات کے پیش نظر مناسب اور درست احکامات، بشمول دفعہ 300 کے تحت احکامات، جاری کرے گی۔

(9) ٹربیونل کے فیصلے کے تابع، اگر لیبر کورٹ کا دفعہ ہذاکے تحت دیا گیا فیصلہ سات دن کے اندر یا فیصلے میں مصرحہ مدت کے اندر نافذ یا تعمیل نہیں کیا جاتا، تو ایسا شخص جو فیصلے کو نافذ یا تعمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے، اسے چھ ماہ تک کی قید یا بیس پینلٹی یونٹس تک جرمانہ جو پانچ پینلٹی یونٹس سے کم نہ ہو، یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

(10) کسی شخص کے خلاف ذیلی دفعہ (8) کے تحت مقدمہ صرف اس صورت میں چلایا جائے گا جب ورکرکی طرف سے تحریری شکایت کی جائے اگر اس کے حق میں دیا گیا فیصلہ مذکورہ ذیلی دفعہ میں مصرحہ مدت کے اندر نافذ نہیں کیا گیا ہو۔

(11) جب شکایت ملازمت کےخاتمے سے متعلق ہو، تو ورکرکو شکایت کا نوٹس جاری کرنا ہوگا اور دفعہ ہذاکے تحت لیبر کورٹ میں درخواست ملازمت کے خاتمے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر دینی ہوگی۔

(12) دفعہ ہذاکے احکامات، حسبِ ضرورت تبدیلی کے ساتھ، ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم اور پلیٹ فارم ورکر کے درمیان حقوق کے تنازعے پر لاگو ہوں گے، قطع نظر اس کے کہ ورکرپلیٹ فارم کا ملازم ہے یا خدمات کے معاہدے کے تحت یا کسی اور بنیاد پر منسلک ہے۔

336۔ حقوق کے تنازعے کو میڈی ایٹر (مفاہمت کار) کے پاس بھیجنا:۔(1) حقوق کے تنازعے کے فریقین اپنی رضامندی سے کسی بھی وقت میڈی ایٹر (مفاہمت کار) سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ان کے تنازعے کے حل میں ان کی مدد کرے۔

(2) لیبر کورٹ اگر یہ سمجھے کہ فریقین کے درمیان تنازعہ میڈی ایشن (مفاہمت کاری) کے ذریعے حل ہو سکتا ہے تو ان کی رضامندی سے تنازعہ کو مصرحہ وقت کے اندر میڈی ایشن (مفاہمت کاری) کے لیے بھیج سکتی ہے۔

337۔ حقوق کے تنازعات کے سلسلے میں رجسٹرڈ ٹریڈ یونین، اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ یا آجر کی درخواست:۔ کسی بھی متعلقہ ادارے کے ساتھ منسلک کوئی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین یا اس ادارے کا کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ یا کوئی بھی آجر لیبر کورٹ میں کسی بھی شکایت کے ازالے یا پنجاب لیبر کوڈ یا کسی ایوارڈ یا اجتماعی معاہدے کے تحت ضمانت شدہ یا حاصل کردہ کسی بھی حق کے نفاذ کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

338۔ کم ادائیگی اور عدم ادائیگی کی وصولی کے لیے خصوصی طریق کار:۔(1) اگر باب 3.3 کے احکامات کے خلاف:

(اے) کسی ورکرکی تنخواہ سے کوئی کٹوتی کی گئی ہو؛ یا

(بی) تنخواہ یا پروویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی سے متعلق کسی قانون، رواج یا رسم کے تحت واجب الادا کسی رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہو؛

تو وہ ورکرذیلی دفعہ (6) کے تحت ہدایت کے لیے اتھارٹی کے پاس درخواست دے سکتا ہے۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت درخواست ورکرکی جانب سے پیش کی جا سکتی ہے:

(اے) کسی قانونی پیشہ ور کے ذریعے؛

(بی) متعلقہ ادارے سے منسلک کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین یا ایسوسی ایشن کے کسی عہدیدار کے ذریعے جو تحریری طور پر اس کی جانب سے کام کرنے کا مجاز ہو؛

(سی) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مقرر کردہ کسی انسپکٹر کے ذریعے؛

(ڈی) ایسے شخص کے وارثین کے ذریعے جو فوت ہو چکا ہو؛ یا

(ای) اتھارٹی کی اجازت سے کام کرنے والے کسی دوسرے شخص کے ذریعے۔

(3) ذیلی دفعہ (4) کے تابع، ذیلی دفعہ (1) کے تحت درخواست تنخواہ میں کٹوتی کی تاریخ سے یا تنخواہ کی ادائیگی کی مصرحہ تاریخ سے تین سال کے اندر پیش کی جائے گی۔

(4) اگر درخواست دہندہ اتھارٹی کو قائل کر دے کہ اس مدت کے اندر درخواست نہ دینے کی معقول وجہ تھی، تو درخواست مذکورہ مدت کے بعد بھی قبول کی جا سکتی ہے۔

(5) جب ذیلی دفعہ (1) کے تحت کوئی درخواست پیش کی جائے، تو اتھارٹی:

(اے) درخواست دہندہ اور آجر یا تنخواہ کی ادائیگی کے ذمہ دار شخص کو سنے گی؛ اور

(بی) اگر ضروری ہو تو مزید تحقیقات کرے گی۔

(6) ذیلی دفعہ (7) کے تابع، اتھارٹی پنجاب لیبر کوڈ کے تحت عائد ہونے والے کسی بھی دوسرے جرمانے سے متاثر ہوئے بغیر:

(اے) ورکرکو رقم واپس دینے کا حکم دے سکتی ہے، یا

(بی) اگر درخواست دہندہ ورکرکا وارث ہو، تو کٹوتی شدہ رقم یا تاخیر سے ادا کی گئی تنخواہ کی ادائیگی کا حکم دے سکتی ہے، ساتھ ہی اتھارٹی کی نظر میں مناسب معاوضہ بھی، جو کٹوتی کی صورت میں دس گنا اور تاخیر کی صورت میں تین گنا سے زیادہ نہ ہو۔

(7) اجرت کی تاخیر کی صورت میں معاوضے (زرِتلافی) کی ادائیگی کا حکم نہیں دیا جائے گا اگر اتھارٹی مطمئن ہو کہ تاخیر کی وجہ:

(اے) ورکرکو ادا کی جانے والی رقم کے بارے میں نیک نیتی پر مبنی غلطی یا نیک نیتی پر مبنی تنازعہ تھا؛ یا

(بی) کسی ہنگامی صورتحال یا غیر معمولی حالات کا پیش آنا تھا جس کی وجہ سے تنخواہ ادا کرنے والا شخص معقول کوشش کے باوجود فوری ادائیگی نہ کر سکا؛ یا

(سی) ورکرکا ادائیگی کے لیے درخواست نہ دینا یا ادائیگی قبول نہ کرنا تھا۔

(8) اگر اتھارٹی مطمئن ہو کہ درخواست بد نیتی یا تنگ کرنے کی غرض سے دی گئی ہے، تو وہ درخواست دہندہ کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ دعویٰ کی گئی رقم کا 0.5 فیصد تک جرمانہ آجر یا تنخواہ ادا کرنے کے ذمہ دار شخص کو ادا کرے۔

(9) اتھارٹی کوقانون لینڈ ریونیوپنجاب 1967 یا نافذ العمل کسی بھی دوسرے قانون کے تحت اسسٹنٹ کلیکٹر (گریڈ-I) کے اختیارات حاصل ہوں گے، اور وہ پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے ایسے اختیارات استعمال کر سکے گی۔

(10) دفعہ ہذا کے تحت ادا کرنے کی ہدایت کی گئی کسی بھی رقم کو اتھارٹی مندرجہ ذیل طریقوں سے وصول کر سکتی ہے: مالیہ اراضی کے بقایا جات کے طور پر؛ یا مقررہ طریقے سے، رقم ادا کرنے والے شخص کی منقولہ جائیداد کی قرقی اور فروخت کے ذریعے؛ یا ایسے شخص کی غیر منقولہ جائیداد کے ضبط اور فروخت کے ذریعے۔

339۔ ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات کا خصوصی طریق کار:۔(1) اگر باب 5.6 کے تحت کسی کارروائی میں کسی شخص کی معاوضہ ادا کرنے کی ذمہ داری سے متعلق کوئی سوال پیدا ہو، بشمول زخمی شخص کے ملازم ہونے یا نہ ہونے یامعاوضے کی رقم یا مدت سے متعلق یا معذوری کی نوعیت یا حد سے متعلق کوئی سوال، تو ایسا سوال، باہمی اتفاق نہ ہونے کی صورت میں، کمشنر کے ذریعے طے کیا جائے گا۔

(2) کمشنر کو درخواست مقررہ شکل میں پیش کی جائے گی اور اگر کوئی فیس مقرر ہو تو اس کے ساتھ ادا کی جائے گی، نیز درخواست میں مقررہ تفصیلات درج ہوں گی۔

(3) اگر کسی آجر نے کسی ملازم کی موت کے نتیجے میں ادا کیے جانے والے معاوضے (زرِتلافی) کے طور پر کوئی رقم جمع کروائی ہو، اور کمشنر کی رائے میں یہ رقم ناکافی ہو، تو کمشنر تحریری نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنی وجوہات کے ساتھ آجر سے وجہ طلب کر سکتا ہے کہ وہ نوٹس میں بیان کردہ مدت کے اندر مزید رقم کیوں نہ جمع کروائے۔ اگر آجر کمشنر کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو کمشنر کل واجب الادا رقم کا تعین کرتے ہوئے ایوارڈ دے سکتا ہے اور آجر کو کمی پوری کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

(4) جب کوئی آجر اپیل کرے، تو کمشنر، اگر لیبر کورٹ ہدایت دے تو، اپیل کے دوران اپنے پاس جمع شدہ کسی بھی رقم کی ادائیگی روک لے گا۔

(5) کمشنر کے سامنے پیش ہونے والی کسی بھی کارروائی سے متعلق تمام اخراجات، قواعد کے تابع، کمشنر کی صوابدید پر ہوں گے۔

(6) کمشنر اگر مناسب سمجھے تو کسی قانونی سوال کا فیصلہ لیبر کورٹ سے کر وا سکتا ہے، اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ اس فیصلے کے مطابق سوال کا فیصلہ کرے گا۔

340۔ کارروائیوں کی جگہ اور منتقلی، ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات:۔(1) جب پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کوئی معاملہ کمشنر کے ذریعے یا اس کے سامنے انجام دینا ہو، تو یہ کام پنجاب لیبر کوڈ کے احکامات اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے تابع، اس علاقے کے کمشنر کے ذریعے یا اس کے سامنے انجام دیا جائے گا جہاں حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں چوٹ لگی تھی۔

(2) اگر کوئی کمشنر مطمئن ہو کہ اس کے سامنے زیر التوا کسی کارروائی سے پیدا ہونے والے کسی معاملے کو کسی دوسرے کمشنر کے ذریعے زیادہ مناسب طریقے سے نمٹایا جا سکتا ہے، تو وہ کمشنر پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بنائے گئے قواعد کے تابع، ایسے معاملے کو رپورٹ یا تصفیے کے لیے کسی دوسرے کمشنر یعنی وصول کنندہ کمشنر کے پاس منتقل کرنے کا حکم دے سکتا ہے، اور اگر کمشنر ایسا کرے تو وہ فوری طور پر ایسے معاملے کے فیصلے سے متعلق تمام دستاویزات وصول کنندہ کمشنر کو بھیجے گا اور، جہاں معاملہ تصفیے کے لیے منتقل کیا گیا ہو، وہ کارروائی کے کسی فریق کے فائدے کے لیے کمشنر کے پاس باقی یا سرمایہ کاری شدہ کوئی رقم بھی مقررہ طریقے سے بھیجے گا۔

(3) کمشنر کسی فریق کو سنے بغیر، اگر وہ کارروائی میں حاضر ہوا ہو، کسی یکمشت رقم کی لواحقین میں تقسیم سے متعلق کوئی منتقلی کا حکم نہیں دے گا۔

(4) کسی ورکر کو اصل ادائیگی یا لواحقین میں یکمشت رقم کی تقسیم سے متعلق معاملات کے علاوہ کسی دوسرے معاملے کو، اگر تمام فریقین رضامند نہ ہوں تو حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی دوسرے کمشنر کے پاس؛ یا دوسرے صوبے کی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی دوسرے صوبے کے کمشنر کے پاس منتقل نہیں کیا جائے گا۔

(5) وصول کنندہ کمشنر پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بنائے گئے قواعد کے تابع، تفتیش کرے گا اور اگر معاملہ رپورٹ کے لیے منتقل کیا گیا ہو تو اپنی رپورٹ پیش کرے گا، یا اگر معاملہ تصفیے کے لیے منتقل کیا گیا ہو تو کارروائی کو ایسے جاری رکھے گا جیسے کہ وہ اصل میں اسی کے سامنے شروع ہوئی تھی۔

(6) جب کمشنر کو وصول کنندہ کمشنر کی رپورٹ موصول ہو جائے تو وہ متعلقہ معاملے کا فیصلہ مذکورہ رپورٹ کے مطابق کرے گا۔

(7) حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی معاملے کو ایک کمشنر سے دوسرے کمشنر کے پاس منتقل کر سکتی ہے، بشرطیکہ منتقل کیا جانے والا کمشنر بھی حکومت ہی کے زیر تعینات ہو۔

341۔ ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات میں فریقین کی پیشی:۔کمشنر کے سامنے کسی شخص کی جانب سے کی جانے والی پیشی، درخواست یا کوئی قانونی کارروائی سوائے اس پیشی کے جو کسی فریق کی جانب سے گواہ کے طور پر اپنی شہادت دینے کے لیے ضروری ہو، اس شخص کی جانب سے کسی قانونی پیشہ ور کے ذریعے یا کسی انشورنس کمپنی یا رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کے کسی عہدیدار کے ذریعے جسے متعلقہ شخص نے تحریری طور پر اپنا نمائندہ مقرر کیا ہو، یا کمشنر کی خصوصی اجازت سے، کسی اور مجاز شخص کے ذریعے۔

342۔ ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) سے متعلق تنازعات میں شہادت درج کرنے کا طریق کار:۔(1) کمشنر، ہر گواہ کی شہادت کا لب لباب اس کے بیان کے دوران ہی تحریر کرے گا، یہ کمشنر کے اپنے ہاتھ سے لکھا اور دستخط شدہ ہوگا جو ریکارڈ کا حصہ بنے گا۔

(2) اگر کمشنر کسی وجہ سے یہ خلاصہ خود تحریر کرنے سے قاصر ہو تو وہ اپنےقاصرہونے کی وجہ درج کرے گا اور اپنی املا پر یادداشت تحریر کروائے گا جس پر وہ دستخط کرے گا۔ یہ خلاصہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہوگا۔

(3) کسی طبی گواہ کی شہادت کو ممکنہ حد تک لفظ بہ لفظ درج کیا جائے گا۔

343۔ اپیل کے فیصلے تک ادائیگیوں کو روکنا:۔جب کوئی آجر دفعہ 346 کے تحت اپیل دائر کرے تو کمشنر، لیبر کورٹ کی ہدایت پر، اپنے پاس جمع شدہ کسی بھی رقم کی ادائیگی کو اپیل کے فیصلے تک روک لے گا۔

344۔ حصہ چہارم کے مخصوص ورکرز کے لیے خصوصی طریق کار:۔(1) دفعہ 337 اور 347 کے تابع، وہ ورکرجن پر حصہ چہارم کے ابواب 4.2، 4.4 اور 4.5 لاگو ہوتے ہوں، پنجاب لیبر کوڈ کی کسی خلاف ورزی سے متعلق حقوق کے تنازعے دفعہ 295 میں قائم کردہ تنازعات کے حل کی کمیٹی (ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی) کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

(2) ذیلی دفعہ (1) میں مذکور ورکراگر ملازم بھی ہو تو وہ دفعہ 335 کے تحت بھی درخواست دے سکتا ہے، لیکن وہ ایک ہی وقت میں دفعہ 335 اور دفعہ ہذادونوں کے تحت کارروائی نہیں کر سکتا۔

(3) ذیلی دفعہ (1) کے تحت درخواست، ورکرکی جانب سے مندرجہ ذیل کے ذریعے دی جا سکتی ہے:

(اے) کسی قانونی پیشہ ور کے ذریعے؛ یا

(بی) کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین یا ایسوسی ایشن کے کسی عہدیدار کے ذریعے جسے تحریری طور پر نمائندگی کا اختیار حاصل ہو؛ یا

(سی) متوفی ورکرکے وارثین کے ذریعے۔

(4) ذیلی دفعہ (1) کے تحت درخواست اس تاریخ سے نوے دن کے اندر پیش کی جائے گی جب خلاف ورزی واقع ہوئی ہو یا ادائیگی واجب الادا ہوئی ہو۔

(5) تنازعات کے حل کی کمیٹی کو ایسی شکایت موصول ہونے کے ساٹھ دن کے اندر اپنا فیصلہ سنانا ہوگا۔

(6) تمام فریقین کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔

345۔ خصوصی طریق کار کے تحت کیے گئے فیصلوں کی حتمیت اور پابندی:۔جب تک کہ دفعہ 346 کے تحت اپیل نہ کی گئی ہو، درج ذیل کے فیصلے، احکامات یا ہدایات حتمی ہوں گے اور فریقین پر لازم ہوں گے:

(اے) دفعہ 338 کے تحت اتھارٹی کا کوئی فیصلہ؛

(بی) دفعہ 339 کے تحت ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) کا کمشنر کا کوئی فیصلہ؛ اور

(سی) دفعہ 344 کے تحت تنازعات کے حل کی کمیٹی کا کوئی فیصلہ۔

346۔ خصوصی طریق کار سے متعلق اپیلیں:۔(1) کسی اتھارٹی کی طرف سے دفعہ 338 کی ذیلی دفعہ (6) یا (7) کے تحت دی گئی ہدایت کے خلاف اپیل، ہدایت کی تاریخ سے تیس یوم کے اندر، متعلقہ لیبر کورٹ میں کی جا سکتی ہے جہاں اس اپیل سے متعلقہ وجہ دعویٰ پیدا ہوئی ہو، اور یہ اپیل درج ذیل افراد کی جانب سے کی جا سکتی ہے:

(اے) آجر؛ یا(بی) ورکر یا، اگر وہ فوت ہو چکا ہو، تو اس کے ورثاء میں سے کوئی بھی، بشرطیکہ اس سے یا اس غیر ادا شدہ گروپ سے، جس سے وہ تعلق رکھتا تھا، روکی گئی مبینہ اجرت کی کل رقم، حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مصرحہ ایک ماہ کی کم از کم اجرت کے برابر رقم سے زیادہ ہو؛ یا(سی) وہ شخص جسے دفعہ 338 کی ذیلی دفعہ (8) کے تحت جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہو؛ یا(ڈی) کوئی اور شخص جو اجرت کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت اپیل قابلِ سماعت نہیں ہو گی، جب تک کہ:

(اے) اجرت اور معاوضے (زرِتلافی) کی ادائیگی کے لیے ہدایت کردہ کل رقم حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مصرحہ ماہانہ کم از کم اجرت کے دوگنا کے برابر رقم سے زیادہ ہو؛ اور(بی) اگر اپیل آجر یا کسی اور ایسے شخص کی جانب سے کی جا رہی ہو جو اجرت کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو، تو اپیل کے ساتھ اتھارٹی کا یہ سرٹیفکیٹ منسلک ہو کہ اپیل کنندہ نے وہ رقم جو ہدایت میں واجب الادا قرار دی گئی ہے، اتھارٹی کے پاس جمع کرا دی ہے۔

(3) درج ذیل احکامات کے برخلاف، جو ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) کے کمشنر نے جاری کیے ہوں، متعلقہ لیبر کورٹ میں ساٹھ دن کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے:

(اے) ایسا حکم جس کے تحت یکمشت معاوضہ خواہ نصف ماہانہ ادائیگی کے بدلے (ریڈمپشن) کے طور پر یا کسی اور شکل میں دیا گیا ہو یا اس کا دعویٰ کلی یا جزوی طور پر مسترد کیا گیا ہو؛(بی) نصف ماہانہ ادائیگی کو یکمشت رقم میں تبدیل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کا حکم؛(سی) ایسا حکم جو کسی فوت شدہ ملازم کے لواحقین میں معاوضہ تقسیم کرنے یا کسی شخص کے لواحقین ہونے کے دعوے کو مسترد کرنے سے متعلق ہو؛(ڈی) یادداشتِ معاہدہ کی رجسٹریشن سے انکار، یا اس کی رجسٹریشن، یا اسے شرائط کے تابع رجسٹر کرنے کا حکم۔

(4) کسی ایسے حکم کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی جو ذیلی دفعہ (3) کے تحت دیا گیا ہو، جب تک اپیل میں کوئی اہم قانونی سوال شامل نہ ہو؛ اور شق (بی) میں مذکور حکم کے علاوہ کسی حکم کی صورت میں، جب تک اپیل میں تنازعہ کی رقم حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مصرحہ غیر ہنر مند ورکرکی نصف کم از کم اجرت سے کم نہ ہو۔

(5) اگر آجر ذیلی دفعہ (3) کی شق (اے) کے تحت اپیل دائر کرے تو اپیل کے ساتھ کمشنر کا یہ سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے کہ اپیل کنندہ نے حکم کے تحت واجب الادا رقم کمشنر کے پاس جمع کرا دی ہے۔

(6) ایسی کسی صورت میں اپیل نہیں کی جا سکتی جہاں فریقین نے کمشنر کے فیصلے کو ماننے پر رضامندی ظاہر کی ہو، یا کمشنر کا حکم فریقین کے درمیان طے شدہ معاہدے کے مطابق دیا گیا ہو۔

(7) اگر آجر ذیلی دفعہ (3) کے تحت اپیل کرتا ہے تو کمشنر اپیل کے فیصلے تک اپنے پاس جمع شدہ کسی بھی رقم کی ادائیگی روک سکتا ہے، اور اگر لیبر کورٹ ہدایت دے تو روکے گا۔

(8) تنازعات کے حل کی کمیٹی کے اعلان کردہ ایوارڈ کے خلاف تیس دن کے اندر متعلقہ لیبر کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

(9) ذیلی دفعہ (8) کے تحت خاص ورکرز کے بارے میں لیبر کورٹ کا فیصلہ اور تنازعات کے حل کی کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہو گا اور کسی بھی شخص کی طرف سے کسی عدالت یا کسی بھی اتھارٹی کے سامنے اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکے گا۔:

347۔ اجتماعی معاہدے اور ایوارڈز کی تشریح:۔(1) اگر درج ذیل میں سے کسی کی تشریح یا اطلاق کے سلسلے میں کوئی مشکل یا ابہام پیدا ہو:

(اے) پنجاب لیبر کوڈ کا کوئی حکم؛(بی)کوئی اجتماعی معاہدہ یا ایوارڈ؛ یا(سی)معاہدۂ ملازمت؛

تو یہ معاملہ لیبر کورٹ کو بھیجا جائے گا۔

(2) مذکورہ بالا ذیلی دفعہ (1) کے تحت معاملہ درج ذیل فریقین کی جانب سے لیبر کورٹ کو بھیجا جا سکتا ہے:

(اے) محکمہ؛(بی) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) جو اس کام کی جگہ کا نگران ہو؛(سی)کوئی ٹریڈ یونین، بشمول اجتماعی سوداکاری کا نمائندہ؛ یا(ڈی)کوئی ورکر۔

(3) جس لیبر کورٹ کو ذیلی دفعہ (1) کے تحت معاملہ بھیجا جائے گا، وہ متاثرہ فریقین کو سنے گی اور بعد ازاں فیصلہ کرے گی، اور اس کا فیصلہ فریقین پر حتمی اور لازم العمل ہوگا۔

348۔ مشترکہ شکایت کا ازالہ:۔(1) اگر ورکرز کی کوئی مشترکہ شکایت کسی مکتسبہ حق سے متعلق ہو، تو وہ یہ شکایت مشترکہ طور پر آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کو پیش کر سکتے ہیں، اور مجاز فورم کے سامنے مشترکہ درخواست بھی دائر کر سکتے ہیں۔

(2) باب ہذا میں مجاز فورم سے متعلق طریق کار، حسبِ موقع، مشترکہ شکایت سے متعلق حقوق کے تنازعات پر بھی لاگو ہوں گے۔

بی۔ صنعتی تنازعات

349۔ صنعتی تنازعہ اٹھانا:۔خواہ وہ اجتماعی سودا کاری کے مذاکرات سے متعلق ہو یا نہ ہو، صنعتی تنازعہ مقررہ طریقے سے درج ذیل میں سے کوئی بھی فریق اٹھا سکتا ہے:

(اے) کوئی ٹریڈ یونین، بشمول فیڈریشن یا کنفیڈریشن؛(بی)اجتماعی سوداکاری کا نمائندہ؛ یا(سی)آجر یا آجران کی تنظیم۔

350۔ مصالحتی کارروائیوں کا آغاز اور اختتام:۔(1) جب کسی صنعتی تنازعے کا تعین دفعہ 349 کے تحت ہو جائے، تو اُسے مصالحت کار کے پاس بھیجا جائے گا۔

(2) مصالحتی کارروائی اُس تاریخ سے شروع تصور کی جائے گی جس تاریخ کو تنازعہ ذیلی دفعہ (1) کے تحت مصالحت کار کو بھیجا جائے۔

(3) مصالحتی کارروائی درج ذیل صورتوں میں مکمل تصور کی جائے گی:

(اے) جب تنازعے کے فریقین تصفیے، بشمول اجتماعی معاہدے، پر دستخط کر دیں؛ اور(بی)جب کوئی تصفیہ نہ ہو سکے، تو چودہ دن گزرنے کے بعد، یا جتنا مزید وقت فریقین باہمی رضا مندی سے طے کریں۔

351۔ مصالحت کار کے روبرو کارروائیاں:۔(1) مصالحت کار، جتنا جلد ممکن ہو، تنازعے کے فریقین کی ایک میٹنگ طلب کرے گا تاکہ تصفیہ کرایا جا سکے۔

(2) تنازعے کے فریقین مصالحت کار کے سامنے ایسے نمائندگان کے ذریعے پیش ہوں گے جنہیں انہوں نے نامزد کیا ہو اور جو ان کی جانب سے گفت و شنید کرنے اور فریقین پر لازم معاہدہ کرنے کے مجاز ہوں۔

(3) اگر مصالحت کار کی رائے میں آجر یا متعلقہ ٹریڈ یونین کے کسی عہدیدار کی میٹنگ میں موجودگی ضروری ہو، تو مصالحت کار تحریری نوٹس جاری کرے گا جس میں اس کی حاضری کی جگہ، تاریخ اور وقت بیان کیا جائے گا، اور آجر یا مذکورہ عہدیدار کی یہ قانونی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اس نوٹس کی تعمیل کرے۔

(4) مصالحت کار وہ تمام فرائض انجام دے گا جو قواعد کے تحت مقرر کیے جائیں گے، اور وہ کسی بھی فریق کو ایسی رعایت یا مطالبے میں ترمیم کی تجویز دے سکتا ہے جو اس کی رائے میں تنازعے کے خوشگوار حل کو فروغ دے سکتی ہو۔

(5) اگر مصالحتی کارروائی کے دوران تنازعے یا کسی جزوِ تنازعے کا تصفیہ ہو جائے، تو مصالحت کار اس کی رپورٹ محکمہ کو ارسال کرے گا، ساتھ ہی اگر کوئی اجتماعی معاہدہ فریقین نے طے کیا ہو تو اسے بھی رپورٹ کے ساتھ منسلک کرے گا۔

(6) اگر چودہ دن کی مدت کے اندر کوئی تصفیہ نہ ہو سکے، تو مصالحتی کارروائیاں ایسی مزید مدت تک جاری رکھی جا سکتی ہیں جس پر فریقین باہمی طور پر متفق ہوں۔

(7) دفعہ ہذاکے تحت طے پانے والے اجتماعی معاہدے پر دفعات 112 اور 113 کا اطلاق ہو گا۔

352۔ باہمی رضامندی سے ثالثی:۔ (1) اگر مصالحتی کارروائیاں ناکام ہو جائیں، تو فریقین میں سے کوئی ایک، دوسرے فریق کی رضامندی سے تنازعہ کو ثالث کے پاس بھیج سکتا ہے۔

(2) اگر ذیلی دفعہ (1) کے تحت فریقین متفق ہو جائیں، تو وہ تحریری معاہدے کے ذریعے کسی ثالث کا تقرر کریں گے اور تنازعہ اس ثالث کو بھیجیں گے۔

(3) جس ثالث کو تنازعہ بھیجا جائے وہ درج ذیل میں سے کوئی ہو سکتا ہے:

(اے) وہ شخص جس پر فریقین متفق ہوں؛ یا(بی)وہ شخص جو حکومت کے تیار کردہ پینل میں شامل ہو، بشرطیکہ دونوں فریقین اس پر متفق ہوں۔

(4) ثالث، جسے ذیلی دفعہ (1) کے تحت تنازعہ بھیجا گیا ہو، اسے اس تاریخ سے تیس دن کے اندر فیصلہ دینا ہو گا، یا ایسی مزید مدت میں جس پر فریقین متفق ہوں۔

(5) جب ثالث فیصلہ دے دے تو وہ اس کی ایک نقل فریقین اور حکومت کو ارسال کرے گا، اور حکومت اسے سرکاری گزٹ میں شائع کرے گی۔

(6) ثالث کا فیصلہ حتمی ہو گا، اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکے گی، اور وہ فیصلہ اُس مدت تک نافذ العمل رہے گا جو اس میں درج ہو، تاہم یہ مدت دو سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

353۔ لیبر کورٹ کے ذریعے صنعتی تنازعہ کا باہمی رضامندی سے تصفیہ:۔اگر صنعتی تنازعہ، جو دفعہ 355 میں مذکور نہیں، کے بارے میں دفعہ 350 یا 352 کے تحت کی گئی کارروائیاں ناکام ہو جائیں، تو فریقین میں سے کوئی ایک، دوسرے کی رضامندی سے، متعلقہ لیبر کورٹ میں تنازعہ کے تصفیہ کے لیے درخواست دائر کر سکتا ہے۔

354۔ لیبر کورٹ کے ذریعے صنعتی تنازعہ کا تصفیہ:۔(1) اگر صنعتی تنازعہ اجتماعی سودا کاری سے متعلق ہو، تو اس صورت میں فریقین میں سے کوئی ایک، لیبر کورٹ میں تنازعہ بھیج سکتا ہے بشرطیکہ درج ذیل تمام شرائط پوری ہوں:

(اے) اجتماعی سودا کاری کے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد چار (4) ماہ گزر چکے ہوں، جیسا کہ دفعہ 116 کی ذیلی دفعہ (2) میں بیان کیا گیا ہے؛(بی)دفعہ 351 کے تحت مصالحتی کارروائیاں ناکام ہو چکی ہوں؛ اور(سی)فریق کو یقین ہو کہ دوسرا فریق نیک نیتی سے مذاکرات کرنے سے انکار کر رہا ہے یا ناکام ہو چکا ہے، جیسا کہ دفعہ 107 میں درج ہے۔

(2) جب ذیلی دفعہ (1) کے تحت تنازعہ لیبر کورٹ کو بھیجا جائے، اور لیبر کورٹ یہ طے کرے کہ کوئی فریق نیک نیتی سے مذاکرات نہیں کر رہا، تو وہ ایسے احکامات جاری کر سکتی ہے جن کے ذریعے متعلقہ فریق کو دفعہ 107 کی تعمیل کے لیے مخصوص مدت کے اندر پابند کیا جا سکے، بشمول عبوری ایوارڈ۔

(3) اگر فریق مذکورہ احکامات کی مصرحہ مدت کے اندر تعمیل نہ کرے، تو لیبر کورٹ تنازعہ کے تصفیہ کے لیے ایوارڈ جاری کر سکتی ہے۔

355۔ صنعتی تنازعہ کا لیبر کورٹ یا ثالث کے ذریعے تصفیہ:۔(1) صنعتی تنازعہ کا کوئی بھی فریق یا حکومت، درج ذیل میں سے کسی بھی صورت میں تنازعہ لیبر کورٹ کو تصفیہ کے لیے بھیج سکتی ہے:

(اے) دفعہ 123 کے مطابق؛ یا(بی)جب تنازعہ ضروری خدمات سے متعلق ہو اور مصالحت کے بعد بھی حل نہ ہو۔

(2) اگر تنازعہ عوامی سہولت کی سروس سے متعلق ہو، جیسا کہ دفعہ 125 میں بیان کیا گیا ہے، تو کوئی بھی فریق یا حکومت ہڑتال کے دوران دی جانے والی کم از کم سروس کی سطح سے متعلق تنازعہ لیبر کورٹ کو بھیج سکتا ہے، اور لیبر کورٹ اس تنازعہ کا فیصلہ تین دن کے اندر کرے گی۔

(3) حکومت، اگر چاہے تو، ذیلی دفعات (1) یا (2) کے تحت تنازعہ لیبر کورٹ کو بھیجنے کی بجائے، اسے دفعہ 292 کے تحت مقرر کردہ ثالث کو بھی بھیج سکتی ہے۔

356۔ صنعتی تنازعہ کا لیبر کورٹ کے ذریعے تصفیہ:۔(1) ذیلی دفعہ (3) کے تابع، لیبر کورٹ، دونوں فریقین کو سننےکےبعد، جتنی جلد ممکن ہو، لیکن اس تاریخ سے زیادہ سے زیادہ تیس دن کے اندر جس دن تنازعہ اسے بھیجا گیا ہو، ایسا فیصلہ یا ایوارڈ جاری کرے گی جو اُسے مناسب لگے۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت دیا گیا ایوارڈ ان تمام نکات پر مشتمل ہو گا جن پر فریقین باہمی طور پر متفق ہوں۔

(3) اگر لیبر کورٹ یہ سمجھتی ہو کہ فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے، چاہے اس کی مدد سے یا بغیر، معاہدے کے امکانات موجود ہیں تو وہ کارروائی معطل کر سکتی ہے جتنی مدت اسے مناسب لگے، اور ایسے احکامات جاری کر سکتی ہے جو فریقین کے درمیان مذاکرات میں سہولت پیدا کریں، بشمول باہمی رضامندی پر مبنی احکامات۔

357۔ صنعتی تنازعات سے متعلق فیصلوں کے اثرات:۔ثالث یا لیبر کورٹ کی جانب سے صنعتی تنازعے کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ درج ذیل فریقین پر لازم العمل ہو گا:

(اے) وہ تمام فریقین جو تنازعے میں براہ راست شامل ہوں؛(بی)وہ تمام دیگر افراد جنہیں لیبر کورٹ نے کارروائی کے دوران بطور فریق طلب کیا ہو، جب تک کہ عدالت کسی مخصوص فریق کے بارے میں کچھ اور حکم نہ دے؛(سی)آجر کے ورثاء، جانشین یا نامزد کردہ افراد، اُس ادارے یا اداروں کے سلسلے میں جن سے متعلقہ تنازعہ ہو، بشرطیکہ آجر ان فریقین میں شامل ہو؛(ڈی)اگر اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ فریقین میں شامل ہو، تو وہ تمام ورکرجو اس ادارے یا اداروں میں اس تاریخ کو ملازمت میں تھے جس دن تنازعہ پیدا ہوا، یا جو اس کے بعد ملازمت میں آئے۔

358۔ صنعتی تنازعہ سے متعلق ایوارڈز کے نافذ ہونے کی تاریخ:۔(1) دفعہ 356 کے تحت دیا گیا فیصلہ، جب تک اس کے خلاف ٹربیونل میں اپیل نہ کی جائے، اُس تاریخ سے مؤثر ہو گا جو اس میں درج ہو، اور ایسی مدت تک نافذ العمل رہے گا جو دو سال سے زائد نہ ہو۔

(2) ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل، ایوارڈ کے مختلف مطالبات کے لیے علیحدہ تاریخیں مقرر کرے گا کہ وہ کب سے مؤثر ہوں گے اور ہر صورت میں عمل درآمد کی آخری تاریخ بھی طے کرے گا۔

(3) اگر مذکورہ مدت ختم ہونے سے پہلے کسی بھی فریق کو یہ محسوس ہو کہ وہ حالات جن کی بنیاد پر فیصلہ دیا گیا تھا، اب بنیادی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں، تو وہ لیبر کورٹ یا ٹربیونل سے اس مدت کو کم یا ختم کرنے کی درخواست کر سکتا ہے۔ عدالت یا ٹربیونل دوسرے فریق کو سنے بغیر کوئی حکم جاری نہیں کرے گا۔

(4) باوجود اس کے کہ وہ مدت ختم ہو گئی ہو جو ذیلی دفعات (1) یا (2) کے تحت مقرر کی گئی ہو، ایوارڈ تب تک فریقین پر لازم العمل رہے گا جب تک کہ ایک فریق دوسرے کو تحریری طور پر مطلع نہ کرے کہ وہ اب اس ایوارڈ کے پابند نہیں رہنا چاہتا، اور اس اطلاع کے بعد دو ماہ کی مدت مکمل نہ ہو جائے۔

359۔ جب کارروائی زیر التواء ہو تو ملازمت کی شرائط میں تبدیلی کی ممانعت:۔(1) جب کوئی مصالحتی کارروائی یا ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل میں صنعتی تنازعہ سے متعلق کارروائی زیرِ التواء ہو، اس دوران کوئی آجر کسی بھی ایسے ورکرکے لیے، جس کا تعلق اس تنازعے سے ہو، اُس کی خدمات کی شرائط، بشمول تبادلہ، جو مصالحتی کارروائی یا ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل کے سامنے کارروائی کے آغاز سے قبل اس پر لاگو تھیں، اس کے نقصان میں تبدیل نہیں کرے گا۔

اور نہ ہی آجر:

(اے) مصالحت کار کی اجازت کے بغیر، جب کہ کوئی مصالحتی کارروائی زیر التواء ہو؛ یا(بی) ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل کی اجازت کے بغیر، جب کہ ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل کے سامنے کوئی بھی کارروائی زیر التواء ہے

کسی ورکر کو فارغ، برطرف یا کسی اور طرح سزا دے گا، سوائے ایسی بدعملی کے جو اس تنازعے سے منسلک نہ ہو۔

(2) باوجود اس کے کہ ذیلی دفعہ (1) میں کچھ دیگرمذکور ہو، کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کا کوئی عہدیدار، جب تک کہ اس ذیلی دفعہ میں مذکور کارروائی زیر التواء ہو، اسے کسی بدعملی کی بنیاد پر برخاست، ملازمت سے فارغ، برطرف یا کسی اور طریقے سے سزا نہیں دی جا سکتی، جب تک کہ اس کے لیے پہلے سے لیبر کورٹ کی اجازت حاصل نہ کی گئی ہو۔

تاہم، وہ تمام شرائط و ضوابط جو ورکرز نے اجتماعی سودا کاری، معاہدات، تصفیہ جات، ایوارڈز یا عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعے حاصل کی ہوں، وہ فریقین پر لازم رہیں گی جب تک کہ ورکرز کی بہتری کے لیے ان کا از سر نو جائزہ نہ لیا جائے۔

سی۔ واجب الادا رقم کی وصولی

360۔ اجتماعی معاہدے یا ایوارڈ کے تحت آجر سے واجب الادا رقم کی وصولی:۔(1) اگر کسی اجتماعی معاہدے، یا باب ہذا میں ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل کے کسی ایوارڈ یا فیصلے کے تحت آجر پر کوئی رقم واجب الادا ہو، تو وہ رقم متعلقہ حقدار کی درخواست پر اراضی محصول کی بقایاجات کے طور پر وصول کی جا سکتی ہے۔

(2) اگر کسی ورکرکو آجر سے اجتماعی معاہدے، ثالث، لیبر کورٹ یا ٹربیونل کے ایوارڈ یا فیصلے کے تحت کوئی رقم یا فائدہ حاصل کرنے کا حق حاصل ہو لیکن اس رقم یا فائدے کا تعین نہ ہوا ہو، تو ایسی رقم یا فائدہ لیبر کورٹ تعین کرے گی اور اس کی وصولی ذیلی دفعہ (1) کے مطابق کی جائے گی۔

(3) لیبر کورٹ کو پنجاب لیبر کوڈکے تحت واجب الادا رقم کی وصولی کے لیےقانون لینڈ ریونیو پنجاب 1967(17بابت 1967)کے تحت کلیکٹر کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

باب 6.6 – اپیلیں

361۔ ٹریڈ یونینز کے رجسٹرار کے فیصلوں کے خلاف اپیل:۔(1) اگر رجسٹرار ٹریڈ یونین کسی ٹریڈ یونین کو رجسٹر کرنے سے انکار کرے، تو متعلقہ ٹریڈ یونین دفعہ 86 کے مطابق لیبر کورٹ میں اپیل دائر کر سکتی ہے۔

(2) اگر کوئی شخص رجسٹرار کی جانب سے اجتماعی سودا کاری یونٹ کے تعین سے متعلق کسی حکم سے متاثر ہو، تو وہ دفعہ 104 کے تحت لیبر کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔

362۔ انسپکٹر کے فیصلوں کے خلاف اپیل:۔(1) اگر کسی شخص کو کسی کام کی جگہ سے متعلق انسپکٹر کے فیصلے سے متاثر ہو، تو وہ شخص اس فیصلے کی تاریخ سے تیس دن کے اندر چیف انسپکٹر کے سامنے اپیل دائر کر سکتا ہے؛

بشرطیکہ "متاثرہ شخص" سے مراد درج ذیل ہو:

(اے) وہ ورکرجو کام کی جگہ پر انسپکٹر کی ہدایت کا پابند ہو؛(بی)آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) جو اس ورک پلیس کا نگران ہو؛(سی)صحت و سلامتی کا نمائندہ؛ یا(ڈی)کوئی ٹریڈ یونین، بشمول اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ، جو اس ورک پلیس پر کسی ورکرکی نمائندگی کرتی ہو۔

(2) جب تک کہ ذیلی دفعہ (1) کے تحت دائر اپیل زیر التواء ہو، انسپکٹر کا فیصلہ مؤثر العمل رہے گا، الا یہ کہ چیف انسپکٹر کوئی اور حکم جاری کرے۔

(3) چیف انسپکٹر، انسپکٹر کے فیصلے کو برقرار رکھ سکتا ہے، اس میں ترمیم کر سکتا ہے یا اسے کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

(4) چیف انسپکٹر، اپنی صوابدید پر اور مصرحہ حدود، شرائط یا قیود کے تابع، اپنے کسی ماتحت افسر کو اپیل کی سماعت کا اختیار دے سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ چیف انسپکٹر ہی کرے گا۔

363۔ چیف انسپکٹر کے فیصلوں کے خلاف اپیل:۔(1) جو شخص چیف انسپکٹر کے کسی فیصلے سے متاثر ہو، وہ لیبر کورٹ میں، ذیلی دفعہ (3) میں فراہم کردہ بنیادوں پر، اپیل دائر کر سکتا ہے؛بشرطیکہ "متاثرہ شخص" سے مراد وہی ہے جو دفعہ 362 کی ذیلی دفعہ (2) میں بیان کیا گیا ہے۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت فیصلہ ان فیصلوں پر مشتمل ہو گا جو درج ذیل دفعات سے متعلق ہوں:

(اے) دفعہ 362 کے تحت نظرثانی، بشمول انسپکٹر کے کسی فیصلے کو منسوخ، تبدیل یا برقرار رکھنے کا فیصلہ؛(بی)دفعہ 152؛(سی)دفعہ 149؛(ڈی)دفعہ 189؛(ای)دفعہ 191؛(ایف)دفعہ 202؛(جی)دفعہ 247؛(ایچ) باب 5.3؛(آئی) باب 5.7؛(جے)دفعہ 433؛ اور(کے)دفعہ 434۔

(3) چیف انسپکٹر کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف ان بنیادوں پر کی جا سکتی ہے:

(اے) فیصلہ پنجاب لیبر کوڈ کے خلاف یا غیر قانونی ہے؛(بی)فیصلہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے منافی دیا گیا؛(سی)اختیار کا غلط استعمال ہوا؛(ڈی)فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔

(4) جب تک دفعہ ہذاکے تحت نظرثانی زیرِ التواء ہو، چیف انسپکٹر کا فیصلہ یا دفعہ 362 کی ذیلی دفعہ (5) کے تحت انسپکٹر کا فیصلہ مؤثر رہے گا، الا یہ کہ لیبر کورٹ کوئی اور حکم جاری کرے۔

(5) اگر لیبر کورٹ یہ طے کرے کہ ذیلی دفعہ (3) میں بیان کردہ ایک یا زیادہ وجوہات درست ہیں، تو وہ فیصلہ برقرار رکھ سکتی ہے، اس میں ترمیم کر سکتی ہے یا اُسے منسوخ کر سکتی ہے۔

(6) اگر متاثرہ شخص چیف انسپکٹر کے فیصلے کے خلاف دفعہ 362 کے تحت نظرثانی کی درخواست دے اور چیف انسپکٹر چھ (6) ماہ کے اندر اس پر فیصلہ نہ دے، تو یہ فرض کیا جائے گا کہ چیف انسپکٹر نے فیصلہ برقرار رکھا ہے، اور متاثرہ شخص لیبر کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔

باب 6.7: سزائیں اور فوجداری کارروائیاں

اے۔ عمومی

364۔ باب ہذا سے متعلق نافذ اصول:۔(1) عدالت سزا اور جرمانے کی مقدار کا فیصلہ کرتے ہوئے آجر کے کاروبار کے سائز، خلاف ورزی کی سنگینی، ان ورکرز کی تعداد جن کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی، آجر کی ساکھ اور سابقہ خلاف ورزیوں کی تاریخ پر غور کر سکتی ہے۔

(2) اگر پنجاب لیبر کوڈ کے کسی حکم کی بار بار خلاف ورزی کی گئی ہو، تو ہر بار جرمانے کی مقدار پچھلی سزا کے مقابلے میں دُگنی ہو گی۔

365۔ پینلٹی یونٹ کی تعریف:۔باب ہذا میں"سزا کی اکائی" سے مراد وہ رقم ہے جو حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً غیر ہنر مند ورکرز کے لیے مصرحہ ماہانہ کم از کم اجرت ہو، جیسا کہ خلاف ورزی کے وقت لاگو ہو۔

بی۔دائرہ اختیار اور حق دعویٰ

366۔ عدالت کا دائرہ اختیار:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ یا اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مقدمات صرف لیبر کورٹ یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ سن سکتے ہیں۔

(2) باب 2.2 کی خلاف ورزی صرف متعلقہ فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی عدالت میں، اس کی مقامی حدود میں، سنی جائے گی۔

(3) باب 2.2 کی خلاف ورزی قابلِ دست اندازی پولیس اور قابلِ ضمانت ہو گی۔

367۔ جرمانوں اور قید کے سلسلے میں حقِ دعویٰ:۔کوئی لیبر کورٹ یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ، پنجاب لیبر کوڈ یا اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانے یا قید کی سزا دینے کے لیے کسی درخواست پر غور نہیں کرے گا، جب تک کہ وہ شکایت دفعہ 369 کے مطابق دائر نہ کی گئی ہو۔

368۔ خلاف ورزیوں کی سمری سماعت:۔پنجاب لیبر کوڈ کے تحت ہونے والی تمام خلاف ورزیوں کے مقدمات کی سماعت سمری طریقے سے کی جا سکتی ہے، ما سوائے ان کے جن میں تین ماہ سے زیادہ قید کی سزا مقرر ہو۔

سی۔وہ سزائیں جن میں قید شامل نہیں

369۔ ایسی سزاؤں کے لیے درخواستیں جن میں قید شامل نہ ہو:۔(1) جدول کے کالم 1 اور 2 میں درج خلاف ورزیوں کے لیے سزا کے نفاذ کی درخواست وہ شخص دے سکتا ہے جو کالم نمبر 3 میں درج ہو۔

(2) جہاں کوئی درخواست رجسٹرار یا انسپکٹر کے علاوہ کسی اور شخص کی جانب سے دائر کی جائے، تو ایسے شخص کو یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ جس طرزِ عمل کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے، اُس کے نتیجے میں اُسے نقصان یا منفی اثر پہنچا ہے۔

خلاف ورزی

دفعہ

درخواست دائر کرنے کا مجازشخص

نوٹس اور ریکارڈ کیپنگ

371

انسپکٹر

معائنہ

372

انسپکٹر

انسپکٹروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا

373

انسپکٹر

امتیازی سلوک

375

(اے) ایک ورکر؛

(بی) ایک انسپکٹر؛

(سی) مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر

ٹریڈ یونین عہدیداروں کی جانب سے خورد برد

376

رجسٹرار

غیر منصفانہ لیبر طریق کار (آجر)

377

(اے) ایک ٹریڈ یونین؛

(بی) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ؛

(سی) رجسٹرار

غیر منصفانہ لیبر طریق کار (ورکر)

377

(اے) آجر یا پرنسپل؛

(بی) رجسٹرار

غیر منصفانہ لیبر طریق کار (یونین عہدیدار)

377

(اے) ٹریڈ یونین؛

(بی) اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ؛

(سی) رجسٹرار

اجتماعی معاہدے کی خلاف ورزی

378

(اے) آجر یا پرنسپل؛

(بی) ٹریڈ یونین یا اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ؛

(سی) ایک انسپکٹر

بعض صحت و سلامتی کی خلاف ورزیاں، بشمول تشدد و ہراسانی

379

(اے) ایک انسپکٹر؛

(بی) مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر؛

(سی) صحت و سلامتی کا نمائندہ؛

(ڈی) ٹریڈ یونین یا اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ؛

(ای) آجر، پرنسپل یا قابض

کم از کم اجرت سے کم ادائیگی

380

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین یا اجتماعی سوداکار نمائندہ؛

(سی) ایک انسپکٹر

دیگر اجرت سے متعلق خلاف ورزیاں

381

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین یا اجتماعی سوداکار نمائندہ؛

(سی) ایک انسپکٹر

کام کے اوقات اور چھٹیاں

382

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین یا اجتماعی سوداکار نمائندہ؛

(سی) ایک انسپکٹر

روزگار کی ایجنسیاں

383

(اے) ورکر

(بی) ٹریڈ یونین

(سی) ایک انسپکٹر

کم عمر گھریلو ملازمین

384

ایک انسپکٹر تنازعات کے حل کی کمیٹی کی اجازت سے

دیگر گھریلو ملازمین سے متعلق خلاف ورزیاں

384

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین؛

(سی) ایک انسپکٹر تنازعات کے حل کی کمیٹی کی اجازت سے؛

گھریلو ملازمین کی جائیداد سے متعلق خلاف ورزیاں

384

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین؛

(سی) ایک انسپکٹر تنازعہ حل کرنے والی کمیٹی کی اجازت سے؛

ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کی خلاف ورزیاں

385

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین؛

(سی) ایک انسپکٹر

ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ (سکیم کی عدم پیروی)

386

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین؛

(سی) ایک انسپکٹر

ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ (کمشنر کے احکامات کی عدم تعمیل)

386

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین؛

(سی) ایک انسپکٹر؛

(ڈی) کمشنر

ورکرز کے لیے بنیادی سہولیات کی خلاف ورزی

387

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین؛

(سی) ایک انسپکٹر

لیبر کورٹ کے حکم کی عدم تعمیل

388

(اے) وہ شخص جس نے اصل حکم کے لیے درخواست کی ہو، اور اپنے دائرہ اختیار کے معاملات کے سلسلے میں درج ذیل میں سے کوئی بھی:

(بی) انسپکٹر؛

(سی) مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر؛

(ڈی) کمشنر؛

(ای) رجسٹرار؛

(ایف) اجرت کی ادائیگی کی اتھارٹی؛

(جی) عدالت

انتقامی کارروائی

389

(اے) ورکر؛

(بی) ٹریڈ یونین؛

(سی) آجر، پرنسپل یا قابض؛

(ڈی) انسپکٹر؛

(ای) رجسٹرار؛

(ایف) مساوی روزگار کے مواقع کا دفتر

دیگر خلاف ورزیاں

392

انسپکٹر

کام کی جگہوں اور فیکٹریوں کی رجسٹریشن

407

408

(اے) انسپکٹر؛

(بی) رجسٹریشن کے لیے درخواست گزار؛

(سی) آجر

کام کے آغاز کانوٹس

409

انسپکٹر

370۔ اس ذیلی باب میں سزاؤں کے لیے ثبوت کا معیار:۔اس ذیلی باب کی خلاف ورزی کا تعین امکانات کے توازن کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

371۔ نوٹس اور ریکارڈ رکھے جانے سے متعلق خلاف ورزیاں:۔اگر آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) درج ذیل کا مرتکب ہو:

(اے) پنجاب لیبر کوڈ کے مطابق کوئی نوٹس نہ دینا؛ یا

(بی) پنجاب لیبر کوڈ کے مطابق کوئی رجسٹر برقرار نہ رکھنا یا اس میں غلط اندراج کرنا؛ یا

(سی) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کوئی نوٹس یا خلاصہ ظاہر نہ کرنا؛ یا

(ڈی) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت درکار ریکارڈ یا ریٹرنز جمع نہ کروانا؛

تو ایسے آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) پر سزا کے طور پر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ پانچ پینلٹی یونٹس جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

372۔ معائنہ سے متعلق خلاف ورزیاں:۔اگر آجر، پرنسپل یا قابض:

(اے) کوئی شہادت دینے سے گریز یا انکار کرے، یا اپنے ایجنٹ، ملازم یا ادارے کے کسی دوسرے نگران شخص یا کسی ملازم کو شہادت دینے سے روکے؛ یا

(بی) انسپکٹر کو معلومات دینے سے انکار کرے؛ یا

(سی) معائنہ کے لیے مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کرے؛ یا

(ڈی) کسی کو انسپکٹر کے سامنے پیش ہونے یا جواب دینے سے روکنے یا اسے چھپانے کی کوشش کرے؛ یا

(ای) پنجاب لیبر کوڈ کے مطابق انسپکٹر کے احکامات پر عمل نہ کرے؛

تو ایسے آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) پر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹس جرمانہ ہو گا۔

373۔ انسپکٹر کی راہ میں رکاوٹ:۔دفعہ 397 کے تابع، جو کوئی انسپکٹر کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اس کے اختیارات یا فرائض کے نفاذ یا انجام میں روکے گا، اس پر کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ پچیس پینلٹی یونٹس جرمانہ ہو گا۔

374۔ معاہدۂ ملازمت جاری نہ کرنے پر جرمانہ:۔اگر آجر پنجاب لیبر کوڈ کے مطابق معاہدۂ ملازمت نہ کرے اور ہر ملازم کو اس کی کاپی فراہم نہ کرے، تو اسے ہر ایسے ملازم کے لیے اس کی ماہانہ اجرت کے دو گنا (2) کے برابر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

375۔ امتیازی سلوک:۔(1) اگر آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) مندرجہ ذیل کام کرے:

(اے) باب 2.4 کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی تقرری؛

(بی) کسی ملازم کو یکساں کام یا ملتی جلتی نوعیت کے کام یا مساوی قدر کے کام کے لیے غیر مساوی شرح پر ادائیگی یا اجرت؛

(سی) باب 2.4 کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روزگار اور پیشے کے دیگر معاملات میں امتیازی سلوک۔

(2) ایسی سرزدگی پر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹس جرمانہ نافذ ہو گا۔

376۔ ٹریڈ یونین عہدیدار کی جانب سے فنڈز میں خورد برد یا غبن پر سزا:۔اگر کسی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین کے عہدیدار یا ملازم نے یونین کے فنڈز سے خورد برد یا غلط استعمال کیاہو تو وہ دو پینلٹی یونٹس تک جرمانے کے ساتھ لیبر کورٹ کی جانب سے طے شدہ خورد برد یا غبن شدہ رقم کے دوگنا کا مستوجب ہوگا، اور وصولی پر لیبر کورٹ خورد برد یا غبن شدہ رقم ٹریڈ یونین کو واپس کرے گی۔

377۔ غیر منصفانہ رویّے:۔ (1) آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) جو بھی غیر منصفانہ لیبر طریق کار اپنائے تو وہ:

کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹس جرمانہ کامستوجب ہوگا۔

(2) کوئی ورکر یا ٹریڈ یونین کا عہدیدار جو غیر منصفانہ لیبر طریق کار اپنائےتووہ

کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ تین پینلٹی یونٹس جرمانہ کامستوجب ہوگا۔

(3) اگر ٹریڈ یونین کا کوئی عہدیدار آجر، پرنسپل یا قابض کو ڈرا دھمکا کر، جبر، دباؤ، دھمکی، کسی جگہ محصور کرنے یا وہاں سے بے دخل کرنے، قبضہ چھیننے، ٹیلی فون، پانی یا بجلی کی سہولیات منقطع کرنے یا ایسے دیگر طریقوں سے کوئی مطالبہ قبول کرنے پر مجبور کرے یا مجبور کرنے کی کوشش کرے تو وہ

کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ پانچ پینلٹی یونٹس جرمانہ کامستوجب ہوگا۔

378۔ اجتماعی معاہدے کی خلاف ورزی:۔جو شخص پنجاب لیبر کوڈ کے تحت نافذ العمل کسی اجتماعی معاہدے، لیبر کورٹ یا ٹربیونل کے فیصلے یا ایوارڈ کی کسی شرط کی خلاف ورزی کرے یا اس پر عملدرآمد میں ناکام رہے، اسے درج ذیل سزائیں دی جائیں گی:

(اے) اگر خلاف ورزی آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کی جانب سے ہو، تو کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پندرہ پینلٹی یونٹس تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

(بی) اگر خلاف ورزی کسی ورکرکی جانب سے ہو، تو زیادہ سے زیادہ ایک پینلٹی یونٹس تک جرمانہ ہو گا۔

379۔ سیفٹی اینڈ ہیلتھ سے متعلق خلاف ورزیاں:۔(1) اگر کوئی شخص:

(اے) باب 2.5 یاسیفٹی اینڈ ہیلتھ کے قواعد کے تحت کوئی ذمہ داری یا فرض رکھتا ہو؛ اور

(بی) فرض یاذمہ داری اداکرنےمیں ناکام ہو؛

تو ایسا شخص، ورکر یا خود روزگار فرد کے علاوہ، کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ پچیس پینلٹی یونٹس تک جرمانے کا مستوجب ہو گا۔

مگرشرط یہ ہےکہ اگر یہ خلاف ورزی کسی ورکر یا خود روزگار فرد کی جانب سے ہو، تو اس پر زیادہ سے زیادہ ایک پینلٹی یونٹس جرمانہ عائد ہو گا۔

(2) اگرکوئی شخص ذیلی دفعہ(1)کےتحت اپنے کسی فرض یاذمہ داری اداکرنےسےقاصرہواور عدالت امکانات کے توازن کی بنیاد پر یہ پائے کہ مذکورہ خلاف ورزی:

(اے) غفلت، لاپروائی یا دانستہ تھی؛ یا

(بی) اس سے کسی فرد کی موت یا شدید چوٹ یا بیماری کا خطرہ پیدا ہوا؛

تو عدالت ذیلی دفعہ(1) میں بیان کردہ سزا کو دگنا کر سکتی ہے۔

مگرشرط یہ ہےکہ اگر خلاف ورزی میں شق (اے) اور (بی) دونوں شامل ہوں، تو عدالت دفعہ 394 کے تحت سزا دے سکتی ہے۔

(3) جو کوئی، باقاعدہ اجازت یا ضرورت کی صورت کے بغیر، پنجاب لیبر کوڈ کے تحت فراہم کردہ کسی مشینری، آلات، اشیاء، حفاظتی باڑ، راستے، سیڑھی، بچاؤ کے ذرائع، لائٹس، نشانات، اسٹیج یا دیگر اشیاء کو ہٹا دے، یا مجبوری کی حالت میں ہٹا کر بروقت واپس نہ رکھے، تو وہ کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 15 پینلٹی یونٹس تک جرمانے کا مستوجب ہو گا۔

(4) دفعہ ہذاکے تحت دی گئی سزائیں، کسی متاثرہ فرد کی جانب سے معاوضے (زرِتلافی) کے علیحدہ دعویٰ پر اثرانداز نہیں ہوں گی، اور یہ سزائیں ان کے علاوہ ہوں گی۔

380۔ کم از کم اجرت سے کم معاوضۂ کار کی ادائیگی:۔(1) کوئی بھی آجر جو دفعہ 167 کی خلاف ورزی کرتا ہے اسے جرمانے کی سزا دی جائے گی جو کہ دس پینلٹی یونٹس تک بڑھ سکتی ہے لیکن دو پینلٹی یونٹس سے کم نہ ہو۔

(2) ذیلی دفعہ (1) کے تحت بیان کردہ جرمانے کے علاوہ، عدالت ہر معاملے میں متعلقہ ملازم کو ایسی رقم کی ادائیگی کا حکم دے گی جو ملازم کو اصل میں ادا کی گئی اجرت اور اس رقم کے فرق سے کم نہ ہو جو ایسی خلاف ورزی نہ ہونے کی صورت میں ملازم کو ادا کی جاتی۔

381۔ اجرت سے متعلق دیگر خلاف ورزیاں:۔ ایک آجر جو باب 3.3 کے کسی بھی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے، اسے جرمانے کے ساتھ سزا دی جائے گی جو کہ دس پینلٹی یونٹس تک ہو سکتی ہے لیکن ہر معاملے میں دو پینلٹی یونٹس سے کم نہیں۔

382۔ کام کے اوقات اور رخصت سے متعلق خلاف ورزیاں:۔جو آجر باب 3.4 یا 3.5 کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے گا، وہ کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹس تک جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہو گا۔

383۔ روزگار کی ایجنسیز سے متعلق خلاف ورزیاں:۔جو کوئی شخص جان بوجھ کر باب 3.8 یا اس کے تحت بنائے گئے قواعد، احکام یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا، وہ کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹس تک جرمانے کا مستوجب ہو گا۔

384۔ گھریلو ملازمین سے متعلق خلاف ورزیاں:۔(1) جو آجر باب 4.4 کے کسی حکم پر عمل کرنے میں ناکام رہے یا اس کی خلاف ورزی کرے، تو اُسے پہلی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ ایک پینلٹی یونٹ تک جرمانہ اور دوسری یا ہر بعد کی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ دو پینلٹی یونٹ تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

(2) اگر کوئی بچہ ایسے گھر میں موجود ہو جہاں اُس کے ایک یا دونوں والدین ملازم ہوں، تو اُسے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت بطور ملازم تصور نہیں کیا جائے گا، جب تک کہ اس کے برخلاف ثبوت فراہم نہ کیا جائے۔

(3) دفعہ ہذایا اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے تحت کوئی بھی فوجداری کارروائی تنازعات کے حل کی کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر دائر نہیں کی جائے گی۔

(4) جو کوئی، باب 4.4 کے تحت کسی گھریلو ملازم یا اس کے اہل خانہ کی جائیداد واپس کرنے کا پابند ہو، اور دفعہ 225 کی ذیلی دفعہ (1) میں مصرحہ مدت کے اندر ایسا کرنے میں ناکام رہے، تو اُسے زیادہ سے زیادہ دو پینلٹی یونٹ تک جرمانے کے ساتھ اس جائیداد کی درخواست گزار کو واپسی کا بھی حکم دیا جائے گا۔

385۔ ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز سے متعلق خلاف ورزیاں:۔جو ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم پنجاب لیبر کوڈ کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے یا اُس پر عمل نہ کرے، اُسے پہلی خلاف ورزی پر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹ تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔یہ جرمانے متاثرہ فریق کی جانب سے دائر کردہ کسی بھی معاوضے (زرِتلافی) کے دعوے کے علاوہ ہوں گے۔

386۔ ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ سے متعلق خلاف ورزیاں:۔(1) اگر کوئی کمپنی جس پر شیڈول 5 کے تحت اسکیم لاگو ہوتی ہے، باب ہذا یا اسکیم کی شرائط کی خلاف ورزی کرے، تو کمپنی کے وہ تمام ڈائریکٹرز، مینیجرز یا ذمہ داران جو کمپنی کے انتظامی امور کے نگران ہوں، ان پر کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پندرہ پینلٹی یونٹ تک انتظامی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اگر خلاف ورزی جاری رہے، تو پہلے دن کے بعد ہر دن کے لیے آدھی کم از کم اجرت تک اضافی انتظامی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

(2) اگر مذکورہ کمپنی پنجاب کمپنیز منافع ورکرز پارٹیسپیشن کمیٹی کے دفعہ 321 کی ذیلی دفعہ (3) کے تحت دیے گئے احکام پر عمل نہ کرے، تو ذمہ دار افسران پر کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پندرہ پینلٹی یونٹ تک انتظامی جرمانہ عائد کیا جائے گا، اور مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ہر دن کے لیے ایک مکمل کم از کم اجرت تک اضافی جرمانہ عائد ہو گا۔

(3) اگر ذیلی دفعہ (1) کے تحت عائد کردہ جرمانہ مصرحہ مدت کے اندر ادا نہ کیا جائے، تو اسے محصولات اراضی کے بقایا جات کے طور پر وصول کیا جائے گا۔

(4) حکومت کسی بھی متاثرہ فریق کی درخواست پر، جو کہ آرڈر کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر دی جائے، اُس حکم کا جائزہ لے سکتی ہے اور جو مناسب سمجھے، فیصلہ دے سکتی ہے۔

(5) منافع کا پانچ فیصد جو واجب الادا ہو، اور ذیلی دفعہ (1) کے تحت عائد جرمانہ، اگر مصرحہ وقت کے اندر ادا نہ کیا جائے، تو اُسے قانون لینڈ ریونیوپنجاب، 1967 کے تحت محصولات اراضی کے بقایا جات کے طور پر وصول کیا جائے گا اور فنڈ میں جمع کرایا جائے گا۔

(6) پنجاب لیبر کوڈ یا شیڈول 5 میں شامل اسکیم میں کسی امر کے باوجود، اگر کوئی نادہندہ کمپنی دفعہ 255 کے احکامات کی تعمیل کرے اور حکومت کی مقرر کردہ تاریخ کو یا اس سے پہلے نادہندگی کی مدت کے فوائد شیڈول 5 کے پیرا 4 کے مطابق تقسیم کر دے، تو کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا اور کمپنی شیڈول 5 کے پیرا 4 میں مقرر کردہ سود ادا کرنے کی ذمہ دار نہیں ہو گی۔

387۔ ورکرز کے لیے انفراسٹرکچرکی سہولیات سے متعلق خلاف ورزیاں:۔(1) جو کوئی باب 5.7 کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے گا، وہ کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹ تک جرمانے کا مستوجب ہو گا۔

(2) اگر کوئی شخص باب ہذا کے تحت پہلے سے سزا یافتہ ہو اور دوبارہ ایسی ہی خلاف ورزی کا مرتکب ہو، تو اُسے دگنی سزا دی جائے گی جو اس خلاف ورزی کے لیے مقرر ہے۔

388۔ لیبر کورٹ کے فیصلے کی بروقت تعمیل میں ناکامی:۔(1) ٹربیونل کے فیصلے کے تابع، اگر لیبر کورٹ کا دیا گیا فیصلہ سات دن یا فیصلے میں مصرحہ مدت کے اندر نافذ نہ کیا جائے یا اس کی تعمیل نہ کی جائے، تو عدم تعمیل کرنے والی پارٹی کو کم از کم دواور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹ تک جرمانہ عائدکیا جائے گا۔

(2) اس ذیلی دفعہ کا مطلب یہ نہیں کہ لیبر کورٹ یا ٹربیونل دفعہ 300 اور 405 کے تحت کسی بھی شخص کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے مزید احکامات جاری کرنے سے روکا جائے، جو عدم تعمیل کرنے والی پارٹی کی تعمیل نہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہو۔

389۔ انتقامی کارروائی کی ممانعت:۔(1) اگر کوئی آجر، پرنسپل یا قابض کسی ورکر کے خلاف اس وجہ سے انتقامی کارروائی کرے کہ وہ:(اے) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کوئی فرض ادا کر رہا ہو یا کوئی حق استعمال کر رہا ہو؛(بی) پنجاب لیبر کوڈ یا دیگر قوانین کے تحت دیے گئے حقوق کے حوالے سے شکایت یا نمائندگی کر رہا ہو؛(سی) متعلقہ قانونی دفعات کے نفاذ کے سلسلے میں مقدمات میں گواہی دے رہا ہو؛تو آجر، پرنسپل یا قابض پر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹ تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

(2) انتقامی کارروائی میں امتیازی سلوک شامل ہے، مگر اس تک محدود نہیں۔

390۔ فیکٹریوں، دکانوں اور اداروں کے لیے جرمانے:۔کوئی بھی آجر، پرنسپل یا قابض جو دفعہ 407 یا 408 کی خلاف ورزی کرے، اُسے درج ذیل جرمانے کا سامنا ہوگا:

(اے) فیکٹریوں کے لیے کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پندرہ پینلٹی یونٹ؛

(بی) دس یا زیادہ ورکرز والے اداروں کے لیے کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹ؛

(سی) دکانوں اور دس سے کم ورکرز والے اداروں کے لیے کم از کم آدھ (0.5) اور زیادہ سے زیادہ تین پینلٹی یونٹ۔

391۔ کام شروع کرنے کے نوٹس کی خلاف ورزی:۔جو بھی آجر دفعہ 409 کی خلاف ورزی کرے گا، اُسے فیکٹریوں کے لیے کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس پینلٹی یونٹ تک جرمانہ دیا جائے گا۔

392۔ دیگر غیر متعین خلاف ورزیاں:۔جو کوئی پنجاب لیبر کوڈ یا قواعد کے کسی ایسے حکم کی خلاف ورزی کرے یا تعمیل نہ کرے جس کے لیے جرمانہ مخصوص نہ کیا گیا ہو، اُسے کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ پانچ پینلٹی یونٹ تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

393۔ کام کی جگہ جنسی ہراسانی:۔ کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے مقدمات کو ورک پلیس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ قانون، 2010 (4بابت2010) اور پاکستان پینل کوڈ، 1860 (45بابت1860) کی دفعات کے تحت نمٹا جائے گا۔

394۔ ایسی سزاؤں کا خلاصہ جن میں قید شامل نہیں:۔

خلاف ورزی

دفعہ

پینلٹی یونٹس

نوٹس اور ریکارڈ رکھنے کی خلاف ورزی

371

2-5

معائنہ سے متعلق خلاف ورزی

372

2-10

انسپکٹروں کی راہ میں رکاوٹ

373

5-25

ملازمت کے معاہدے کی عدم موجودگی

374

ہر ملازم کی ماہانہ اجرت کے دو گنا

امتیازی برتاؤ

375

2-10

ٹریڈیونین عہدیداروں کی جانب سے غبن

376

2 (+ اضافی جرمانہ)

غیر منصفانہ لیبر طریق کار (آجر یا پرنسپل)

377

2-10

غیر منصفانہ لیبر طریق کار (ورکر)

377

0-1

غیر منصفانہ لیبر طریق کار (یونین عہدیدار)

377

2-5

اجتماعی معاہدے کی خلاف ورزی

378

ملازم: 0 سے 1، آجر: 3 سے15 تک

حفاظتی اور صحت سے متعلق خلاف ورزیاں

379

سنگین:5 سے25 (کچھ شرائط میں دگنا)؛ غیر سنگین: 3 سے15 تک

کم از کم اجرت سے کم ادائیگی

380

فیکٹری: 2 سے 10؛ 10 تک ورکرز والے ادارے: 2 سے 4؛ 10 یا زیادہ ورکرز والے ادارے: 5 سے 10 (ہر صورت میں، یا کٹوتی شدہ/کم ادا شدہ اجرت کے برابر، جو بھی زیادہ ہو)

دیگر اجرت سے متعلق خلاف ورزیاں

381

2-10

کام کے اوقات اور چھٹی کی خلاف ورزی

382

2-10

روزگار ایجنسیوں کی خلاف ورزی

383

5-20

نابالغ گھریلو کام کرنے والے

384

2-5

دیگر گھریلو کام کی خلاف ورزیاں

384

1-2

گھریلو کام کرنے والوں کی ملکیت کی خلاف ورزی

384

1-2

ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کی خلاف ورزی

385

2-10

ورکرز پارٹیسپیشن فنڈز (اسکیم کی تعمیل نہ کرنا)

386

3 سے15 (+ اضافی جرمانہ)

ورکرز پارٹیسپیشن فنڈز (کمیٹی کے احکامات کی تعمیل میں ناکامی)

386

3 سے 15 (+ اضافی جرمانہ)

انفراسٹرکچر سہولیات کی خلاف ورزی

387

2-10

لیبر کورٹ کے حکم کی تعمیل میں ناکامی

388

2-10

انتقامی کارروائی

389

2-10

فیکٹریز، شاپس اور اسٹیبلشمنٹس کے لیے رجسٹریشن کی خلاف ورزی پر

407

408

فیکٹری: 3 سے 15، 10 یا زیادہ ورکرز والی دکان/ادارہ: 2 سے 10، 10 سے کم ورکرز والی دکان/ادارہ: 0.5 سے 3 تک

کام شروع کرنے کا نوٹس

409

2-10

دیگر خلاف ورزیاں

392

1-5

ڈی۔ ایسی سزائیں جن میں قید شامل ہو سکتی ہے

395۔ ایسی سزاؤں سے متعلق احکامات کے لیے درخواستیں جن میں قید شامل ہو سکتی ہے:۔قید کی سزا سے متعلق جرمانے کے حوالے سے حکم کے لیے درخواست انسپکٹر یا، جہاں دفعہ ‎401 کا تعلق ہو، رجسٹرار کی جانب سے لیبر کورٹ یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے دائر کی جائے گی۔

396۔ ذیلی باب میں جرمانوں کے لیے ثبوت کا معیار:۔(1) اگر قید کی سزا دی جانی ہو تو اس ذیلی باب کی خلاف ورزی کو "ثابت شدہ شک سے بالاترقرار دیا جائے گا۔(2) اگر قید کی سزا نہ دی جانی ہو تو اس ذیلی باب کی خلاف ورزی کو امکانات کے توازن کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔

397۔ انسپکٹر کی راہ میں رکاوٹ یا سنگین معاملات میں انسپکٹر کے حکم کی نافرمانی:۔اگر کوئی شخص انسپکٹر کی راہ میں رکاوٹ بنے یا بغیر معقول وجہ انسپکٹر کے درج ذیل احکامات کی تعمیل کرنے سے انکار کرے:(اے) بانڈڈ، جبری یا لازمی مزدوری کا خاتمہ؛(بی)بچوں کی مزدوری کا خاتمہ؛ یا(سی)دفعہ ‎65 کے تحت جاری کردہ پابندی کا نوٹس۔

یہ جرم ایک ماہ تک قید یا بیس پینلٹی یونٹ جرمانہ یا دونوں کے ساتھ سزا کامستوجب ہوگا، مگر جرمانہ پانچ پینلٹی یونٹ سے کم نہ ہوگا۔

398۔ بانڈڈ، لازمی یا جبری مشقت:۔(1) جو کوئی کسی شخص کو بانڈڈ مزدوری کرنے پر مجبور کرے، یا کوئی ایسی رسم، رواج، طریق کار، معاہدہ، یا دستاویز نافذ کرے جس کے تحت کوئی شخص یا اس کے خاندان کا کوئی رکن بانڈڈ لیبر سسٹم کے تحت کوئی خدمت انجام دینے کا پابند ہو، تووہ کم ازکم دوسال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید یا کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ جرمانہ یادونوں سزاؤں کامستوجب ہوگا۔(2) لیبر کورٹ یا فرسٹ کلاس مجسٹریٹ ذیلی دفعہ (1) کے تحت وصول شدہ جرمانے میں سے بانڈڈ ورکر کو حکومت کی طرف سے اس قسم کے کام یا اس جیسے کام کے لیے مصرحہ کم از کم اجرت کی رقم ادا کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔(3) جو کوئی باب 2.2 یا قواعد کے کسی اور حکم کی خلاف ورزی کرے یا عدم تعمیل کرےتو، اسے ایک ماہ تک قید یا کم ازکم تین پینلٹی یونٹ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ تک جرمانہ یادونوںسزاؤں کامستوجب ہوگا۔(4) جو کوئی جبری یا زبردستی مزدوری کے لیے کسی دوسرے شخص کو جبری طاقت، دھوکہ یا دباؤ کے ذریعے بھرتی کرے، چھپائے، منتقل کرے، فراہم کرے یا حاصل کرے یا ایسا کرنے کی کوشش کرے، وہ انسانی سمگلنگ کا مرتکب ہوگا اور سات سال تک قید یا کم ازکم پانچ پینلٹی یونٹ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ تک جرمانہ یادونوںسزاؤں کامستوجب ہوگا۔(5) اگرذیلی دفعہ(4)کے تحت انسانی سمگلنگ کا جرم بچوں یا خواتین کے خلاف کیا جائے تو ملزم کم ازکم دوسال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید یا کم ازکم پانچپینلٹی یونٹ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ کی سزا یادونوںسزاؤں کامستوجب ہوگا۔(6) ذیلی دفعات(4)اور(5)میں بیان کردہ سزائیں، دفعہ 13 کی ذیلی دفعہ (2) کی شق (جی) میں دی گئی خلاف ورزی کے معاملے میں لاگو نہیں ہوں گی، اس صورت میں، سزا صرف جرمانہ ہوگی جیسا کہ دفعہ 382 میں دیا گیا ہے۔

399۔ چائلڈلیبر:۔(1) جو کوئی بھی آجر، پرنسپل یا قابض بچوں یا نوجوانوں کو باب 2.3 کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام پر رکھے یا کام کرنے دے کم ازکم سات دن اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک قید اور کم ازکم دو اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ جرمانے کی سزا کا مستوجب ہوگا۔

(2) اگر آجر، پرنسپل یا قابض باب 2.3 یا قواعد کے کسی اور حکم کی خلاف ورزی کرے تو وہ کم ازکم تین اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ تک جرمانے کی سزا کا مستوجب ہوگا۔

(3) اگر کسی بچے یا نوجوان کو کسی ادارے میں اس کے والدین یا سرپرست کی موجودگی میں کام کرتے پایا جائے تو والدین یا سرپرست بھی آجر، پرنسپل یا قابض کے ساتھ مساوی ذمہ دار ہوں گے۔(4) اگر والدین یا سرپرست کو جبری مزدوری کی حالت میں مجبور کر کے بچے کو کام پر لانا پڑا ہو تو وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

400۔ حفاظتی اور صحت سے متعلق خلاف ورزیاں جو سنگین نتائج کا باعث بنیں:۔(1) اگر کوئی شخص پنجاب لیبر کوڈ کے کسی حکم، قواعد، ریگولیشن یا کسی حکم کی خلاف ورزی کرے اور اس کی وجہ سے جان کا نقصان ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ دو سال یاکم ازکم پانچ پینلٹی یونٹ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ تک سزایادونوں سزاؤں کامستوجب ہوگا۔

(بی) اگر اس خلاف ورزی کے نتیجے میں سنگین جسمانی چوٹ پہنچے، تو قید زیادہ سے زیادہ ایک سال یا کم ازکم پانچ پینلٹی یونٹ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ کی سزا یادونوںسزاؤں کامستوجب ہوگا۔

(2) ذیلی دفعہ (1) صرف اس صورت میں لاگو ہوگی جب فرد نے درج ذیل طریقوں سےعمل کیا ہو:

(اے) شدید لاپرواہی کے ساتھ؛

(بی) جان بوجھ کر؛ یا

(سی) موت یا سنگین چوٹ یا بیماری کے خطرے کے حوالے سے لاپرواہی کے ساتھ۔

(3) اگر کوئی شخص دفعہ ہذا کے تحت سزا یافتہ ہونے کے بعد دوبارہ اسی دفعہ کے تحت سزا یافتہ ہو تو اسے ذیلی دفعہ (1) میں دی گئی سزا کا دوگنا جرمانہ یا قید دی جائے گی۔

(4) کوئی بھی فورم جو دفعہ ہذا کے تحت جرمانہ عائد کرے، اپیل میں اس کی تصدیق کرے، یا نظرثانی کرے، فیصلہ دیتے ہوئے جرمانے کا پورا یا کوئی حصہ زخمی شخص کو معاوضے (زرِتلافی) کے طور پر ادا کرنے کا حکم دے سکتا ہے، یا اگر وہ شخص فوت ہو چکا ہو تو اس کے قانونی وارثوں کواداکرنےکا حکم دےسکتاہے:

بشرطیکہ اگر یہ جرمانہ ایسے کیس میں عائد کیا گیا ہے جو اپیل کے تابع ہو، تو اپیل کی مدت ختم ہونے یا اپیل کے فیصلے سے قبل کوئی ادائیگی نہ کی جائے۔

401۔ صنعتی تعلقات میں تشدد:۔(1) کوئی بھی یونین کا عہدیدار جو کسی آجر، پرنسپل یا قابض کو مارپیٹ، جسمانی چوٹ یا ایسے دیگر طریقوں سے کسی مطالبے کو قبول کرنے پر مجبور کرے یا کوشش کرے، تووہ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک قید یا کم ازکم تین اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ تک جرمانے یادونوںسزاؤں کامستوجب ہوگا۔

(2) کوئی آجر، پرنسپل یا قابض جو کسی ورکر یا ٹریڈ یونین کے عہدیدار یا اہلکار کو مارپیٹ، جسمانی چوٹ یا ایسے دیگر طریقوں سے کسی مطالبے کو قبول کرنے پر مجبور کرے یا کوشش کرے، تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک قید یا کم ازکم پانچ اور زیادہ سے زیادہ بیس پینلٹی یونٹ تک جرمانے یادونوںسزاؤں کامستوجب ہوگا

402۔ ایسی سزاؤں کا خلاصہ جن میں قید شامل ہو سکتی ہے:۔

خلاف ورزی

دفعہ

پینلٹی یونٹس

قید کی سزا

انسپکٹر کی راہ میں سنگین رکاوٹ

397

5-20

ایک ماہ تک

بانڈڈ، لازمی یا جبری مزدوری یا انسانی اسمگلنگ

398

5-20

2 سے 5 سال

متعلقہ بانڈڈ مزدوری

398

3-20

ایک ماہ تک

جبری مزدوری کے لیے انسانی اسمگلنگ

398

5-20

سات سال تک

جبری مزدوری کے لیے انسانی اسمگلنگ (بچوں، خواتین کے لیے)

398

5-20

2 سے 10 سال

چائلڈلیبر

399

2-20

سات دن سے چھ ماہ تک

متعلقہ چائلڈلیبر

399

3-20

حفاظت اور صحت کی خلاف ورزیاں (موت کے نتیجے میں)

400

5-20

دو سال تک

حفاظت اور صحت کی خلاف ورزیاں (سنگین چوٹ کے نتیجے میں)

400

5-20

ایک سال تک

صنعتی تعلقات میں تشدد

401

3-20

ملازم

5-20

آجر

ایک ماہ تک

ای۔ پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزیوں سے متعلق دیگر احکامات

403۔ پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزی میں معاونت کرنے والے افراد کے بارے میں احکامات:۔(1) عدالت، اس حصہ کے عنوانات سی، ڈی اور ای کے تحت ایسے شخص کے خلاف حکم جاری کر سکتی ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزی میں معاون ہو۔(2) جو شخص پنجاب لیبر کوڈ کے تحت قابلِ سزا کسی خلاف ورزی میں معاونت کرتا ہے، وہ، چاہے معاونت کردہ خلاف ورزی کی گئی ہو یا نہیں، اسی سزا کا مستوجب ہو گا جو اس خلاف ورزی کے لیے مقرر ہے۔(3) دفعہ ہذاکے مقاصد کے لیے "معاونت" کا وہی مطلب ہو گا جیسا کہ تعزیراتِ پاکستان 1860(45بابت 1860) یا کسی دیگر نافذ العمل قانون میں درج ہے۔

404۔ کمپنیوں کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیاں:۔(1) اگر پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کسی کمپنی کی جانب سے کوئی خلاف ورزی کی گئی ہو تو، کمپنی کے وہ تمام افراد جو اُس وقت کمپنی کے امور کے نگران یا ذمہ دار تھے، کمپنی کے ساتھ ساتھ، اُس خلاف ورزی کے مرتکب تصور ہوں گے اور ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔(2) ذیلی دفعہ (1) میں شامل کسی امر کے باوجود، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خلاف ورزی کمپنی کے کسی ڈائریکٹر، منیجر یا کسی اور افسر کی رضامندی، سازباز یا غفلت سے ہوئی ہے تو وہ شخص بھی اس خلاف ورزی کا مجرم تصور ہو گا اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔

وضاحت: دفعہ ہذاکے لیے:(اے) "کمپنی" سے مراد کوئی باڈی کارپوریٹ ہے، اور اس میں فرم یا افراد کی کوئی دیگر انجمن شامل ہے؛(بی)"ڈائریکٹر" سے مراد فرم کے سلسلے میں اُس فرم کا (پارٹنر) ہو گا۔

405۔ اضافی احکامات:۔اگر کوئی عدالت عنوان سی یا ڈی کے تحت کوئی سزا عائد کرتی ہے تو وہ اس کے علاوہ، دفعہ 300 کے تحت بھی کوئی حکم جاری کر سکتی ہے۔

ایف۔ خفیہ معلومات

406۔ مخصوص معلومات کو خفیہ رکھنا:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کسی رپورٹ، ایوارڈ یا فیصلے میں ایسی معلومات شامل نہیں کی جائیں گی جو کسی رجسٹرار، مصالحت کار، لیبر کورٹ، ثالث یا ٹربیونل کو کسی تفتیش یا انکوائری کے دوران کسی ٹریڈ یونین یا کسی فرد، فرم یا کمپنی کے کاروبار کے متعلق حاصل ہوئیں ہوں، اگر وہ معلومات صرف اس گواہی سے حاصل ہوئی ہوں اور وہ ادارہ یا فرد تحریری طور پر اس کی رازداری کی درخواست کرے۔ ایسی معلومات تب تک ظاہر نہیں کی جائیں گی جب تک متعلقہ یونین کے سیکریٹری یا متعلقہ فرد، فرم یا کمپنی تحریری اجازت نہ دیں۔(2)پنجاب لیبر کوڈ کے تحت تفتیش یا عدالتی کارروائی یا کسی شخص کے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت فرائض کی ادائیگی کے سوا، کوئی بھی شخص ایسی معلومات افشا نہیں کرے گا، جن میں کوئی صنعتی یا تجارتی راز یا کام کے طریق کار شامل ہوں، جو اسے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت حاصل ہوئی ہوں۔(3) جو شخص پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کسی شکایت پر انکوائری یا تفتیش کرتا ہے، وہ شکایت کنندہ کا نام ظاہر نہیں کرے گا، سوائے عدالتی کارروائی کے جہاں اسے ایسا کرنا ضروری ہو۔(4) انسپکٹر پنجاب لیبر کوڈ کی خلاف ورزی سے متعلق کسی شکایت کے ماخذ کو مکمل طور پر خفیہ رکھ سکتا ہے، اور آجر یا اس کے نمائندے کو یہ اطلاع نہیں دی جائے گی کہ معائنہ کسی شکایت کے نتیجے میں کیا گیا تھا۔(5) انسپکٹر کسی بھی معلومات کو جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت حاصل ہو، خفیہ رکھ سکتا ہے، اور صرف اس صورت میں متعلقہ حکام کو ظاہر کر سکتا ہے جب پنجاب لیبر کوڈ یا کسی دوسرے قانون کی عملداری کے لیے ضروری ہو۔(6) دفعہ ہذا میں شامل کسی امر کا اطلاق اس صورت میں نہیں ہو گا جب ایسی معلومات تعزیراتِ پاکستان 1860 دفعہ 193کے تحت کسی مقدمہ میں ثبوت کے طور پر درکار ہوں۔

حصہ ہفتم

عمومی دفعات

اے۔ اداروں کا اندراج

407۔ فیکٹری رجسٹریشن سرٹیفکیٹس:۔(1) کوئی بھی آجر جو کسی فیکٹری کا آپریٹر ہو، اُسے اُس وقت تک پیداواری عمل شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ وہ متعلقہ علاقے کے مجاز انسپکٹر سے فیکٹری رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل نہ کر لے۔

(2) کوئی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اس وقت تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک کہ فیکٹری کا آجر وہ تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرے جو قواعد کے تحت مقرر کی گئی ہوں۔

(3) رجسٹریشن کے دستاویزات میں متعلقہ ترقیاتی اداروں سے صنعتی پلاٹ کے لے آؤٹ پلان کی منظوری اور بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے اداروں سے صنعتی کنکشنز کی منظوری شامل ہونا ضروری ہے۔

(4) ایسی رجسٹریشن اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا اجرا آن لائن برقی طریق کارکے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔

(5) اگر فیکٹری کے آپریٹر آجر کی درخواست پر متعلقہ علاقے کا مجاز انسپکٹر اس بات سے مطمئن ہو جائے کہ وہ فیکٹری پنجاب لیبر کوڈ کے مطابق "فیکٹری" کی حیثیت کھو چکی ہے اور آئندہ بارہ ماہ میں اس حیثیت کو بحال کرنے کا امکان نہیں ہے، تو وہ فیکٹری کو ڈی رجسٹرکر سکتا ہے۔

(6) ذیلی دفعہ (1) کے تحت دیا گیا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اپنے اجراکی تاریخ سے دو سال تک مؤثر رہے گا اور مقررہ فیس کی ادائیگی پر خود بخود تجدید پذیر ہو گا۔

408۔ اداروں کے لیے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ:۔(1) ہر آجر کو اس علاقے کے ڈپٹی چیف انسپکٹر سے اپنے ادارے کی رجسٹریشن حاصل کرنا ہو گی جس میں ادارہ واقع ہو، سوائے درج ذیل کے:(اے) فیکٹری؛ اور(بی)وہ فیکٹریاں جو فیکٹری کے احاطے میں دفتری عملہ ملازم رکھتی ہوں۔

(2) ایسا کوئی ادارہ جسے ذیلی دفعہ (1) کے تحت رجسٹر ہونا ضروری ہے، اُس وقت تک کام شروع نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کے لیے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ مقررہ طریق کار، شرائط و ضوابط کے مطابق حاصل نہ کیا گیا ہو۔

(3) ایسی رجسٹریشن اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا اجرا آن لائن برقی طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔

(4) ذیلی دفعہ (1) کے تحت دیا گیا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اجراکی تاریخ سے دو سال تک مؤثر ہو گا اور مقررہ فیس کی ادائیگی پر خود بخود تجدید پذیر ہو گا۔

(5) ایسے ادارے جن میں پندرہ یا اس سے زیادہ ورکرہوں، انہیں علاقے کے فیکٹری انسپکٹر کے ذریعے رجسٹر کیا جائے گا۔

(6) آجر کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ادارے کی کسی نمایاں جگہ اور اگر دستیاب ہو تو ادارے کی ویب سائٹ پر آویزاں کرنا ہو گا۔

409۔ کام شروع کرنے سے قبل انسپکٹر کو اطلاع دینا:۔(1) فیکٹری یا سیزنل فیکٹری کا آجر، فیکٹری میں کام شروع کرنے سے قبل انسپکٹر کو تحریری اطلاع، دستی طور پر یا برقی طریقے سے، درج ذیل معلومات کے ساتھ ارسال کرے گا:(اے) فیکٹری کا نام اور پتہ؛(بی)وہ پتہ جہاں فیکٹری سے متعلقہ خطوط بھیجے جائیں؛(سی)فیکٹری میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کی نوعیت؛(ڈی)استعمال کی جانے والی توانائی کی نوعیت اور مقدار؛(ای)پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے منیجر کا نام؛ اور(ایف)دیگر معلومات جیسا کہ پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔

(2) جب بھی فیکٹری میں منیجر کی تبدیلی ہو، آجر سات دن کے اندر اندر نئے منیجر کے چارج سنبھالنے کی تاریخ سے انسپکٹر کو ایسی تبدیلی کی تحریری اطلاع دے گا۔

(3) جس مدت کے دوران کسی شخص کو دفعہ ہذاکے تحت فیکٹری کا منیجر نامزد نہ کیا گیا ہو، یا نامزد شخص فیکٹری کا نظم و نسق نہ چلا رہا ہو، اس مدت کے دوران کوئی بھی شخص جو منیجر کے طور پر کام کرتا ہوا پایا جائے، یا اگر ایسا کوئی شخص دستیاب نہ ہو تو خود آجر، پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے فیکٹری کا منیجر تصور کیا جائے گا۔

410۔ موسمی اداروں کا انضباط:۔(1) چیف انسپکٹر، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، کسی ایسے ادارے کو جو عام طور پر سال میں ایک سو اسی دن سے زیادہ کام کرتا ہے، پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے سیزنل ادارہ نہ ہونے کا اعلان کر سکتا ہے۔

(2) چیف انسپکٹر، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، کسی ایسے مخصوص ادارے کو جو عمومی طور پر سال میں ایک سو اسی دن سے زیادہ کام کرتا ہے لیکن وہ صرف کسی مخصوص موسم یا قدرتی عوامل کے غیر متوقع اثرات پر منحصر اوقات میں ہی کام کر سکتا ہے، پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے سیزنل ادارہ قرار دے سکتا ہے؛ بشرطیکہ کوئی ایسا ادارہ جس کا خام مال پورے سال دستیاب ہو، سیزنل ادارہ قرار نہیں دیا جائے گا۔

بی۔ اعدادوشمار کا جمع کرنا

411۔ اعدادوشمار کا جمع کرنا:۔محکمہ، چیف انسپکٹر اور اداروں کے انسپکٹرزکے ذریعے، بذریعہ نوٹیفکیشن، ہدایت دے سکتا ہے کہ درج ذیل معاملات سے متعلق، جہاں ممکن ہو، جنس کی بنیاد پر علیحدہ اعدادوشمارجمع کئے جائیں:

(اے) اداروں سے متعلق کوئی بھی ایسا معاملہ جیسا کہ قواعد میں تجویز کیا جائے؛ اور

(بی) درج ذیل میں سے کوئی بھی معاملہ، بشرطیکہ وہ ورکرز کی فلاح و بہبود اور اُن کے کام کے حالات سے متعلق ہو:

(i) بھرتی ورکرز اور عملے کی تبدیلی کی شرح؛

(ii) اجرت اور دیگر آمدنی؛

(iii) قرض یا پیشگی رقم حاصل کرنے والے ورکرز کی تعداد اور ان کی رقوم؛

(iv) کام کے اوقات اور علیحدہ ظاہر کیے گئے اوور ٹائم کے اوقات؛

(v) ان خواتین ورکرز کی تعداد جنہوں نے زچگی کی رخصت حاصل کی؛

(vi) آجر کی جانب سے قائم کردہ پراویڈنٹ اوردیگر فنڈز؛

(vii) وہ فوائد، فلاحی سہولیات، اور دیگر سہولیات جو آجر فراہم کرتا ہے؛

(viii) انفرادی اور اجتماعی حقوق کے تنازعات؛

(ix) رہائشی حالات، جن میں رہائش، پانی کی فراہمی اور صفائی کے انتظامات شامل ہیں، خصوصاً وہ جو آجر کی طرف سے فراہم کیے گئے ہوں؛

(x) ایسے ورکرز کی تعداد اور وہ رقم جو رہائش کی فراہمی کے بدلے کٹوتی کی گئی ہو؛

(xi) ایسے ورکرز کی تعداد اور وہ رقم جو آمد و رفت کی سہولت کی مد میں کٹوتی کی گئی ہو؛ اور

(xii) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت درکار تمام گوشوارے۔

سی۔ ڈیٹا پروٹیکشن

412۔ ڈیٹا کا تحفظ:۔(1) کوئی آجر کسی ورکرسے متعلق ایسا ذاتی ڈیٹا پراسیس نہیں کرے گا جو آجر اور ورکرکے درمیان معاہدے کے نفاذ کے لیے بنیادی طور پر متعلقہ اور قطعی طور پر لازمی نہ ہو، جیسا کہ مقرر کیا جائے۔

(2) ہر ورکرکو درج ذیل حقوق حاصل ہوں گے:

(اے) اپنے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا حق؛

(بی) اپنے بارے میں جمع کیے گئے ڈیٹا تک رسائی کا حق؛ اور

(سی) اس ڈیٹا کی اصلاح کا حق۔

ڈی۔ احتیاطی تدابیر (ڈیو ڈیلیجنس) اور منصفانہ خریداری

413۔ مستعدی کی شق:۔(1) ذیلی دفعہ (3) کے تابع، ہر آجر پر لازم ہو گا کہ وہ اپنی سپلائی چین میں ورکرز کے حقوق سے متعلق احتیاطی تدابیر (ڈیو ڈیلیجنس) کی ذمہ داریوں کا لحاظ رکھے تاکہ ورکرز کے حقوق کو نقصان پہنچانے کے خطرات کو روکا یا کم سے کم کیا جا سکے یا ایسی خلاف ورزیوں کو ختم کیا جا سکے۔

(2) احتیاطی تدابیر میں شامل ہوں گے:

(اے) رسک مینجمنٹ سسٹم کاقیام؛

(بی) ادارے کے اندر ایک ذمہ دار شخص کی نامزدگی؛

(سی) باقاعدہ خطرات کا تجزیہ کرنا؛

(ڈی) ورکرز کے حقوق پر حقیقی یا ممکنہ منفی اثرات کی نشاندہی کرنا؛

(ای) ادارے کی پالیسیز میں احتیاطی تدابیر کو شامل کرنا؛

(ایف) اپنے امورکے دائرہ کار اور براہِ راست سپلائرز کے ساتھ احتیاطی اقدامات اختیار کرنا؛

(جی) اصلاحی اقدامات کرنا؛

(ایچ) شکایات کے اندراج اور ازالہ کے طریق کار کا قیام؛

(آئی) مذکورہ بالا ذمہ داریوں اور کیے گئے اقدامات کی دستاویز بندی اور رپورٹنگ۔

(3) احتیاطی تدابیر (ڈیو ڈیلیجنس) کی ذمہ داریوں کا اطلاق تمام اداروں پر، بشمول اُن اداروں کے گروہوں پر ہوگا جن میں ایک ہزار سے زائد ورکرکام کرتے ہوں، اور اس طریقے سے ہوگا جیسا کہ مقرر کیا جائے۔

(4) ورکرز کے حقوق کا خطرہ ایسی صورت حال ہو گی جس میں حقائق کی بنیاد پر اس بات کا کافی امکان ہو کہ درج ذیل ممانعتوں میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی قریب الوقوع ہے:

(اے) باب 2.2 کے مطابق جبری، بندھوا یا لازمی مشقت میں افراد کی ملازمت اور غلامی کی تمام اقسام، غلامی سے مشابہ رواجوں، زرعی غلامی (سرفڈم) یا کام کی جگہ پر تسلط یا جبر کی دیگر اقسام کی ممانعت؛

(بی) باب 2.3 کے مطابق سولہ سال سے کم عمر کے بچے کی ملازمت پر پابندی؛

(سی) باب 2.3 کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے چائلڈ لیبر کی بدترین اقسام کی ممانعت؛

(ڈی) باب 2.4 کے مطابق ملازمت اور پیشے میں غیر مساوی سلوک اور مساوی قدر کے کام کے لیے غیر مساوی معاوضے کی ادائیگی کی ممانعت؛

(ای) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت قابل اطلاق پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کی ممانعت، خاص طور پر باب 2.5 میں، اور اس کے تحت بنائے گئے قواعدمیں؛

(ایف) باب 2.6 کے مطابق تنظیم سازی (ایسوسی ایشن) کی آزادی، اجتماعی سودا کاری کے حق اور ہڑتال کے حق کو نظر انداز کرنے کی ممانعت؛ اور

(جی) قابل اطلاق کم از کم اجرت کو روکنے یا عدم ادائیگی کی ممانعت، جیسا کہ حکومت وقتاً فوقتاً مطلع کرتی ہے۔

(5) دفعہ ہذا کے مفہوم میں سپلائی چین سے مراد ادارے کی تمام مصنوعات اور خدمات ہیں۔ اس میں وہ تمام اقدامات شامل ہیں جو مصنوعات کی تیاری اور خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں، اور اس میں شامل ہیں:

(اے) اس کے اپنے کاروباری علاقے میں ادارے کی کارروائیاں؛

(بی) براہ راست سپلائرز کے اقدامات:

(i) اس دفعہ میں: "اپنے کاروباری علاقے" سے مراد کاروباری مقصد حاصل کرنے کے لیے ادارے کی ہر سرگرمی ہے۔ اور

(ii) "براہ راست فراہم کنندہ" کا مطلب سامان کی فراہمی یا خدمات کی فراہمی کے معاہدے کا شراکت دار ہے جس کی فراہمی ادارے کی مصنوعات کی تیاری یا متعلقہ خدمات کی فراہمی اور استعمال کے لیے ضروری ہے۔

(6) دفعہ ہذا کے مطابق احتیاطی تدابیر کی ذمہ داریوں کی تکمیل کو ادارے کے اندر مسلسل دستاویزی شکل میں محفوظ کیا جائے گا، جیسا کہ مقرر کیا جائے۔

414۔ منصفانہ ملازمت کے معیارات کی شق:۔(1) پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2009 یا اس موضوع پر اس وقت نافذ کسی بھی دیگر قانون میں موجود کسی امر کے باوجود، کسی بھی سرکاری شعبے کی خریداری کرنے والی ایجنسی، بولیوں کی جانچ اور کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے دوران اس امر کو یقینی بنائے گی کہ کنٹریکٹر ان کم از کم ملازمت کے معیارات کا احترام کرے گا جو پنجاب لیبر کوڈ میں، بالخصوص حصہ دوم اور حصہ سوم میں فراہم کیے گئے ہیں۔

(2) کسی بھی معاہدے میں اس کے برخلاف کوئی شق ہونے کے باوجود، کنٹریکٹر، معاہدے کی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر ملازم رکھے گئے ورکرز کے حوالے سے، ذیل میں دی گئی منصفانہ ملازمت کے معیارات کی شق کی خلاف ورزی کا سبب نہیں بنے گا۔

(3) معاہدے کی مدت کے دوران، پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کنٹریکٹر کو قابلِ ادائیگی رقم میں سے اتنی رقم منہا کر لے جو کسی ورکر یا ورکرز کو ورکرز کے فائدے سے متعلق معاہدے کی شرائط کی عدم تکمیل کے باعث ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے درکار ہو۔

(4) ہر سرکاری شعبے کا خریداری معاہدہ منصفانہ ملازمت کے معیارات کی شق کے ساتھ منسلک ہوگا، جس کے مطابق اس معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے رکھے گئے تمام ورکرز کی ملازمت کم از کم ان شرائط کے مطابق ہونی چاہیے جو پنجاب لیبر کوڈ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق مقرر کی گئی ہوں۔

(5) کنٹریکٹر پنجاب لیبر کوڈ کے احکامات پر عمل درآمد کا پابند ہوگا، بشمول مگر محدود نہیں، حصہ دوم، حصہ سوم ماسوائے باب 3.8، اور حصہ پنجم ماسوائے ابواب 5.2، 5.3 اور 5.4۔

(6) خریداری کرنے والا ادارہ کنٹریکٹر یا لائسنس یافتہ فرد کی طرف سے دعووں کے حتمی حل سے قبل، محکمہ کی جانب سے جاری کردہ ایک تصدیقی سند طلب کرے گا، جس میں پنجاب لیبر کوڈ کی تعمیل کی تصدیق کی گئی ہو۔ اگر ایسی سند پیش نہ کی جائے تو خریداری ادارہ قابلِ ادائیگی رقم میں سے اتنی رقم منہا کر لے گا جتنی کہ ورکرز کے بقایاجات جیسے اجرت، معاوضہ، چھٹی کی نقد ادائیگی، گریجویٹی وغیرہ کی ادائیگی کے لیے مناسب ہو، اور اس رقم کو کمشنر برائے معاوضۂ ملازمین کے پاس جمع کروا دے گا تاکہ قانون کے مطابق تقسیم کی جا سکے۔

(7) منصفانہ ملازمت کے معیارات کی یہ شق کنٹریکٹر کو دیے گئے معاہدے کا لازمی حصہ تصور ہوگا، اور اس کی کسی بھی خلاف ورزی کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

ای۔دیگر احکامات

415۔ تحفظ (انڈیمنٹی):۔پنجاب لیبر کوڈ یا اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کے مطابق نیک نیتی سے کی گئی یا کی جانے کی نیت سے کی گئی کسی کارروائی کے سلسلے میں، پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مجاز، سرکاری ملازمت میں مامور کسی بھی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ، فوجداری کارروائی یا دیگر قانونی کارروائی نہ کی جائے گی۔

416۔ معاہدے سے دستبرداری:۔پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ سے پہلے یا بعد میں کیا گیا کوئی بھی معاہدہ یا سمجھوتہ، جس کے ذریعے کوئی ورکرپنجاب لیبر کوڈ کے تحت حاصل کسی حق سے دستبردار ہو، غیر مؤثر اور کالعدم تصور ہوگا، جہاں تک وہ اس حق سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہو۔

417۔ اقدامات کی قانونی حیثیت:۔پنجاب لیبر کوڈ کے تحت قائم کسی بھی ایجنسی کی طرف سے کیے گئے کسی اقدام کو محض ایجنسی میں کسی آسامی کے خالی ہونے یا اس کی تشکیل میں کسی نقص کی بنیاد پر کالعدم نہیں کیاجاسکےگا۔

418۔ افسران کا سرکاری ملازم ہونا:۔تمام افسران، حکام، کمیٹیوں کے ارکان، رجسٹرار، میڈی ایٹرز (مفاہمت کار) ، مصالحت کار، ثالث، لیبر کورٹ کے پریزائیڈنگ آفیسر اور ٹربیونل کے ارکان کو پاکستان پینل کوڈ 1860 (XLV بابت 1860) کی دفعہ 21 کے مفہوم میں سرکاری ملازم سمجھا جائے گا۔

419۔ کام کی جگہ پر ڈسپلے:۔کام کی جگہ کے داخلی راستے پر یا ایسی کسی بھی جگہ پر جہاں ملازمین کا جائز اجتماع ہوتا ہو، پنجاب لیبر کوڈ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کا خلاصہ، نیز دیگر لازمی نوٹسز انگریزی، اور اردو یا دیگر علاقائی زبانوں میں نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں گے۔

420۔ معلومات جمع کرنے کا اختیار:۔پنجاب لیبر کوڈ یا اس کے تحت بنائے گئے قواعد، ضوابط یا اسکیم کے تحت کام کرنے والا کوئی بھی بورڈ، افسر یا مجاز اتھارٹی، اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے، اعداد و شمار طلب کر سکتی ہے اور کسی بھی آجر کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ ایسے ریکارڈ، دستاویزات یا معلومات فراہم کرے یا ایسے دیگر کام انجام دے جو اسے یا افسر کو درکار ہوں، اور ہر آجر اس ہدایت پر عمل کرنے کا پابند ہوگا:

بشرطیکہ اس طرح حاصل کردہ معلومات کو کسی بھی انفرادی کاروبار (انڈرٹیکنگ) یا ادارے سے متعلق ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

421۔ ریکارڈز کی حد بندی:۔پنجاب لیبر کوڈ کے تحت رکھے گئے ہر رجسٹر یا ریکارڈ کو کم از کم پانچ سال تک یا ایسی مدت تک، جو کسی بھی درجہ یا قسم کے رجسٹر یا ریکارڈ کے لیے مقرر کی جا سکتی ہو، محفوظ رکھا جائے گا اور معائنہ کے لیے انسپکٹر کی دسترس میں رکھا جائے گا۔

422۔ قواعد بنانے کا اختیار:۔(1) حکومت سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔(2) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت قواعد بنانے کا اختیار اس شرط پر ہوگا کہ قواعد کی تیاری سے پہلے اشاعت کی جائے۔

423۔ شیڈولز میں ترمیم:۔حکومت سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن شیڈولز میں ترمیم کر سکتی ہے۔

424۔ ہدایات دینے کا اختیار:۔حکومت وقتاً فوقتاً کسی آجر، پرنسپل یا قابض (آکو پائیر) کو پنجاب لیبر کوڈ کے احکامات کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہدایات جاری کر سکتی ہے۔

425۔ ہدایات اور رہنما اصول جاری کرنے کا اختیار:۔محکمہ پنجاب لیبر کوڈ کے مقاصد کے لیے ہدایات اور رہنما اصول جاری کر سکتا ہے۔

426۔ مشکلات کا ازالہ:۔اگر پنجاب لیبر کوڈ کی کسی دفعہ کو نافذ کرنے میں کوئی مشکل پیش آئے تو حکومت، سرکاری گزٹ میں، بذریعہ نوٹیفکیشن، ایسے احکام جاری کر سکتی ہے جو پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات سے متصادم نہ ہوں۔

427۔ پنجاب لیبر کوڈ کا دیگر قوانین پر غالب آنا:۔چاہے کسی دوسرے قانون میں کچھ بھی موجود ہو، پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات، کسی دوسرے موجودہ قانون پر فوقیت رکھیں گی۔

428۔ حد بندی:۔(1) قانون حدبندی 1908 (IX بابت 1908) کی دفعہ 5 کی دفعات کو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت کسی بھی کارروائی پر لاگو کیا جائے گا۔(2) ماسوائے اس کے جو پنجاب لیبر کوڈ میں کچھ دیگر فراہم کیا گیا ہو، کوئی استغاثہ یا شکایت اس وقت تک دائر نہیں کی جائے گی جب تک کہ وہ اس تاریخ سے تین ماہ کے اندر نہ کی جائے جب اس کی خلاف ورزی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو یا جب یہ پروسیکیوٹنگ اتھارٹی کے علم میں آئی ہو:مگر شرط یہ ہے کہ جب خلاف ورزی کسی تحریری حکم کی نافرمانی کی صورت میں ہو جو انسپکٹر نے جاری کیا ہو، تو اس کی شکایت خلاف ورزی کے مبینہ ارتکاب کی تاریخ سے بارہ ماہ کے اندر کی جا سکتی ہے۔

429۔ تصدیق شدہ نقول کی فراہمی:۔ٹربیونل، لیبر کورٹ، رجسٹرار، اجرتوں کی ادائیگی کےلئے اتھارٹی، ملازمین کے معاوضے (زرِتلافی) کے کمشنر اور دیگر اتھارٹیز جو پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مقرر کی گئی ہوں، دستاویزات، احکام یا فیصلوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کریں گے، جو مقررہ فیس کی ادائیگی پر، اس وقت نافذ قانون میں متعین مدت کے اندر فراہم کی جائیں گی۔

430۔ دیگر اداروں سے معاونت حاصل کرنے کا اختیار:۔پنجاب لیبر کوڈ کے تحت مقرر کردہ کوئی بھی افسر، اس علاقے کی حدود میں جس میں وہ مقرر ہے، ایسے معاونین کے ساتھ، جو ریاست یا کسی بلدیہ یا دوسرے سرکاری ادارے کے ملازم ہوں اور جنہیں وہ مناسب سمجھے، کسی ایسی جگہ میں داخل ہو سکتا ہے جو کام کی جگہ ہو یا جسے وہ کام کی جگہ ہونے کا شبہ رکھتا ہو اور پنجاب لیبر کوڈ کے تحت نفاذ کے لیے دوسرے بلدیہ یا سرکاری اداروں کی معاونت حاصل کر سکتا ہے۔

431۔ ریکارڈز کی دیکھ بھال اور ریٹرنز کی جمع کرانا:۔(1) ہر آجر کو ایسے ریکارڈز رکھنا ہوں گے اور ایسے اوقات میں، ایسی شکل میں اور ملازم افراد اور کام کے مروجہ حالات سے متعلق ایسی تفصیلات پر مشتمل ریٹرنز اتھارٹیز کو جمع کرانی ہوں گی جیسا کہ قواعد کے ذریعے مقرر کیا جائے، بشمول مگر محدود نہیں، جن میں ملازمین کی تعداد، ان کی معاہداتی یا ملازمت کی حیثیت، معاہداتِ ملازمت کی نقول اور ان معاہدوں کی عمومی شرائط اور حالات شامل ہوں۔(2) ہر آجر کو ان ریکارڈز کو محفوظ رکھنا ہوگا جو ذیلی دفعہ (1) کے تحت مطلوب ہوں۔

432۔ پنجاب لیبر کوڈ کے بعض احکامات کی توسیع:۔چیف انسپکٹر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، ملازمین کی تعداد کی حد کم کرکے پنجاب لیبر کوڈ کے کسی بھی حکم کو توسیع دے سکتا ہے۔

433۔ استثنا دینے کا اختیار:۔(1) پنجاب لیبر کوڈ کے تحت استثنا دینے کا اختیار دفعہ ہذا کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔

(2) ذیلی دفعہ (4) اور (5) کے تابع، چیف انسپکٹر کسی قسم کے ادارے کو مندرجہ ذیل دفعات کے مطابق استثنا دے سکتا ہے:(اے) دفعہ ‎178؛(بی)دفعہ ‎186؛(سی) دفعہ‎187؛ اور(ڈی)دفعہ ‎247۔

(3) پنجاب لیبر کوڈ کے کسی دوسرے حکم کے باوجود، کوئی استثنا مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی حکم کے حوالے سے نہیں دیا جائے گا:(اے) حصہ اول؛(بی)حصہ دوم؛(سی) حصہ سوم، سوائے ان علاقوں کے جو ذیلی دفعہ (2) میں مذکور ہوں؛(ڈی)حصہ چہارم، دفعہ ‎247 کے سوا؛(ای) باب 5.6؛(ایف) حصہ ششم؛ اور(جی)حصہ ہفتم۔

(4) کوئی بھی استثنا جو ذیلی دفعہ (3) کے برخلاف دیا جائے، وہ غیر موثر ہوگا۔

(5) ذیلی دفعہ (1) کے تحت استثنا کا نوٹیفکیشن درج ذیل کو واضح کرے گا:(اے) وہ ادارے یا اداروں کے گروہ جنہیں استثنا حاصل ہوگا؛(بی)استثنا کی وجوہات؛(سی) وہ شرائط جو ورکرز کو اس استثنا کی جگہ فراہم کی جائیں گی؛(ڈی)استثنا کی مدت جو متعلقہ دفعات میں متعین شدہ مدت سے تجاوز نہیں کرے گی، یا اگر کوئی مدت متعین نہ ہو تو تین سال تک؛ اور(ای) استثنا کے حامل اداروں یا اداروں کے گروہوں اور غیر حامل اداروں کے درمیان منصفانہ مقابلے پر اثرات۔

(6) ذیلی دفعہ (2) یا (3) کے تحت استثنا کا نوٹیفکیشن دینے سے پہلے، چیف انسپکٹر کو اجتماعی سودا کاری کے ایجنٹ (سی بی اے) کی رائے لینا ہوگی، یا اگر کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ نہ ہو، تو ادارے کے ٹریڈ یونینز سے رائے حاصل کرنی ہوگی۔ جہاں استثنا ایک سے زیادہ اداروں سے متعلق ہو، وہاں تجویز کو صوبائی ثلاثی مشاورتی کونسل میں زیر بحث لایا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا۔

(7) ذیلی دفعہ (1) کے تحت استثنا کا نوٹیفکیشن، دفعہ ‎363 کے تحت قابل اپیل ہوگا اور ذیلی دفعہ (5) اور (6) کی عدم تعمیل اُس دفعہ (دفعہ 363) کی ذیلی دفعہ (4) کے تحت اپیل کی بنیاد بنے گی۔

434۔ چھوٹے اداروں کے لیے کم شدہ نرخوں سے متعلق احکامات:۔(1) چیف انسپکٹر کسی ایسے ادارے میں جہاں بیس سے کم افراد کام کر رہے ہوں، ورکرز کے درج ذیل حقوق کم کر سکتا ہے:(اے) دفعہ ‎179؛(بی)دفعہ ‎197؛(سی) دفعہ ‎198؛ اور(ڈی)حصہ پنجم کا کوئی بھی حکم، ماسوائے باب 5.6 کے۔

(2) چیف انسپکٹر ذیلی دفعہ (1) کے اطلاق کو ادارے کے حجم کے مطابق درجہ بدرجہ لاگو کر سکتا ہے۔وضاحت: اداروں کے مختلف سائز کے مالیاتی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، چیف انسپکٹر ایک "سلائیڈنگ اسکیل" تشکیل دے سکتا ہے جس میں چھوٹے اداروں کے لیے زیادہ کمی ہو۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ وہ ادارے جو ملازمین کی تعداد بیس یا اس سے زیادہ بڑھا کر پورے حقوق کی ادائیگی کے ذمہ دار بن جائیں، ان کے لیے منتقلی میں آسانی ہو۔

435۔ منسوخی اور تحفظات:۔(1) مندرجہ ذیل قوانین کو منسوخ کیا جاتا ہے:

(ا) ورکرز زرِ تلافی ایکٹ، 1923 (VIII بابت 1923)؛

(ب) چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر) ایکٹ، 1933 (II بابت 1933)؛

(ج) فیکٹریز ایکٹ، 1934 (XXV بابت 1934)؛

(د) ادائیگیِ اجرت ایکٹ، 1936 (IV بابت 1936)؛

(ہ) آجر کی ذمہ داری ایکٹ(ایمپلائرز لائبیلیٹی ایکٹ)، 1938 (XXIV بابت 1938)؛

(و) صنعتی شماریات ایکٹ، 1942 (XIX بابت 1942)؛

(ز) ضروری عملہ (رجسٹریشن) آرڈیننس، 1948 (X بابت 1948)؛

(ح) ملازمت (ریکارڈ آف سروس) ایکٹ، 1951 (XIX بابت 1952)؛

(ط) پنجاب زچگی فوائد آرڈیننس، 1958 (XXXII بابت 1958)؛

(ی) کوئلہ کانیں (اجرت کی شرحوں کا تعین) آرڈیننس، 1960 (XXXIX بابت 1960)، جہاں تک اس کا اطلاق صوبہ پنجاب پر ہوتا ہے؛

(ک) روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس، 1961 (XXVIII بابت 1961)؛

(ل) چائے کے باغات میں محنت کا آرڈیننس، 1962 (XXXIX بابت 1962)؛

(م) ملازمت کے کنٹرول کا آرڈیننس، 1965 (XXXII بابت 1965)؛

(ن) صنعتی و تجارتی ملازمت (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس، 1968 (VI بابت 1968)؛

(س) کمپنیز منافع (ورکرز کی شرکت) ایکٹ، 1968 (XII بابت 1968)؛

(ع) شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس، 1969 (VIII بابت 1969)؛

(ف) پنجاب فیئر پرائس شاپس (فیکٹریز) آرڈیننس، 1971 (‌XIII بابت 1971)؛

(ص) فیس وصول کرنے والی روزگار ایجنسیاں (ضابطہ کاری) ایکٹ، 1976 (LXXVII بابت 1976)؛

(ق) بانڈڈ لیبر سسٹم (خاتمہ) ایکٹ، 1992 (III بابت 1992)؛

(ر) پنجاب صنعتی تعلقات ایکٹ، 2010 (XIX بابت 2010)؛

(ش) پنجاب اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کی ممانعت ایکٹ، 2016 (XXXVII بابت 2016)؛

(ت) پنجاب بچوں کی ملازمت پر پابندی ایکٹ، 2016 (L بابت 2016)؛

(ث) پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ، 2019 (IV بابت 2019)؛

(خ) پنجاب کم از کم اجرت ایکٹ، 2019 (XXVIII بابت 2019)؛

(ذ) پنجاب گھریلو ورکرز ایکٹ، 2019 (II بابت 2019)؛ اور

(ض) پنجاب ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ، 2023 (V بابت 2023)۔

(2) ایسی منسوخی کے باوجود، کسی منسوخ شدہ قانون کے تحت:(اے) جو کچھ بھی کیا گیا ہو، کوئی قواعد، ضوابط یا اسکیمیں بنائی گئی ہوں، یا کوئی حکم، نوٹس یا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہو، یا کوئی چیئرپرسن، رکن یا افسر مقرر کیا گیا ہو، یا کوئی عدالت، ٹربیونل، بورڈ، اتھارٹی، کمیٹی یا فنڈ تشکیل دیا گیا ہو، یا کوئی نوٹس دیا گیا ہو، یا کوئی ٹریڈ یونین یا فیڈریشن رجسٹرڈ کی گئی ہو، یا کوئی اجتماعی سودا کاری کا ایجنٹ منتخب کیا گیا ہو، یا کوئی شکایت دائر کی گئی ہو، یا کوئی درخواست جمع کرائی گئی ہو، یا کوئی اجازت، لائسنس، آئین، سروس کے ضوابط یا استثنا دیا گیا ہو، یا کوئی دوسرا عمل یا کارروائی کی گئی ہو یا شروع کی گئی ہو، وہ پنجاب لیبر کوڈ کی دفعات کے مطابق ہونے کی صورت میں نافذ رہے گی اور اسے پنجاب لیبر کوڈ کے متعلقہ حکم کے تحت کیا گیا سمجھا جائے گا، جب تک کہ وہ منسوخ یا ترمیم نہ کی جائے؛(بی)جو بھی مقدمہ یا کارروائی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی میں پنجاب لیبر کوڈ کے نفاذ کے وقت زیر سماعت ہو، وہ اسی عدالت یا ٹربیونل میں جاری رکھی جائے گی اور اس پر فیصلے کیے جائیں گے، جیسے کہ وہ قوانین منسوخ نہ ہوئے ہوں؛(سی) منسوخ شدہ ایکٹس اور آرڈیننسز کے کسی حوالے کو پنجاب لیبر کوڈ کے متعلقہ احکامات کے حوالے کے طور پر سمجھا جائے گا۔

شیڈول 1 – ہلکے کاموں کی فہرست

(اے) زرعی کام، جیسے پھولوں یا پھلوں کا جمع کرنا؛ زرعی اداروں میں کی جانے والی چنائی، جمع آوری یا چھانٹنے کا کام؛ پھلوں اور بیجوں کی دستی چھلیائی، نباتاتی مصنوعات کی چھانٹی؛ تیاری، صفائی اور چھوٹے پیکٹوں میں پیکنگ؛(بی) تجارتی اداروں میں کام، جیسے زمین کی سطح سے چار فٹ تک شیلفنگ یا قیمت کے لیبل لگانا (پرائسنگ)؛ مصنوعات کی پیکنگ؛(سی) دکانوں میں کام بشمول پیکنگ، شیلفنگ، اسٹیکنگ، مال بیچنا اور دکان کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا، لیکن پانچ کلو گرام سے زیادہ وزن اٹھانے یا لے جانے کے کام کو شامل نہیں کیا جائے گا؛(ڈی) دفتر کا کام، دفتری اور میز کا کام؛(ای) ذہنی یا علمی نوعیت کا کام۔

شیڈول 2 – خطرناک کاموں کی فہرست جہاں نوجوانوں کو کام پر لگانا ممنوع ہے

جوکسی بھی پیشے سے متعلق ہو:

1۔مسافروں، مال یا ڈاک کا ٹرانسپورٹ؛

2۔ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ یا مال کی ترسیل (گڈز فارورڈنگ) ایجنسی میں کی جانے والی کسی بھی قسم کی کیٹرنگ سروسز جس میں ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والے نقل و حمل/گاڑیوں میں کام شامل ہو؛

3۔ریلوے اسٹیشن کی تعمیر یا کسی دوسرے کام سے متعلق جہاں یہ کام ریلوے کی پٹڑیوں کے قریب یا ان کے درمیان کیا جائے۔

ذیل کی سرگرمیاں اور عمل:4۔ ڈرائی پورٹ کی حدود میں کسی ڈرائی پورٹ اتھارٹی کا کام؛5۔ زیرِ زمین کانیں اور زمین پر واقع پتھر کی کانیں (کواریز) بشمول دھماکہ خیز مواد کا استعمال؛6۔ طاقت سے چلنے والی کٹنگ مشینری جیسے آری، قینچی، گلائیٹن، زرعی مشینیں، تھریشر، چارہ کاٹنے کی مشینیں؛7۔زندہ برقی تاریں جو پچاس وولٹ سے زائد ہوں؛8۔ چمڑے کو ٹین کرنے کے تمام عمل جیسے بھگو دینا، بالوں کو صاف کرنا، چونا لگانا، کروم ٹیننگ، ڈی لائمنگ، پکلنگ (تیزابی محلول میں ڈبونا)، گوشت کی صفائی، سیاہی لگانا؛9۔ایگروکیمیکلز کا ذخیرہ، پیکنگ، ہینڈلنگ، استعمال، مکسنگ اور تیاری اور فیومیگیشن (دھونی دینا)؛10۔ ریت کی چھڑکائی اور اس طرح کا کوئی کام جس میں آزاد سلیکا کا سامنا ہو؛11۔تمام زہریلے، دھماکہ خیز اور کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز یا مواد کے سامنے آنا جیسے ایسبیسٹوس، بینزین، امونیا، کلورین، مینگنیز، کیڈمیم، سلفر ڈائی آکسائیڈ، لیتھیم، فاسفورس، بینزڈینڈائیز، آئسوسائنیٹ، کاربن ٹیٹراکلورائڈ، کاربن ڈائی سلفائیڈ، ایپوکسی ریزنز، فارملڈیہائڈ، دھاتی دھوئیں، بھاری دھاتیں جیسے نکل، پارے، کرومیم، سیسہ اور سیسہ آرسنک، بیریلیم اور فائبر گلاس؛12۔ سیمنٹ کی صنعت میں سیمنٹ کی دھول کے سامنے آنا؛13۔کسی بھی صنعت میں کوئلے کی دھول کے سامنے آنا؛14۔ آتشبازی، گولے اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری اور فروخت؛15۔ وہ مقامات جہاں مائع پٹرولیم گیس یا کمپریسڈ نیچرل گیس سیلنڈروں میں بھری جاتی ہے؛16۔گلاس اور دھاتی بھٹیاں اور شیشے کی چوڑیوں کی تیاری؛17۔پاور لومز، کون بنانا، کپڑے کی بُنائی، پرنٹنگ، رنگائی اور تکمیل؛18۔ سیور پائپ لائنز، کھڈے اور اسٹوریج ٹینکس بشمول تیل کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک اور ٹینک ٹرک؛19۔پتھر کی کرشنگ (پتھر توڑنا)؛20۔بھاری وزن اٹھانے اور لے جانے کا کام پندرہ کلوگرام یا اس سے زیادہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ صنعت میں؛21۔قالین کی بُنائی؛22۔زمین یا فرش سے دو میٹر یا اس سے زیادہ بلند کام؛23۔تمام صفائی کا کام بشمول ہسپتال کے فضلے، ای-ویسٹ، برقی بلب کی جمع آوری اور دوبارہ جوڑنا؛24۔تمباکو کی فروخت، پروسیسنگ اور تیاری بشمول نسوار، بیڑی اور تمباکو سے تیار کی جانے والی دیگر مصنوعات؛25۔گہرے پانی کی مچھلی پکڑنا، تجارتی مچھلی پکڑنا اور مچھلی اور سمندری کھانے کی پروسیسنگ؛26۔شیپ کیسنگ (بھیڑ کی آنتوں کی صفائی و تیاری)؛27۔سرجیکل آلات کی تیاری؛28۔مصالحہ پیسنے کا کام؛29۔بوائلر ہاؤس؛30۔سنیما، منی سنیما اور سائبر کلب؛31۔مائیکا کی کٹائی اور تقسیم؛32۔صابن اور ڈٹرجنٹ کی تیاری؛33۔شیلز کی تیاری؛34۔اون کی صنعت بشمول اون کی صفائی، بُنائی، نٹنگ (سلائیوں سے بُنائی) اور رنگنا؛35۔عمارت اور تعمیراتی صنعت بشمول سڑکوں کی تعمیر اور عمارات کا انہدام؛36۔سلیٹ پنسل کی تیاری بشمول پیکنگ؛37۔آگیٹ سے مصنوعات کی تیاری؛38۔اینٹوں کی بھٹیاں، خاص طور پر بھرائی والا، نکاسی والا اور جلائی والا/مستری کے طور پر کام کرنا؛39۔کارپوریٹ زرعی کام؛40۔ریستورانوں میں اور بطور کاروبار کھانا پکانا؛41۔ایلومینیم اور گلاس فکسنگ ورکشاپس اور ادارے؛42۔وحشی، خطرناک یا زہریلے جانوروں کے ساتھ کام کرنا؛43۔پینٹ کا کام؛44۔پتھر اور ٹائلوں کی کٹائی اور چمکانا؛45۔کاٹن جننگ؛46۔رات کےوقت کام؛47۔گھریلو کام۔

شیڈول 3 – عوامی سہولت خدمات

1۔ عوام کو گیس اور تیل کی تولید، پیداوار، تیاری یا فراہمی؛

2۔ پبلک صفائی یا حفظانِ صحت کا کوئی بھی نظام؛

3۔ ڈاک اور کورئیر سروسز؛

4۔ ریلوے اور ہوائی راستے؛

5۔ ائیر پورٹس اورڈرائی پورٹس۔

شیڈول 4 – ضروری خدمات

1۔ صحت اور ہسپتال کا شعبہ بشمول ایمبولنس سروس؛

2۔ عوام کو بجلی کی پیداوار، تقسیم یا فراہمی؛

3۔ پانی کی فراہمی کی سروسز؛

4۔ ٹیلی فون اور موبائل فون کی سروسز؛

5۔ ائیر ٹریفک کنٹرول؛

6۔ فائر بریگیڈ سروس۔

شیڈول 5 – کمپنیوں کے منافع میں ورکرز کی شراکت فنڈ اسکیم

1۔اسکیم کا دائرہ کار۔یہ اسکیم تمام کمپنیوں پر لاگو ہوگی جو درج ذیل میں سے کسی ایک شرط کو پورا کرتی ہوں، اور ایسی دیگر کمپنیوں پر بھی جنہیں حکومت اس ضمن میں سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن تعین کرے:(اے) کمپنی کے ملازمین کی تعداد کسی بھی وقت سال کے دوران ایک سو یا اس سے زیادہ ہو؛(بی)کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ اس کے اکاؤنٹنگ سال کے آخری دن پانچ ملین روپے یا اس سے زیادہ ہو؛(سی) کمپنی کے مستقل (فکسڈ) اثاثوں کی قیمت (لاگت پر) اس کے اکاؤنٹنگ سال کے آخری دن بیس ملین روپے یا اس سے زیادہ ہو۔

وضاحت:اس اسکیم میں، کمپنی کے ادا شدہ سرمایہ اور مستقل (فکسڈ) اثاثوں کی قیمت کا حوالہ اُس کمپنی کے لیے جس کا قیام پاکستان سے باہر ہوا ہو مگر پاکستان میں اس کی شاخ ہو، ان صورتوں میں بالترتیب شاخ میں لگائے گئے سرمایہ اور اس شاخ کے مستقل (فکسڈ) اثاثوں کی قیمت کے طور پر سمجھا جائے گا۔

2۔فنڈ کی سرمایہ کاری۔(1) فنڈ میں مختص یا حاصل ہونے والی رقم کمپنی کے کاروباری آپریشنز کے لیے دستیاب ہوگی۔ تاہم، کمپنی بورڈ سے درخواست کر سکتی ہے کہ وہ فنڈ میں موجود رقم کو ذیلی پیراگراف (7) کے تحت سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرے اور بورڈ اس رقم کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔(2) کمپنی فنڈ میں اس رقم کے حوالے سے جو اس کے کاروباری آپریشنز کے لیے دستیاب ہو، بینک ریٹ سے ڈھائی (2½) فیصد زیادہ شرح پر یا اس شرح کے 75 فیصد پر جس پر اس کے عام شیئرز پر منافع (ڈیویڈنڈ) کا اعلان کیا گیا ہو، جو بھی زیادہ ہو، سود ادا کرے گی۔ اگر کمپنی کے ایک سے زیادہ قسم کے عام شیئرز ہوں جن پر مختلف شرحوں پر منافع کا اعلان کیا گیا ہو، تو اس کے لیے منافع کی مختلف شرحوں کا موزوں اوسط (ویٹڈ ایوریج) استعمال کیا جائے گا۔ فنڈ کو ادا کیا جانے والا سود اُس سال کے پہلے دن سے جمع ہوگا جو اسکیم کمپنی پر لاگو ہونے کے بعد آئے گا۔ اگرچہ کمپنی ذیلی پیراگراف (1) کے تحت فنڈ میں موجود رقم کو استعمال نہیں کرنا چاہتی، تو کمپنی کو اس رقم کے مختص ہونے کی تاریخ سے لے کر ذیلی پیراگراف (7) کے تحت سرمایہ کاری کی تاریخ تک مذکورہ شرح پر سود ادا کرنا ہوگا۔(3) اگر فنڈ کے قیام کے بعد کمپنی اضافی سرمایہ حاصل کرتی ہے، بونس یا بونس شیئرز کے اجرا کے علاوہ کسی اور طریقے سے، تو فنڈ کے پاس پہلی ترجیح ہوگی کہ وہ کمپنی کو زیرِ استعمال رقم کو یا فنڈ کے کسی اثاثے کو عام شیئرز میں تبدیل کر لے، تاہم اس تبدیلی کی حد ایسی تبدیلی سے قبل کمپنی کے ادا شدہ سرمایہ کے بیس فیصد تک یا اضافی سرمایہ کا پچاس فیصد تک ہوگی، جو بھی کم ہو۔وضاحت:اس ذیلی پیراگراف میں "اضافی سرمایہ" سے مراد وہ سرمایہ نہیں ہے جو کمپنی کے غیر ملکی شرکاء کو پیش کیا جائے گا یا پیش کیا جا رہا ہو۔(4) ذیلی پیراگراف (3) کے تحت تبدیلی کے حق کے استعمال کے لیے بورڈ کو فنڈ کے اثاثوں کو فروخت کرنے کے لیے کافی وقت دیا جائے گا تاکہ کمپنی کے اضافی سرمایہ کے لیے سبسکرپشن کی رقم حاصل کی جا سکے۔(5) ذیلی پیراگراف (3) کے تحت حاصل کردہ شیئرز مستقبل کے بونس اور رائٹ شیئرز کے اجرا میں دوسرے شیئرز کی طرح شرکت کریں گے۔(6) ذیلی پیراگراف (3) کے تحت حاصل کردہ شیئرز پر دوسرے شیئرز کی طرح ووٹنگ کے حقوق ہوں گے اور یہ ووٹنگ کے حقوق بورڈ کے ذریعے فنڈ کی طرف سے استعمال کیے جائیں گے۔(7) وہ رقم جو فنڈ میں موجود ہو اور جسے کمپنی نے ذیلی پیراگراف (1) کے تحت سرمایہ کاری کے لیے درخواست دی ہو، بورڈ کے ذریعے درج ذیل میں سے کسی چیز کے لیے خریداری کے لیے سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے:(اے) آئی سی پی میوچل فنڈ سرٹیفکیٹ؛(بی)نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (یونٹ) سرٹیفکیٹس؛(سی) حکومتی سیکیورٹیز بشمول دفاعی اور پوسٹل سیونگ سرٹیفکیٹس؛(ڈی)حکومت کے ذریعے منظور شدہ کسی اور سیکیورٹی کے لیے۔

3۔ اسکیم سے فوائد کے لیے اہلیت۔تمام ملازمین اسکیم کے فوائد کے لیے اہل ہوں گے اور فنڈ میں شرکت کریں گے۔ تاہم، جو ملازم سال کے دوران کمپنی کے ساتھ چھ ماہ کی ملازمت مکمل نہیں کرتا، وہ اس سال کے حوالے سے فنڈ میں شرکت کا اہل نہیں ہوگا۔

4۔ فوائد کی تقسیم۔فنڈ میں سالانہ مختص کی جانے والی رقم میں ملازم کا حصہ یونٹس یا یونٹس کے حصوں (دو اعشاریہ جگہوں تک کی گئی) کی صورت میں ظاہر کیا جائے گا، جو دس روپے کی اصل قیمت (فیس ویلیو) پر درج ذیل طریقے سے طے کیا جائے گا:(اے) دستیاب یونٹس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جو تین مختلف ملازمین کی کیٹیگریز کے لیے ہوں گے، اس طرح کہ پہلی کیٹیگری کے ملازم کو چار یونٹس ملیں گے، دوسری کیٹیگری کے ملازم کو دو یونٹس ملیں گے، اور تیسری کیٹیگری کے ملازم کو ایک یونٹ ملے گا (4:2:1):کیٹیگریز(i)وہ ملازمین جن کی اوسط ماہانہ اجرت، حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کردہ ماہانہ کم از کم اجرت کے دو گنا سے زیادہ نہ ہو؛(ii) وہ ملازمین جن کی اوسط ماہانہ اجرت پہلی کیٹیگری سے زیادہ مگر حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کردہ ماہانہ کم از کم اجرت کے تین گنا سے زیادہ نہ ہو؛(iii) وہ ملازمین جن کی اوسط ماہانہ اجرت حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کردہ ماہانہ کم از کم اجرت کے تین گنا سے زیادہ ہو؛(بی)۔ اس پیراگراف میں ذکر کی جانے والی کم از کم اجرت وہ کم از کم اجرت ہوگی جو اُس سال کے لیے نافذ تھی جس کا منافع متعلقہ ہو؛(سی)۔ اوسط ماہانہ اجرت کو قریب ترین دس روپے تک بڑھا کر پورا (راؤنڈ اپ) کیا جائے گا؛(ڈی)۔ ہر کیٹیگری کے ملازمین کو دستیاب یونٹس کی تعداد کو اس کی کیٹیگری کے تمام ملازمین میں مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا تاکہ ہر ملازم کا حصہ معلوم کیا جا سکے؛(ای)۔ اس اسکیم میں کسی بھی امر کے باوجود، کوئی ملازم کسی بھی سال میں یونٹس کی سالانہ مختص میں سے کم از کم اجرت کے چھ گنا سے زائد رقم کے یونٹس کا مستحق نہیں ہوگا۔ یونٹس کی مختص کے بعد اگر کوئی رقم بچ جاتی ہے تو اسے پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2019 کے تحت قائم کیے گئے فنڈ میں منتقل کر دیا جائے گا۔ ایسی رقم کا کوئی حصہ باب ہذا کے تحت قائم کیے گئے فنڈ کی خالص اثاثہ قیمت میں شامل نہیں سمجھا جائے گا اور کوئی فرد ملازم کسی یونٹ کا حامل ہونے کی بنا پر اس رقم پر کوئی حق (لین) نہیں رکھے گا۔

وضاحت:اس پیراگراف میں "اوسط ماہانہ اجرت" کا مطلب ہے سالانہ حساب کے دوران مجموعی اجرت کو 12 سے تقسیم کرنا، یا اس تعداد کو جس مہینوں میں ایک ملازم نے حقیقتاً کام کیا ہو، جس کے لیے وہ اسکیم کے تحت فائدہ کا حق رکھتا ہے، جیسا کہ معاملہ ہو، اور اجرت کا مطلب وہی ہے جو پنجاب لیبر کوڈ میں دیا گیا ہے، لیکن اس میں کوئی اوور ٹائم الاؤنس، بونس، گریجویٹی یا پروویڈنٹ فنڈ شامل نہیں ہوگا۔

5۔فوائد کی ادائیگی؛ ۔فنڈ سے فوائد کی تقسیم درج ذیل ہوگی:(اے) فنڈ کی سالانہ آمدنی کا سو فیصد، بشمول حاصل شدہ کیپیٹل گینز، ہر سال ملازمین میں ان کے یونٹس کے مطابق تقسیم کیا جائے گا؛(بی)وہ ملازم جو رضاکارانہ طور پر کمپنی کی ملازمت چھوڑ دیتا ہے یا جس کی خدمات ختم کر دی جاتی ہیں، وہ اپنے نام پر موجود یونٹس کی خالص اثاثہ قیمت کاسو فیصد وصول کرنے کا اہل ہوگا؛(سی) وہ ملازم جو کمپنی کی ملازمت میں برقرار رہتا ہے، وہ اپنے نام پر موجود یونٹس کی خالص اثاثہ قیمت کا سو فیصد وصول کرنے کا اہل ہوگا یا ملازم فنڈ میں اپنے حصے کو چھوڑنے کا انتخاب کر سکتا ہے:مگرشرط یہ ہے کہ ملازمین دوران ملازمت اپنے نام پر موجود تمام یونٹس کو کسی بھی وقت اپنی مرضی سے نقدی میں تبدیل کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں؛(ڈی)وہ ملازم جو ریٹائر ہو جاتا ہے یا، ملازم کے انتقال (خواہ کسی بھی وجہ سے ہو) کی صورت میں، ان کا نامزد کردہ فائدہ حاصل کرنے والا، جب کہ ملازم کمپنی کی ملازمت میں ہو، اپنے نام پر موجود یونٹس کی خالص اثاثہ قیمت کا سو فیصد وصول کرے گا۔

6۔یونٹ کی خالص اثاثہ قیمت کی تعریف؛ ۔ کسی یونٹ کی خالص اثاثہ قیمت کا تعین کرنے کے لیے، فنڈکےکل اثاثوں کو، یعنی سیکیورٹیز کی مارکیٹ ویلیو، نقدرقم اور سرمایہ کاری اور دوبارہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے دیگرتمام اثاثوں، اس پرحاصل ہونے والےسرمائےکےاضافےاور اس سے پیدا ہونےوالی ہرقسم کی تمام آمدنیوں کو فنڈ میں موجود یونٹس کی تعداد سے تقسیم کیا جائےگا۔پورے فنڈ کی خالص اثاثہ قیمت کا حساب ہر سال ایک بار لگایا جائے گا اور ہر ورکر کے یونٹس کا استحقاق بھی اسی وقت طے کیا جائے گا۔ملازمین کو اس رقم کے مطابق اضافی یونٹس دیے جائیں گے جو وہ رضاکارانہ طور پر فنڈ میں جمع کراتے ہیں۔

7۔ملازم کی اپنی شراکت۔ایک ملازم رضاکارانہ طور پر اپنی اجرت، نقد بونس، منافع یا سود کا ایک حصہ فنڈ میں شراکت کرنے کا انتخاب کر سکتا ہے۔ ہر شراکت کے یونٹ کے بدلے، ملازم کو 1-1/4 یونٹس کا کریڈٹ دیا جائے گا۔ اکاؤنٹ کے سال کے دوران موصول ہونے والی شراکت کو اس سال کے آخری دن کی شراکت سمجھا جائے گا۔ اگر کسی وقت ملازم کمپنی کی ملازمت چھوڑنے کا انتخاب کرتا ہے یا اس کی خدمات ختم کر دی جاتی ہیں، یا اگر ملازم کی ریٹائرمنٹ یا موت واقع ہو جاتی ہے، یا جب وہ تین سال مکمل کر لے جو اس نے رضاکارانہ طور پر اپنی اجرت، نقد بونس، منافع یا سود کا ایک حصہ فنڈ میں شراکت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تو ملازم، اپنی مرضی سے، یا اگر اس کی موت ہو جائے تو اس کا نامزد کردہ فائدہ حاصل کرنے والا، ملازم کی شراکت کی نمائندگی کرنے والے یونٹس کی خالص اثاثہ قیمت وصول کر سکتا ہے۔ کسی بھی سال کے حساب میں ایک ملازم کی شراکت اس کی سالانہ اجرت کا 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

8۔کمپنیوں کے لیے مالی رعایت۔تمام کمپنیاں جن پر یہ اسکیم لاگو ہوتی ہے، اسکیم میں مختص کی جانے والی رقم کو اپنے قابلِ ٹیکس آمدنی کے حساب سے کٹوتی کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔

9۔فنڈ کی آمدنی پر ٹیکس ٹریٹمنٹ۔حکومت وفاقی حکومت سے درخواست کر سکتی ہے کہ فنڈ کی آمدنی بشمول کیپیٹل گینز پر انکم ٹیکس کی معافی دی جائے۔

10۔ملازمین کی آمدنی پر ٹیکس ٹریٹمنٹ۔فنڈ سے ادا کی جانے والی تمام رقوم ملازمین کے ہاتھ میں انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔

11۔بورڈ آف ٹرسٹیز کا کام اور مقام۔بورڈ آف ٹرسٹیز کا دفتر کمپنی کی جگہوں میں سے کسی ایک پر واقع ہوگا یا اگر کمپنی کی ایک سے زیادہ جگہوں پر ہوں تو اس کا دفتر کمپنی کے رجسٹرڈ ہیڈ آفس میں واقع ہوگا۔ بورڈ کے تمام اخراجات، بشمول اکاؤنٹس کی دیکھ بھال کا خرچ، کمپنی کے ذمہ ہوں گے۔

12۔فنڈ اکاؤنٹس کا آڈٹ۔فنڈ کے اکاؤنٹس کو ہر سال کمپنی کے خرچ پر آڈٹ کیا جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے کمپنی کے اکاؤنٹس آڈٹ کیے جاتے ہیں:مگر شرط یہ ہے کہ حکومت اپنے خرچ پر فنڈ کے اکاؤنٹس کے خصوصی آڈٹ کے لیے آزاد اکاؤنٹنٹس تعینات کر سکتی ہے۔

13۔اسکیم کے فوائد کا دیگر فوائد کے علاوہ ہونا۔اس اسکیم کے تحت کسی ملازم کو ملنے والے فوائد دیگر کسی بھی قانون، معاہدے، ملازمت کی شرائط و ضوابط یا دیگر ذرائع سے ملنے والے فوائد کے علاوہ ہوں گے، اور ان کے متبادل یا تبدیل کرنے کے طور پر نہیں ہوں گے۔

14۔موسمی طور پر کام کرنے والی صنعتوں کے لیے خصوصی حکم۔باب ہذا یا اس اسکیم میں موجود کسی بھی امر کے باوجود، حکومت، سرکاری گزٹ میں بذریعہ نوٹیفکیشن، ان صنعتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی منافع میں شراکت کے لیے خصوصی اہتمام کر سکتی ہے جو صرف سال کے کسی حصے کے لیے کام کرتی ہیں۔

15۔ایک سے زیادہ کام کی جگہوں میں مصروف کمپنیاں۔باب ہذا یا اس اسکیم میں موجود کسی بھی بات کے باوجود، محکمہ کسی کمپنی کی درخواست پر جو ایک سے زیادہ کام کی جگہوں میں مصروف ہو اور جو مختلف جگہوں پر واقع ہوں، فنڈ کو مختلف کاروباری اداروں یا گروپوں میں تقسیم کرنے اور ہر ادارے یا گروپ کے لیے بورڈ آف ٹرسٹیز تشکیل دینے کی اجازت دے سکتا ہے؛ اور اس کے بعد باب ہذا اور اس اسکیم کی دفعات ان اداروں یا گروپوں کے حوالے سے اس طرح اثر انداز ہوں گی جیسے ہر ادارہ یا گروپ ایک کمپنی ہو۔

16۔فنڈ کے انتظام کی سپردگی:۔بورڈ آف ٹرسٹیز، حکومت کی پیشگی منظوری سے، انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ یا نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کر سکتا ہے جس میں فنڈ کی انتظامیہ، اس کارپوریشن، ٹرسٹ یا بینک کے حوالے کی جائے گی، اور اس پر ایسی فیس وصول کی جائے گی جو کمپنی کی جانب سے ادا کی جائے گی، اور ایسے شرائط و ضوابط پر عمل کیا جائے گا جن پر دونوں فریقین باہمی طور پر متفق ہوں۔

شیڈول 6 – ملازمین کی چوٹوں کی تلافی

زخموں کی فہرست جو مستقل مکمل معذوری کا باعث سمجھی جاتی ہیں

سیریل نمبر

انجریز کی تفصیل

آمدنی کی صلاحیت میں نقصان کا فیصد

1

دونوں ہاتھوں کا نقصان یا بلند جگہوں پر کٹنا۔

100

2

ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کا نقصان

100

3

ٹانگ یا ران کے ذریعے دوہری کٹائی یا ایک طرف ٹانگ یا ران کی کٹائی اور دوسرے پاؤں کا نقصان۔

100

4

نظر کا اس حد تک ضائع ہونا کہ جس کی وجہ سے مدعی کسی بھی کام کو انجام دینے سے قاصر ہو جس کے لیے نظر ضروری ہو۔

100

5

انتہائی شدید چہرے کی شکل بگاڑ

100

6

مکمل بہرا پن

100

انجریزکی فہرست جو مستقل جزوی معذوری کا باعث سمجھی جاتی ہیں:

سیریل نمبر

انجریزکی تفصیل

آمدنی کی صلاحیت میں نقصان کا فیصد

کٹائی کی صورتیں - بالائی اعضاء (کوئی بھی بازو)

1

کندھے کے جوڑ سے کٹائی

90

2

کندھے سے نیچے کٹائی جس میں ایکرمین کے سرے سے 8 انچ سے کم لمبائی کا اسٹمپ

80

3

ایکرومین کے سرے سے 8 انچ سے لے کر اولیکرینن کے سرے سے ½ 4 انچ سے کم نیچے تک کٹائی

70

4

ہاتھ کا نقصان یا ایک ہاتھ کے انگوٹھے اور چار انگلیوں کا نقصان یا اولیکرینن کے سرے سے 4½ انچ نیچے کٹائی

60

5

انگوٹھے کانقصان

30

6

انگوٹھے اور اس کی میٹا کارپل ہڈی کا نقصان

40

7

ایک ہاتھ کی چار انگلیوں کا نقصان

50

8

ایک ہاتھ کی تین انگلیوں کا نقصان

30

9

ایک ہاتھ کی دو انگلیوں کا نقصان

20

10

انگوٹھے کی آخری پھالانکس کا نقصان

20

کٹائی کی صورتیں - نچلے اعضاء

1

دونوں پاؤں کی کٹائی جس کے نتیجے میں اینڈ بیئرنگ اسٹمپز کا بننا

90

2

دونوں پاؤں کی کٹائی میٹاتارسو فیلینجیل جوائنٹ کے قریب

80

3

دونوں پاؤں کی تمام انگلیوں کا میٹاتارسو فیلینجیل جوائنٹ کے ذریعے نقصان

40

4

دونوں پاؤں کی تمام انگلیوں کا پروکسیمل انٹر فیلینجیل جوائنٹ کے قریب نقصان

30

5

دونوں پاؤں کی تمام انگلیوں کا پروکسیمل انٹر فیلینجیل جوائنٹ سے دور نقصان

20

6

ہپ پر کٹائی

90

7

ہپ کے نیچے کٹائی جس میں اسٹمپ کی لمبائی 5 انچ سے زیادہ نہ ہو، جو کہ گریٹ ٹروچانٹر کے سرے سے ماپی جائے

80

8

ہپ کے نیچے کٹائی جس میں اسٹمپ کی لمبائی 5 انچ سے زیادہ ہو، گریٹ ٹروچانٹر کے سرے سے ماپی جائے، مگر وسط ران سے آگے نہ ہو

70

9

وسط ران سے نیچے کٹائی اور گھٹنے سےساڑھے تین (3½) انچ نیچے تک کٹائی

60

10

گھٹنے سے نیچے کٹائی جس میں اسٹمپ کی لمبائی ½ 3 انچ سے زیادہ ہو لیکن 5 انچ سے زیادہ نہ ہو

50

11

گھٹنے سے نیچے کٹائی جس میں اسٹمپ کی لمبائی 5 انچ سے زیادہ ہو

40

12

ایک پاؤں کی کٹائی جس کے نتیجے میں اینڈ بیئرنگ کا بننا

30

13

ایک پاؤں کی کٹائی میٹاتارسو فیلینجیل جوائنٹ کے قریب

30

14

ایک پاؤں کی تمام انگلیوں کا میٹاتارسو فیلینجیل جوائنٹ کے ذریعے نقصان

20

دیگر انجریز

1

ایک آنکھ کا نقصان، بغیر کسی پیچیدگی کے یا دوسری آنکھ کا نارمل ہونا

40

2

ایک آنکھ کی نظر کا نقصان بغیر کسی پیچیدگی کے، آنکھ کی شکل بگڑنے کے بغیر، دوسری آنکھ کا نارمل ہونا

30

دائیں/بائیں ہاتھ کی انگلی، انڈیکس انگلی

1

مکمل

14

2

دو پھالانگز

11

3

ایک پھالانکس

9

4

ہڈی کے نقصان کے بغیر نوک کی گلیوٹین کٹائی

5

درمیانی انگلی

1

مکمل

12

2

دونوں پھالانگز

9

3

ایک پھالانکس

7

4

ہڈی کے بغیر گلیوٹین کٹائی کی نوک

4

انگشتِ حلقہ یا چھنگلی

1

مکمل

7

2

دونوں پھالانگز

6

3

ایک پھالانکس

5

4

ہڈی کے بغیر گلیوٹین کٹائی کی نوک

2

دائیں یا بائیں پاؤں کی انگلیاں، بڑی انگلی (انگوٹھا)

1

میٹاتارسو-فیلینجیل جوڑ کے ذریعے

14

2

جزوی، کچھ ہڈی کے نقصان کے ساتھ

3

کوئی اور انگلی

1

میٹاتارسو-فیلینجیل جوڑ کے ذریعے

3

2

جزوی، کچھ ہڈی کے نقصان کے ساتھ

1

ایک پاؤں کی دو انگلیاں، بڑی انگلی (انگوٹھے) کے علاوہ

1

میٹاتارسو-فیلینجیل جوڑ کے ذریعے

5

2

جزوی، کچھ ہڈی کے نقصان کے ساتھ

2

ایک پاؤں کی تین انگلیاں، بڑی انگلی (انگوٹھے) کے علاوہ

1

میٹاتارسو-فیلینجیل جوڑ کے ذریعے

6

2

جزوی، کچھ ہڈی کے نقصان کے ساتھ

3

ایک پاؤں کی چار انگلیاں، بڑی انگلی (انگوٹھے) کے علاوہ

1

میٹاتارسو-فیلینجیل جوڑ کے ذریعے

9

2

جزوی، کچھ ہڈی کے نقصان کے ساتھ

3

شیڈول 7 – پیشہ ورانہ بیماریوں کی فہرست

کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے عوامل کے باعث پیشہ ورانہ بیماریاں

1.1۔ کیمیائی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.1۔ بیریلیم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.2۔ کیڈمیم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.3۔ فاسفورس یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.4۔ کرومیم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.5۔ مینگنیز یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.6۔ آرسینک یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.7۔ پارہ یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.8۔ سیسہ (لیڈ) یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.9۔ فلورین یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.10۔ کاربن ڈسلفائیڈ سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.11۔ ایلیفیٹک یا ایرو میٹک ہائیڈروکاربنز کے ہیلوجن مشتقات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.12۔ بینزین یا اس کے ہم جنس مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.13۔ بینزین یا اس کے ہم جنس مرکبات کے نائٹرو اور امینو مشتقات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.14۔ نائٹروگلیسرین یا دیگر نائٹرک ایسڈ ایسٹرز سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.15۔ الکحلز، گلائکولز یا کیٹونز سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.16۔ دم گھٹنے والے عناصر جیسے کاربن مونو آکسائیڈ، ہائیڈروجن سلفائیڈ، ہائیڈروجن سائنائیڈ یا اس کے مشتقات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.17۔ اکریلونیٹریل سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.18۔ نائٹروجن کے آکسائیڈز سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.19۔ وینیڈیم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.20۔ انٹمونی یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.21۔ ہیکسان سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.22۔ معدنیاتی تیزابوں سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.23۔ دواسازی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.24۔ نکل یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.25۔ تھالیم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.26۔ آسیمیم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.27۔ سیلینیم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.28۔ تانبا (کاپر) یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.29۔ پلاٹینم یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.30۔ ٹن یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.31۔ زنک یا اس کے مرکبات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.32۔ فاسجین سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.33۔ قرنیہ کو خراش دینے والے عوامل جیسے بینزوکوئنون سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.34۔ امونیا سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.35۔ آئسو سائنٹس سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.36۔ کیڑے مار ادویات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.37۔ سلفر آکسائیڈز سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.38۔ نامیاتی سالوینٹس سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.39۔ لیٹکس یا لیٹکس پر مبنی مصنوعات سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.40۔ کلورین سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.1.41۔ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے دیگر کیمیائی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریاں جن کا سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و رواج کے مطابق مناسب طریقوں سے طے کیا جائے، اور جن میں ورکرکو لاحق بیماریوں کا براہ راست تعلق مذکورہ عوامل سے ہو۔

1.2۔ جسمانی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.2.1۔ شور کی وجہ سے سماعت میں کمی

1.2.2۔ ارتعاش سے پیدا ہونے والی بیماریاں (پٹھوں، نسوں، ہڈیوں، جوڑوں، بیرونی (پیریفرل) خون کی نالیوں یا بیرونی (پیریفرل) اعصاب کے امراض)

1.2.3۔ دباؤ والی یا دباؤ سے خالی ہوا سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.2.4۔ آئنائزنگ شعاعوں سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.2.5۔ بصری شعاعوں (الٹرا وائلٹ، مرئی روشنی، انفراریڈ) بشمول لیزر سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.2.6۔ انتہائی درجہ حرارت کی زد میں آنے سے پیدا ہونے والی بیماریاں

1.2.7۔ دیگر جسمانی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریاں جو مندرجہ بالا نکات میں شامل نہیں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے ان عوامل اور ورکرکو لاحق ہونے والی بیماری کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

1.3۔ حیاتیاتی عوامل اور متعدی یا طفیلی بیماریاں

1.3.1۔ بروسیلوسس

1.3.2۔ ہیپاٹائٹس وائرس

1.3.3۔ انسانی قوت مدافعت میں کمی کا وائرس (ایچ آئی وی)

1.3.4۔ تشنج

1.3.5۔ تپ دق

1.3.6۔ بیکٹیریا یا فنگس آلودگی سے وابستہ زہریلے یا التہابی عوارض

1.3.7۔ انتھراکس

1.3.8۔ لیپٹوسپیروسیس

1.3.9۔ دیگر حیاتیاتی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریاں جو مندرجہ بالا نکات میں شامل نہیں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے ان حیاتیاتی عوامل اور ورکرکو لاحق ہونے والی بیماری کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

2۔ متاثرہ اعضاء کے نظام کے لحاظ سے پیشہ ورانہ بیماریاں

2.1۔ تنفسی بیماریاں

2.1.1۔ ریشہ بنانے والے معدنیاتی گرد سے پیدا ہونے والی پنومو کونائیوسس (سلیکوسس، اینتھراکوسلیکوسس، ایسبیسٹوسس)

2.1.2۔ سلیکوتپ دق

2.1.3۔ غیر ریشہ بنانے والے معدنیاتی گرد سے پیدا ہونے والی پنومو کونائیوسس

2.1.4۔ سائیڈروسس

2.1.5۔ سخت دھاتی گرد سے پیدا ہونے والی برونکوپلمونری بیماریاں

2.1.6۔ کپاس، فلیکس، سن (ہیمپ)، سسل یا گنے کی گرد سے پیدا ہونے والی برونکوپلمونری بیماریاں (بائیسینوسس اور بیگاسوسس)

2.1.7۔ کام کے عمل میں شامل معروف حساسیت پیدا کرنے والے عوامل یا جلن پیدا کرنے والے مادوں سے لاحق دمہ

2.1.8۔ نامیاتی گرد یا حیاتیاتی طور پر آلودہ ایروسولز کے سانس کے ذریعے اندر جانے سے پیدا ہونے والی خارجی الرجک الویولائٹس

2.1.9۔ کوئلے کی گرد، پتھروں کی کانوں کی گرد، لکڑی کی گرد، اناج اور زرعی کام کی گرد، مویشی خانوں کی گرد، ٹیکسٹائل کی گرد اور کاغذ کی گرد کے سانس میں جانے سے پیدا ہونے والی دائمی رکاوٹی پھیپھڑوں کی بیماریاں

2.1.10۔ ایلومینیم کے باعث پھیپھڑوں کی بیماریاں

2.1.11۔ کام کے عمل میں شامل معروف حساسیت پیدا کرنے والے عوامل یا جلن پیدا کرنے والے مادوں سے لاحق اوپری تنفسی نالیوں کے عوارض

2.1.12۔ دیگر تنفسی بیماریاں جو مندرجہ بالا نکات میں شامل نہیں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرناک عوامل اور ورکرکو لاحق ہونے والی بیماری کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

2.2۔ جلدی بیماریاں

2.2.1۔ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے دیگر معروف الرجی پیدا کرنے والے عوامل سے لاحق الرجک رابطہ ڈرماٹوسس اور رابطہ ارتکاریا

2.2.2۔ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے دیگر معروف جلن پیدا کرنے والے عوامل سے لاحق جلن آمیز رابطہ ڈرماٹوسس

2.2.3۔ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے دیگر معروف عوامل کی وجہ سے لاحق وائٹیلیگو

2.2.4۔ جسمانی، کیمیائی یا حیاتیاتی عوامل سے پیدا ہونے والی دیگر جلدی بیماریاں جو مندرجہ بالا نکات میں شامل نہیں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرناک عوامل اور ورکرکو لاحق ہونے والی جلدی بیماری کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

2.3۔ عضلاتی و ڈھانچائی امراض

2.3.1۔ کلائی کی بار بار حرکات، سخت دباؤ اور انتہائی پوزیشنز کی وجہ سے لاحق ریڈیل اسٹائیلائیڈ ٹینو سینوویائٹس

2.3.2۔ کلائی اور ہاتھ کی بار بار حرکات، سخت دباؤ اور غیر معمولی پوزیشنز کی وجہ سے لاحق دائمی ٹینو سینوویائٹس

2.3.3۔ کہنی کے علاقے پر طویل دباؤ کی وجہ سے لاحق اولی کرینون برسائٹس

2.3.4۔ طویل عرصہ گھٹنوں کے بل بیٹھنے کی وجہ سے لاحق پری پیٹیلار برسائٹس

2.3.5۔ بار بار سخت جسمانی کام کی وجہ سے لاحق ایپیکونڈائیلائٹس

2.3.6۔ طویل عرصہ گھٹنے ٹیک کر یا اسکواٹنگ پوزیشن میں کام کرنے کے نتیجے میں لاحق مینیسکس کی چوٹیں

2.3.7۔ طویل عرصہ بار بار سخت جسمانی کام، ارتعاش والے کام، کلائی کی انتہائی پوزیشنز یا ان تینوں کے مجموعہ کی وجہ سے لاحق کارپل ٹنل سنڈروم

2.3.8۔ دیگر عضلاتی و ڈھانچائی بیماریاں جو مندرجہ بالا نکات میں شامل نہیں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرناک عوامل اور ورکرکو لاحق ہونے والی بیماری کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

2.4۔ ذہنی و طرزِ عمل سے متعلق امراض

2.4.1۔ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (صدمے کے بعد کا ذہنی دباؤ کا عارضہ)

2.4.2۔ دیگر ذہنی یا طرزِ عمل سے متعلق امراض جو مندرجہ بالا نکات میں شامل نہیں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرناک عوامل اور ورکرکو لاحق ہونے والی بیماری کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

3۔ پیشہ ورانہ کینسر

3.1۔ درج ذیل عوامل سے پیدا ہونے والا کینسر:

3.1.1۔ ایسبیسٹوس

3.1.2۔ بینزیڈین اور اس کے نمکیات

3.1.3۔ بس-کلورومیتھائل ایتھر (بی سی ایم ای)

3.1.4۔ کرومیم VI مرکبات

3.1.5۔ کوئلے کے تار، کوئلے کے تار کے پچز یا سُوٹس

3.1.6۔ بیٹا نیفٹیلمین

3.1.7۔ وینائل کلورائیڈ

3.1.8۔ بینزین

3.1.9۔ بینزین یا اس کے ہم مثل مرکبات کے زہریلے نائٹرو اور امینو مشتقات

3.1.10۔ آئنائزنگ شعاعیں

3.1.11۔ تار، پچ، بِٹومین، معدنی تیل، اینتھریسین، یا ان مادوں کے مرکبات، مصنوعات یا باقیات

3.1.12۔ کوک اوون کے اخراج

3.1.13۔ نکل مرکبات

3.1.14۔ لکڑی کی گرد

3.1.15۔ آرسینک اور اس کے مرکبات

3.1.16۔ بیریلیم اور اس کے مرکبات

3.1.17۔ کیڈمیم اور اس کے مرکبات

3.1.18۔ ایریونائٹ

3.1.19۔ ایتھیلین آکسائیڈ

3.1.20۔ ہیپاٹائٹس بی وائرس (ایچ بی وی) اور ہیپاٹائٹس سی وائرس (ایچ سی وی)

3.1.21۔ دیگر عوامل سے پیدا ہونے والے کینسر جو مندرجہ بالا نکات میں شامل نہیں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے ان عوامل اور ورکرکو لاحق ہونے والے کینسر کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

4۔ دیگر بیماریاں

4.1۔ کان کنوں کا نِسٹَیگمَس

4.2۔ دیگر مخصوص بیماریاں جو مخصوص پیشوں یا عمل سے پیدا ہوتی ہوں اور جو اس فہرست میں مذکور نہ ہوں، بشرطیکہ کام کی سرگرمیوں اور لاحق ہونے والی بیماری کے درمیان سائنسی طور پر براہ راست تعلق ثابت ہو، یا قومی حالات و طریق کار کے مطابق طے کیا گیا ہو۔

شیڈول 8 – بعض مخصوص صورتوں میں ادا کی جانے والی معاوضہ رقم

معاوضے کی رقم برائے

عارضی معذوری کے لیے نصف ماہانہ ادائیگی بطور معاوضہ

وفات

مستقل مکمل معذوری

1

2

3

4

وفات کے وقت حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً غیر ہنر مند ورکرز کے لیے نوٹیفائی کردہ قابل اطلاق کم از کم اجرت کا بیس گنا

معذوری کے وقت حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً غیر ہنر مند ورکرز کے لیے نوٹیفائی کردہ قابل اطلاق کم از کم اجرت کا بیس گنا

(اے) معذوری کی مدت کے دوران یا چوٹ کی تاریخ سے ایک سال کی مدت تک (جو بھی کم ہو) ماہانہ اجرت کا نصف حصہ

(بی) دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں کی صورت میں:

(i) معذوری کی مدت کے دوران یا ایک سال کی مدت تک ماہانہ اجرت کا نصف حصہ

(ii) معذوری کی مدت کے دوران یا دوسری سے پانچویں سال کی مدت تک (جو بھی کم ہو) ماہانہ اجرت کا ایک تہائی حصہ

شیڈول 9 – ضروری اشیاء کی فہرست

1۔ گندم کا آٹا

2۔ دالیں

3۔ چاول

4۔ خوردنی تیل یا گھی

5۔ چینی

6۔ نمک

7۔ چائے کی پتی

8۔ پیک شدہ یا خشک دودھ یا دونوں

9۔ نہانے کا صابن (ٹوائلٹ سوپ) اور واشنگ پاؤڈر۔