پنجاب لیبر کوڈ 2026 میں کلیدی اصلاحات
تعارف
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایک اہم اور تاریخی دستاویز ہے جو دو درجن سے زائد منتشر لیبر قوانین کو یکجا کر کے ایک جدید کوڈ کی صورت دیتی ہے اور صوبائی قانون کو بین الاقوامی معیاراتِ محنت اور آئینی ضمانتوں سے زیادہ ہم آہنگ کرتی ہے۔
نئے پنجاب لیبر کوڈ میں لاکھوں محنت کش افراد کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کی صلاحیت موجود ہے، خواہ وہ فیکٹری ورکر ہوں، نرسز ہوں، گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ہوں، ذرعی ورکر ہوں یا پلیٹ فارم ورکر۔ پہلی مرتبہ ایک مربوط قانون یہ تسلیم کرتا ہے کہ تمام ورکرز، اس سے قطع نظر کہ وہ کہاں یا کس طریقے سے کام کرتے ہیں، وقار، تحفظ اور کام کی جگہ (ورک پلیس) پر اپنی آواز کے حق دار ہیں۔
پنجاب لیبر کوڈ صوبے کی 48 ملین افراد پر مشتمل لیبر فورس پر براہِ راست لاگو ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بالواسطہ اثرات کام کرنے کی عمر کے ان باقی 50 ملین افراد پر بھی مرتب ہوتے ہیں جو مختلف وجوہ کی بنا پر فعال لیبر فورس میں شامل نہیں ہیں (لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق پنجاب میں کام کرنے کی عمر کی کل آبادی 98 ملین ہے)۔
نیچے دیے گئے صفحات میں ’’سابقہ قانون سازی‘‘ کے حوالے بنیادی طور پر کوڈ کےنفاذ سے فوراً قبل پنجاب میں نافذ لیبر قوانین، بالخصوص دفعہ 435 کے تحت منسوخ کیے گئے 26 قوانین کے ہیں اور جہاں ضروری ہو وہاں ہم نےقریبی نوعیت کی دیگر متعلقہ قانون سازی کے ساتھ بھی کوڈ کا تقابل کیا ہے۔
حصہ اولاطلاق اور تعریفات
Aتمام ورکرز اور تمام کام کی جگہوں کے لیے ایک ہی کوڈ
پنجاب لیبر کوڈ 2026نوآبادیاتی دور بشمول قیامِ پاکستان کے بعد کے 26 مختلف قوانینِ محنت کے منتشر نظام کو ختم کر کے پورے صوبے کے لیے واحد قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ یہ سابقہ شعبہ جاتی مخصوص قوانین اور عددی حدود کے بجائے تمام شعبوں اور کام کی جگہوں پر لاگو ہوتا ہے، جن کی وجہ سے بہت سے ورکرز قانونی تحفظ سے باہر رہ جاتے تھے۔ (دفعہ 2)
سابقہ قوانین:پنجاب لیبر کوڈ کی دفعہ 435 کل 26 لیبر قوانین کو منسوخ کرتی ہے۔ ان قوانین کے دائرۂ اطلاق اور عددی حدود مختلف تھیں؛ مثال کے طور پر اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968 عمومی طور پر 20 یا اس سے زائد ورک مین رکھنے والی اسٹیبلشمنٹس پر لاگو ہوتا تھا، جبکہ فیکٹریز ایکٹ 1934 عمومی طور پر پانچ یا اس سے زیادہ ورکر رکھنے والی فیکٹریز پر لاگو ہوتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پنجاب کے تمام شعبوں میں تمام کام کی جگہوں پر تمام ورکرز، آجروں، پرنسپلز اور آکو پائیرز پر لاگو ہوتا ہے، اور اس سے صرف محدود استثنا حاصل ہیں: پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 کے تحت منضبط سول سرونٹس، دفاعی خدمات، اور پولیس، بشمول قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سویلین آرمڈ فورسز۔ (دفعہ 2)
سابقہ قوانین:تمام ورکرز اور کام کی جگہوں پر یکساں طور پر لاگو ہونے والی کوئی ایک جامع شق موجود نہیں تھی۔ پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 ، اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968، شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 اور دیگر قوانین کے اپنے اپنے دائرۂ اطلاق، استثنا اور عددی حدود تھیں۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کو کسی بھی معاہدے کے ذریعے یا مزدور کی رضامندی سے بھی محدود یا خارج نہیں کیا جا سکتا: کسی معاہدے، داخلی ضوابطِ کار (انٹرنل ورک ریگولیشنز) ، اجتماعی معاہدے یا کسی دوسرے دستاویز کی کوئی ایسی شرط جو کوڈ کی کسی شق کے اطلاق کو خارج یا محدود کرے، یا کسی شخص کو کوڈ کے تحت تنازعات کے تصفیے کے ادارے سے رجوع کرنے سے روکے، کالعدم ہو گی۔ صرف وہ شرائط برقرار رہیں گی جو ورکر کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوں۔ (دفعہ 3)
سابقہ قوانین:بعض انفرادی قوانین میں معاہدے کے ذریعے قانون سے دستبرداری کی ممانعت موجود تھی، جن میں پیمنٹ آف ویجز ایکٹ (اجرتوں کی ادائیگی کا قانون) 1936 کی دفعہ 23 اور پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کی دفعہ 21 شامل ہیں۔ دفعہ 3 اس اصول کو پورے کوڈ پر لاگو کرتی ہے اور تنازعات کے تصفیے کے اداروں تک رسائی کا واضح تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔
B’’ورکر‘‘ کی جامع تعریف
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’ورکر‘‘ کا ایک جامع تصور اختیار کرتا ہے جس میں ملازمین، خود روزگار ورکرز (سیلف ایمپلائڈ)، آن لائن/پلیٹ فارم یا گِگ ورکرز، گھریلو ورکرز(ڈومیسٹک ورکرز)، گھر پر کام کرنے والے ورکرز(ہوم بیسڈ ورکرز)، ذرعی ورکرز، تعمیراتی ورکرز، انٹرنز اور دیگر افراد شامل ہیں، خواہ وہ رسمی شعبے میں کام کرتے ہوں یا غیر رسمی شعبے میں۔ (دفعہ 4بمعہدفعہ 5)
سابقہ قوانین:ورکر یا ملازم کی تعریفات منتشر اور مختلف تھیں۔ پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 انتظامی یا انتظامی امور کی نوعیت کے کام پر مامور افراد کو خارج کرتا تھا؛ اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968 میں ’’ورک مین‘‘ کا نسبتاً محدود تصور استعمال ہوا؛ جبکہ گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز اور گھر پر کام کرنے والے ورکرز الگ قوانین کے تحت منضبط تھے۔ ورک مین کمپنسیشن ایکٹ 1923 اور اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968 میں ’’ورک مین‘‘، فیکٹریز ایکٹ 1934 اور کمپنیز پرافٹس (ورکرز پارٹیسپیشن) ایکٹ 1968 میں ’’ورکر‘‘، پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 میں ’’ورکر‘‘ اور ’’ورک مین‘‘ دونوں اصطلاحات باہم استعمال ہوئیں؛ پنجاب شاپس اینڈاسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 اور پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 میں ’’ملازم‘‘، جبکہ پیمنٹ آف ویجز ایکٹ (اجرتوں کی ادائیگی کا قانون) 1936 میں ’’ملازم رکھے گئے افراد‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی۔ بنیادی طور پر ان سب سے مراد وہ شخص تھا جس کا کسی آجر کے ساتھ ملازمت کا تعلق موجود ہو۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026سابقہ پنجاب لیبر قوانین کی منتشر اصطلاحات کو، جن میں تحفظ یافتہ افراد کو مختلف قوانین میں ’’ورکرز‘‘، ’’ورک مین‘‘، ’’ملازمین‘‘ یا مخصوص شعبہ جاتی زمروں سے تعبیر کیا جاتا تھا، واحد اور جامع تعریف ’’ورکر‘‘ سے بدل دیتا ہے، جبکہ ’’ملازم‘‘ کو ایک الگ ذیلی زمرے کے طور پر برقرار رکھتا ہے۔ سابقہ قوانین مختلف اصطلاحات استعمال کرتے تھے اور ہر اصطلاح مختلف گروہوں کا احاطہ کرتی تھی۔پنجاب لیبر کوڈ اپنے عمومی فریم ورک کا اطلاق انتظامی اور انتظامی امور کے ملازمین تک بھی بڑھاتا ہے۔ (دفعہ 4بمعہدفعہ 5)
سابقہ قوانین:سابقہ طور پر پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 میں بنیادی طور پر انتظامی یا انتظامی امور کی حیثیت میں ملازم افراد کو ’’ورکر/ورک مین‘‘ کی تعریف سے واضح طور پر خارج کیا گیا تھا، اگرچہ بعض دیگر قوانین، بالخصوص پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019، ملازم کی نسبتاً وسیع تعریف استعمال کرتے تھے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026اپنے عمومی قانونی ڈھانچے کا اطلاق منیجیریل اور انتظامی ملازمین پر بھی کرتا ہے۔ (دفعات 4اور5) سابقہ قوانین: پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 نے بنیادی طور پر منیجیریل یا انتظامی حیثیت میں ملازم افراد کو "ورکر/ورک مین" کی تعریف سے صراحتاً خارج کر رکھا تھا، اگرچہ بعض دیگر قوانین، بالخصوص پنجاب آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2019، میں ملازم کی وسیع تر تعریفیں اختیار کی گئی تھیں۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کے تحت ’’ماسٹر اور سرونٹ‘‘ کا قانونی تعلق اور ’’ماسٹر اور سرونٹ کا اصول‘‘ ختم کر دیے گئے ہیں۔ (دفعہ 4بمعہدفعہ 5)
سابقہ قوانین:منسوخ کیے گئے 26 لیبر قوانین میں سے کسی نے بھی کامن لا کے ماسٹر اینڈ سرونٹ نظریے کو صراحتاً ختم نہیں کیا تھا، اور یہ نظریہ عدالتی فیصلوں میں بدستور ظاہر ہوتا رہا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’آجر‘‘، ’’پرنسپل‘‘ اور ’’آکو پائیر‘‘ کی الگ الگ تعریف کرتا ہے اور ہر ایک کی قانونی ذمہ داری واضح کرتا ہے، تاکہ جہاں ایک کام کی جگہ (ورک پلیس) پر متعدد افراد کنٹرول استعمال کرتے ہوں وہاں ذمہ داری درست طور پر متعین کی جا سکے۔ (دفعات 7،9اور10)
سابقہ قوانین:انفرادی قوانین اپنے مخصوص مقاصد کے لیے آجر،آکو پائیر‘، ٹھیکیدار یا دیگر ذمہ دار فریقوں کی تعریف تو دیتے تھے، بالخصوص فیکٹریز ایکٹ 1934 اور پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019؛ تاہم باہم مشترکہ ذمہ داری کی صورت میں پورے قانونی نظام پر لاگو ہونے والا ایک مشترک اصول موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’انگیجمنٹ‘‘ یعنی کام پر رکھنے کے تعلق کا تصور متعارف کراتا ہے، تاکہ روایتی معاہدۂ ملازمت سے ہٹ کر کسی دوسرے شخص کے لیے کام کرنے کی تمام صورتوں کا احاطہ کیا جا سکے، خواہ ان کی معاہداتی بنیاد کچھ بھی ہو۔ (دفعہ 8)
سابقہ قوانین:منسوخ کیے گئے کسی قانون نے معاہدے کی شکل سے آزاد ہو کر قانونی دائرۂ اطلاق متعین کرنے کے لیے ’’انگیجمنٹ‘‘ کا ایسا واحد اور پورے نظام پر لاگو تصور استعمال نہیں کیا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’ٹھیکیدار‘‘ اور ’’خود روزگار‘‘ کی الگ الگ تعریف کرتا ہے، جس سے حقیقی خود روزگاری اور چھپائی گئی ملازمت میں امتیاز کے لیے زیادہ واضح بنیاد میسر آتی ہے۔ (دفعہ 11)
سابقہ قوانین:پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے مقاصد کے لیے پہلے ہی ٹھیکیدار اور خود روزگار شخص (سیلف ایمپلائڈ) کی تعریف کرتا تھا؛ کوڈ اس امتیاز کو وسیع تر لیبر قانونی فریم ورک میں استعمال کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026مقرر کرتا ہے کہ جہاں کوڈ، یا اس کے تحت بنائے گئے کسی قاعدے، ضابطے، ایوارڈ، اجتماعی معاہدے یا حکم کے ذریعے ایک سے زیادہ افراد پر ذمہ داریاں عائد ہوں، وہاں ہر شخص تعمیل یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اور انفرادی طور پر ذمہ دار اور خلاف ورزی کی صورت میں مشترکہ اور انفرادی طور پر جواب دہ ہو گا۔ (دفعہ 10)
سابقہ قوانین:مشترکہ ذمہ داری صرف مخصوص حالات میں موجود تھی، مثلاً ورک مین کمپنسیشن ایکٹ 1923 کی دفعہ 12 کے تحت زرِ تلافی کے لیے پرنسپل کی ذمہ داری ۔ کوڈ کی دفعہ 10ہر ذمہ داری پر مشترکہ اور انفرادی ذمہ داری کا عمومی اصول لاگو کرتی ہے، جو بالخصوص ٹھیکہ داری (کنٹریکٹر)، ذیلی ٹھیکہ داری (سب کنٹریکٹر) اور متعدد آجروں والی کام کی جگہوں میں اہم ہے۔
Cکام کی جگہ (ورک پلیس) کی جامع تعریف
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’کام کی جگہ۔ورک پلیس‘‘ اور ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کی تعریفات کو یکجا اور وسیع کرتا ہے، ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم/پلیٹ فارم ورک اور کام کے دیگر غیر روایتی مقامات کو صراحتاً شامل کرتا ہے، اور ساتھ ہی تعمیراتی کام اور خیراتی یا غیر منافع بخش تنظیموں کی وہ کوریج برقرار رکھتا ہے جو بعض سابقہ قوانین میں موجود تھی۔ (دفعہ 12)
سابقہ قوانین:سابقہ پنجاب لیبر قوانین میں خیراتی اور غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا تھا،بعض قوانین انہیں صراحتاً شامل کرتے تھے جبکہ بعض خیراتی سرگرمیوں کو خارج کرتے تھے۔ پنجاب لیبر کوڈ 2026 کام کی جگہ(ورک پلیس) کے منافع بخش یا غیر منافع بخش ہونے سے قطع نظر لیبر تحفظات لاگو کر کے زیادہ یکساں فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کام سے متعلق سفر، آمدورفت، تربیت، تقریبات اور سماجی سرگرمیوں، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دیے جانے والے کام، اور آجر کی فراہم کردہ رہائش کو صراحتاً ’’کام کی جگہ‘‘ کے تصور میں شامل کرتا ہے۔ (دفعہ 12)
سابقہ قوانین:سابقہ پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی تعریف بنیادی طور پر ان احاطوں پر مرکوز تھی جہاں کام انجام دیا جاتا تھا۔ (پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019، دفعہ 2(v))
حصہ دومکام پر بنیادی اصول اور حقوق
پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا حصہ دوم صوبائی سطح پر بین الاقوامی ادارۂ محنت کے بنیادی معیارات کو مؤثر بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے، جن کا تعلق انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودے بازی، جبری یا لازمی مشقت کے خاتمے، چائلڈ لیبر کے مؤثر خاتمے،کسی بھی طرح کے امتیاز کے خاتمے، اور محفوظ و صحت مند کام کے ماحول سے ہے۔ یہ تمام افراد اور کام کی جگہوں پر لاگو ہوتا ہے، بشمول آجر، پرنسپل، قابض، ٹھیکیدار، ذیلی ٹھیکیدار اور ورکرز۔
Dبانڈڈ، جبری یا لازمی مشقت
پنجاب لیبر کوڈ 2026اب بانڈڈ لیبر اور جبری یا لازمی مشقت کی ممانعت کے لیے تعریف اور تفصیلی دفعات فراہم کرتا ہے۔ جبری مشقت میں اب ’’معمول کے اضافی اوقاتِ کار کی زیادہ سے زیادہ 8 گھنٹے فی ہفتہ کی حد سے زائد جبری اضافی اوقاتِ کار‘‘ بھی شامل ہیں۔ (دفعہ 15)
سابقہ قوانین:بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ 1992 نے بانڈڈ لیبر سسٹم کی تعریف اور اس کا خاتمہ کیا تھا، لیکن اس میں بین الاقوامی ادارۂ محنت کے طرز کی جبری یا لازمی مشقت کی ایسی عمومی تعریف موجود نہیں تھی جو جبری اضافی اوقاتِ کار جیسے معاملات کا بھی احاطہ کرتی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026چائلڈ لیبر کی بدترین صورتوں میں کسی بچے کو کام پر لگانے کو جبری یا لازمی مشقت قرار دیتا ہے۔ (دفعہ 15(f)(iii))
سابقہ قوانین:چائلڈ لیبر سے متعلق قوانین بچوں کے کام اور خطرناک کام کی ممانعت کرتے تھے، لیکن کسی جامع جبری مشقت کی شق کے تحت چائلڈ لیبر کی بدترین صورتوں میں بچے کو کام پر لگانے کو صراحتاً جبری یا لازمی مشقت قرار نہیں دیتے تھے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026یہ واضح کرتا ہے کہ کن حالات کو جبری یا لازمی مشقت نہیں سمجھا جائے گا، مثلاً لازمی فوجی خدمت، معمول کی شہری ذمہ داریاں، عدالتی سزا کے تحت لیا گیا کام، حقیقی ہنگامی حالات میں لیا گیا کام، اور کمیونٹی کے براہِ راست مفاد میں انجام دی جانے والی معمولی اجتماعی خدمات۔ (دفعہ 15(f)(iv))
سابقہ قوانین:بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ 1992، جس میں 2018 میں ترمیم کی گئی، جبری یا لازمی مشقت سے مستثنیٰ حالات کی اسی نوعیت کی ایک مربوط فہرست پہلے ہی فراہم کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ جبری مشقت سے متعلق کنونشن 29 کی متعلقہ دفعات کو دہراتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پیشگی رقم (پیشگی/ایڈوانس) کی ادائیگی کو منضبط کرتا ہے اور غیر ہنر مند ورکر پر لاگو کم از کم اجرت کے تین گنا تک بلا سود قرض کی اجازت دیتا ہے۔ پیشگی رقم اور اس کی واپسی کا مناسب ریکارڈ رکھنا لازم ہے۔ پیشگی رقم کی ادائیگی اور اس کی وصولی بینکاری ذرائع سے کی جائے گی، اور یہ ریکارڈ لیبر انسپکٹرز کے لیے قابلِ رسائی ہو گا۔ (دفعہ 18)
سابقہ قوانین:پنجاب پروہیبیشن آف چائلڈ لیبر ایٹ برک کلنز ایکٹ 2016 کی دفعہ 4 پیشگی رقم کی حد 50,000 روپے مقرر کرتی تھی اور رجسٹر رکھنا لازم تھا؛ بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ 1992 پیشگی رقم کی تعریف تو کرتا تھا، لیکن کوڈ کی طرح پورے صوبے کے لیے کم از کم اجرت کے تین گنا تک، بلا سود اور بینکاری ذریعے سےاس پیشگی کی ادائیگی کے قواعد عائد نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کسی بھی پیشگی رقم کی وصولی کو ورکر کے معاوضے کے پانچویں حصے (20 فیصد) تک محدود کرتا ہے اور پچھلی پیشگی رقم کی مکمل ادائیگی سے پہلے نئی پیشگی رقم دینے کی ممانعت کرتا ہے۔ (دفعہ 18)
سابقہ قوانین:منسوخ قوانین( چاہے وہ 1992 کا قانون ہو یا 2016 کا) میں پیشگی رقم کی وصولی پر معاوضے کے 20 فیصد کی عمومی حد اور سابقہ پیشگی رقم کی مکمل واپسی تک نئی پیشگی رقم پر پابندی بیک وقت موجود نہیں تھی۔
Eچائلڈ لیبر کا خاتمہ
پنجاب لیبر کوڈ 2026میں ’’بچہ‘‘ سے مراد 16 سال سے کم عمر شخص ہے۔ ’’نو عمر شخص‘‘ (جس کے لیے سابقہ قانون سازی میں ’’نابالغ/ایڈولیسنٹ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی) سے مراد 16 سے 18 سال کی عمر کا شخص ہے۔ (دفعہ 22)
سابقہ قوانین:پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 میں بچے کی عمر 15 سال سے کم اور ایڈولیسنٹ کی عمر 15 سے 17 سال مقرر تھی، جبکہ پنجاب پروہیبیشن آف چائلڈ لیبر ایٹ برک کلنز ایکٹ 2016 میں بچہ 14 سال سے کم عمر شخص تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازمت میں داخلے کی کم از کم عمر بڑھا کر 16 سال کر دیتا ہے۔ (دفعہ 23)
سابقہ قوانین:2016 کے عمومی چائلڈ لیبر قانون نے 15 سال سے کم عمر بچوں کی ملازمت ممنوع قرار دی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ معمول کے کام کی عمر 16 سال کرتا ہے جبکہ 14 سال کی عمر سے ہلکے پھلکےکام کے لیے ایک الگ راستہ فراہم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026میں ہلکے کام کی کم از کم عمر 14 سال مقرر کی گئی ہے۔ 14 سے 16 سال کے بچوں کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 4 گھنٹے ہلکا کام کرنے کی اجازت ہے۔
سابقہ قوانین:2016 کے عمومی چائلڈ لیبر قانون میں 14 سے 16 سال کے بچوں کے لیے کوئی عمومی ہلکے کام کا نظام موجود نہیں تھا؛ اس میں ایڈولیسنٹ کے کام کا نظام 15 سال کی عمر سے شروع ہوتا تھا اور اوقاتِ کار (روزانہ زیادہ سے زیادہ 6 گھنٹے) اور خطرناک کام کی پابندیوں کے تابع تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026میں ہلکے کام کا ایک شیڈول شامل ہے۔ شیڈول 1، بین الاقوامی ادارۂ محنت کے کنونشن 138 کے مطابق، 14 سے 16 سال کے بچوں کے لیے اجازت یافتہ ہلکے کام کی فہرست مقرر کرتا ہے۔ (دفعہ 24،شیڈول 1)
سابقہ قوانین:پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 میں خطرناک کام کا شیڈول موجود تھا لیکن اجازت یافتہ ہلکے کام کی کوئی متوازی قانونی فہرست موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026، بین الاقوامی ادارۂ محنت کے کنونشن 182 کے مطابق، چائلڈ لیبر کی تمام بدترین صورتوں کی بغیر کسی استثنا کے ممانعت کرتا ہے۔ (دفعہ 25)
سابقہ قوانین:2016 کا قانون بچوں کی ملازمت اور نو عمر افراد کے خطرناک کام کو ممنوع کرتا تھا، لیکن کنونشن نمبر 182 میں بیان کردہ تمام بدترین صورتوں کو ایک ہی واضح ممانعت میں یکجا نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026میں خطرناک کام کا ایک تازہ شدہ شیڈول بھی شامل ہے جس میں اب گھریلو کام اور رات کا کام بھی شامل ہیں۔ (دفعہ 26،شیڈول 2)
سابقہ قوانین:پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 میں پہلے ہی خطرناک کام کا شیڈول، بشمول تعمیرات سے متعلق سرگرمیاں، موجود تھا؛ کوڈ کا شیڈول 2 اس فہرست کو تازہ اور وسیع کرتا ہے اور اس میں گھریلو کام )ڈومیسٹک ورک) اور رات کے اوقات میں کام بھی شامل کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026نو عمر افراد کے لیے اوقاتِ کار کا واحد نظام مقرر کرتا ہے: ایک دن میں زیادہ سے زیادہ سات گھنٹے، جس میں ایک گھنٹے کا لازمی وقفۂ آرام شامل ہو؛ اس وقفے سے پہلے تین گھنٹے سے زیادہ کام نہ ہو؛ روزانہ کم از کم بارہ مسلسل گھنٹے بلا تعطل آرام دیا جائے؛ اور شام 7:00 بجے سے صبح 8:00 بجے تک رات کے کام، اضافی اوقاتِ کار، ہفتہ وار آرام کے دن اور عام تعطیلات میں کام کی ممانعت ہو۔ کسی نو عمر شخص کو ایسے دن کام پر نہیں رکھا جا سکتا جس دن وہ کسی دوسری اسٹیبلشمنٹ میں پہلے ہی کم از کم چھ گھنٹے کام کر چکا ہو۔ (دفعہ 27)
سابقہ قوانین:بچوں اور ایڈولیسنٹس کے اوقاتِ کار کی پابندیاں پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 اور فیکٹریز ایکٹ 1934 کی دفعہ 54 میں تقسیم تھیں، اور مؤخر الذکر صرف فیکٹریوں پر لاگو ہوتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ ان کی جگہ پورے صوبے کے لیے واحد قاعدہ لاتا ہے اور دوہری ملازمت پر صریح پابندی بھی شامل کرتا ہے۔
Fمواقع اور سلوک میں مساوات
پنجاب لیبر کوڈ 2026امتیاز کی واضح تعریف فراہم کرتا ہے اور ہر آجر، پرنسپل اور قابض پر بھرتی، انگیجمنٹ کی شرائط، تربیت، ترقی اور ملازمت کے خاتمے سمیت ملازمت کے تمام پہلوؤں میں امتیاز سے اجتناب کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ (دفعات 13اور33)
سابقہ قوانین:امتیاز سے تحفظ مختلف قوانین میں منتشر تھا۔ پنجاب کم از کم اجرت ایکٹ 2019 کی دفعہ 21 اس ایکٹ کے نفاذ میں مخصوص بنیادوں پر امتیاز کی ممانعت کرتی تھی؛ پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 میں کچھ مخصوص شعبوں اور خصوصاً نئے قوانین میں مساوات کا تحفظ موجود تھا؛ اور پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 مخصوص ٹریڈ یونین امتیاز کی ممانعت کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026امتیاز اور اس کی صورتوں، یعنی براہِ راست اور بالواسطہ امتیاز، کی واضح تعریف کرتا ہے اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کن حالات کو امتیاز نہیں سمجھا جائے گا۔ (دفعہ 34)
سابقہ قوانین:منسوخ لیبر قوانین میں ایسا کوئی ایک عمومی قانونی فریم ورک موجود نہیں تھا جو براہِ راست اور بالواسطہ امتیاز میں فرق کرے اور واضح کرے کہ کیا چیز امتیاز شمار نہیں ہو گی۔
امتیاز کی ممنوع 15 بنیادیں یہ ہیں: نسل؛ رنگ؛ جنس اور صنف؛ حمل؛ عمر؛ خاندانی ذمہ داریاں؛ مذہب (بشمول فرقہ اور عقیدہ)؛ سیاسی رائے؛ قومی ماخذ؛ نسلی شناخت؛ سماجی اصل (بشمول ذات)؛ ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں شرکت یا عدم شرکت؛ زبان (بشمول بولی)؛ معذوری؛ اور جسمانی وضع و شکل۔ (دفعہ 35)
سابقہ قوانین:سابقہ قوانین مختلف سیاق میں نسبتاً محدود بنیادیں استعمال کرتے تھے۔ پنجاب لیبر کوڈ ملازمت اور پیشے کے تمام پہلوؤں پر لاگو ہونے والی ایک عمومی فہرست مقرر کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’خاندانی ذمہ داریوں‘‘ کو صراحتاً تسلیم کرتا ہے، جن میں زیر کفالت بچوں یا خاندان کے دیگر افراد کی نگہداشت کی ذمہ داریاں رکھنے والے مرد اور خواتین ورکرز دونوں شامل ہیں، اور اسے امتیاز کی ممنوع بنیاد قرار دیتا ہے۔ (دفعہ 35(2))
سابقہ قوانین:پنجاب لیبر قانون سازی میں خاندانی ذمہ داریوں کو عمومی طور پر امتیاز کی ممنوع بنیاد کے طور پر صراحتاً تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026مردوں اور خواتین کے لیے مساوی قدر کے کام پر مساوی معاوضے کے اصول کو مکمل طور پر نافذ کرتا ہے۔ کم از کم اجرت اور معاوضے سے متعلق تمام دفعات ملازمت کی معروضی جانچ کے طریقوں کا حوالہ دیتی ہیں۔ (دفعہ 36)
سابقہ قوانین:مساوی اجرت کا تحفظ صرف محدود حالات میں موجود تھا؛ کوڈ معاوضے اور کم از کم اجرت کے اپنے پورے فریم ورک میں مساوی قدر کے کام کے لیے مساوی معاوضے کی ایک عمومی ذمہ داری قائم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026معاوضے کی تعریف میں تمام یوٹیلیٹی اور ہنگامی/مشروط الاؤنسز کو شامل کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ قابلِ تقابل کام کرنے والے مرد اور خواتین ورکرز کے لیے ان الاؤنسز میں بھی فرق نہیں رکھا جا سکتا۔ (دفعہ 36)
سابقہ قوانین:معاوضے کے اجزا کے طور پر یوٹیلیٹی اور مشروط الاؤنسز پر صراحتاً لاگو ہونے والا پورے نظام کا مساوی معاوضے کا کوئی عمومی قاعدہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026محکمہ محنت میں مساوی مواقعِ ملازمت کا دفتر (ایکول ایمپلائمنٹ اپرچونٹی آفس) قائم کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ آگاہی بڑھائی جائے، ملازمت کی معروضی جانچ پر مطالعات کیے جائیں، صنفی اجرتی فرق سے نمٹا جائے، شکایات کی تحقیقات کی جائیں اور امتیاز کے متاثرین کو قانونی معاونت فراہم کی جائے۔ (دفعہ 310)
سابقہ قوانین:اس نوعیت کی کوئی شق موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تقاضا کرتا ہے کہ کم از کم اجرت کی سفارش کرتے وقت کم از کم اجرت بورڈ مرد اور خواتین ملازمین کے لیے مساوی قدر کے کام پر مساوی معاوضے کے اصول کی پابندی کرے۔ (دفعہ 317)
Gپیشہ ورانہ تحفظ و صحت
پنجاب لیبر کوڈ 2026تمام شعبوں میں یکساں طور پر لاگو ہونے والی دفعات فراہم کرتا ہے۔ زیادہ تر تفصیلات قواعد پر چھوڑ دی گئی ہیں تاکہ نئے مسائل سے نمٹنے کے لیے انہیں آسانی سے ترمیم کیا جا سکے۔
سابقہ قوانین:پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں بنیادی طور پر فیکٹریز ایکٹ 1934 اور پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 کے درمیان، اور بعض شعبہ مخصوص دفعات میں، تقسیم تھیں۔ پنجاب لیبر کوڈ انہیں ایک مشترک فریم ورک میں یکجا کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026صراحتاً تسلیم کرتا ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت آجر، پرنسپل، قابض، ٹھیکیدار، ذیلی ٹھیکیدار، ڈیزائنر، مینوفیکچرر، سپلائر، نصب کرنے والا، مالک، کرایہ پر دینے والا یا لیز دینے والا ہو سکتا ہے، اور اسی کے مطابق بیک وقت عائد اور باہم متداخل ذمہ داریاں مقرر کرتا ہے تاکہ کوئی ذمہ دار فریق دوسرے کی ذمہ داری کا حوالہ دے کر اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی نہ کر سکے۔ (دفعہ 41)
سابقہ قوانین:پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 نے متعدد فریقوں پر ذمہ داریاں عائد کی تھیں، لیکن اس میں کوڈ کی طرح بیک وقت اور باہم متداخل ذمہ داریوں کا ایسا صریح قاعدہ نہیں تھا جو ایک ذمہ دار فریق کو دوسرے کی ذمہ داری پر انحصار کر کے اپنی ذمہ داری سے بچنے سے روکے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے حوالے سے تمام فریقین، یعنی آجر، پرنسپل، قابض، ورکر، خود روزگار ورکر، مینوفیکچرر، سپلائر اور احاطے پر کنٹرول رکھنے والے افراد ، کی ذمہ داریاں واضح طور پر متعین کرتا ہے۔ (دفعات 43تا49)
سابقہ قوانین:پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 کی دفعات 3 تا 7 پہلے ہی آجروں، ملازمین، خود روزگار افراد، احاطوں کو کنٹرول کرنے والے افراد اور مینوفیکچررز پر ذمہ داریاں عائد کرتی تھیں۔ پنجاب لیبر کوڈ ان ذمہ داریوں کو آجر/پرنسپل/قابض کے اپنے فریم ورک کے تحت ازسرِ نو منظم اور وسیع کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پنجاب کی لیبر قانون سازی میں پہلی مرتبہ ’’تشدد اور ہراسانی‘‘ کی جامع تعریف فراہم کرتا ہے، جس میں جسمانی، نفسیاتی، جنسی یا معاشی نقصان، بشمول صنفی بنیاد پر تشدد اور جنسی ہراسانی، شامل ہیں، تاکہ ایک ہی معیار تمام کام کی جگہوں اور تمام اقسام کے ورکرز پر لاگو ہو۔ (دفعات 13اور50)
سابقہ قوانین:پاکستان کی کام کی جگہ (ورک پلیس) پر ہراسانی سے متعلق قانون سازی جنسی ہراسانی سے متعلق تھی، جبکہ منسوخ پنجاب لیبر قوانین میں تمام ورکرز اور کام کی جگہوں کے لیے جسمانی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی نقصان کا احاطہ کرنے والی ایسی جامع تعریف موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہر ایسی کام کی جگہ (ورک پلیس) پر، جہاں 10 سے زیادہ ملازمین ہوں، امتیاز اور ہراسانی کی شکایات کی انکوائری کے لیے ازالۂ شکایت کمیٹی قائم کرنے کا تقاضا کرتا ہے؛ اور جہاں خواتین ملازم ہوں وہاں کمیٹی میں کم از کم ایک خاتون رکن ہونا لازم ہے۔ (دفعہ 51)
سابقہ قوانین:جنسی ہراسانی کے لیے کام کی جگہ (ورک پلیس) پر انکوائری کے طریقہ کار موجود تھے اور پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 میں شعبہ مخصوص تنازعات کا طریقہ کار بھی تھا، مگر مذکورہ حد پر امتیاز اور ہراسانی دونوں کا مشترکہ دائرۂ کار رکھنے والی کوئی عمومی کمیٹی موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایسی کام کی جگہوں پر جہاں 30 یا اس سے زیادہ ورکرز ہوں، تحفظ و صحت کے نمائندوں کے نظام کو ازسرِ نو منظم اور مضبوط کرتا ہے۔ یہ نمائندے اجتماعی سودے بازی کے نمائندہ یونین کے ذریعے مقرر یا ورکرز کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں اور انہیں قانونی فرائض اور تحفظات حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 کی دفعہ 10 پانچ سے زیادہ ملازمین رکھنے والے آجروں کو تحفظ و صحت کے نمائندوں کے انتخاب کا انتظام کرنے کی پابند کرتی تھی۔ (دفعات 53اور55)
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایسی کام کی جگہوں پر جہاں 50 یا اس سے زیادہ ورکرز ہوں، دو فریقی تحفظ و صحت کمیٹیوں کے قیام کا تقاضا کرتا ہے۔ کمیٹی کے کم از کم نصف ارکان ایسے ورکرز ہوں گے جنہیں آجر نے نامزد نہ کیا ہو، اور محکمانہ، سیکشن، علاقائی یا پلیٹ فارم سطح پر ذیلی کمیٹیاں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ (دفعہ 54)
سابقہ قوانین:پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 تحفظ و صحت کے نمائندوں کا انتظام فراہم کرتا تھا، لیکن 50 ورکرز کی حد پر کوڈ جیسا لازمی دو فریقی تحفظ و صحت کمیٹی کا ڈھانچہ قائم نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے ورکرز کو تحفظ فراہم کرتا ہے: کوئی آجر، پرنسپل یا قابض کسی ورکر کو اس بنا پر برطرف نہیں کر سکتا اور نہ اس کے خلاف کوئی نقصان دہ اقدام، بشمول تنخواہ میں کٹوتی، کر سکتا ہے کہ وہ تحفظ و صحت کا نمائندہ یا کمیٹی کا رکن ہے یا بننے کا ارادہ رکھتا ہے؛ باب 2.5 کے تحت کوئی اختیار یا فعل استعمال کرتا ہے؛ آجر، انسپکٹر، نمائندے، کمیٹی کے رکن، ٹریڈ یونین یا کسی دوسرے ورکر کے سامنے تحفظ یا صحت کا مسئلہ اٹھاتا ہے؛ فوری اور سنگین خطرے سے خود کو الگ کرنے کا حق استعمال کرتا ہے؛ یا حصہ ششم کے تحت کسی کارروائی میں شامل ہے۔ یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری آجر، پرنسپل یا قابض پر ہو گی کہ اقدام ایسی کسی وجہ سے نہیں کیا گیا تھا۔ (دفعہ 55)
سابقہ قوانین:منسوخ قوانین میں تحفظ و صحت کے نمائندوں کے لیے واضح انتقامی کارروائی سے تحفظ کو بارِ ثبوت کی الٹی منتقلی کے ساتھ یکجا نہیں کیا گیا تھا۔ یہ باب 2.5 میں ثبوت کے قانون سے متعلق اہم ترین تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہائجین کارڈ کی شرط کو برقرار رکھتا اور آگے بڑھاتا ہے، جس کے تحت جہاں قواعد مقرر کریں وہاں طبی معائنہ اور ویکسینیشن یا حفاظتی ٹیکہ لازم ہو گا۔ اس سے پہلے پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 کی دفعہ 11 پہلے ہی ہر ملازم کے لیے ہائجین کارڈ اور آجر کے خرچ پر وقتاً فوقتاً طبی معائنہ لازم کرتی تھی۔ (دفعہ 57)
پنجاب لیبر کوڈ 2026انسپکٹرز کو امپروومنٹ نوٹس اور پروہیبیشن نوٹس جاری کرنے کے ذریعے جامع اصلاحی اختیارات دیتا ہے۔ (دفعات 64تا65)
سابقہ قوانین:فیکٹریز ایکٹ 1934 اور پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 کے تحت انسپکٹرز کو نفاذی اختیارات حاصل تھے، لیکن کوڈ امپروومنٹ نوٹس اور پروہیبیشن نوٹس کا منظم نظام شامل کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ورکرز کو فوری خطرے کی صورت میں کام کی جگہ (ورک پلیس) چھوڑنے کا حق دیتا ہے، اور تحفظ و صحت کے نمائندوں یا کمیٹیوں کو فوری اور سنگین خطرے میں ورکرز کو کام روکنے کی ہدایت دینے کا اختیار بھی فراہم کرتا ہے؛ خطرہ دور ہونے تک ورکر کو کام پر واپس آنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ (دفعات 66تا67)
سابقہ قوانین:منسوخ قوانین میں ان الفاظ میں کوئی عمومی حق موجود نہیں تھا کہ ورکر فوری اور سنگین خطرے کی صورت میں خود کو کام سے الگ کر سکے اور خطرہ دور ہونے تک اسے واپس آنے پر مجبور نہ کیا جا سکے۔
Hانجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودے بازی
پنجاب لیبر کوڈ 2026تمام شعبوں کے تمام ورکرز کو انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودے بازی کا حق دیتا ہے، سوائے سول سرونٹس، مسلح افواج اور پولیس کے۔ (دفعہ 2)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 اپنے دائرۂ اطلاق اور استثناؤں کے اندر ’’ورک مین‘‘ کو انجمن سازی کی آزادی کا تحفظ دیتا تھا، اور بنیادی طور پر انتظامی یا انتظامی امور کی حیثیت میں کام کرنے والے افراد کو خارج کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ اس حق کو ’’ورکر‘‘ کی وسیع تعریف سے منسلک کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کے تحتمختلف کام کی جگہوں پر مختلف ملازمتیں کرنے والے ورکرز ہر متعلقہ کام کی جگہ (ورک پلیس) کی ٹریڈ یونین میں شامل ہو سکتے ہیں۔ (دفعہ 74)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 متعلقہ ملازمت کے تناظر میں ایک ورکر کو ایک وقت میں ایک سے زیادہ ٹریڈ یونین کا رکن بننے سے روکتا تھا؛ پنجاب لیبر کوڈ ایسی صورت واضح کرتا ہے جہاں ورکر کی حقیقی طور پر الگ الگ ملازمتیں اور کام کی جگہیں ہوں۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کے تحت تمام ٹریڈ یونینز کی رجسٹریشن کے لیے کم از کم رکنیت کی شرط تمام ورکرز کا 5 فیصد یا 20 ورکرز، جو بھی کم ہو، مقرر کی گئی ہے۔ (دفعہ 84)
سابقہ قوانین:جہاں دو یا زیادہ یونینز موجود ہوں، پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 کی دفعہ 6(2)(b) رجسٹریشن کے لیے کل ورک مین کے کم از کم ایک پانچویں حصے کو رکن ہونا لازم کرتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اس حد کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تیسرے فریق کے کنٹریکٹ ورکرز کو اس اسٹیبلشمنٹ یا اسٹیبلشمنٹس کے گروپ کی ٹریڈ یونین میں شامل ہونے کی اجازت دیتا ہے جہاں وہ انگیج کیے گئے ہوں۔ (دفعات 84اور211)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 ٹھیکیدار کے ذریعے فراہم کردہ ورکرز کو بعض حالات میں ’’ورکر/ورک مین‘‘ میں شامل کر سکتا تھا، لیکن پنجاب لیبر کوڈ ان کے لیے میزبان اسٹیبلشمنٹ یا اسٹیبلشمنٹس کے گروپ کی ٹریڈ یونین میں شمولیت کا حق صراحتاً محفوظ کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن کی درخواست زیرِ التوا ہونے کے دوران صرف عہدیداروں ہی نہیں بلکہ ٹریڈ یونین کے تمام ارکان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ (دفعہ 91)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 کی دفعہ 10 رجسٹریشن کی درخواست زیرِ التوا ہونے کے دوران عہدیداروں کو تحفظ دیتی تھی؛پنجاب لیبر کوڈ یہ تحفظ تمام ارکان تک بڑھاتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026اجتماعی سودے بازی کو صراحتاً ادارہ جاتی، پیشہ ورانہ یا شعبہ جاتی، اور صوبائی سطحوں پر منظم کرتا ہے۔
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 اسٹیبلشمنٹ، اسٹیبلشمنٹس کے گروپ اور صنعت کے لیے اجتماعی سودے بازی کے نمائندہ یونین کو پہلے ہی تسلیم کرتا تھا، لیکن اس نے صوبائی سطح سمیت کوڈ جیسا واضح کثیر سطحی فریم ورک قائم نہیں کیا تھا۔ (دفعہ 99)
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایک آجر سے آگے بڑھتے ہوئے ٹریڈ یونین فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کے ذریعے اجتماعی سودے بازی کو صراحتاً تسلیم کرتا ہے۔ (دفعہ 105)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 پہلے ہی فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کی رجسٹریشن کی اجازت دیتا تھا اور فیڈریشنز کو صنعتی تنازعات اٹھانے کی اجازت تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ ایک آجر سے آگے ان کے اجتماعی سودے بازی کے کردار کو واضح کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026نیک نیتی سے سودے بازی (گُڈ فیتھ بارگیننگ) کا تصور شامل کرتا ہے، جس کے تحت دونوں فریق اجتماعی معاہدہ طے کرنے کے لیے ہر معقول کوشش کرتے ہیں، اس میں ثالثوں یا مصالحت کاروں کی معاونت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ (دفعہ 107)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 مذاکرات، مصالحت اور سودے بازی کے عمل کو ریگولیٹ کرتا تھا، لیکن نیک نیتی سے سودے بازی کی ایسی واضح قانونی ذمہ داری عائد نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پرنسپل کے ذریعے انگیج کیے گئے ورکرز کو صراحتاً یہ حق دیتا ہے کہ وہ اسی پرنسپل کے ساتھ اجتماعی سودے بازی کر سکیں، خواہ حصہ چہارم کے تحت یا، جہاں حصہ چہارم لاگو نہ ہو، مقررہ طریقے کے مطابق۔ (دفعہ 115)
سابقہ قوانین:پنجاب صنعتی تعلقات ایکٹ کا فریم ورک بنیادی طور پر ورک مین اور ان کے آجر کے درمیان اجتماعی سودے بازی پر مرکوز تھا۔ (پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 ، دفعات 24 تا 25)
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہڑتال کرنے والے ورکرز، بشمول عارضی طور پر، بدلنے سے آجروں کو منع کر کے متبادل ورکرز سے متعلق قاعدے کو برقرار اور مزید سخت کرتا ہے۔(دفعہ 118)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 کی دفعہ 17(h) کے تحت ہڑتال کے دوران نئے ورک مین بھرتی کرنا پہلے ہی ممنوع تھا، البتہ مشینری یا تنصیبات کو شدید نقصان سے بچانے کے لیے مصالحت کار کی اجازت سے ایک محدود استثنا موجود تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’گو سلو‘‘ کو صنعتی کارروائی کی ایک قانونی صورت تسلیم کرتا ہے اور گو سلو اختیار کرنے سے پہلے کم از کم 5 دن کا نوٹس لازم کرتا ہے۔ (دفعہ 121)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 کی دفعہ 18(1)(e) گو سلو کو غیر منصفانہ لیبر پریکٹس قرار دیتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ نوٹس کے ساتھ گو سلو کو قانونی صنعتی کارروائی تسلیم کر کے اس پوزیشن کو تبدیل کرتا ہے۔
سابقہ قوانین:عوامی سہولت اور ضروری خدمات کے سیاق میں ہڑتالیں پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 اور ضروری خدمات کی مخصوص قانون سازی کے ذریعے منضبط تھیں؛ کوڈ اس منتشر طریقے کی جگہ شیڈول 4 سے منسلک واضح ممانعت متعارف کراتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026عوامی سہولت کی خدمات (پبلک یوٹیلٹی سروسز) میں ہڑتال یا تالہ بندی کی اجازت دیتا ہے، تاہم ہڑتال یا تالہ بندی کے دوران 40 فیصد خدمات برقرار رکھنا لازم ہے۔ (دفعہ 125اورشیڈول 3)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 عوامی سہولت کی خدمات میں ہڑتال اور تالہ بندی پر خصوصی پابندیاں عائد کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ 40 فیصد خدمات کے تسلسل کی شرط کے ساتھ صنعتی کارروائی یعنی ہڑتال کی اجازت دیتا ہے۔
حصہ سومملازمت
Iملازمت
پنجاب لیبر کوڈ 2026یہ تعین کرنے کے لیے کہ ملازمت کا تعلق موجود ہے یا نہیں، کنٹرول اور انضمام کے ٹیسٹس شامل کرتا ہے، خواہ معاہدے میں اس تعلق کو کوئی بھی نام دیا گیا ہو، اور یہ بین الاقوامی ادارۂ محنت کی سفارش 198 کے مطابق ہے۔ (دفعہ 132)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ لیبر قوانین عمومی طور پر اپنی اپنی ورکر/ورک مین تعریفات اور عدالتی نظائر کے ذریعے تعلق کی نوعیت متعین کرتے تھے؛ انہوں نے معاہداتی نام کو بالاتر کرنے والا کوئی عمومی کنٹرول اور انضمام ٹیسٹ قانون میں مدون نہیں کیا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کسی ملازم کو دانستہ طور پر ٹھیکیدار یا خود روزگار شخص (سیلف ایمپلائڈ) قرار دے کر غلط درجہ بندی کرنے کی صراحتاً ممانعت کرتا ہے اور غلط درجہ بندی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی نتائج مقرر کرتا ہے۔ (دفعہ 133)
سابقہ قوانین:کسی ملازم کو ٹھیکیدار یا خود روزگار شخص (سیلف ایمپلائڈ) کے طور پر دانستہ غلط درجہ بندی کرنے پر پورے نظام میں لاگو ہونے والی ایسی واضح عمومی قانونی ممانعت اور اس کا تدارکی نتیجہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازمت کی دو بنیادی اقسام مقرر کرتا ہے: مستقل ملازمت اور مقررہ مدت کی ملازمت (فکسڈ ٹرم)۔ (دفعہ 134)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968 کے اسٹینڈنگ آرڈر 1 میں ورک مین کو مستقل، آزمائشی، بدلی، عارضی، اپرنٹس اور کنٹریکٹ ورکر کے زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ ملازمتی حیثیت کو مستقل اور مقررہ مدت کی ملازمت میں سادہ کرتا ہے، جبکہ آزمائشی مدت اور دیگر انتظامات کے لیے الگ قواعد فراہم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پہلی مرتبہ جز وقتی یعنی پارٹ ٹائم کام کو تسلیم اور ریگولیٹ کرتا ہے۔ ’’جز وقتی ملازم‘‘ سے مراد ایسا ملازم ہے جس کے معمول کے اوقاتِ کار، (جو چاہے روزانہ یا ہفتہ وار بنیاد پر حساب کیے جائیں)، قابلِ تقابل کل وقتی ملازم کے معمول کے اوقاتِ کار سے کم ہوں۔ (دفعہ 136)سابقہ قوانین:منسوخ کیے گئے بنیادی ملازمت قوانین میں جز وقتی ملازمت کو ایک الگ ملازمتی حیثیت کے طور پر نہ تو اسکی تعریف دی گئی تھی نہ اسے ریگولیٹ کیا گیا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تسلیم کرتا ہے کہ جز وقتی ملازمین کو کل وقتی ملازمین کے مساوی تحفظات حاصل ہوں گے، جہاں مناسب ہو وہاں تناسبی بنیاد پر۔ (دفعہ 136)
سابقہ قوانین:ایسا کوئی عمومی قانونی قاعدہ موجود نہیں تھا جو جز وقتی ملازمین کو قابلِ تقابل کل وقتی ملازمین کے مساوی تحفظات تناسبی بنیاد پر یقینی بناتا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026مقررہ مدت کے معاہدۂ ملازمت (فکسڈ ٹرم) کی دو اقسام تسلیم کرتا ہے: عمومی اور خصوصی۔ عمومی مقررہ مدت کے معاہدوں کی زیادہ سے زیادہ مدت بدستور 9 ماہ ہے، جبکہ خصوصی منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مدت 5 سال ہے۔ کسی ملازم کو مقررہ مدت کی بنیاد پر انگیج کرنے کے لیے معروضی وجوہات کا جواز دینا لازم ہے۔ (دفعہ 138)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 1 میں عارضی کام سے مراد ایسا بنیادی طور پر عارضی نوعیت کا کام تھا جس کے نو ماہ کے اندر ختم ہونے کا امکان ہو۔ پنجاب لیبر کوڈ عمومی مقررہ مدت کو نو ماہ برقرار رکھتا ہے، لیکن معروضی وجوہات کی شرط اور خصوصی منصوبے کے لیے پانچ سال تک کی اجازت دیتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026مستقل نوعیت کے کاموں کے لیے مقررہ مدت کے کنٹریکٹ ورکرز کی انگیجمنٹ کی ممانعت کرتا ہے اور اس اصول کو مزید تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ (دفعہ 138(4))
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈرز کے نظام میں مستقل کام اور ایسے عارضی کام میں فرق کیا جاتا تھا جس کے نو ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہو۔پنجاب لیبر کوڈ کی دفعہ 138(4) مستقل نوعیت کے کام کے لیے مقررہ مدت کے انتظامات کے استعمال کی ممانعت کو صراحتاً بیان کرتی ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایسے ملازمین کے لیے خصوصی منصوبے کا مقررہ مدت کا معاہدۂ ملازمت کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کا معاوضہ قابلِ اطلاق کم از کم اجرت سے کم از کم پانچ گنا ہو۔ (دفعہ 138(8) اور (9))
سابقہ قوانین:زیادہ معاوضہ پانے والے ملازمین تک محدود پانچ سالہ خصوصی منصوبہ مقررہ مدت کی کوئی تقابلی قانونی کیٹیگری موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026عمومی مقررہ مدت کے معاہدوں کی تجدید کو مسلسل دو مدتوں تک محدود کرتا ہے؛ اس کے بعد مزید تجدید کی صورت میں ملازمت کا تعلق مستقل ملازمت میں تبدیل ہو جائے گا۔اور اسکی کل مدت نو ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی (دفعہ 139)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈرز کے نظام میں مسلسل دو تجدیدوں کے بعد مزید تجدید کو خودکار طور پر مستقل ملازمت میں تبدیل کرنے کا کوئی قاعدہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026قابلِ تقابل کام انجام دینے والے مقررہ مدت کے ملازمین کے ساتھ مستقل ملازمین کی نسبت کم سازگار سلوک کی صراحتاً ممانعت کرتا ہے۔ (دفعہ 140)
سابقہ قوانین:قابلِ تقابل کام کرنے والے مقررہ مدت اور مستقل ملازمین کے درمیان مساوی سلوک کا کوئی واضح عمومی قاعدہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تحریری معاہدۂ ملازمت کی شرط کو تمام ملازمین پر یکساں طور پر لاگو کرتا ہے: معاہدہ ملازمت کے آغاز سے پہلے دو نقول میں جاری کیا جائے گا اور ایک نقل ملازم کو دی جائے گی۔ (دفعہ 141)
سابقہ قوانینمیں بعض مخصوص حالات میں تحریری شرائط پہلے ہی لازم تھیں، جن میںانڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس 1968 کا اسٹینڈنگ آرڈر 2A، روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 3A، اور پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 کی دفعہ 5 شامل ہیں۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پہلی مرتبہ معاہدۂ ملازمت کے لازمی مندرجات مقرر کرتا ہے، جن میں فریقین، کام کی تفصیل، کام کی جگہ، معاوضہ، اوقاتِ کار، رخصت، مدت، نوٹس، تنازع کے تصفیے کا طریقۂ کار اور کوڈ کا حوالہ شامل ہیں۔ (دفعہ 142)
سابقہ قوانین:بعض شعبوں میں تحریری شرائط لازم تھیں، مگر اسٹینڈنگ آرڈر 2A عمومی طور پر صرف شرائط و ضوابط درج کرنے والا حکم جاری کرنے کا تقاضا کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ لازمی مندرجات کی کہیں زیادہ مفصل کم از کم فہرست مقرر کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہر آجر کو ہر ملازم کو مقررہ تفصیلات پر مشتمل ملازمتی کارڈ فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 143)
سابقہ قوانین:ایمپلائمنٹ (ریکارڈ آف سروسز) ایکٹ 1951 نوٹیفائی کردہ اقسام کے لیے سروس بکس اور اسٹینڈنگ آرڈرز ورکر ٹکٹس کا تقاضا کرتے تھے؛ کوڈ ان منتشر دستاویزی شرائط کی جگہ ایک عمومی ملازمتی کارڈ متعارف کراتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کمپنی پالیسیوں/ایچ آر ہینڈ بکس کو قانونی فریم ورک کے اندر لاتا ہے۔ اب آجر معاوضے، کام کی تنظیم، پیشہ ورانہ تحفظ و صحت اور ملازمین کے لیے اہم دیگر امور کو منضبط کرنے کے لیے داخلی ضوابطِ کار (انٹرنل ورک ریگولیشنز)اختیار اور شائع کر سکتا ہے۔ ان داخلی ضوابطِ کار (انٹرنل ورک ریگولیشنز)پر کام کی جگہ (ورک پلیس) پر اجتماعی سودے بازی کی نمائندہ یونین یا ورکس کونسل کے ساتھ اتفاق ہونا اور چیف انسپکٹر کی منظوری حاصل کرنا لازم ہے۔ (دفعہ 145)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968 قانونی اسٹینڈنگ آرڈرز نافذ کرتا تھا اور اپنے مخصوص طریقہ کار کے ذریعے ان میں ترمیم کی اجازت دیتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ ورکر نمائندگی اور چیف انسپکٹر کی منظوری سے مشروط داخلی ضوابطِ کار (انٹرنل ورک ریگولیشنز) کا زیادہ وسیع نظام قائم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026معاہدۂ ملازمت کے خاتمے کے طریقوں کو قانون میں مدون کرتا ہے اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ صلاحیت، طرزِ عمل یا عملی/کاروباری ضروریات سے متعلق کسی بھی بنیاد پر ملازمت کا خاتمہ کسی ایک درست وجہ پر مبنی ہو اور وجہ بیان کرنے والا تحریری حکم جاری کیا جائے۔ (دفعہ 146)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 12(3) پہلے ہی وجہ واضح طور پر بیان کرنے والا تحریری برطرفی/خاتمے کا حکم لازم کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ اس تحفظ کو عمومی بناتا ہے اور صلاحیت، طرزِ عمل یا عملی ضروریات کی بنیاد پر ’’درست وجہ‘‘ کی ایک مؤثر قانونی شرط بھی شامل کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازمت کے خاتمے کی ممنوع بنیادیں مقرر کرتا ہے، جن میں ٹریڈ یونین کی رکنیت، یونین سرگرمیوں میں شرکت، شکایت درج کرنا، قانونی رخصتیں (بشمول عدت، زچگی، پدریت اور بیماری کی رخصت)، پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے حقوق کا استعمال اور قانونی ہڑتالوں میں شرکت شامل ہیں؛ نیز ایسی رخصت یا حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے دوران تادیبی کارروائی کی ممانعت ہے۔ (دفعہ 147)
سابقہ قوانین:برطرفی سے تحفظ مختلف سیاق میں الگ الگ موجود تھا، جن میں پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 کے تحت ٹریڈ یونین سرگرمی اور پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس 1958 کے تحت زچگی شامل ہیں۔ پنجاب لیبر کوڈ ان تحفظ یافتہ بنیادوں کو یکجا اور وسیع کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’حکمی برطرفی‘‘ (Constructive termination) کا تصور متعارف کراتا ہے۔ اس کے تحت اگر آجر کا طرزِ عمل ایسا ہو کہ ملازم سے ملازمت جاری رکھنے کی توقع رکھنا غیر معقول ہو جائے، تو ملازم نوٹس دے کر یا نوٹس دیے بغیر ملازمت ختم کر سکتا ہے، اور اسے آجر کی جانب سے برطرفی تصور کیا جاتا ہے (دفعہ 148)۔
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ لیبرقوانین میں اس نوعیت کے تعمیری خاتمۂ ملازمت کو صراحتاً مدون نہیں کیا گیا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026فاضل قرار دینے/ریڈنڈنسی کی شرائط مقرر کرتا ہے: 10 فیصد ملازمین کی ملازمت ختم کرنے سے پہلے اجتماعی سودے بازی کی نمائندہ یونین یا ورکس کونسل سے مشاورت لازم ہے؛ 25 فیصد تک ملازمین کو ریڈنڈنسی کی بنیاد پر نکالنے کے لیے مجاز انسپکٹر کی منظوری لازم ہے؛ اور 25 فیصد سے زیادہ ملازمین کی ملازمت ختم کرنے کے لیے لیبر کورٹ کی منظوری حاصل کرنا ہو گی۔ (دفعہ 149)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 11A مخصوص حالات میں بڑے پیمانے پر ملازمت کے خاتمے (پچاس فیصد سے زائد)یا اسٹیبلشمنٹ کی بندش کے لیے لیبر کورٹ کی اجازت لازم کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ اس کی جگہ 10 فیصد، 25 فیصد اور 25 فیصد سے زیادہ کے لیے مرحلہ وار مشاورت/منظوری کی حدود مقرر کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایک ہی زمرے میں فاضل قرار دینے کے لیے ’’آخری آیا، پہلے گیا‘‘ (last in, first out)کے اصول اور دوبارہ ملازمت میں ایک سال تک ترجیح کو برقرار رکھتے ہوئے عمومی بناتا ہے۔
سابقہ قوانین:یہ اصول انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس 1968 کے اسٹینڈنگ آرڈرز 13 اور 14 میں پہلے ہی موجود تھے، لیکن کوڈ انہیں اپنے عمومی ریڈنڈنسی فریم ورک میں شامل کرتا ہے۔ (دفعہ 149(9) تا (10))
پنجاب لیبر کوڈ 2026عام اسٹیبلشمنٹس میں کسی بھی فریق کی جانب سے ملازمت ختم کرنے کے لیے 30 دن کا تحریری نوٹس، یا اس کے بدلے 30 دن کی اجرت، اور مائیکرو انٹرپرائزز میں 14 دن کا نوٹس مقرر کرتا ہے۔ (دفعہ 150)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 12(1) اور پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کی دفعہ 19 عمومی طور پر مستقل ورکرز کے لیے ایک ماہ کا نوٹس لازم کرتے تھے؛ اسٹینڈنگ آرڈر 12(2) عارضی، آزمائشی یا بدلی ورک مین کے لیے کوئی نوٹس لازم نہیں کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ 30 دن کا عمومی قاعدہ اور مائیکرو انٹرپرائزز کے لیے 14 دن کا قاعدہ قائم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازمت تلاش کرنے کی رخصت فراہم کرتا ہے اور نوٹس کی مدت کے دوران دوسری ملازمت تلاش کرنے کے لیے ملازم کو ہر ہفتے ایک دن کی بااجرت چھٹی دیتا ہے۔ (دفعہ 150)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ قوانین میں ملازمت تلاش کرنے کی رخصت کا کوئی عمومی طریقہ کار موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازم کو ایک محفوظ حق دیتا ہے کہ اگر معاوضہ 14 دن سے زیادہ عرصے تک ادا نہ کیا جائے، اور ملازم پیمنٹ آف ویجز اتھارٹی سے رجوع کر چکا ہو یا انسپکٹر کو مطلع کر چکا ہو، تو وہ کام روک سکتا ہے۔ اس حق کے استعمال پر ملازم کی ملازمت ختم نہیں کی جا سکتی اور نہ اس کے خلاف کوئی اقدام کیا جا سکتا ہے؛ ملازمت کا تسلسل اور قانونی استحقاقات بدستور جمع ہوتے رہیں گے۔ (دفعہ 153) پیمنٹ آف ویجز ایکٹ (اجرتوں کی ادائیگی کا قانون) 1936 مالی دعویٰ کرنے کا طریقہ فراہم کرتا تھا لیکن طویل عدم ادائیگی کی صورت میں کام روکنے کا محفوظ حق نہیں دیتا تھا۔ (پیمنٹ آف ویجز ایکٹ (اجرتوں کی ادائیگی کا قانون) 1936، دفعہ 15)
پنجاب لیبر کوڈ 2026تادیبی اقدامات کے اصول اور طریقہ کار مقرر کرتا ہے، جن میں انکوائری، صفائی/دفاع کا موقع، اپیل اور متناسب سزائیں شامل ہیں۔ غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر برطرفی سے پہلے تحریری تنبیہ اور بہتری کے لیے معقول مدت دینا لازم ہے۔ (دفعات 154تا157)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 15 میں انکوائری کا فریم ورک موجود تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ طریقۂ کار کی انصاف پسندی برقرار رکھتے ہوئے تناسب کا عمومی اصول اور غیر تسلی بخش کارکردگی کے لیے واضح تنبیہ/بہتری کا عمل شامل کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تادیبی کارروائیوں کو وقت کی حدود کا پابند کرتا ہے: انکوائری کے حکم کے تین دن کے اندر الزامات اور ثبوت ملازم تک پہنچانا لازم ہے؛ عام طور پر ملازم کو دفاع جمع کرانے کے لیے سات دن دیے جائیں گے؛ انکوائری کے نتائج اور وجوہ چالیس دن کے اندر جمع کرائی جائیں گی؛ اور آجر ایک ہفتے کے اندر وجوہ پر مشتمل حتمی حکم جاری کرے گا۔ (دفعہ 155)
سابقہ قوانین:سابقہ اسٹینڈنگ آرڈرز انکوائری اور دفاع کا موقع فراہم کرتے تھے، لیکن ان مجموعی قانونی مدتوں کا تعین نہیں کرتے تھے۔ (اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس 1968، اسٹینڈنگ آرڈر 15)
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازمت کے سرٹیفکیٹ کی شرط کو عمومی بنا دیتا ہے اور ہر ملازم کو، معاہدے کی نوعیت سے قطع نظر، ملازمت کے خاتمے کے دو دن کے اندر ملازمت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازم کرتا ہے۔
سابقہ قوانین:انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس 1968 کے اسٹینڈنگ آرڈر 19 کے تحت مخصوص صورتوں میں مستقل ورک مین کو سروس سرٹیفکیٹ دینا لازم تھا، لیکن کوڈ جیسا دو دن کا عمومی قاعدہ موجود نہیں تھا۔ (دفعہ 158)
پنجاب لیبر کوڈ 2026گریجویٹی کی شق کا اطلاق کم از کم 20 ورکرز رکھنے والے تمام اداروں پر کر دیتا ہے۔ (دفعہ 159)
سابقہ قوانین:گریجویٹی اسٹینڈنگ آرڈر 12 کے تحت تھی، لیکن اسٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس میں چھوٹے اداروں سے متعلق مخصوص شرط کی وجہ سے ابتدا میں 49 یا کم افراد رکھنے والی انڈسٹریل اسٹیبلشمنٹس پر گریجویٹی کی شق لاگو نہیں ہوتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اسے 20 ورکرز سے لاگو کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازم کی اجرت کی سطح کے مطابق گریجویٹی کی زیادہ سے زیادہ حدود مقرر کرتا ہے۔ (دفعہ 160)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 12 عمومی طور پر ہر مکمل سال کے لیے 30 دن کی اجرت کا یکساں فارمولا استعمال کرتا تھا اور کوڈ کی طرح اجرت کی سطح کے مطابق گریجویٹی کی زیادہ سے زیادہ حدود مقرر نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پروویڈنٹ فنڈ کے فریم ورک کو برقرار رکھتے ہوئے اسے یکجا کرتا ہے اور گریجویٹی اور دیگر آخری ملازمتی فوائد کے ساتھ اس کے تعلق کو واضح کرتا ہے۔ فنڈ میں آجر کی شراکت ملازم کو قابلِ ادائیگی گریجویٹی سے کم نہیں ہو سکتی۔ (دفعہ 161)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 12 گریجویٹی اور شراکتی پروویڈنٹ فنڈ کے باہمی تعلق کو پہلے ہی ریگولیٹ کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ اس تعلق کو ایک متحد ملازمتی فریم ورک میں آگے بڑھاتا اور آجر کی شراکت کی کم از کم حد مقرر کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026آجروں کو ملازمین سے یہ تقاضا کرنے سے روکتا ہے کہ وہ اپنے معاوضے سے متعلق معلومات دوسرے ملازمین کو ظاہر کریں یا ظاہر نہ کریں۔ (دفعہ 162)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ قوانین میں معاوضے پر گفتگو کرنے کی ملازمین کی آزادی کو محفوظ بنانے والی عمومی ’’پے سیکریسی‘‘ ممانعت موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایسے ملازمین کے معاہدۂ ملازمت میں عدم مسابقت کی شق شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے جو انتظامی یا انتظامی امور کی حیثیت میں کام کرتے ہوں اور قابلِ اطلاق کم از کم اجرت سے کم از کم پانچ گنا معاوضہ حاصل کرتے ہوں۔ (دفعہ 163)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ لیبر قوانین میں ایسی کوئی قانونی استثنائی شق موجود نہیں تھی جس کے تحت عدم مسابقت کی پابندی صرف انتظامی یا انتظامی امور کے ملازمین تک محدود ہو جو کم از کم اجرت سے پانچ گنا یا زیادہ کماتے ہوں۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026اس کے برعکس عمومی اصول بھی قائم کرتا ہے کہ ملازمت کے خاتمے کے بعد تجارت/پیشہ پر پابندیاں اور عدم مسابقت کی شقیں عام طور پر ملازمین کے لیے کالعدم ہوں گی۔ صرف انتظامی یا انتظامی امور کے وہ ملازمین جو قابلِ اطلاق کم از کم اجرت سے پانچ گنا سے زیادہ کماتے ہوں اس قانونی ممانعت سے باہر ہیں؛ رازداری، تجارتی راز اور کلائنٹس کو راغب نہ کرنے کی شقیں بدستور جائز رہتی ہیں۔ سابقہ لیبر قانون سازی میں اس نوعیت کا کوئی عمومی قانونی قاعدہ موجود نہیں تھا۔ (دفعہ 163)
Jمعاوضہ
پنجاب لیبر کوڈ 2026معاوضے کی ادائیگی نقد کے بجائے بینکاری ذرائع سے لازم کرتا ہے۔ معاوضہ منتقل کرنے کی لاگت آجر برداشت کرے گا۔ (دفعہ 165)
سابقہ قوانین:پیمنٹ آف ویجز ایکٹ (اجرتوں کی ادائیگی کا قانون) 1936 کی دفعہ 6 اجرت موجودہ سکوں یا کرنسی نوٹوں میں ادا کرنے کا تقاضا کرتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ بنیادی طریقہ تبدیل کرتے ہوئے بینکاری ذرائع سے ادائیگی لازم کرتا اور منتقلی کی لاگت آجر پر ڈالتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تمام ملازمین کے لیے بینک اکاؤنٹ کھلوانا لازم کرتا ہے۔ (دفعہ 165(6))
سابقہ قوانین:منسوخ اجرتی قوانین آجروں پر یہ عمومی ذمہ داری عائد نہیں کرتے تھے کہ ہر ملازم کے لیے اجرت کی ادائیگی کی غرض سے بینک اکاؤنٹ یقینی بنایا جائے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026آجروں کو ملازمین کو ایک مفصل پے سلپ فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے جس میں مجموعی اور خالص معاوضہ اور دستیاب رخصتوں کی تعداد شامل ہو۔ ہر اجرتی ادائیگی کے ساتھ ورکر کو مجموعی اجرت، کٹوتیوں اور خالص قابلِ ادائیگی رقم سے آگاہ کرنا لازم ہے۔ (دفعہ 165(15))
سابقہ قوانین:اجرتی قوانین مجاز کٹوتیوں اور ادائیگی کے وقت کو تو ریگولیٹ کرتے تھے، لیکن لیبر کوڈ جیسی معیاری مفصل پے سلپ، جس میں مجموعی ادائیگی، کٹوتیاں، خالص ادائیگی اور رخصت کا بیلنس دکھایا جائے، لازم نہیں تھی۔
Kاوقاتِ کار
پنجاب لیبر کوڈ 2026تمام شعبوں کے لیے اوقاتِ کار کا واحد فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس میں معمول کے اوقاتِ کار، لچکدار کام، رات کا کام، اضافی اوقاتِ کار، وقفۂ آرام، یومیہ اور ہفتہ وار آرام، عام تعطیلات، اوقاتِ کار کا اوسط، ہنگامی حالات، استثنا، اوقاتِ کار کا نوٹس، دکانوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات، شفٹ ورک اور اوورلیپنگ شفٹس شامل ہیں۔ (دفعات 175تا191)
سابقہ قوانین:اوقاتِ کار کے قواعد فیکٹریز ایکٹ 1934، شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969، روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس 1961 اور دیگر شعبہ جاتی قوانین میں تقسیم تھے۔ پنجاب لیبر کوڈ ان نظاموں کو ایک عمومی باب میں یکجا کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تمام شعبوں میں خواتین کو رات کے کام کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ خواتین اس پر رضامند ہوں اور آجر محفوظ ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرے۔ (دفعہ 176)
سابقہ قوانین:پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 اور فیکٹریز ایکٹ 1934 خواتین کے اوقاتِ کار پر پابندیاں عائد کرتے تھے اگرچہ 2022 میں فیکٹریز ایکٹ میں ریفارم کے نتیجے میں محفوظ ٹرانسپورٹ اور رات کے اوقات میں کام کی اجازت دی گئی تھی لیکن شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس میں اوقات کار پر پابندی موجود رہی۔ پنجاب لیبر کوڈ عمومی رات کے کام کی ممانعت کی جگہ محفوظ ٹرانسپورٹ اور دیگر حفاظتی تدابیر سے مشروط اجازت کا طریقہ اپناتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ایسے ملازمین کے لیے لچکدار انتظامِ کار کی اجازت دیتا ہے جن کی آجر کے ساتھ کم از کم ایک سال کی سروس ہو۔ (دفعہ 177)
سابقہ قوانین:منسوخ قوانین نے کسی اہل ملازم کو لچکدار انتظامِ کار کی درخواست دینے کا کوئی عمومی حق فراہم نہیں کیا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026حمل کے دوران اور زچگی کی رخصت مکمل ہونے کے بعد 8 ہفتوں تک خواتین کے رات کے اوقات میں کام کی ممانعت کرتا ہے۔ (دفعہ 178)
سابقہ قوانین:خواتین کے اوقاتِ کار پر پابندیاں موجود تھیں، مگر حمل اور زچگی کے بعد کی مدت کے لیے ان الفاظ میں پورے کوڈ پر لاگو کوئی مخصوص رات کے کام کی ممانعت موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہفتے میں اضافی اوقاتِ کار کی عمومی حد آٹھ گھنٹے مقرر کرتا ہے۔
سابقہ قوانین:اوقاتِ کار کے قواعد مخصوص تھے: مثال کے طور پر پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 روزانہ/ہفتہ وار اوقات کے فریم ورک میں اوور ٹائم کو ریگولیٹ کرتا اور سالانہ حد مقرر کرتا تھا، جبکہ فیکٹریز ایکٹ 1934 میں اضافی اوقاتِ کار کی ضابطہ بندی تھی مگر پورے نظام کے لیے آٹھ گھنٹے ہفتہ وار کی واحد حد نہیں تھی۔ (دفعہ 179)
پنجاب لیبر کوڈ 2026عام تعطیل کے دن کام پر تین گنا اجرت (3X) لازم کرتا ہے۔ فریقین باہمی اتفاق سے عام تعطیل پر کام کے بدلے اضافی شرحِ اجرت یا متبادل چھٹی اور تلافیاتی آرام کے دن میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ (دفعہ 179)
سابقہ قوانین:فیکٹریز ایکٹ 1934 اور شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کے تحت اوور ٹائم عمومی طور پر عام شرح سے دو گنا ادا کیا جاتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ عام تعطیل پر کام کے لیے تین گنا شرح اور تلافیاتی متبادل (یعنی رخصت) کی آپشن شامل کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026وقفۂ آرام اور یومیہ آرام کی مدتوں کو واضح طور پر بیان کرتا ہے اور مقرر کرتا ہے کہ وقفۂ آرام اوقاتِ کار کا حصہ نہیں ہو گا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کام کے ادوار کے درمیان کم از کم بارہ مسلسل گھنٹے یومیہ آرام کا عمومی حق قائم کرتا ہے اور نو عمر افراد کو دو دن کا بلا تعطل ہفتہ وار آرام فراہم کرتا ہے۔ (دفعات 181تا182)
سابقہ قوانین:ہفتہ وار تعطیلات اور مخصوص وقفۂ آرام موجود تھے، لیکن 12 گھنٹے یومیہ آرام کا یہ عمومی قاعدہ نہیں تھا؛ 2016 کے چائلڈ لیبر قانون کے تحت نو عمر افراد کو ہفتے میں ایک چھٹی ملتی تھی۔ (فیکٹریز ایکٹ 1934، دفعات 35 تا 38؛ پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016، دفعہ 6)
پنجاب لیبر کوڈ 2026اجتماعی معاہدے کے ذریعے معمول اور اضافی اوقاتِ کار کو زیادہ سے زیادہ تیرہ ہفتوں کی مدت میں اوسط کرنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ روزانہ اضافی اوقاتِ کار کی حد دو گھنٹے، کام کے دن کی زیادہ سے زیادہ مدت دس گھنٹے اور ہفتہ وار اوسط حد 56 گھنٹے ہو۔ (دفعہ 184)
سابقہ قوانین:سابقہ فیکٹریز ایکٹ بنیادی طور پر اجتماعی معاہدے کے ذریعے اوسط مقرر کرنے کے بجائے قانونی یا حکومتی استثنا کے طریقوں پر انحصار کرتا تھا۔ (فیکٹریز ایکٹ 1934، دفعات 43 تا 44)
Lوالدین کی رخصت کے علاوہ دیگر رخصتیں
پنجاب لیبر کوڈ 2026سالانہ رخصت 14 تقویمی دن سے بڑھا کر 18 تقویمی دن کرتا ہے۔ (دفعہ 192)
سابقہ قوانین:پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کی دفعہ 14 سالانہ رخصت 14 دن مقرر کرتی تھی، جبکہ فیکٹریوں کے لیے 14 دن بااجرت تعطیلات کا الگ نظام تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ استحقاق کو بڑھا کر 18 تقویمی دن پر یکساں کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تقاضا کرتا ہے کہ سالانہ رخصت کا کیلنڈر ملازمت شروع ہونے کی تاریخ سے قطع نظر تقویمی سال کے مطابق ہو۔ (دفعہ 192)
سابقہ قوانین:سالانہ رخصت کی اہلیت عمومی طور پر سروس کی ایک مخصوص مدت مکمل ہونے سے وابستہ تھی، نہ کہ تقویمی سال کے ایک یکساں انتظامی قاعدے سے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026سالانہ رخصت کو 30 دن تک جمع کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس حد سے زائد رخصت کی ادائیگی لازم کرتا ہے، اور سالانہ رخصت کے حق سے دستبرداری کے کسی معاہدے کی ممانعت کرتا ہے۔ (دفعہ 192(5) اور (14))
سابقہ قوانین:پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کی دفعہ 14 پہلے ہی 30 دن تک رخصت جمع کرنے اور ملازم کی درخواست پر نقد ادائیگی کی اجازت دیتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ 30 دن کی حد برقرار رکھتا، اس سے زائد کی ادائیگی لازم کرتا اور حق سے دستبرداری کو صراحتاً ممنوع قرار دیتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026شاپس اینڈاسٹیبلشمنٹس کے پہلے سے موجود ماڈل کو عمومی بناتے ہوئے تقویمی سال میں آٹھ دن کی بااجرت بیماری کی رخصت دیتا ہے، جسے 16 دن تک جمع کیا جا سکتا ہے، اور طبی سرٹیفکیٹ کے لیے ایک یکساں قاعدہ شامل کرتا ہے۔ پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کی دفعہ 15 پہلے ہی آٹھ دن کی بیماری کی رخصت اور 16 دن تک چھٹیاں جمع کرنے کی اجازت دیتی تھی۔ (دفعہ 193)
پنجاب لیبر کوڈ 2026کسی مقامی وبا یا عالمی وبا کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 14 دن کی بااجرت قرنطینہ رخصت فراہم کرتا ہے۔ (دفعہ 194)
سابقہ قوانین:منسوخ عمومی رخصتی قوانین میں مقامی وبا یا عالمی وبا کے لیے الگ بااجرت قرنطینہ رخصت کا استحقاق موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026خاتون ورکر کے شوہر کی وفات کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 130 دن کی بااجرت عدت کی رخصت لازم کرتا ہے۔ (دفعہ 196)سابقہ قوانین:منسوخ شدہ لیبر قوانین میں زیادہ سے زیادہ 130 دن کی عمومی قانونی بااجرت عدت رخصت موجود نہیں تھی۔اگرچہ سوشل سیکیورٹی آرڈیننس میں یہ حق موجود ہے۔
Mوالدین کی رخصت
پنجاب لیبر کوڈ 2026زچگی کی رخصت 12 ہفتوں سے بڑھا کر 14 ہفتے کرتا ہے؛ اسقاطِ حمل یا طبی طور پر حمل ختم کیے جانے کی صورت میں 4 ہفتوں کی زچگی رخصت بھی فراہم کرتا ہے؛ اور طبی پیچیدگیوں کی صورت میں ایک ہفتہ اضافی زچگی رخصت دیتا ہے۔ (دفعہ 197)
سابقہ قوانین:پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس 1958 ولادت کے موقع پر 12 ہفتوں کا زچگی فائدہ فراہم کرتا تھا؛ پنجاب گھریلو(ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 میں نسبتاً مختصر استحقاق موجود تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ عمومی مدت 14 ہفتے کرتا اور اسقاطِ حمل، طبی طور پر حمل کے خاتمے اور پیچیدگیوں کو صراحتاً شامل کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026بچے کی عمر 12 ماہ ہونے تک روزانہ دو بااجرت، 30-30 منٹ کے دودھ پلانے کے وقفے خواتین کیلیے لازم کرتا ہے۔ (دفعہ 197)
سابقہ قوانین:پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس 1958 بچے کے پہلے سال تک دو بااجرت 30 منٹ کے دودھ پلانے کے وقفے فراہم نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026چھوٹے آجروں کو 500 میٹر کے دائرے میں مشترکہ طور پر ڈے کیئر سہولیات کا انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ (دفعہ 197)
سابقہ قوانین:پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کی دفعہ 10-A جہاں 25 یا زیادہ خواتین ملازم ہوں وہاں ڈے کیئر روم لازم کرتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اس ڈیزائن کو تبدیل کرتا ہے اور چھوٹے آجروں کو 500 میٹر کے اندر مشترکہ طور پر ڈے کیئر کی ذمہ داری پوری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اور ڈے کیئر کو خواتین ورکرز کی تعداد کے ساتھ نتھی بھی نہیں کرتا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026زچگی سے متعلق ملازمت کے تحفظ کو مضبوط کرتا ہے: حمل، زچگی کی رخصت اور کام پر واپسی کے بعد چار ماہ تک ملازمت کے خاتمے کی ممانعت ہے، سوائے ایسی وجوہ کے جن کا حمل، ولادت یا دودھ پلانے سے تعلق نہ ہو؛ اور اسی ملازمت یا اسی طرح کی شرائط پر مناسب متبادل ملازمت میں واپسی کی ضمانت دی گئی ہے۔ (دفعہ 197(7) تا (8))
سابقہ قوانین:پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس 1958 زچگی کی غیر حاضری کے دوران برطرفی سے تحفظ دیتا تھا، لیکن واپسی کے بعد چار ماہ کا یہ تحفظ اور صریح حقِ واپسی فراہم نہیں کرتا تھا۔ (پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس 1958، دفعہ 7)
پنجاب لیبر کوڈ 2026حمل اور دودھ پلانے کے دوران تحفظ اور مناسب سہولت کا تقاضا کرتا ہے: خطرناک کام ممنوع ہے؛ جہاں قابلِ عمل ہو وہاں کم سازگار نہ ہونے والی شرائط پر مناسب متبادل ملازمت فراہم کرنا لازم ہے؛ متوقع ولادت سے پہلے کے دو ماہ میں اضافی اوقاتِ کار ممنوع ہیں؛ اور آجر حمل، ازدواجی حیثیت یا خاندانی ذمہ داریوں کے انکشاف کو ملازمت کی شرط نہیں بنا سکتا، سوائے اس صورت کے جب یہ حمل سے متعلق خطرات کے حوالے سے متعلقہ ہو۔ یہ تحفظات سابقہ میٹرنٹی بینیفٹ سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ (دفعہ 197(9) تا (12) اور (15)؛ پنجاب میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس 1958، دفعات 3 تا 7)
پنجاب لیبر کوڈ 2026بچے کی پیدائش پر تمام شعبوں کے تمام مرد ملازمین کو 7 تقویمی دن کی پدری رخصت فراہم کرتا ہے۔ (دفعہ 198)
سابقہ قوانین:منسوخ پنجاب لیبر قوانین میں تمام شعبوں پر لاگو کوئی عمومی قانونی پدری رخصت کا حق موجود نہیں تھا۔
Nشاپ اسٹیورڈز اور ورکس کونسلز
پنجاب لیبر کوڈ 2026شاپ اسٹیورڈز کے لیے حد 50 ورکرز سے کم کر کے 30 ورکرز کرتا ہے اور ان کی مدتِ عہدہ ایک سال سے بڑھا کر دو سال کرتا ہے۔ (دفعہ 199؛ پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 ، دفعہ 28)
پنجاب لیبر کوڈ 202650 ورکرز کی حد والے ورکرز مینجمنٹ کونسل کے نظام کی جگہ ہر ایسی اسٹیبلشمنٹ میں ورکس کونسل لازم کرتا ہے جہاں 20 یا اس سے زیادہ ورکرز ہوں؛ مردوں اور خواتین کی متناسب نمائندگی بھی لازم ہے اور کم از کم ایک ورکر نمائندہ تحفظ و صحت کا نمائندہ ہونا چاہیے۔ (دفعہ 200؛ پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 ، دفعہ 29)
Oروزگار ایجنسیاں (ایمپلائمنٹ ایجنسیز)
پنجاب لیبر کوڈ 2026روزگار ایجنسیوں (ایمپلائمنٹ ایجنسیز) کو کسی آجر یا پرنسپل کے لیے ملازمین حاصل کرنے، بھرتی کرنے یا فراہم کرنے کے لیے ایس ای سی پی(SECP) اور محکمہ محنت دونوں کے ساتھ رجسٹر ہونے کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 202)
سابقہ قوانین:فیس چارجنگ ایمپلائمنٹ ایجنسیز (ریگولیشن) ایکٹ 1976 مجاز اتھارٹی کے تحت لائسنسنگ کا نظام استعمال کرتا تھا۔ اس میں کوڈ جیسا ایس ای سی پی اور محکمہ محنت کے ساتھ دوہری رجسٹریشن کا ماڈل موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ملازمت کے متلاشی سے وصول کی جانے والی رجسٹریشن فیس کو قابلِ اطلاق کم از کم اجرت کے 2 فیصد اور پلیسمنٹ یا میچنگ سروسز کی فیس کو پہلے ماہ کے معاوضے کے 10 فیصد تک محدود کرتا ہے، اور پلیسمنٹ کے بعد ایجنسیوں کو ملازمت کے تعلق میں مداخلت سے روکتا ہے۔ (دفعہ 204)
سابقہ قوانین:1976 کے روزگار ایجنسی ایکٹ )فیس چارجنگ ایمپلائمنٹ ایجنسیز (ریگولیشن) ایکٹ 1976(کی دفعہ 11 قواعد کے ذریعے فیس اور اخراجات ریگولیٹ کرنے کی اجازت دیتی تھی، مگر رجسٹریشن اور پلیسمنٹ خدمات کے لیے کوڈ جیسی واضح فیصدی حدود مقرر نہیں کرتی تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026بنیادی کاروباری سرگرمیوں (کور آپریشنز) کے لیے ٹھیکیداروں/روزگار ایجنسیوں (ایمپلائمنٹ ایجنسیز) کے ذریعے افراد کو انگیج کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ (دفعہ 205)
سابقہ قوانین:1976 کا روزگار ایجنسی (ایمپلائمنٹ ایجنسی) ایکٹ فیس وصول کرنے والی ایجنسیوں کو ریگولیٹ تو کرتا تھا لیکن پرنسپل کی بنیادی کاروباری سرگرمیوں میں ایجنسی/کنٹریکٹ لیبر کی ممانعت نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تقاضا کرتا ہے کہ ورکرز فراہم کرنے کے لیے روزگار ایجنسی (ایمپلائمنٹ ایجنسی) اور پرنسپل کے درمیان معاہدہ تحریری ہو اور اس میں کام کی نوعیت، ورکرز کی تعداد، مدت، معاوضہ اور مقررہ امور درج ہوں، جبکہ اس کی ایک نقل دو ہفتوں کے اندرلیبر انسپکٹر کے پاس جمع کرائی جائے۔ (دفعہ 206)
سابقہ قوانین:1976 کے ایکٹ میں اس قدر مفصل تحریری پرنسپل-ایجنسی سپلائی معاہدہ یا انسپکٹر کے پاس دو ہفتوں میں جمع کرانے کی شرط موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پرنسپل کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایجنسی کے ذریعے فراہم کردہ ورکرز کو ایجنسی کے ملازمین تصور کرتا ہے، اور یہ بھی مقرر کرتا ہے کہ غلط درجہ بندی، بنیادی کاروباری سرگرمیوں کے قاعدے کی خلاف ورزی، یا پرنسپل کے لیے تین ماہ سے زیادہ کام کرنے کی صورت میں ورکرز کو پرنسپل کے ملازمین تصور کیا جا سکتا ہے۔ (دفعات 207تا209)
سابقہ قوانین:ایسا کوئی تقابلی قانونی مفروضاتی فریم ورک موجود نہیں تھا جو معاہدہ نہ ہونے، غلط درجہ بندی، بنیادی کاروباری سرگرمیوں یا پرنسپل کے ہاں کام کی مدت کی بنیاد پر ایجنسی اور پرنسپل کے درمیان ملازمتی حیثیت تقسیم کرتا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026روزگار ایجنسی (ایمپلائمنٹ ایجنسی) کے ملازمین اور پرنسپل کے براہِ راست ملازم ایسے افراد کے درمیان مساوی سلوک لازم کرتا ہے جو قابلِ تقابل کام انجام دیتے ہوں۔ (دفعہ 210)
سابقہ قوانین:1976 کے ایکٹ یا سٹینڈنگ آرڈزر آردیننس میں ایجنسی ملازمین اور پرنسپل کے براہِ راست بھرتی کیے گئے قابلِ تقابل ملازمین کے درمیان مساوی سلوک کا کوئی عمومی قاعدہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ٹھیکیدار کے ذریعے فراہم کردہ ورکرز کے غیر ادا شدہ معاوضے اور دیگر فوائد کے لیے پرنسپل کو مشترکہ طور پر جواب دہ بناتا ہے، جبکہ پرنسپل کو ٹھیکیدار سے تلافی حاصل کرنے اور ٹھیکیدار کو قابلِ ادائیگی رقوم روک کر براہِ راست ورکرز کو ادا کرنے کا حق بھی دیتا ہے۔ (دفعہ 213)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 20 آجر کو اسٹینڈنگ آرڈرز کی تعمیل کا ذمہ دار بناتا تھا، خواہ ورک مین ٹھیکیداروں کے ذریعے ملازم ہوں، لیکن غیر ادا شدہ معاوضے اور فوائد کے لیے پورےلیبر کوڈ پر لاگو مشترکہ ذمہ داری، تلافی اور رقم روکنے کا عمومی طریقہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پرنسپلز اور ٹھیکیداروں پر بیک وقت پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے اور انہیں باب 2.5 کے تحت اپنی تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں باہمی تعاون کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 214)
سابقہ قوانین:پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 آجروں اور دیگر فریقوں پر وسیع ذمہ داریاں عائد کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ مشترکہ پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کے باب کے تحت پرنسپل اور ٹھیکیدار کی ذمہ داری اور باہمی تعاون کو صراحتاً ہم آہنگ کرتا ہے۔
حصہ چہارمورکرز کی مخصوص اقسام
حصہ چہارم سات اقسام کے ورکرز کے تحفظ کو یکجا، وسیع اور ہم آہنگ کرتا ہے: ذرعی ورکرز، تعمیراتی ورکرز، گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز، گھر پر کام کرنے والے (ہوم بیسڈ) ورکرز، انٹرنز اور اپرنٹسز، پلیٹ فارم ورکرز، اور روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز۔
گھریلو، گھر پر کام کرنے والے اور روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز کے لیے پنجاب میں پہلے ہی مخصوص قانون سازی موجود تھی، جبکہ زراعت، تعمیرات، انٹرن شپ اور پلیٹ فارم کے ذریعے کام صرف جزوی طور پر یا دیگر قوانین کے ذریعے کریگولیٹ ہوتے تھے۔ حصہ دوم ان تمام اقسام پر لاگو ہوتا ہے، اور جہاں انہیں معاہدۂ ملازمت کے تحت انگیج کیا گیا ہو وہاں حصہ سوم بھی لاگو ہوتا ہے؛ انٹرنز کے سوا، کسی شخص کی انگیجمنٹ کو معاہدۂ ملازمت کے تحت تصور کیا جائے گا جب تک انگیج کرنے والا شخص اس کے برعکس ثابت نہ کرے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026 دفعہ 295 کے تحت ذرعی، گھریلو اور گھر پر کام کرنے والے ورکرز کے لیے مخصوص تنازعات کے تصفیے کی کمیٹیاں فراہم کرتا ہے، جبکہ تعمیراتی، انٹرن، پلیٹ فارم اور روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز کے تنازعات عمومی تنازعات کے تصفیے کے نظام کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں: پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 میں پہلے ہی ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیاں اور پنجاب ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2023 میں سیٹلمنٹ کمیٹیاں موجود تھیں؛ کوڈ ان ماڈلز کو یکجا کرتا اور ذرعی ورکرز کے لیے ایک مخصوص راستہ شامل کرتا ہے۔ (دفعہ 251بمعہدفعہ 295)
Pذرعی ورکرز
پنجاب لیبر کوڈ 2026ذرعی ورکرز کا احاطہ کرتا ہے اور انہیں تمام بنیادی حقوق تک رسائی دیتا ہے، جن میں انجمن سازی کی آزادی، محفوظ و صحت مند کام کی جگہ (ورک پلیس) کا حق، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت سے آزادی، اور مساوی سلوک شامل ہیں۔ (دفعہ 217)
سابقہ قوانین:ذرعی سرگرمی بعض قوانین، بشمول 2016 کے چائلڈ لیبر قانون، میں موجود تھی، لیکن پنجاب میں ذرعی ورکرز کے لیے حصہ چہارم بمعہ حصہ دوم جیسا جامع عمومی حقوقِ محںت کا نظام موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ذرعی ورکرز کو کسی بھی ذرعی کام کے لیے، خواہ وہ کام انفرادی طور پر یا خاندانی اکائی کے طور پر کیا جائے، اوقاتِ کار اور نوٹیفائی کردہ کم از کم اجرت کی شرحوں کے حوالے سے نقد یا جنس میں معاوضے کا حق دیتا ہے۔ (دفعہ 217(1))
سابقہ قوانین:پنجاب کم از کم اجرت ایکٹ 2019 صنعتی اور تجارتی اسٹیبلشمنٹس پر لاگو ہوتا تھا، اور پیمنٹ آف ویجز ایکٹ بھی ذرعی کام کے لیے نقد یا جنس میں کم از کم معاوضے کا عمومی قاعدہ مقرر نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ذرعی ورکرز پر اپنا حصہ دوم (بنیادی حقوق) لاگو کرتا ہے، خواہ ان ذرعی ورکرز کو براہِ راست، لیبر ٹھیکیداروں یا خاندان کے کسی مرد کے ذریعے بالواسطہ، بااجرت یا بلااجرت خاندانی معاونت کے طور پر، یا کسی دیگر انتظام کے تحت انگیج کیا گیا ہو۔ (دفعہ 217(2))
سابقہ قوانین:منسوخ کیے گئے کسی قانون نے ذرعی ورکرز پر بنیادی لیبر حقوق کا مکمل مجموعہ اس صراحت کے ساتھ لاگو نہیں کیا تھا کہ براہِ راست، ٹھیکیدار، خاندانی یا بلااجرت معاونت کی صورت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
Qتعمیراتی ورکرز
پنجاب لیبر کوڈ 2026تعمیراتی کام کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرتا ہے۔ (دفعہ 219)
سابقہ قوانین:پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 نو عمر افراد کے خطرناک کام کی ممانعت کرتا تھا اور اس کے شیڈول میں عمارت سازی اور تعمیراتی صنعت پہلے ہی شامل تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ تعمیرات کے شعبے کے لیے 18 سال کی کم از کم عمر کو ایک واضح قاعدہ بناتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تعمیراتی ورکرز کے ساتھ تحریری معاہدے لازم کرتا ہے، حتیٰ کہ جب تعمیر رہائشی مقصد کے لیے ہو اور اس کی لاگت 10 ملین روپے سے زائد ہو۔ (دفعہ 220)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 2A کے تحت بعض صنعتی/تجارتی کام کے لیے تحریری شرائط لازم تھیں، لیکن رہائشی تعمیر اور مذکورہ منصوبہ جاتی مالیت کی حد کے حوالے سے تعمیراتی ورکرز کے معاہدے کا کوئی عمومی قاعدہ نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026’’تعمیراتی کام‘‘ کی ایک وسیع تعریف کو یکجا کرتا ہے، جس میں عمارتیں، سڑکیں، ریلوے، ہوائی اڈے، آبپاشی، ڈیم، بجلی کی پیداوار اور ترسیل، ٹیلی کام ٹاورز، گیس و تیل کی تنصیبات اور اسی نوعیت کے منصوبے شامل ہیں۔ سابقہ قانون سازی، بشمول پنجاب کم از کم اجرت ایکٹ 2019، پہلے ہی تعمیراتی صنعت کی وسیع تعریف استعمال کرتی تھی؛ کوڈ اس تصور کو تعمیراتی ورکرز کے مخصوص باب میں شامل کرتا ہے۔ (دفعہ 218)
Rگھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز
پنجاب لیبر کوڈ 2026رہائشی یا مقیم (لِو اِن )گھریلو(ڈومیسٹک) ورک کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرتا ہے۔ (دفعہ 222)
سابقہ قوانین:پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 کی دفعہ 3 نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے کام کی ممانعت کی اور 18 سال سے کم افراد کو صرف ہلکے گھریلو کام کی اجازت دی، مگر خصوصی طور پررہائشی یا مقیم (لِو اِن )گھریلو(ڈومیسٹک) ورک کے لیے الگ 18 سال کی قطعی حد مقرر نہیں کی تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ماہانہ معاوضے کا ایک حصہ خوراک، رہائش اور یوٹیلیٹی بلوں کی لاگت کی صورت میں جنس میں ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے؛ نقد ادائیگی اس سے الگ ہو گی۔ (دفعہ 223)
سابقہ قوانین:پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 اجرت کو منضبط کرتا اور لِو اِن (گھر میں رہائش رکھنے والے) ورکرز کی رہائش کو الگ سے بیان کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ واضح کرتا ہے کہ خوراک، رہائش اور یوٹیلیٹی کی مخصوص لاگتیں کس طرح غیر نقد جزو بن سکتی ہیں، جبکہ نقد ادائیگی الگ رکھی جاتی ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز کو روزانہ 12 گھنٹے آرام کا حق دیتا ہے، لِو اِن گھریلو (ڈومیسٹک) ورکر کے لیے الگ بستر لازم کرتا ہے، اور گھرانے کے افراد کے ساتھ تعطیلات میں جانے کےوقت، یا آجر کے اختیار میں موجود رہتے ہوئےان کے احکامات کا جواب دینے کے وقت، کو اوقاتِ کار شمار کرتا ہے۔ پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 روزانہ اور ہفتہ وار اوقات محدود کرتا اور مناسب رہائش لازم کرتا تھا، مگر ان امور کو صراحتاً منضبط نہیں کرتا تھا۔ (دفعہ 223(3) اور (7)؛پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019، دفعات 5 اور 10)
Sگھر پر کام کرنے والے (ہوم بیسڈ) ورکرز
پنجاب لیبر کوڈ 2026پنجاب ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2023 کے اندر دیے گئے حقوق کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں وسیع کرتا ہے، گھر پر کام کرنے والے (ہوم بیسڈ) ورکرز کو پورے کوڈ کے لیبر حقوق کے فریم ورک میں شامل کرتا ہے، اور ورکر کے گھر یا اس کی پسند کے کسی احاطے سے اشیا کی پیداوار یا خدمات کی فراہمی، بشمول آن لائن کام، کو صراحتاً شامل کرتا ہے، جبکہ دھماکا خیز مواد اور زہریلے یا مضر مادوں سے متعلق استثنا برقرار رکھتا ہے۔ (دفعہ 226)
پنجاب لیبر کوڈ 2026بچوں کو گھر پر کام کرنے والے ورکرز کے طور پر انگیج کرنے کی ممانعت کرتا ہے اور شیڈول 2 میں بیان کردہ خطرناک گھر پر کیے جانے والے کام میں 18 سال سے کم عمر کسی شخص کو انگیج کرنے سے روکتا ہے۔ (دفعہ 227)
سابقہ قوانین:پنجاب ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2023 کی دفعہ 3 پہلے ہی 15 سال سے کم عمر بچوں کے گھر پر کام کی ممانعت اور 18 سال سے کم افراد کے خطرناک کام پر پابندی عائد کرتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اس قاعدے کو بچوں کے لیے اپنی بلند تر عمر کی حد اور شیڈول 2 کے خطرناک کام کے فریم ورک سے ہم آہنگ کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پنجاب ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2023 میں پہلے سے موجود تحفظات کو مضبوط کرتا ہے۔ 2023 کا ایکٹ پہلے ہی تحریری معاہدے لازم کرتا اور معاہدے سے متصادم جبری کام کی ممانعت کرتا تھا؛ لیبر کوڈ قابلِ اطلاق کم از کم اجرت، انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودے بازی، اور پورے کوڈ کے نفاذی تحفظات کو شامل یا صراحتاً واضح کرتا ہے۔ (دفعہ 228)
پنجاب لیبر کوڈ 2026پرنسپل پر پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے کہ وہ باوقار کام کے حالات فراہم کرے اور باب 2.5 کے اقدامات گھر پر کام کرنے والے ورکر پر کسی لاگت کے بغیر نافذ کرے۔ (دفعہ 228(4))
سابقہ قوانین:پنجاب ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2023 حقوق اور سماجی تحفظ فراہم کرتا تھا، لیکن پرنسپلز پر گھر پر کام کرنے والے ورکر کے لیے بلا لاگت کوڈ کے پورے باب 2.5 کی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں لاگو نہیں کرتا تھا۔
Tانٹرنز
پنجاب لیبر کوڈ 2026پہلی مرتبہ انٹرنز کو اپنے دائرۂ اطلاق میں شامل کرتا ہے، ان کے ساتھ تحریری معاہدہ لازم کرتا ہے اور یہ لازم قرار دیتا ہے کہ انٹرنز کو دیا جانے والا وظیفہ کم از کم اجرت کے 50 فیصد سے کم نہ ہو۔ (دفعہ 230)
سابقہ قوانین:منسوخ قوانین میں انٹرن شپ کے لیے کوئی عمومی قانونی نظام موجود نہیں تھا جس میں لازمی تحریری معاہدہ اور کم از کم اجرت کے 50 فیصد کے برابر کم از کم وظیفہ مقرر ہو۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026انٹرن شپ کی مدت، بشمول تجدید، زیادہ سے زیادہ چھ ماہ مقرر کرتا ہے (یا وہ مدت جو تعلیمی ادارہ لازم کرے) اور انٹرنز کی تعداد کسی بھی انٹرپرائز کی کل افرادی قوت کے 5 فیصد تک محدود کرتا ہے۔ (دفعہ 230(1) اور (4))
سابقہ قوانین:چھ ماہ کی عمومی قانونی انٹرن شپ حد ا ور زیادہ سے زیادہ 5 فیصد افرادی قوت کی حد کاکوئی قاعدہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کسی غیر حاضر ورکر کی جگہ یا مستقل/باقاعدہ آسامی پُر کرنے کے لیے انٹرن کو انگیج کرنے کی ممانعت کرتا ہے؛ اگر ایسا کیا جائے تو انٹرن کو ملازم تصور کیا جائے گا۔ (دفعہ 230(3))
سابقہ قوانین:ایسا کوئی عمومی قانونی قاعدہ موجود نہیں تھا جو غیر حاضر ورکر کی جگہ لینے یا باقاعدہ آسامی پُر کرنے پر انٹرن شپ کو ملازمت میں تبدیل کر دے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026انٹرنز کو تناسبی بنیاد پر سالانہ، بیماری اور اتفاقی رخصت کا حق دیتا ہے اور آجر کو سیکھنے کا منصوبہ تیار کرنے، ایک مینٹور مقرر کرنے، باقاعدہ فیڈ بیک دینے اور انٹرن شپ کے اختتام پر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 230(6) تا (7))
سابقہ قوانین:منسوخ لیبر قوانین میں انٹرنز کے لیے تناسبی رخصت، لرننگ پلان، مینٹور، فیڈ بیک اور اختتامی سرٹیفکیٹ کا ایسا مربوط نظام موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026تحریری انٹرن شپ معاہدہ لازم کرتا ہے اور مقررہ مدت مکمل ہونے پر، یا کسی بھی فریق کی جانب سے ایک ہفتے کے نوٹس یا اس کے بدلے ادائیگی کے ذریعے، انٹرن شپ کے خاتمے کا انتظام فراہم کرتا ہے۔ (دفعات 231تا232)
سابقہ قوانین:عمومی قانونی انٹرن شپ معاہدے اور ایک ہفتے کے خاتمۂ نوٹس کا نظام موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026، پنجاب اپرنٹس شپ ایکٹ 2021 کے باوجود، اپرنٹسز کو کوڈ کے تحت ملازم کے تمام حقوق فراہم کرتا ہے۔ (دفعہ 233)
سابقہ قوانین:اپرنٹس شپ بنیادی طور پر پنجاب اپرنٹس شپ ایکٹ 2021 کے ذریعے منضبط تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اس ایکٹ کے باوجود ملازم کے حقوق کا فریم ورک صراحتاً اس پر لاگو کرتا ہے۔
Uپلیٹ فارم ورکرز
پنجاب لیبر کوڈ 2026پلیٹ فارم کام میں انگیج پلیٹ فارم ورکرز کا احاطہ کرتا ہے، بشمول رائیڈ ہیلنگ، ڈیلیوری، گھریلو، پیشہ ورانہ اور نگہداشت کی خدمات۔ (دفعہ 234)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ قوانین میں پلیٹ فارم ورک سے متعلق کوئی لیبر قانون موجود نہیں تھا۔ اس لیے پلیٹ فارم ورکرز کسی مخصوص باب کے بجائے عمومی قانونی درجہ بندی اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین پر انحصار کرتے تھے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کے تحت ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز کے لیے معاہدے انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں فراہم کرنا لازم ہے۔ (دفعہ 235)
سابقہ قوانین:ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز پر ورکرز کے معاہدے انگریزی اور اردو دونوں میں جاری کرنے کی کوئی قانونی شرط موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پلیٹ فارم ورکرز کو تمام بنیادی حقوق تک رسائی دیتا ہے، جن میں انجمن سازی کی آزادی، محفوظ و صحت مند کام کی جگہ (ورک پلیس) کا حق، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت سے آزادی، اور مساوی سلوک شامل ہیں۔ (دفعات 237تا238)
سابقہ قوانین:کوئی مخصوص پلیٹ فارم قانون ایسا نہیں تھا جو معاہداتی درجہ بندی سے قطع نظر پلیٹ فارم ورکرز کو حصہ دوم کے تمام بنیادی حقوق صراحتاً ضمانت دیتا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کے تحت معاہدہ ہر وقت موبائل ایپلی کیشن میں پلیٹ فارم ورکر کے لیے قابلِ رسائی ہونا چاہیے۔ رجسٹریشن مراکز پر پلیٹ فارم کو معاہدے کے مندرجات مقامی زبان میں زبانی طور پر سمجھانا بھی لازم ہے۔ (دفعہ 235)
سابقہ قوانین:ایسا کوئی پلیٹ فارم ورک سے مخصوص قاعدہ موجود نہیں تھا جو معاہدے تک مستقل اِن-ایپ رسائی اور رجسٹریشن کے وقت ورکر کی مقامی زبان میں زبانی وضاحت لازم کرتا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پلیٹ فارم معاہدے میں ادائیگی، حساب کا طریقہ اور دورانیہ، آرام کی ضروریات، پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی دفعات، خاتمۂ معاہدہ، ڈی ایکٹیویشن یا جرمانوں کی شرائط درج کرنا لازم کرتا ہے، اور ایسی کسی ثالثی شق کو کالعدم قرار دیتا ہے جو پلیٹ فارم ورکرز پر غیر معقول بوجھ ڈالے یا کوڈ کے تحت ان کے حقوق کو بے اثر کرے۔ (دفعہ 235(2) تا (3))
سابقہ قوانین:پلیٹ فارم معاہدوں کے لیے کم از کم مندرجات یا کوڈ کے حقوق کو کمزور کرنے والی ثالثی شقوں پر خصوصی قانونی کنٹرول موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پلیٹ فارم کو معاہدے میں تبدیلی سے کم از کم دو ہفتے پہلے نوٹس دینا لازم کرتا ہے اور ایسی کسی تبدیلی کو کالعدم قرار دیتا ہے جو پہلے سے حاصل شدہ فوائد یا معقول توقعات کو واپس لے۔ (دفعہ 235(4))
سابقہ قوانین:یکطرفہ معاہداتی تبدیلیوں کے لیے دو ہفتے کے پلیٹ فارم مخصوص نوٹس یا حاصل شدہ فوائد اور معقول توقعات کے تحفظ کا کوئی قانونی قاعدہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پلیٹ فارم کام میں کسی بھی حیثیت میں 18 سال سے کم عمر شخص کو انگیج کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ (دفعہ 236)سابقہ قوانین:چائلڈ لیبر قوانین سرگرمی اور اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد پر لاگو ہوتے تھے، لیکن تمام پلیٹ فارم کام کے لیے 18 سال کی مخصوص قانونی کم از کم عمر موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہر ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارم کو وفات یا ملازمت سے متعلق چوٹ کی صورت میں گروپ انشورنس کے ذریعے مالی زرِ تلافی فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے، جس کی مقدار کم از کم اجرت کے 20 گنا کے برابر ہے۔ (دفعہ 238(2))
سابقہ قوانین:پلیٹ فارم کے لیے کوئی مخصوص قانون ایسا نہیں تھا جو وفات یا ملازمت سے متعلق چوٹ پر کم از کم اجرت کے 20 گنا گروپ انشورنس زرِ تلافی لازم کرتا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026باب 2.5 کی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز پر لاگو کرتا ہے، جن میں شدید موسم (گرمی اور سردی کی لہروں) کے لیے عملی منصوبے، خطرات کی نشاندہی، تربیت، مفت ذاتی حفاظتی سامان (PPE)، اور حادثات، بال بال بچنے کے واقعات، خطرناک واقعات اور آمدورفت کے دوران حادثات کا ریکارڈ رکھنا شامل ہے۔ (دفعہ 239)
سابقہ قوانین:پنجاب کا عمومی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ پلیٹ فارم پر ایسی ذمہ داریاں عائد نہیں کرتا تھا جو شدید موسم، PPE، آمدورفت کے حادثات اور پلیٹ فارم رسک ریکارڈز کو صراحتاً منضبط کریں۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز کو قواعد کے مطابق پلیٹ فارم ورکرز کے لیے آرام گاہیں اور بیت الخلا کی سہولیات قائم کرنے کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 239(4))
سابقہ قوانین:پلیٹ فارم ورکرز کے لیے آرام گاہیں اور بیت الخلا فراہم کرنے کی کوئی پلیٹ فارم مخصوص قانونی ذمہ داری موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026پلیٹ فارم ورکرز کی ذمہ داریاں مقرر کرتا ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے معقول احتیاط کریں، PPE درست طور پر استعمال کریں، اور فوری اور سنگین خطرات کی اطلاع دیں؛ نیز ایسی صورتِ حال سے خود کو الگ کرنے پر انہیں سزا یا نقصان دہ اقدام سے تحفظ دیتا ہے۔ (دفعہ 240)
سابقہ قوانین:عمومی پیشہ ورانہ تحفظ و صحت کی ذمہ داریاں موجود تھیں، لیکن پلیٹ فارم ورکرز کے لیے فرائض اور فوری و سنگین خطرے سے الگ ہونے پر انتقامی کارروائی سے تحفظ کا ایسا مخصوص پیکج موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ڈیجیٹل لیبر پلیٹ فارمز پر خودکار نگرانی اور خودکار فیصلہ سازی کے نظاموں کے بارے میں شفافیت کی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، یہ لازم کرتا ہے کہ فیصلے بالآخر انسانی نگرانی کے تابع ہوں، اور ایسے الگورتھمک نظاموں کی ممانعت کرتا ہے جو ورکرز پر غیر مناسب دباؤ ڈالیں یا بونس/سزائی طریقوں کے ذریعے جسمانی یا ذہنی صحت کو خطرے میں ڈالیں۔ (دفعہ 241)
سابقہ قوانین:منسوخ لیبر قوانین پلیٹ فارم کام میں خودکار نگرانی، خودکار فیصلہ سازی، انسانی نگرانی یا صحت کو خطرے میں ڈالنے والے الگورتھمک ترغیبی نظاموں کو منضبط نہیں کرتے تھے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ڈیٹا کی منتقلی کا حق متعارف کراتا ہے؛ پلیٹ فارم ورکر اپنے لین دین اور ساکھ سے متعلق ڈیٹا کو کسی دوسرے پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی درخواست کر سکتا ہے۔ (دفعہ 242)سابقہ قوانین:ایسا کوئی لیبر قانونی حق موجود نہیں تھا جو پلیٹ فارم ورکر کو لین دین اور ساکھ کا ڈیٹا دوسرے پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی اجازت دیتا۔
Vروڈ ٹرانسپورٹ ورکرز
پنجاب لیبر کوڈ 2026روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز کی تعریف میں درج ذیل افراد کو شامل کرتا ہے: ڈرائیورز، کلینرز، کنڈکٹرز، لوڈرز، اٹینڈنٹس، بکنگ کلرکس، ہوسٹس، چیکرز، سکیورٹی گارڈز، اور دیگر افراد جو روڈ ٹرانسپورٹ گاڑی کے ساتھ ایسی حیثیت میں سفر کرتے ہوں جو گاڑی سے متعلق ہو۔سابقہ قوانین:روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 2(10) روڈ ٹرانسپورٹ ورکر کو نسبتاً محدود طور پر موبائل ڈیوٹی پر مامور شخص قرار دیتی تھی اور ڈرائیورز، کلینرز، کنڈکٹرز اور چیکرز کو صراحتاً شامل کرتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ بیان کردہ پیشوں کی فہرست وسیع کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز کے لیے تحریری شرائط کی شرط کو برقرار رکھتے ہوئے کوڈ کے عمومی معاہدۂ ملازمت کے فریم ورک میں شامل کرتا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 3A پہلے ہی آجر کو ملازمت، تبادلے یا ترقی کی شرائط و ضوابط بیان کرنے والا تحریری حکم فراہم کرنے کا پابند کرتی تھی۔ (دفعہ 246)
پنجاب لیبر کوڈ 2026روڈ ٹرانسپورٹ کے لیے تھکن پر قابو پانے کا مخصوص قاعدہ شامل کرتا ہے: ڈرائیور وقفے کے بغیر مسلسل چار گھنٹے سے زیادہ گاڑی نہیں چلا سکتا، اور ایسا تمام اسٹینڈ بائی یا انتظار کا وقت جس میں ورکر اپنے وقت کو آزادانہ استعمال نہ کر سکے، اوقاتِ کار شمار ہو گا۔ 1961 کا آرڈیننس آرام کے وقفے سے پہلے پانچ گھنٹے تک کی اجازت دیتا تھا اور انتظار کے وقت کو صرف اس صورت میں کام شمار کرتا تھا جب مطلوبہ انتظار کم از کم 30 منٹ ہو۔ (دفعہ 247(1) تا (2)؛ موازنہ: روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس 1961، دفعہ 4)
حصہ پنجملیبر فلاح و بہبود
Wپرافٹ بونس
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہر ایسے آجر کے لیے پرافٹ بونس لازم کرتا ہے جس کےپاس 20 یا اس سے زیادہ ملازمین ہوں اور اسے کسی سال منافع ہواہو۔ یہ بونس کم از کم 90 دن کی مسلسل سروس رکھنے والے تمام ملازمین کو، صرف ’’ورک مین‘‘ تک محدود کیے بغیر، معاوضے کے علاوہ سال کے اختتام کے تین ماہ کے اندر ادا کیا جائے گا۔ (دفعہ 253)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 10-C اہل ورک مین کے لیے کم از کم 90 دن کی سروس اور سال کے اختتام کے تین ماہ کے اندر ادائیگی کے ساتھ پہلے ہی پرافٹ بونس لازم کرتا تھا، اور اسٹینڈنگ آرڈرز کا نظام عمومی طور پر 20 ورک مین سے لاگو ہوتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ 20 ورکرز کی حد برقرار رکھتے ہوئے اس حق کو ’’ورک مین‘‘ سے تمام ملازمین تک وسیع کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026اجرت کے زمرے (ویج کیٹگریز)مقرر کر کے کم اجرت پانے والے ملازمین کو پرافٹ بونس کا زیادہ حصہ دینے کی اجازت دیتا ہے؛ بونس کا 70 فیصد ان ملازمین کو جاتا ہے جو کم از کم اجرت کے تین گنا تک کماتے ہیں۔ (دفعہ 253)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈرز کا بونس فارمولا منافع اور مجموعی اجرتوں سے منسلک تھا، لیکن کم اجرتی زمروں (ویج کیٹگریز)کے لیے کوڈ کے مذکورہ 70 فیصد حصے کو مخصوص نہیں کرتا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026بونس کو لیبر کوڈ کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے مطابق براہِ راست ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں ادا کرنا لازم کرتا ہے۔ (دفعہ 253(2))
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 10-C نقد یا مخصوص یونٹس میں ادائیگی کا تصور رکھتا تھا؛ یہ ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست ادائیگی لازم نہیں کرتا تھا۔
Xکمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ
پنجاب لیبر کوڈ 2026اجرتی زمروں (ویج کیٹگریز) کو وسیع/ازسرِ نو مرتب کرتا ہے تاکہ منافع کا بڑا حصہ کام کی جگہ (ورک پلیس) کی سطح پر اور کم اجرت والے ورکرز میں تقسیم ہو۔ (دفعہ 254اورشیڈول 5)
سابقہ قوانین:کمپنیز پرافٹس (ورکرز پارٹیسپیشن) ایکٹ 1968 پہلے ہی 4:2:1 کے زمروں کا ڈھانچہ استعمال کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ اجرتی حدود کو کم از کم اجرت کے مضارب کے گرد ازسرِ نو ترتیب دیتا ہے تاکہ زیادہ حصہ کم اجرت والے ورکرز کی طرف منتقل ہو۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026یونٹ ویلیوز کو کم از کم اجرت کے مضارب سے منسلک کرتا ہے (کم از کم اجرت کا دو گنا، 2 تا 3 گنا، 3 گنا سے زیادہ)، 4:2:1 کی تقسیم برقرار رکھتا ہے، سالانہ حد کو کم از کم اجرت کے 6 گنا تک بڑھاتا ہے، اور باقی ماندہ رقم پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کو منتقل کرتا ہے۔ (شیڈول 5)
سابقہ قوانین:کوڈ سے پہلے ورکرز پارٹیسپیشن اسکیم میں یہی 4:2:1 تقسیم تھی لیکن 2021 کی پنجاب ترامیم کے بعد سالانہ فائدے کی حد کم از کم اجرت کے چار گنا تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اسے چھ گنا کرتا اور اجرتی بینڈز میں ترمیم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026بورڈ آف ٹرسٹیز لازم کرتا ہے جس میں اجتماعی سودے بازی کی نمائندہ یونین کے دو نامزد افراد (یا اس کی عدم موجودگی میں منتخب ورکرز) اور انتظامیہ کے دو نمائندے ہوں گے، جن میں کم از کم ایک اکاؤنٹس سے ہو؛ اور چیئرپرسن شپ ہر سال باری باری ورکر اور انتظامیہ کے ٹرسٹیز کے درمیان منتقل ہو گی۔ (دفعہ 256)
سابقہ قوانین:کمپنیز پرافٹس (ورکرز پارٹیسپیشن) ایکٹ 1968 کی دفعہ 4 پہلے ہی بورڈ آف ٹرسٹیز فراہم کرتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اس کی تشکیل، نمائندگی کے قواعد اور چیئر پرسن شپ کی سالانہ باری میں ترمیم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026چیف انسپکٹر کو معلومات طلب کرنے، تعمیل کی ہدایت دینے، اور مسلسل ناکامی یا فنڈ کے مقاصد سے عدم مطابقت کی صورت میں کسی ٹرسٹی یا پورے بورڈ کو معطل یا ہٹانے کا اختیار دیتا ہے۔ (دفعات 256(7) اور257)
سابقہ قوانین:1968 کے ایکٹ میں معلومات حاصل کرنے اور انسپکشن کے اختیارات پہلے ہی موجود تھے۔ پنجاب لیبر کوڈ زیادہ مضبوط تعمیلی اختیارات، بشمول ٹرسٹیز یا بورڈ کی معطلی یا برطرفی، چیف انسپکٹر میں مرتکز کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026صوبے کی سطح پر پنجاب کمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن کمیٹی قائم کرتا ہے، جو سہ فریقی ادارہ ہے اور ہر فریق کی نمائندگی میں کم از کم ایک خاتون شامل ہونا لازم ہے۔ یہ کمیٹی اس باب (5.3)اور اسکیم کے نفاذ کی نگرانی کرے گی اور حکومتِ پنجاب کو مشاورت فراہم کرےگی۔ (دفعہ 321)
سابقہ قوانین:پنجاب کمپنیز پرافٹس ورکرز پارٹیسپیشن کمیٹی 1968 کے ایکٹ میں پنجاب ترامیم کے ذریعے پہلے ہی شامل کی جا چکی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ اس ادارے کو برقرار رکھتا اور موجودہ سہ فریقی تشکیل اور افعال بیان کرتا ہے۔
Yگروپ انسینٹو اسکیم
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہر ایسے آجر کو جس کے 50 یا اس سے زیادہ ملازمین ہوں گروپ انسینٹو اسکیم متعارف کرانے کی اجازت دیتا ہے، جو نقد، اضافی بااجرت رخصت یا دیگر صورتوں میں ہو سکتی ہے،اس سکیم کو انٹرنل ورک ریگولیشنز میں شامل کیا جا سکتا ہے اور اجتماعی سودے بازی کے معاہدے کے ذریعے اس پر مذاکرات ہو سکتے ہیں؛ یوں پہلے فیکٹریوں اور پروڈکشن ورک تک محدود ترغیبی نظام کو خدمات کے شعبے تک وسیع کیا گیا ہے۔ (دفعہ 261)
سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 10-A صنعتی/تجارتی اسٹینڈنگ آرڈرز فریم ورک میں پہلے ہی گروپ انسینٹو اسکیم فراہم کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ اس طریقے کو وسیع کرتا ہے۔
Zلازمی گروپ انشورنس اور کام کی جگہ (ورک پلیس) سے متعلق زرِ تلافی
پنجاب لیبر کوڈ 2026ہر ایسے آجر کو جس کے 50 یا اس سے زیادہ ملازمین ہوں، معاہداتی حیثیت سے قطع نظر، ہر ایسے ملازم کو جس کی کم از کم تین ماہ کی سروس ہو، وفات اور معذوری کے خلاف بیمہ کرنے کا پابند کرتا ہے، خواہ وجہ طبعی ہو یا ملازمت سے متعلق چوٹ یا پیشہ ورانہ بیماری؛ انشورنس پریمیم اور تمام انتظامی اخراجات آجر برداشت کرے گا۔ (دفعہ 262)سابقہ قوانین:اسٹینڈنگ آرڈر 10-B تمام کورڈ ورک مین کے لیے پہلے ہی لازمی گروپ انشورنس فراہم کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ دائرۂ اطلاق کو معاہداتی حیثیت سے قطع نظر ہر اہل ملازم تک بڑھاتا اور سروس کی حد اور خطرات کو یکساں کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026زرِ تلافی کی رقم کو کم از کم اجرت سے منسلک کرتا ہے، یعنی غیر ہنر مند ورکر کی قابلِ اطلاق کم از کم اجرت کے 20 گنا کے برابر؛ موجودہ کم از کم اجرت (40،000 روپے)کے مطابق رقم 500,000 روپے سے بڑھ کر 800,000 روپے ہو جاتی ہے۔ یہ اصلاح اس بات کو بھی یقینی بناتی ہے کہ کم از کم اجرت میں تبدیلی کے ساتھ زرِ تلافی خودکار طور پر ایڈجسٹ ہو۔ (دفعات 262اور265؛شیڈول 8)سابقہ قوانین:زرِ تلافی اور بیمہ فوائد مقررہ قانونی رقوم یا شیڈولز میں بیان ہوتے تھے، اس لیے قانون میں ترمیم کرنے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حقیقی قدر کم ہو جاتی تھی۔ کم از کم اجرت کے 20 گنا سے منسلک کرنے سے رقم خودکار طور پر ایڈجسٹ ہوتی ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026بین الاقوامی ادارۂ محنت کی پیشہ ورانہ بیماریوں کی فہرست مکمل طور پر اختیار کرتا ہے، جس میں HIV، ہیپاٹائٹس B/C، PTSD، کارپل ٹنل سنڈروم، ایسبیسٹوس اور بینزین سے متعلق سرطان، کیڑے مار ادویات سے متعلق بیماریاں، اور 40 سے زائد کیمیائی عوامل شامل ہیں، اور نوآبادیاتی دور کی محدود فہرست کی جگہ اسے سہ فریقی مشاورت سے قابلِ نظرثانی بناتا ہے۔ (دفعہ 264اورشیڈول 7)
سابقہ قوانین:ورک مین کمپنسیشن ایکٹ 1923 کے شیڈول III میں پیشہ ورانہ بیماریوں کی کہیں محدود فہرست تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ بین الاقوامی ادارۂ محنت کے فریم ورک سے ہم آہنگ، نمایاں طور پر وسیع اور قابلِ تازہ کاری فہرست اختیار کرتا ہے۔
AAانفراسٹرکچر سہولیات
پنجاب لیبر کوڈ 2026500 سے زیادہ ورکرز رکھنے والی تمام اسٹیبلشمنٹس میں رعایتی نرخوں کی دکان قائم کرنا لازم کرتا ہے، نہ کہ صرف فیکٹریوں میں۔ (دفعہ 286)
سابقہ قوانین:پنجاب فئیر پرائس شاپس (فیکٹریز) آرڈیننس 1971 صرف فیکٹریوں تک محدود تھا اور نوٹیفکیشن کے ذریعے لاگو ہوتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ مذکورہ 500 ورکرز کی حد سے زائد تمام اسٹیبلشمنٹس تک ذمہ داری وسیع کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کم از کم 50 ورکرز والی کام کی جگہوں پر ڈے کیئر سہولیات لازم کرتا ہے۔ (دفعہ 287)
سابقہ قوانین:پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کی دفعہ 10-A وہاں ڈے کیئر لازم کرتی تھی جہاں 25 یا زیادہ خواتین ملازم ہوں۔ پنجاب لیبر کوڈ عمومی فلاحی فریم ورک میں صنفی طور پر غیر جانب دار 50 ورکرز کی حد اختیار کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026انفراسٹرکچر منصوبے پر 250 یا اس سے زیادہ ورکرز رکھنے والے ہر آجر کو مقررہ معیارِ رہائش کے مطابق لیبر کیمپ قائم کرنے کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 288)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ قوانین انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے 250 ورکرز کی ایسی عمومی لیبر کیمپ ذمہ داری اور مقررہ رہائشی معیار لازم نہیں کرتے تھے۔
حصہ ششمتنازعات کا تصفیہ، فیصلوں کا جائزہ اور تعمیل
BBتنازعات کے تصفیے کے ادارے
پنجاب لیبر کوڈ 2026محکمہ کو انفرادی لیبر تنازعات کے تصفیے کے لیے ثالث مقرر کر کے متبادل تنازعاتی تصفیہ (ADR) کے طریقے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ (دفعہ 290)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 انفرادی شکایت کی فیصلہ کاری اور صنعتی تنازعات کی مصالحت فراہم کرتا تھا، لیکن کوڈ کی طرح محکمہ کے مقرر کردہ ثالث کے ذریعے انفرادی لیبر تنازعات کے لیے عمومی ثالثی راستہ موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026صنعتی تنازعات کے لیے مصالحت کاروں (اور بورڈ آف کنسیلی ایٹرز) کے کردار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید بناتا ہے، جبکہ فریقین کی رضامندی سے ثالثوں کے لیے الگ کردار مقرر کرتا ہے۔ (دفعات 291تا292)
سابقہ قوانین:پنجاب انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2010 کی دفعات 35 تا 39 کے تحت مصالحت کار اور باہمی رضامندی کی ثالثی پہلے ہی موجود تھیں۔ پنجاب لیبر کوڈ ان طریقوں کو برقرار رکھتے ہوئے متحد تنازعاتی تصفیہ نظام میں ان کے کردار ازسرِ نو منظم کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026ذرعی، گھریلو اور گھر پر کام کرنے والے ورکرز کے لیے مخصوص تنازعات کے تصفیے کی کمیٹیاں فراہم کرتا ہے۔ یہ جزوی طور پر سابقہ طریقوں کو یکجا کرتا ہے: پنجاب گھریلو (ڈومیسٹک) ورکرز ایکٹ 2019 میں پہلے ہی ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیاں اور پنجاب ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2023 میں سیٹلمنٹ کمیٹیاں موجود تھیں؛ کوڈ ان طریقوں کو یکجا کرتا اور ذرعی ورکرز کو شامل کرتا ہے۔ (دفعہ 295)
CCمشاورتی اور ریگولیٹری ادارے
پنجاب لیبر کوڈ 2026صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کو قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، اس کی رکنیت اور مجوزہ افعال مقرر کرتا ہے،جن میں بین الاقوامی معیارِ محنت کے مطابق لیبر قانون سازی کی نگرانی، ترامیم کی تجویز، بین الاقوامی ادارۂ محنت کے سوالناموں کے لیے حکومتی جوابات کی تیاری میں مدد کی فراہمی ، کنونشنز کی توثیق یا دستبرداری کی سفارش، تنازعات کی روک تھام پر مشورہ، اور روزگار پالیسیوں کی تجا ویز شامل ہیں۔ (دفعات 305اور306)
سابقہ قوانین:سہ فریقی مشاورت ادارہ جاتی سطح اور مخصوص بورڈز و کونسلز کے ذریعے موجود تھی، لیکن منسوخ شدہ لیبر قوانین نے صوبائی سہ فریقی مشاورتی کونسل کو بین الاقوامی ادارۂ محنت کی نگرانی اور وسیع تر لیبر پالیسی کا احاطہ کرنے والاواحد اور مفصل قانونی مینڈیٹ نہیں دیا تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کم از کم اجرت کے وقتاً فوقتاً جائزے کی شرط برقرار رکھتے ہوئے زیر غور عوامل کو وسیع اور واضح کرتا ہے، جن میں ورکرز اور ان کے خاندانوں کی ضروریات، زندگی گزارنے کی لاگت، معاشی عوامل اور آجروں کی اپنے کاروبار برقرار رکھنے کی صلاحیت شامل ہیں۔سابقہ قوانین:پنجاب کم از کم اجرت ایکٹ 2019 کی دفعہ 7 پہلے ہی معاشی یا لاگتِ زندگی میں تبدیلی کے جواب میں اور عمومی طور پر ایک سے تین سال کے دورانیے میں وقتاً فوقتاً جائزہ لازم کرتی تھی۔ (دفعہ 319)
DDلیبر انسپکشن
پنجاب لیبر کوڈ 2026انسپکٹرز کے افعال اور اختیارات واضح طور پر بیان کرتا ہے، جن میں لیبر کوڈ کی تعمیل یقینی بنانا، آجروں اور ورکرز کو تکنیکی مشورے دینا، شکایات کی تحقیقات، نقائص کو محکمہ کے علم میں لانا، اور چیف انسپکٹر کو انسپکشن رپورٹس جمع کرانا شامل ہے۔ (دفعات 323اور325)
سابقہ قوانین:انسپکشن کے افعال اور اختیارات فیکٹریز ایکٹ 1934، پیمنٹ آف ویجز ایکٹ (اجرتوں کی ادائیگی کا قانون) 1936، چائلڈ لیبر قوانین، پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019 اور پنجاب کم از کم اجرت ایکٹ 2019 میں تقسیم تھے۔ پنجاب لیبر کوڈ انہیں یکجا کرتا اور واضح مشاورتی کردار شامل کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026چیف انسپکٹر کو ایسا نفاذی منصوبہ (انفورسمنٹ پلان)تیار کرنے کا پابند کرتا ہے جو ترجیحات کی نشاندہی اور حکمتِ عملیاں تجویز کرے، اور انسپکٹرز کو اس منصوبے پر عمل درآمد کی ہدایت دے۔ (دفعہ 324)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ قوانین میں پورے لیبر کوڈ کے لیے صوبہ گیر ترجیحات اور حکمتِ عملیوں کی نشاندہی کرنے والا واحد چیف انسپکٹر نفاذی منصوبہ (انفورسمنٹ پلان) لازم نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026انسپکٹرز کو جامع اختیارات دیتا ہے، جن میں کسی بھی وقت بغیر پیشگی نوٹس آزادانہ طور پر کام کی جگہ (ورک پلیس) میں داخل ہونا، آجروں، پرنسپلز، قابضین (آکو پائیرز ) اور ورکرز سے سوال کرنا، ریکارڈ اور دستاویزات طلب کرنا، نمونے لینا، حادثات کا ریکارڈ دیکھنا، نمونے ساتھ لے جانا، تنازعات کے تصفیے کی کمیٹی کی ہدایت پر گھریلو (ڈومیسٹک) ورکر کے آجر کے نجی گھر کا معائنہ کرنا، شوکاز نوٹس جاری کرنا اور استغاثہ دائر کرنا شامل ہیں۔ (دفعہ 325)
سابقہ قوانین:کئی قوانین، بالخصوص فیکٹریز ایکٹ 1934 اور پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019، انسپکٹرز کو داخلے، جانچ اور ریکارڈ طلب کرنے کے اختیارات پہلے ہی دیتے تھے۔ پنجاب لیبر کوڈ ان اختیارات کو یکجا اور وسیع کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026انسپکٹرز کو چھوٹے، مائیکرو اور غیر رسمی اداروں کولیبر کوڈ کےسمجھنے اور اس کی تعمیل کرنے میں معاونت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 329)
سابقہ قوانین:منسوخ قوانین میں انسپکٹرز پر چھوٹے، مائیکرو اور غیر رسمی اداروں کے لیے فعال تعمیلی معاونت فراہم کرنے کی کوئی عمومی قانونی ذمہ داری عائد نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026محکمہ کو سالانہ انسپکشن رپورٹ شائع کرنے کا پابند کرتا ہے، جس میں نفاذ سے متعلق جہاں تک ممکن ہو جنس کے لحاظ سے الگ ڈیٹا شامل ہو، اور جو سال کے اختتام کے بارہ ماہ کے اندر محکمہ کی ویب سائٹ پر عوام کے لیے دستیاب ہو۔ (دفعہ 330)
سابقہ قوانین:مختلف قوانین ریکارڈ اور بعض صورتوں میں ادارہ جاتی سالانہ رپورٹس لازم کرتے تھے، لیکن لیبر کوڈ کی طرح جنس کے لحاظ سے الگ ڈیٹا اور ویب سائٹ پر اشاعت کی شرائط کے ساتھ ایک متحد عوامی سالانہ لیبر انسپکشن رپورٹ موجود نہیں تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026چیف انسپکٹر کو قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ اختیارات دیتا ہے، جن میں ہائجین کارڈز، داخلی ضوابطِ کار (انٹرنل ورک ریگولیشنز)، اوقاتِ کار کے استثنا، نفاذی منصوبے، اپیلیں، اور کوڈ کی بعض دفعات کے اطلاق کو وسیع کرنے یا استثنا دینے سے متعلق اختیارات شامل ہیں۔ (دفعات 57،145،187،324،362،432اور433)
سابقہ قوانین:تقابلی اختیارات مختلف قوانین کے تحت مختلف اتھارٹیز میں تقسیم تھے۔ پنجاب لیبر کوڈ نفاذی اختیارات کا زیادہ وسیع مجموعہ چیف انسپکٹر میں مرکوز کرتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026انسپکٹر کو واضح اختیار دیتا ہے کہ جہاں بانڈڈ لیبر پائی جائے یا کسی بچے کو کوڈ کی خلاف ورزی میں انگیج کیا گیا ہو وہاں اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ سے زیادہ پندرہ دن، یا تعمیل (کمپلا ئنس) ہونے تک، سیل کر دے۔
سابقہ قوانین:سابقہ قوانین میں چائلڈ لیبر کے لیے سیل کرنے کے اختیارات موجود تھے، جبکہ بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ 1992 بانڈڈ لیبر کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو سِیل نہیں کرتا تھا۔ (دفعہ 326؛ پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016، دفعہ 14، اور بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ 1992)
EEسزائیں اور استغاثہ
پنجاب لیبر کوڈ 2026پینلٹی یونٹ کا تصور متعارف کراتا ہے، جس میں جرمانے پینلٹی یونٹس کے مضارب میں بیان کیے جاتے ہیں۔ (1 پینلٹی یونٹ = غیر ہنر مند کام کی کم از کم اجرت، جون 2026 میں ، 40,000 روپے) اس سے ہر نئی کم از کم اجرت کے نوٹیفکیشن کے ساتھ جرمانوں کی مالی قدر خودکار طور پر بڑھتی ہے۔ (دفعہ 365)
سابقہ قوانین:انفرادی قوانین میں سزائیں عمومی طور پر مقررہ روپوں کی رقم میں بیان کی جاتی تھیں۔ پینلٹی یونٹ کا نظام اس منتشر ماڈل کی جگہ قابلِ اطلاق کم از کم اجرت سے خودکار طور پر منسلک جرمانے متعارف کراتا ہے۔مثال کے طور پر چائلڈ لیبر میں کسی بچے کو انگیج کرنے کی سزا 2 سے 20 پینلٹی یونٹس اور 7 دن سے 6 ماہ تک قید ہے۔پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 مقررہ مالی جرمانوں اور قید کی دفعات استعمال کرتا تھا۔ پنجاب لیبر کوڈ چائلڈ لیبر کی مالی سزاؤں کو پینلٹی یونٹس میں تبدیل کرتا ہے تاکہ مالی جزو کم از کم اجرت کے ساتھ ایڈجسٹ ہوتا رہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026عدالت کو سزا اور جرمانے کی مقدار طے کرتے وقت آجر کے کاروبار کے حجم، خلاف ورزی کی سنگینی، متاثرہ ورکرز کی تعداد، آجر کی ساکھ اور سابقہ خلاف ورزیوں کی تاریخ کو مدنظر رکھنے کا پابند کرتا ہے، اور ہر بار خلاف ورزی دہرائے جانے پر جرمانہ دوگنا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ (دفعہ 364)
سابقہ قوانین:انفرادی قوانین میں مخصوص جرمانے اور بعض صورتوں میں بار بار خلاف ورزی پر اضافہ شدہ سزائیں موجود تھیں، مگر پورے کوڈ پر لاگو ایسا سزا کے تعین کے عوامل سے متعلق ایسا ایک عمومی اصول موجود نہیں تھا جو آجر کے حجم، خلاف ورزی کی سنگینی، متاثرہ ورکرز اور تعمیلی تاریخ (کمپلائنس ہسٹری)جیسے عوامل کو لازم قرار دے۔
حصہ ہفتمعمومی دفعات
FFعمومی دفعات
پنجاب لیبر کوڈ 2026صرف فیکٹریوں ہی نہیں بلکہ کوڈ کے تحت آنے والی ہر دوسری اسٹیبلشمنٹ کی رجسٹریشن بھی لازم کرتا ہے، مذکورہ استثناؤں کے تابع، اور دو سالہ سرٹیفکیٹ کے ساتھ آن لائن رجسٹریشن کی اجازت دیتا ہے جو مقررہ فیس کی ادائیگی پر خودکار طور پر تجدید ہو گا۔ سابقہ رجسٹریشن ذمہ داریاں بنیادی طور پر فیکٹری قانون سازی اور دکانات/اسٹیبلشمنٹس قانون سازی میں تقسیم تھیں۔ (دفعات 407تا408؛ فیکٹریز ایکٹ 1934، دفعہ 9-A، اور پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969، دفعہ 24)
پنجاب لیبر کوڈ 2026محکمہ کو چیف انسپکٹر اور انسپکٹرز کے ذریعے ورکرز اور ٹرن اوور، معاوضے اور آمدنی، قرضوں اور پیشگی رقوم، اوقاتِ کار اور اضافی اوقاتِ کار، زچگی کی رخصت لینے والی خواتین ورکرز، پروویڈنٹ اور دیگر فنڈز، فلاحی سہولیات و مراعات، انفرادی اور اجتماعی حقوق کے تنازعات، رہائشی حالات بشمول رہائش، پانی اور صفائی، اور رہائش و نقل و حمل کی کٹوتیوں سے متعلق جنس کے لحاظ سے الگ اعدادوشمار جمع کرنے کی ہدایت دینے کا اختیار دیتا ہے۔ (دفعہ 411)
سابقہ قوانین:صنعتی شماریات ایکٹ 1942 کی دفعہ 3 پہلے ہی اجرت، اوقات، ملازمت، تنازعات، رہائش اور دیگر لیبر حالات کے اعدادوشمار جمع کرنے کی اجازت دیتی تھی۔ پنجاب لیبر کوڈ ڈیٹا کے شعبوں کو یکجا اور وسیع کرتا اور جنس کے لحاظ سے الگ اعدادوشمار پر صراحتاً زور دیتا ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026آجروں کو ملازمین کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ کرنے کا پابند کرتا ہے اور ایسے کسی ذاتی ڈیٹا کی پراسیسنگ کی ممانعت کرتا ہے جو معاہدۂ ملازمت کی انجام دہی کے لیے سختی سے ضروری نہ ہو؛ ورکرز کو اپنے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ، رسائی اور تصحیح کا حق حاصل ہے۔ (دفعہ 412)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ لیبر قوانین مخصوص کارروائیوں میں رازداری کی ذمہ داریاں تو رکھتے تھے، مگر ضرورت، رسائی اور تصحیح کے حقوق پر مشتمل ملازم کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا کوئی عمومی نظام موجود نہیں تھا۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026کسی بھی ایک ہزار (1000) سے زیادہ ورکرز رکھنے والے آجر کو اپنے کاروباری آپریشنز اور براہِ راست سپلائرز کے اقدامات میں کام پر بنیادی حقوق اور کم از کم اجرت کے حوالے سے لیبر حقوق کی واجب احتیاطانجام دینے کا پابند کرتا ہے۔ (دفعہ 413) (labour rights due diligence)
سابقہ قوانین:منسوخ شدہ 26 لیبر قوانین میں سے کسی نے بڑے آجروں اور ان کے براہِ راست سپلائرز پر سپلائی چین میں لیبر حقوق کی عمومی واجب احتیاط کی ذمہ داری عائد نہیں کی تھی۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026واجب احتیاط (due diligence)کے اجزا مقرر کرتا ہے: رسک مینجمنٹ سسٹم، نامزد ذمہ دار شخص، باقاعدہ رسک تجزیہ، حقیقی یا ممکنہ منفی اثرات کی نشاندہی، پالیسیوں میں انضمام، احتیاطی اقدامات، اصلاحی اقدامات، شکایت کا طریقہ کار، اور مسلسل دستاویزی ریکارڈ؛ اور انہیں آجر کے اپنے کاروباری دائرے اور براہِ راست سپلائرز پر مشتمل سپلائی چین پر لاگو کرتا ہے۔ (دفعہ 413(2) تا (6))سابقہ قوانین:براہِ راست سپلائی چینز میں رسک کا تجزیہ، روک تھام، تدارک، شکایتی طریقہ کار اور مسلسل دستاویزات لازم کرنے والی کوئی قانونی لیبر واجب احتیاط کی شق موجود نہیں تھی۔
(Fair Employment Standards Clause ) منصفانہ معیارِ ملازمت کی شق اب سرکاری شعبے کی خریداری کرنے والی ایجنسی کو پابند کرتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ٹھیکیدار پنجاب لیبر کوڈ 2026 میں موجود کم از کم معیارِ ملازمت کا احترام کرے؛ ورکرز کے فائدے کے لیے رقوم منہا کرنے کا حق اور حتمی تصفیے سے پہلے محکمہ سے تعمیل کا سرٹیفکیٹ طلب کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔ (دفعہ 414)
سابقہ قوانین:سرکاری ٹھیکوں میں منصفانہ اجرت کی شرط استعمال ہو سکتی تھی، لیکن کوڈ کی منصفانہ معیارِ ملازمت کی شق زیادہ وسیع ہے: یہ سرکاری خریداری کو کوڈ کے کم از کم معیارِ ملازمت سے جوڑتی اور کٹوتی اور محکمہ محنت کے تعمیلی سرٹیفکیٹ (کمپلائنس سرٹیفیکیٹ) کے طریقے شامل کرتی ہے۔
پنجاب لیبر کوڈ 2026استثنا دینے کے اختیارات کو سختی سے محدود کرتا ہے: حصہ اول یا دوم (بنیادی حقوق)، کام کی جگہ (ورک پلیس) سے متعلق زرِ تلافی، حصہ ششم یا حصہ ہفتم سے کوئی استثنا نہیں دیا جا سکتا؛ ہر استثنا میں متعلقہ اسٹیبلشمنٹس، وجوہات، متبادل شرائط، مدت اور منصفانہ مسابقت پر اثر واضح ہونا چاہیے، ورکر/سہ فریقی مشاورت کے بعد دیا جائے، اور اس کے خلاف اپیل ممکن ہو۔
سابقہ قوانین:سابقہ قوانین کہیں زیادہ وسیع استثنائی اختیارات دیتے تھے، جن میں 2019 کے پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ کے تحت مخصوص کام کی جگہوں کو مکمل یا جزوی استثنا دینے کا اختیار شامل تھا۔ (دفعہ 433؛ پنجاب پیشہ ورانہ تحفظ و صحت ایکٹ 2019، دفعہ 1(4)، اور پنجاب شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969، دفعہ 4)
پنجاب لیبر کوڈ 2026عددی حدود کے لیے ایک متوازن/درجہ بند طریقہ متعارف کراتا ہے: چیف انسپکٹر ملازمین کی عددی حد کم کر کے کوڈ کی دفعات کا اطلاق وسیع کر سکتا ہے، اور 20 سے کم افراد رکھنے والی اسٹیبلشمنٹس کے لیے مخصوص استحقاقات کی بتدریج کم ہوتی ہوئی ’’سلائیڈنگ اسکیل‘‘ لاگو کر سکتا ہے۔یہ سخت اور مخصوص قانون سازی پر مبنی عددی حدوں کے سابقہ نظام کی جگہ ایک ایسے ڈھانچے کو لاتا ہے جو زیادہ لچکدار، متناسب اور انتظامی اعتبار سے قابلِ موافقت ہے۔